ملتِ اسلامیہ اور موجودہ عالمی صورتِ حال

ادارہ

(۲۰۔۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ء  کو کراچی میں ’’جنگ گروپ آف نیو زپیپرز‘‘ کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی، عالم اسلام کو درپیش ایک نیا چیلنج‘‘ کے عنوان سے دو روزہ سیمینار ہوا جس میں عالم اسلام کے ممتاز دانش وروں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے اس سیمینار کے چند اہم خطابات کا خلاصہ اور اعلامیہ روزنامہ جنگ کی رپورٹنگ کی مدد سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر کے علماء کرام، اہل دانش اور دینی وسیاسی راہ نماؤں سے ہماری گزارش ہے کہ ان کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ غور طلب نکات پر کھلے دل ودماغ کے ساتھ بحث وتمحیص کا اہتمام کیا جائے اور تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں امت مسلمہ کی صحیح سمت میں فکری وعلمی راہ نمائی کے خطوط متعین کرنے میں پیش رفت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ادارہ)

 جناب محمود شام کا خطبہ استقبالیہ

خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے جنگ کے گروپ ایڈیٹر محمود شام نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ ستمبر کو رونما ہونے والے واقعات اور اس کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی تبدیلیوں، بالخصوص افغانستان پر امریکہ کی مسلسل خوف ناک بمباری، طالبان کی طرف سے پہلے آخری دم تک لڑنے کا عزم، پھر مزار شریف، کابل وغیرہ سے اچانک انخلا نے دنیا بھر میں ہر عمر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف سوالات پیدا کیے ہیں۔ پاکستان اس وقت فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے۔ فرنٹ لائن اسٹیٹ ہونا ایک اعزاز بھی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ۱۱ستمبر کے بعد مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ پاکستان کے دورے کر رہے ہیں۔ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو بجا طور پر صاحب عصر بھی کہا گیا۔ انہیں امریکی صدر نے خصوصی عشائیہ دیا۔ پاکستان کے اقتصادی مسائل حل کرنے کے لیے امریکا سمیت ہر ملک نے وعدے بھی کیے، عملی اقدامات بھی کیے۔ فرٹ لائن اسٹیٹ ہونا آزمائش بھی ہے۔ جب بھی افغانستان کا یہ بحران گزر گیا تو تمام ممالک اپنے معمول میں مصروف ہو جائیں گے، پاکستان اپنے مسائل کے سامنے پھر تنہا کھڑا ہوگا۔ افغانستان کا بحران پاکستان میں بھی داخل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ہم دیوار ہم سایے ہیں۔ جنگ گروپ نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کے سب سے بڑے اخباری گروپ ہونے کے حوالے سے اپنا فرض سمجھا کہ وہ دنیا بھر میں رابطے کر کے ایسے اسکالرز کو فرنٹ لائن اسٹیٹ میں اظہار خیال کی دعوت دے جو اسلامی تعلیمات اور جدید علوم میں امتزاج کے قائل ہیں، جو دنیائے اسلام اور مغرب کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ 

۱۱ ستمبر کے واقعات کے بعد عالم اسلام کو یقیناًایک نیا چیلنج درپیش ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے امریکا، جرمنی، برطانیہ، جہاں جہاں بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں، صرف مسلمان نوجوانوں کی ہوئی ہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہیں؟ مسلمان امریکا سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے؟ کیا یہ اسلام کو بدنام کرنے اور مسخ کرنے کی سازش تو نہیں ہے۔ مسلمان نوجوان خود ہتھیار اٹھانے پر کیوں مجبور ہو رہا ہے؟ مسلمان حکومتیں کیا اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ہیں؟ کیا مسلمان ملکوں میں سول سوسائٹی ہے؟ کیا مسلمان ملکوں میں جمہوری آزادیاں ہیں؟ یہ اور بہت سے دوسرے سوالات ہیں جن کا جواب آپ کو یقیناًیہ محترم اورمعزز اسکالرز دیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دو روزہ سیمینار عالم اسلام میں بیداری کی نئی لہر پیدا کرنے کے لیے ایک نقطہ آغاز ہوگا۔ 

