طوفان الاقصیٰ اور امت کی ذمہ داریاں

اسماعیل ہنیہ

ترجمہ: مولانا ڈاکٹر عبد الوحید شہزاد

الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے تحت ۶ تا ۱۱ جنوری ۲۰۲۴ء سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں عالمِ اسلام سے علماء کرام نے شرکت کی۔ اس سیمینار میں ایک سیشن ’’دور الامۃ و طوفان الاقصیٰ‘‘ کے عنوان پر منعقد کیا گیا۔ جس میں اسماعیل ہنیہ نے طوفانِ اقصیٰ  کے اسباب اور علماء کی ذمہ داریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ جس کا ترجمہ ذیل ہے:



’’ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اہلِ فلسطین کے سینوں میں جذبۂ جہاد اور دشمن سے مزاحمت کی روح پھونکنے میں علماء ربانیین کا اہم کردار ہے۔ ان میں سے کچھ اپنی مراد پا چکے ہیں (شہید ہوچکے ہیں) اور کچھ ابھی ارضِ فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت کے لیے میدانِ جہاد میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔

میرے بھائیو، بہنو! اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس امت کی خصوصیات میں سے سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ یہ راہ حق میں شہادت پیش کرنے کا داعیہ رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کو یہ مقام حاصل ہے کہ اس کو شہداء کی امت کہا جاتا ہے، اور اس کو یہ مقام اس لیے حاصل ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور سے لے کر آج تک یہ امت راہِ حق میں اور دینِ اسلام کی اشاعت کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر رہی ہے۔ اور یہ امر قابلِ تعجب بھی نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے مختلف علاقوں کو فتح کرتے ہوئے اور جہاد کے علم کو بلند کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور جزیرہ عرب سے باہر مدفون ہوئے، اس لیے اس امت کو یہ بلند مقام حاصل ہے کہ یہ حق کے راستے میں شہادتیں پیش کرنے والی امت ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: فقاتل في سبيل اللہ لا تكلف الا نفسك وحرض المؤمنين عسی اللہ ان يكف باس الذين كفروا واللہ اشد باسا واشد تنكيلا- النساء ۸۴ (پس اے نبی! تم اللہ کی راہ میں لڑو ، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے لیے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لیے اکساؤ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے۔)

میں آپ کے سامنے اس موقع پر کہ جب اہلِ فلسطین، اہلِ غزہ بالخصوص اپنی شجاعت و بہادری کی عظیم داستان رقم کر رہے ہیں درج ذیل نکات پیش کروں گا:

پہلا نکتہ

طوفانِ اقصیٰ کے معرکہ کے حوالے سے سوال کیا جا رہا ہے کہ حماس نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ اور جہاد و مزاحمت کے میدان میں اس اسٹرٹیجی کو کیوں اختیار کیا گیا؟ اس حوالے سے میں طوفانِ اقصیٰ کے فیصلے سے قبل تین اہم مراحل کا تذکرہ کروں گا جس کی بنیاد پر اس معرکہ کا میدان سجا:

  1. اس معرکہ سے قبل بین الاقوامی سطح پر مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈال دیا گیا اور عالمی و بین الاقوامی فیصلہ ساز اداروں نے اس مسئلہ سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے یہ باور کروایا کہ یہ اسرائیل کا داخلی مسئلہ ہے جسے وہ اپنی صوابدید کے مطابق حل کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی سطح پر نہ قرارداد پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور نہ اس حوالے سے کوئی سیمینار منعقد کیے گئے۔
  2. اسرائیل کی موجودہ حکومت نسل پرستی اور مذہبی تشدد کا استعارہ بنی ہوئی ہے، جس کی ترجیحات میں قدس اور مسجد اقصیٰ کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے اہلِ فلسطین پر ہر طرف سے گھیرا تنگ کیا ہوا ہے، غزہ کا ۱۷ سال سے محاصرہ کیا ہوا ہے، اور ہزاروں فلسطینی ان کی قید میں ہیں، اور ان کا سب سے اہم ہدف یہ ہے کہ کسی بھی طریقے سے اہلِ غزہ اردن یا مصر کی جانب ہجرت کر جائیں۔ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسجد اقصیٰ (جو قبلہ اول ہے، جہاں سے آپ ﷺ نے معراج کے سفر کا آغاز کیا)، فلسطین کے مغربی کنارے پر آباد مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کر رہے ہیں۔ یہ اس امر پر واضح دلیل ہے کہ وہ اس مسئلہ کو بالجبر ختم کرنا چاہتے ہیں۔
  3. طوفانِ اقصیٰ سے قبل بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی ریاست کو قبول کرنے کی مہم کا زور و شور سے آغاز کیا گیا، جس کے لیے صہیونیوں نے مختلف مکر و فریب گڑھے، اور بین الاقوامی سطح بحیثیت ایک ریاست کا مقام حاصل کرنے کی کوشش شروع کی، جس کے نتیجے میں اس کو بحیثیت ریاست قبول کرنے کا آغاز ہوا، جبکہ اس نے اہلِ فلسطین کا حق مارا ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ فلسطین کے مسئلہ کو زمین بوس کر دیا جائے اور اسرائیل بالجبر اس پر قابض ہو کر اپنی ریاست قائم کر لے۔

