قائد اعظم کا اسلام

خورشید احمد ندیم

قائداعظم ایک امیر آدمی تھے۔اتنے امیر کہ 1926ء میں ان کا شمار جنوبی ایشیا کے دس سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا تھا۔ان کے چار مکانات کی قدر اگر آج کے حساب سے متعین کی جائے تو1.4 سے1.6ارب ڈالر بنتی ہے۔ قائد اعظم کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟

ڈاکٹر سعد خان کی کتاب ''محمدعلی جناح...دولت‘جائیداد اور وصیت‘‘ اس سوال کا جواب دیتی ہے۔یہی نہیں‘ان کی دولت اورجائیداد کی مکمل تفصیل بھی۔قائد کا تمام سرمایہ‘آمدن‘ جائیدادسب دستاویزی ہیں۔ان کی شخصیت کی طرح‘ شفاف ریکارڈ کے ساتھ۔یہ کتاب پڑھے کئی ماہ گزر چکے لیکن ہنوز سرہانے دھری ہے۔اس کتاب نے مجھے بعض ایسے سوالات پر غورکے لیے مجبور کیا جن کا تعلق کتاب کے موضوع سے نہیں لیکن قائد کی شخصیت سے ضرور ہے۔ایک موضوع ''قائد اعظم کا اسلام ‘‘ہے۔

مذہب کے باب میں قائد اعظم کے خیالات ہمارے ہاں مدت سے زیرِ بحث ہیں۔ان کا مسلک کیا تھاا وروہ مذہب وریاست کے باہمی تعلق کو کیسے دیکھتے تھے؟ان سوالات کے ہمیں جو جواب ملے وہ مختلف ہیں۔قائداعظم کو ان معنوں میں سیکولر ماننے والے بھی کم نہیں جوسیکولرازم کو مذہب مخالف سیاسی تصور قرار دیتے ہیں۔ایسے لوگ بھی بہت ہیں جو قائدکی اسلام پسندی کے حق میں ان کے خطبات سے اقتباسات کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ شخصی زندگی سے لے کر سیاسی زندگی تک‘ہر شعبۂ حیات میں مذہب کی بالادستی کے قائل تھے۔

ڈاکٹر سعد خان نے موضوع کی رعایت سے قائداعظم کے مسلک اور مذہب کا بھی ذکر کیا ہے۔ایک پیرا گراف بہت دلچسپ ہے۔اسی نے مجھے قائد کے تصورِ اسلام پر مزید غور پر مجبور کیا۔پہلے یہ پیراگراف دیکھیے: ''بیگم جناح کا قبولِ اسلام سنی مسلک کے مطابق ہواجبکہ اگلے روز ان کا نکاح شیعہ روایت کے مطابق ہوا۔جناح کی سرکاری نمازِ جنازہ سنی مسلک کے مطابق ادا کی گئی جبکہ ان کی وصیت اسماعیلی روایت کے مطابق تھی۔جناح صاحب زندگی بھر بمبئی کی اثنا عشری جماعت کو چندہ ادا کرتے رہے لیکن کبھی مجلسِ عاشورہ میں دکھائی نہیں دیے۔دوسری طرف وہ عید میلاد کی تقریب میں ضرور دکھائی دیے جو کہ بنیادی طور پر سنی مسلک کی سرگرمی سمجھی جا تی ہے۔انہوں نے مسلکی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اپنی ہمشیرگان کی شادیاں کرائیں۔ان کا ایک بہنوئی سنی تھا اور دوسرا شیعہ...‘‘ (صفحہ89)

ایک اور بات جو اس کتاب کے متن میں تو نہیں لیکن میں نے بین السطور پڑھ لی۔اتنا امیر آ دمی ہونے کے باوجود قائداعظم نے حج نہیں کیا۔ان کے سوانح میں کہیں اس کی خواہش کا اظہار بھی نہیں ملتا۔ اپنی وصیت میں وہ اپنی وراثت کا بڑا حصہ تعلیمی اداروں کے نام کر گئے۔گویا وہ خلقِ خدا کو نہیں بھولے۔ مذہبی تعلیم کے مطابق حج ان پر فرض تھا جو خدا کا حق ہے۔اگر وہ ایک مذہبی آدمی تھے تواتنے اہم مذہبی فریضے سے غافل کیسے رہے؟

