حکومت اور دینی مدارس ۔ دینی مدارس کے بارے میں ایک سرکاری رپورٹ

ادارہ

ملک بھر میں تمام دینی اداروں کا مکمل طور پر کریک ڈاؤن ممکن ہے نہ کسی انتظامی ایکشن سے سو فیصد دینی ادارے بند کیے جا سکتے ہیں۔ اس بارے میں صوبوں کے محکمہ داخلہ کے حکام کی طرف سے وفاقی حکومت کو پچھلے دنوں آگاہ کیا گیا ہے کہ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق ۱۰ لاکھ سے زائد بچے پنجاب‘ سندھ‘ سرحد اور بلوچستان میں قائم مختلف اداروں میں دینی تعلیم وتربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ ان اداروں کی تعداد کئی ہزار ہے جس میں سے ۱۰ فیصد کے قریب ایسے ادارے ہیں جن کے بارے میں مختلف حساس اداروں کے توسط سے حکومت کو یہ اطلاعات مل چکی ہیں کہ ان کے ہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جہاد کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور اس حوالے سے انہیں اس میں بطور نوجوان اور مسلمان کے بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان دس فیصد میں سے ۷‘ ۸ فیصد اداروں کے پاس ہر قسم کا اسلحہ وغیرہ موجود ہے جس کے بارے میں پولیس اور دیگر اداروں کے پاس مکمل معلومات ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو بعض ذمہ دار حلقوں کی طرف سے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ حکومت بھی مختلف علماء کرام کی خدمات حاصل کر کے سرکاری سرپرستی میں ’’دار العلوم‘‘ کی طرز پر ایک ادارہ قائم کرے جس میں نوجوان نسل کو جدید ترین نصاب کے ساتھ اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا جا سکے۔ اس ادارے کی شاخیں پہلے مرحلے میں چاروں صوبوں اور پھر مختلف اہم مقامات پر قائم کی جائیں۔ ان ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی دباؤ پر دینی اداروں کا کریک ڈاؤن شروع کرنے کے بجائے ان کو جدید ترین نصاب تعلیم رائج کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ان اداروں کے حالات بہتر بنانے کے لیے حکومت خود اپنے وسائل سے ضروری اقدامات کرے۔ اس کے علاوہ معروف دینی اداروں کو مختلف تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ ان ذرائع کے مطابق اس وقت مختلف دینی اداروں میں ۶۰ فیصد سے ۷۰ فیصد طالب علم وہ ہیں جو کئی وجوہ کی بنا پر بے سہارا ہیں لیکن یہ دینی ادارے ان کی پرورش اور سرپرستی کر رہے ہیں۔ حکومت کو اس سلسلے میں بھی ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے بے سہارا اور یتیم بچوں کو تعلیم وتربیت کے بہتر سے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

(نوائے وقت‘ ۱۳ دسمبر ۲۰۰۱ء)

دینی مدارس کے وفاقوں کا مشترکہ اعلان

ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کی تعلیمی تنظیمات کے اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا سلیم اللہ خان اور ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ‘ رابطۃ المدارس الاسلامیۃ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد المالک اور مولانا فتح محمد مہتمم جامعہ مرکز علوم اسلامیہ منصورہ‘ تنظیم المدارس پاکستان کے صدر مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی اور ناظم اعلیٰ مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی‘ وفاق المدارس الشیعہ کے سیکرٹری جنرل مولانا سید محمدعباس نقوی اور مولانا محمد افضل حیدری‘ وفاق المدارس السلفیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد یونس اور جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا حافظ فضل الرحیم نے شرکت کی۔ مرکزی میڈیا سیل کے مطابق اجلاس کی صدارت رابطۃ المدارس الاسلامیۃ پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک نے کی۔ ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان‘‘کے رابطہ سیکرٹری مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے دینی مدارس کے خلاف عالمی سازش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف متحدہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا اور مدارس کے سلسلے میں سرکاری حلقوں کی جانب سے مجوزہ اقدامات پر تنقید کی۔

