ریاستی نظام کی تنقید کے مروجہ رجحانات

محمد عمار خان ناصر

نظام حکمرانی کی تنقید کے حوالے سے  ہمارے ہاں مختلف زاویے اور بیانیے موجود ہیں۔ ہمارا  مجموعی تاثر یہ ہے کہ ہمارا، سیاسی تنقید کا غالب پیرایہ زمینی سیاسی حقیقتوں سے قطعی طور پر غیر متعلق ہے اور اس کی وجہ تنقید کے صحیح اور متعلق (relevant) فکری وسائل کی کم یابی یا نایابی ہے۔

اس وقت سیاسی تنقید کے جو اسالیب کسی نہ کسی سطح پر ذرائع ابلاغ میں دستیاب ہیں، انھیں ہم حسب ذیل مختلف درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:

۱۔ غالب ترین پیرایہ تنقید شخصی حکمرانی، یعنی بادشاہت یا خلافت کے دور سے چلے آنے والے معیارات پر مبنی ہے۔ اس میں حکمران کے اچھے یا برے ہونے یعنی مختلف طرح کے شخصی اوصاف سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ نظام حکمرانی کیسا ہے یا کیسا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر مذہبی ذہن تو ابھی تک حضرت عمر اور حضرت عمر بن عبد العزیز کا حوالہ دیتا ہے کہ اگر ان جیسے اوصاف کے حامل حکمران ہمیں مل جائیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اسی انداز فکر کے تحت بہت سے مذہبی سیاسی ’’مفکرین “ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر مختلف طریقوں سے اچھے اور نظریاتی لوگ ریاستی نظام کے مختلف مناصب تک پہنچا دیے جائیں تو ملک میں اسلامی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

اب زمینی صورت حال یہ ہے کہ جدید ریاست قطعی طور پر ایک غیر شخصی اور انتہائی پیچیدہ ادارہ ہے۔ اس میں کسی طاقتور سے طاقتور فرد کو اس اختیار کا سوواں حصہ بھی حاصل نہیں جو بادشاہی نظام میں بادشاہ کو حاصل ہوتا ہے۔ (اگرچہ یہ مفروضہ اپنی جگہ قابل اصلاح ہے کہ بادشاہ کے پاس اختیار یا طاقت کی کوئی جادو کی چھڑی ہوتی تھی جس کے آگے کوئی اور قوت مزاحم نہیں ہو سکتی تھی)۔ بہرحال، ہمارا عمومی سیاسی شعور ابھی اسی سطح پر سوچتا ہے۔

۲۔ سیاسی تنقید کا اس سے اگلا درجہ جدید ریاستی نظام میں اداروں کے کردار اور ادارہ جاتی کارکردگی پر ارتکاز کرتا ہے۔ یہ تنقید آپ کو کئی سیاسی راہ نماوں اور اہل صحافت کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ اس سطح پر کم سے کم اتنا ادراک حقیقت ضرور پایا جاتا ہے کہ شخصی حکومت کے معیارات اس نظام پر منطبق نہیں ہوتے اور ادارہ جاتی کارکردگی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

۳۔ سیاسی تنقید کی اس سے اگلی سطح یہ ہے کہ ادارہ جاتی نظام کو چلانے والی اصل طاقتوں اور حرکیات کی نشان دہی کی جائے، ان پر نظر رکھی جائے اور دیکھا جائے کہ بظاہر ایک قانونی وآئینی ڈھانچے کے ذریعے سے آگے بڑھنے والا سیاسی عمل حقیقت میں ریاستی ذمہ داریوں کو کس حد تک پورا کر رہا ہے۔ کیا اس بندوبست سے صرف بالادست اور مراعات یافتہ یا حصول مراعات کی مسابقت میں شریک مختلف طبقات کے مفاد کی حفاظت ہو رہی ہے یا معاشرے کے عام طبقوں کے مسائل ومشکلات کو بھی کوئی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ تنقید آپ کو تقریباً‌ نہ ہونے کے برابر ملے گی۔ بہت کم اہل صحافت (مثلاً‌ آصف محمود ایڈووکیٹ) ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔

۴۔ سیاسی تنقید کی اس سے بھی اگلی سطح یہ ہے کہ ہماری ریاست جس بین الاقوامی نظام کا حصہ ہے، اس کے بھی اپنے خاص مطالبات اور ترجیحات ہیں اور یہ نظام بھی ان گنت طریقوں سے آئینی، قانونی اور جمہوری عمل پر اور حکومتی طبقات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ایک بڑی سطح پر ہمارے جیسی سیاسی طور پر کمزور اور اسٹریٹجک پہلو سے بہت غیر محفوظ ریاستیں اس عالمی نظام اور اس کے طاقت ور اسٹیک ہولڈرز کے ہاتھوں میں ایک کھلونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور ضروری نہیں کہ اس نظام کی اصل قوتیں عالمی حکومتوں یا اداروں کی صورت میں ہمیشہ نمایاں اور سامنے ہوں۔ عالمی سرمایہ داری نظام کی قوت اور اثر ورسوخ کے بہت سے غیر مرئی اور پس پردہ پہلو بھی ہیں جن کو سمجھنے کے لیے بھی ایک غیر معمولی ذہنی کاوش اور محنت درکار ہے۔ سیاسی تنقید کا یہ پہلو تو شاید ہمارے ہاں بالکل اجنبی ہے۔ محمد دین جوہر صاحب یا ڈاکٹر اختر علی سید کی بعض تحریروں میں البتہ اس کی طرف ضرور اشارات ملتے ہیں۔

(یہ واضح رہے کہ ہمارے ہاں عام مروج ’’سازشی بیانیے“ کا اس پہلو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس بیانیے کے لیے کسی تفہیم یا تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی، بس ہر چیز کو ’’سازش “ کا نام دے دینا کافی ہوتا ہے)۔

۵۔ جدید ریاست کی ساخت پر ایک اور تنقید مغربی اہل علم مثلاً‌ مشل فوکو، کارل شمت اور اگیمبن وغیرہ نے پیش کی ہے اور وائل حلاق جیسے اہل علم کی تنقیدات ان کا حوالہ دیتی ہیں۔ یہ تنقید کافی پیچیدہ ہے، بہت تجریدی نوعیت کی ہے اور کافی  جاروبی قسم کے بیانات پر مشتمل ہے۔ ہماری ناقص رائے میں کم سے کم موجودہ مرحلے میں ہماری ریاست کے مسائل کو سمجھنے میں یہ تنقید بہت زیادہ مدد نہیں کرتی اور شاید سردست ہم اس سے صرف نظر کر سکتے ہیں۔

پس  یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی صورت حال حقیقت میں کیا ہے، وہ کس سطح کی ذہنی وفکری محنت مانگتی ہے اور ہم نے خود کو سیاسی تنقید کی کس سطح پر الجھا کر رکھا ہوا ہے۔

عمران خان کی سیاسی مقبولیت

عمران خان کی مقبولیت کے اسباب کیا ہیں؟ وہ طبقے جو خود پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیے سے اتفاق نہیں رکھتے، ان کی طرف سے اس کے مختلف نفسیاتی وسیاسی تجزیے پیش کیے گئے ہیں اور سب میں جزوی طور پر وزن محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً‌ یہ کہ

1۔ خاندانی یا موروثی سیاست دان نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ خصوصاً‌ نوجوان اس کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔

2۔ بڑی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور سیاسی قائدین کے ساتھ وابستہ بدعنوانی وغیرہ کے الزامات کی وجہ سے ایک متبادل سیاسی قیادت کی خواہش معاشرے میں موجود ہے جو موجودہ حالات میں عمران خان ہی ہے۔

3۔ پوری دنیا میں پاپولسٹ سیاست دانوں کی مقبولیت کا ایک عمومی چلن ہے۔ حالات کی پیچیدگی، مشکلات اور چیلنجز کے سامنے ایک عام آدمی کو جو حوصلہ، اعتماد اور امید چاہیے ہوتی ہے، وہ ایسے لیڈر فراہم کرتے ہیں اور خود کو حتمی حل کے طور پر اس طرح پیش کرتے ہیں جو عام آدمی کو اپیل کرتا ہے۔

4۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کو بیرونی سازش سے جوڑنے اور اس کے قرائن وشواہد اجاگر کرنے کا بیانیہ کامیابی سے تشکیل دیا جس کو پذیرائی ملی اور گویا قومی حمیت کے جذبے کو خان صاحب نے مہارت سے استعمال کر کے سیاسی قوت حاصل کی۔

ان سب تجزیوں میں یقیناً‌ وزن ہے اور یہ سارے پہلو اہمیت رکھتے ہیں۔ البتہ ایک پہلو میرے خیال میں سب سے اہم ہے جس پر عام طور پر تجزیوں میں توجہ نہیں دی گئی۔

یہ پہلو ’’مفاد پرستی کی وجہ سے بے وفائی“ کے احساس کا ہے جس کا رخ مقتدرہ کی طرف ہے۔ یہ ویسے تو واضح ہے، لیکن اس کو درست طور پر سمجھنے کے لیے کچھ تشریح کی ضرورت ہے۔

