بھارت میں ٹی وی کے جواز و عدم جواز کی بحث

ادارہ

چند ماہ قبل بھارت کے سب بڑے دینی ادارے دار العلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں اسلامی چینلز سمیت ٹیلی ویژن دیکھنے کو مطلقاً ناجائز قرار دیا گیا۔ حسب توقع اس فتوے نے اچھی خاصی بحث کھڑی کر دی۔ فتوے سے اختلاف کرنے والے مسلمانوں نے اس کو بے معنی قرار دیا جبکہ حامیوں نے ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے سے پھیلائی جانے والی بد اخلاقی کی مذمت کی اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ مذکورہ فتوے میں دی گئی ہدایت کی سختی سے پابندی کریں۔

مذکورہ فتویٰ مفتی محمود الحسن بلند شہر ی نے جاری کیا تھا جو مدرسہ دیوبند کے ایک سینئر عالم ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ٹیلی ویژن دیکھنا ممنوع ہے کیونکہ یہ بذات خود سطحی تفریح کا ایک ذریعہ ہے، اس لیے مذہبی مقاصد مثلاً اسلامی پروگرام نشر کرنے کے لیے اس کا استعمال غلط ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ اسلام نے اپنے پیغام کو پھیلانے کے لیے واضح طریقے بتائے ہیں اور ٹیلی ویژن ان میں شامل نہیں ہے۔ فتوے میں قرار دیا گیا ہے کہ جو لوگ ٹیلی ویژن پر اسلامی پروگرام دیکھتے ہیں، ان کا مقصد محض تفریح ہوتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو سختی کے ساتھ اس سے گریز کرنا چاہیے۔

فتوے کے ناقدین میں سے ایک حلقے کا کہنا ہے کہ اس فتوے کا محرک کیو ٹی وی کے نام سے کھلنے والا ایک نیا اور روز افزوں مقبولیت حاصل کرنے والا چینل ہے جس کو اب بھارت اور پاکستان میں لاکھوں ناظرین میسر ہیں۔ کیو ٹی وی روایتی بریلوی تصوف پر مبنی دین کی تصویر پیش کرتا ہے جو کہ بیشتر دیوبندی علما کے نزدیک قابل اعتراض ہے ۔ نیز اس میں علما کے روایتی حلقے کے بجائے عوامی مقررین مثلاً پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد اور بمبئی کے ذاکر نائک کی تقریریں نشر کی جاتی ہیں، جو کہ باقاعدہ تربیت یافتہ میڈیکل اسپیشلسٹ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چونکہ یہ دونوں مقرر غیر عالم ہیں، اس لیے دیوبندی علما انھیں اپنی اتھارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کرتے ہیں۔ بنگلور کے مقبول احمد سراج نے (اسلامک وائس، جنوری ۲۰۰۵) لکھا ہے کہ دور جدید کے اسلامی مبلغین نے، جو وسیع حلقے تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ٹیلی ویژن استعمال کرتے ہیں، روایتی مذہبی علما کے حلقے میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ سراج کا اصرار ہے کہ ’’اس وجہ سے اس فتوے کو حقارت اور نفرت کے ساتھ مسترد کر دینا چاہیے جس کا یہ فی الواقع مستحق ہے۔‘‘

فتوے کے پس پردہ اصل محرکات جو بھی ہیں، اس نے ٹیلی ویژن کے اسلامی جواز وعدم جواز نیز خود علما کی اتھارٹی کے حوالے سے ایک بڑی بحث کا آغاز کر دیا ہے اور اردو پریس میں اس حوالے سے مخالف نقطہ ہائے نظر پر زور دار بحث جاری ہے۔ چند ماہ قبل ’اردو راشٹریا سہارا‘ کے نئی دہلی کے ایڈیشن (۲۲ اگست ۲۰۰۴) میں اس فتوے کے بارے میں موافق ومخالف، دونوں قسم کے مضامین شائع ہوئے ۔ ان مضامین میں فتوے کے حامیوں اور مخالفوں نے اسلامی اصطلاحات کے حوالے سے بحث کی۔ کچھ نے اس فتوے کو اسلامی لحاظ سے درست، جبکہ کچھ نے اسے اسلام کی ایک نہایت غلط تعبیر قرار دیا۔