اجلاس سے مولانا سلیم اللہ خان‘ مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی‘ مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی‘ مولانا عبد المالک‘ مولانا سید عباس نقوی اور مولانا محمد یونس نے بھی خطاب کیا۔ شرکا نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ مدارس اپنے عظیم ماضی کی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہمت واستقامت کے ساتھ دین اسلام کی ترویج اور ملک وملت کی تعمیر میں اپنا سفر جاری رکھیں گے اور اس کی راہ میں ہر قسم کی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مدارس دینیہ کی آزادی وخود مختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گااور کسی بھی قسم کی حکومتی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ مختلف حلقوں کی جانب سے مدارس دینیہ پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات مخصوص اہداف حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈا کا حصہ ہیں جن کو کلی طور پر رد کیا جاتا ہے اور اس لب ولہجہ کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے گمراہ کن اور بے بنیادی پراپیگنڈے کے جواب میں حقائق کو واضح کرنے‘ رائے عامہ کو دینی مدارس کی عظمت سے آگاہ کرنے اور دینی اداروں کی گراں قدر خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے پورے ملک میں صوبائی دار الحکومتوں میں صوبائی کنونشن اور مرکزی سطح پر اسلام آباد میں تحفظ عظمت مدارس کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔ پہلا صوبائی کنونشن جامعہ نعیمیہ لاہور میں ۶ جنوری کو‘ دوسرا صوبائی کنونشن بنوری ٹاؤن کراچی میں ۲۰ جنوری کو‘ تیسرا صوبائی کنونشن جامع مسجد درویش پشاور میں ۳ فروری کو منعقد ہوگا۔ مرکزی کنونشن ۱۰ فروی کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں تمام مکاتب فکر کے ہزاروں مدارس دینیہ کے لاکھوں علماء کرام‘ طلباء اور ملت کے نمائندہ وفود شریک ہوں گے۔ اجلاس میں وہ قراردادیں بھی منظور کی گئیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ مظلوم افغان بھائیوں کی حمایت اور عالمی دہشت گرد امریکہ کے مظالم کے خلاف حالیہ احتجاجی تحریک کے تمام قائدین قاضی حسین احمد‘ مولانا فضل الرحمن‘ لیاقت بلوچ‘ مولانا عطاء المومن بخاری‘ مولانا سمیع الحق اور تمام گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ملک کے معروف سکالر اور جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو خطابت کے منصب سے برطرف کرنے کی ناروا کارروائی کو منسوخ کر کے انہیں ان کے عہدے پر فوری طور پر بحال کیا جائے۔ ایک اور متفقہ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر وطن عزیز سے غیر ملکی فوجوں کو نکالے اور قومی امور میں واضح طور پر کی جانے والی بیرونی مداخلت کو ختم کرے۔ (روزنامہ اوصاف‘ ۷ دسمبر ۲۰۰۱ء)

حدود آرڈی نینس‘ لاہور ہائی کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل

لاہور ہائی کورٹ نے اجتماعی بد اخلاقی کے مجرموں کو موت سے کم سزا نہ دینے سے متعلق قانون کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو حدود آرڈی ننس کی دفعہ ۱۰ (۴) میں ترمیم کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس ضمن میں مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف اور مسٹر جسٹس ایم نعیم اللہ شیروانی نے قرار دیا ہے کہ جب قتل جیسے سنگین مقدمات میں مجرم کو عمر قیدکی سزا دی جا سکتی ہے تو اجتماعی بد اخلاقی کے مجرموں کے کم از کم عمر قید کی سزا مقرر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ فاضل جج نے قرار دیا کہ ہمیں بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اجتماعی بد اخلاقی کے ایسے مقدمات جن کے مجرم عمر قید کے مستحق ہوتے ہیں‘ ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ قانون انہیں موت سے کم سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے کی نقل وفاقی سیکرٹری قانون کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ معاملہ حکومت کے ذمہ داروں کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ ترمیم کے ذریعے اجتماعی بد اخلاقی کے مجرموں کے لیے موت کے ساتھ عمر قید کی سزا بھی مقرر کی جا سکے۔ فاضل بنچ نے کہا کہ زیر نظر کیس میں ہم اپیل کنندگان کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا بھی چاہیں تو ایسا نہیں کر سکتے۔ زیر نظر کیس میں بد اخلاقی کا نشانہ بننے والی کنیز بی بی اور اس کے والدین نے مجرموں کو معاف کر دیا ہے لیکن یہ جرم ناقابل راضی نامہ ہونے کی وجہ سے مجرموں کو نہیں چھوڑا جا سکتا تاہم عدالت ان کے لیے اتنا ضرور کر سکتی تھی کہ ان کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیتی لیکن قانون نے عدالت کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ پنڈی بھٹیاں کے ارشاد اور اشرف منظور کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کنیز بی بی سے اجتماعی بد اخلاقی کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف مجرموں نے اپیل دائر کی تھی۔ دوران سماعت اپیل کنندگان کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ ایک مجرم ارشاد کی عمروقوعہ کے وقت اٹھارہ سال سے کم تھی اور مروجہ قانون کے مطابق ۱۸ سال سے کم عمر نابالغ ملزم کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ فاضل بنچ نے یہ اعتراض مسترد کر دیا اور قرار دیا کہ ۱۸ سال سے کم عمر کے مجرم کو سزائے موت نہ دینے کا اصول حدود کے مقدمات پر لاگو نہیں ہوتا۔ ایسا کم عمر مجرم جو بد اخلاقی کی صلاحیت رکھتا ہو‘ اسے بالغ تصور کیا جائے گا اور اسے پوری سزا ملے گی۔ فاضل بنچ نے اپیل مسترد کر دی تاہم اپنی آبزرویشنز کے ساتھ فیصلہ کی نقل وزارت قانون کو بھجوا دی ہے۔ (روزنامہ پاکستان‘ ۸ دسمبر ۲۰۰۱ء)

