تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت

پروفیسر شاہدہ قاضی

کیا دیو مالا کا تاریخ سے کوئی تعلق ہے؟ کیا دیو مالا اور تاریخ ہم معنی الفاظ ہیں؟ یا کیا تاریخ دیومالا ہی کا نام ہے؟ یہ بات مانی جاتی ہے کہ دونوں کے مابین فرق بہت باریک سا ہے۔ نا معلوم زمانے سے انسان اپنی اساسات کی تلاش میں مصروف ہے۔ وہ اس کوشش میں بھی مصروف رہا ہے کہ قدیم زمانے کی داستانوں کی، جو ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہیں، کوئی حقیقی اور قابل فہم بنیاد تلاش کر لے۔ نتیجے کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ کنگ آرتھر کے وجود کو ثابت کرنے، ٹرائے شہر کا محل وقوع معلوم کرنے اور اس مقام کو دریافت کرنے کے لیے جہاں متعین طور پر کشتی نوح جا کر رکی تھی، متعدد مہمیں منظم کی گئی ہیں۔ ۶۰ اور ۷۰ کی دہائی میں پوری دنیا میں ایک تحریک چلی تھی جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ قدیم دیومالا کے دیوتا فی الواقع وجود رکھتے ہیں اور وہ مختلف کہکشاؤں سے آئے اور بنی نوع انسان کی ترقی انھی مافوق الفطرت ہستیوں کی مرہون منت ہے۔ اس موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف کی گئیں۔

تاہم، ہم پاکستانی ایک نرالی مخلوق ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دنیا کی دوسری قوموں کی طرح ہمارے پاس کوئی مناسب دیومالا نہیں ہے، ہم نے اپنی دیومالا خود تخلیق کر لی ہے جو سپر ہیروز (Super heroes) کے ایک جم غفیر سے آباد ہے جن کی کتاب زندگی میں عظیم الشان اور حیرت انگیز کارناموں کا ایک طویل وعریض سلسلہ درج ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ یہ سپر ہیروز، کسی انتہائی قدیم دور یا زمانہ قبل از تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے موجودہ دور ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان ہیروز، ان کی شخصیتوں اور کارناموں کے حوالے سے ایک بظاہر بڑی ہی درست دکھائی دینے والی دیومالا تخلیق کی گئی ہے جسے اس وقت سے بچوں کے ذہن میں اتارنا شروع کر دیا جاتا ہے جب وہ سکول جانے لگتے ہیں۔ یہ ذہن سازی اتنی گہری ہے کہ حقائق سے پردہ اٹھانے یا سچ کی بازیافت کی کسی بھی کوشش کو ’’گستاخی اور توہین‘‘ سے کم تر کوئی نام نہیں دیا جاتا۔

یہاں ہم اس قسم کے چند زبان زد عام افسانوں کا ذکر کریں گے۔

افسانہ نمبر ۱: ’’ہماری تاریخ کا آغاز ۷۱۲ ہجری سے ہوتا ہے جب محمد بن قاسم برصغیر میں آئے اور دیبل کی بندرگاہ کو فتح کیا۔‘‘

معاشرتی علوم یا مطالعہ پاکستان کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیجیے، اس کا آغازمحمد بن قاسم سے ہوگا۔ ان کی آمد سے پہلے یہاں کیا تھا؟ جی ہاں، ظالم اور جابر ہندو راجے مثلاً راجہ داہر اور مظلوم اور اجڈ عوام جو بے چینی سے کسی آزاد کنندہ کے منتظر تھے جو انھیں ان کے ظالم راجوں کے چنگل سے چھڑائے۔ اور جب آزاد کنندہ آیا تو اس کا کھلے بازووں سے استقبال کیا گیا اور ممنون احسان عوام جوق در جوق دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔

