تغیر پذیر ثقافتوں میں خواتین کے سماجی مقام کا مسئلہ

لوئی ایم صافی

امریکی تنظیم پروگریسو مسلم یونین (PMU) کی طرف اسلام کا رخ ترقی پسند اقدار کی طرف موڑنے کے لیے جو مہم شروع کی گئی تھی، اس نے ایک ایسی نزاع پیدا کر دی ہے جو اب امریکی سرحدوں سے باہر بھی زیر بحث ہے۔ بحث اصل میں تو اس محدود نکتے کے حوالے سے چھڑی تھی کہ کیا کسی خاتون کو ایک مخلوط اجتماع کی امامت کرانے کا حق ہے یا نہیں، تاہم مباحثے سے بعض زیادہ گہرے اور عمیق مسائل اور مشکلات نمایاں ہوئے ہیں۔ اس بحث کا مرکزی نکتہ تو وہی پرانا سوال ہے کہ منشاے خداوندی کو کیسے سمجھا جائے اور الہام شدہ الفاظ کو سماجی تناظر اور ثقافتی اعمال کے ساتھ کیسے مربوط کیا جائے۔ کوئی شخص معاصر دنیا میں اسلامی مآخذ کی کیا تعبیر کرتا ہے؟ اسلامی تعلیمات کے ابدی عناصر کو ایسے ثقافتی اعمال سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے جو مخصوص زمان ومکان ہی کے لیے موزوں تھے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ سوال کہ اسلام امریکی ثقافت اور روایات پر کیسے اثر انداز ہوتا اور خود ان سے کس طرح متاثر ہوتا ہے؟

’عقل عام‘ سے استدلال

کیا اسلام عورتوں کو نماز میں مردوں کی امامت کی اجازت دیتا ہے؟ ترقی پسند مسلمانوں کے نزدیک اس سوال کا تعلق صنفی مساوات، عورتوں کے لیے حصول طاقت اور جدیدیت کے جذبہ مساوات پسندی جیسے تصورات سے ہے، جبکہ قدامت پسند مسلمان اس سوال کو اسلامی روایات کے تحفظ اور جدیدیت کے مخرب اثرات سے گریز کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

عورتوں کے لیے مخلوط اجتماعات کی امامت کے حق کے حامی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قرآن مجید مردوں اور عورتوں کی اخلاقی مساوات کے بارے میں بالکل واضح ہے۔ وہ مسلمانوں کے تعامل کے تصور کو مسترد کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ یہ ایسی ثقافتی روایات سے استدلال کرنا ہے جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے محدود اور لازمی طور پر پدر سرانہ معاشرے سے تعلق رکھتی تھیں۔ حنا اعظم کی طرف سے جب عورت کی امامت کے حامیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ استنباط کے درست طریقوں اور تعامل کی پابندی کریں تو پروگریسو مسلم یونین کے نائب صدر حسین ابیش نے اپنے موقف کو یہ کہہ کر بہت عمدہ طور پر واضح کر دیا کہ یہ پدر سرانہ روایات کی اندھی تقلید ہے۔ ابیش نے حنا اعظم کے استدلال پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’روایت کی پاس داری میں اور مردوں کی اس مذہبی قیادت کو برقرار رکھنے کی خاطر جسے وہ خدا کا الہامی حکم قرار دیتی ہیں، انھوں نے اپنی قوت فیصلہ بلکہ درحقیقت بات کے قابل فہم ہونے کے اصول کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے۔‘‘ ابیش کی رائے میں حنا اعظم نے ماہرین قانون کے زمرے میں شامل ہونے کے لیے جدیدیت کی روح کو ترک کر دینے کا ارتکاب کیا ہے۔ ’’( حنا اعظم کو) اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ میں یا آپ کیا چاہتے ہیں، یا کون سی بات معقول ہے، یا کسی بات کا دفاع، قانونی علم کی روایات کا حوالہ دیے بغیر، جو انتہائی پدر سرانہ اور تفہیمی اعتبار سے ناقابل بحث ہیں، کسی اور طریقے سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔‘‘ 

