پروفیسر عابد صدیق مرحوم کی یاد میں

پروفیسر ظفر احمد

بسا اوقات ہماری من پسند خواہشات کا خارجی حقائق سے ہم آہنگ نہ ہوپانا ہماری اُس بے بسی اور لاچاری کا کامل مظہر ہے جس کا ذکر اِس کائنات کے خالق و مدبّر نے یوں فرمایا ہے: وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ مَاکَانَ لَھُمُ الْخِیَرَۃِ (۱) ’’اور تیرا رب ہی جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی صاحبِ اختیار ہے، لوگوں کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔‘‘

اپنے احباب و اقارب کا ہم سے بچھڑ جانا ایک ایسی تلخ حقیقت، ایک ایسا ناخوش گوار تجربہ و مشاہدہ ہے کہ اِس دارِفانی میں کسی بھی متنفّس کے لیے اِس سے فرار کے تمام راستے مسدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ تاہم ربِ کریم کا یہ رحم و کرم ہے کہ اُس نے نوعِ انسانی کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے۔ اُس نے ہمیں یہ صلاحیت بھی ارزاں فرمائی ہے کہ ہم اِس دنیا میں رونما ہونے والے بے شمار اہم و غیر اہم واقعات و حوادث کو اپنے ذہن میں نہ صرف ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ موجودات کا حسّی خاکہ اپنی فناپذیری کے باوجود چشمِ تصور سے اوجھل نہیں ہوپاتا۔ یوں ہمیں بظاہر داغِ مفارقت دینے والے ہمارے اعزہ و رفقا درحقیقت تصورات و تعقُّلات کی ہماری اِس دنیا میں ہم سے بچھڑ جانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ عابدصدیق کو بھی یہاں استثنائی حیثیت حاصل نہیں۔ لوگ اُنھیں لاکھ ’’رفتہ و گزشتہ‘‘ کہیں مگر وہ اپنے احباب کے دلوں میں زندہ و تابندہ ہیں اور اِن شاء اللہ العزیز ہمیشہ اِسی طرح رہیں گے۔

عابدصدیق مرحوم سے میرا پہلا تعارف اواخر نومبر ۱۹۶۷ء میں گورنمنٹ کالج علی پور (مظفرگڑھ) میں ہوا۔ وہ جہاں بھی رہے، اُن کی جاذبِ نظر شخصیت کے متنوع پہلو اُن کے حلقۂ احباب میں بتدریج وسعت پیدا کرتے رہے۔ چناں چہ علی پور میں بھی اُن کا حلقۂ احباب خاصا وسیع رہا۔ شعروشاعری اور موسیقی سے اُن کا شغف اُن دنوں عروج پر تھا۔ اِن مشاغل کے باوجود اُن کا خاندانی مذہبی تشخص اِس حد تک بحال رہا کہ گو اسلامی شعائر سے عملی دلچسپی بظاہر زیادہ نمایاں نہ تھی، لیکن بالاٰخر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دین سے اُن کی گہری فکری وابستگی اور اہلِ علم سے اُن کی بے لوث محبت و عقیدت کسی سے مخفی نہ رہی، اور اُن میں یہ شوق مزید پیدا ہوتا چلا گیا کہ وہ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی نجی زندگی کے اہم معاملات میں علما سے دینی رہنمائی حاصل کریں۔ میری ترغیب پر اُنھوں نے فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانویؒ سے خط و کتابت شروع کردی جس کا اُن کے ظاہر و باطن پر نمایاں اثر ہوا۔ شعر گوئی کا سلسلہ اگرچہ جاری رہا لیکن موسیقی اور آلاتِ موسیقی سے وہ رفتہ رفتہ بے زار ہوتے چلے گئے۔ اِس کی بجائے وہ روحانی اوراد و وظائف کی طرف مزید مائل ہوئے۔ اِس مقصد کے لیے اُن کا اصرار تھا کہ میں (راقم السطور) بھی اُن کا ساتھ دوں۔ حاجی امداداللہ مہاجر مکّیؒ کے سلسلے میں شیخ ابوالحسن شازلیؒ کی مشہور دعا ’حزب البحر‘ کے وِرد کا طریقہ نسبۃً آسان ہے۔ میں نے اِس کے پڑھنے کی اجازت مدرسہ اشرفیہ سکھر کے استاد مولانا عبدالحکیمؒ سے لے رکھی تھی۔ عابدصدیق مرحوم نے بھی بذریعہ خط و کتابت اُن سے اجازت حاصل کرلی اور ہم دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’مناجاتِ مقبول‘ میں اِس کی زکوٰۃ کا جو طریقہ مذکور ہے، اُس کے مطابق اِسے پڑھا جائے۔ چناں چہ علی پور کی ایک مسجد میں ہم دونوں نے صفر کے مہینے میں تین روز کے لیے اعتکاف کیا اور ’حزب البحر‘ کا سہ روزہ عمل پورا کیا۔ مختلف اغراض و مقاصد کے لیے ’حزب البحر‘ کے وِرد کے متعلق عابدصدیق صاحب کی خط و کتابت مولانا عبدالحکیم صاحبؒ سے ہوتی رہتی تھی۔