کیا یہ سب کچھ حقیقت میں بھی ایسے ہی رونما ہوا؟ تاریخ کی یہ تصویر بڑی آسانی سے اس حقیقت کو فراموش کر دیتی ہے کہ یہ علاقہ جہاں ہمارا ملک واقع ہے، چھ ہزار سال کی ایک طویل اور شان دار تاریخ رکھتا ہے۔ موئنجو داڑو کو تو چھوڑ دیجیے کہ اس کے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلومات میسر نہیں ہیں، لیکن باقاعدہ مدون تاریخ یہ بتاتی ہے کہ محمد بن قاسم کے آنے سے پہلے یہ علاقہ، جو کم وبیش سندھ، پنجاب اور سرحد کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے، دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کم سے کم بارہ مختلف خاندانوں کے زیر اقتدار تھا۔ ان میں فارسی حکمران بھی شامل تھے (Achaemenian دور میں)، یونانی بھی جو بیکٹریا، سائتھیا اور پارتھیا کے لوگوں پر مشتمل تھے، چین کے کوشانہ بھی، اور چین ہی سے آنے والے ہن بھی جو شاہ اٹیلا (Attila) کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ متعدد ہندو خاندان تھے جن میں چندر گپت موریہ اور اشوک جیسے عظیم حکمران بھی شامل ہیں۔

گندھارا تہذیب کے دور میں یہ علاقہ اس حوالے سے ممتاز تھا کہ یہاں ٹیکسلا کے قریب اس وقت دنیا کی سب بڑی اور اہم ترین یونیورسٹیاں قائم تھیں۔ ہم بے حد مہذب، اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش حال، تخلیقی صلاحیت سے بہرہ ور اور اقتصادی لحاظ سے زرخیز لوگ تھے اور بہت سے ممالک ہم سے عقلی وفکری اور معاشی طور پر مستفید ہوتے تھے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہیے، لیکن کیا ہم یہ حقائق اپنے بچوں کو بتاتے ہیں؟ نہیں، اور اس طرح یہ افسانہ مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا چلا جا رہا ہے۔

افسانہ نمبر ۲: ’’محمد بن قاسم انڈیا میں جبر وتشدد کا شکار خواتین اور یتیم بچیوں کی مدد کے لیے آیا تھا۔‘‘

تاریخ کے تلخ حقائق سے ناواقفیت کی بنا پر ہم نہیں جانتے یا جاننے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ یہ دور مسلم سلطنت کی توسیع کا دور تھا۔ عرب، دنیا کے ایک بڑے حصے کو، جس میں مشرق وسطیٰ، ایران ، شمالی افریقہ اور اسپین کے علاقے شامل تھے، فتح کر چکے تھے۔ چنانچہ یہ بات بالکل غیر منطقی تھی کہ وہ انڈیا کو فتح کرنے کی کوشش نہ کرتے جو کہ تصوراتی اور تخیلاتی خزانوں کی سرزمین تھی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ عربوں نے ہندوستان کی طرف اپنی پہلی مہم حضرت عمر فاروق کے دور حکومت میں روانہ کی تھی۔ اس کے بعد حضرت عثمان کے عہد میں ایک دوسری مہم مکران تک آئی، تاہم یہ مہمیں ہندوستان کے علاقے میں داخل ہونے میں ناکام رہیں۔ بعد ازاں راجہ داہر کی طرف سے ان بحری جہازوں کا تاوان ادا کرنے سے انکار پر جنھیں بحری قزاقوں نے چھین لیا تھا (اور جس میں اتفاق سے صرف عورتیں اور لڑکیاں ہی نہیں بلکہ خزانوں سے لدے ہوئے وہ آٹھ بحری جہاز بھی شامل تھے جو سری لنکا سے آ رہے تھے) دو مہمیں پہلے ہی انڈیا روانہ کی جا چکی تھیں لیکن وہ بھی ناکام ثابت ہوئیں۔ محمد بن قاسم کی مہم تیسری مہم تھی جو منصورہ سے لے کر ملتان تک سندھ کے علاقے پر قبضہ کرنے میں کام یاب ہوئی۔ تاہم عربوں کے داخلی اختلاف اور سیاسی مخاصمت کے باعث سندھ کی حیثیت عرب سلطنت کے ایک دور افتادہ کونے کی تھی جس پر زیادہ توجہ صرف نہیں کی جا سکتی تھی، اور جلد ہی یہ مفتوحہ علاقے دوبارہ مقامی راجوں کے زیر تسلط چلے گئے۔

