سیدنا عمرؓ اور قتلِ منافق کا واقعہ ۔ مولانا حافظ مہر محمدکا مکتوبِ گرامی

ادارہ

عزیزم مولانا عمار ناصر صاحب زید لطفکم
اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل اور ریسرچ وتحریر میں اضافہ فرمائے۔ آپ کے کئی مضامین واقعی علمی اور بصیرت افروز ہوتے ہیں۔ اللہم زد فزد۔ 
مگر الشریعہ دسمبر ۲۰۰۱ء ؁ کے شمارے میں ’سیدنا عمرؓ اور قتلِ منافق کا واقعہ‘ نفی میں پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ ایسے واقعات کچھ راویوں کی بدولت اگرچہ محدثانہ معیار سے صحت کے اعلیٰ درجہ پر نہ بھی ہوں مگر تواتر وشہرت، اصولِ ایمان اور عقائدِ اسلام کے معیار پر ہوں تو ان پر رد وقدح مناسب نہیں۔ اس کی مثال، جیسے میں نے سنا ہے کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی نے جوانی میں جب ’گلدستہ توحید‘ تصنیف فرمایا تو صحیحین کی روایات کی بنا پر ہادی اعظم ﷺ کے والدین کے ایمان پر بھی بحث کر دی۔ جب حضرت امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا: ’’یہ بات کتاب سے خارج کر دو۔ ہمارے ایمان اور سوال وجواب سے اس کا تعلق نہیں۔ اس سے آپ ﷺ مغموم ہوں گے۔‘‘ او کما قال۔ چنانچہ حضرت استاذیم دامت برکاتہم نے ’گلدستہ توحید‘ سے اسے بالکل نکال دیا ہے۔
آپ بھی اور کبھی برادر محترم مولانا آپ کے عم مکرم ایسے منفرد تحقیقی مضامین سے پرہیز کریں جن کو دوسرے فرقے ہتھیار بنا کر ہمارے خلاف استعمال کریں۔ یہ مضمون کسی اور پرچہ میں آپ کے نام کے بغیر ہو تو رافضی کی تنقید ہی سمجھی جائے گی کیونکہ وہ صحابہ کرامؓ کے تحفظ ودفاع میں ہر آیت وحدیث پر تنقید کرتے ہیں۔
میرے پاس وقت نہیں کہ آپ کے مضمون کا مناقشہ کروں۔ سرِ دست تین تفسیروں کا حوالہ سامنے ہے۔ ابن جریر طبری کا ذکر تو آپ بھی کر چکے ہیں۔ تفسیر فخر الدین رازی ج ۱۰، ص ۱۵۷ بیروت میں ہے:
’’مسئلہ دوم: مفسرین نے اصابتہم مصیبۃ کہ ان منافقوں کو مصیبت پہنچی کی تفسیر میں کئی باتیں لکھی ہیں۔ پہلی یہ کہ حضرت عمرؓ کا ان منافقوں کے اس ساتھی کو قتل کرنا جس نے اقرار کیا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہیں ہے۔ پس وہ حضور علیہ السلام کے پاس حضرت عمرؓ کے خلاف مقدمہ لے کر آ گئے اور قسم اٹھائی کہ ہمارا مقصد غیر رسول کے پاس جانے سے اصلاح تھی ۔ یہ زجاج کا پسندیدہ ہے۔‘‘
یہی کچھ اس رکوع کے شان نزول میں سب مفسرین نقل کرتے ہیں۔ علماء دیوبند بھی یہی لکھتے ہیں۔ مثلاً مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ’معارف القرآن‘ میں لکھتے ہیں:
’’چند اہم مسائل: اول یہ کہ وہ شخص مسلمان نہیں جو اپنے ہر جھگڑے اور ہر مقدمے میں رسول کریم ﷺ کے فیصلہ پر مطمئن نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے اس شخص کو قتل کر ڈالا جو آنحضرت ﷺ کے فیصلے پر راضی نہ ہو اور پھر معاملہ کو حضرت عمر کے پاس لے گیا۔ اس مقتول کے اولیا (منافقین) نے رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں حضرت عمرؓ پر دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے بلاوجہ ایک مسلمان کو قتل کر دیا۔‘‘ الخ (ج ۲، ص ۴۶۱)