پروفیسر عابدصدیق صاحب وقت کے جیّد علمائے دین سے رابطہ رکھتے تھے۔ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۲ء تک اُنھوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے وائس چانسلر حضرت مولانا ابوبکرغزنویؒ سے تصوف کے سلسلہ نقشبندیہ میں اسباق لِیے اور اُن سے آپ کو اجازت عطا ہوئی۔ ۱۹۶۴ء سے ۱۹۷۳ء تک حضرت الشیخ مولانا محمد قمرالدینؒ سے چشتیہ نظامیہ فخریہ فریدیہ کے سلسلے میں اسباق لِیے اور اُن سے اجازت عطا ہوئی۔ مولانا محمد قمرالدینؒ ، حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے خلیفۂ مجاز تھے۔ پروفیسر عابدصدیق صاحب ہمیں بتایا کرتے تھے کہ مولانا محمد قمرالدین صاحبؒ نے مجھے تاکید فرمائی تھی کہ میرے بعد اگر کسی سے علمی و اصلاحی تعلق قائم کرنا ہو تو اکابرعلمائے دیوبند سے وابستگی اختیار کیجیے۔ اِس سے خواجہ غلام فریدؒ کے صحیح مسلک کا بھی بخوبی علم ہوجاتا ہے۔ بریلویت و دیوبندیت کے نام پر تفریق بین المومنین کے اصل محرکات پست فکر لوگوں کی ہواپرستی اور شکم پروری ہیں، اکابر علما اور صوفیا کا دامن اِس سے پاک رہا ہے۔

علمِ حدیث میں پروفیسر عابدصدیقؒ نے امام محمدؒ کی ’کتاب الاٰثار‘ کی روایت کی اجازت محدثِ شہیر مولانا عبدالرشید نعمانیؒ سے ربیع الاوّل ۱۳۹۴ھ بمطابق اپریل ۱۹۷۴ء میں حاصل کی اور صحیح بخاری کی روایت کی اجازت مولانا شیخ لطافت الرحمٰن سے ۱۹۸۷ء میں حاصل کی۔

تصوف کے ساتھ علم الکلام اور عقلی مباحث سے بھی پروفیسرعابدصدیق مرحوم کی دلچسپی قابلِ ذکر ہے۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تصانیف اکثر اُن کے زیرِمطالعہ رہتی تھیں۔ 