میں جنگ گروپ کی طرف سے تمام مسلمان اسکالرز، مسلمان ملکوں کے تعلیمی اداروں، مسلمان ملکوں کی حکومتوں، مسلمان ملکوں کے اخباری اداروں کو یہ پیشکش کرتا ہوں کہ وہ اپنی معلومات، تفصیلات ہمیں بھجوائیں، ہم انہیں محفوظ بھی کریں گے، دنیا تک پہنچائیں گے۔ ہم تمام مسلم اور غیر مسلم اسکالرز کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ حالات حاضرہ پر اپنے خیالات ہمیں بھجوائیں، ہم اسے اردو، انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کریں گے۔ جنگ گروپ عالم اسلام اور مغرب کے درمیان ایک پل، ایک رابطے کا منصب ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ۱۱ ستمبر کے بعد شروع ہونے والی جنگ ایک طویل جنگ ہے جو برسوں نہیں‘ صدیوں جاری رہ سکتی ہے۔ ہم سب کو اس کے لیے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے۔ ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ یہ سیمینار ایک نقطہ آغاز ہے۔ اس میں مقالات پیش کرنے والے اس جنگ کا ہراول دستہ ہیں۔

وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر

وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان کو ایک معتدل، ترقی پسند اسلامی ریاست بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی اسلام کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہم چند قاعدہ پڑھ لینے والے جاہلوں کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور دے سکتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان کے بنیادی مسائل کا تدارک کریں اور اقتصادی طور پر ملک کو مستحکم بنائیں۔ خود کو مضبوط بنا کر ہی چیلنجوں کامقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

۱۱ ستمبر کے بعد ایک نئی دنیا نے جنم لیا ہے بالخصوص مسلم ممالک اور مسلمانوں کے لیے نئے چیلنج سامنے آئے ہیں۔ مغربی طاقتوں نے ایک اتحاد تشکیل دیا ہے۔ ایک خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ مستقبل کا ہدف مسلم ممالک ہو سکتے ہیں۔ ان حالات نے کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے کہ اس صورت حال میں مسلم ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ مغربی طاقتیں کہہ رہی ہیں کہ یہ جنگ اسلام کے خلاف نہیں ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کھلتے جا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اسلامی ممالک کس طرح ان چیلنجوں کا سامنا کریں گے؟اس کے لیے ہمیں اپنی عوام کو تعلیم اور شعور دینا ہوگا، تحقیق کرنا ہوگی، جدید ٹیکنالوجی اور معلومات حاصل کرنا ہوں گی، اسلامی ممالک میں پاپولر حکومتیں بنانا ہوں گی اور جہاں تک ممکن ہو، تنازعات اور جنگوں سے اجتناب کرنا ہوگا اور خود کو مستحکم کرنا ہوگا کیونکہ کمزور ممالک یا قومیں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ پہلے ہمیں اپنے ممالک کے ہاؤسز کو ’’ان آرڈر‘‘ لانا ہوگا۔ جب ہم خود ’’ان آرڈر‘‘ ہوں گے تو چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں گے۔ 

مسلم دنیا کا کوئی ڈائنامک فورم نہیں ہے جہاں مل بیٹھ کر اپنے مسائل کا تجزیہ کر سکیں، ان کا حل تلاش کر سکیں اور اس پر عمل کر سکیں یا اسلامی ممالک کا مقدمہ موثر اور ٹھوس انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ جبکہ جی ایٹ جیسے ادارے اکثر ملتے ہیں، فیصلہ کرتے ہیں اور پھر دوسرے دن سے ہی ان پر عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ محض ڈی بیٹنگ سوسائٹیز نہیں ہیں۔ 