’روایت‘ سے استدلال

حنا اعظم ترقی پسندوں کی طرف سے اختیار کردہ ’’عقل عام‘‘ پر مبنی موقف کو مسترد کرتی ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ خدا کی منشا کے سامنے سر جھکا دینا ہی اسلام کی اصل حقیقت ہے اور یہ عمل ایک منظم اور مربوط طریقے سے ہونا چاہیے۔ ’’میری رائے میں ہم خدا کی منشا کو دریافت کرنے کے پابند ہیں، نہ کہ اپنے نازک احساسات کی پاس داری کے۔‘‘ چونکہ خدا کی منشا قرآن مجید کے ذریعے سے بتائی گئی اور اس کا عملی نمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال اور اقوال میں یعنی سنت میں پیش کیا گیا ہے، اس لیے اس کو دریافت کرنے کا صحیح طریقہ ٹھیک ٹھیک مطالعہ اور درست طریق استدلال ہے یعنی ’’قانونی استدلال کا ایک منضبط نظام جو کہ قرآن مجید اور سنت صحیحہ سے مطابقت رکھتا ہو اور جو تقویٰ اور خشوع کی سپرٹ سے پھوٹتا ہو۔‘‘

ترقی پسند مسلمان، منظم اور داخلی طور پر مربوط طریقہ استدلال سے، جس کی بنیاد اسلامی روایات پر ہو، سرے سے چڑ جاتے ہیں اور ایک ایسے آزاد طریقہ استدلال میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں جو کہ بآسانی پوسٹ ماڈرن امریکی معاشرے کی عقل عام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو۔ یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ترقی پسند ایک ایسے مجموعہ اقدار کو فروغ دے رہے ہیں جنہیں عالمی ترقی پسند تحریک نے اختیار کر رکھا ہے۔ حسین ابیش کو حنا اعظم پر کوئی منطقی یا استدلالی اعتراض نہیں ہے، بلکہ ان کا اعتراض اس قانونی روایت پر ہے جسے وہ بطور حوالہ پیش کرتی ہے اور جو مطلق صنفی مساوات کے اس روایت شکن تصور کو مجروح کرتی ہے جسے ترقی پسند دل وجان سے اپنائے ہوئے ہیں۔

مسلم تشخص اور متضاد سماجی روایات

عورت کی امامت کے اس سارے قضیے میں دراصل جو کشمکش نمایاں ہو رہی ہے، وہ ان مقابل روایات سے پھوٹی ہے جن پر دو مخالف ثقافتوں اور نظریات واعتقادات کا اثر ہے۔ ایک انتہا پر حد سے زیادہ قدامت پسند روایت کھڑی ہے جو ایک ایسی سماجی حالت کے ساتھ چپکی ہوئی ہے جس میں مرد معاشرے میں حکمران مطلق ہیں۔ عورتیں تعلیم تو حاصل کر سکتی ہیں، لیکن سماجی خدمات میں حصہ لینے اور فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہونے سے یا تو انھیں روک دیا جاتا ہے یا ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ روایتی مسلمان معاشروں نے کئی صدیوں سے عورتوں کو نجی دائرے میں محصور اور مکمل طور پر گھریلو خدمات اور مسائل تک محدود کر دیا ہے۔ 