میں نے اپنی سرکاری ملازمت کے آخری سالوں میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے شعبہ علومِ اسلامیہ میں جزوقتی استاد کی حیثیت سے فلسفہ و علم الکلام پڑھانا شروع کیا۔ میری یہ کوشش رہی کہ کلامیات کی تدریس میں عام روش سے ہٹ کر طلبہ و طالبات کو رجوع اِلی القرآن کی جانب زیادہ سے زیادہ مائل کیا جائے اور عقل و نقل میں ہم آہنگی پیدا کرکے اصولی اختلافی مسائل میں صحیح و غلط میں امتیاز کے آسان طریقوں سے اُنھیں روشناس کرایا جائے۔ اِس سلسلہ میں زیادہ تر عقلی استدلال کے فراموش کردہ شعبے ’’تشقیقِ جدلی‘‘ کو بروئے کار لایا جائے۔ عابدصدیق مرحوم تشقیقِ جدلی کے ذریعہ حقائق تک رسائی حاصل کرنے کو نہایت دلچسپ اور مفید قرار دیتے تھے اور مجھ سے متعلقہ مسائل پر اُن کی بحث و تمحیص اکثر جاری رہتی تھی۔ میری طرح عابدصدیق صاحب بھی ایسے مباحث میں خاص دلچسپی لیتے تھے جن کی مدد سے پیشہ ورانہ اور سوقیانہ مناظرانہ انداز سے سراسر اجتناب کرتے ہوئے طالبانِ حق کی مختصر وقت میں صحیح رہنمائی ہوسکے اور فکری لغزشوں سے اُنھیں محفوظ رکھا جاسکے، یا اگر وہ اِن فکری لغزشوں کا شکار ہوچکے ہیں تو اُنھیں بے جا گروہی تعصب اور وابستگی کا شعور اور احساس دلائے بغیر سیدھی راہ اختیار کرنے پر بخوبی آمادہ کیا جاسکے۔ یہاں جدل سے مراد بحث و مباحثہ ہے۔ اِس طریقے میں کسی بھی زیرِبحث مسئلے کی ممکنہ شقّوں (پہلوؤں) کو فرداً فرداً زیرِبحث لاکر حقیقت تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف دلچسپ ہوتا ہے بلکہ بسااوقات اِس سے حقیقت تک رسائی مختصر وقت میں ہوجاتی ہے۔ تمام عقلی علوم مثلاً ریاضی میں یہ طریقہ بکثرت مستعمل ہے۔ مثلاً تیرہ کا عدد یا جفت ہے یا طاق ہے۔ چوں کہ یہ عدد دو پر پورا تقسیم نہیں ہوتا، لہٰذا اِس کے جفت ہونے کی شق غلط ثابت ہوئی، اور چوں کہ یہاں تیسری کوئی شق عقلاً ممکن ہی نہیں، لہٰذا اِس کا طاق ہونا ازخود ثابت ہوگیا۔ 

