اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(471) المتقین کا ترجمہ

درج ذیل دونوں آیتوں میں متقین کا ترجمہ صاحب تدبر نے ’نقض عہد سے بچنے والوں‘ کیا ہے۔ یہ ترجمہ موزوں نہیں ہے۔ متقی قرآن کی معروف اصطلاح ہے۔ تقوی اختیار کرنے یعنی اللہ کی ناراضگی سے بچنے والے کو متقی کہتے ہیں۔ عہد کی پاس داری کرنا اور عہد شکنی سے بچنا تقوی کا ایک تقاضا تو ہے لیکن تقوی کااصل مفہوم عہد شکنی نہیں ہے۔ تقوی کا یہ تقاضا تفسیر میں بتایا جاسکتا ہے۔ ترجمہ ملاحظہ ہو:

(۱) فَأَتِمُّوا إِلَیْہِمْ عَہْدَہُمْ إِلَی مُدَّتِہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ۔ (التوبۃ: 4)

”سو ان کے معاہدے ان کی قرار دادہ مدت تک پورے کرو۔ بے شک اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے“۔ (سید مودودی)

موخر الذکر ترجمے کے بارے میں تین باتیں قابل توجہ ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ آیت میں حصر کی کوئی علامت نہیں ہے، اس لیے ’متقیوں ہی‘ کے بجائے صرف ’متقیوں‘ ہونا چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ إِنَّ کا ترجمہ ’کیوں کہ‘ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ إِنَّ کا ترجمہ ’بے شک‘ کیا جائے گا۔ لفظ کے پہلو سے یہ درست اور معنویت کے اعتبار سے بھی زیادہ موزوں ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ أتم العھد کا مطلب عہد وفا کرنا نہیں، بلکہ معاہدہ پورا کرنا ہے۔ فَأَتِمُّوا إِلَیْہِمْ عَہْدَہُمْ إِلَی مُدَّتِہِمْ کا ترجمہ ہوگا: ’ان کی مدت تک ان کے معاہدے پورے کرو۔‘ مطلب یہ ہے کہ جو معاہدے ہوگئے ہیں انھیں مدت سے پہلے ختم نہ کرو بلکہ جو مدت طے ہوئی ہے، اس مدت تک باقی رکھو۔ عہد وفا کرنے کا مطلب ہے عہد کی خلاف ورزی سے بچنا جب کہ معاہدہ پورا کرنے کا مطلب ہے معاہدہ ختم کرنے سے بچنا۔ دونوں باتوں میں فرق ہے۔ یہاں عہد وفا کرنے کی نہیں معاہدہ پورا کرنے کی بات ہے۔

(۲) فَمَا اسْتَقَامُوا لَکُمْ فَاسْتَقِیمُوا لَہُمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ۔ (التوبۃ: 7)

”تو جب تک وہ تمہارے لیے قائم رہیں تم بھی ان کے لیے معاہدے پر قائم رہو۔ بے شک اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے“۔ (سید مودودی)

یہاں بھی إِنَّ کا ترجمہ ’کیوں کہ‘ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ إِنَّ  کا ترجمہ ’بے شک‘ کیا جائے گا۔

چوں کہ فَمَا اسْتَقَامُوا لَکُمْ فَاسْتَقِیمُوا لَہُمْ معاہدے کے سیاق میں ہے اس لیے اس جملے کا ترجمہ ہوگا: ”جب تک وہ تمہارے ساتھ معاہدے پر قائم رہیں، تم بھی ان کے ساتھ معاہدے پر قائم رہو۔“

(472) فَہُمْ فِی رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُونَ

درج ذیل آیت میں ’فِی رَیْبِہِمْ‘ حال ہے نہ کہ ’یَتَرَدَّدُونَ‘ کا ظرف۔ شک میں ڈانوا ڈول ہونے کا کوئی مطلب نہیں بیٹھتا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ شک کی حالت میں ہیں اس لیے کوئی فیصلہ نہیں کرپا رہے ہیں بس پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ کچھ ترجمے ملاحظہ کریں:

 وَارْتَابَتْ قُلُوبُہُمْ فَہُمْ فِی رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُونَ۔ (التوبۃ: 45)

”اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور جن کے دل شک میں مبتلا ہیں اور وہ اپنے شک میں ڈانوا ڈول ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو وہ شک کی حالت میں پیچ و تاب کھارہے ہیں۔“

اسی جہت میں درج ذیل ترجمہ بھی ہے:

”اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں سو وہ اپنے شکوک میں پڑے ہوئے حیران ہیں“۔ (اشرف علی تھانوی)

(473) فَاِنْ رَجَعَکَ اللَّہُ إِلَی طَائِفَۃٍ مِنْہُمْ

فَإِنْ رَجَعَکَ اللَّہُ إِلَی طَاءِفَۃٍ مِنْہُمْ فَاسْتَأْذَنُوکَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِیَ أَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِیَ عَدُوًّا۔ (التوبۃ: 83)

”اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا کہ، اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو“۔ (سید مودودی)

اس ترجمہ میں لفظی ترکیب کی رعایت نہیں ہوسکی ہے۔ آیت میں ان کے گروہ کی طرف واپس لانے اور اس گروہ کے اجازت مانگنے کا ذکر ہے، نہ کہ ان کی طرف واپس لانے اور ان کے کسی گروہ کے اجازت مانگنے کا۔

اس پہلو سے درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”پھر اے محبوب! اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو“۔ (احمد رضا خان)

اوپر کے دونوں ترجموں میں ایک اور بات قابل توجہ ہے وہ یہ کہ لَنْ تَخْرُجُوا اور لَنْ تُقَاتِلُوا کا ترجمہ ’نہیں چل سکتے‘ اور ’نہیں لڑسکتے‘ یا ’نہ چلو‘ اور ’نہ لڑو‘ سے زیادہ موزوں ’کبھی نہیں نکلو گے‘ اور ’کبھی نہیں لڑو گے‘ ہے۔

”پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے“۔ (فتح محمد جالندھری)

رَجَعَکَ کا ترجمہ ’لے جائے‘ کے بجائے ’واپس لائے‘ ہونا چاہیے۔

درج ذیل ترجمہ مذکورہ کمیوں سے خالی ہے:

”سو اگر پھیر لے جاوے تجھ کو اللہ کسی فرقے کی طرف ان میں سے پھر یہ رخصت چاہیں تجھ سے نکلنے کو تو تو کہہ کہ تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ کسی دشمن سے“۔ (شاہ عبدالقادر)

(474) یُقْتَلُونَ کا ترجمہ

یُقْتَلُ کا مطلب مرنا نہیں بلکہ قتل کیا جانا اور مارا جانا ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے بعض حضرات اس فرق کا لحاظ نہیں کرسکے۔

 یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ۔ (التوبۃ: 111)

”لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں اور مریں“۔ (احمد رضا خان)

”وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پس مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”یہ لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر خود بھی قتل ہوجاتے ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

یہ آخری ترجمہ بہت نامناسب ہے۔ اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ قتل کرنے کے بعد وہ خود کو قتل ہونے کے لیے پیش کردیتے ہیں۔ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ایمان والے جنگ کرتے ہیں جس میں دونوں طرح کے انجام کے لیے وہ تیار رہتے ہیں، قتل کرنے میں بھی انھیں باک نہیں ہوتا اور قتل کیے جانے سے بھی وہ نہیں ڈرتے۔ یہاں قتال کا ترجمہ جہاد بھی درست نہیں ہے۔

درج ذیل ترجموں میں لفظ کی رعایت کی گئی ہے:

”یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی اور اشرف علی تھانوی)

(475) عَنْ یَدٍ کا ترجمہ

درج ذیل آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے۔

حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُونَ۔ (التوبۃ: 29)

”یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں“۔ (سید مودودی)

”جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر“۔ (احمد رضا خان)

”یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”یہاں تک کہ وہ ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں“۔ (محمد جوناگڑھی)

’اپنے ہاتھ سے‘ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے ایسے موقع پر حرف باء آتا ہے،یعنی ’بید‘ کی تعبیر لائی جاتی ہے۔ ’عن ید‘ یہاں طاقت کے معنی میں ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ دیکھیں: 

”یہاں تک کہ وہ طاقت کے زور پر چھوٹے بن کر جزیہ دیں“۔ طاقت کے زور پر یعنی چار و ناچار وہ جزیہ دینے پر مجبور ہوں۔ جزیہ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ جس گھمنڈ اور تکبر کی بنا پر وہ حق کی مخالفت اور اہل حق سے جنگ کررہے تھے، ٹوٹ چکا ہے۔

(476) فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِی الْاَخِرَۃِ إِلَّا قَلِیلٌ

فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِیلٌ۔ (التوبۃ: 38)