افسانہ نمبر ۳: ’’بت شکن کا افسانہ‘‘۔

محمود غزنوی نے، جو اسلام کا ایک عظیم فرزند اور مثالی بت شکن تھا، یہ عہد کیا کہ وہ سارے ہندوستان کے بتوں کو توڑ کر برصغیر میں اسلام کا بول بالا کر دے گا۔ محمود نے، جو وسطی ایشیا کے علاقے غزنی سے آیا تھا، کم سے کم سترہ بار انڈیا پر حملہ کیا، لیکن پنجاب کے سوا اس نے کسی اور علاقے پر قبضہ کرنے یا باقی بھارت پر اپنی حکومت قائم یا مستحکم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حقیقت میں اس کے لیے واحد باعث کشش چیز انڈیا کے خزانے یعنی سونا اور قیمتی جواہر تھے جن کے حصول کا اس نے پورا اہتمام کیا اور ہر حملے کے موقع پر ان کی ایک بڑی مقدار اپنے ساتھ لے کر گیا۔ اس وقت انڈیا کے مندروں میں، یورپ کے گرجوں کی طرح، خزانوں کی ایک بڑی مقدار جمع ہوتی تھی اور اسی وجہ سے محمود کو مندروں اور بت پرستوں کے ساتھ خاص دلچسپی تھی۔

عام تاثر کے بالکل برخلاف، برصغیر میں اسلام کو پھیلانے کا کام نہ تو بادشاہوں یعنی وسطی ایشیا کے سلطانوں نے کیا جو تین سو سال تک یہاں حکومت کرتے رہے اور نہ مغلوں نے جو اس کے بعد مزید تین سو سال حکمران رہے۔ یہ کام صوفی مشائخ نے انجام دیا جو بنیادی طور پر اپنے وطن کے بنیاد پرستوں کی ایذا رسانی سے بچنے کے لیے بھارت آئے تھے اور جنھوں نے اپنی اعلیٰ ظرفی، انسان دوستی، محبت، رواداری اور سادہ طرز زندگی باعث تمام مذاہب کے لوگوں کے دل جیت لیے۔