تفسیر مدارک نسفی ج ۱، ص ۳۷۲ بر حاشیہ تفسیر خازن مطبوعہ بیروت میں ہے:
فدخل عمر فاخذسیفہ فضرب بہ عنق المنافق فقال ھکذا اقضی لمن لم یرض بقضاء اللہ ورسولہ فنزل جبریل علیہ السلام ان عمر فرق بین الحق والباطل فقال رسول اللہ ﷺ انت الفاروق۔
تو حضرت عمرؓ اندر گئے، تلوار لے کر اس منافق کی گردن اڑا دی۔ پھر فرمایا، میرا فیصلہ اس شخص کے حق میں یہی ہے جو کہ خدائے پاک اور حضرت رسول اللہ کے فیصلے کو نہ مانے۔ تب جبریل علیہ السلام نے آکر کہا، حضرت عمرؓ نے حق اور باطل میں فرق کر دیا ہے۔ تو حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: آپ ’’فاروق‘‘ ہیں۔
اور لباب التاویل تفسیر خازن ص ۳۷۳ میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ بشر نامی منافق کے بار ے میں اتری جسے حضرت عمرؓ نے قتل کر کے ٹھنڈا کر دیا تھا۔ الخ
آپ اپنی مزید تسلی کے لیے تفسیر عثمانی ص ۱۱۲، تفسیر بیان القرآن تھانویؒ اور معالم العرفان مولانا عبد الحمید سواتی پر مقام ہذا دیکھ لیں۔ پھر اس کا شان نزول -- طاغوت کعب بن اشرف کی طرف جانا، مصیبت کا تعین، آپ ﷺ کے فیصلے سے اعراض -- خود بتا دیں۔
آپ کے تین درایتی اعتراضات کا جواب یہ ہے:
۱۔ منافقوں نے حضرت عمرؓ کے خلاف خوب پراپیگنڈا کیا۔ تفسیر، سیرت اور حدیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ تلاش شرط ہے۔
۲۔ حضرت عمرؓ کو مغلوب الغضب کہنا بھی شان ایمان کا اعتراف ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جذبہ توحید سے مغلوب ہو کر حضرت ہارون علیہ السلام کا سر غصہ سے جھنجھوڑا یا جیسے حضرت علی المرتضیٰ نے رد شرک کے غصے میں اپنے ۷۰ حب داروں کو زندہ آگ میں جلا دیا (مشکوٰۃ)جو آپ کو حاجت روا، مشکل کشا، کارساز، عالم الغیب، مختار کل، رب اور خدائی صفات والا کہتے تھے حالانکہ زندہ کو آگ میں جلانے کی صریح ممانعت ہے کہ اللہ کے سوا آگ کا عذاب کوئی نہ دے۔ اور سبائی مشرکوں نے اسی حدیث سے حضرت علیؓ کی ربوبیت پر استدلال کیا اور آگ میں جل گئے۔ جیسے اب بھی یا علی مدد کہہ کر آگے پر چلتے اور جلتے ہیں۔ یا جیسے اب طالبان نے اپنا سب کچھ قربان کر کے امریکہ طاغوت کے آگے سر نہیں جھکایا۔
۳۔ منافق کا قتل خلافِ شرع نہیں۔ ارشاد خداوندی ہے ’’کفار اور منافقین سے جہاد کریں اور ان پر خوب سختی کریں۔’’ گو یہ آپ ﷺ کے شایانِ شان نہ تھا مگر حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰۃ کے منکروں، مرتدوں، مسیلمہ کذاب اور بنو حنیفہ سے جنگ کر کے اور حضرت علیؓ نے خوارج سے جنگ کر کے خدا ورسول کا یہ حکم پورا کر دکھایا۔
والسلام ۔ آپ کا چچا
مہر محمد میانوالوی

مکاتیب