اسلام کے ساتھ ان کا لگاؤ ان کے بہت سے خطبات سے واضح ہے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ قرآ ن مجید پڑھتے تھے۔یقینا وہ جانتے ہوں گے کہ نماز ‘روزہ‘ حج کے بارے میں قرآن مجید میں کیالکھا ہے اور مذہب کے ساتھ کسی فرد کے تعلق کو ماپنے میں‘ان پیمانوں کی کیا اہمیت ہے؟اس کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ حج کی خواہش پیدا نہیں ہوئی؟ ایک طرف یہ احساس کہ خداکے حضور پیش ہوں توشاباش ملے کہ Well done Jinnah اوردوسری طرف فرائض سے یہ لاتعلقی؟ میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مذہب کسی واحدتعبیر کا نام نہیں۔مسلمانوں میں‘ کم ازکم چھ تعبیرات کے ماننے والے بکثرت تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

ایک یہ تعبیرکہ مذہب چند عقائد کو ماننے اور چند مناسک و رسوم پر عمل کر نے کا نام ہے۔کاروبارِزندگی سے اس کازیادہ گہرا تعلق نہیں۔سیاست‘کاروبار اور معاشرت کے معاملات ایک سماجی روایت کے مطابق ہوتے آئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔یہ مذہب کا براہ راست موضوع نہیں۔ سماج کی اپنی ڈگر ہے اور مذہب کی اپنی جو سراسر انفرادی معاملہ ہے۔

دوسری یہ کہ مذہب ایک فکری نظام(discourse)ہے جیسے اشتراکیت‘سرمایہ داری اور بہت سے دوسرے نظام ہیں۔مذہب کے ساتھ ہمارا تعلق فکری (intellectual) ہے۔یہ ایک فکری سرگرمی کا موضوع ہے۔ہمیں اس دنیا کو سنوارنے کیلئے اس سے مدد لینی چاہیے۔پیغمبر انسانی تاریخ کی بلند وبالا شخصیات ہیں اور ہمیں ان کی تعلیمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ مذہبی کتب کو بھی اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ مذہب فرد اور خدا کامعاملہ ہے۔اس معاملے میں کسی دوسرے ادارے کا کردار‘چاہے وہ کلیسا ہو یا ریاست قابلِ قبول نہیں۔کلیسا یا مذہبی طبقے نے ایک خود ساختہ شریعت ایجاد کر رکھی ہے اور یوں ابنِ آدم کو چند رسوم میں جکڑ دیا ہے۔مذہب کو ان رسوم ومناسک سے ماورا‘ اس کے مقاصد کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

تیسری تعبیر یہ ہے کہ مذہب ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے۔ اس کا مقصود انسانی معاشرے میں خدا کی حاکمیت کا بالفعل قیام ہے۔ مذہب کا اصل مطالبہ یہی ہے۔نماز ‘روزہ اور حج جیسی عبادات اور مناسک بھی ضروری اور مذہب کا حصہ ہیں لیکن ان کی حیثیت ایک تربیتی نظام کی ہے تاکہ ان پر عمل کر کے وہ لوگ تیار ہوں‘ جو دنیا میں اسلام کے غلبے کو امرِ واقع بنا سکیں۔

چوتھی تعبیر کے مطابق‘مذہب ایک عصبیت ہے جیسے رنگ و نسل کی عصبیت۔ ہم جس خاندان یا مذہب میں پیدا ہوتے ہیں‘اس کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی ہوتی ہے۔اس جذباتی وابستگی کا ہمیں زندگی بھر دفاع کرنا اور اس عصبیت کو زندہ رکھنا ہے۔جس طرح غیرت کے نام پر مرنا مارنا ایک اعزاز ہے‘اسی طرح مذہب کے نام پر قتل ہونا اور قتل کرنا بھی ایک اعزاز ہے۔اس تعبیر میں یہ بات غیر اہم ہے کہ مذہب زندگی گزارنے کا کوئی ڈھنگ سکھاتا ہے یا کسی رسم یا عبادت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر مذہب کی کسی رسم پر عمل کیا جا تا ہے تو وہ بھی اسی عصبیت کو زندہ رکھنے کے لیے۔ہم ویسے حجاب کے بارے میں حساس نہیں لیکن اگر کوئی ہمیں بالجبر اس سے روکے گا تو پھر اس کے لیے جان پر کھیل جائیں گے۔