اسلامی ممالک کے میڈیا کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا احاطہ کرتے ہوئے معین حیدر نے کہا کہ اس کے لیے وسیع سرمایے کی ضرورت ہے تاہم بنیادی بات تعلیم کی ہے۔ اگر ہمارے پاس تعلیم ہوگی تو مختلف سطح پر منفی پروپیگنڈے کا موثر جواب دے سکیں گے۔ 

پاکستان مسلم اور غیر مسلم ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور ہمارا ایسے ممالک کے ساتھ تعاون بھی جاری ہے جس کی بڑی مثال عوامی جمہوریہ چین ہے۔ پاکستان کو ایک معتدل، اسلامی ترقی پسند ملک بننے کے اقدامات موجودہ حکومت نے ۱۱ ستمبر سے قبل ہی شروع کر دیے تھے۔ اگست کے مہینے میں دو جماعتوں کو، جن پر مسلح ہونے کا الزام تھا، ان پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ شہریوں سے اسلحہ واپس لیا جا رہا ہے، مساجد میں جہاد کے نام سے چندہ لیا جاتا ہے اور پتہ نہیں کہاں چلا جاتا ہے۔ اس کو روکا جا رہا ہے۔

ہم مدرسوں کے خلاف نہیں ہیں مگر ہماری کوشش ہے کہ مدرسے اپنا وہ تاریخی کردار ادا کریں جو ماضی میں ہوا کرتا تھا جہاں سے اہل علم ودانش پیدا ہوتے تھے۔ اس مقصد کے لیے ہم مشاورت کے ساتھ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے مدرسے اپنی سابقہ حیثیتوں میں بحال ہو جائیں۔ 

افغانستان میں جو کچھ ہوا، پاکستان نے بہت پہلے انہیں آگاہ کیا تھا، مشورہ دیا تھا۔ پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ پڑوسی ملک کے معاملات میں شریک ہو۔ ہم نے واضح کر دیا تھا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوگا، وہ خود ا سے نمٹیں گے۔ جب بدھا کے بتوں کو توڑا جا رہا تھا، اس وقت بھی مشورہ دیا گیا تھا کہ پوری دنیا کو اپنا دشمن نہ بنائیں، انہیں ناراض نہ کریں۔ اس وقت صرف دو مسلم ممالک ایک چھوٹی سی امداد افغانستان کو دیتے تھے جبکہ افغانستان کو بیشتر امداد غیر مسلم ممالک سے ملتی تھی۔ ملا محمد عمر خود ساختہ امیر المومنین بن گئے، ان کی حمایت کس طرح کی جا سکتی تھی؟ 

پاکستان میں مختلف سطحوں سے اصلاحات کی جا رہی ہیں جن میں پولیس اصلاحات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہی فیصلے کرے گی۔

وزیر مذہبی امور ڈاکٹر محمود احمد غازی

وفاقی وزیر زکوٰۃ وعشر اور مذہبی امور ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالی، عدم مساوات اور ناانصافیوں کے خلاف شدید رد عمل نے دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ان ناانصافیوں اور عدم مساوات کو دور کرنے کی صورت میں ہی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور ہمیں اپنے رویے اور پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ جہاد پر تنقید کی جا رہی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جہاد ہی کے ذریعے سے اسلام کے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے مسلمانوں نے اپنا مقام حاصل کیا ہے۔

دہشت گردی کی مذمت کی جانی چاہیے اور ۱۱ ستمبر کے واقعے کی پوری دنیا اور ہر طبقے نے مذمت کی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کی صحیح طور پر تشریح ہونی چاہیے کیونکہ کشمیر اور فلسطین میں آزادی کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں کو دہشت گردی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کو گزشتہ برسوں میں کئی طرح کی دہشت گردیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کا مقابلہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے لیکن سلامتی کونسل میں ویٹو پاور خود مساوی حقوق کے منافی ہے اور یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ ویٹو پاور اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف ہی استعمال کی گئی۔ 