دوسری انتہا پر مغربی تحریک نسواں کھڑی ہے جسے بغیر کسی تنقید کے ترقی پسند مسلمانوں نے اپنا لیا ہے اور جوکسی بھی قسم کے صنفی امتیازات کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ نسوانیت کی جانب سے صنفی امتیازات کی بالکلیہ نفی پر خود مسلم معاشروں کے اندر اصلاح پسندوں نے سخت احتجاج کیا ہے اور اسے تمام نسوانی تجربات کی نفی اور مرد کی پوجا کے رجحانات کی علامت قرار دیا ہے۔ یاسمین موگاہد لکھتی ہیں کہ ’’چونکہ مغربی نسوانیت نے خدا کو منظر سے ہٹا دیا ہے، اس لیے ان کے پاس مرد کے سوا کوئی معیار ہی باقی نہیں رہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ مغربی نسوانیت اپنے مقام ومرتبے کو مرد کے حوالے سے تلاش کرنے پر مجبور ہے اور اس طرح اس نے ایک غلط مفروضے کو قبول کر لیا ہے۔ اس نے تسلیم کر لیا ہے کہ مرد ہی اصل معیار ہے اور یوں کوئی عورت اس وقت تک مکمل انسان قرار نہیں پا سکتی جب تک کہ وہ اس معیار یعنی مرد کے بالکل مماثل نہیں ہو جاتی۔‘‘

یامین زکریا کو یاسمین کی اس بات سے اتفاق ہے کہ مرد کو انسانی رویے کے لیے معیار قرار دینے کا تعلق دنیا کے سیکولر زاویہ نگاہ سے خدا کے تدریجی طو رپر غائب ہو جانے کے ساتھ ہے۔ ان کے نزدیک اس سے اس بات کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ ترقی پسند، اسلام کو جدیدیت کی اقدار کے تابع بنا رہے ہیں۔ یاسمین کو اعتراض ہے کہ ’’یہ ایک یک طرفہ عمل ہی کیوں ہے جس میں خدا کی دی ہوئی مذہبی اقدار کو انسان کی بنائی ہوئی سیکولر اقدار کے مطابق بنانے کے لیے ان کی ازسرنو تعبیر کی جائے؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ترقی پسند مذہبی تحریکیں سیکولر اقدار کو حتمی معیار کی حیثیت دے رہی ہیں۔ یقیناًیہ دھوکہ باز مذہبی تحریکیں ہیں۔ ان کا طرز عمل الٰہی تعلیمات کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے جس سے ان کی ضرر رسانی کھلے اور جارح مرتدوں اور کافروں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے۔‘‘

اسلام اور ثقافتی روایات

اسلام کا مقصد یہ ہے کہ ثقافتی رویوں اور سماجی اعمال کو ان کائناتی اقدار اور اصولوں کے دائرے میں لے آیا جائے جو تمام مخصوص ثقافتوں اور سماجی تنظیم کے طریقوں سے بالاتر ہیں۔ ابتدائی دور کے مسلمان اس اہم فرق سے اچھی طرح آگاہ تھے جو اصل مذہبی احکام اور ان کے اس ظاہری ڈھانچے کے مابین پایا جاتا ہے جو وہ مخصوص ثقافتی روایات میں اختیار کر لیتے ہیں ۔ اس فرق سے آگاہی کی بنا پر لوگ اس قابل ہوئے ا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو اپنی اپنی ثقافتوں کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔ اس سے اسلامی اقدار کی ظاہری شکلوں کا ایک متنوع مجموعہ وجود میں آیا اور مختلف ثقافتوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو قبول کرتے ہوئے بھی اپنی مقامی روایات کو برقرار رکھ سکیں۔

اسلامی اقدار اور مقامی روایات کے مابین تعامل کا مشاہدہ اس تنوع میں کیا جا سکتا ہے جو فیشن، طرز تعمیر، شادی کی تقریبات، تہواروں کے منانے اور ججوں کے انتخاب وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور جو مختلف مسلم ثقافتوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف واضح کیا تھا کہ آپ کا مشن سابقہ روایات کو مسترد کرنا نہیں، بلکہ انھیں ایسی روایات اور اعمال پر جو مضبوط اخلاقی اصولوں پر مبنی ہیں، تعمیر کرنا اور پست روایات اور رواجوں کی اصلاح کرنا ہے۔ آپ نے فرمایا:’’مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘ چنانچہ آپ نے اپنے معاشرے میں رائج قبل از اسلام کی ان ثقافتی روایات کو قبول کر لیا جو امداد باہمی اور محبت کو فروغ دیتی تھیں، مثلاً مہمانوں کا اکرام، اور قبیلے کی طرف سے تمام افراد قبیلہ کے لیے بہبود کا نظام۔ بالکل اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان رواجوں کا خاتمہ کر دیا جو جارحیت اور نا انصافی کا سبب بنتی تھیں، مثلاً آپ نے ایک قبیلے کے افراد کے مابین وابستگی اور حمایت ونصرت کے اس تصور کو مسترد کر دیا جو یہ تقاضا کرتا تھا کہ ہر حال میں اپنے قبیلے کا ساتھ دیا جائے، چاہے وہ قصور وار ہی کیوں نہ ہو۔