فتوے کے ایک زبردست حامی دیوبند کے فارغ التحصیل مفتی اعجاز الرشید قاسمی ہیں۔ اپنے پرجوش مضمون میں انہوں نے اسلامی پروگراموں سمیت ٹیلی ویژن کو دیکھنا مسلمانوں کے لیے بالکل ممنوع قرار دیا۔ انھوں نے استدلال کیا کہ کوئی بھی فلم (بشمول ٹیلی ویژن کے اسلامی پروگراموں کے) عورتوں کی تصویریں شامل کیے یا اسے محض تفریحی سطح تک محدود کیے بغیر پرکشش نہیں بنائی جا سکتی، جبکہ یہ دونوں باتیں غیر اسلامی ہیں۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ بہت سے دیوبندی علما نے کہا ہے کہ چونکہ ٹیلی ویژن شیطانی کاموں کا مظہر بن چکا ہے، اس لیے مسلمانوں کو حتی الامکان اس سے دور رہنا چاہیے، ورنہ انھیں اخلاقی پستی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ 

ان لوگوں کو جواب دیتے ہوئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیلی ویژن کا استعمال اسلامی تبلیغی مقاصد کے لیے ہو سکتا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ دعوت وتبلیغ کا فریضہ تمام مسلمانوں پر لازم ہے، لیکن یہ کام صرف اور صرف جائز ذرائع سے کیا جانا چاہیے۔ چونکہ ٹیلی ویژن ان کے بقول بالعموم غیر اخلاقی پروگرام نشر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور بنیادی طور پر ایک ذریعہ تفریح کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے یہ اسلامی دعوت وتبلیغ کا کوئی جائز ذریعہ قرار نہیں پا سکتا، چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہر قسم کے، اسلامی یا غیر اسلامی، پروگرام دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ چونکہ وہ ٹیلی ویژن کو بذات خود بد اخلاقی کا منبع سمجھتے ہیں، اس لیے انھوں نے قرار دیا ہے کہ ٹیلی ویژن کے اسلامی پروگرام لازماً اسلام کی توہین کا ذریعہ بن رہے ہیں اور آخر کار یہ مسلم تشخص کو برباد کر کے رکھ دیں گے۔ اپنے مضمون کے اختتام پر انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’تمام دنیا کے مسلمان دیوبند کے فتاویٰ کا احترام کرتے ہیں‘‘، اور یہ توقع ظاہر کی ہے کہ تمام مسلمان صدق دل سے ٹیلی ویژن کے خلاف اس فتویٰ کی تائید کریں گے۔

متنازعہ فتویٰ کی مزید تائید دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبد الخالق مدراسی نے کی ہے۔ انھوں نے مفتی اعجاز صاحب کے پیش کردہ دلائل کے علاوہ ٹیلی ویژن کے ناجائز ہونے کی ایک مزید وجہ یہ بیان کی ہے کہ اسلام میں تصویر سازی ممنوع ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیلی ویژن کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے انٹر نیٹ کو جائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انٹر نیٹ ’’عام طور پر تصویروں سے پاک ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ جائز مقاصد کے لیے انٹر نیٹ استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ تصویریں استعمال نہ کی جائیں۔ چنانچہ خود دار العلوم دیوبند کی بھی اپنی ویب سائٹ قائم ہے اور بہت سے دوسرے دیوبندی گروپ بھی آن لائن فتاویٰ جاری کرتے ہیں۔

