طباعتِ قرآن میں رسمِ عثمانی کا التزام

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

کلماتِ قرآنیہ کی کتابت کا ایک بڑا حصہ تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں۔ کیا مصاحف کی کتابت وطباعت میں رسمِ عثمانی کے قواعد وضوابط کی پابندی واجب ہے اور کیا رسمِ قرآنی اور رسمِ قیاسی کے مابین یہ فرق و اختلاف باقی رہنا چاہیے ؟ اس سوال کے حوالے سے علماےِ رسم اور مورخین کے ہاں دو زاویہ ہائے فکر پائے جاتے ہیں:

جمہور علما کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرآنی رسم کی قدامت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس میں کسی تبدیلی کی گنجایش نہیں اور طباعتِ مصاحف میں اِسی کی پابندی لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام ث نے رسم عثمانی کو اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے اور صحابہ کا اتفاق اُسی معاملہ پر ممکن ہو ہے جو اُن کے ہاں متحقق ہو کر واضح ہو چکا ہو۔ (۱)

فکر کا دوسرا زاویہ یہ ہے کہ عوام کے لیے رسمِ عثمانی کے مطابق لکھے ہوئے مصاحف میں قراء تِ قرآن کے لحاظ سے کئی مفاسد ہیں، اس لیے عوامی سطح پر اس رسم الخط کو تر ک کر دینا چاہیے، البتہ خواص کے لیے اس کی گنجایش باقی رہنی چاہیے۔ 

ذیل میں ہم ان دونوں نقطہ ہائے نظر اور ان کے استدلالات کا ایک مطالعہ پیش کریں گے۔

رسمِ عثمانی کا اِلتزام

رسمِ عثمانی کے مُجمع علیہ ہونے میں کسی کا اختلاف منقول نہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ مصاحفِ عثمانیہ کی کتابت کرتے ہوئے بارہ ہزار ۱۲۰۰۰ صحابہ ثنے اتفاقِ رائے سے اِس رسم کو صحیح اور درست قرار دیا(۲)۔ مصرکے شیخ القرا ء محمد بن علی حداد نے اپنے رسالہ’’النصوص الجلیلۃ‘‘ میں رسمِ عثمانی کے اتباع کو بارہ ہزار صحابہ کرامثکے اجماع سے ثابت کیا ہے۔ (۳)

رسول اللہا کے ارشاد کے مطابق خلفاے راشدین ثکی سنت بھی قابلِ اتباع ہے اور اس کی پیروی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ دلیل مذکور کی بنیاد پر چونکہ رسمِ عثمانی صحابہ ث کا مجمع علیہ ہے، لہٰذا اِس کی اتباع اور اقتدا کا حکم تمام دیگر نظریات کے مقابلہ میں راجح ہے۔ علامہ ابوطاہر السندی ؒ رسمِ عثمانی پر لوگوں کے تعامل کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’۔۔۔ وتقلدت الأمۃ رسمہا ، واشتہرت کتابتہا بالرسم العثماني، وأجمع الصحابۃ رضی اﷲ عنہم علی ذلک الرسم ولم ینکر أحد منہم شیئا منہ وإجماع الصحابۃ واجب الإتباع۔ ثم استمرّ الأمر علی ذلک، والعمل علیہ فی عصور التابعین والأئمۃ المجتہدین، ولم یر أحد منہم مخالفۃ وفی ذلک نصوص کثیرۃ لعلماء الأئمۃ‘‘۔(۴)

یعنی امت نے اسی رسم کی تقلید کی ہے اور اسی میں مصحف کی کتابت کا عام رواج ہوا۔ صحابہ کرام ثکا اس رسم پر اجماع ہوا اور ان میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیااور صحابہ کرامث کااِجماع واجب الاتباع ہے۔ پھر یہی طریقہ رائج رہا اور تابعین اور ائمۂ مجتہدین کے ادوار میں اسی پر عمل رہا اور کسی نے اس معاملہ میں اختلاف کا خیال بھی نہیں کیا۔ اس پر علماے امت کے بہت سے اقوال موجود ہیں۔

رسول اللہا کی زیر نگرانی ہونیوالی کتا بت ہی صحابہ کرام ث کے لیے قابلِ عمل تھی ۔اُنہی خصوصیاتِ رسم کے ساتھ عہدِ صدیقی اور پھر عہدِ عثمانی میں مصاحف تیار کروائے گئے۔ چنانچہ اسلام کے ابتدائی دور میں لوگوں کے لیے کتابتِ مصحف کا معیار رسمِ عثمانی تھااور اکثر صحابہث ،تابعینؒ اور تبع تابعینؒ نے ہمیشہ رسمِ عثمانی کی موافقت کو ہی معیار سمجھا۔ابن قتیبہؒ لکھتے ہیں:

’’ولولا اعتیاد الناس لذلک فی ھذہ الأحرف الثلاثۃ (الصلوٰۃ، الزکوٰۃ والحیٰوۃ) وما فی مخالفۃ جماعتھم لکان أحب الأشیاء إلی أن یکتب ھذا کلہ بالألف‘‘۔(۵)

یعنی اگر ان تین کلمات صلوٰۃ، زکوٰۃ اور حیٰوۃ کا واؤ کے ساتھ املا لوگوں میں رائج نہ ہوتا اور ان کے اتفاق کی خلاف ورزی کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ان کلمات کو الف سے لکھنا زیادہ پسند کرتا۔

ایک عرصہ تک اِسی طرح معاملہ چلتا رہا یہاں تک کہ علماے لغت نے فنِ رسم کے لیے ضوابط کی بنیاد رکھی اور قیاساتِ نحویہ و صرفیہ اِس غرض سے وضع کر دیے گئے تاکہ نظامِ کتابت اور تعلیمی سلسلہ میں کسی غلطی یا شبہ کا احتمال باقی نہ رہے۔ قواعدِ ہجا ، قواعدِ املا ، علم الخط القیاسی و الاصطلاحی، یہ وہ سب نام تھے جو اِن قواعد کے لیے وضع کیے گئے ۔ لوگوں نے عام لکھنے میں کلمات کے پرانے ہجا کو رفتہ رفتہ ترک کر دیا، لیکن مصاحف میں موجود الفاظ اپنی اُسی ہیئت و صورت میں رہے جس میں اُنہیں عہدِ عثمان صمیں لکھا گیا تھا۔

ِ مذاہب اربعہ کا موقف

مذاہبِ اربعہ کے تمام فقہاؒ نے مصحف کی کتابت اور طباعت میں رسمِ عثمانی کے التزام کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اس کی مخالفت کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ اِس پر علما کا اِجماع منقول ہے کہ رسمِ عثمانی کی مخالفت جائز نہیں: ’’ولا مخالف لہ فی ذلک من علماءِ الأئمۃ‘‘ (۶)۔ علامہ الحدادؒ کے بقول علما کا ہمیشہ رسمِ عثمانی پر اجماع رہا ہے اور اِس کی مخالفت کو اجماع سے روگردانی تصور کیاہے: 

’’وما دام قد انعقد الإجماع علی تلک الرسوم فلا یجوز العدول عنہا الی غیرہا، إذ لا یجوز خرق الإجماع بوجہ‘‘۔(۷)

علامہ جعبریؒ نے ’روضۃ الطرائف فی رسم المصاحف فی شرح العقیلۃ‘ میں ائمۂِ اربعہ کا یہی موقف نقل کیا ہے۔(۸)

مکاتب اربعہ کے فتاویٰ کی تفصیل حسب ذیل ہے

۱۔ امام مالک ؒ کا مسلک:وقت کے گزرنے کے ساتھ کتابتِ مصحف میں جب رسمِ عثمانی سے مختلف کلمات کا دخول شروع ہوا تو امام مالکؒ (۹۵ھ۔۱۷۹ھ) سے اس ضمن میں استفتا کیا گیا جس کو علامہ دانی ؒ نے اِن الفاظ میں نقل کیا ہے:

’’۔۔۔ فقیل لہ : أریت من استکتب مصحفًا الیوم أتری أن یکتب علیٰ ما أحدث الناس من الھجاء الیوم ؟ فقال: لا أری ذلک ، ولکن یکتب علی الکتبۃ الاولیٰ‘‘۔(۹)

یعنی امام مالک ؒ سے پوچھا گیا کہ کہ کیا کوئی شخص لوگوں میں مروّج ہجا پر مصحف کی کتابت کر سکتا ہے تو آپؒ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ نہیں، بلکہ اسے پہلے طریقے پر ہی لکھنا چاہیے۔ امام مالک ؒ کے اِ س قول کے متصل بعد علامہ دانی ؒ نے لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے اِس قول سے کسی نے اختلاف نہیں کیا: ’’ولا مخالف لہ فی ذلک من علماء الامۃ‘‘۔امام سخاوی ؒ نے امام مالک ؒ کے قول پر ’’والذی ذہب الیہ مالک ہو الحق‘‘ کے الفاظ میں تبصرہ کیا ہے۔(۱۰)