افسانہ نمبر ۴: ’’ٹوپیاں بننے والے بادشاہ کا افسانہ۔‘‘

ہماری نصابی کتابوں میں برصغیر پر حکومت کرنے والے تمام بادشاہوں میں سے سب سے زیادہ تعریف کا مستحق عظیم مغل بادشاہ اورنگ زیب کو قرار دیا گیا ہے۔ بابر نے سلطنت قائم کی، ہمایوں نے اسے کھو کر دوبارہ پایا، اکبر نے اسے وسعت اور استحکام بخشا، جہانگیر اپنے جذبہ انصاف کے لیے مشہور ہوا، اور شاہجہاں نے عالی شان عمارتیں بنوانے میں شہرت حاصل کی، لیکن یہ پرہیزگار کا لقب پانے والا اورنگ زیب ہی ہے جو سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہے۔ رائج عام افسانہ تو یہ ہے کہ وہ اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رقم سرکاری خزانے سے خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ ان کو پورا کرنے کے لیے ٹوپیاں بنتا اور قرآن مجید کے نسخوں کی کتابت کیا کرتا تھا۔ کیا اس دعوے پر بحث کرنے کی واقعتاً کوئی ضرورت ہے؟ ہر وہ شخص جو مغلوں کے طرز زندگی سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہے، یہ بات جانتا ہے کہ ان کے درجنوں محلات کے اخراجات پورے کرنا زر کثیر کا کس قدر محتاج تھا۔ مغل شہنشاہوں کی کئی کئی بیویاں، بچے، درباری، داشتائیں اور غلام ہوتے تھے جو ہر محل میں موجود ہوتے تھے اور جن کی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا تھا۔ کیا یہ تمام اخراجات ٹوپیاں بننے سے پورے ہو سکتے تھے؟ اور فرض کیجیے کہ بادشاہ ٹوپیاں بنتا تھا تو کیا لوگ ان کو عام ٹوپیوں کی قیمت پر خریدتے اور اسی طرح استعمال کرتے ہوں گے؟ کیا وہ ان کے لیے مہنگی ترین قیمتیں ادا کرتے اور انھیں ایک یادگار سمجھ کر انھیں سنبھالتے نہ ہوں گے؟ کیا کسی بادشاہ کو، جس کی پوری توجہ ان عسکری خطرات پر مرکوز تھی جو چاروں اطراف سے اسے گھیرے ہوئے تھے اور جس پر ایک عظیم سلطنت کی حفاظت اور استحکام کی ذمہ داری تھی، اتنا وقت اور اتنی فرصت مل جاتی تھی کہ وہ بیٹھ کر ٹوپیاں بنتا رہتا؟ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس شخص کو ہم ایک پرہیز گار مسلمان قرار دے رہے ہیں، وہ وہی تھا جو اپنے باپ کو اس کے محل کے ایک قید خانے میں قید کرنے کے بعد خود بادشاہ بن گیا اور جس نے اس خطرے کے پیش نظر اپنے تمام بھائیوں کو قتل کر دیا کہ کہیں وہ اس کا تخت نہ چھین لیں۔

افسانہ نمبر ۵: ’’۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے ذمہ دار صرف مسلمان تھے اور انھوں نے ہی جنگ کے بعد تشدد اور ایذا رسانی کا ظلم جھیلا، جبکہ ہندو برطانویوں کے فطری حلیف تھے۔‘‘

یہ درست ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی زیادہ فوجی رجمنٹوں نے ۱۸۵۷ میں برطانویوں کے بغاوت میں حصہ لیا، لیکن ہندوؤں نے بھی اس جنگ میں بڑا کردار ادا کیا۔ (جھانسی کی بہادر رانی ایک نمایاں مثال ہے) اور اگر مسلمان فوجیوں کو اس افواہ پر اشتعال آیا تھا کہ گولیوں پر خنزیر کی چربی لگائی گئی ہے تو ہندوؤں کے لیے باعث اشتعال یہ بات تھی کہ یہ گائے کی چربی تھی۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آخر وقت تک برطانویوں کی وفادار بھی رہی۔ (ان میں مشہور ترین سر سید احمد خان ہیں)۔

علاوہ ازیں، ۱۸۵۷ کے بعد برطانویوں کی حکومت ختم نہیں ہو گئی تھی۔ وہ اس سے پہلے ہی مکاری اور سازش کے ذریعے سے مسلمان اور ہندو حکمرانوں سے وسیع علاقے ہتھیا کر انڈیا کے زیادہ تر خطے پر اپنا تسلط جما چکے تھے۔ اس وقت مغل بادشاہ برائے نام حکمران تھا اور اس کا دائرۂ اختیار دہلی تک محدود تھا۔ ۱۸۵۷ کے بعد ہندو خوش حال ہوتے گئے کیونکہ انھوں نے جدید تعلیم حاصل کر کے، انگریزی زبان سیکھ کر اور تجارت اور کاروبار میں مشغول ہو کر کافی ہوشیاری کا ثبوت دیا، جبکہ مسلمان محض زمینوں کے مالک تھے اور ماضی کی شوکت وعظمت کے خوابوں میں کھوئے ہوئے تھے اور جب ان کی زمینیں بھی چھین لی گئیں تو ان کے پاس کچھ بھی نہ رہا۔ ان کی مدرسے کی تعلیم اور فارسی میں قابلیت ان کے کسی کام نہ آئی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ان بدلتے ہوئے حالات میں الٹا ایک رکاوٹ ثابت ہوئی۔