مذہب کی پانچویں تعبیر یہ ہے کہ یہ کارخانہ قدرت ایک واہمہ یا عکس ہے جس کی اپنی کوئی حقیقت نہیں۔اس کائنات میں ایک ہی حقیقت ہے اوروہ خدا کی ذات ہے۔ جو کچھ ہم دیکھتے ہیں‘اسی کے تنزلات ہیں۔ انسان بھی اسی سمندر کا ایک قطرہ ہے۔اس کی سعی و جہد کا حاصل یہ ہونا چاہیے کہ وہ قطرہ پھر سمندر میں مل جائے۔مذہب کا مطلوب بھی یہی ہے۔

چھٹی تعبیر کے مطابق‘انسان خدا کی مخلوق اور اس کا بندہ ہے۔اسے ایک دن خدا کے حضورمیں پیش ہونا ہے۔وہاں اس کے مستقل ٹھکانے کا فیصلہ ہونا ہے:جنت یا جہنم۔اس کا فیصلہ اس پر منحصر ہے کہ ایک انسان نے اس دنیا میں خود کو کتنا پاکیزہ بنایا۔یہ پاکیزگی اس دین پر عمل سے حاصل ہوتی ہے جو پیغمبر لے کر آتے ہیں۔اس میں کچھ غیر اہم نہیں۔یہ ذہنی و جسمانی طہارت نماز‘ روزہ اور حج‘ زکوٰۃ کے بغیر نہیں مل سکتی ‘اس لیے یہ مقصود بالذات ہیں۔امورِ دنیا میں مذہبی تعلیمات فرد کی سماجی حیثیت کے مطابق‘اس سے متعلق ہوتی ہیں اور وہ اسی حد تک جواب دہ ہے۔

مجھے ان تعبیرات میں غلط اور صحیح کا فیصلہ نہیں کرنا۔میں نے بطورامرِ واقعہ ان کو بیان کیا ہے۔ان سب کو ماننے والے کسی نہ کسی درجے میں ’مذہبی‘ ہیں۔سوال یہ ہے کہ قائد اعظم ان میں سے کس تعبیر کے قائل تھے؟

تفہیمِ مذہب ایک مسلسل عمل ہے۔ ارتقا اس کا خاصہ ہے اور تعبیرات کا تعدد نتیجہ۔

ان تعبیرات سے ایک ''تاریخی مذہب‘‘ وجود میں آتا ہے۔ تاریخی مذہب، مذہب کے بنیادی ماخذ اور اس کی تفہیم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ہر مذہب کی تاریخ میں، کچھ وقفے کے بعد، تجدید و احیائے دین کی ایک تحریک اٹھتی ہے۔ یہ تحریکیں اس دعوے کے ساتھ برپا ہوتی ہیں کہ اصل مذہب انسانی تعبیرات سے بوجھل ہو گیا ہے، اس لیے لازم ہے کہ اب حقیقی دین کی بازیافت کی جائے۔ اس کے لیے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ حقیقی مذہب کو تعبیر کے تاریخی عمل سے الگ کیا جائے۔

اسلام کی تاریخ بھی اسی طرح آگے بڑھی ہے۔ اس سے دو نقطہ ہائے نظر وجود میں آئے۔ ایک وہ جو تجدید و احیا کی تحریکیں اپناتی ہیں۔ اس کے مطابق دین اصلاً قرآن اور سنت کا نام ہے‘ ہمیں ان کے ساتھ براہ راست تعلق پیدا کرنا اور انہیں سمجھنا ہے۔ مذہب کا وہ فہم ہمارے لیے حجت نہیں جو انسانی کاوش اور تاریخی عمل کا حاصل ہے۔ اس میں سے اگر کچھ قبول کیا جائے گا تو نقد و جرح کے اس پیمانے پر جو ہر احیائی تحریک از خود طے کرتی ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ مذہب کو اسلاف کی تعبیر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اصل ماخذات کے ساتھ یہ تعبیر بھی مذہب کا حصہ ہے۔ دونوں کے مجموعے کا نام اسلام ہے۔ یہ نقطہ نظر دین کو اس عملی و علمی روایت میں رکھ کر دیکھتا ہے، اس لیے روایتی کہلاتا ہے۔