اگرچہ دیوبندی علما کی اکثریت اس متنازعہ فتویٰ کی حامی ہے، تاہم متعدد نوجوان دیوبندی فضلا اس کے شدید ناقد ہیں۔ایک عمدہ مثال انجمن فضلائے دار العلوم کے ترجمان ’’ترجمان دار العلوم‘‘ کے مدیر وارث مظہری کا لکھا ہوا طویل مضمون ہے ۔ مظہری نے اس فتویٰ کی، جو ان کے نزدیک ناقص دلائل پر مبنی ہے، کھلم کھلا مخالفت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فتویٰ کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ ٹیلی ویژن بنیادی طور پر سطحی یا غیر اخلاقی تفریح کا ایک ذریعہ ہے اور اس لیے اسلامی طور پر ناجائز ہے۔ اگرچہ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ ٹیلی ویژن کے بہت سے پروگرام اسی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن ٹیلی ویژن جائز مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، مثلاً خبروں اور معلومات کو نشر کرنا، خلاف اسلام پراپیگنڈا کی تردید کرنا، اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی وضاحت کرنا، چنانچہ ٹیلی ویژن سے مکمل گریز اختیار کرنے کے بجائے، مسلمانوں کو نا مناسب چینلز سے دور رہنا چاہیے اور ان کے علاوہ دیگر مفید چینلز سے بے جھجھک فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اگرچہ مظہری خود مدرسہ دیوبند کے ایک تربیت یافتہ عالم ہیں، لیکن وہ ٹیلی ویژن کے خلاف فتویٰ دینے والے مفتی صاحب سمیت قدامت پسند علما پر سخت تنقید کرتے ہیں کیونکہ وہ تبدیلی اور ترقی کے مخالف ہیں۔ ان کے خیال میں ٹی وی کے خلاف فتویٰ دراصل علما کی جانب سے نئی ایجادات کی مخالفت کی ایک طویل روایت کا تسلسل ہے۔ وہ اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کرتے ہیں، مثلاً انیسویں صدی کے سعودی علما نے وال کلاک کو ’’شیطانی آلہ‘‘ قرار دیا تھا۔ اسی طرح ٹیلی فون اور وائرلیس کے بارے میں کہا تھا کہ یہ شیطانی ایجادات ہیں اور ان سے آنے والی آوازیں غیر مرئی شیطانی طاقتوں سے استعانت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔

ایک دوسرے دیوبندی فاضل مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی نے فتویٰ کے خلاف وارث مظہری کے دلائل کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو یہودونصاریٰ کی سازشوں کا سامنا ہے اور خلاف اسلام پراپیگنڈا کی تردید اور اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے انہیں ٹیلی ویژن سمیت ابلاغ عام کے ذرائع کو لازماً استعمال میں لانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹیلی ویژن تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، تاہم مسلمانوں کو غیر اخلاقی پروگرام دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن کو مکمل طور پر برائی قرار دے کر اس فتویٰ نے مسلمانوں کو ساری دنیا کی نظر میں احمق ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹیلی ویژن کو محض اس وجہ سے مکمل طور پر مسترد کر دینا کہ بہت سے ٹی وی پروگرام غیر اخلاقی ہوتے ہیں، ایک مضحکہ خیز بات ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیاں بھی بند کر دی جائیں کیونکہ اعلیٰ تعلیم کے بعض اداروں میں مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ہوتا ہے۔ انہوں نے تلخ لہجے میں مزید یہ تبصرہ کیا ہے کہ اگر فتویٰ نویس کی منطق مان لی جائے تو اس کی کیا وجہ ہے کہ اسی قسم کا ایک فتویٰ فلموں پر پابندی کے لیے بھی نہیں جاری کیا گیا جو کہ بد اخلاقی اور فحاشی کو فروغ دے رہی ہیں؟