اس منظر نامے میں فلسطینی عوام اور مزاحمتی تحریکات، جس میں سرفہرست حماس ہے، نے اللہ رب العزت کے فرمان: ادخلوا علیہم الباب فاذا دخلتموہ فانکم غالبون وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مومنین۔ المائدہ ۲۳ (ان جبّاروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو) پر عمل کرتے ہوئے اس معرکہ کا آغاز کیا ۔ اور سات اکتوبر کا دن فلسطین کی تاریخ ہی میں نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

دوسرا نکتہ

اس وقت اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے جس میں ۷۔ ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا جا چکا ہے جو ہیروشیما کی بربادی کے برابر ہے، جبکہ غزہ کا رقبہ ۳۶۵ کلومیٹر ہے۔ اس جارحیت کے ذریعے اسرائیل درج ذیل اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے:

  • حماس اور دیگر مزاحمتی تحریکات کا قلع قمع کرنا
  • کتائب القسام سے اسرائیلی قیدیوں کو بازیاب کرانا
  • غزہ کے مکینوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کرنا

ان تین اہداف کے حصول کے لیے صہیونی ریاست اپنے منصوبے کے مطابق عمل کر رہی ہے، اس منصوبے میں امریکہ، جرمنی، فرانس وغیرہ کا بھرپور تعاون حاصل ہے، گویا کہ یہ عالمی ساہوکار بھی فلسطین کی نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معرکہ کو ۱۰۰ دن ہونے کے قریب ہے لیکن اس جنگ میں صہیونی ریاست نے اپنے دلسوز اور بھیانک منصوبے کی تکمیل کے لیے چار طریقوں سے اہل فلسطین پر وار کیا ہے: سب سے پہلے انہوں نے بھرپور طریقے سے فضائی حملے کیے، دوسرا یہ کہ انہوں زمینی جنگ کا آغاز کیا، تیسرے مرحلے میں وہ حماس کی قیادت اور اس کے اراکین کو قتل کرنے کے درپے ہیں، چوتھا یہ غزہ کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے غور و فکر کر رہے ہیں کہ حماس کے بعد اس غزہ کی قیادت و سیادت کون کرے گا؟

میر آپ سے سوال ہے کہ کیا ۱۰۰ دن گزرنے کے بعد اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے؟ ہرگز نہیں، دشمن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، جس کے دلائل ذیل ہیں:

  • اسرائیلی حکومت کا سب سے پہلا ہدف یہ ہے کہ غزہ سے حماس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حماس صرف غزہ کی تحریک ہے؟ ہرگز نہیں۔ حماس سارے عالم کے باضمیر انسانوں کی آواز بن چکی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: ومكروا ومكر اللہ واللہ خير الماكرين (آل عمران ۵۴)۔ ارشاد باری تعالی ہے ونريد ان نمن علی الذين استضعفوا فی الارض ونجعلہم ائمة ونجعلہم الوارثين (القصص ۵)۔ اللہ رب العزت نے اس مزاحمت اور استقامت کی بدولت عالمِ اسلام ہی میں نہیں عالمِ غرب میں حماس کے پیغام کو پہنچا دیا ہے اور اب کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں میڈیا کے توسط سے اہلِ غزہ و فلسطین پر اسرائیلی مظالم کی داستان نہیں پہنچی ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کا ہم پر بہت بڑا انعام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن تو ہمارا نام نشان مٹانا چاہتا ہے، لیکن اللہ رب العزت حق و سچ کے نور کا فرمان ہے: یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (الصف ۸)۔ ان شاء اللہ ان کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ گویا کہ اسرائیل اپنے اس ہدف کے حصول میں ناکام ہو چکا ہے۔
  • جہاں تک قیدیوں کی بازیابی کا معاملہ ہے، اس حوالے سے اسرائیلی حکومت جدید ڈرون جاسوس طیاروں کی مدد سے اپنے قیدیوں کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اپنے ایک قیدی کو بھی تلاش نہ کر پائے، انہوں نے صرف وہی قیدی رہا کروائے جن کو کتائب القسام نے ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران رہا کیا۔ اپنے اس ہدف کے حصول میں صہیونی ریاست ناکام ہو چکی ہے۔
  • اسرائیل کا تیسرا ہدف کہ اہلِ غزہ مصر یا اردن کی جانب ہجرت کر جائیں، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ اہلِ غزہ اپنے سرزمین سے بے حد محبت کرتے ہیں، اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس معرکہ میں سیکڑوں کی تعداد میں شہادتیں ہو چکی ہیں، ان کے گھر مسمار کیے جا چکے، والدین، بہن بھائی شہادت کا تاج پہن چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر کوئی بچہ یا نوجوان مسمار شدہ عمارت سے نکلتا ہے تو یہ نعرہ لگاتا ہے کہ میں فلسطین، حماس اور القدس کے لیے جان دینا اپنے لیے شرف سمجھتا ہوں اور یہ میرے لیے شرف و عزت کی بات ہے۔ دنیا نے اس منظر کا بھی مشاہدہ کیا جب غزہ کے ان باشندوں کو اپنے وطن آنے کی اجازت دی گئی جو دیگر ممالک میں آباد ہی، اور اہلِ غزہ کو دیگر ممالک کی طرف جانے کا پروانہ جاری کیا گیا، تو فلسطینی مہاجرین نے اپنے وطن کی طرف نقل مکانی کی، لیکن غزہ سے کسی نے ہجرت نہیں کی۔ اہلِ غزہ سے اپنی سرزمین سے محبت اور اس کے لیے جان تک قربانی کر دینے کا جذبہ اسرائیل کو اپنے اس ہدف میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ گویا کہ دشمن اس ہدف میں بھی ناکام ہو چکا ہے۔