یہ نکتہ مزید شرح کا متقاضی ہے۔ احیائی تحریکوں کے مطابق، مذہب صرف قرآن و سنت کا نام ہے۔ قرآن کو ہم اصولوں کی روشنی میں سمجھیں گے جو کسی بھی متن کی تفہیم کے لیے فطری طور پراختیار کیے جاتے ہیں۔ جیسے عربی زبان اور اسالیبِ کلام۔ اس عمل میں لازم نہیں کہ اُس تفسیر کو بھی قبول کیا جائے جو ہم سے پہلے ادوار میں ہوتی آئی ہے۔ اسی طرح احادیث کو بھی ہم سمجھیں گے اور اس میں بھی ضروری نہیں کہ قدیم لوگوں کی رائے کو حتمی سمجھا جائے جو روایت یا درایت کے باب میں اختیار کی گئی ہے۔

روایتی موقف یہ ہے کہ قرآن مجید کو اسلاف کی تفسیر سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح نبیﷺ سے کسی روایت کو اگر قدیم محدثین نے سنداً صحیح قرار دے دیا تو اسے اب صحیح مانا جائے گا۔ یا ایک حدیث کا جومفہوم اختیار کیا جا چکا، اسے ہی قبول کیا جائے گا۔ یہی معاملہ استنباطِ احکام کا بھی ہے جس سے فقہ کی روایت وجود میں آئی۔ مزید یہ کہ کسی تعبیر پراگر اجماع وجود میں آگیا تواس کی مخالفت جائز نہیں؛ چنانچہ اہلِ سنت نے یہ موقف اپنا لیاکہ اصولِ فقہ میں ائمہ اربعہ کے دائرے سے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔

انسانی سماج مسلسل حرکت میں ہے۔ اس لیے کوئی جامد سوچ اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ مذہب کو اگر زندہ رہنا ہے تو اسے متحرک ہونا پڑے گا۔ وقت کا یہ بہاؤ احیائی تحریکوں کو جواز بخشتا ہے۔ مذہب کا مزاج مگرروایتی ہے۔ اس کی صحت کا انحصار نقل پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں روایتی نقطہ نظر غالب رہا جو مذہب کی اس فطری ضرورت کو پورا کرتا ہے؛ تاہم تاریخی دبائو کے نتیجے میں، وہ اس روایت کو مسلسل متحرک رکھنے پر مجبور ہے۔ یوں روایت پسند بادلِ نخواستہ تبدیلی کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن حیلے کے ساتھ۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ اگر نئی راہ اختیار کرنا پڑے تو یہ تاثر قائم رہے کہ دراصل یہ قدیم روایت ہی کا تسلسل ہے۔

ارتقا کا ایک ناگزیر نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایک وقت کی احیائی تحریک، جب ماضی کا قصہ بنتی ہے تو اکثر روایت میں شامل ہو جاتی ہے۔ اگر اس کے متاثرین ایک قابلِ ذکر تعداد میں موجود ہوں یا وہ مسلمانوں کے اعیان و اشرافیہ کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجائے تو روایت کا مستند حصہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیاکہ وہ احیائی تحریکیں جو سب کچھ بدل دینے کے عزم سے اٹھیں، وقت کے ساتھ روایت کو اپنے فکری نظام میں جگہ دینے پر مجبور ہوئیں۔ یوں یہ ایک دوطرفہ عمل ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس حقیقت کو ایک بار ازراہ تفنن بیان کیا۔ ان سے کسی نے کہاکہ فلاں معاملے میں آپ نے جو رائے اپنائی ہے، متقدمین میں سے تو کسی نے اختیار نہیں کی۔ مولانا نے جواب دیا: آپ ہمارے مرنے کا انتظار کیجیے‘ کچھ وقت کے بعد ہم بھی متقدمین میں شامل ہوجائیں گے۔