۲۔ رسمِ عثمانی کے التزام کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ (۱۶۴ھ۔۲۴۱ھ) کا موقف بیان کرتے ہوئے علامہ زرکشیؒ لکھتے ہیں:

’’تحرم مخالفۃ مصحف الإمام فی واوٍ أو یاءٍ أو ألفٍ أو غیر ذلک‘‘۔(۱۱)

ڈاکٹر عبد الوہاب حمّودہ ،امام مالک ؒ اور امام احمد ؒ کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’فإذا عرفنا أن الإمام مالکاً ولد سنۃ ۹۳ھ وتوفی سنۃ ۱۷۹ھ علی الصحیح، وأن الإمام أحمد ولد سنۃ ۱۶۴ھ وتوفی سنۃ ۲۴۱ھ فہمنا أن الأمۃ فی القرنین قد أدرکت مخالفۃ الرسم العثمانی لقواعد کتاباتہم ، ورغبوا فی کتابۃ المصاحف علی القواعد الکتابیۃ، فاستفتوا الإمام مالکا فلم یفتہم بجواز ذلک ، وما علینا إلا اتباعہم والإقتداء بہم‘‘۔(۱۲)

یعنی ہم جانتے ہیں کہ امام مالک ؒ ۹۳ہجری میں پیدا ہوئے اور ۱۷۹ھ میں وفات ہوئی اور امام احمد ؒ ۱۶۴ھ میں پیدا جبکہ۲۴۱ھ میں فوت ہوئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں ہی لوگوں نے قواعدِ کتابت میں رسمِ عثمانی کی مخالفت شروع کر کے عام قواعدِ کتابت پر مصاحف کی کتابت کی طرف رغبت کی۔جب امام مالکؒ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے عام قواعدِ کتابت کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا۔ اب ہمارے اوپر ان کا اتباع اور ان کے قول کی پیروی لازم ہے۔

۳۔ شافعی فقہا کا مسلک یہ ہے:

’’وجاء فی حواشی المنہج فی فقہ الشافعیۃ مانصہ: کلمۃ الربا تکبت بالواو والألف کما جاء فی الرسم العثمانی، ولا تکتب فی القرآن بالیا أو الألف لأن رسمہ سنۃ متبعۃ‘‘۔ (۱۳)

یعنی ’ربوا‘ کا لفظ اسی طرح واؤ اور الف سے لکھنا چاہیے جیسے رسم عثمانی میں لکھا جاتا ہے۔ اس کو یا، یا الف سے نہیں لکھنا چاہیے کیونکہ رسم عثمانی کی پیروی ہمیشہ سے کی جا رہی ہے۔

۴۔ احناف کی رائے یہ ہے:

’’وجاء فی المحیط البرہانی فی فقہ الحنفیۃ مانصہ: إنہ ینبغی ألّا یکتب المصحف بغیر الرسم العثمانی‘‘۔(۱۴)

یعنی رسم عثمانی سے ہٹ کر مصحف کی کتابت درست نہیں۔ 

مذکورہ بالا اقوال اس بات کے شاہد ہیں کہ مسالک اربعہ کے تمام فقہا رسمِ عثمانی کے التزام کے بارے میں متفقہ موقف رکھتے ہیں۔

التزامِ رسم پر سلفؒ کے اقوال

علامہ عبد الواحدبن عاشر الاندلسیؒ اپنی تصنیف ’’تنبیہ الخلّان علی الأعلان بتکمیل مورد الظمآن‘‘کا آغاز درجِ ذیل خطبہ سے فرماتے ہیں:

’’الحمد ﷲ الذی رسم الآیات القرء انیۃ علی نحو ما في المصاحف العثمانیۃ، الواجب اتباعہا في رسم کل قراء ۃ متواتر عن خیر البریۃ‘‘۔(۱۵)

قولِ باری تعالیٰ (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ (۱۶)) کی تفسیر میں علامہ زمخشریؒ لکھتے ہیں:

’’وقعت اللام فی المصحف مفصولۃ عن ھٰذَا خارجۃ عن أوضاع الخط العربی وخط المصحف سنۃ لا تغیر‘‘۔(۱۷)

یعنی مصحف میں حرفِ لام(ل) ،کلمہ ’ھٰذا‘ سے علیحدٰہ لکھا گیا ہے جو عام رسم الخط کے خلاف ہے، لیکنِ مصحف کے رسم الخط کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔علامہ سیوطی ؒ نے امام بیہقیؒ (م۴۵۸ھ) کا ’’شعب الایمان‘‘ میں وارد قول اِن الفاظ میں نقل کیا ہے:

’’من کتب مصحفاً فینبغی أن یحافظ علی الہجاء الذی کتبوا بہ ہذہ المصاحف، ولا یخالفھم فیہ ولا یغیر مما کتبوا شیئا، فإنہم کانوا أکثر علماً، وأصدق قلباً ولساناً، وأعظم أمانۃ مِنّا فلا ینبغی أن نظن بأنفسنا استدراکا علیھم‘‘۔(۱۸)

یعنی جو شخص بھی مصحف لکھے تو اسے چاہیے کہ وہ سلف صحابہث و تابعینؒ کے ہجا کا لحاظ رکھے، اُن کی مخالفت نہ کرے ، کسی چیز کو اُن کی کتابت کے ساتھ تبدیل نہ کرے، کیونکہ وہ علم، قلب ولسان کی سچائی اور ایمانداری میں ہم سے بدرجہا بڑھ کر ہیں۔

محمد غوث الدین ارکاٹی ؒ نے رسمِ عثمانی کے التزام کے بارے میں مُلّا علی القاری ؒ کا حسبِ ذیل قول نقل کیا ہے:

’’والذی ذہب الیہ مالک ہو الحق، إذ فیہ بقاء الحالۃ الأولی، إلی أن تعلَّمہا الطبقۃ الأخری بعد الأخری، ولا شک أن ہذا ہو الأحری، إذ فی خلاف ذلک تجہیل الناس بأولیۃ ما فی الطبقۃ الأولی‘‘۔(۱۹)

علامہ نظام الدین نیشاپوریؒ التزامِ رسم کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’إن الواجب علی القراء والعلماء وأہل الکتاب أن یتبعوا ہذا الرسم فی خط المصحف، فإنہ رسم زید بن ثابت، وکان أمین رسول اﷲ ﷺ وکاتب وحیہ، وعَلِم من ہذا العلم ، بدعوۃ النبی ﷺ ما لم یعلم غیرہ، فما کتب شیئا من ذلک إلا لعلّۃ لطیفۃ وحکمۃ بلیغۃ‘‘۔(۲۰)

یعنی مصحف لکھنے کے لیے قرّ ا اور علما پر اِ س رسم کا اتباع لاز م ہے کیونکہ یہی وہ رسم ہے جس کو امینِ رسول اور کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابتصنے اختیار کیا تھا اور وہ رسول اللہ ا کے ارشاد کے مطابق ہر کسی کی نسبت اس سے مکمل طور پر واقف تھے۔چنانچہ انہوں نے جوبھی لکھا، وہ کسی لطیف علت اور بلیغ حکمت کی بنیاد پر ہی لکھاہے۔

علامہ ابو طاہر السندی نے رسمِ عثمانی کے التزام کی چار وجوہ بیان فرمائی ہیں:

’’الراجع من ذلک قول الجمہور، وذلک لوجوہ: ۱۔إن ہذا الرسم الذی کتب بہ الصحابۃ القرآن الکریم حظي بإقرار الرسول ﷺ، واتباع الرسول ﷺ واجبٌ علی الأمۃ۔ ۲۔أجمع علیہ الصحابۃ ولم یخالفہ أحد منہم ،وکان ہذا الانجاز الکبیر الأمۃ لقولہﷺ:(علیکم بسنتیوسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین من بعدی) ۔ ۳۔ أجمعت علیہ الأمۃ منذ عصور التابعین، وإجماع الأمۃ حجۃ شرعیۃ، وھو واجب الاتباع لأنہ سبیل المومنین، قال تعالیٰ: (وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدیٰ وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَاءَ تْ مَصِیرًا)۔ ۴۔ للرسم العثمانی فوائد مہمۃ، ومزایا کثیرۃ، خاصۃ أنہ یحوی علی القراء ات المختلفۃ، والأحرف المنزلۃ ، ففي مخالفتہ تضییع لتلک الفوائد وإہمال لہا‘‘۔(۲۱)

یعنی جمہور کا مذہبِ التزام راجح ہے اور اس کی حسبِ ذیل وجوہ ہیں:

اولاً، رسول اللہا کی تقریر کے باعث صحابہ کرام ثنے اسی رسم میں قرآن مجید کی کتابت کی اور رسول اللہ ا کا اتباع امت پر واجب ہے۔ ثانیاً، اسی رسم پرعہدِ خلفا میں جماعت صحابہث کا اجماع منعقد ہوا ،کسی ایک صحابی سے بھی اس کی مخالفت منقول نہیں۔چنانچہ خلفاے راشدین کا اتباع بھی امت پر واجب ہے کیونکہ رسول اللہا کا ارشاد ہے کہ ’’تم پر میری اور میرے بعد میرے خلفاءِ راشدین مہدیین کی سنت لاز م ہے‘‘۔ ثالثاً،زمانۂِ تابعینؒ سے امت کا اسی رسم پر اجماع ہے ۔ امت کا اجماع حجتِ شرعی اورمسلمانوں کے لیے واجب العمل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس نے ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول اللہ اکی نافرمانی کی اور مومنین کے راستے سے ہٹ کر چلاتو ہم اس کو اسی طرف پھیر دیں گے اور اس کو جہنم میں ڈالیں گے،اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔رابعاً، رسمِ عثمانی کے بہت سے فوائد ہیں، خصوصاً یہ کہ اس میں مختلف قراء ات اور منزل من اللہ حروف شامل ہو سکتے ہیں۔ اس رسم کی مخالفت سے یہ تمام فوائدمتروک ہو جاتے ہیں۔

التزامِ رسمِ عثمانی کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ کردیؒ لکھتے ہیں:

’’فخلاصۃ ما تقدم أن الواجب علینا اتباع رسما المصحف العثماني وتقلید أئمۃ القراء ات خصوصاً علماء الرسم منہم ، والرجوع إلی دواوینہم العظام کالمقنع لأبی عمرو الدانی والعقیلۃ للشاطبی، فإن ائمۃ القراء ات المتقدمین قد حصروا مرسوم القرآن الکریم کلمۃ کلمۃ علی ہیءۃ ما کتبہ الصحابۃ فی المصاحف العثمانیۃ، ونقلوا ذلک بالسند المتصل عن الثقات العدول الذین شاہدوا تلک المصاحف‘‘۔(۲۲)

یعنی رسمِ مصحفِ عثمانی کے ساتھ ساتھ ائمۂِ قراء ات خصوصاً علمایرسم کا اتباع ہم پر واجب ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں ہم ان کی عظیم تصانیف کی طرف رجوع کریں جیسے علامہ دانی ؒ کی المقنع اور علامہ شاطبی ؒ کی تصنیف العقیلہ وغیرہ۔بے شک متقدمین ائمۂِ قراء ات نے قرآنی کلمات میں سے ایک ایک کلمہ کارسم اور اس کے احکام بیان کیے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام ثنے مصاحفِ عثمانیہ میں اِن کلمات کو کتابت فرمایا۔ مزید برآں قرّ ا نے ثقہ وعادل اور مصاحفِ عثمانیہ کے عینی شاہدین سے سندِ متصل کے ساتھ اِس رسم کو نقل فرمایا ۔

فقہا اور مفسرین کے علاوہ اہلِ لغت نے بھی ہمیشہ رسمِ عثمانی کے التزام کو اختیار کیا ہے اور اسی کا حکم دیا ہے ۔ ڈاکٹرلبیب السعید نے ’’دار الکتب والوثائق القومیۃ قاہرہ‘‘ میں موجودعلامہ ابو البقاء العکبریؒ کے مخطوط ’’اللباب فی علل البناء والإعراب‘‘ کے ورق:۳۰ سے اُن کا ایک اقتباس نقل کیا ہے کہ اہلِ لغت کی ایک جماعت بھی یہی سمجھتی ہے کہ کلمہ کی کتابت اُس کے تلفظ کے مطابق ہونی چاہیے لیکن قرآنی رسم اس سے مستثنیٰ ہے :

’’ذھب جماعۃ من أہل اللغۃ إلی کتابۃ الکلمۃ علی لفظہا إلا فی خط المصحف ، فإنہم اتبعوا فی ذلک، ما وجدوہ فی الإمام ۔ والعمل علی الأول‘‘۔(۲۳)

رسمِ عثمانی کے التزام کے بارے میں محقق مناع القطان کی رائے حسبِ ذیل ہے:

’’والذی أراہ أن الرأي الثانی ہو الرأي الراجح، وأنہ یجب کتابۃ القرآن بالرسم العثمانی المعہود في المصحف۔۔۔ولو أبیحت کتابتہ بالاصطلاح الأملاءي لکل عصر لأدی ہذا إلی تغییر خط المصحف من عصر لآخر، بل إن قواعد الإملاء نفسہا تختلف فیہا وجہات النظر في العصر الواحد، وتتفاوت في بعض الکلمات من بلد آخر‘‘۔(۲۴)

یعنی میرے خیال میں التزامِ رسمِ عثمانی کی رائے راجح ہے اور اب قرآن مجید میں رسمِ عثمانی کے مطابق کتابت ہونی چاہیے۔ اگر مروّجہ املائی کتابت کے ساتھ قرآن مجید لکھنے کی اجازت دے دی جائے تو ہر زمانہ میں قرآن مجید کا رسم دوسرے زمانہ سے مختلف ہو گا، بلکہ قواعدِ املائی خود ایک ہی زمانہ میں مختلف جہات سے متغیر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایک شہر کے مصاحف کے کلمات دوسرے شہر کے مصاحف سے مختلف ہوں گے۔

مذکورہ اقوال کے علاوہ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ جس طرح دیگر اسلامی علوم اورورثہ کی حفاظت مسلم معاشرہ پر ضروری ہے، اسی طرح قرآن مجید سے منسوب ایک رسم اور طرزِ کتابت کی حفظ وصیانت بطریقِ اولیٰ لازمی امر ہوگا۔ (۲۵)

دورِ جدید کے علما کے فتاویٰ جات

مصری تحقیقی جریدے ’’المنار‘‘ نے ۱۹۰۹ء میں محمد رشید رضا کا فتویٰ شائع کیا جس میں ملا صادق الایمانقولی القزانی نے،جو کہ روسی ممالک میں طباعتِ مصاحف کے سلسلہ میں رسمِ مصاحف کی کمیٹی کے تفتیشی سربراہ تھے، حسبِ ذیل استفتا کیا:

’’ھل یجب اتباع الرسم العثمانی فی کتابۃ المصحف؟ أم ھل تجوز مخالفتہ للضرورۃ التی من أمثلہا: کلمۃ (ء اتٰن) فی الآیۃ ۳۶ من سورۃ النمل، حیث کُتبتْ فی المصحف العثمانی بغیر یاء بعد النون۔ وکلمات: (الأعلام)و(الأحلام)و(الأقلام)و(الأزلام)و(الأولاد)، حیث کُتبت ایضًا فی بعض المصاحف بحذف (الألف) بعد اللام؟‘‘۔(۲۶)

یعنی کیا مصحف کی کتابت کے دوران رسمِ عثمانی کی اتباع واجب ہے ؟کیا کسی ضرورت کے تحت اس کی مخالف جائز ہے؟ مثلاً:کلمہ (ء اتٰن) مصحفِ عثمانی میں نون کے بعد بغیر یاء کے لکھا ہے۔ اسی طرح دیگر کلمات مثلاً: (الأعلام) و(الأحلام) و(الأقلام) و(الأزلام) و(الأولاد)وغیرہ بعض مصاحف میں الف کے بعد لام کے حذف کے ساتھ مرسوم ہیں۔

اس کے علاوہ سائل نے محولہ بالا الفاظِ قرآنی میں الف کے بارے میں یہ وضاحت پیش کی کہ روسی شہر پیٹرزبرگ (بترسبورج) کے’’مکتبۂِ امبراطوریہ‘‘ میں محفوظ مصحفِ عثمانی میں اِن تمام الفاظ(الأعلام)،(الأحلام)، (الأقلام)، (الأزلام)اور(الأولاد) میں ’الف‘ محذوف ہیں۔(۲۷)

رسمِ مصحف کے متعلق صفر ۱۳۶۸ھ کے مجلّہ الازہر ۱۹۳۷ء میں صادر ہونے والے مصری فتویٰ میں حسبِ ذیل الفاظ بھی تھے:

’’أن المصاحف وخاصۃ فی العصر الحدیث مضبوطۃ بالشکل التام، ومذیلۃ ببیانات إرشادیۃ تیسّر للنّاس إلی حدّ ما قراء ۃ الکلمات المخالفۃ فی رسمہا للإملاء العادیّ، ثم إن رسم المصحف العثمانی لا یخالف قواعد الإملاء المعروفۃ إلا فی کلمات لا یصعب علی أحد إذا لقنہا أن ینطق بہا صحیحۃ‘‘۔(۲۸)

یعنی دورِ حاضر میں خصوصاً تمام مصاحف حرکات واعراب کے لحاظ سے مکمل ہیں اورعام املا سے مخالف کلماتِ قرآنیہ کے بارے میں لوگوں کی آسانی کے لیے ممکنہ وضاحتی بیانات سے پُر ہیں۔ مزید برآں مصحفِ عثمانی کا رسم سوائے چند کلمات کے عام قواعدِ املا کے موافق ہے،تو اِن چند کلمات کا کسی سے سیکھ کر ادا کرنا کچھ مشکل نہیں۔