جدیدیت میں مغرب کی تقلید کرنے کے بجائے مغرب کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی اپنی ضروریات، تقاضوں اور حالات کے مطابق رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے سب سے پہلے حق کی جنگ لڑی گئی۔ جہاد برائیوں کے خلاف برسرپیکار ہونے اور اس کے خلاف جدوجہد کا نام ہے۔ اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے جدوجہد کا نام مجاہدہ، ناخواندگی کے خاتمے کے خلاف جدوجہد کا نام جہاد ہے۔ جہاد کو کسی بھی دور میں اسلام کا نفاذ پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

پروفیسر ڈاکٹر فاروق حسن

پروفیسر ڈاکٹر فاروق حسن نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر بین الاقوامی اتحاد کی حالیہ مہم کا مقصد ٹون ٹاورز آف اسلام سعودی عرب اور پاکستان کو گرانا ہے اور بھارت بھی اس سازش میں شریک ہے اور اس کی طرف سے سب سے پہلے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر حملہ بھی کر سکتا ہے۔ ہمارے قریب سمندر میں تین طیارہ بردار جہاز، ۵۰۰ جدید ترین جنگی طیارے، ۴۲ ہزار امریکی کمانڈو اور فوجی اور انٹی ٹنل بلاسٹک بم سمیت جدید ترین ہتھیار کیا صرف ایک اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے ہماری سرحدوں کے قریب اور اندر لائے گئے ہیں؟ کیا سبھی ملکوں کی افواج کو انفرادی مجرم پکڑنے کے لیے استعمال کیا گیا؟ انٹی ٹنل بلاسٹک بم تاجکستان میں نیو کلیر ٹنلز کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے نیو کلیئر ٹنلز کو توڑنے کے لیے لائے گئے ہیں۔

امریکا اور مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف مہم کو مسلمانوں اور عالم اسلام کے خلاف چلا رہے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عالم اسلام کی سب سے بری تنظیم او آئی سی ہے جس کے رکن ممالک کی تعدد ۵۷ اور مبصرین کی تعداد ۳ ہے۔ اس طرح یہ کل ۶۰ ممالک ہوتے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی بھی کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ امریکا کے نزدیک دنیا میں دہشت گرد صرف مسلمان ممالک ہیں۔ ہمیں اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ المیہ یہ ہے کہ ان ۶۰ ممالک میں سے کسی ایک ملک نے اس پر امریکا سے احتجاج نہیں کیا اور یہ تک پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ان ۶۰ ممالک میں کون سے ملک شامل ہیں؟ او آئی سی کی کارکردگی بھی نہایت مایوس کن رہی ہے۔ اس کے ۱۱ ستمبر کے بعد اب تک صرف دو اجلاس ہوئے۔ ایک اجلا س افغانستان پر بمباری کے دو دن بعد ہوا جس میں نیو یارک اور واشنگٹن پر دہشت گردی کی مذمت کی گئی۔ افغانستان پر بمباری کا کوئی ذکر یا مذمت نہیں کی گئی۔ دوسرا اجلاس وزرائے خارجہ کا ۱۰ دن پہلے ہوا جس میں افغانستان پر حملے یا دہشت گردی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ ان حالات کو دیکھا جائے تو بہت ہول آتا ہے۔

افغانستان پر حملے اور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف پورے ۶۰ مسلمان ممالک میں سے صرف سعودی عرب اور ملائشیا نے آواز اٹھائی۔ سعودی عرب نے پرنس عبد اللہ بیس کو دینے سے انکار کیا جو اس علاقے میں جدید ترین بیس تھی۔ اس طرح ولی عہد شہزادہ عبد اللہ نے شاہ فیصل کی یاد تازہ کر دی۔ ملائشیا وہ واحد ملک تھا جس نے بڑے حوصلے کے ساتھ یہ بات کہی کہ اقوام متحدہ نے افغانستان پر حملے کی قرارداد منظور نہیں کی اور یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ میں گزشتہ ۵۰ برس سے دہشت گردی کی تعریف متعین تھی اور استصواب رائے اور حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو دہشت گردی میں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔

امریکہ میں دہشت گردی کے بارے میں بیورو آف کاؤنٹر ٹیررازم کے نام سے ایک محکمہ ہے جس کے تحت ۵ اکتوبر کو دہشت گرد تنظیموں کی جو فہرست جاری ہوی، اس میں پاکستان دہشت گرد ممالک میں شامل ہونے سے بال بال بچاجبکہ سالانہ رپورٹ میں ایک اور طرح سے اس کا نام شامل ہے۔اس میں ۲۶ دہشت گرد تنظیموں کے نام تھے جبکہ ایک ماہ بعد نومبر میں دہشت گرد اداروں کی جو فہرست جاری کی گئی، ان کی تعداد بڑھ کر ۳۶ ہو گئی، اس میں ۵ پاکستانی تنظیمیں شامل تھیں۔ ہم نے اس پر نہ صرف احتجاج نہیں کیا بلکہ امریکا کے ایک اشارے پر ان سب کے خلا ف کارروائی بھی کر ڈالی حالانکہ ہم ان کے اتحادی تھے۔ اس طرح امریکا نے اپنی فہرست میں ۵ دہشت گرد تنظیموں کے نام شامل کرکے نشان دہی کر دی ہے کہ یہ لوگ غلط کام کر رہے ہیں۔ وہ جب چاہیں گے، ان کے خلاف کارروائی بھی کر ڈالیں گے۔ 

جنیوا کنونشن ۴۹ اور پروٹوکول ۷۵ اور ۷۷ کے مطابق کسی جنگی قیدی سے ا س کے عہدے اور نام پوچھنے کے سوا کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جا سکتی لیکن افغانستان میں نہ صرف کھلم کھلا پوچھ گچھ ہو رہی ہے بلکہ ۱۴ جنگی قیدیوں کو وہ اپنے بحری جہازوں پر بھی لے گئے ہیں۔ کیا کسی نے کبھی احتجاج کیا؟ 

جنیوا کنونشن کے تحت جو لوگ جنگ میں سرنڈر کریں، ان کو قابض فوجوں کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ افغانستان کے جنگی قیدیوں کو امریکا اور بھارت کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ کیا کسی مسلمان ملک یا حکمرانوں نے اس پر احتجاج کیا؟ پاکستانی افغانستان گئے تھے، وہاں شہید ہو گئے یا گرفتار ہو گئے۔ ہماری حکومت نے ان کی لاشیں تک لینے سے انکار کر دیا۔ امریکا اپنے ایک امریکی طالبان کو بچانے کے لیے قانون اور قاعدے بدل رہا ہے۔ ہمارا تو حال یہ ہے کہ ۱۱ ستمبر کے بعد امریکا میں ۴ سو پاکستانی گرفتار ہیں۔ ان کے حق میں حکومت کی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ میں نے اپنی خدمات ان پاکستانیوں کے لیے پیش کر دی ہیں۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ۷ کے آرٹیکل ۶۰ سے ۶۹ میں کسی ملک میں قیام امن کے لیے فوج کی تعیناتی کے بارے میں قوانین ہیں جن کے تحت غیر جانب دار ممالک سے امن فوج تعینات کی جائے گی لیکن افغانستان میں جو امن فوج لائی جا رہی ہے، ا س کی سربراہی برطانیہ کے جنرل میکال کریں گے جو غیر جانب دار ملک نہیں بلکہ افغانستان پر حملہ آور فوج کا اتحادی ہے۔ 

اسی طرح اس سوال کا بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں مل سکا کہ افغانستان پر مسلط کی جانے والی جنگ کا جواز کیا ہے؟ کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی کسی قرارداد میں افغانستان پر حملہ تجویز کیا تھا؟ انہوں نے اس سلسلے میں وہ قرارداد پڑھ کر سنائی اور کہا کہ اس قراداد میں افغانستان پر حملہ کرنے کا کوئی ذکر تک موجود نہیں ہے۔ شرم کی بات ہے کہ کسی نے بھی سوائے ملائشیا کے امریکا اور اس کے اتحادیوں سے یہ تک نہیں پوچھا کہ تم کس قانون کے تحت یہ حملہ کر رہے ہو؟ افغانستان پر حملہ کرنے والی فوج اقوام متحدہ کی نہیں بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی فوج ہے۔ یہ سوال پاکستان بھی اٹھا سکتا تھا۔ مانا کہ پاکستان پر دباؤ بہت تھا مگر وہ اگر قانونی سوال اٹھاتا تو جواب بھی ملتا۔ ہم یہ سارے سوال قانونی طور پر پوچھ سکتے تھے۔

