الشریعہ اکادمی میں فکری نشست

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسیٰ منصوری اور ابراہیم کمیونٹی کالج لندن کے پرنسپل مولانا مشفق الدین اپنے ر فقا مولانا شمس الضحٰی اور مولانا بلال عبد اللہ کے ہمراہ ۳ ؍جنوری ۲۰۰۶ء کو الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے۔ اس موقع پر ایک خصوصی فکری نشست کااہتمام کیا گیا جس سکول وکالج، دینی مدارس کے اساتذہ اور دیگر اہل علم نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت ایچی سن کالج لاہور کے پروفیسر جناب ظفر اللہ شفیق صاحب نے فرمائی۔ افتتاحی کلمات میں الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے معزز مہمانوں کاشکریہ ادا کیااور اکادمی کے قیام کو مولاناعیسیٰ منصوری کے ساتھ اپنی فکری رفاقت کا نتیجہ قرار دیا۔ مہمان خصوصی مولانا عیسیٰ منصوری نے ’’زوال امت کے اسباب‘‘ جیسے فکر انگیز موضوع پر تفصیلی اظہار خیال کیا اور دینی و عصری علوم سے دوری نیز دعوت وتبلیغ کے فریضہ کو نظر انداز کرنے کو زوال امت کی بڑی وجہ قرار دیا۔ پروفیسر ظفر اللہ شفیق صاحب نے صدارتی خطبے میں اس بات پر زور دیاکہ امت مسلمہ کے زوال کے اسباب کے تدارک کے لیے بھر پو ر عملی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ پر وقار تقریب مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث مولاناعبد المالک شاہ کے دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پزیر ہوئی۔

نماز مغرب کے بعد الشریعہ اکادمی کے اساتذہ اور ابراہیم کمیونٹی کالج لندن کے پرنسپل جناب محمد مشفق الدین اور ان کے رفقا جناب بلال عبد اللہ اور شمس الضحی کے درمیاں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف نے اکادمی کے اساتذہ پروفیسر میاں انعام الرحمن اور پروفیسر محمد اکرم ورک کے ہمراہ معزز مہمانوں کو اکادمی کے نظام اور نصاب تعلیم ، اہداف اور طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ جوان فکر اساتذہ پر مشتمل یہ ٹیم ان دنوں برصغیر پاک وہند کے ایسے اداروں کا دورہ کر رہی ہے جو درس نظامی کے روایتی نصاب کی بجائے قدیم اور عصری علوم کے امتزاج پر مبنی نئے نصابی تجربات کر رہے ہیں ۔ ابراہیم کمیونٹی کالج لندن اپنے ادارے کے لیے ایسا نصاب مدون کرنا چاہتا ہے جو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو تاکہ اس کے ذریعے سے ایسے علما اور مبلغین پیدا کئے جاسکیں جو اقوام مغرب میں بہتر انداز میں دعوت وتبلیغ کاکام کر سکیں۔

(رپورٹ:فضل حمید چترالی)

الشریعہ اکادمی

(مارچ ۲۰۰۶ء)

Flag Counter