خود قرآن مجید نے مقامی روایات کو سماجی قوانین کا ایک مستند ماخذ مانا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی ہے کہ اگر مقامی روایات طے شدہ اسلامی اصولوں کے خلاف نہ ہوں تو ان کا احترام کیا جائے۔ ’’آپ معاف کرنے کے طریقے پر کاربند رہیے اور اچھی روایات پر عمل کا حکم دیجیے، لیکن جاہلوں سے منہ موڑ لیں۔‘‘ (۷: ۱۹۹) تاہم قرآن نے ایسی روایات پر سخت تنقید کی جو عدل وانصاف کے اصولوں کے خلاف ہوں۔ اس نے مسلمہ روایات کی بنیاد پر غیر منصفانہ رواجوں کو جواز فراہم کرنے کے طریقے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ فرمایا: ’’جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں، نہیں، ہم تو اپنے آباو اجداد کے طریقوں کی پیروی کریں گے۔ کیا اگرچہ ان کے آباو اوجداد عقل اور ہدایت سے محروم تھے، تب بھی؟‘‘ (۲: ۱۷۰)

ثقافتی رجحانات کو اسلامی احکام پر فوقیت دینا

انسانی ترقی کے لیے سماجی روایات ناگزیر ہیں، کیونکہ ان کا وجود انفرادی افعال کو مربوط بنانے اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ روایات جامد نہیں ہوتیں بلکہ ہر معاشرے کے تجربے میں آنے والی ثقافتی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر رہتی ہیں۔ روایات کا ارتقا اور تغیر الل ٹپ نہیں ہوتا بلکہ بنیادی رویے اور اقدار ان کی راہنمائی کرتے ہیں۔ چنانچہ جب ہم مسلم معاشرے میں مقابل روایات اور نظریات کا جائزہ لیں تو یہ ضروری ہے کہ کسی بھی مخصوص روایت کے منبع وماخذ کو، جہاں سے وہ پھوٹی ہے، متعین کیا جائے۔ 

اس سوال پر غور کرنا بالکل بجا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کے معاشروں سے امریکہ میں آکر بسنے والوں پر قبائلی روایات اور صنفی تفوق سے بھرپور غیرت کے تصور کے اثرات کس حد تک ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک جائز سوال ہوگا کہ مغربی معاشروں میں ثقافتی تربیت پانے والے مسلمانوں پر پوسٹ ماڈرن مغرب میں پھیلی ہوئی جنسی بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ کس حد تک اثر انداز ہے۔ (ان دونوں پہلووں پر غور اس لیے ضروری ہے کہ) جب مضبوط قبائلی ورثے کے حامل معاشروں میں غیرت کے نام پر قتل کو گوارا کیا جاتا ہے اور مذہبی راہنما اس کی کماحقہ مذمت نہیں کرتے، حالانکہ اسلام میں یہ ایک بہت بڑا جرم ہے، تو یہ سوال ناگزیر طور پر سامنے آتا ہے کہ اسلامی اصولوں کو قبائلی روایات کے تابع بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح جب مسلم کمیونٹی عورتوں کو مسجد میں مناسب مقام دینے کے معاملے کو نظر انداز کرتی ہیں اور مسجد کا مرد امام عورتوں کو اسلامی تعلیم کی مجلسوں کے دوران میں مسجد کے مرکزی ہال میں داخل ہونے سے منع کرتا ہے، تو بھی اسلام کو پدر سرانہ ثقافت کے تابع بنانے کا سوال لازماً سامنے آتا ہے۔