افسانہ نمبر ۶: ’’برطانویوں کے خلاف جدوجہد میں مسلمان پیش پیش تھے اور وہ سرکار برطانیہ کی طرف سے خاص طور پر غیر منصفانہ رویے کا کا نشانہ بنے رہے۔‘‘

ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ درحقیقت مسلمانوں کو برطانویوں کی جانب سے پہلا ’’تحفہ‘‘ ۱۹۰۵ میں تقسیم بنگال کی صورت میں ملا (جسے بعدازاں ۱۹۱۱ میں منسوخ کر دیا گیا)۔ ۱۹۰۶ میں شملہ وفد کو بجا طور پر ’’Command performance‘‘ کہا گیا ہے۔ وائسرے نے مسلمانوں کو یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی مسلمان قائدین اس کا مطالبہ کریں گے، جداگانہ انتخابات اور نمائندگی کا اصول منظور کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد مسلم لیگ وجود میں آئی، جسے آغا خان، جسٹس امیر علی اور کچھ دیگر نوابوں اور جاگیرداروں نے، جو سرکار برطانیہ کے زبردست حامی تھے، قائم کیا تھا۔ مسلم لیگ کے منشور میں اس کا پہلا مقصد ہی یہ لکھا گیا: ’’برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری کے جذبے کو فروغ دینا۔‘‘

مسلم لیگ نے کبھی برطانویوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا۔ مسلمانوں کی طرف سے احتجاج کا واحد واقعہ ۲۰ کے عشرے کی ابتدا میں تحریک خلافت کے دوران میں رونما ہوا جس کے قائد علی برادران اور دوسرے انقلابی رہنما تھے۔ قائد اعظم سمیت مسلم لیگ کا کوئی بھی رہنما کبھی جیل نہیں گیا۔ یہ کانگریس ہی تھی جس نے ۳۰ اور ۴۰ کی دہائیوں میں برطانیہ کے خلاف تشدد سے پاک اور عدم تعاون پر مبنی تحریک کو جاری رکھا، جس میں ’’انڈیا چھوڑ دو‘‘ کی مشہور تحریک بھی شامل تھی، جبکہ مسلم لیگ کے رہنما ان تحریکات کی مذمت کرتے رہے اور اپنے کارکنوں کو ان میں حصہ نہ لینے کی تلقین کرتے رہے۔

افسانہ نمبر ۷: ’’مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی۔‘‘

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مسلم لیگ اپنے آپ کو مسلمانوں کی ایک مقبول عوامی جماعت بنانے میں ۱۹۴۰ کے بعد ہی کامیاب ہوئی۔ اس سے قبل، جیسا کہ ۳۷ کے انتخابات سے واضح ہے، مسلم لیگ، مسلم اکثریتی صوبوں میں سے کسی ایک میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان انتخابات میں کل ۴۸۲ مسلم نشستوں میں سے مسلم لیگ کو صرف ۱۰۳ نشستیں ملیں (جو کہ ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں)۔ دوسری نشستوں پر یا تو کانگرسی مسلمان کام یاب ہوئے یا قوم پرست جماعتیں، مثلاً پنجاب یونینسٹ پارٹی، سندھ یونینسٹ پارٹی اور بنگال کی کرشک پروجا پارٹی۔

افسانہ نمبر ۸: ’’علامہ اقبال وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے ایک جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔‘‘