مقتدرہ کے ساتھ سیاسی قوتوں کی معاملہ بندی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ سیاست کا ایک معمول ہے، لیکن عمران خان کے معاملے میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے جتنی بھی سیاسی قوتوں کے ساتھ معاملہ کیا گیا، وہ خالصتاً‌ اشتراک مفاد کی بنیاد پر یعنی قطعی طور پر سیاسی معاملہ تھا۔ اس میں فریقین پر ابتدا سے یہ واضح تھا کہ یہ ایک لین دین ہے، اس کی بنیاد کسی اخلاقی مقصد پر نہیں ہے۔ عمران خان کے ساتھ معاملہ اس اصول پر نہیں کیا گیا۔ عمران خان کے ساتھ معاملہ مخالف سیاسی قوتوں کے خلاف ایک اخلاقی مقدمے کی بنیاد پر کیا گیا اور نہ صرف عمران خان کو بلکہ ان کے لیے عدلیہ اور میڈیا میں زمین ہموار کرنے والوں کو بھی یہی باور کرایا گیا کہ مقتدرہ اخلاقی بنیادوں پر بدعنوان سیاستدانوں سے نالاں ہے اور قوم کو ان سے چھٹکارا دلانا چاہتی ہے۔

اگر اس زاویے سے دیکھیں تو سمجھ میں آئے گا کہ کیوں سفر کے درمیان میں مقتدرہ کا ان کی حمایت سے اچانک دستکش ہو جانا عمران خان کے لیے قابل فہم نہیں تھا اور کیوں وہ اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے نقطہ نظر سے یہ تعلق کسی مفاد یا باہمی لین دین کے اصول پر قائم ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک اخلاقی معاہدہ تھا جس میں فریقین نے مل کر ہر طرح کا بوجھ اٹھانا اور ہر طرح کے دباو کا سامنا کرنا تھا۔ اگر عمران خان کی فوری کارکردگی متاثر کن نہیں تھا تو معاہدے کی اخلاقیات کی رو سے اس کا جواز نہیں بنتا تھا کہ مقتدرہ اپنے کپڑے جھاڑ کر ایک طرف ہو جائے۔

اس سیاق میں مقتدرہ نے جن اسباب سے بھی اور جس دباو کے تحت بھی حمایت سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہو، عمران خان کے لیے قطعی طور پر ناقابل فہم تھا۔ وہ اس کو سیاسی زاویے سے دیکھ ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ ان کے لیے یہ ایک اخلاقی کمٹمنٹ کو توڑنے کا اور گویا ذاتی نوعیت کی بے وفائی کا معاملہ تھا۔ اسی سے ان کے شدید ردعمل اور مقتدرہ کے خلاف جارحانہ سیاسی بیانیے کی اصل وجہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔

یہی ’’صدمہ “ صحافت میں ان لوگوں کو بھی پہنچا جو مقتدرہ کی اخلاقی کمٹمنٹ کے گواہ تھے اور عمران خان نے جب اس کو سیاسی بیانیے کی شکل دی تو صرف ان کے سابق حمایتیوں کو نہیں، بلکہ بڑی تعداد میں دوسرے لوگوں کو بھی اس میں مقتدرہ کی مفاد پرستی اور اخلاقی بدعہدی اتنے نمایاں طور پر دکھائی دی کہ ان کے پاس عمران خان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونے یا کم سے کم اس کے لیے ہمدردی محسوس کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔

غور کیا جائے تو اس معاملے میں مقتدرہ نے وہی حرکت کی جو روس کے خلاف جذبہ جہاد سے تیار کی گئی نسل کے ساتھ کی تھی۔ مقتدرہ کے نقطہ نظر سے یہ ایک اسٹریٹجک معاملہ تھا، لیکن جو نسل تیار کی گئی، اس کو یہ باور کرایا گیا کہ یہاں اسلام کے عالمی غلبے کا لانچنگ پیڈ بنایا جا رہا ہے اور آج روس کے گرنے کے بعد کل ہندوستان اور امریکا کی باری ہوگی۔ یہ قول وقرار کرنے کے بعد جب آپ ایک فون کال پر امریکا کا جنگی حلیف بننے کا فیصلہ کر لیں اور طاقت کے نشے میں جامعہ حفصہ جیسے سانحے کو جنم دے دیں جس سے قطعی طور پر گریز ممکن تھا تو پھر انسانی ردعمل وہی ہو سکتا تھا جو اس کے بعد ہوا۔


اسلام اور سیاست

(مارچ ۲۰۲۳ء)

تلاش

Flag Counter