دوسری طرف جب ترقی پسند، جنسی بے راوہ روی کو، چاہے وہ شادی کے بغیر جنسی تعلقات کی صورت میں ہو یا ہم جنسی پرستی کی صورت میں، ایک معمولی مسئلہ قرار دیتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ لباس کے مختصر ہونے اور اداؤں میں بے باکی کا تعلق ثقافتی ذوق سے ہے نہ کہ اسلامی اصولوں سے، تو بھی اسلامی اصولوں کو ترقی پسند عقل عام کے تابع بنا نے کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ترقی پسند حجاب کو کھلم کھلا مسترد کرتے ہیں، ہم جنس پرستی کو ایک نارمل طرز عمل قرار دیتے ہیں، اور عوامی سطح پر مسائل کو چھیڑنے کے لیے جنسی الزامات کو بطور حکمت عملی اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے۔ انھوں نے شہوت پسند اور لذت پسند پوسٹ ماڈرن کلچر کو اسلام کی بنیادی تعلیمات اور اقدار پر فوقیت دے دی ہے۔

حقیقی اخلاقی دعووں کا معیار

کسی شخص کے ایک مجموعہ اقدار کے ساتھ وابستگی کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ ان اقدار کو ایک اخلاقی کمیونٹی میں ارتقا پاتے ہوئے دیکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقی اصولوں کی اصل قدر وقیمت علمی اظہارات اور اعلانات سے نہیں بلکہ اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ ایک زندہ کمیونٹی کو تبدیل کرنے اور اس کے اندر زندگی میں بہتری پیدا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ترقی پسند مسلم ایجنڈا کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے اس سوال کا جائزہ لینا بے حد اہم ہے کہ مخلوط اجتماع میں عورت کی امامت کا مسئلہ اٹھانے کا مقصد کیا ہے؟ یہ واقعہ کمیونٹی کی مثبت تعمیر سے زیادہ میڈیا میں نمایاں ہونے کے شوقین لوگوں کے لیے ایک مذہبی ہتھکنڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے واقعات گینز بک میں ایک عالمی ریکارڈ تو درج کروا سکتے ہیں لیکن کسی نئے طرز زندگی کو نشو ونما نہیں دے سکتے۔ اگر ترقی پسند مسلمان نماز اور مسجد کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوتے تو وہ اس بات کا انتظار کرتے کہ ایک زندہ کمیونٹی وجود میں آئے اور ایک ایسی مسجد قائم ہو جہاں کے نمازی ان کی اخلاقی تعبیر اسلام پر اعتماد رکھتے ہیں۔ اس طرح کی کوئی کمیونٹی ہی تجربے کی سطح پر اور عملی مثال کی صورت میں اس سوال کا جواب فراہم کرتی کہ مجوزہ عمل مسلمانوں کی روح کو بلند کرتا ہے یا انھیں ایک لذت پسند گروہ میں تبدیل کر کے پستیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