دینی اصول و فروع میں بھی تشقیقِ جدلی کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ مثلاً سورہ فاتحہ کی ابتدائی آیات میں یہی طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ کسی کی اطاعت کی جائے یا اتباع کیا جائے، اُس کی اطاعت و اتباع کے صرف اور صرف تین محرکات و عوامل ہی سامنے آئیں گے۔ مُطاع و متبوع یا تو صاحبِ کمال ہو، یا صاحبِ احسان (محسن) ہو، یا صاحبِ اقتدار ہو۔ مثلاً شاگرد اپنے استاد کی اطاعت و اتباع پر اِس لیے آمادہ ہوتا ہے کہ وہ استاد کو متعلقہ فن میں صاحبِ کمال سمجھتا ہے۔ مریض، طبیب کی اطاعت اِس لیے کرتا ہے کہ وہ طبیب کو فنِ طب میں صاحبِ کمال سمجھتے ہوئے اُس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ بچے والدین کی اطاعت و اتباع اِس لیے کرتے ہیں کہ وہ والدین کو ایسا محسن و شفیق پاتے ہیں کہ اُن کے خیال میں والدین کا یہ احسان اور اُن کی شفقت بے لوث ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ کسی کے کمال کو پہچانتے ہیں اور اگر پہچان بھی لیں تو قدر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ کسی کے احسان کو خاطر میں لاتے ہیں۔ یہ ’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘ کا مکمل مصداق ہوتے ہیں۔ جو صاحبِ اقتدار ہوگا، وہی ایسے لوگوں کو سیدھا کرسکتا ہے۔ اب دیکھیے سورہ فاتحہ کی پہلی آیت اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ  میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حقیقی صاحبِ کمال صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسری آیت اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے واضح ہے کہ حقیقی محسن بھی وہی ہے اور تیسری آیت مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ حقیقی صاحبِ اقتدار بھی وہی ہے، لہٰذا سب سے زیادہ اطاعت و اتباع بھی اُسی کی ہونی چاہیے۔ لیکن ٹھہریے! دوسرے انسانوں کی مشروط اطاعت و اتباع پر تو ہر انسان مجبور بھی ہے اور مامور بھی۔ مثلاً بچے والدین کی، شاگرد اساتذہ کی، مرید اپنے شیخ کی، رعایا اپنی حکومت کی اطاعت و اتباع کرتی ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کا اِس سے بڑھ کر کوئی اور حق ایسا ہونا چاہیے جس میں دوسروں کی شرکت کو وہ ہرگز قبول اور گوارا نہ کرے۔ اُس کا یہ حق ’عبادت‘ ہے۔ چناں چہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے (کہ تم اپنی زبان سے خود یہ کہو) اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ  کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے (مافوق الاسباب امور یعنی امورِ غیر عادیہ میں) مدد مانگتے ہیں۔

پروفیسر عابدصدیق صاحب کی بذلہ سنجی اور خوش طبعی کا ذکر بھی یہاں مناسب ہوگا۔ زندگی کے تلخ و شیریں حقائق، تجربات و مشاہدات کو دلچسپ لطائف میں ڈھال کر افسردہ مزاجی کو خوش مزاجی میں تبدیل کرنے میں اُنھیں یدِطولیٰ حاصل تھا۔ پروفیسر عابدصدیق مرحوم اپنی خوش طبعی کی بنا پر سخت ترین حالات میں بھی بسااوقات ہشاش بشاش رہتے تھے۔ چند سال قبل اُنھیں دل کا شدید عارضہ لاحق ہوا۔ بعد میں یہی عارضہ اُن کے انتقالِ پرملال کا سبب بنا۔ میں عیادت کے لیے گیا تو ہنستے ہوئے کہنے لگے: ’’بھیّا! عجیب بات ہے۔ گھر والے مجھے کہتے ہیں کہ دل چھوٹا نہ کرو اور ہسپتال والے کہتے ہیں کہ تم نے دل بڑھا رکھا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ اُنھیں عظم القلب (Senile Hypertrophy of Heart) کا عارضہ لاحق تھا۔ مرض سے اُنھیں کچھ افاقہ ہوا تو ایک مرتبہ مزاحاً فرمانے لگے: ’’برِصغیر کے (اردو کے) بڑے بڑے شعرا گزرتے جارہے ہیں۔ طبیعت میری بھی کئی دنوں سے ناساز ہے۔‘‘

کالج میں بطورِاستاد تقرری سے پہلے ہی مجھے طبِ تماثلی (ہومیوپیتھی) سے دلچسپی تھی۔ گورنمنٹ کالج علی پور میں ملازمت کے دوران میں نے عابدصدیق صاحب کو بھی اِس سے روشناس کرایا۔ میری دلچسپی تو ہومیوپیتھک کتب کے مطالعے، اور اپنے احباب و اقارب کے علاج معالجے تک ہی محدود رہی لیکن عابدصدیق صاحب نے بعد میں بہاول پور میں قیام کے دوران ہومیوپیتھک کا چار سالہ ڈپلومہ کورس باقاعدہ پورا کیا اور پھر اپنے گھر میں کلینک بھی کھولا۔ مقامی ہومیوپیتھک کالج میں وہ وقتاً فوقتاً لیکچرز بھی دیتے رہے۔ ہومیوپیتھی کے سلسلے میں اُن کا مجھ سے اور میرا اُن سے اکثر رابطہ رہتا تھا۔ ایک دوسرے کے معالجاتی تجربات سے ہم مستفید ہوتے تھے۔ فلسفۂ ہومیوپیتھی سے اُنھیں خاص دلچسپی تھی اور اِس پر قدیم و جدید مصنفین کی کتب اکثر اُن کے زیرِمطالعہ رہتی تھیں۔

