روس یوکرائن جنگ اور یورپ کی تیاری

ہلال خان ناصر

۱۰ جنوری ۲۰۲۴ء کو بی بی سی پر ایک عجیب خبر دیکھنے کو ملی۔ خبر میں بتایا گیا کہ سویڈن کے آرمی چیف اور ڈیفنس منسٹر نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ لوگ ذہنی طور پر جنگ کیلئے تیار ہو جائیں۔ ان کے مطابق روس نے جو دھمکی فن لینڈ کو نیٹو میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد دے رکھی ہے، کہ یوکرائن کے بعد اگلی باری فن لینڈ کی ہے، وہ دھمکی سویڈن پر بھی لاگو ہوگی، کیونکہ سویڈن نے بھی نیٹو میں شامل ہونے کی درخواست جمع کروا رکھی ہے۔ جغرافیائی طور پور روس اور سویڈن کے درمیان ایک فن لینڈ ہی ہے۔ ان کے اس بیان پر عوام اور بہت سی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا ہے۔ مختلف ماہرین کے نزدیک عوام کے سامنے جنگ کی بات کرنا اور وہ بھی اس وقت جب ابھی یوکرائن بھی لڑ رہا ہے، ایک بڑی غلطی ہے، جس سے عوام میں خوامخواہ کی بے چینی اور خوف پھیل رہا ہے۔

آسکر جانسن، سویڈن کی ڈیفنس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ روس سے جنگ ممکن تو ہے، لیکن اتنی جلدی نہیں کہ ابھی سے افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا جائے۔ سویڈن کی روس سے جنگ سے پہلے روس کو یوکرائن میں فتح، پھر اگلی جنگ کی تیاری کیلئے وقت، اور امریکہ کا یورپ کی پشت پناہی کرنے سے خاتمہ درکار ہوگا۔ شاید اسی سوچ اور زاویے سے جرمنی بھی موجودہ صورتحال دیکھ رہا ہے کیونکہ جرمنی نے روس سے جنگ کی تیاری کیلئے جو پلان بنایا ہے اس میں جنگ کا خدشہ آج سے ۶ سال بعد کا ہے۔ اس سب صورتحال میں جو چیز میری نظر میں آئی جس کی وجہ سے اس خبر کو عجیب کا ٹائٹل نوازا، وہ اس ساری صورتحال اور جنگِ عظیم اول کے بعد والے دور میں موجود ایک مماثلت ہے۔

جنگ عظیم اول کے بعد ۱۹۱۹ء میں معاہدہ ورسائے میں جرمنی کے تمام ہتھیار تباہ کر دیے گئے تھے اور مزید ہتھیار بنانے اور حاصل کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی، صرف اپنے دفاع کی حد تک جو چیزیں درکار ہوں ان کی اجازت تھی۔ مگر جرمنی نے معاہدے کے چند سال بعد ہی اس کی خلاف ورزی شروع کر دی جس کو سوائے ونسٹن چرچل کے کسی نے اہمیت نہیں دی۔ چرچل ۱۹۳۳ء سے حکومتوں کی توجہ اس مسئلہ پر لانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہٹلر کی کمانڈ میں جرمنی دوبارہ سے تیاری پکڑ رہا ہے اور جلد ہی حملہ آور ہونے والا ہے۔ لیکن کسی نے چرچل کی بات پر توجہ نہ دی۔ نیول چیمبرلین، جو کہ چرچل سے پہلے ۱۹۳۷ء سے ۱۹۴۰ء تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہے، کے چرچل کے بارے میں الفاظ ’’جنگ کا شوقین ہٹلر نہیں چرچل ہے‘‘ آج بھی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس وقت کے حکمرانوں کے خوابوں میں بھی جرمن حملے کا تصور نہیں تھا کہ وہ تو ابھی شکست کھا کر گرا ہے، اٹھنے میں تو بہت وقت لگے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۹۴۰ء میں جرمنی نے حملہ آور ہو کر صرف چھ ہفتوں میں فرانس کے ساتھ ساتھ تین اور ممالک پر قبضہ کر لیا۔

آج بھی اس وقت کی طرح یورپ اپنی امیدیں امریکہ سے جوڑے بیٹھا ہے مگر دوسری جنگِ عظیم کے امریکہ اور آج کے امریکہ میں فرق ہے۔ ایک فرق بتاتا چلوں کے اس وقت امریکہ کی مکمل سپورٹ یورپ کو حاصل تھی جس کی وجہ سے جنگِ عظیم میں ان کو کامیابی ملی۔ لیکن اب کے امریکہ نے چائنہ سے لڑنے کیلئے جنوبی کوریا اور جاپان کو، اور مسلمانوں سے لڑنے کیلئے اسرائیل کو بھی سپورٹ دے رکھی ہے جس میں سب سے زیادہ ترجیح اسرائیل کو حاصل ہے۔ اس کا ثبوت اس وقت غزہ میں ہونے والی جنگ ہے کہ اس کے شروع ہوتے ہی یوکرائن سے امداد کا رخ اور توجہ اسرائیل کی طرف منتقل ہوگیا جس کی وجہ سے پچھلے ۲ مہینوں میں روس نے یوکرائن کو اتنا نقصان پہنچا دیا ہے جتنا سال کے شروع سے اکتوبر تک نہیں پہنچا پایا۔

حالات و مشاہدات

(فروری ۲۰۲۴ء)

فروری ۲۰۲۴ء

جلد ۳۵ ۔ شمارہ ۲

الیکشن میں دینی جماعتوں کی صورتحال اور ہماری ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۹)
ڈاکٹر محی الدین غازی

صفات متشابہات پر متکلمین کا مذہب تفویض و ائمہ سلف
ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

جدید ریاست، حاکمیت اعلیٰ (ساورنٹی) اور شریعت
محمد دین جوہر

ہندوستان میں اسلامی تکثیریت کا تجربہ تاریخی حوالہ سے
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

طوفان الاقصیٰ اور امت کی ذمہ داریاں
اسماعیل ہنیہ

تحریک ریشمی رومال کے خطوط
حافظ خرم شہزاد

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا دستور ساز اسمبلی کی افتتاحی تقریب سے خطاب
ادارہ

روس یوکرائن جنگ اور یورپ کی تیاری
ہلال خان ناصر

مسئلہ فلسطین، قومی انتخابات، وطن عزیز کا اسلامی تشخص
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

انگلش لینگویج کورس کا انعقاد / الشریعہ لاء سوسائٹی کی افتتاحی تقریب
مولانا محمد اسامہ قاسم

فلسطین : ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک کے اعداد و شمار
الجزیرہ

Pakistan’s National Stability and Integrity
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تلاش

Flag Counter