نومبر ۲۰۲۲ء

سیاست شرعیہ کا مفہوم، نوعیت اور اہمیت

― محمد عمار خان ناصر

مسلم تہذیب کی تشکیل وتعمیر میں دینی نقطہ نظر سے تین چیزوں کا کردار رہا ہے اور ان تینوں کی اپنی الگ اہمیت ہے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کو دوسری کا متبادل نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تین چیزیں یہ ہیں: ۱۔ شریعت ۲۔ سیاست شرعیہ ۳۔ فقہ۔ ہماری بحثوں میں سارا ارتکاز شریعت اور فقہ پر رہتا ہے، سیاست شرعیہ ایک مستقل موضوع کے طور پر زیرغور نہیں آتی۔ اس کو فقہ کا حصہ سمجھنا یا اس کے اندر ضم کر دینا غلط ہے، اس لیے کہ یہ اپنے اصول اور حدود اور دائرہ کار کے لحاظ سے فقہ سے بہت مختلف ہے۔ فقہ بنیادی طور پر جزئی سوالات میں شرعی حکم اجتہاداً‌ طے کرنے کا عمل ہے جو فقیہ کا وظیفہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۴)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(366) لِیُنْذِرَ بَأْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ۔ لِیُنْذِرَ بَأْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ۔(الکہف: 2)۔ ”تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)۔ ”تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے“۔ (امین احسن اصلاحی)۔ ان دونوں ترجموں میں لِیُنْذِرَ کا فاعل اللہ تعالی کو مانا گیا ہے۔ قرآن مجید کے استعمالات دیکھیں تو یہ کام ہر جگہ رسول اور کتاب کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ صحیح توجیہ یہ لگتی ہے کہ لِیُنْذِرَ کا فاعل پیچھے مذکور عبد یا کتاب ہے، اور لَدُنْہُ کی ضمیر اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مزید یہ کہ لَدُنْہُ کا...

مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۱)

― ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

مطیع سید:آپﷺ وضو کے دوران ناک اور منہ میں پانی ڈالتےتھے اور آپ ہمیشہ ڈالتے رہے۔ 1پھر ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ ضروری نہیں ،اس کے بغیر بھی وضو مکمل ہو جا تاہے ؟ عمارناصر: یہ استنباط ہے ۔استنباط اسی کو کہتے ہیں کہ دلائل کا یا نصوص کاجوانداز اور اسلوب ہے ،اس سے شارع کی منشا کو سمجھا جائے۔ شارع چیزوں کو اہمیت کے لحاظ سے الگ الگ طریقوں سے اپنی منشا واضح کرتا ہے ۔ قرآن نے جب بیان کیا ہے کہ وضو کرو تو چہرہ دھوؤ تو اس سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ وضو میں فرض تو چہرہ دھونا ہی ہے ۔ اس کے علاوہ جو زائد امور احادیث میں بیان ہوئے ہیں، وہ فرض نہیں ہو سکتے ورنہ...

دینی جدوجہد کے مورچے

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت خواجہ ناصرالدین خاکوانی، امیر محترم سید محمد کفیل شاہ بخاری، اکابر علمائے کرام، محترم بزرگو اور دوستو! میں حسب معمول سب سے پہلے دو باتوں پر مجلس احراراسلام کا شکریہ ادا کروں گا۔ ایک تو اس پر کہ انہوں نے مورچہ قائم رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالی اس مورچے کو قائم رکھیں، کیوں کہ ابھی اس مورچے کے بہت سارے کام باقی ہیں۔ اور دوسرا اس بات پر کہ مجھے بھی اکثر حاضری کا موقع دے دیتے ہیں۔ میری یہاں حاضری صرف نسبت کو تازہ کرنے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے ہوتی ہے کہ کن بزرگوں اور کس قافلے سے ہماری نسبت ہے اور کس تسلسل سے ہے۔ اللہ تعالی اس قافلے اور تسلسل...

مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ اور اُن کی دینی خدمات

― پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق غازی

مولانا محمد علی صدیقیؒ ( 12 مارچ 1910تا 16 دسمبر 1992) المعروف مولانا محمد علی کاندھلوی یکم ربیع الاول ۱۳۲۷ ہجری بمطابق 12 مارچ 1910عیسوی بروز پیر ضلع مظفر نگر کے قصبہ کاندھلہ کے محلہ مولویاں میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ نے آپ کا نام علی احمد رکھا جب کہ آپ کے والد گرمی پیار سے آپ کو حیدر کہتے تھے۔ بعد میں آپ محمد علی کے نام سے پکارے جانے لگے۔ مولانا ؒ چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ بھائیوں کے نام بالترتیب حکیم محمد عمر، حکیم محمد عثمان اور مولانا بشیر احمد ہیں۔ مولاناؒ کے والدِ گرامی کا نام مولانا حکیم صدیق احمدؒ تھا۔ آپ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۱)

― ڈاکٹر شیر علی ترین

1890 میں جمعہ کے روز بیرون ملک سے آئے ہوئے ایک سیاہ فام عالم (اس کے اصل وطن کے بارے میں روایت خاموش ہے) اترپردیش ہندوستان کے قصبے دیوبند میں وارد ہوا۔ مقامی سماج اور ان کے دینی اعمال میں دلچسپی کے باعث اس نے حاجی محمد عابد حسین سے، جو اس قصبے کے ممتاز مدرسے دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں سے نسبتاً کم معروف ہیں، درخواست کی کہ اسے جامع مسجد میں خطبہ پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ عابد حسین نے مذکورہ مہمان کی درخواست برضا ورغبت قبول کی، اسے دیوبند کی جامع مسجد میں لے آئے، اور اسے منبر پر رونق افروز کیا۔ اتفاق سے دیوبندی سلسلے کے ایک اور بانی اور نامور...

نومبر ۲۰۲۲ء

جلد ۳۳ ۔ شمارہ ۱۱

تلاش

Flag Counter