علامہ محمد بن حبیب اللہ الشنقیطیؒ لکھتے ہیں:

’’ والذی اجتمعت علیہ الأمۃ: أن من لا یعرف الرسم المأثور یجب علیہ أن لا یقرأ فی المصحف ، حتی یتعلم القراء ۃ علی وجہہا ، ویتعلم مرسوم المصاحف‘‘۔(۲۹)

یعنی اِ س بات پر علماے امت کا اتفاق ہے کہ جو شخص قدیم رسمِ قرآنی سے واقفیت نہ رکھتا ہو، وہ مصحف سے دیکھ کر تلاوت نہ کرے یہاں تک کہ وہ قراء ت کے ساتھ ساتھ مصاحف کے رسم کے بارے میں بھی تعلیم حاصل کرے۔

حافظ احمد یار ؒ جامعۃ الازہر کی مجلسِ فتویٰ کا ذکران الفاظ میں کرتے ہیں:

’’الازہر کی مجلس فتوی کی طرف سے ۱۳۵۵ھ میں (بذریعہ مجلۃ الازہر) یہ فتویٰ جاری ہوا تھا کہ رسمِ عثمانی کی پابندی کے بغیر قرآن کریم کی طباعت ناجائز ہے ۔اس کے بعد سے طباعتِ مصاحف میں اس التزام کے بارے میں ایک تحریک سی پیدا ہوگئی ہے‘‘۔(۳۰)

مفتیٔ ہند مولانا محمد غنیؒ (معدنی) نے ایک استفتا کاجواب حسبِ ذیل الفاظ سے ارشاد فرمایا:

’’فإن الکتابۃ بخلاف المصاحف العثمانیۃ بدعۃ مذمومۃ وفعل شنیع باتفاق الأمۃ ‘‘۔(۳۱)

یعنی مصاحفِ عثمانیہ کے خلاف (مصاحف کی )کتابت، باتفاقِ اُمت قابلِ مذمت بدعت اور برا کام ہے ۔ 

الغرض علماے سلف کی طرح دورِ جدید کے جیّد علما ومحققین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ دورِ حاضر میں مصاحف کی کتابت وطباعت کے دوران رسمِ عثمانی کا اتباع ہی لازمی وضروری ہے ۔ 

رسم عثمانی کے عدم التزام کا موقف

عربی زبان سمیت دنیاکی ہر زبان ارتقا کا سفر جاری رکھتے ہوئے اپنے اندر کئی تبدیلیوں کی متحمل رہتی ہے اور اس کا رسم الخط بھی جدّت کا متقاضی رہتا ہے۔ مرورِ زمان کے ساتھ زبانو ں اور ان کے رسم الخط کی تبدیلی کالوگوں کے مزاج وفہم پر اثر انداز ہونا ایک لازمی امر ہے۔ اِ س پہلو کے پیش نظر بعض اہل علم نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ مصاحف کی طباعت و کتابت میں رسمِ عثمانی کی پابندی کو ترک کرتے ہوئے بعد کے ادوار میں منضبط ہونے والے عربی قواعدِ املا پر عملدرآمد ہونا چاہیے، کیونکہ کیونکہ قرآن کی تلاوت میں لوگوں کی آسانی کے لیے قدیم رسمِ قرآنی میں تبدیلی لازم ہے۔ 

علماے سلف میں سب سے پہلے سلطان العلماء العز بن عبد السلامؒ (م۶۶۰ھ) نے اسی بنیاد پر رسمِ عثمانی سے اجتناب کی تلقین کی(۳۲)۔علامہ العزبن عبدالسلامؒ کے اِ س موقف کو علامہ قسطلانی ؒ (۳۳)اور علامہ الدمیاطی ؒ (۳۴) کے علاوہ علامہ زرکشی ؒ نے اِن الفاظ میں ذکر کیاہے:

’’قال الشیخ عزالدین بن عبد السلام : لا تجوز کتابۃ المصحف الآن علی الرسوم الأولیٰ باصطلاح الأئمۃ لئلا یوقع فی تغییر الجھال‘‘۔ (۳۵)

یعنی اب قرآن مجید کی کتابت ائمۂِ رسم کے اختیار کردہ رسم الخط پر جائز نہیں کیونکہ اس سے جاہل لوگوں کے سنگین غلطی میں مبتلاہونے کا اندیشہ ہے۔ واضح رہے کہ علامہ عزالدین بن عبد السلامؒ امت کے معاملہ میں تیسیر وسہولت کے قائل تھے۔ جیسا کہ علامہ غانم نے اس کا ذکر کیا ہے:

’’ولیس غریبا علی الإمام العز مثل ھذا الرأي الذی تفرد بہ فھو صاحب نظریۃ المصالح، فالشریعۃ ’’کلہا مصالح ، إمّا تدرا مفاسد أو تجلب مصالح‘‘، وقد أداہ اجتہادہ أن فی مذہبہ مصلحۃ وتیسیراً علی الأمۃ‘‘۔(۳۶)

یعنی امام عزالدین بن عبد السلامؒ کی یہ منفرد رائے باعث تعجب نہیں کیونکہ وہ نظریۂ مصالح کے علمبردار ہیں جس کی رو سے شریعت تمام کی تمام مصالح پر مبنی ہے، خواہ وہ مفاسد کو دور کرنے کا معاملہ ہو یا کسی مصلحت کے حصول کا۔انہوں نے اپنے مذہب کے مطابق مصلحت اور امت پر آسانی کے پیش نظر اجتہاد ی موقف اختیارکیا ہے۔ تاہم علما میں کوئی قابلِ ذکر نام ایسا نہیں جس نے اِس رائے سے اتفاق کیا ہو۔ چنانچہ رسمِ عثمانی سے پرہیز اور اس کے عدمِ التزام کا نظریہ صرف علامہ عزالدین بن عبد السلام کے ایک قول کے سہارے پر کھڑا ہے جو کہ علماءِ امت کے اجماع کے مقابلے میں متروک العمل ٹھہرتا ہے۔

مذکورہ زاویہ نگاہ کے حامل بعض افراد نے قدرے اعتدال کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسم عثمانی کی خلاف ورزی کو ’ضروری‘ کے بجائے صرف ’جائز ‘قرار دیا ہے۔ اِس ضمن میں سب سے پہلے قاضی ابو بکر الباقلانیؒ نے مستعمل طریقۂِ املا میں مصاحف کی کتابت کے جواز کا فتویٰ دیا۔ ان کے نزدیک کسی دلیلِ قطعی سے امّت کے لیے کوئی متعین رسم الخط مخصوص ومشروع نہیں کیا گیا۔ علامہ زرقانی ؒ نے الانتصار کے حوالے سے قاضی ابوبکر الباقلانی ؒ کادرجِ ذیل قول نقل کیا ہے:

’’وأما الکتابۃ فلم یفرض اﷲ علی الأمۃ فیہا شیئا، إذ لم یأخذ علی کُتّاب القرآن وخُطّاط المصاحف رسماً بعینہ دون غیرہ أوجبہ علیہم وترک ما عداہ۔۔۔ وکان الناس قد أجازوا ذلک وأجازو أن یکتب کل واحد منہم بما ہو عادتہ ، وما ہو أسہل وأشہر وأولیٰ، من غیر تاثیم ولا تناکر، علم أنہ لم یؤخذ فی ذلک علی الناس حدٌّ مخصوص کما أخذ علیہم فی القراء ۃ والأذان۔ والسبب فی ذلک أن الخطوط إنما ھی علامات ورسوم تجری مجری الإشارات والعقود والرموز، فکل رسم دالٌّ علی الکلمۃ مفیدٍ لوجہ قراء تہا تجب صحتہ وتصویب الکاتب بہ علی أی صورۃ کانت۔ وبالجملۃ فکل من ادّعی أنہ یجب علی الناس رسم مخصوص وجب علیہ أن یقیم لحجۃ دعواہ۔ وانی لہ ذلک‘‘۔ (۳۷)

علامہ زرقانی، مذکورہ رائے پر مناقشہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ رائے کئی وجوہ سے قابلِ قبول نہیں۔ مثلاً علامہ باقلانی ؒ کی رائے کے مقابلہ میں سنت اور اجماعِ صحابہث کے علاوہ جمہور علما کے اقوال موجودہیں۔قاضی ابو بکر ؒ کا یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ یہ سنت سے ثابت نہیں، کیونکہ رسول اللہ انے کتّابِ وحی کو اسی رسم الخط کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابت صنے جمعِ ابی بکرص اور پھر جمعِ عثمانی میں اسی رسم کے موافق قرآن کی کتابت کی جس کو وہ عہدِ نبوی میں استعمال کرتے تھے۔ مزید برآں اس رائے کے خلاف اجماعِ صحابہ ث کا انعقاد ہو چکا ہے اور اجماعِ صحابہث کے خلاف کسی بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔(۳۸)