فتویٰ کے خلاف رائے دینے والے ایک اور دیوبندی فاضل مولانا اسرار الحق قاسمی ہیں، جو ایک وسیع حلقے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اپنے مضمون میں انہوں نے تبصرہ کیا ہے کہ یہ فتویٰ حقیقی دنیا سے ناواقفیت پر مبنی ہے اور گزارش کی ہے کہ اس پرنظر ثانی کی جائے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر ایک ڈاکٹر ماہر فن نہیں ہے تو وہ مناسب دوا نہیں دے سکتا، بلکہ درحقیقت مریض کو اور زیادہ بیمار کر دے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ بعینہ یہی منطق اس صورت میں بھی لاگو ہوتی ہے جب علما فتوے صادر کرتے ہیں۔ ٹی وی کے خلاف فتویٰ دینے والے عالم کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کوئی عالم شریعت کی روح اور اس کے مقاصد میں رسوخ نہیں رکھتا تو اسے فتویٰ دینے کا کوئی حق نہیں ہے اور اس کے جاری کردہ فتوے غلط اثرات مرتب کریں گے۔‘‘ فتویٰ نویس کا نام لیے بغیر لیکن ان کی اور ان کی طرح کے دیگر علما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق قرب قیامت میں ایک عظیم فتنہ برپا ہوگا اور علما ایسے فتوے جاری کریں گے جو کہ قرآن اور سنت کے خلاف ہوں گے۔ وہ حد سے متجاوز فخر کی بنیاد پر ایسے امور پر گفتگو کریں گے جن کا حقیقی دین سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ وہ اقتدار یا دولت کے لالچ میں غلط فتوے دیں گے جو لوگوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کریں گے۔ یہ سب کچھ اسلامی اصولوں کے خلاف ہوگا اور کشمکش اور خون ریزی پر منتج ہوگا جس کے لیے جاہل اور ناپختہ مفتی ذمہ دار ہوں گے۔ ایسے مسائل جن میں مسلمان تقسیم ہو جائیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگیں ، مفتی کو فتویٰ جاری کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

مولانا انظر شاہ کشمیری نے، جو دار العلوم (وقف) دیوبند سے وابستہ ایک ممتاز عالم دین ہیں، اس فتویٰ پر تنقید کی ہے کیونکہ یہ اسلام کو ایک غیر روادار، تنگ نظر اور ترقی وتغیر کے مخالف مذہب کے طور پر پیش کر کے اس کی بدنامی کا سبب بنا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ٹیلی ویژن کو جائز مقاصد مثلاً تعلیم، غیر اسلای پراپیگنڈا کی تردید اور اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ محض اس وجہ سے اس پر پابندی لگا دینا کہ یہ غیر اخلاقی پروگراموں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، ایسے ہی مضحکہ خیز ہے جیسے یہ مطالبہ کرنا کہ ٹیلی فون پر پابندی لگا دی جائے کیونکہ وہ بھی اسی طرح غلط استعمال ہوتا ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ یہ فتویٰ دور متوسط کے علما کے متروک اور ناقابل عمل خیالات پر مبنی ہے جو کہ فقہ کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مسلمان علما سے گزارش کی ہے کہ وہ آج کے دور کے تناظر میں اپنے فہم اسلام کو بہتر بنائیں اور اس میں ارتقا پیدا کریں۔