حاصل یہ ہے کہ احیائی اور روایتی نقطہ نظر ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اور تعبیرات کے تعدد کو گوارا کیا گیا ہے۔ یہ تعبیرات چھ سات کے عدد میں مقید نہیں ہیں؛ تاہم قبولیتِ عامہ چند ہی کو ملتی ہے۔ بیسویں صدی تک آتے آتے، مسلمانوں میں ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جب زندگی اور سماج کی صورت گری میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اس نے ایک فکری جمودکو جنم دیا۔ بیسویں صدی میں ایسی سیاسی تبدیلیاں آئیں جن کے نتیجے میں مسلمان انفعالی حالت سے نکلے اور مختلف خطوں میں زمامِ کار ان کے ہاتھ میں آگئی۔ اب انہیں اپنے اجتماعی وجود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا تھا۔ بقا نئی تعبیر کاتقاضا کرتی تھی لہٰذا نئی تعبیرات اختیار کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہی وہ دور ہے جب قائداعظم کی فکری تشکیل ہوئی۔

قائداعظم کے لیے اس بات کی اہمیت، اس وقت بہت بڑھ گئی جب ان کی عملی زندگی کا آغاز ہوا اور انہوں نے وکالت کو پیشہ کیا۔ اس کے ساتھ وہ سیاست میں آئے اور مسلمانوں کے ترجمان بنے۔ نجی زندگی کے حوالے سے مذہب کا معاملہ ان کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں رہا۔ ذاتی سطح پر، جب مذہب کی ضرورت پیش آئی توروایتی دینی تعبیرکو انہوں نے کافی سمجھا۔

اصل مسئلہ سیاسی زندگی میں پیش آیا۔ تجربات نے انہیں سمجھایاکہ مسلمانوں کی تہذیبی اور سماجی بنت ہندوئوں سے مختلف ہے۔ ہندووں کے اعیانی طبقے کے رویے نے انہیں اس رائے پر مستحکم کیا؛ تاہم چونکہ وہ اسلام کے کوئی سکالر نہیں تھے، اس لیے اپنے تئیں اس کا کوئی حل تلاش نہیں کرسکتے تھے، اگرچہ وہ اس کی ضرورت کومحسوس کر رہے  تھے۔

مسلمانوں کو درپیش اس عملی مسئلے کے حل کی طرف علامہ اقبال نے انہیں متوجہ کیا۔ خطبہ الٰہ آباد کے وقت وہ سیاسی طورپر فعال نہیں تھے لیکن یہ ممکن نہیں کہ یہ خطبہ ان کی نظرسے نہ گزراہو۔ وہ ہندی مسلمانوں کے حالات سے مایوس ہوکرانگلستان جاچکے تھے۔ اقبال نے ان کے نام اپنے خطوط میں مسلمانوں کے مسائل اوران کے حل کی نشاندہی کی۔ اس باب میں قائداعظم علامہ اقبال کو اپنا فکری قائد مانتے ہیں، جس طرح اقبال قائداعظم کو اپنا سیاسی راہنما قرار دیتے ہیں۔ کیا قائد، اقبال کی اس فکری قیادت کوتعبیرِ مذہب کے عموم میں بھی قبول کرتے تھے؟ میں اس سوال کوآگے چل کرمخاطب بناؤں گا۔

