اسلام، عالم اسلام اور مغرب

ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی

(یکم اکتوبر ۲۰۰۴ کو آکسفرڈ کے موڈلن کالج کے ہال میں آکسفرڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب سے ملائشیا کے وزیر اعظم اور اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ ڈاکٹر عبد اللہ احمد بداوی نے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحان احمد نظامی کی دعوت پر الشریعہ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ ڈاکٹر بداوی کے خطاب کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔ مدیر)


جناب ڈاکٹر فرحان نظامی صاحب،

معزز مہمانان،

خواتین وحضرات!

۱۔ آکسفرڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز میں خطاب کرنا میرے لیے حقیقتاً بڑے شرف اور اعزاز کی بات ہے اور میں اس نہایت ممتاز پلیٹ فارم سے گفتگو کا موقع فراہم کرنے پر جناب ڈاکٹر فرحان نظامی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ مسلم دنیا کے مطالعے کے لیے یہ سنٹر ایک اعلیٰ ادارے کے طور پر ترقی کی منزلیں طے رہے گا۔ ملائشیا اس سنٹر کی متنوع سرگرمیوں، بالخصوص مغرب میں وسیع پیمانے پر اسلام کی تفہیم کے حوالے سے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

۲۔ میں آپ کے ساتھ کئی حیثیتوں سے مخاطب ہوں۔ سب سے پہلے تو میں ایک مسلمان ہوں۔ میں ایک مذہبی عالم کا بیٹا ہوں اور میرے دادا بھی ایک عالم تھے۔ بچپن میں، میں شام کے وقت اپنے گاؤں کے قریب ایک انگریزی سکول میں جایا کرتا تھا، جبکہ صبح کے اوقات میں اپنے دادا کے مدرسے میں، جو کہ آج بھی موجود ہے، مذہبی تعلیم پاتا تھا۔ میں اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر اپنے امکان کی حد تک پورے یقین اور اخلاص کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔

۳۔ میں ایک ایسے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے بھی آپ سے مخاطب ہوں جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار بستے ہیں اور ان میں سے مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اللہ کے فضل سے آج میرا ملک ایک پرامن، مستحکم اور جمہوری ملک ہے اور ترقی کے راستے پرتیزی سے گامزن ہے۔ مسلمان، بدھ، مسیحی، ہندو اور دیگر تمام مذاہب کے پیروکار امن اور ہم آہنگی کے ماحول میں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے اور رواداری کی فضا میں رہ رہے ہیں۔ 

۴۔ میں اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی مخاطب ہوں، جو ۴ء۱ بلین آبادی رکھنے والے ۵۷ ممالک پر مشتمل ہے۔ ہماری تعداد مجموعی انسانی آبادی کے پانچ فیصد سے زائد ہے۔ او آئی سی کے چیئرمین کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کے جذبات، دکھ درد اور تمناؤں کی بھی ترجمانی کروں اور ان کا پیغام آپ تک پہنچانے کی کوشش کروں۔

خواتین وحضرات!

۵۔ عالم اسلام اپنے وجود میں آنے کے بعد پندرہ صدیوں سے متنوع چیلنجوں سے دوچار رہا ہے۔ یہودیت اور مسیحیت کی طرح، جن کے ساتھ اسلام کا ایک نسبی رشتہ ہے، اسلام بھی شدید مخالفت کے ماحول میں پیدا ہوا تھا۔ یہ مخالفت پر غلبہ پا کر دنیا کا ایک عظیم مذہب بن گیا، تاہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد ہی اس کو ہمیشہ کے لیے تشتت وافتراق کا شکار ہونا پڑا۔ مسلم حکومتوں نے جلد ہی بعض ایسی اعلیٰ اور ارفع اقدار کو طاق نسیاں پر رکھ دیا جن کا اسلام علمبردار ہے اور جن کی پابندی ابتدائی حکومتوں نے پورے خلوص کے ساتھ کی۔ جبر واستبداد پر مبنی حکمرانی مسلمانوں کے سیاسی منظر میں آہستہ آہستہ نمایاں ہونا شروع ہو گئی۔

۶۔ تاہم عرب مسلم دنیا نے ۸ ویں سے ۱۱ ویں صدی کے دوران میں تہذیب وثقافت اور علم کی بلندیوں کو چھوا۔ اس نے رومی یونانی تہذیب سے بہت کچھ سیکھ کر اس میں بہت اضافہ کیا، اور اس کو پوری طرح اپنی تہذیب کا حصہ بنا کر اسے یورپ کو منتقل کر دیا۔ عربی زبان شرق اوسط میں ابلاغ کے لیے ایک مشترکہ زبان قرار پائی۔ شرح تعلیم قرون وسطیٰ کے یورپ کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ ہر جگہ مدارس موجود تھے اور یونیورسٹیوں کی بہتات تھی۔ خود تنقیدی اور بحث وجستجو پر مبنی ثقافت نے جڑیں پکڑنا شروع کر دیں۔

۷۔ اگرچہ صلیبی جنگوں نے مسلم دنیا کو ایک عظیم بحران سے دوچار کر دیا، لیکن پھر بھی ایرانی، اندلسی، عثمانی اور مغل قیادت کے تحت اس میں عظیم الشان کامیابیاں حاصل کرنے کی صلاحیت برقرار رہی۔ ا س کے بعد مسلم اقوام یورپ کے نوآبادیاتی نظام کے شکنجے میں آ گئیں اور یہاں کے عوام اپنی خود مختاری اور آزادی سے محروم ہو گئے۔ ان کے وسائل کا استحصال کیا گیا اور انھیں لوٹا گیا۔ فلسطین عربوں سے چھین لیا گیا اور اس کے بہت سے باشندے گھر سے بے گھر ہو کر پناہ گزین بننے پر مجبور ہو گئے۔

۸۔ نوآبادیاتی غلامی سے چھٹکارا پانے کے بعد ہم میں سے بعض ممالک نے تو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کچھ ملکوں کے لیے تیل ایک نعمت بن گیا جس نے وہاں کے لوگوں کے لیے ایک ایسے معیار زندگی کے حصول کو ممکن بنا دیا جس کو وہ اس کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ کچھ ممالک نے اپنے ہاں عملیت پسندی پر مبنی سیاسی، معاشی، سماجی اور تعلیمی اصلاحات بھی کیں۔

۹۔ تاہم مسلم دنیا کے بعض حصوں میں نوآبادیاتی دور کے بعد حاصل ہونے والی کامیابیوں کے باوجود، مایوسی پیدا کرنے والے پہلو بھی بہت سے ہیں۔ مسلم دنیا کو درپیش مسائل کا بوجھ بہت عظیم ہے۔ کچھ مسلمان ملک تو شدید طور پر غربت، جہالت اور خوراک کی کمی کے شکار ہیں۔ کچھ جبر واستبداد اور بے انصافی کے حوالے سے نمایاں ہیں۔ عالمی سطح پر مسلمان ممالک ایک ایسی متحد آواز سے محروم ہیں جس پر سنجیدگی سے توجہ دی جاتی ہو۔