تیسرا نکتہ

اس وقت غزہ میں دو محاذوں پر جنگ جاری ہے۔ ایک دشمن سے مقابلے کا جبکہ دوسرا اہلِ غزہ کی سکیورٹی کا محاذ ہے:

  1. الحمد للہ پہلے محاذ پر کتائب القسام، سرایا القدس اور دیگر مزاحمتی تحریکوں نے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے مناظر پورے عالم نے دیکھے ہیں۔ دشمن کے مقابلے میں مجاہدین کی تعداد اگرچہ کم ہے لیکن جنگی حکمتِ عملی کے مطابق میدانِ جہاد میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانے بنائے ہوئے ہیں اور ان کے آلاتِ جنگ کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے گزشتہ روز اس معرکہ کے ۱۰۰ دن گزرنے کے بعد یہ اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں مجاہدین سے مقابلہ کرنا صعوبت سے خالی نہیں ہے اور کل سب سے مشکل دن تھا۔
  2. دوسرا محاذ اہلِ غزہ کی حفاظت کا ہے کہ دشمن ایک طویل عرصے سے فضائی حملے کر رہا ہے جس کے نتیجے میں شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے، فلسطین کے مغربی کنارے پر اب تک ۳۵۰ شہادتیں ہو چکی ہیں، گویا غزہ کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مغربی کنارہ اور مسجدِ اقصیٰ غیر محفوظ ہیں۔

میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ بحیثیت عالمِ دین انفرادی و اجتماعی سطح پر ان دو محاذوں پر اہلِ غزہ کی معاونت میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس لیے کہ مسجدِ اقصیٰ کی آزادی اہل ِفلسطین ہی کا فریضہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری امت کا فرض ہے، جس میں وہ اپنا کردار ادا کریں۔ اس حوالے سے اہلِ علم کے فتاوٰی بھی موجود ہیں جن اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ القدس کی آزادی کے لیے اپنی جان اور مال اور ہر قسم کا تعاون کرنا تمام مسلمانوں کا فرض بنتا ہے۔ کتائب القسام کے مجاہدین نے طوفانِ اقصیٰ کا دروازہ کھول دیا ہے، اب اس کو مزید طاقت فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کو مختلف ممالک کی جانب سے اس جنگ کو طول دینے کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ بھرپور طریقے سے حملہ آور ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم مشترکہ مقصد میں اہلِ غزہ کی پشت پناہی کریں۔ اور یہ بات اپنی جگہ اہم ہے معرکۂ طوفانِ اقصیٰ جیسے فیصلے تاریخ میں شاذ و نادر کیے جاتے ہیں۔ اس لیے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔ ان شاء اللہ دشمن منہ کی کھائے گا۔

چوتھا نکتہ

طوفانِ اقصیٰ کے بعد فلسطین سے متعلق امریکہ اور یورپین ممالک کے عوام کی رائے بھی تبدیل ہو چکی ہے کہ جہاں فلسطین کا جھنڈا بلند کرنا بھی جرم تھا، اور یہ رویہ بعض عرب ممالک میں بھی دیکھا گیا، لیکن اس معرکہ نے سارے عالم کے سامنے حقیقت واضح کر دی ہے۔ اس عالمی تغیر کی پس منظر میں اہلِ غزہ کی ثابت قدمی اور اسرائیلی کی جانب سے سخت جارحیت کے باوجود وہ القدس کی آزادی کے لیے پرعزم ہیں۔ اگر وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرتے تو آج ان کو کچل دیا جاتا۔ اس لیے اس فتح عظیم پر خوشی کے ساتھ ساتھ ہمیں ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے درج ذیل امور اپنانے کی سعی کرنی ہو گی:

  • دوحہ (قطر) کی جانب سے انسان دوستی پر مبنی جس اعلامیہ کا اعلان کیا گیا ہے (اس اقدام پر ہم قطر اور دیگر ممالک مشکور ہیں) اس کے لیے ناگزیر ہے کہ ایک ایسا منصوبہ ترتیب دیا جائے جو قابلِ عمل بھی ہو، محض منصوبے کی حد تک نہ رہے۔ اس منصوبے کے لیے عملاً کام کیا جائے۔
  • فلسطین، غزہ اور القدس کی صورتحال اور اس مسئلہ کے حل کے لیے مختلف ممالک سے علماء کا انتخاب کر کے ان کے وفود ترتیب دئیے جائیں جو مسلم و غیرمسلم ممالک کے حکام سے ملاقات کریں، مختلف تحریکات اور انسانی حقوق پر مبنی این جی اوز سے ملاقات کریں، اور ان کے سامنے اس مسئلہ کی حقیقت بیان کریں اور اسرائیلی جارحیت کو رکوانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
  • اس معرکہ کو کامیاب بنانے کے لیے مسلم معاشرے میں فقہ الجہاد بالمال کا تصور پیدا کرنے میں علماء اپنا کردار ادا کریں۔ مسلم معاشرے کی اس نہج تربیت کی جائے اس جہاد میں اپنے مال کے ذریعے حصہ ڈالیں۔ اس لیے اللہ رب العزت نے جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کا حکم دیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: انفروا خفافا وثقالا وجاہدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (التوبہ ۴۱)
  • حقیقت یہ ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد مختلف ممالک سے آنے والے وفود کا استقبال کرتے ہیں، وہ ملاقات کے دوران اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ ان کے نوجوان القدس کی آزادی کے لیے اہلِ غزہ کے ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے حاضر ہیں۔
  • میری تجویز یہ ہے کہ اس سیمینار کی جانب سے اہلِ غزہ کی بہادری و شجاعت اور ان کی ثابت قدمی کی داد دینے کے لیے ایک خط ان کے نام صادر کیا جائے جس میں ان کے شہداء کی شہادت کی قبولیت کے ساتھ ان کے زخمیوں کی داد رسی کی جائے اور اسرائیلی کی قید ۱۰ ہزار فلسطینیوں کی آزادی کے لیے دعا کی جائے۔
  • پورے عالم اسلام سے آئے تمام علماء کرام سے میری درخواست ہے کہ وہ اہلِ غزہ کی ہر قسم کے تعاون کے حوالے سے عامۃ الناس کو آمادہ کریں ۔ تاکہ تمام مسلمان اس کرب میں ان کے ممد و معاون بن سکیں۔‘‘


———————————

مترجم: مولانا ڈاکٹر عبدالوحید شہزاد  —  نائب مدیر مرکز تعلیم و تحقیق اسلام آباد

نائب مدیر مرکز تعلیم وتحقیق، گلشن تعلیم، ایچ ۱۵، اسلام آباد

awaheedshahzad@gmail.com

حالات و مشاہدات

(فروری ۲۰۲۴ء)

فروری ۲۰۲۴ء

جلد ۳۵ ۔ شمارہ ۲

الیکشن میں دینی جماعتوں کی صورتحال اور ہماری ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۹)
ڈاکٹر محی الدین غازی

صفات متشابہات پر متکلمین کا مذہب تفویض و ائمہ سلف
ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

جدید ریاست، حاکمیت اعلیٰ (ساورنٹی) اور شریعت
محمد دین جوہر

ہندوستان میں اسلامی تکثیریت کا تجربہ تاریخی حوالہ سے
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

طوفان الاقصیٰ اور امت کی ذمہ داریاں
اسماعیل ہنیہ

تحریک ریشمی رومال کے خطوط
حافظ خرم شہزاد

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا دستور ساز اسمبلی کی افتتاحی تقریب سے خطاب
ادارہ

روس یوکرائن جنگ اور یورپ کی تیاری
ہلال خان ناصر

مسئلہ فلسطین، قومی انتخابات، وطن عزیز کا اسلامی تشخص
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

انگلش لینگویج کورس کا انعقاد / الشریعہ لاء سوسائٹی کی افتتاحی تقریب
مولانا محمد اسامہ قاسم

فلسطین : ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک کے اعداد و شمار
الجزیرہ

Pakistan’s National Stability and Integrity
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تلاش

Flag Counter