ایک اور دیوبندی فاضل مفتی احمد نادر قاسمی نے کہا ہے کہ جائز مقاصد کے لیے ٹی وی کا استعمال درست ہے۔ چونکہ قرآن اور حدیث ٹیلی ویژن کے جواز یا عدم جواز کے مسئلے پر خاموش ہیں، اس لیے یہ مباح ہے بشرطیکہ اسے تعلیمی یا اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ بہت سے دیوبندی علما کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ اسلامی پروگراموں میں تصویر کا استعمال بھی جائز ہے۔ تاہم مفتی احمد نادر قاسمی اور ٹیلی ویژن کے جواز کے حامی کچھ دیگر علما ٹی وی دیکھنے کے لیے نہایت سخت اور بعض حالات میں ناممکن شرائط عائد کرتے ہیں۔ مثلاً مظاہر العلوم (وقف) سہارنپور کے مفتی محمد امین لکھتے ہیں کہ مسلمان ٹیلی ویژن دیکھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ صرف ایسے اسلامی پروگرام دیکھیں جن میں تصویریں بالکل نہ ہوں۔ اگر سکرین پر کوئی تصویر آتی ہے تو ناظرین کو اپنی آنکھیں جھکا لینی چاہییں، کیونکہ کسی تصویر کو دیکھنا اسلام میں ممنوع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے ٹی وی پروگرام جن میں عورتیں ہوں، چاہے وہ اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، شریعت کے خلاف ہیں اور مسلمانوں کے لیے ممنوع ہیں۔ مزید برآں ٹی وی پر عورتوں کی آوازیں نہیں سننی چاہییں کیونکہ ان کے بقول عورت کے جسم کی طرح اس کی آواز بھی پردے میں ہونی چاہیے۔ اسی طرح کی مشروط اجازت شاہی مسجد فتح پوری دہلی کے امام مفتی مکرم احمد نے بھی دی ہے جنھوں نے مذکورہ فتوے سے تو اختلاف کیا ہے، تاہم یہ کہا ہے کہ ٹی وی کے اسلامی پروگرام جائز ہیں بشرطیکہ وہ شریعت کے مطابق ہوں اور ان میں عورتوں کی تصویریں اور آوازیں نشر نہ کی جائیں۔ ہاں اگر ایسے پروگرام مردوں کی تصویریں دکھائے بغیر پیش نہ کیے جا سکیں تو ضرورت کے تحت وہ اسے جائز تسلیم کرتے ہیں۔

دہلی کے مولانا وحید الدین خان، جو اپنے نسبتاً لبرل خیالات کی وجہ سے قدامت پسند علما میں سخت ناپسند کیے جاتے ہیں، غضب ناک حد تک اس فتوے کے خلاف ہیں اور انہوں نے اپنے مضمون میں فتویٰ نویس کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ مسلمانوں کو غیر اخلاقی پروگرام دیکھنے سے باز رہنا چاہیے، تاہم وہ تعلیمی مقاصد، خلاف اسلام پراپیگنڈا کے مقابلہ اور اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے ٹی وی کو استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک ذریعہ ابلاغ کے طور پر ٹی وی، اخلاقی لحاظ سے غیر جانبدار ہے۔ یہ اچھے مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور برے مقاصد کے لیے بھی، اور علما سمیت مسلم قائدین کو اس کے منفی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے مناسب اسلامی پروگرام بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس ضمن میں پیغمبرانہ مثالیں پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کعبہ کو دعوت اسلام کے لیے استعمال کیا جبکہ اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر نے بتوں کو نظر انداز کر دیا اور اپنے دعوتی مشن کو جاری رکھا۔ اسی طرح مسلمانوں کو غیر اخلاقی ٹی وی چینلز اور پروگراموں کو نظر انداز کر کے اسے اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹی وی دشمنان اسلام کی کوئی خفیہ سازش نہیں جس کا مقصد مسلمانوں کو مغلوب کرنا اور غیر اسلامی پراپیگنڈا پھیلانا ہے، جیسا کہ بہت سے علما دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ خدا کی ایک نعمت، اس کی قدرت کا ایک اظہار اور خدائی قوانین کا ایک استعمال ہے۔ مولانا وحید الدین کہتے ہیں کہ ٹی وی کا امکان خدا کی تخلیق میں پوشیدہ تھا یہاں تک انسانوں نے اسے دریافت کر لیا۔ اس لیے اسے مکمل طور پر حتیٰ کہ اسلامی مقاصد کے لیے بھی ناجائز قرار دینا، جیسا کہ فتویٰ نویس نے کہا ہے، ایک مضحکہ خیز بات ہے۔