ہماری خارجہ پالیسی کا بھی عجیب عالم ہے کہ ہم ایک ایک اور دو دو دنوں میں اپنی پالیسی بدل دیتے ہیں اور ہمیں طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پالیسیوں کا علم نہیں ہوتا۔ جنرل پرویز مشرف نے ۱۰ نومبر کو اقوام متحدہ سے خطاب کیا اور کہا کہ شمالی اتحاد کو کابل پر قبضہ نہ کرنے دیا جائے۔ بش نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کی توثیق کر دی کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے مگر ۲۴ گھنٹے بعد شمالی اتحاد والے کابل پر قابض ہو گئے۔ لندن میں ہمارے وزیر خارجہ عبد الستار نے بیان دیا کہ شمالی اتحاد والوں کو لگام دی جائے اور جب وہ قابض ہو گئے تو ان کے حق میں بیان دے دیا۔ ایک ملک میں اتنی جلدی خارجہ پالیسی بدلنے کی کوئی دوسری مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ 

حالت یہ کہ بم ہمارے پاکستانی علاقوں تک میں گرتے رہے ہیں لیکن ہم نے اس پر بھی کبھی احتجاج نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پورا عالم اسلام سخت خطرے میں ہے اس لیے اگر ہم آواز اٹھانا نہیں چاہتے، ہمارے سروں پر موجود خطرے کو محسوس نہیں کرتے، اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو نہیں سمجھتے تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے اور ہمیں امریکا کی ۵۳ ویں یا ۵۴ویں ریاست بننے پر کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے اور عملاً امریکا کی قیادت ایسا ہی کر رہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ ہم واپس نہیں جائیں گے۔

سیمینار کی طرف سے جاری کردہ ’’کراچی ڈیکلریشن‘‘

جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے زیر اہتمام ہونے والے دو روزہ سیمینار میں اسکالرز، محققین کے پیش کردہ مقالات، پاکستان بھر سے ارسال کردہ عوام کے سوالات، سیمینار کے دوران ہونے والے سوال وجواب کی روشنی میں وقت کا یہ تقاضا سامنے آتا ہے کہ عالم اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ تیزی سے بدلتی دنیا، انسانی سوچ کی پیش رفت، عالمی معاشی نظام میں اتار چڑھاؤ، بین الاقوامی سیاسی علاقائی تعلقات، جدید سائنسی اور فکری معاملات کا آزادانہ اور خود مختارانہ تنقیدی تجزیہ جاری رکھے۔ سیمینار میں ہونے والے مباحثے کے نتیجے میں یہ حقیقت بھی بار بار اپنا وجود منواتی رہی ہے کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم (او آئی سی) کو پہلے سے زیادہ فعال اور پہلے سے زیادہ منظم ہونا چاہیے اور اس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ باہمی مذاکرات کے نتیجے میں اس کو یورپین یونین کی طرح مسلمان ملکوں کی یونین کہا جانا چاہیے جو حکومتی شراکت، آزادی اور انسانی حقوق کی مظہر ہو۔ 

۱۱ ستمبر کو نیو یارک میں فنانس ٹریڈ سنٹر، واشنگٹن میں پینٹاگون پر طیارے ٹکرانے سے ہونے والی دہشت گردی کو قابل مذمت اقدام قرار دیتے ہوئے سیمینار کے شرکااور سامعین نے کھلے الفاظ میں کہا کہ اسلامی تعلیمات اور تہذیب میں ایسے وحشیانہ اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی بھی مسلمان کو ایسے عمل میں ملوث نہیں ہونا چاہیے جس سے بے گناہ عام شہریوں کی جان اور مال کو خطرہ لاحق ہو۔ 