عبد العزیز دباغ ؒ نے قاضی ابوبکرؒ کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’قاضی ابو بکر کا یہ کہنا کہ رسم الخط کے اتباع کا وجوب نہ کتا ب اللہ سے ثابت ہے، نہ کلام رسول سے، نہ اجماع سے، نہ قیاس سے،(لہٰذا اختیار ہے کہ جس طرح چاہے لکھے)،صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:جو کچھ بھی تم کو رسول ادیں، وہ لو اور جس سے منع فرمائیں، اس سے باز آؤ۔ اور یہ واضح ہو چکا کہ رسم الخط توقیفی ہے ،صحابہ ثکا وضع کردہ نہیں(لہٰذا رسول اکا دیا ہوا ہے اور اس کا لینا واجب ہے)۔ اور اگر یہ شبہ کرو کہ حضرت ؐنے اس طریق پر کتابتِ قرآن کا حکم نہیں فرمایا ،تو آپ کے زمانہ میں صحابہ ثکا اس طریق پر لکھنا اور حضرت ؐ کا اس کو قائم وبرقرار رکھنا ہی ]سنتِ تقریری کے ذریعے[حکم کے درجہ میں ہے‘‘۔ (۳۹)

جامعۃ الازہر کی مجلسِ فتویٰ نے بھی علامہ ابو بکر الباقلانی ؒ کی رائے کو ضعیف قرار دیتے ہوئے کتابتِ مصحف میں رسمِ عثمانی کے التزام کا حکم دیا ہے:

’’أما ما یراہ أبو بکر الباقلانی من أن الرسم العثماني لا یلزم أن یتبع فی کتابۃ المصحف فھو رأي ضعیف۔ لأن الأئمۃ في جمیع العصور المختلفۃ درجوا علیٰ التزامہ في کتابۃ المصحف، ولأن سدّ ذرائع الفساد مہما کانت بعیدۃ أصل من أصول الشریعۃ الإسلامیۃ التي تبني الأحکام علیہا وما کان موقف الأئمۃ من الرسم العثماني إلا بدافع ہذا الأصل العظیم مبالغۃ في حفظ القرآن وصونہ‘‘۔(۴۰)

یعنی ابو بکر الباقلانی ؒ کی کتابتِ مصحف میں رسمِ عثمانی کا اتباع لازم نہ ہونے کی رائے ضعیف ہے کیونکہ تمام ادوار میں علماے امت نے کتابت مصحف کے لیے رسمِ عثمانی کے التزام کو ہی ترجیح دی ہے۔ ممکنہ فساد کے اسباب کا تدارک ہی شریعت کا اصل الاصول ہے، جس پر احکام کا مدار ہے۔ رسمِ عثمانی کے بعینہ التزام کے بارے میں ائمہ کا موقف بھی قرآن کی حفظ وصیانت کے اسی مقصدِ عظیم کے لیے ہے ۔

قاضی ابو بکر الباقلانی ؒ کے علاوہ علامہ ابن خلدون نے بھی رسمِ عثمانی کی مخالفت کو جائز قرار دیا ہے۔مقدمہ میں رقمطراز ہیں:

’’ولا تلتفتن فی ذلک إلی ما یزعُمہ بعض المغفّلین من أنہم کانوا محکمین لصناعۃ الخط، وأن ما یُتخیل من مخالفۃ خطوطہم لأصول الرسم لیس کما یُتخیّل، بل لکلہا وجہ۔۔۔الخ‘‘۔ (۴۱)

لیکن علماے رسم نے علامہ ابن خلدون کی رائے سے بھی اتفاق نہیں کیا۔ علامہ المارغنی ؒ لکھتے ہیں:

’’لا یجوز لأحد أن یطعن في شئ مما رسمہ الصحابۃ فی المصاحف، لأنہ طعن في مجمع علیہ، ولأن الطعن في الکتابۃ کالطعن في التلاوۃ وقد بلغ التہور ببعض المؤرخین الی أن قال في مرسوم الصحابۃ ما لا یلیق بعظیم علمہم الراسخ وشریف مقامہم الباذخ فإیاک أن تغتر بہ‘‘۔ (۴۲)

قاضی ابو بکر الباقلانی ؒ اور علامہ ابن خلدون کے اقوال کی بنیا د پر بعض علما کا موقف ہے کہ خواص اور اہلِ علم کے لیے تو اس کا التزام ضروری ہے لیکن عوام کے لیے رسمِ عثمانی کی بجائے مروّجہ رسم میں مصاحف کی کتابت وطباعت جائز ہے۔ (۴۳)

علامہ ابو طاہر السندیؒ اس نظریہ کے قائلین کا موقف نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وذھب بعض المتأخرین وبعض المعاصرین الی وجوب کتابۃ المصاحف للعامۃ بالقواعد الإملائیۃ، ولکن تجب المحافظۃ عندھم علی الرسم العثماني القدیم کأثر من الآثار الإسلامیۃ النفیسۃ الموروثۃ عن السلف الصالح، فمن ثَمّ تکتب مصاحف لخواص الناس بالرسم العثماني‘‘۔ (۴۴)

یعنی بعض متاخرین اور دورِ حاضر کے محققین نے املا کے عام قواعد کے تحت مصاحف کی کتابت کو ضروری قرا ردیا ہے،لیکن ان کے نزدیک قدیم رسمِ عثمانی کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ وہ ماثور اور پرانے اسلامی آثار میں سے سلفِ صالح کی ایک نفیس علامت ہے۔ چنانچہ خاص لوگوں کے لیے رسمِ عثمانی کے مطابق ہی مصاحف لکھے جائیں۔ 

علامہ عبد العظیم الزرقانی ؒ اس رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’وہذا الرأي یقوم علی رعایۃ الاحتیاط للقرآن من ناحیتین:
۱۔ ناحیۃ کتابتہ فی کل عصر بالرسم المعروف فیہ إبعاد للناس عن اللبس والخلط فی القرآن۔
۲۔ وناحیۃ إبقاء رسمہ الأول المأثور، یقرؤہ العارفون بہ ومن لا یخشی علیہم الإلتباس‘‘۔(۴۵) 

غالباً اسی نظریہ سے متاثر ہونے اور اسی رفعِ التباس کی بنا پر ہی اہلِ مشرق(ایشائی ممالک) میں رسمِ عثمانی کی عملاً خلاف ورزی کا رواج ہو گیا ہے، جبکہ اہلِ مغرب (افریقہ) میں رسمِ عثمانی کا التزام تاحال موجود ہے کیونکہ وہ مسلکِ مالکی کے پیروکار ہیں اور اس بارے میں امام مالک ؒ کا واضح قول ثابت ہے اور افریقہ اور مغرب میں زیادہ تر فقہ مالکی کا اتباع کیا جاتا ہے۔ (۴۶)

اہل مشرق (خصوصاً برصغیر پاک وہند)میں کتابتِ مصاحف کے حوالے سے رسمِ عثمانی کی خلاف ورزی کی مثالیں زیادہ ملتی ہیں جس کی بڑی وجہ نقل صحیح کا التزام کرنے کے بجائے حافظہ و قیاس سے کام لینا ہے۔ پیشہ ورانہ عجلت بھی اس کاباعث بنتی ہے جس کابڑاسبب کاتبین کی رسمِ عثمانی سے ناواقفیت اور کتابت کی ماہرانہ نگرانی اور پڑتال کا فقدان ہے۔ مصاحف کی تصحیح کرنے والے حضرات بھی رسم کی اغلاط سے یا تو خود بے خبر ہوتے ہیںیا رسم کے بجائے حرکات کی اغلاط پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ نظری حد تک لوگ ہمیشہ رسمِ عثمانی کے التزام کے قائل رہے ہیں، بلکہ محتاط کاتب نقل صحیح کی پابندی بھی کرتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ منقول عنہ نسخہ میں ہی اغلاط موجود ہوں۔(۴۷)

دورِ حاضر میں رسمِ عثمانی کے بجائے رسمِ املائی میں کتابتِ مصاحف کے جواز کی سب سے بڑی وجہ عوامی سہولت بیان کی جاتی ہے، لیکن جن لوگوں نے دورِ حاضر میں عوام کی سہولت کی خاطر جدید رسمِ املائی کے مطابق مصاحف کی کتابت و طباعت کو ضروری قرار دیا ہے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ التباس و اشتباہ عوام کے بجائے پڑھے لکھے طبقہ کے مسائل میں سے ہے کیونکہ عوام کے لیے کسی استاد سے زبانی طور پر قرآن سیکھنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر عام آدمی رسمِ املائی کو بھی غلط طریقہ پر ادا کر سکتا ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ احمد یارؒ لکھتے ہیں:

’’عوام کے بجائے عرب ممالک کے خواندہ لوگوں کے لیے رسم الخط کی ثنویت (روز مرہ میں رسمِ قیاسی اور تلاوت میں رسمِ عثمانی سے واسطہ پڑنا) التباس اور صعوبت کا باعث بنتی ہے ۔ ورنہ دنیا میں لاکھوں (بلکہ شاید) کروڑوں ایسے مسلمان ہیں جو اسی رسم عثمانی کے مطابق لکھے ہوئے مصاحف سے اپنے علاقے میں رائج علاماتِ ضبط کی بنا پر ہمیشہ درست تلاوت کرتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ’’عوام‘‘ کا نام تو محض ایک نعرہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ورنہ ضرورت تو پڑھے لکھے عربی دانوں کو رسمِ قرآن سے شناسا کرنے کی ہے ۔ رسمِ قرآنی کو ترک کر دینا اس کا کوئی علاج نہیں بلکہ اس کے مفاسد بہت زیادہ ہیں جبکہ رسمِ عثمانی کے التزام میں متعدد علمی اور دینی فوائد کا امکان غالب ہے‘‘۔(۴۸)

لہٰذا مناسب یہ ہے کہ عوام الناس کو رسمِ عثمانی اور اس کے رموز وفوائد اور خصوصیات سے روشناس کرایا جائے اور سرکاری سرپرستی میں اس کے التزام کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ (۴۹)

رسمِ عثمانی کے متعلق مذکورہ دونوں نظریہ ہائے عدمِ التزام کا ردّ کرتے ہوئے علامہ السندیؒ لکھتے ہیں:

’’أما ما ذہب إلیہ أصحاب المذہبین الآخرین ، فیمکن الرد علیہم:
۱۔ فیہما مخالفۃ لإجماع الصحابۃ والتابعین وأہل القرون المفضلۃ۔
۲۔ القواعد الإملائیۃ العصریۃ عرضۃ للتغییر والتبدیل فی کل عصر، وفی کل جیل، فلو أخضعنا رسم القرآن الکریم لتلک القواعد لأصبح القرآن عرضۃ للتحریف فیہ۔
۳۔ الرسم العثماني لا یُوقع الناس في الحیرۃ والإلتباس، لأن المصاحف أصبحت منقوطۃ مشکلۃ بحیث وُضعت علامات تدل علی الحروف الزائدۃ، أو الملحقۃ بدل المحذوفۃ، فلا مخافۃ علی وقوع الناس فی الحیرۃ والإلتباس‘‘۔(۵۰)

یعنی مؤخر الذکر دونوں مذاہب اس لیے ناقابل قبول ہیں کہ اوّلاً، رسمِ عثمانی کی مخالفت میں صحابہث ،تابعینؒ اور قرون مقدّسہ کے اجماع کی مخالفت لازم آتی ہے۔ ثانیاً،جدید قواعدِ املائیہ ہر زمانہ اور ہر نسل میں تغیروتبدل کا شکار رہے ہیں۔ اگر ہم قرآنی رسم کو اِن قواعد کے مطابق لکھنے کی اجازت دے دیں تو اس سے قرآن میں تحریف کا باب کھل جائے گا۔ ثالثاً،التباس اور لوگوں کی پریشانی کا باعث رسمِ عثمانی نہیں کیونکہ اب مصاحف منقوط ہیں اور ایسی علامات وضع ہو چکی ہیں جو کہ زائدیا محذوف حروف کے بدلے اضافی حروف پر دلالت کرتی ہیں۔لہٰذا اب لوگوں کی پریشانی اور التبا س کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔

مفتی محمد شفیع ؒ عوام الناس کی اس مشکل کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’الغرض اوّل تو یہ مشکلات محض خیالی ہیں۔ ان کو مشکل تسلیم کرنا ہی غلطی ہے اور بالفرض تسلیم بھی کیا جائے تو ہر مشکل کا ازالہ ضروری نہیں۔ یوں تو نماز روزہ وغیرہ ،ارکانِ اسلام سب ہی کچھ نہ کچھ مشکل اپنے اندر رکھتے ہیں‘‘۔ (۵۱)

رسمِ عثمانی کے مخا لف متجددین

علماے سلف میں سے جن لوگوں نے رسمِ عثمانی کے التزام اور عدمِ التزام کے معاملہ میں جمہور علما کی رائے سے اختلاف کیا ہے، انہوں نے اپنا موقف علم و استدلال کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش کیا ہے اور رسمِ عثمانی پر طعن وتشنیع کی روش نہیں اپنائی۔ لیکن بد قسمتی سے بعض متجددین نے رسمِ عثمانی میں خامیوں کی تلاش شروع کی اور اس کو ناقص قراردینے کے ساتھ صحابہ کرام ثکی طرف بھی ناگفتہ بہ باتیں منسوب کی ہیں۔(۵۲) اِن متجددین میں دو نام سرِ فہرست ہیں:

مصری متجدد عبد العزیز فہمي نے ’’الحروف اللاتینیۃ لکتابۃ العربیۃ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی جس کو مطبعۂ مصر نے ۱۹۴۴ء میں قاہرہ سے شائع کیا۔مذکورہ کتاب میں مصنف نے رسمِ مصحف پر کثرت سے اعتراضات کیے ہیں اور رسمِ مصحف کو ’’بدائیۃ سقیمۃ قاصرۃ‘‘(ص۲۱) (ابتدائی درجے کا، بیمار اور ناقص) جیسے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔صفحہ ۲۳ پر رسمِ عثمانی کو غیرمعقول قرار دیتے ہوئے ’’سخیف‘‘ (بعید از عقل؍کمزور)کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کے الفاظ ہیں:

’’ أقرر بأنی لست مکلفًا باحترام رسم القرآن، ولست الغی عقلی لمجرد أن بعض الناس أو کلہم یریدون إلغاء عقولہم، ولا یمیزون بین القرآن العظیم کلام اﷲ القدیم وبین رسمہ السخیف الذی ھو من وضع المؤمنین القاصرین‘‘۔(۵۳)

یعنی مجھے اعتراف ہے کہ میں رسم قرآنی کے احترام کا مکلف نہیں ہوں، اور اگر بعض یا سب لوگوں نے اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے تو میں ایسا نہیں کر سکتا۔ یہ لوگ کلام الٰہی کے مابین جو قدیم ہے اور اس کے رسم الخط کے مابین فرق نہیں کرتے جسے ناقص اور کوتاہ صلاحیت کے اہل ایمان نے تشکیل دیا ہے۔

مزید برآں عبد العزیز فہمي نے رسمِ عثمانی کو نعوذ باللہ ایک بیماری قرار دیا ہے جس نے جدید عربیت کے حُسن کو تباہ وبرباد کر دیا ہے ۔ اس کے الفاظ ہیں:

’’إنہ سرطان أزمن، فشوہ منظر العربیۃ، وغشّی جمالہا ، ونفّر منہا الولی القریب والخاطب الغریب، وإذ أقول (سرطان) فإنی أعنی ما أقول ، کالسرطان حسّا ومعنی‘‘۔(۵۴)

یعنی یہ مزمن سرطان ہے جس نے عربی زبان کے ظاہری حسن وجمال کو بد شکل بنا دیا ہے اور اس سے دوستوں اور دشمنوں، دونوں کو متنفر کردیا ہے۔ میں نے اس کے لیے سرطان کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس سے میری مراد سرطان ہی ہے، کیونکہ یہ ظاہری اور معنوی ہر لحاظ سے ایک سرطان ہے۔

رسمِ مصحف کے جدید معترضین میں سے دوسرا بڑا نام ابن الخطیب محمد محمد عبد اللطیف کا ہے جس نے ’’الفرقان‘‘ نامی کتاب تصنیف کی۔جس کوپہلی بار دارالکتب المصریہ نے قاہرہ سے ۱۹۴۸ء میں شائع کیا۔ موصوف لکھتے ہیں:

’’لما کان أہل العصر الأول قاصرین فی فن الکتابۃ ، عاجزین في الإملاء، لأمیتہم وبدواتہم، وبعدہم عن العلوم والفنون ، کانت کتابتہم للمصحف الشریف سقیمۃ الوضع غیر محکمۃ الصنع، فجاء ت الکتبۃ الأولی مزیجاً من أخطاء فاحشۃ ومناقضات متباینۃ في الھجاء والرسم‘‘۔(۵۵)

یعنی عصرِ اول کے لوگ ،اپنے اَن پڑھ اور بدوی ہونے کے لحاظ سے، فنِ کتابت سے قاصر اور علوم وفنون سے بے بہرہ تھے۔ مصحف میں کی گئی ان کی کتابت، وضع کے اعتبار سے سقیم اور مہارت کے اعتبار سے غیر محکم ہے۔ لہٰذا پہلی کتابت کے ہجا ورسم میں فاحش اغلاط اور متباین مناقضات شامل ہیں۔

ڈاکٹر لبیب السعید، ابن الخطیب کا ایک اقتباس یوں نقل کرتے ہیں:

’’(إنہ) یقلب معانی الألفاظ ، ویشوھہا تشویہا شنیعاً، ویعکس معناہا بدرجۃ تکفّر قاریہ، وتحرّف معانیہ، وفضلاً عن ہٰذا ، فإن فیہ تناقضاً غریباً وتنافراً معیباً لا یمکن تعلیلہ، ولا یستطاع تأویلہ‘‘۔ (۵۶)

یعنی یہ رسم الفاظ کے معانی کو بدلنے کا سبب ہے ، شکل و صورت کے لحاظ سے بُرا، معنی کو اِس حد تک بدلنے والا کہ اس کا پڑھنے والا کافر ٹھہرے اور اس کے معنی بدل جائیں۔ مزید برآں اس رسم میں عجیب وغریب قسم کا تناقض و اختلاف پایا جاتا ہے جو اتنا معیوب ہے کہ اس کی توجیہ وتاویل کسی طرح ممکن نہیں۔

جولائی ۱۹۴۸ء میں صدرجامعۃالازہر کی زیر نگرانی تین علما کی قائمہ کمیٹی نے اکتالیس (۴۱)صفحات پر مشتمل ایک فیصلہ صادر فرمایا جس میں مذکورہ کتب پر پابندی عائد کرنے اور ان کو ضبط کرنے کاحکم دیا گیا۔کیونکہ وہ اسلامی اصول جن پر احکام کا مدار ہے، ان کی پاسداری اور اِ س کی مخالفت کا سدِّ باب ضروری ہے۔(۵۷)


حواشی

(۱) القسطلانی،لطائف الاشارات لفنون القرء ات: ۱؍۲۸۵

(۲) غانم قدوری،رسم المصحف :ص۱۹۹۔۔۔و۔۔۔الکردی: تاریخ القرآن وغرائب رسمہ وحکمہ:ص۱۰۳

(۳) ’’اجمع المسلمون قاطبۃ علی وجوب اتباع رسم مصاحف عثمان ومنع مخالفتہ (ثم قال) قال العلامۃ ابن عاشر ووجہ وجوبہ ما تقدم من اجماع الصحابۃ علیہ وھم زہاء اثنی عشر الفاً والإجماع حجۃ حسبما تقرر فی اصول الفقہ (النصوص الجلیلۃ:ص۲۵)‘‘۔(مفتی محمد شفیعؒ :جواہر الفقہ:۱؍۸۵)

(۴) صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۷۸

(۵) ابن قتیبہؒ الدینوریؒ ،ابو محمد عبد اللہ بن مسلم(م۲۷۶ھ): ادب الکاتب:ص۲۵۳،ط۲،دارِ احیاء التراث العربی ، بیروت، ۱۹۷۰ء

(۶) السیوطیؒ : الاتقان فی علوم القرآن: ۴؍۱۴۶،ط۱،مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی،قاہرہ،۱۹۶۷ء،تحقیق:محمد ابوالفضل ابراہیم) ۔۔۔صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۷۸۔۔۔’’والفقہاء مجمعون ، أو کالمجمعین علی ہذا الرسم‘‘۔(الجمع الصوتی الاول:ص۲۹۸)

(۷) الحدادؒ :محمد بن علی بن خلف الحسینی: إرشاد الحیران إلی معرفۃ ما یجب فی رسم القرآن:ص۴۱،مطبعۃ المعاہد بالجمالیۃ، قاہرہ، ۱۳۴۲ھ

(۸) احمد بن المبارک: الإبریز: ص۵۹، ط۱، المطبعۃ الازہریۃ،مصر،۱۳۰۶ھ۔۔۔ الکردی:تاریخ القرآن:ص۱۰۴۔۔۔التھانوی:اظہار احمد ،الاستاذ الجلیل(م ۱۴۱۲ھ):ایضاح المقاصد شرح عقیلۃ اتراب القصائد فی علم الرسم:ص۱۱،قراء ت اکیڈمی، لاہور۔ س ۔ن۔۔۔ابو طاہر السندی،صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۷۹

(۹) الدانی:ابو عمرو عثمان بن سعیدؒ (م ۴۴۴ھ): المقنع فی رسم مصاحف الامصار:ص۹ ۔۱۰،تحقیق: محمدالصادق قمحاوی، مکتبۃ الکلیات الازہریۃ، قاہرہ

(۱۰) الزرقانی ،مناہل العرفان:۱؍۳۷۲

(۱۱) مرجعِ سابق۔۔۔الزرکشی،البرہان فی علوم القرآن:۱؍۳۷۹

(۱۲) حمودہ،عبدالوہاب: القراء ات واللہجات:ص۱۰۲،ط۱،مکتبۃ النہضۃ المصریۃ،قاہرہ،۱۳۶۸ھ؍۱۹۴۸ء 

(۱۳) الزرقانی،مناہل العرفان:۱؍۳۷۲

(۱۴) مرجعِ سابق

(۱۵) الشیخ عبد الواحد بن عاشر الاندلسیؒ :تنبیہ الخلان علی الاعلان بتکمیل مورد الظمآن :ص۱،ط۱،دارالکتب العلمیۃ،بیروت، ۱۴۱۵ھ؍۱۹۹۵ (نوٹ:مذکورہ کتاب علامہ المارغنیؒ کی تصنیف ’’دلیل الحیران‘‘ کے آخر میں بھی منسلک ہے)

(۱۶) سورۃ الفرقان:۷

(۱۷) جار اللہ ابو القاسم محمود بن عمر الزمخشریؒ (م۵۳۸ھ) : الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التأویل: ۳؍۲۰۹، ط۲، المکتبۃ التجاریۃ الکبریٰ، القاہرۃ، ۱۹۵۳ء

(۱۸) الاتقان فی علوم القرآن:۴؍۱۴۶۔۔۔البرہان فی علوم القرآن:۱؍۳۷۹۔۔۔الکردی :تاریخ القرآن وغرائب رسمہ وحکمہ:ص۱۰۳ ۔۔۔لطائف الاشارات لفنون القراء ات:۱؍۲۷۹

(۱۹) محمد غوث ناصر الدین محمد نظام الدین النائطی الارکانی: نثر المرجان فی رسم نظم القرآن:۱؍۱۰، مطبعۃ عثمان پریس،حیدرآباد دکن،۱۳۱۳ھ

(۲۰) غرائب القرآن ورغائب الفرقان:۱؍۴۰۔۔۔الزرکشی،البرہان فی علوم القرآن:۱؍۳۸۰میں بھی اس کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔

(۲۱) صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۸۰و۱۸۱

(۲۲) تاریخ القرآن وغرائب رسمہ وحکمہ:ص۱۱۱

(۲۳) الجمع الصوتی الاول:ص۲۹۸

(۲۴) مباحث فی علوم القرآن:ص۱۴۹

(۲۵) ’’یہ’حفاظتِ ورثہ‘ والی بات جذباتی ہی نہیں اپنے اندر ایک تہذیبی بلکہ قانونی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ برسبیل تذکرہ مصر کے ایک ناشر کے خلاف رسمِ قیاسی کے ساتھ لکھا ہوا ایک مصحف چھاپنے پر مقدمہ چلا۔ عدالت نے ناشر کے خلاف فیصلہ دیا اور نسخہ کی ضبطی کاحکم جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک ’نقطۂِ توجہ‘ یہ لکھا کہ((آثارِ سلف کی حفاظت ترقی یافتہ اقوام کا فریضۂ اولین ہے))۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز شیکسپئر (یا دوسرے قدیم شعراء مثل چوسروغیرہ) کا کلام انہی کے زمانے کے ہجاء وغیرہ کے ساتھ چھاپنا ضروری خیال کرتے ہیں اور وہ کسی طابع یا ناشر کو اس کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتے حالانکہ تین چار سو سال میں انگریزی زبان بدل کر کچھ سے کچھ ہو چکی ہے تو پھر قرآن کے بارے میں یہ اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟‘‘۔(قرآن وسنت چند مباحث(۱):ص۹۵و۹۶)

(۲۶) الجمع الصوتی الاول:ص۳۰۲

(۲۷) فتاویٰ امام محمد رشید رضا:۲؍۷۸۹ تا۷۹۴۔۔۔بحوالہ:مرجعِ سابق

امام محمد رشید رضا نے پانچ نکات پر مشتمل جو جواب صادر فرمایا اس کامتن یوں ہے:

’’(۱) أن الاسلام یمتاز علی جمیع الادیان بحفظ أصلہ منذ الصدر الأول، وأن التابعین وتابعیہم وائمۃ العلم أحسنوا باتّباع الصحابۃ فی رسم المصحف، وعدم تجویز الکتابتہ بما استحدث الناس من فنّ الرسم ، وإن کان أرقی مما کان علیہ الصحابۃ، إذ لو فعلوا لجاز أن یحدث اشتباہ فی بعض الکلمات باختلاف رسمہا وجہل أصلہا۔
(ب) وأن الاتباع فی رسم المصحف یفید مزید ثقۃ واطمئنان فی حفظہ کما ہو، وفی إبعاد الشُبہات أن تحوم حولہ، وفی حفظ شئ من تاریخ الملۃ وسلف الأمۃ کما ہو۔
(ج) وأنہ کنصّ الفتویٰ لو کان لمثل الأمۃ الإنکلیزیۃ ہذا الأثر لما استبدلت بہ ملک کسری وقیصر، ولا أسطول الألمان الجدید الذی ہو شغلہا الشاغل الیوم۔
(د) وأن ما احتج بہ العز بن عبد السلام لما رآہ من (عدم جواز کتابۃ المصاحف الآن علی المرسوم الاول خشیۃ الالتباس، ولئلا یوقع فی تغییر من الجہّال) لیس بشئ ، لأن الاتباع إذا لم یکن واجباً فی الأصل وھو ما لا ینکرہ فترک الناس لہ لا یجعلہ حرامًا أو غیر جائز لما ذکرہ من الالتباس۔
(ھ) وأن الحلّ لکل العُقد فی مشکلات الرسم التی تواجہ السائل ہو فی الرجوع إلی طبعۃ المصحف الصّادرۃ فی سنۃ ۱۳۰۸ھ من مطبعۃ محمد أبی زید بمصر، فقد توقف علی تصحیح ہذہ الطبعۃ وضبطہا الشیخ رضوان بن محمد المخلانی أحد علماء ہذا الشأن وصاحب المصنفات فیہ، والذی وضع للطبعۃ مقدمۃ شارحۃ ونافعۃ‘‘۔

(۲۸) نفس المصدر:ص۳۰۳

(۲۹) محمد بن حبیب اللہ الشنقیطیؒ : إیقاظ الأعلام لوجوب اتباع رسم المصحف الإمام:ص۱۶، ط۱، مطبعۃ المعاہد بالجمالیۃ قاہرہ،مصر،۱۳۴۵ھ

(۳۰) قرآن وسنت چند مباحث(۱):ص۹۷

(۳۱) بحوالہ:جواہر الفقہ از مفتی محمد شفیعؒ :۱؍۹۳

(۳۲) قاضی عبد الفتاح نے الشیخ حسین والی اؒ ور احمد حسن زیات ؒ کو بھی اِسی نظریہ کے قائلین میں شمار کیا ہے۔۔۔۔ملاحظہ ہو:القاضی عبدالفتاح: تاریخ المصحف الشریف:ص۸۲، مطبعۃ المشہد الحسینی، القاہرۃ

(۳۳) القسطلانی :شہاب الدین احمد بن محمدبن ابی بکر: لطائف الاشارات لفنون القراء ات: ۱؍۲۷۹،المجلس الاعلیٰ للشؤن الاسلامیہ، قاہرہ، ۱۹۷۲ء

(۳۴) الدمیاطی البناء،اتحاف فضلاء البشر:ص۹

(۳۵) مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:الزرکشیؒ ،بدرالدین محمد بن عبد اللہ بن بہادر(م۷۹۴ھ): البرہان:فی علوم القرآن :۱؍۳۷۹،دار احیاء الکتب العربیۃ ،قاہرہ، ۱۹۵۷ء:

(۳۶) غانم قدوری الحمد: رسم المصحف دراسۃ لغویۃ تاریخیۃ: ص۲۰۱،ط۱، اللجنۃ الوطنیۃ للأحتقال، بغداد، عراق، ۱۴۰۲ھ؍ ۱۹۸۲ء

(۳۷) الزرقانی:الشیخ محمد عبد العظیم : مناہل العرفان فی علوم القرآن: ۱؍۳۷۳۔۳۷۴،دار احیاء الکتب العربیۃ عیسیٰ البابی الحلبی،قاہرہ،۱۹۴۳ء 

(۳۸) مرجعِ سابق

(۳۹) احمد بن المبارک: الإبریز: ص۱۱۶، ط۱، المطبعۃ الازہریۃ،مصر،۱۳۰۶ھ

(۴۰) الدکتور احمد مختار عمر،الدکتور عبد العال سالم مُکرم:معجم القراء ات القرآنیۃ:۱؍۴۲و۴۳،ط۱، انتشارات اسوہ (التابعۃ لمنظمۃ الاوقاف والشؤون الخیریۃ)، ایران،۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱ء

(۴۱) ابن خلدونؒ :عبد الرحمن المغربی(م۸۰۸ھ): کتاب العبر ودیوان المبتداء والخبرمسمّیٰ بتاریخ ابن خلدون:۱؍۷۴۷وما بعد، دارالکتاب،بیروت،۱۹۵۶ء:

(۴۲) المارغنیؒ التونسی،الشیخ ابراہیم بن احمد : دلیل الحیران علیٰ مورد الظمآن فی فنّی الرسم والضبط:ص۲۶،ط۱، دارالکتب العلمیۃ بیروت، ۱۴۱۵ھ؍۱۹۹۵ء

(۴۳) جیسا کہ علامہ الدمیاطی ؒ نے اِس رائے کو اِن الفاظ میں نقل کیا ہے:

’’ورأی بعضہم قصر الرسم بالاصطلاح العثمانی علی مصاحف الخواصّ، وإباحۃ رسمہ للعوامّ، بالاصطلاحات الشائعۃ بینہم‘‘۔ (اتحاف فضلاء البشر:ص۹)

(۴۴) السندیؒ ، ابو طاہر عبد القیوم: صحفات فی علوم القراء ات: ص۱۸۰،ط۱، المکتبۃ الامدادیہ ،مکہ مکرمہ، ۱۴۱۵ھ

(۴۵) الزرقانی، مناہل العرفان:۱؍۳۸۵

(۴۶) ملخص از: احمد یارؒ ، پروفیسرحافظ:قرآن وسنت۔ چند مباحث:ص۸۵،شیخ زاید اسلامک سنٹر،جامعہ پنجاب لاہور،جون ۲۰۰۰ء 

(۴۷) مرجعِ سابق

(۴۸) نفس المصدر:ص۸۷

(۴۹) اس پر حافظ احمد یار مرحوم ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ مگر جدید اور قیاسی املاء کے عادی خواندہ لوگوں کے لئے رسمِ قرآنی میں کیسے سہولت پیدا کی جائے ؟ اس سوال کا ایک جواب تو دقت نظر سے اختیار کردہ علاماتِ ضبط کا نظام ہے۔ دوسرا علاج اس کا الازہر والوں نے ۱۳۶۸ھ میں ایک دوسرے فتوی کی صورت میں دیا جس کی رو سے یہ جائز قرار دیا گیا کہ اصل متن تو رسمِ عثمانی کے مطابق ہی رہے مگر نیچے ذیل(فٹ نوٹ) کے طور پر ’’مشکل‘‘ کلمات کو جدید املاء یا رسمِ معتاد کی شکل میں الگ بھی لکھ دیا جائے۔ چنانچہ عبدالجلیل عیسیٰ کے حاشیہ کے ساتھ ’’المصحف المیسر‘‘ اسی اصول پر علماء الازہر کی نگرانی میں تیار ہو کر شائع ہوا تھا۔یہ بھی اس مسئلہ کا ایک عمدہ حل ہے ۔ تاہم غالباً پاکستان میں اس کی ضرورت نہیں یہ پڑھے لکھے عربوں کا مسئلہ کا حل ہے۔ہمارے ہاں رسمِ عثمانی کا مکمل التزام درکار ہے‘‘۔ (نفس المصدر:ص۹۷و۹۸)

(۵۰) السندی ابو طاہر،صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۸۲

(۵۱) حضرت مولانا محمد شفیع ؒ :جواہر الفقہ:۱؍۷۶،ط۱، مکتبہ دارالعلوم کراچی،جمادی الاولیٰ۱۳۹۵ھ

(۵۲) اِ س کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ غانم قدّوری لکھتے ہیں:

’’۔۔۔فإن طائفۃ من المحدثین تنسب إلی العلم أطلقت ألسنتھا تصف الرسم بما نجل الرسم والصحابۃ الذین کتبوہ عن مجرد ذکرہ، وھو إن دل علی شء، فإنما یدل علی الجہالۃ فی العلم والبلادۃ في الذہن والقصور في الادراک، إن لم یدل علی سوء النیۃ وخبث القصد والعداء لکتاب اﷲ العزیز‘‘۔(رسم المصحف:ص۲۱۱۔۲۱۲)

(۵۳) مرجعِ سابق

(۵۴) مرجعِ سابق

(۵۵) الفرقان:ص۵۷۔۔۔بحوالہ:مرجعِ سابق

(۵۶) لبیب السعید:الدکتور: الجمع الصوتی الاول للقرآن(المصحف المرتل): ص۲۹۳، ط۲، دارالمعارف القاہرۃ،س۔ن

(۵۷) غانم قدوری:رسم المصحف:ص۲۱۲۔۔۔و۔۔۔الجمع الصوتی الاول:ص۳۰۱


قرآن / علوم قرآن