۱۰۔ ۵۷ مسلم ممالک میں سے ایک بہت تھوڑی تعداد، یعنی صرف پانچ کے بارے میں یو این ڈی پی نے قرار دیا ہے کہ وہاں اعلیٰ انسانی ترقی ہوئی ہے۔ ۲۴ ممالک متوسط رفتار سے ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ بقیہ ۲۸، جو کہ نصف تعداد ہے، سست رفتار ترقی کرنے والوں میں شمار کیے گئے ہیں۔ مسلم دنیا کے صرف پانچ ممالک میں فی کس مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) ۱۰ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ ۳۰ ممالک میں فی کس جی ڈی پی ۱۰۰۰ ڈالر سے کم ہے۔

۱۱۔ اسلام علم کی جستجو پر زور دیتا ہے۔ قرآن کا آغاز ’اقرا‘ (پڑھو) کے حکم سے ہوا، تاہم علم کا حصول ہی وہ میدان ہے جس میں مسلم دنیا کی اکثریت پس ماندہ رہ گئی ہے۔ بیشتر ملکوں میں تعلیمی معیار پست اور ناخواندگی کی شرح بلند ہے جس کا سبب غربت، بد انتظامی، اور وسائل کی نامناسب تخصیص کے علاوہ جنگ اور تصادم ہیں۔ بعض ملکوں میں نصف سے بھی زیادہ بالغ آبادی ناخواندہ ہے۔

۱۲۔ کرپشن مسلم دنیا کا ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے تیارہ کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے مطابق ہماری کارکردگی بے حد پست ہے۔ ۲۰۰۳ میں جن ۱۳۳ ممالک کا سروے کیا گیا، اس کے مطابق کرپشن کے حوالے سے سب سے بہتر ریکارڈ رکھنے والا مسلمان ملک بھی ۲۶ ویں نمبر پر آ سکا ہے۔ چار مسلمان ملکوں کو آخری دس نمبروں میں جگہ ملی ہے۔

خواتین وحضرات!

۱۳۔ میں نے آپ کے سامنے مسلم دنیا کی خستہ حالی کی تصویر پیش کی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس تلخ حقیقت کو موجودہ عالمی نظام مزید پیچیدہ بنا رہا اور ہمارے مصائب کی سنگینی میں اضافہ کر رہا ہے۔ میں خود تنقیدی کے عمل کا بھی خواہاں ہوں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں انسانی عظمت، قدرتی انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی اس شرم ناک پامالی کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا جس کے اثرات مسلم دنیا پر براہ راست پڑے ہیں۔ جی ہاں، ہمیں خود کو بھی مورد الزام ٹھہرانا چاہیے، لیکن اس سے وہ پالیساں بے قصور قرار نہیں پاتیں جو پوری دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کو مسلسل جبر، تباہی اور الزام تراشی کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

۱۴۔ جبر کی مثالیں تو بہت سی ہیں، لیکن سب سے واضح مثال، جو ہر مسلمان کی گفتگو کا موضوع ہے، فلسطین کی ہے۔ فلسطینیوں سے ان کی سرزمین اعلان بالفر کے ذریعے سے چھین لی گئی جس کے بارے میں بالکل درست طور پر یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ ’’ایک قوم نے دوسری قوم سے وعدہ کیا کہ وہ اسے ایک تیسری قوم کی زمین لے کر دے گی۔‘‘

۱۵۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعدد قراردادوں سے واضح ہے، دنیا کی اکثریت پر یہ بات واضح ہے کہ فلسطینی ہماری امداد اور تعاون کے حق دار ہیں اور اسرائیل کو اس بات پر مجبور کرنا چاہیے کہ وہ اپنی فوجوں کو ۱۹۶۷ء کی سرحدوں سے پیچھے لے جائے۔ لیکن اس کے برعکس، ہر مسئلے اور ہر استدلال کو بگاڑ کر اسرائیل کے حق میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ قابض کی مدد کی جا رہی اور اسے اسلحہ دیا جا رہا ہے جبکہ فلسطینی اپنی حفاظت کے لیے بھی ہتھیار رکھنے کے حق سے محروم ہیں۔ فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیل کے دہشت گردانہ اقدامات کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ان کو دفاعی اقدامات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی سہولت کی خاطر ایک حربہ یہ بھی استعمال کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کی تعریف کو قصداً صرف ان کارروائیوں تک محدود رکھا گیا ہے جو نیم حکومتی یا غیر حکومتی گروپ کریں، جبکہ ریاستی کارروائیوں کو اس سے خارج رکھا گیا ہے۔

۱۶۔ مسلم دنیا کے خلاف شدید تعصب کا رویہ صرف فلسطینی مسئلے تک محدود نہیں ہے۔ دنیا کبھی نہیں بھولے گی کہ عراق پر کیا جانے والا حملہ غیر قانونی تھا۔ حملے سے قبل دنیا کو بتایا گیا کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی صورت میں درپیش خطرے کی وجہ سے حملہ ضروری ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک بے بنیاد دلیل تھی۔ (غلطی تسلیم کرنے کے بجائے) آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے نے دنیا کو پہلے سے زیادہ محفوظ بنا دیا ہے کیونکہ صدام کا تختہ الٹ کر اسے گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اگر خدا کے چاہنے سے کبھی قابل اعتماد جمہوریت، رواں معیشت اور امن وامان قائم ہو گئے تو ممکن ہے عراق کے لوگ صدام سے چھٹکارا دلانے کو قابل تحسین قرار دیں، لیکن یہ مقصد، اچھا ہونے کے باوجود، اس ضمن میں اختیار کیے جانے والے ناجائز ذرائع ووسائل کو سند جواز نہیں بخش سکتا۔

۱۷۔ ایک ملک کو یک طرفہ طور پر کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا کیا حق ہے؟ ٹھیک ہے، صدام ایک ظالم اور جابر حکمران تھا لیکن حفظ ماتقدم کے طور پر حملہ کرنے کے فلسفے اور غلبہ حاصل کرنے کے نظریے کے تحت خوف کی جو فضا پیدا کی گئی ہے، وہ بھی اتنی ہی جابرانہ ہے۔ یہ بات نہایت باعث تشویش ہے کیونکہ متعین لائحہ ہائے عمل کی تعیین کے لیے کوئی معروضی معیار موجود نہیں۔ ا س کے بجائے جو کچھ ہمیں نظر آرہا ہے، وہ عالمی سطح پر ایک مخصوص طبقے کے خلاف ایذا رسانی کا رویہ ہے جس کی تکلیف مسلمان ممالک سہہ رہے ہیں۔

۱۸۔ آج ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، کیونکہ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یورینیم کی افزودگی کا عمل کر رہا ہے، لیکن عالمی برادری کی زبان پر ان ۲۰۰ ایٹمی ہتھیاروں کا ذکر تک نہیں آتا جن کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہ مانا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ڈیمونا کمپلیکس (Dimona Complex)میں موجود ہیں۔ وہاں کسی تفتیش کے لیے زور نہیں دیا جاتا، نہ پابندیوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور اسرائیل پر حملے کا مشورہ دینے کا تو خیر سوال ہی کیا۔