یہ ان افسانوں میں سے ایک ہے جو ہماری قوم کے ذہنوں میں نہایت گہرے پیوست ہیں اور جس کا پراپیگنڈا تمام حکومتوں نے کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال کہ مسلم اکثریتی صوبوں ایک فطری گروپ قرار پاتے ہیں اور انھیں ایک بلاک سمجھنا چاہیے، برطانویوں نے ۱۸۵۸ میں پیش کیا تھا اور اس پر اخبارات کے مختلف مضامین میں اور سیاسی پلیٹ فارموں پر کھلی بحث ہوتی رہی۔ اس تصور کی مختلف شکلیں اہم برطانوی، مسلم اور بعض ہندو عوامی شخصیات نے پیش کی۔ علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ میں جب اپنا مشہور خطبہ دیا تو اس سے پہلے یہ تجویز کم از کم ۶۴ مرتبہ پیش کی جا چکی تھی۔ چنانچہ اقبال نے محض ایک ایسی بات دہرا دی جو کہ پہلے سے کہی جا رہی تھی اور یہ کوئی اچھوتا خواب نہیں تھا۔ الٰہ آباد میں اپنے خطبے کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد، علامہ اقبال نے ایک برطانوی اخبار میں اس موقف سے اپنارجوع شائع کروایا اور کہا کہ انھوں نے ایک جداگانہ مسلم ریاست کی نہیں بلکہ محض انڈین فیڈریشن کے اندر ایک مسلم بلاک کی بات کی تھی۔

افسانہ نمبر ۹: ’’قرارداد پاکستان میں واحد مسلم ریاست کا تصور پیش کیا گیا۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ مسلم بلاک سے متعلق جو بھی تجاویز مختلف افراد یا جماعتوں نے پیش کیں، ان میں سے کسی میں بھی مشرقی بنگال کا ذکر نہیں تھا۔ پورا زور ہمیشہ سے شمال مغربی صوبوں پر مرکوز تھا جن کی سرحدیں مشترک تھیں جبکہ دوسرے مسلم اکثریتی صوبے مثلاً بنگال اور حیدر آباد الگ بلاک تصور کیے جاتے تھے۔ چنانچہ قرارداد پاکستان میں بھی ایسا ہی تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ: ’’جن علاقوں میں مسلمان عددی اکثریت رکھتے ہیں، جیسا کہ انڈیا کے شمال مغربی اور مشرقی علاقے، انھیں ملا کر آزاد ریاستیں قائم کی جائیں جن میں شامل اکائیاں خود مختار اور آزاد ہوں۔‘‘

پوری قرارداد کے کمزور اور مبہم متن سے قطع نظر، ریاستوں سے متعلق حصہ (جس میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے) بالکل واضح ہے۔ اصل قراداد میں ترمیم تو ۱۹۴۶ میں دہلی میں مسلم لیگ کے ارکان سمبلی کے ایک اجلاس میں کی گئی جسے مسلم لیگ کے ایک عام اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور ایک واحد ریاست کا حصول مقصود قرار دیا گیا۔

افسانہ نمبر ۱۰: ’’۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کا دن اس لیے یادگار ہے کہ اس دن قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی۔‘‘

حقیقت واقعہ یہ ہے کہ ۲۳ مارچ کو قرارداد مقاصد صرف پیش کی گئی تھی، جبکہ اس کی حتمی منظوری ۲۴ مارچ کو عمل میں آئی (جو کہ اجلاس کا دوسرا اور آخری دن تھا)۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ پھر ہم اس قرارداداد کی یاد میں ۲۳ مارچ کا دن کیوں مناتے ہیں تو یہ ایک بالکل مختلف قصہ ہے۔ ۱۹۵۶ سے قبل یہ دن کبھی نہیں منایا گیا۔ اس سال اس دن کو ملک کے پہلے آئین کی منظوری اور پاکستان کے ایک حقیقی آزاد جمہوریہ کے طور پر رونما ہونے کی یاد میں پہلی مرتبہ منایا گیا۔ ہمارے لیے اس دن کی اہمیت وہی تھی جو ۲۶ جنوری کی بھارت کے لیے۔ لیکن جب جنرل ایوب خان نے ۱۹۵۸ میں آئین کو منسوخ کر کے مارشل لا نافذ کر دیا تو انھیں ایک مشکل سے سابقہ پیش آ گیا۔ وہ نہ اس کی اجازت دے سکتے تھے کہ ملک میں ایک ایسے آئین کی یاد میں کوئی دن منایا جائے جسے خود انھوں نے پارہ پارہ کر دیا تھا اور نہ وہ ۲۳ مارچ کا دن منانے کی روایت کو بالکل ختم کر سکتے تھے۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ دن تو حسب سابق منایا جائے لیکن اسے ایک دوسرا عنوان دے دیا جائے، یعنی ’’یوم قرارداد پاکستان ‘‘۔

