جون ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا کامیاب کنونشن

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ۱۵؍ مئی ۲۰۰۵ کو اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں ملک گیر ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ منعقد کیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں کی تعداد میں دینی مدارس کے مہتممین، اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے بھی شرکت کی۔ کنونشن کا عنوان گذشتہ دو سالوں کے دوران میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحانات میں اول، دوم اور سوم پوزیشن پر آنے والے طلبہ اور طالبات میں انعامات کی تقسیم تھا جو صدر وفاق شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کے ہاتھوں تقسیم ہوئے، مگر اپنے...

’الفرقان الحق‘: اکیسویں صدی کا امریکی قرآن

― محمد فیروز الدین شاہ کھگہ

قرآنِ کریم اسلامی تشریع کا اولین سرچشمہ ہے اور ہر قسم کی تحریف وآمیز ش سے پاک ہے۔ اس کے برعکس توراۃ وانجیل اپنی اصلی حیثیت کو برقرار نہ رکھتے ہوئے بے شمار تحریفات کا شکار ہوئی ہیں۔غالباً اسی وجہ سے مستشرقین نے قرآنی متن کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے اس کو محرَّف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔دراصل استشراقی فکر کا محور یہ ہے کہ جس طرح تورات وانجیل اپنی حیثیت کھو بیٹھی ہیں اور ان کے کئی Version منظرِ عام پر آچکے ہیں، مسلمانوں کے قرآن کو بھی اسی مقام پر لا کھڑاکیاجائے۔ چنانچہ آرتھر جیفری لکھتا ہے: ’’عہد نامہ جدید کے بغیر عیسائیت تو اپنا وجود باقی رکھ سکتی...

’’سر اقبال‘‘ بنام ’’حسین احمد‘‘ ۔ ماضی کی ایک کہانی کا معما ڈاکٹر جاوید اقبال کی کتاب کی روشنی میں

― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

کتابیں لکھے اور چھاپے جانے کی موجودہ گرم بازاری میں اگر کوئی واقعی ’’کتاب‘‘ ہاتھ آ جائے تو کچھ زیاہ ہی اچھی معلوم ہونا قدرتی بات ہے۔ علامہ اقبال کے سوانح حیات میں علامہ کے فرزند ارجمند جسٹس (ریٹائرڈ) ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کے قلم سے نکلی ہوئی ’’زندہ رود‘‘ ایک ایسی ہی کتاب کہی جانے کی مستحق ہے۔ کتاب گو تازہ بتازہ نہیں، مگر راقم سطور کے ہاتھ میں وہ گزشتہ دنوں ہی آئی۔ تین جلدوں میں ہونے کے باوجود دلچسپی کو آخر تک قائم رکھنے والی۔ برصغیر کے پڑھے لکھے لوگوں میں کم ہی ہوں گے جنھیں علامہ کی شاعری سے دلچسپی نہ رہی ہو۔ تھوڑی بہت راقم سطور کے حصہ...

تغیر پذیر ثقافتوں میں خواتین کے سماجی مقام کا مسئلہ

― لوئی ایم صافی

امریکی تنظیم پروگریسو مسلم یونین (PMU) کی طرف اسلام کا رخ ترقی پسند اقدار کی طرف موڑنے کے لیے جو مہم شروع کی گئی تھی، اس نے ایک ایسی نزاع پیدا کر دی ہے جو اب امریکی سرحدوں سے باہر بھی زیر بحث ہے۔ بحث اصل میں تو اس محدود نکتے کے حوالے سے چھڑی تھی کہ کیا کسی خاتون کو ایک مخلوط اجتماع کی امامت کرانے کا حق ہے یا نہیں، تاہم مباحثے سے بعض زیادہ گہرے اور عمیق مسائل اور مشکلات نمایاں ہوئے ہیں۔ اس بحث کا مرکزی نکتہ تو وہی پرانا سوال ہے کہ منشاے خداوندی کو کیسے سمجھا جائے اور الہام شدہ الفاظ کو سماجی تناظر اور ثقافتی اعمال کے ساتھ کیسے مربوط کیا جائے۔ کوئی...