۱۹۔ غیر ذمہ دارانہ اور کھوکھلے دعووں کے ذریعے سے اسلام کو ایک جنگجو مذہب اور مسلمانوں کو علی الاطلاق جنونی دہشت گردوں کے طور پر پیش کرنے کا سلسلہ بھی رکنا چاہیے۔ مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد منفی تصور کا رائج ہونا گیارہ ستمبر کے بعد کی کوئی نئی اور منفرد صورت حال نہیں ہے۔ آج اسلام کو منفی انداز میں پیش کرنے کا رجحان ان مغربی تعصبات کی یاد دلاتا ہے جن کے علمبردار سترہویں اور اٹھارویں صدی میں والٹیئر اور فرانسس بیکن رہے ہیں۔ آج مغرب میں اسلام کے بارے میں رائج تصور انیسویں صدی کے اواخر میں ارنسٹ رینان کے اس تبصرے سے مختلف نہیں ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ’’یورپ کی مکمل نفی، سائنس کے ساتھ کامل نفرت اور مہذب معاشرے پر جبر پر مبنی ہے۔‘‘

۲۰۔ جب تک یہ کھلے یا ڈھکے چھپے شکوک وشبہات موجود ہیں، کوئی بامعنی مکالمہ نہیں ہو سکتا۔ بعض مغربی قائدین نے قابل تحسین طور پر بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی جنگ اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن یہ بات اس لیے ناکافی ہے کہ (مغرب میں) عوامی جذبات کو تحریک دینے کا کام ایک ہیجان پسند مغربی میڈیا کر رہا ہے جو کم وبیش مکمل طور پر انتہا پسندانہ بحث ومباحثہ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اسلام کو ایک ایسا مذہب فرض کر کے جو اپنی ساخت اور رنگ ڈھنگ کے لحاظ سے کلی طور پر یکساں (Monolithic) ہے، اس کے ساتھ معاملہ کیا جا رہا ہے اور خود مسلم دنیا کے اندر جاری بحث ومباحثہ کی لطیف دلالتوں (Nuances) کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے مابین آرا کا جو تنوع پایا جاتا ہے، اس کا ذکر بھی سننے میں نہیں آتا اور مسلم معاشروں میں جاری بہت سے ترقی پسندانہ تجربات کی اطلاع بھی (مغربی عوام کو) بہم نہیں پہنچائی جا رہی۔

خواتین وحضرات!

۲۱۔ میں نے مسلم ممالک کی نہایت بنیادی ناکامیوں اور اس عالمی تناظر کا تجزیہ کرنے پر خاصا وقت صرف کیا ہے جس میں اس وقت مسلمان ممالک گھرے ہوئے ہیں۔ اب میں ان مثبت تبدیلیوں کی طرف آنا چاہوں گا جن کے لیے تگ ودو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالم اسلام بھی ان مصائب سے چھٹکارا حاصل کر سکے جو ہمیں درپیش ہیں اور مغرب بھی ہمارے ساتھ بالادستی کے بجائے مخلصانہ رویے پر مبنی مکالمے کا آغاز کرنے پر آمادہ ہو سکے۔

۲۲۔ داخلی لحاظ سے دیکھیے تو مسلم دنیا کی سب سے پہلی ترجیح اچھا طرز حکمرانی (Good governance) ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ہمارے عوام کے لیے پائیدار امن، استحکام اور خوش حالی حاصل کرنے کا سب سے یقینی ذریعہ ہے۔ اس ضمن میں ہمیں مختلف نظریات اور دنیا بھر میں کیے جانے والے تجربات سے بھی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، لیکن مسلم دنیا کو خود اسلام اور اس کی اپنی بہترین ہدایات سے بھی عظیم رہنمائی مل سکتی ہے۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات کے اندر موجود حکمت ودانش کو دریافت کر سکیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ یہ زمانہ ماضی کی کوئی قدیم اور ناقابل عمل یادگار نہیں، بلکہ جدید ضروریات کے حوالے سے بھی مکمل طورپر قابل عمل ہے۔ 

۲۳۔ اچھے طرز حکمرانی کے بارے میں اسلام کا حکم قرآن مجید میں صریح طور پر مذکور ہے۔ کسی بھی مسلم ملک کی قیادت سنبھالنے والے مسلمان حکمران کو سورۃ النساء کی آیت ۵۸ کی یہ ہدایت یاد دلائی جانی چاہیے کہ ’’اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے مابین فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘

۲۴۔ اچھی اور عوام کے سامنے جواب دہ طرز حکومت کی توضیح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک قانون دہندہ، منتظم، قاضی اور عسکری کمانڈر کی حیثیت سے اپنے طرز عمل سے کی۔ عہد صحابہ کی صدق اور راستی کی نمائندہ مثالیں بھی بہت سبق آموز ہیں، مثلاً خلیفہ اول کی حیثیت سے حضرت ابوبکر کی افتتاحی تقریر جس میں آپ نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ اگر وہ اپنے فیصلوں میں غلطی کریں تو لوگ ان کی اصلاح کر دیں۔

۲۵۔ صدیوں کے عمل میں تشکیل پانے والے شرعی قوانین بھی ایک ایسی حکومت کے لیے جو اسلامی اصولوں اور اقدار کی علمبردار ہو، باکردار قیادت کو ایک لازمی شرط قرار دیتے ہیں۔ امانت اور اخلاقی ساکھ، انصاف کا جذبہ اور احساس عدل، لوگوں اور بالخصوص غریبوں سے محبت، ان کے دکھ درد کو جاننے کی خواہش، اور اہل علم ودانش کے مشوروں سے استفادہ، یہ اس اچھی حکومت اور قیادت کی خصوصیات ہیں جن کی وضاحت الفارابی، الماوردی، الغزالی اور ابن خلدون جیسے معروف مسلم مفکرین نے کی ہے۔

۲۶۔ اسلام کے اچھے طرز حکمرانی کے تصور میں انصاف خاص طور پر نمایاں ہے، کیونکہ اچھی حکومت کے لیے عدل اتنی بنیادی حیثیت رکھتا ہے ہے کہ قانون کی نظر میں برابری اور قانون کی حکومت جیسے تصورات کو ابتدائی دور کی اسلامی فقہ میں بے حد اہمیت دی گئی۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جدید قانون سے بہت پہلے، اسلامی قانون (مقدمات کے تصفیے کے لیے) مناسب دورانیے کی مرکزیت کو تسلیم کر چکا تھا۔

۲۷۔ قانون کی حکومت اور مناسب دورانیے میں مقدمات کے تصفیے کا تعلق ایک دوسرے بنیادی اسلامی اصول یعنی عدلیہ کی خود مختاری کے ساتھ ہے۔ یہ بے حد اہم بات ہے کہ چودہ سو سال قبل خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب نے یہ اعلان کیا کہ قاضیوں کو ہر قسم کے انتظامی دباؤ یا اثرات، خوف یا رعایت، سازش یا بدعنوانی سے بالاتر ہونا چاہیے۔ فی الحقیقت مسلم تاریخ میں متعدد قاضیوں نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنے منصب کی آزادی کا تحفظ کیا ہے۔