سیمینار کے شرکا اور سامعین دو روزہ اظہاریوں اور مباحثوں کے بعد اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں جس طرح جدید ترین جنگی ہتھیار استعمال کیے، شہری ٹھکانوں پر حملے کیے، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا، یہ بھی قابل مذمت ہے۔ دہشت گردی کا جنگی طاقت کے ذریعے سے خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اس سے دہشت گردی کے مزید رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ دنیا میں امن وامان، اقتصادی معاملات، بین الاقوامی تعلقات کے نازک امور کو طے کرتے وقت صرف طاقت کی زبان استعمال نہ کرے بلکہ ہر ملک، ہر قوم کے مسائل اور حالات کے اس کے مذہب، تمدن اور مخصوص حالات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے، پھر ان کے حل کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ مغربی ممالک ہر مسئلے کو صرف اپنے تمدن اور ماحول کی روشنی میں حل کرنے کا فیصلہ نہ کریں۔

یہ سیمینار تمام مسلمان ملکوں اور حکومتوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے ہاں نوجوان ذہنوں میں جنم لینے والے تمام سوالات کا جواب دینے کا اہتمام کریں۔ ان کی سوچوں کو طاقت سے نہ دبائیں، ان کی الجھنوں کو دور کرنے کے لیے عام مباحثوں کا ماحول فراہم کریں، تقریر وتحریر اور اجتماع کی آزادی، ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ سیمینار تمام مسلمان ملکوں سے اپیل کرتا ہے کہ و ہ اپنے ہاں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔ ہر شہری بلا امتیاز مذہب اور جنس لازمی طور پر ابتدائی تعلیم ضرور حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات بھی تعلیم کے حصول کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ یہ سیمینار تمام مسلمان ملکوں سے یہ بھی اپیل کرتا ہے کہ روزگار کے حصول، علاج معالجے کی بنیادی سہولتوں اور زندگی کی بنیادی ضروریات، پینے کا صاف پانی، شفاف ماحولیات کی فراہمی میں اپنا بنیادی کردار ذمہ داری سے ادا کرے۔ اس کے علاوہ ان وجوہ اور اسباب کا بھی جائزہ لیا جائے جن کے نتیجے میں دہشت گردی کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور ان تنازعات کو حل کیا جائے جن کی وجہ سے عالمی امن کو سخت خطرہ ہے۔

یہ سمینار مسلمان ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹیوں کے درمیان ایسے انتظامات کریں کہ طلبہ اور اساتذہ کے باضابطہ تبادلے ہوں۔ اہم واقعات اور موضوعات پر ان یونیورسٹیوں میں سیمینارز، ورک شاپس اور کانفرنسیں منعقد ہونی چاہییں۔ مسلمان اسکالرز اور محققین کی آپس میں ملاقاتیں اور تبادلہ خیال عالم اسلام میں اجتماعی طور پر اتفاق رائے کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ سیمینار مسلمان ملکوں کے اخباری اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ آپس میں خبروں، مضامین، رپورٹوں ، ملاقات اور تصاویر کے تبادلے کا اہتمام کریں تاکہ دنیا بھر میں مسلمان ایک دوسرے کے سیاسی ، سماجی، معاشی اور علمی حالات سے باخبررہیں۔ یہ سیمینار علماء کرام اور دینی مدارس کے مہتمم حضرات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے نصاب میں جدید ترین علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی تازہ ترین تبدیلیوں کو بھی شامل کریں۔ ان مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ اور طالبات کی اگر حالات حاضرہ پر گہری نظر ہو تو وہ یقیناًاپنے اپنے معاشرے میں ایک فعال اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر سکیں گے۔

عالم اسلام اور مغرب

(جنوری ۲۰۰۲ء)

Flag Counter