تاریخی مسلم معاشرہ، خواہ ہم اس میں کتنی ہی غلطیاں تلاش کر لیں، ایک نمایاں وصف رکھتا ہے، یعنی مذہبی تشخص پر پورے اصرار کے ساتھ ساتھ مذہبی، اعتقادی اور اخلاقی تنوع کے لیے بے مثال رواداری کا وصف۔ اس معاشرے میں اخلاقیت اور انصاف کو ایک مجرد تصور کے طور پر بیان نہیں کیا جاتا تھا جس پر علمی حلقوں میں بحث ہوتی رہے،، بلکہ وہ مشترکہ اقدار کا ایک مجموعہ تھا جس کے مطابق ایک زندہ کمیونٹی میں زندگی گزاری جائے اور اسے نشوونما دی جائے۔ اخلاقی زندگی کے معیارات وہی سمجھے جاتے تھے جنھیں کسی کمیونٹی کے افراد اپنے لیے معیار قرار دیں۔ مختلف فقہی مکاتب فکر محض علمی حلقے نہیں تھے، بلکہ انہوں نے (اپنے تصورات کی بنیاد پر باقاعدہ) اخلاقی کمیونٹیاں تشکیل دی تھیں۔ ہر شخص کو نہ صرف اخلاقی طور پر بلکہ قانونی طور پر بھی انھی معیارات کے مطابق جانچا جاتا تھا جن کو وہ معیار تسلیم کرتا تھا۔ حنفی فقہ کے پیروکار کا فیصلہ حنفی قاضی کرتا تھا، یعنی اسی اخلاقی کمیونٹی کا ایک فرد جس سے ان دونوں کا تعلق ہوتا تھا، نہ کہ کوئی دوسرا جج جس کا تعلق کسی دوسری اخلاقی کمیونٹی سے ہو۔ (اسی طرح فیصلہ بھی اسی فقہ کے مطابق کیا جاتا تھا جس کا وہ فرد پیروکار ہوتا) نہ کہ کسی ایسے قانونی ضابطے کے تحت جو مرکزی اتھارٹی نے نافذ کر رکھا ہو۔

لوگوں کی اخلاقی خود مختاری کے حوالے سے حساسیت کی یہ شاندار مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی تہذیب کس طرح ایک مثالی ہم آہنگی کے ساتھ مختلف مذہبی، اعتقادی، الہیاتی، نسلی اور ثقافتی روایات کو کم وبیش چودہ سو برس تک اپنے اندر سمونے کے قابل رہی۔ امریکی مسلمانوں کے لیے، جو ایک نمایاں طور پر متنوع معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اور جو اپنی کمیونٹی کو وجود میں لانا اور اپنی اسلامی اقدار کا اظہار نو کرنا چاہتے ہیں، یہ بے حد ضروری ہے کہ وہ تاریخی مسلم معاشرے کی بے مثال لچک اور آزادی کو یاد رکھیں اور تعبیرات وتجربات کے تنوع کے لیے کافی گنجایش فراہم کریں۔ 

انتقام کا جذبہ

ترقی پسند مسلمانوں کا ایجنڈا، جو اسلامی اقدار کو ترقی پسندی کے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے، حدود سے متجاوز ہے کیونکہ درحقیقت یہ محض امریکہ کے اسلامی مراکز کے اختیار کردہ رویے کا رد عمل ہے جو سماجی طور پر متحرک خواتین اور امریکہ میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کو اپنے ساتھ وابستہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اپنی ثقافتی روایات پر امریکہ میں عمل کرنے پر اصرار کر کے اور امریکی ثقافت کے مثبت اور غیر جانبدار عناصر کو نظر انداز کر کے مسلم آباد کاروں نے دانستہ یا نادانستہ، امریکہ میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو، جن میں کافی تعداد خود ان کی اپنی اولاد کی ہے، اپنے سے دور کر دیا ہے۔ ان میں افریقی امریکی، سفید فام امریکی، نوجوان مسلم پروفیشنلز اور مسلم خواتین شامل ہیں۔