۲۸۔ عدلیہ کی خود مختاری کے ساتھ ساتھ عوامی احتساب کا تصور بھی اسلام کا ایک ناقابل تغیر اصول ہے جس کو بہت سے معاصر مفکرین اخلاقیات پر مبنی حکومت کا بنیادی پتھر قرار دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی میں خلیفہ دوم عمر بن الخطاب نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ (حکومتی مناصب پر فائز افراد کے) شخصی کردار کا ہر وہ پہلو جو عوام کی فلاح وبہبود پر اثر انداز ہوتا ہو، عوامی تفتیش کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ کا بیت المال میں موجود ذرا سی دوا کو اپنے علاج کے لیے استعمال کرنے سے پہلے لوگوں سے اجازت طلب کرنا اسی کی ایک درخشندہ مثال ہے۔

۲۹۔ قانون احتساب پر عمل درآمد کی مانند لوگوں کی آرا کا احترام بھی اسلام میں یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ خلفاے راشدین نے اپنے خیالات سے ٹکرانے والی آرا کو اہمیت دی اور انھیں قبول کیا۔ ایک فرمان نبوی میں امت کے اندر اختلاف رائے کی تحسین کرتے ہوئے اسے اللہ کی رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلامی تاریخ کے مختلف مرحلوں میں مذہب اور سیاسی امور سے متعلق علما اور عوام کے مختلف طبقات کے اندر صحت مند مباحثے کیونکر ممکن ہوئے۔

۳۰۔ ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آج ہمیں اسلامی فکر کی تجدید اور اصلاح کا کام کرنا ہوگا۔ میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ مسلم دنیا میں بحث ومباحثہ کا ماحول پیدا کر کے ہم نہ صرف اپنی علم ودانش کی روایت میں اضافہ کریں گے بلکہ ان انتہا پسندانہ نظریات کو بھی براہ راست چیلنج کر سکیں گے جو گزشتہ چند سالوں سے اسلام کا نمائندہ سمجھا جا رہا ہے۔ مسلم سیاسی رہنما، اہل علم اور دانش وروں کو اعتدال اور فہم ودانش کی باتوں کو دبانے کے بجاے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ان آوازوں کو آپ جدت پسند اسلام، ترقی پسند اسلام یا لبرل اسلام میں سے کوئی بھی نام دے لیں، مجھے یقین ہے کہ یہ اسلامی فکر کی تجدید میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

۳۱۔ روایتی فکر اور آرا کی اندھی تقلید کر کے اسلام کو زمانہ قدیم کی ایک چیز نہیں بنا دینا چاہیے۔ بے لچک ابہام پرستی، سخت لفظ پرستی پر مبنی عقائد اور ماضی کے مثالی نمونوں کی بازیابی کے تصورات اسلام کو ہر زمانے اور ہر دور کا مذہب ماننے میں، جو کہ اللہ کی منشا اور مقصد ہے، مانع ہیں۔ ہمیں اصلاح اور تجدید کے امکانات کے حوالے سے اپنے ذہن کو کھلا رکھنا چاہیے۔

۳۲۔ اس ضمن میں، میں اس بات پر بار بار زور دے چکا ہوں کہ آج کے زمانے میں کسی عالم یا قانون دان کے اجتہاد کو، جس کا مطلب شریعت کے مآخذ سے کوئی ایسی رائے اخذ کرنا ہے جو ازخود واضح نہیں، آج کے حالات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ مسلم معاشروں کو جو مسائل آج درپیش ہیں، وہ چھٹی صدی میں موجود نہیں تھے۔ سیاسی ادارے، معاشی نظام اور سماجی ڈھانچے ان سے بالکل مختلف ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم، خلفاے راشدین اور اسلام کے عظیم ائمہ اور فقہا کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ آج لوگ قبائلی اتحادوں کے بجائے قومی ریاستوں کی شکل میں رہتے ہیں۔ عالمی معاشی نظام کی گہرائی اور گیرائی میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے اور اس میں باہم ربط بھی پیدا ہو چکا ہے۔ سائنس انسانی کامیابیوں کے دائرے کو مسلسل وسعت بخش رہی ہے۔ اسلامی فکر کو ان تمام تبدیلیوں سے اجنبی اور غیر متعلق نہیں رہنا چاہیے۔

۳۳۔ معاصر مسلم مفکر یوسف القرضاوی نے اسلامی فکر میں تجدید کی ضرورت کا شدید احساس کیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جدید اسلامی تحریکیں خود اپنی ہی صفوں میں میں آزادی فکر کی مخالفت کریں گی اور تجدید کے دروازے کو بند کر کے اپنے آپ کو صرف ایک طرز فکر کا اسیر بنا لیں گی جس میں کسی دوسرے نقطہ نظر کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔

۳۴۔ اجتہاد کو معاصر مسائل سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ مقاصد شریعت کے فہم پر بھی ازسر نو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی قانونی یا علمی فکر اپنے آپ کو محض الٰہی متن کی لفظی پیروی تک محدود نہیں رکھ سکتی۔ شریعت کو محض بے لچک قوانین کا ایک مجموعہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک نظام اقدار بھی ہے جس میں مخصوص قوانین اور ضابطے ان بالاتر اقدار کے صوری مظاہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

۳۵۔ مقاصد شریعت کا علم بے حد اہم ہے لیکن اسلامی تاریخ میں اکثر اسے نظر انداز کیا گیا۔ حجۃ الاسلام امام غزالی اور شاطبی جیسے مفکرین نے اس علم کی تشکیل اسی طرح کی الجھنوں اور مشکلات کے پیش نظر کی تھی جن سے آج ہم دوچار ہیں، یعنی یہ کہ مسلم فکر کو اپنے دین کے وسیع تر مقاصد کے ساتھ وابستگی اختیار کرنی چاہیے اور بالکل اس کے مانعانہ پہلووں یا بالکل جامد لفظی تعبیرات پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔

۳۶۔ امام غزالی نے شریعت کے جو پانچ مقاصد متعین طور پر بیان کیے ہیں، یعنی زندگی، عقل، عقیدہ، مال اور آبرو کی حفاظت، وہ آج بھی بامعنی ہیں۔ اس کے بعد بعض دیگر مفکرین نے انصاف، انسانی عظمت حتیٰ کہ معاشی ترقی کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ مقاصد کا علم مسلمانوں کو دین کے ایک نسبتاً بنیادی تصور پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کے ذریعے سے ہمیں حدود سے متجاوز لفظ پرستی اور قانونی موشگافیوں سے نجات مل سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ صرف اسی طریقے سے ہم اپنے دین کی روشنی میں جدید مشکلات کا جواب دے سکتے ہیں۔