درج بالا جملے کا ترجمہ حسب ذیل کیا گیا ہے:

 ”سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھ یونہی سی ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا“۔ (احمد رضا خان)

”آخرت کے مقابلے میں یہ دنیا کی زندگی تو نہایت ہی حقیر ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا ترجموں میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ تاہم درج ذیل ترجمہ عام ترجموں سے مختلف ہے، اس میں فی کا ترجمہ مقابلے  (اصطلاح میں مقایسہ)کے بجائے ظرف کے معنی میں کیا ہے:

”ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا“۔ (سید مودودی)

اسلوب کلام کو سامنے رکھیں تو یہ ترجمہ کم زور معلوم ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسی طرح کے دوسرے قرآنی جملے میں موصوفؒ نے عام مترجمین کے طرز پر ترجمہ کیا ہے:

وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ۔ (الرعد: 26)

”حالانکہ د نیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں“۔ (سید مودودی)

(477) عَفَا اللَّہُ عَنْکَ کا ترجمہ

بہت سے لوگوں نے درج ذیل جملے کو دعائیہ مان کر ترجمہ کیا ہے، لیکن اس پر اشکال ہے کہ جب اللہ ہی دعا قبول کرنے والا ہے تو وہ اپنے آپ سے کیسے دعا کرے گا؟ اس لیے صحیح توجیہ یہ ہے کہ اس جملے کو خبریہ مانا جائے کہ اللہ نے معاف کردیا۔ بعض ترجمے ملاحظہ ہوں:

عَفَا اللَّہُ عَنْکَ۔ (التوبۃ: 43)

”اللہ بخشے تجھکو“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اے نبیؐ، اللہ تمہیں معاف کرے“۔ (سید مودودی)

”اللہ تجھے معاف فرما دے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”خدا تمہیں معاف کرے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اللہ تمہیں معاف کرے“۔ (احمد رضا خان)

اس کے برعکس بعض لوگوں نے عَفَا اللَّہُ عَنْکَ کو دعائیہ کے بجائے خبریہ جملہ مانا ہے اور اس کے مطابق ترجمہ کیا ہے، یہ ترجمہ درست ہے۔ ملاحظہ کریں:

”اللہ تعالی نے آپ کو معاف (تو) کردیا“۔ (اشرف علی تھانوی)

”اللہ نے تمہیں معاف کر دیا“۔ (احمد علی)

”اللہ نے تمہیں معاف کیا“۔(امین احسن اصلاحی)

”پیغمبر! خدا نے آپ سے درگزر کیا“۔ (ذیشان جوادی)

(478) حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ أَمْرُ اللَّہِ وَہُمْ کَارِہُونَ

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَکَ الْأُمُورَ حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ أَمْرُ اللَّہِ وَہُمْ کَارِہُونَ۔ (التوبۃ: 48)

”اس سے پہلے بھی اِن لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنے کے لیے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کر چکے ہیں یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آ گیا اور اللہ کا کام ہو کر رہا“۔ (سید مودودی)

”یہ پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوشش کرچکے ہیں اور انہوں نے واقعات کی صورت تمہارے سامنے بدلی یہاں تک کہ ان کے علی الرغم حق آگیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا“۔(امین احسن اصلاحی) یہاں وَقَلَّبُوا لَکَ الْأُمُورَ کا ترجمہ درست نہیں ہے۔ اس جملے کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ’تمہارے خلاف طرح طرح کے جتن کیے۔‘

”بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ چاہا تھا اور اے محبوب! تمہارے لیے تدبیریں الٹی پلٹیں یہاں تک کہ حق آیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا اور انہیں ناگوار تھا“۔ (احمد رضا خان)

آخری ترجمے میں ’وھم کارھون‘ میں واو کو عطف کا مان کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ اسلوب کلام سے ظاہر ہے کہ یہ واو حالیہ ہے۔ پہلے دونوں ترجمے واو حالیہ کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ البتہ ان دونوں نے وھم کارھون کو پچھلے دونوں جملوں کا حال مانا ہے، یعنی جاء الحق اور ظھر أمر اللہ کا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ وھم کارھون دوسرے جملے یعنی ظھر أمر اللہ کا حال ہے۔ اس طرح ترجمہ ہوگا:

”یہاں تک کہ حق آ گیا اور ان کی مرضی کے خلاف اللہ کا کام ہو کررہا“۔

(479) وَقَالُوا لَا تَنْفِرُوا فِی الْحَرّ

درج ذیل جملے کا ترجمہ کرتے ہوئے بعض مترجمین نے یہ مان کر کہ انھوں نے یہ بات دوسروں سے کہی تھے، ترجمے میں اپنی طرف سے ایسے الفاظ کا اضافہ کردیا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ پیچھے رہ جانے والوں نے یہ بات اپنے آپ سے کہی تھی یعنی خود کلامی کرتے ہوئے اپنے آپ سے کہا تھا کہ گرمی میں نہ جاؤ۔ 

 وَقَالُوا لَا تَنْفِرُوا فِی الْحَرِّ۔ (التوبۃ: 81)

”اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اس سخت گرمی میں نہ نکلو“۔ (سید مودودی)

 درج ذیل ترجمے میں کوئی اضافہ نہیں ہے اور دونوں مفہوم لیے جاسکتے ہیں:

”اور بولے اس گرمی میں نہ نکلو“۔ (احمد رضا خان)

(480) وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ کا عطف کس پر؟

 وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّہِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ۔ (التوبۃ:99)

درج بالا آیت میں قواعد کی رو سے صَلَوَاتِ الرَّسُولِ کو ’مَا یُنْفِقُ‘ پر بھی معطوف مانا جاسکتا ہے اور ’قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّہِ‘ پر بھی۔ زیادہ تر لوگوں نے اسے’قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّہِ‘ پر معطوف مان کر ترجمہ کیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انفاق کے دو مقصد ہوتے ایک قرب الٰہی اور دوسرا رسول کی دعا۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے  ’مَا یُنْفِقُ‘ پر معطوف مانا جائے۔ اس کی رو سے انفاق اور رسول کی دعائیں دونوں کا مقصد قرب الٰہی کا حصول ہوگا۔

دوسری  توجیہ زیادہ بہتر معلوم ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن کا اصل مقصود تو قرب الٰہی ہوتا ہے۔ وہ جو خرچ کرتا ہے اس کا بھی اصل مقصود قرب الٰہی ہے اور اس کے انفاق سے خوش ہوکر اللہ کے رسول جو دعائیں دیں ان کا بھی اصل فائدہ اور مقصود یہی ہے کہ ان دعاؤں کی بدولت اسے قرب الٰہی حاصل ہوجائے۔اس کی تائید اس جملے سے بھی ہوتی ہے جو اس کے فورًا بعد آیا ہے، یعنی أَلَا إِنَّہَا قُرْبَةٌ لَہُمْ (ہاں! وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے) گویا ہر چیز کا اصل مقصود قرب الٰہی ہے۔

درج ذیل ترجمے صَلَوَاتِ الرَّسُولِ کو ’قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّہِ‘ پر معطوف مان کر کیے گئے:

”اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ کے تقرب کا اور رسولؐ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں“۔ (احمد رضا خان)

درج ذیل ترجمہ صَلَوَاتِ الرَّسُولِ کو ’مَا یُنْفِقُ‘ پر معطوف مان کر کیا گیا:

”اور ان میں وہ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اور رسول کی دعاؤں کو حصول قرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

قرآن / علوم القرآن

(الشریعہ — فروری ۲۰۲۴ء)

الشریعہ — فروری ۲۰۲۴ء

جلد ۳۵ ۔ شمارہ ۲

الیکشن میں دینی جماعتوں کی صورتحال اور ہماری ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۹)
ڈاکٹر محی الدین غازی

صفات متشابہات پر متکلمین کا مذہب تفویض و ائمہ سلف
ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

جدید ریاست، حاکمیت اعلیٰ (ساورنٹی) اور شریعت
محمد دین جوہر

ہندوستان میں اسلامی تکثیریت کا تجربہ تاریخی حوالہ سے
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

طوفان الاقصیٰ اور امت کی ذمہ داریاں
اسماعیل ہنیہ

تحریک ریشمی رومال کے خطوط
حافظ خرم شہزاد

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا دستور ساز اسمبلی کی افتتاحی تقریب سے خطاب
ادارہ

روس یوکرائن جنگ اور یورپ کی تیاری
ہلال خان ناصر

مسئلہ فلسطین، قومی انتخابات، وطن عزیز کا اسلامی تشخص
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

انگلش لینگویج کورس کا انعقاد / الشریعہ لاء سوسائٹی کی افتتاحی تقریب
مولانا محمد اسامہ قاسم

فلسطین : ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک کے اعداد و شمار
الجزیرہ

Pakistan’s National Stability and Integrity
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تلاش

Flag Counter