مولانا وحید الدین کے موقف کی تائید نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر اختر الواسع نے بھی کی ہے۔ انہوں نے ٹی وی کو مکمل طور پر غیر اسلامی قرار دینے والے فتوے سے اختلاف کرتے ہوئے اصرار کیا کہ اسلامی لحاظ سے درست پروگراموں پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی نزدیک ٹی وی کا غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال ہونا اس کو بطور ایک آلے کے غیر اسلامی نہیں بنا دیتا۔ وہ تلخ لہجے میں کہتے ہیں کہ اگر اس منطق کا اطلاق ہر جگہ پر کیا جائے تو کاغذ اور قلم کو بھی ناجائز قرار دینا پڑے گا کیونکہ یہ بھی ہر قسم کے غیر اسلامی خیالات کو پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان کی رائے میں ٹی وی کے غیر اخلاقی پروگراموں کے مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ٹی وی پر ہی مکمل پابندی لگا دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کی جگہ پر بہتر پروگرام پیش کیے جائیں۔ مزید برآں وہ لکھتے ہیں کہ ٹی وی کے اسلامی پروگراموں پر پابندی لگانا اسلامی نقطہ نگاہ سے الٹا منفی نتائج کا باعث بنے گا، کیونکہ ان پروگراموں کے ذریعے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام کے بارے میں کچھ نہ کچھ آگاہی حاصل کر رہی ہے۔ اگر ان کو بھی ممنوع قرار دیا جائے جیسا کہ فتویٰ کا مقصد ہے تو واحد نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ ان پروگراموں کی جگہ غیر اخلاقی پروگراموں کی طرف رجوع کرنا شروع کر دیں گے۔

اسلامی بنیادوں پر فتویٰ کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ اس بحث کے کچھ شرکا نے یہ دلچسپ سوال بھی اٹھایا ہے کہ فتویٰ نویس اور ان کے حامیوں کے ہاں دوہرا معیار پایا جاتا ہے۔ مثلاً انجمن فضلاے دار العلوم کے قائم مقام صدر مولانا عمید الزمان قاسمی کیرانوی نے بڑی جرات سے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ فتویٰ کی رو سے ٹی وی کو ناجائز قرار دیے جانے کے باوجود متعدد دیوبندی علما باقاعدہ ٹی وی پر آتے ہیں اور ٹی وی پر اپنے جلوسوں کی منظر کشی کا اہتمام کرتے ہیں۔ اسی طرح اترانچل کی ملی کونسل کے کنوینر مولانا ریاض الحسن ندوی ٹی وی کو مکمل طور پر ناجائز قرار دینے جبکہ انٹر نیٹ کے استعمال کی اجازت دینے کے موقف میں شدید تضاد محسوس کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات یقینی ہے کہ غیر اخلاقی مواد نہ صرف انٹر نیٹ پر زیادہ کثرت سے میسر ہے بلکہ ٹی وی کے برعکس، وہ کسی قسم کی سنسر شپ کے دائرے میں بھی نہیں آتا۔

فتویٰ کے حامیوں اور مخالفوں کی گرما گرم بحث کے باوجود لگتا یہ ہے کہ عام مسلمانوں نے اسے سنجیدہ توجہ کا مستحق نہیں جانا، چنانچہ لوگوں کی طرف سے منظم طور پر ٹی وی سیٹ توڑ دینے کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، جیسا کہ چند برس پہلے پاکستان کے صوبہ سرحد میں دیوبندی کارکنوں نے کیا تھا۔ خود بہت سے مسلمان اہل علم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس قسم کے فتوے ایک وقتی بے چینی تو پھیلاتے ہیں لیکن ان سے کوئی مثبت مقصد ہرگز حاصل نہیں ہوتا۔ غطریف شہباز ندوی لکھتے ہیں (افکار ملی، نومبر ۲۰۰۴) کہ اس کے نتیجے میں صرف یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ مدارس کے مولوی حضرات عام طور پر جو فتوے جاری کرتے رہتے ہیں، ان کی کوئی اہمیت نہیں، کیونکہ انھیں جدید دنیا کی پیچیدگیوں کا سرے سے کوئی اندازہ ہی نہیں۔

(http://www.islaminterfaith.org/april2005)

حالات و واقعات

(مئی ۲۰۰۵ء)

Flag Counter