۳۷۔ مقاصد شریعت کو سمجھنے اور جدید دور میں اجتہاد کے لیے انھیں ایک بنیاد کے طور پر تسلیم کرنے سے ہم عقلی اور فکری جستجو کی روایت کا چراغ بھی روشن کر سکیں گے جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں ایک علمی کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔ مصر کے عظیم مصلح محمد عبدہ نے انیسویں صدی کے آخر میں بالکل بجا طور پر فرمایا کہ ’’قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم کائنات کے مظاہر اور جہاں تک ممکن ہو، اس کے اجزا کے حوالے سے عقلی استنباط اور علم وفکر پر مبنی تحقیق کا رویہ اپنائیں تاکہ ان چیزوں کے بارے میں یقین کی منزل تک پہنچ سکیں جن کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن ہمیں غلامانہ ذہنیت اختیار کرنے سے منع کرتا اور ہمیں انگیخت کرنے کے لیے ان لوگوں کی مثال بطور عبرت پیش کرتا ہے جنھوں نے مکمل اطمینان کے ساتھ اور (علم وعقل سے) بالکل بے نیاز ہو کر اپنے آبا واجداد کی اندھی پیروی کی اور نتیجے کے طور پر اپنے عقائد کو مکمل زوال سے دوچار کرنے کے بعد ایک انسانی گروہ کی حیثیت سے بالکل نابود ہو گئے۔‘‘

۳۸۔ مفتی محمد عبدہ کی اس بات کی بنیاد بآسانی قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت ۱۹۰ میں بتائی جا سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ’’سنو! زمین وآسمان کی تخلیق میں اور دن اور رات کے آنے جانے میں اہل عقل کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔‘‘

۳۹۔ جن ’اولو الالباب‘ کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے، ان سے مراد علم وعقل، سائنس، فلسفہ اور ٹیکنالوجی کے حصول میں مصروف لوگ ہیں۔ میرے نزدیک یہ آیت مسلمانوں کو قطعی طور پر یہ حکم دیتی ہے کہ وہ اپنے ذہنوں کو آزاد کریں اور سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل کریں تاکہ آج کے دور سے بالکل لاتعلق ہوکر نہ رہ ہو جائیں۔

خواتین وحضرات!

۴۰۔ جہاں تک ملایشیا کا تعلق ہے، مجھے یقین ہے کہ ہم نے اعتدال کی درمیانی راہ پر چلنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے قرآن مجید کی سورۂ بقرہ کی آیت ۱۴۳ کے اس حکم پر سختی سے عمل کیا ہے جو کہتی ہے کہ ’’اس طرح ہم نے تمھیں ایک معتدل امت بنایا ہے۔‘‘ یہ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے یاددہانی ہے کہ وہ اعتدال پر قائم رہیں اور انتہا پسندی سے گریز کریں۔

۴۱۔ یہ بات تسلیم کہ رسوم کی بڑی اہمیت ہے اور قرآن کا لکھا ہوا متن بے حد مقدس ہے، لیکن ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ بطور مسلمان ہمیں اپنے دین کی روح اور اس کے اعلیٰ ترین مقاصد کو بھی لازماً سمجھنا چاہیے۔ ہمار یہ بھی اعتقاد ہے کہ محض رسوم پر عمل کرنے سے ہم سچے مسلمان نہیں قرار پا سکتے۔ ہمارے ذمے اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی کامیابی حاصل کرنا لازم ہے، اس لیے ہمیں اس دنیا میں ترقی کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

۴۲۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہم نے اسلامی تحریکات کو تیزی سے بڑھتا ہوا دیکھا ہے۔ ان میں سے بہت سے گروہ سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کر چکے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں کے قانونی وسیاسی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ کچھ نے اپنے آپ کو سیاست سے الگ تھلگ رکھا ہے اور اس کے بجائے اپنی توجہ سماجی اور دعوتی کاموں پر مرکوز کر رکھی ہے۔ بد قسمتی میں سے ان میں سے کچھ نے تشدد کی راہ بھی اپنا لی ہے۔

۴۳۔ اپنے ملکوں کے سیاسی فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرنے والوں کو اب ’’سیاسی اسلام‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ سیاست میں حصہ تو لیتے ہیں تاہم ان کے پیش نظر ایک ایسا مقصد ہے جو اس نظام سے بہت مختلف بھی ہو سکتا ہے جس کے اندر وہ مصروف عمل ہیں۔

۴۴۔ میرے ملک میں اپوزیشن پان ملائشیا اسلامک پارٹی نے مذہب کو اس حد تک سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے کہ وہ اسلام کی اجارہ داری کی دعویدار ہے۔ وہ دیہاتوں کے باسیوں کو یہ کہہ کر اپنے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کرتے ہیں کہ اگر وہ ان کی جماعت کو ووٹ دیں گے تو انھیں جنت کا ملنا یقینی ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ انھوں نے میری جماعت کے ارکان اور حامیوں کو کافر قرار دیا۔

۴۵۔ ۱۹۹۹ کے عام انتخابات میں اسلامک پارٹی نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ا س کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں اس کی نمائندگی تین گنا ہو گئی اور تیل سے مالا مال ایک صوبے پر اسے کنٹرول حاصل ہو گیا۔ ایک مضبوط اسلام پسند اپوزیشن کو دیکھ کر میری رواداری کو فروغ دینے والی اور ترقی پسند جماعت کے کچھ لوگوں نے سوچا کہ ہمیں اپوزیشن سے بھی بڑھ کر اسلام پسند بننا پڑے گا۔ بلاشبہ یہ ایک خطرناک مزلہ اقدام (Slippery slope) تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ملائشیا کے لوگوں کے سیاسی انتخاب کے فیصلے پر مذہب پسندی کا عامل کسی حد تک ضرور اثر انداز ہوتا ہے لیکن ووٹروں کے لیے زیادہ اہمیت اچھے طرز حکومت اور وسیع بنیاد پر معاشی ترقی کو حاصل تھی۔

۴۶۔ جب گزشتہ اکتوبر میں، میں نے حکومت سنبھالی تو میں نے ان شکایات کے ازالے کے لیے جن کی وجہ سے ہم ۱۹۹۹ میں عوامی حمایت سے محروم ہو گئے تھے، عاجزانہ طور پر اصلاحات کا آغاز کیا۔ میں نے کرپشن کے خلاف سخت ایکشن لیا، پولیس فورم کے لیے ایک وسیع اصلاحی پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا، اور حکومتی اداروں، مثلاً عدلیہ کے قابل اعتماد اور خود مختار ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ میں نے بجٹ کو متوازن بنانے کا آغاز کیا اور حکومتی اخراجات کا رخ ضرورت مندوں کے لیے معاشرتی اور معاشی پروگراموں کی طرف موڑا۔ میں نے زرعی شعبے کی ترقی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دیہاتی علاقے جن کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے، پس ماندہ نہ رہ جائیں۔