اسلامی نظریاتی کونسل نے قرار دیا ہے کہ شرعی لحاظ سے کسی بھی اتھارٹی کو حدود اللہ معاف کرنے یا ان میں تخفیف کرنے اور ان کو کسی دوسری سزا میں تبدیل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح قصاص معاف کرنے کا اختیار بھی کسی اتھارٹی کو حاصل نہیں ہے البتہ اولیا یا ان میں سے کوئی قصاص معاف کر سکتا ہے جبکہ تعزیری سزاؤں میں صدر‘ گورنر‘ وفاقی یا صوبائی حکومتیں ایسی سزائیں معاف کرنے یا ان میں کوئی تبدیلی وتخفیف کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ کونسل نے یہ ریمارکس اپنے حالیہ اجلاس میں ایک شہری کی جانب سے ’’عدالتوں کی جانب سے دی جانے والی سزائیں۔ معاف کرنے کے اختیار پر شرعی نقطہ نظر‘‘ کے زیر عنوان بھیجے جانے والے خط پر تفصیل بحث کے دوران دیے۔ کونسل نے کہا کہ ۱۹۷۳ء کے آئین کے آرٹیکل ۴۵ کے تحت صدر پاکستان کو کسی بھی عدالت‘ ٹربیونل یا دیگر ہیئت مجاز کی دی ہوئی سزا کو معاف کرنے‘ ملتوی کرنے‘ تخفیف کرنے‘ معطل کرنے یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۰۱‘ ۴۰۲ کے تحت صوبائی حکومتوں کو بھی سزا معاف کرنے‘ مہلت دینے یا اسے تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے البتہ دفعہ ۴۰۱ کی ذیلی شق ۲ میں صوبائی حکومتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سزا کی معطلی یا تخفیف کے لیے درخواست موصول ہونے کے بعد اس جج سے رائے طلب کرے گی جس نے سزا سنائی ہو۔ اسی طرح پرونان رول ۱۹۷۸ء میں سزا کی تخفیف کے جو قواعد بیان کیے گئے ہیں‘ ان کی رو سے کسی قیدی کے اچھے چال چلن یا بعض امتحانات پاس کرنے کی بنا پر اس کی سزا میں تخفیف کی جا سکتی ہے لہذا عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا میں جو تبدیلی یا تخفیف کی جاتی ہے‘ وہ ملک کے قانون کے تحت ہی ہوتی ہے۔ کونسل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۰۱‘ ۴۰۲ اور ۴۰۳ الف کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان دفعات میں حکومت کی جانب سے سزاؤں کے تعطل‘ تخفیف اور معافی کے بارے میں احکام درج ہیں مگر شریعت کے مطابق حدود کے بارے میں حکومت اس قسم کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی اور قصاص کی صورت میں صرف ولی مقتول ہی دیت معاف کر سکتا ہے۔ لیکن جہاں حکومت ولی ہو‘ وہاں صلح کرتے ہوئے دیت بھی منظور کر سکتی ہے البتہ تعزیرات کے دیگر معاملات میں حکومت کو سزا کے تعطل اور معافی کے اختیارات حاصل نہیں بشرطیکہ ان سے حقوق العباد متاثر نہ ہوتے ہوں۔ ایسی معافی ان تعزیرات یعنی جرائم موجب تعزیر میں نہیں ہوگی جو حقوق اللہ سے متعلق ہوں جیسے اجنبی عورت کا بوسہ لینا۔ کونسل نے محسوس کیا ہے کہ یہ دفعات شریعت کے ان متذکرہ اصولوں کے مطابق نہیں لہذا کونسل یہ سفارش کرتی ہے کہ ان دفعات میں شریعت کے احکام متذکرہ بالا کی روشنی میں مناسب ترامیم کی جائیں اور شریعت کی رو سے دفعہ ۴۰۲ ب میں بھی مناسب ترمیم کی جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس مسئلے پر مزید رائے کے لیے اسے کونسل کی قانونی کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے جو کونسل کے آئندہ اجلاس تک ان دفعات کے حوالے سے شرعی احکام کے مطابق اپنی رپورٹ تیار کر کے پیش کرے گی۔

(روزنامہ نوائے وقت‘ راول پنڈی‘ ۳۰ دسمبر ۲۰۰۱ء)

حالات و واقعات

(جنوری ۲۰۰۲ء)

Flag Counter