ترقی پسندوں کے لیے اشتعال کا باعث سب سے پہلے تو بہت سے اسلامی سنٹرز کے راہ نماؤں کی نا اہلی بنتی ہے جو امریکی معاشرے میں اسلامی اقدار کے فروغ کے مقابلے میں اپنی ثقافتی عادات اور رواجات کو برقرار رکھنے کو مسلسل ترجیح دیتے چلے آ رہے ہیں۔ پروگریسو مسلم یونین کے دو ممتاز راہنماؤں نے میرے سامنے اپنے علاقے کی مساجد کے ذمہ داروں کے رویے پر ناگواری کا اظہار کیا جو انھوں نے کمیونٹی کی خاتون ارکان کے حوالے سے اپنا رکھا ہے۔ ایک خاتون نے میرے سامنے اس افسوس کا اظہار کیا کہ اسے اسلام کے متعلق سیکھنے کا کوئی موقع میسر نہیں آیا کیونکہ اس کی کمیونٹی نوجوان لڑکیوں کے لیے اسلامی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں کر سکی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ ’’اس کی فیملی اسلامی تعلیم کو ایک مسلمان لڑکی کے لیے اہم نہیں سمجھتی تھی۔‘‘ مسجد میں آنے جانے کا موقع صرف اس کے بھائیوں کو حاصل تھا۔ ایک اور نہایت باصلاحیت نوجوان خاتون نے مجھے بتایا کہ اس نے حالیہ سالوں میں اپنے علاقے کے اسلامی سنٹر میں جانا چھوڑ دیا ہے کیونکہ اسے یہ طریقہ بالکل پسند نہیں تھا کہ اسے مسجد کے مرکزی ہال سے دور، جہاں تعلیم وتدریس اور بحث ومباحثہ کی ساری سرگرمیاں ہوتی تھیں، ایک الگ تھلک کمرے میں محدود کر دیا جائے۔

کئی سال تک یہ دیکھتے ہوئے کہ مسلم مہاجرین، جو زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور برصغیر سے آئے ہیں، یہاں بھی اپنی ثقافتی عادات اور روایات ہی کو اپنانے پر مصر ہیں، ترقی پسند مسلمانوں نے جواباً امریکی کلچر کے نہایت لبرل عناصر کی روایات اور عادات پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ ترقی پسند مسلمان، جیسا کہ ان کا پہلا اجتماعی عمل بتاتا ہے، واضح طور پر انتقام لے رہے ہیں۔ ان کا مقصد کسی نئی کمیونٹی کو تشکیل دینا نہیں بلکہ صرف اس کمیونٹی کو اشتعال دلانا ہے جس نے انہیں نظر انداز کیے رکھا۔ وہ اس کلچر کے کسی تنقیدی جائزے میں دلچسپی نہیں رکھتے جس میں وہ پروان چڑھے ہیں، بلکہ اس کلچر کو چیلنج کرنے کے خواہش مند ہیں جس نے ان کے ساتھ بے گانگی کا رویہ اپنایا۔

اسلام کے غیر متبدل اخلاقی و روحانی مآخذ

جب مسلمان رواجات اور عادات کو اقدار اور اصولوں پر ترجیح دیتے ہیں تو اسلام کے شاندار اخلاقی اور روحانی اصولوں پر زد پڑتی ہے۔ پوری اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلم معاشرے اسلام کی اخلاقی اور روحانی طاقت کو استعمال میں لائے اور اسے غیر اخلاقی اعمال کی اصلاح اور صحت مند اور زندگی سے بھرپور روایات کے فروغ کے لیے استعمال کیا تو انھیں ترقی نصیب ہوئی ۔ اسلامی احیا کا مرکز ہمیشہ ایسے علاقے بنے جہاں لوگ سمجھ داری کے ساتھ اور آزادانہ اسلامی اقدار اور اصولوں کو اپناتے اور انھیں ایک زندہ اسلامی روایت تشکیل دینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ آج امریکی مسلمانوں کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اسلامی اداروں اور اعمال کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ایک قوت محرکہ کا کردار ادا کریں۔ اس مقصد کے لیے امریکی مسلمانوں کو اپنی ثقافتی محدودیتوں سے، چاہے وہ مقامی ہوں یا برآمد شدہ، اوپر اٹھنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سماجی تنظیم اور تبدیلی کے لیے بنیاد کی حیثیت ان کی اپنی عادات اور رواجات کو نہیں، بلکہ اسلام کی اعلیٰ اقدار کو حاصل ہے۔


دین اور معاشرہ