۴۷۔ اللہ کے فضل سے ووٹروں نے مثبت جواب دیا۔ میری جماعت آزادی کے بعد سب سے بڑی کامیابی حاصل کر کے حکومت میں واپس آئی اور ہم وہ صوبہ بھی واپس لینے میں کامیاب ہو گئے جو ۱۹۹۹ میں ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ اس طرح ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم اسلام پسندی کے دعوے داروں کو محض یہ دعویٰ کر کے شکست نہیں دے سکتے کہ ’’ہم تم سے زیادہ دین دار ہیں‘‘، بلکہ اس کے لیے لوگوں کے غم وغصے اور جھنجھلاہٹ کی بنیادی وجوہ کو دور کرنا ہوگا۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ جن مسائل کو ہم نے اپنی توجہ کا موضوع بنایا، دوسرے مسلمان ممالک کے مسائل بھی ان سے ملتے جلتے ہیں اور ان مسائل کو حل کر کے ایک جمہوری مقابلے کے ذریعے سے اسلام کے دعوے داروں کو شکست دی جا سکتی ہے۔

۴۸۔ تاہم اس سارے معاملے کا ایک پہلو اسلام سے متعلق بھی تھا۔ اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج مسلمانوں کے لیے اسلام پر عمل کرنا پہلے سے بڑھ کر لازمی فریضہ بن چکا ہے۔ مسلمان اللہ کے نام پر اور مذہب کی خاطر عمل کرنے کو لازم اور فرض سمجھتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ عظیم فریضے کی عملی ادائیگی کا ظہور بعض ایسے افعال کی صورت میں ہو رہا ہے جن کی اسلام نفی اور مذمت کرتا ہے۔ بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اور بے ضرر عوام پر بموں سے حملے کرنا ایسے اقدامات ہیں جو گمراہانہ طور پر مذہب کی آڑ لے کر کیے جا رہے ہیں۔

۴۹۔ تاہم اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مذہب کی حکمرانی کس قدر طاقت ور ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دین پر عمل کے اس جذبے کو ہم ملائشیا میں نیکی، ترقی اور بہتری کے کاموں کی طرف موڑ لیں گے۔ اس اپروچ کو ہم تہذیبی اسلام یا ترقی پسند اسلامی تہذیب کا نام دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی اپروچ ہے جو شکل وصورت کو نہیں بلکہ روح اور حقیقت کو اہمیت دیتی ہے۔ یہ اپروچ مسلمانوں کو یہ بات سمجھانا چاہتی ہے کہ اسلام ترقی کو فرض قرار دیتا ہے۔ یہ اپروچ جدیدیت سے ہم آہنگ ہے، تاہم اس کی مضبوط بنیاد اسلام کی اعلیٰ اقدار اور ہدایات میں ہے۔ اس کے مطابق دس بنیادی اصول ایسے ہیں جن پر مسلم ممالک کو نمایاں طریقے سے عمل پیرا ہونا چاہیے:

۱۔ اللہ پر ایمان اور اس کا تقویٰ

۲۔ منصفانہ اور قابل اعتماد حکومت

۳۔ آزاد اور خود مختار پولیس

۴۔ علم پر مہارت کے لیے پرجوش تگ ودو

۵۔ متوازن اور جامع معاشی ترقی

۶۔ لوگوں کے لیے بہتر معیار زندگی

۷۔ اقلیتی گروہوں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

۸۔ ثقافتی اور اخلاقی دیانت داری

۹۔ قدرتی وسائل اور ماحول کا تحفظ

۱۰۔ مضبوط دفاعی صلاحیت۔

۵۰۔ ان رہنما اصولوں، نظام حکومت کی بہتری کے لیے ہمارے مسلسل ریکارڈ اور عوام کے سامنے جواب دہی کے تصور سے اعلیٰ وابستگی کے ساتھ، ملایشیا مسلم دنیا میں تجدید، اصلاح اور غالباً نشاۃ ثانیہ کے لیے ایک حقیر سا عملی نمونہ پیش کر سکتا ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ملایشیا کے پاس مسلم دنیا کو درپیش متنوع مشکلات میں سے ہر ایک کا جواب موجود ہے۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ مختلف ممالک کو اپنے مسائل کے لیے الگ الگ حل درکار ہیں، تاہم مجھے یقین ہے کہ ملائشیا ایک کامیاب اور جدید مسلمان ریاست کا اچھا عملی نمونہ ثابت ہو سکتا ہے۔

خواتین وحضرات!

۵۱۔ ملایشیا، عالم اسلام کی تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر او آئی سی کی صدارت کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ او آئی سی میں ان مسلم ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے جنھیں مسلم دنیا کی ناکامیوں اور خامیوں کا اعتراف کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان میں سے کچھ تو ان اصلاحات کو اپنا بھی رہے ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ اچھے طرز حکمرانی اور فکری لحاظ سے زیادہ آزاد اور پرجوش امہ کی تشکیل کے سلسلے میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ تاہم عالم اسلام میں کی جانے والی ان کوششوں کی بارآوری کو (مغرب کے رویے سے) الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ مسلم دنیا میں اصلاح کے اقدامات کے ساتھ ساتھ بڑی مغربی طاقتوں کی خارجہ پالیسیوں میں بھی دکھائی دینے والی اور با معنی تبدیلیاں سامنے آنی چاہییں۔

۵۲۔ اگر ان ممالک کی پالیسیاں حسب سابق من مانی اور مغرب کے ’’خیر‘‘ کے مقابلے میں باقی دنیا کو ’’شر‘‘ سمجھنے کی ڈگر پر قائم رہیں گی، جن میں مسلم دنیا کے چند انتہا پسندوں کے متشددانہ موقف کا عکس نظر آتا ہے، تو پھر ہم میں سے اصلاح، تجدید اور ترقی کے خواہاں ناکام رہ جائیں گے۔ اگر مغرب کی اس عمومی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو اس سے مسلم دنیا میں بھی رویے سخت تر ہو جائیں گے۔ جو لوگ درمیان میں ایک اعتدال پسندانہ موقف اختیار کرنا چاہتے ہیں، انھیں معذرت خواہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر غدار قرار دیاجائے گا۔ دونوں جانبوں کے انتہا پسند عناصر ہماری تہذیبوں کو مزید دور کر دیں گے اور دونوں کے درمیان نقطہ اتصال کبھی پیدا نہیں ہو سکے گا۔

۵۳۔ مسلم دنیا کو مغرب کی جانب سے محض اس زبانی یقین دہانی کی ضرورت نہیں ہے کہ مغرب کی جنگ اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مطلوبہ اقدامات کرنے میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ سب سے پہلے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دہشت گردی کی بنیادی وجوہ، مثلاً مسئلہ فلسطین کو تسلیم کر کے ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ مغرب کو اس طاقت ور جذباتی کشش کا احساس کرنا ہوگا جو فلسطین اپنے اندر مسلمانوں کے لیے رکھتا ہے۔ دوسرے نمبر پر اس بدحالی پر توجہ دینا ہوگی جس سے آج دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت دوچار ہے۔ مغرب کی طرف سے عملی اقدام تو درکنار، اس بات کی حقیقی خواہش کا بھی کبھی اظہار نہیں ہوا کہ وہ مسلم دنیا میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور صلاحیتوں کی تعمیر وتربیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تیسرے نمبر پر، جیسا کہ میں نے اسی ہفتے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ذکر کیا ہے، اقوام متحدہ میں بھی تنوع اور اصلاح کے عمل کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ یہ اپنے رکن ممالک کی اکثریت کے نقطہ نظر کی صحیح طور پر نمائندگی کر سکے۔