مسئلہ طلاق ثلاثہ ۔ علماء کرام توجہ فرمائیں

― پروفیسر محمد اکرم ورک

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مارچ ۲۰۰۵ کے شمارے میں مولانا سید سلمان الحسینی الندوی کا مضمون ’’اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوا ہے جس میں فاضل مضمون نگار نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے وقوع کی صورت میں مرتب ہونے والے معاشرتی مسائل کی طرف علماء کرام کو توجہ دلائی ہے اور علماء دین اور مفتیان کرام سے تقاضا کیا ہے کہ وہ آج کے معروضی حالات کے تناظر میں اس مسئلہ پر دوبارہ غور فرمائیں۔ مئی ۲۰۰۵ کے شمارے میں مولانا احمد الرحمن نے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگرچہ طلاق ثلاثہ کے موضوع پر احناف اور اہل حدیث مکتبہ فکر...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) بسم اللہ۔ بخدمت گرامی منزلت مولانا راشدی صاحب زید مجدہ۔ محترم مولانا، السلام علیکم۔ فروری مارچ میں انڈیا رہا۔ واپس آیا تو کچھ وقت گزرنے پر مولانا عیسیٰ صاحب سے پورے نصف درجن الشریعہ کے شمارے ملے۔ ایک پوسٹل رکھ رہا ہوں۔ ڈاک خرچ بہت آتا ہے۔ براہ کرم ڈاک سے بھجوا دیا کریں۔ ہر ماہ ملتا رہے۔ آپ نے ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ باعث دلچسپی ہے۔ خدا کرے رفتہ رفتہ یہ تجربہ ایسے نہج میں ڈھل جائے کہ سوچ کی مثبت اور مفید تبدیلی کو راہ ملے۔ آپ کو ما شاء اللہ رفقائے قلم اچھے میسر آ گئے ہیں۔ شاید نئی نہج ہی کی برکت ہے۔ میاں انعام الرحمن صاحب خاص طور سے آپ کا بڑا...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’ہزار سال پہلے‘‘۔ تاریخ نے اپنے سینے میں کئی ایسے اہل علم کے نام محفوظ کیے ہیں جنھوں نے تحریر وتصنیف اور تقریر وتدریس میں کمال حاصل کر کے اپنی مہارت کا سکہ منوایا۔ اس فہرست کو اگر بہت مختصر کیا جائے تو بھی ’’ازہر الہند‘‘ دار العلوم دیوبند کے فیض یافتہ مولانا سید مناظر احسن گیلانی کا نام سر فہرست ہوگا۔ مولانا نے اپنی تحقیقی وتصنیفی زندگی کا آغاز دار العلوم دیوبند کے زمانہ قیام ہی میں کر لیا تھا، لیکن اس پر بہار حیدر آباد دکن میں آئی جہاں آپ جامعہ عثمانیہ کے شعبہ تعلیمات سے وابستہ ہوئے۔ آپ کے قلم سے سینکڑوں مضامین اور مقالات نکلے جن پر...

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

― ادارہ

* ۳۰ اپریل تا ۲ مئی ۲۰۰۵ جامعہ اسلامیہ کامونکی میں دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے تعاون سے تین روزہ مطالعہ مذاہب کورس کا اہتمام کیا گیا۔ الشریعہ اکادمی میں خصوصی تربیتی کورس کے شرکا اس کورس میں اول تا آخر شریک ہوئے اور اس سے استفادہ کیا۔ * ۸ ؍مئی کو فیصل آباد سے جناب مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب تشریف لائے اور بعد از نماز ظہر طلبہ سے خطاب کیا۔ * ۱۶؍ مئی کو بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) جناب مستنصر باللہ اکادمی میں تشریف لائے اور طلبہ کو اپنے خیالات سے مستفید کیا۔ * ۱۸؍ مئی کو اکادمی کے زیر اہتمام گوجرانوالہ کی سطح پر ایک انعامی تقریری مقابلہ کا انعقاد کیا...