افسانہ نمبر ۱۱: ’’یہ غلام محمد تھے جنھوں نے وزیر اعظم اور سربراہ ریاست کے مابین اختیارات میں عدم توازن پیدا کیا اور انھوں نے ہی گورنر جنرل کی بالادستی وزیر اعظم اور پارلیمنٹ پر قائم کرنا چاہی۔‘‘

جب پاکستان وجو د میں آیا تو برطانوی حکومت کے منظور کردہ ۱۹۳۵ کے آئین کو عبوری آئین کے طور پر اختیار کر لیا گیا۔ اور یہ خود قائد اعظم تھے جنھوں نے اس آئین میں چند مخصوص ترامیم کرائیں تاکہ گورنر جنرل سب سے بالاتر اتھارٹی قرار پائے۔ انھی اختیارات کے تحت قائد اعظم نے اگست ۱۹۴۷ میں صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو اور ۱۹۴۸ میں سندھ میں مسٹر ایوب کھوڑو کی حکومت کو برطرف کیا ۔ گورنر جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ قائد اعظم نے مسلم لیگ کی صدارت اور دستور ساز اسمبلی کی سربراہی بھی برقرار رکھی ۔ یہی وہ اختیارات تھے جن کے تحت خواجہ ناظم الدین نے ۱۹۴۹ میں پنجاب میں مسٹر دولتانہ کی حکومت کو برطرف کیا۔ خود خواجہ ناظم الدین کو انہی اختیارات کے تحت گورنر جنرل غلام محمد نے ۱۹۵۳ میں وزارت عظمیٰ سے برطرف کر دیا۔ تاہم ۱۹۵۴ میں دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے آئین میں ترمیم کروانے کی کوشش کی تاکہ گورنر جنرل کے حد سے متجاوز اختیارات واپس لیے جا سکیں۔ اس کوشش پر بر افروختہ ہو کر گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو معطل کر دیا اور اس طرح پاکستان کی تاریخ کا رخ ہی بدل دیا۔

یہ وہ چند افسانے ہیں جو ہمارے ذہنوں میں بچپن ہی سے بٹھا دیے گئے ہیں اور جو ہمارے شعور کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس طرح کی بیسیوں باتیں اور بھی ہیں جو ہماری روز مرہ زندگی پر حاوی ہیں، اور بہت سے ایسے سوالات موجود ہیں جو ہنوز جواب طلب ہیں، مثلاً:

  • نظریہ پاکستان کیا چیز ہے اور یہ اصطلاح سب سے پہلے کب وضع کی گئی؟ (؟؟ سے پہلے یہ کبھی نہیں سنی گئی)
  • گاندھی کو کیوں قتل کر دیا گیا؟ (وہ مفروضہ طور پر پاکستانی مفاد کا تحفظ کر رہے تھے)
  • شیخ مجیب، ولی خان اور جی ایم سید جیسے مبینہ غداروں کے بارے میں حقائق کیا ہیں؟
  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب کیا تھے؟
  • مسٹر بھٹو کو موت کے گھاٹ کیوں اتار دیا گیا؟
  • کیا ہمارے تمام سیاست دان بد دیانت اور مفاد پرست ہیں؟
  • ہماری تاریخ ہر دس سال کے بعد اپنے آپ کو کیوں دہراتی ہے؟

ان سوالات کا جواب تاریخ کے، نہ کہ تاریخی افسانوں کے، ایک جامع مطالعے کا متقاضی ہے، لیکن بد قسمتی سے تاریخ ہی وہ میدان ہے جسے ہمارے ملک میں کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس صورت حال میں تبدیلی رونما ہو جائے۔

(بشکریہ ڈان میگزین۔ ۲۷ مارچ ۲۰۰۵)


آراء و افکار