۵۴۔ تاہم ان امور پر توجہ دینے سے قبل مغرب کو مسلم دنیا کے بارے میں بعض حقائق لو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں نے ایک مرتبہ اقوام متحدہ کے ایک سینئر افسر سے اس سلسلے میں گفتگو کی کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس افسر نے مجھ سے کہا کہ یہ کوئی زیادہ اہم بات نہیں، کیونکہ گیارہ ستمبر کے ہائی جیکرز زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بالائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ نہ تو غریب تھے اور نہ ان کا تعلق فلسطین سے تھا، اس لیے جہالت وغربت یا فلسطینی ہونے میں سے کوئی بھی عامل ان کے لیے دہشت گردی کا محرک نہیں بنا۔

۵۵۔ مغرب کو مسلم دنیا کے بارے میں جو بات سمجھ لینی چاہیے، وہ یہ ہے کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے مابین وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے اختلافات کے باوجود مسلمان اپنے آپ کو ایک اجتماعی امت تصور کرتے ہیں۔ مغرب کے انفرادیت پسندی کے فلسفے کے برعکس، مسلمان اہل ایمان کا ایک گروہ ہونے کے ناتے باہمی اخوت کا ایک مضبوط تصور رکھتے ہیں ، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے احساسات میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمان بھی جو نہ تو غریب ہیں اور نہ ان کا فلسطین سے کوئی تعلق ہے، اس مسئلے کے بارے میں شدید جذبات رکھتے ہیں۔ چنانچہ بنیادی اسباب پر توجہ دیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی۔

۵۶۔ او آئی سی کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے ملایشیا اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ساتھ دیتا رہے گا جیسا کہ ہم گیارہ ستمبر کے بعد سے دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں کی جانب سے کیے جانے والے دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کریں گے۔ ہم ان لوگوں کا مقابلہ کریں گے جو اسلام کی خاطر لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں مسلمان کہلانے کے بھی حقدار نہیں ہیں۔ ہم مسلم دنیا میں اصلاحات کی حوصلہ افزائی کریں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملایشیا اپنے وسائل اور اپنی پرخلوص جدوجہد کو اس مقصد کے لیے بھی بھرپور طریقے سے بروے کار لاتا رہے گا کہ آج دنیا جس ڈگر پر چل رہی ہے، اس میں خاطر خواہ تبدیلی آئے۔ تاہم اہم تر بات یہ ہے کہ مغرب میں (آگے بڑھ کر) ہمارے ساتھ درمیان کی جگہ پر ملنے کی خواہش موجود ہو اور وہ اس بات کا ثبوت دے کہ اس کی پالیسیاں بھی ہماری طرف سے کی جانے والی اصلاحات کے پہلو بہ پہلو بدل سکتی ہیں۔

خواتین وحضرات!

۵۷۔ میں نے مشکلات کا بھی ذکر کیا ہے اور اس راہ کی بھی نشان دہی کی ہے جس پر میرے خیال میں مسلم دنیا اور مغرب، دونوں کو چلنا چاہیے۔ بالعموم وزراے اعظم کی تقریریں یہیں ختم ہو جاتی ہیں، تاہم آج میں کچھ مزید کہنا چاہوں گا۔ میں اپنے ملک کی طرف سے اس عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ایک خاص عزم ظاہر کرنا چاہتا ہوں ، اس لیے میں آپ کا تھوڑا سا وقت مزید لوں گا۔

۵۸۔ او آئی سی کی سربراہی کی باقی ماندہ مدت کے لیے میں اپنی حکومت کی طرف سے تین بنیادی حوالوں سے اپنے عزم کا اظہار کرنا چاہوں گا۔ پہلا یہ کہ ملائشیا کو تنازعات کے تصفیے (Conflict resolution) کے لیے ایک مرکز بنا دیا جائے۔ مسلم دنیا میں اس حوالے سے باقاعدہ طور پر کوئی مناسب کام نہیں ہو رہا۔ اگرچہ میں تہذیبوں کے مابین مکالمے کے لیے جاری کوششوں کاحامی ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ اگر مخاصمت کے دائروں میں حصول امن کی کوششوں اور اعتماد افزا اقدامات کے ساتھ دو تہذیبوں کے مابین اور کسی ایک تہذیب کے اندر مشترک طور پر پائے جانے والے تصورات اور اصولوں کا تعاون بھی شامل حال ہو جائے تو یہ عمل زیادہ با معنی ہو جائے گا۔

۵۹۔ یہ کوشش صرف مسلم دنیا کے مخاصمتی دائروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ترقی پذیر دنیا کے دوسرے ممالک تک بھی اس کو وسیع کرنا چاہیے۔ چونکہ امن دین اسلام کا بنیادی رکن ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں امن کے ساتھ اپنی وابستگی کا ایک باقاعدہ، منظم اور ادارہ جاتی صورت میں اظہار کرنا چاہیے۔ ہم مغرب میں موجود تصفیہ تنازعات کے مراکز سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ قریبی انداز میں کام کریں گے تاکہ ملایشیا کو عالم اسلام اور ترقی پذیر دنیا میں جو عزت واحترام حاصل ہے، اس کو تنازعات کا مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

۶۰۔ دوسرے نمبر پر میں چاہوں گا کہ ملائشیا عالم اسلام میں باہمی تجارت اور تبادلہ خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے معاملے میں پہل کرے۔ اس وقت او آئی سی کے ممالک کے مابین ۸۰۰ بلین ڈالر کی باہمی تجارت ہو رہی ہے جو کہ دنیا کی مجموعی تجارت کا چھ سے سات فیصدی ہے۔ چونکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو ترقی کے لازمی اجزا کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے ہم ایسے مسلم ممالک کو جن کے پاس بڑی مقدار میں سرمایہ موجود ہے، یہ ترغیب دینے کی کوشش کریں گے کہ وہ عالم اسلام میں نمو کی صلاحیت رکھنے والی منڈیوں میں سرمایہ کاری کریں۔

۶۱۔ ملائشیا بالخصوص حلال مصنوعات اور اسلامی مالیاتی خدمات کے بنیادی دائروں پر توجہ مرکوز کرے گا جن میں ترقی کے عظیم امکانات پوشیدہ ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر حلال خوراک کی منڈی سالانہ ۱۵۰ بلین ڈالر کی ہے۔ اگر اس کو بڑھاتے ہوئے پوری دنیا میں بسنے والے ۸ء۱ بلین مسلمان صارفین تک رسائی حاصل کی جائے تو حلال خوراک کی منڈی سالانہ ۵۶۰ بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

