مکاتیب

ادارہ

(۱)

باسمہ سبحانہ

عزیز محترم حافظ حسن مدنی صاحب سلمک اللہ تعالیٰ فی الدارین

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

’’محدث‘‘ کا نومبر کا شمارہ نظر سے گزرا۔ بہت خوشی ہوئی۔ قتل غیرت اور دیگر متعلقہ امور پر آپ حضرات نے سیر حاصل بحث کر کے تمام دینی حلقوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ بالخصوص آپ کے مضمون پر مزید مسرت اور اطمینان سے بہرہ ور ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی کاوشوں کو قبول فرمائیں اورنتائج وثمرات سے نوازیں۔ آمین

اس حوالہ سے میں ایک بات کی طرف احباب کو توجہ دلانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں علاقائی کلچر اور قبائلی روایات کے حوالے سے عورت پر جو مظالم ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں دینی حلقوں کی طرف سے کوئی منظم اور موثر آواز بلند نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز کو اس خلا سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے او روہ عورتوں کے حقوق کی چیمپئن بن گئی ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہمارے دینی حلقوں میں کوئی ادارہ اس طرز پر کام کرے اور عورتوں پر ہونے والی زیادتیوں کی شرعی نقطہ نظر سے نشان دہی کرتے ہوئے ان کے ازالے کے لیے منظم محنت کی کوئی صورت نکالے تو یہ ہتھیار مذکورہ این جی اوز سے چھینا جا سکتا ہے اور ویسے بھی یہ ہماری دینی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

اس کشمکش میں یہ پہلو میرے خیال میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور ہمیں اسے اجاگر کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ امید ہے کہ آپ بھی اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوں گے۔

والد بزرگوار اور دیگر حضرات واحباب خصوصاً عطاء اللہ صدیقی صاحب سے سلام مسنون عرض کر دیں۔

شکریہ۔ والسلام

ابو عمار زاہد الراشدی

مرکزی جامع مسجد۔ گوجرانوالہ


(۲)

محترم ایڈیٹر الشریعہ گوجرانوالہ

سلام مسنون۔ مزاج بخیر؟

’الشریعہ‘ میں شامل مضامین بحث ونقد ونظر کے نئے در کھولتے ہیں۔ اس شمارے میں اقبال کے نظریہ شعر وادب پر مضمون اچھی کاوش ہے، لیکن حوالہ جات کی بھرمار سے اسے خواہ مخواہ بوجھل بنایا گیا ہے اور خود مصنف کا نقطہ نظر معلوم کرنے میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ ۱۶۰ سطروں کے مضمون میں ۵۷ حوالے! اندازہ کیجیے، اس میں مصنف نے کتنے لفظ خود لکھے ہیں؟

والسلام

(پروفیسر) کلیم احسان بٹ

گجرات


(۳)

باسمہ سبحانہ

محترم ومکرم مدیر صاحب مجلہ ’الشریعہ‘

تسلیم وتحیہ۔ امید ہے مزاج عالی بخیر ہوں گے۔

ماہنامہ الشریعہ بابت ماہ نومبر ۲۰۰۴ موصول ہوا۔ عنایت کا شکریہ۔

ہم یہاں ہر روز صبح کی نماز سے قبل درس قرآن دیتے ہیں، لیکن آج آلہ مکبر الصوت پر حضرت رئیس التحریر مدظلہ کا کلمہ حق پڑھ کر سنایا گیا۔ جوں جوں ارشادات عالیہ پڑھے، بس دل میں ایک ہوک سی اٹھتی رہی کہ کاش، یہ جو علماء دیوبند کے مختلف دھڑے بن چکے ہیں، ان میں بھی کوئی اتحاد واخوت پیدا کرا دیتا تو آج پاکستان کی قسمت بدل چکی ہوتی۔ ہم یہ اتحاد مسلکی بنیادوں پر نہیں کہہ رہے، بلکہ ہماری غرض تو ہے تحریک دیوبند کے اتحاد سے جس کے بنیادی نکات ’علماء ہند کا شاندار ماضی‘ نامی کتاب کے ابتدائی باب میں درج ہیں۔ بہرصورت پورا شمارہ مطالعہ کر چکے ہیں اور نوجوانوں کو بار بار پڑھایا جا رہا ہے اور کلمہ حق کی فوٹو سٹیٹ کروا کر تقسیم کرنے کا پروگرام ہے۔

والسلام

محمد سعید اعوان

سرپرست نوجوانان توحید وسنت۔بمقام لالہ چک 

ڈاک خانہ جلال پور جٹاں۔ ضلع گجرات


مکاتیب

دسمبر ۲۰۰۴ء

جلد ۱۵ ۔ شمارہ ۱۲

سنی شیعہ کشیدگی ۔ چند اہم معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیعہ سنی مسئلہ مولانا دریابادیؒ کی نظر میں
محمد موسی بھٹو

اسلام، عالم اسلام اور مغرب
ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی

جناب احمد البداوی کے خطاب کا ایک جائزہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مکاتیب
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Since 1st December 2020

Flag Counter