پروفیسر عابدصدیق مرحوم کی طبیعت میں خاندانی جلال بھی موجود تھا۔ اپنی دانست میں جس کام کو وہ غلط سمجھتے تھے اُسے ہوتا دیکھ کر کبھی کبھار وہ تحمل و برداشت کی حدود سے کچھ باہر بھی نکل جاتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ میں اُن کے ہمراہ رات کے وقت تعلیمی بورڈ بہاول پور کے چئرمین صاحب سے ملاقات کے لیے اُن کے گھر گیا کیوں کہ وہ کسی زمانے میں گورنمنٹ کالج علی پور میں ہمارے پرنسپل رہ چکے تھے۔ چئرمین صاحب کے ایک صاحب زادے نہایت بھدے انداز اور آواز میں ہارمونیم وغیرہ پر کوئی گانا گارہے تھے۔ موسیقی پر صاحب زادے کا یہ ظلم عابدصدیق صاحب سے برداشت نہ ہوسکا اور آلۂ موسیقی اُن کے ہاتھ سے چھینتے ہوئے بطورِاصلاح اُسے خود بجانا شروع کردیا اور خاصی دیر تک یہی شغل جاری رہا حالاں کہ اُن دنوں عابدصدیق صاحب موسیقی اور آلاتِ موسیقی سے بے زار ہوچکے تھے۔ جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو فرید گیٹ پر کسی کی خوشی کی تقریب میں مغنّیوں اور مغنّیات کے بھرپور گانے جاری تھے اور ارد گرد لوگوں کا خاصا مجمع ہونے کی وجہ سے آمدورفت کا راستہ مسدود تھا۔ وہاں سے ہم نے دوسرا راستہ لیا تو کچھ آگے چل کر وہاں بھی اِسی طرح کا منظر دکھائی دیا۔ تیسرا طویل راستہ اختیار کرتے ہوئے گھر پہنچنے کے قابل ہوئے۔ میں نے عابدصدیق صاحب سے مزاحاً کہا کہ چوں کہ آپ نے آلاتِ موسیقی بجانے کے گناہ کو پھر تازہ کیا ہے، اُسی کی ہمیں یہ سزا ملی ہے۔ تو اُنھوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا کہ اِسی لیے تو بزرگ کہا کرتے ہیں کہ اچھا یا برا جو کام بھی کروگے، اُسی کے اسباب تم پر آسان کیے جائیں گے۔

جب گورنمنٹ ایس ای کالج بہاول پور سے عابدصدیق صاحب ریٹائر ہوئے تو کالج کی روایت کے مطابق اُن کے لیے الوداعی تقریب کا اہتمام ہوا۔ اِس تقریب میں اُنھوں نے الوداعی خطبات کے جواب میں دوسری بہت سی باتوں کے علاوہ اپنے طبعی جلال اور تیزمزاجی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے رفقائے کار سے کہا کہ اگر کسی بھی وقت میرے کسی بھی قول و فعل سے کسی نے کسی طرح کی بھی کوئی رنجش یا تکلیف محسوس کی ہو تو میں اُس پر صدقِ دل سے سب سے معافی کا خواستگار ہوں، چوں کہ میں نے نفاق سے کام لیتے ہوئے کبھی کسی کے خلاف کینہ پروری نہیں کی اِس لیے اپنے مافی الضمیر کو برملا ظاہر کرتا رہاہوں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُنھیں جنت کے اعلیٰ درجات پر فائز فرمائے۔ آمین۔

حالات و واقعات

(مئی ۲۰۰۵ء)

Flag Counter