۶۲۔ اسی طرح اسلامی مالیاتی خدمات کا شعبہ بھی ایسا ہے جس میں ترقی کے عظیم الشان امکانات ہیں۔ اس وقت ۲۵۰ بلین ڈالر سے زیادہ کے اثاثے (اسلامی مالیاتی اداروں کے) زیر انتظام ہیں اور مزید ۴۰۰ بلین ڈالر اسلامی مالیاتی اور جائیداد کی سرمایہ کاری میں آ رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی رقم نہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ اسلامی مالیاتی اسکیمیں سالانہ ۲۰ سے ۳۰ فیصد کے حساب سے ترقی کریں گی۔ بہت سے غیر مسلم افراد اور ادارے بھی اس کے صارفین اور کلائنٹس کے دائرے میں شامل ہو رہے ہیں۔

۶۳۔ تیسرے نمبر پر میں ملائشیا کو اسلام کے حوالے سے ایک نسبتاً کھلے اور تنوع کے حامل مکالمے کے فروغ کے لیے مرکزی کردار ادا کرنے والا ملک بنانا چاہتا ہوں۔ ہماری یونیورسٹیاں اس اہم مکالمے کے فروغ کے لیے، جس کے مسلم دنیا میں جڑ پکڑنے کی ضرورت ہے، پوری دنیا کے اداروں، مثلاً آکسفرڈ سنٹر کے ساتھ مل کر کام کریں گی ۔ جس طرح یہ ضروری ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے ساتھ ایک مشترک اساس کو تلاش کریں، اسی طرح ہمیں خود امت کے اندر بھی مکالمہ کے دروازوں کو کھولنا ہوگا۔

۶۴۔ ملائشیا علمی وفکری اصلاح اور تجدید کے عمل کا آغاز کرنے کے لیے پوری دنیا کے اہل علم کو اپنے ہاں بلائے گا۔ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ ممکن ہے ہمیں آغاز میں ان لوگوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے جو سمجھتے ہیں کہ مذہبی معاملات پر مکالمہ کرنے کا حق ان کے لیے مخصوص ہے۔ اسی سبب سے یہ ضروری ہے کہ مکالمے کے اس عمل میں کسی حلقے کو (نظر انداز کرتے ہوئے اسے) باہر رکھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ ترقی پسند اور جدت پسند مفکرین کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے مواقع اور فضا مہیا کی جانی چاہیے، تاہم میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ عمل خود مسلمانوں کے اندر ان لوگوں کے ساتھ مکالمے کے تناظر میں ہونا چاہیے جو لفظ پرستی اور قدامت پسندانہ رجحانات کے حامل ہیں۔

۶۵۔ مغرب کے وہ مبصرین جنھوں نے مسلم دنیا میں جاری اس بحث کو گہرائی میں جا کر سمجھا ہے، اسے اسلام کے اندر اعتدال پسندوں اور قدامت پرستوں کے مابین ایک ’’جنگ‘‘ کا نام دیا ہے، لیکن میں اسے ایک مباحثہ کہنا پسند کروں گا۔ اسلام کے موضوع پر مکالمے کا حق کس کو حاصل ہے یا کون اسے حاصل کرے، اس سوال پر ’جنگ‘ سے مسلم دنیا کے کسی طبقے کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ ایک بالکل بے فائدہ جھگڑا ہوگا۔ اس کے بجائے ہمیں چاہیے کہ ایک کھلے ماحول میں روایتی دینی تعلیم پانے والے علما اور جدید تعلیم یافتہ اہل علم کو آپس میں میل ملاپ اور گفتگو کا موقع فراہم کریں تاکہ ایک زندہ اور تعمیری بحث ومباحثہ وجود پذیر ہو سکے۔

۶۶۔ یہاں میں اس ذہنی خلیج کی دونوں جانبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات سے معذرت کے ساتھ مشہور ایرانی ماہر سماجیات علی شریعتی کی یہ بات نقل کرنا چاہوں گا کہ ’’حادثہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ان لوگوں نے جو گزشتہ دو صدیوں سے ہمارے مذہب پر قابض ہیں، اسے اس کی موجود جامد شکل میں تبدیل کر دیا ہے اور دوسری طرف ہمارے روشن خیال لوگ جو دور حاضر اور ہماری موجودہ نسلوں اور زمانے کی ضروریات کو سمجھتے ہیں، مذہب سے ناواقف ہیں۔‘‘

۶۷۔ اگرچہ میں علی شریعتی کے اس تاثر سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا، لیکن ان کے جذبات اس لحاظ سے قابل فہم ہیں کہ مسلم دنیا میں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ قدیم وجدید ذہنوں کا ملاپ ہے تاکہ مباحثہ اور مکالمہ کی فضا وسعت سے ہم کنار ہو سکے۔ مجھے امید ہے کہ ملائشیا کی سطح پر ہماری اس کوشش کو اس سے ملتے جلتے تجربات کا ایک نیٹ ورک پوری دنیا میں مل جائے گا جس سے اس کے مقاصد کو جہاں تک ممکن ہو سکے، زیادہ سے زیادہ ممالک اور مسلمانوں تک پھیلانے میں مدد ملے گی۔

خواتین وحضرات!

۶۸۔ میں اس امید پر آپ سے اجازت چاہوں گا کہ عظیم مسلم تہذیب کے احیا ساتھ، جو ہمارے مذہب کی تعلیمات کی پوری طرح عکاسی کرے، اسلام کا درخشندہ دور ایک مرتبہ پھر واپس آئے گا ۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ عالم اسلام اور مغرب مل کر موجودہ زمانے کی ہلچل اور افراتفری پر قابو پا سکتے ہیں، اور یہ کہ اپنی پالیسیوں اور اپنے معاشروں میں مطلوبہ تبدیلیاں پیدا کرنے کے لیے ہم مناسب جرات وہمت سے بہرہ مند ہیں۔ آئیے، اب مزید خونی تفریق وامتیاز پر گفتگو کو چھوڑ کر برابر کی سطح کے اتحاد، منصفانہ تجارت اور سائنسی بنیادوں پر باہمی تعاون کی بات کریں۔ قرآن مجید نے خلق خدا کے مابین جس ہمدردی اور تناصر کا ذکر سورہ الحجرات کی آیت ۱۳ میں کیا ہے، میں اس پر اپنی گفتگو ختم کروں گا:

۶۹۔ ’’اے بنی نوع انسان! ہم نے تمھیں مرد اور عورت کے ایک جوڑے سے پیدا کیا اور تمھیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو (اس لیے نہیں کہ ایک دوسرے سے نفرت کرو) بے شک تم میں سے سب سے زیادہ قابل احترام اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ گناہوں سے بچنے والا ہے۔ بے شک اللہ ہر بات کا علم رکھتا اور ہر چیز سے باخبر ہے۔‘‘

بے حد شکریہ۔

عالم اسلام اور مغرب

دسمبر ۲۰۰۴ء

جلد ۱۵ ۔ شمارہ ۱۲

سنی شیعہ کشیدگی ۔ چند اہم معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیعہ سنی مسئلہ مولانا دریابادیؒ کی نظر میں
محمد موسی بھٹو

اسلام، عالم اسلام اور مغرب
ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی

جناب احمد البداوی کے خطاب کا ایک جائزہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مکاتیب
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