اسلام پر قائداعظم نے وقتاً فوقتاً جو گفتگو کی، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام کو اپنے طورپر سمجھنا شروع کردیا تھا، بالخصوص تہذیبی اورسیاسی حوالے سے۔ جب وہ مسلمان قوم کا سیاسی مقدمہ لڑرہے تھے تولازم تھاکہ وہ اس کے علمی مقدمات اور تہذیبی امتیازات سے واقف ہوں۔ بایں ہمہ بطور وکیل بھی انہیں اسلام کے عائلی قوانین کو سمجھنا تھاکہ انہیں عدالت کے سامنے اپنے موکل کا مقدمہ پیش کرنا پڑتا تھا جو شخصی احوال میں ان سے رجوع کرتاتھا۔ جب انہوں نے وقف کابل (مارچ 1911) پیش کیا، تب بھی انہوں نے یقیناً اسلام کامطالعہ کیا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ اس مطالعے اور غوروفکر سے وہ کن نتائجِ فکر تک پہنچے؟ تعبیرِ مذہب کے پہلوسے، ہم ان کا شمارکس طبقے میں کریں گے؟

قائداعظم کے تصورِ اسلام کوان کے تصورِ پاکستان سے بے نیاز ہوکر نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ یہ تصور دو نکات پر مشتمل ہے۔

ایک یہ کہ پاکستان اسلام کے اصولوں پر قائم ایک مملکت ہے۔ یہ بات انہوں نے اتنے اصرارکے ساتھ، اس کثرت سے اور اتنے اسالیب میں کہی کہ اس کا انکار عقلاً محال ہے۔ کبھی انہوں نے شریعت کو پاکستان کے دستورکی بنیاد کہا (25جنوری 1948ء) اور کبھی اسے 'اسلامی ریاست‘ قرار دیا (فروری 1948)۔ دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ان کی 11اگست 1947ء کی تقریر کو ان کی دیگر تقاریر کے سیاق و سباق میں پڑھا جائے یادیگر تقاریر کومجلسِ دستور سازکے اِس خطاب کے تناظر میں سمجھا جائے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان اصلاً مسلمانوں کیلئے بنا ہے۔ یہ بات بھی قائداعظم نے اتنی تکرارکے ساتھ کہی کہ اس کا انکار تاریخ کاانکار ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان اگراپنے تہذیبی وجود کا اظہارکرنا چاہیں توکوئی دوسرا عقیدہ یا نظریہ ان کی اس خواہش کے راستے میں مزاحم نہ ہو؛ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی دوسرا مذہبی یا تہذیبی گروہ مذہبی آزادی کے فطری حق کو استعمال کرنا چاہے تواس کو روک دیا جائے۔ اس سے البتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست کا غالب رنگ اسلامی ہوگا۔

قائداعظم کا تصورِ اسلام، ان کے تصورِ پاکستان اور سیاسی کردارکے زیرِاثر متشکل ہوا۔ بطوروکیل، تفہیمِ اسلام ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی ضرورت بھی تھی لیکن جیسے جیسے ان کا سیاسی کردار بڑھتاگیا، اسلام ان کیلئے ایک عقیدے یا فقہی قضیے سے زیادہ ایک سیاسی نظام اور تہذیبی قوت کے طورپر اہم ہوتا گیا۔ انہوں نے اسلام کومعاصر سیاسی افکار اورتبدیلیوں کے تناظر میں سمجھناچاہا۔ یہ اسلام کی تفہیم کاعقلی منہج ہے۔

قائد نے جہاں جہاں اور جب جب اسلام کو موضوع بنایا، ان کی گفتگو کا کم وبیش پچانوے فیصد حصہ اسلام کے بارے میں ایک اصولی یا عمومی موقف کا بیان ہے۔ ان کی طرف سے اس کی کوئی توضیح و تشریح نہیں کی گئی۔ جیسے ''قرآن کریم مسلمانوں کا عمومی ضابطہ حیات ہے‘‘۔ اس طرح کے بیانات سے کوئی تصورِ اسلام اخذ کرنا ممکن نہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قائد اسلام کے سکالرنہیں تھے، اس لیے اُن سے یہ توقع بھی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ عذر قابلِ قبول ہے اوراس سے ان کی عظمت میں بھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ مسلم تاریخ میں ان کا مقام ایک سیاسی رہنما کے طورپر ہے نہ کہ ایک سکالر کے طور پر۔ اس سے لیکن یہ بنیادی مقدمہ قائم رہتا ہے کہ ان کے بیانات سے کوئی مستقل بالذات تصورِ اسلام کشید کرنا ممکن نہیں۔

قائداعظم کے خطبات و ارشادات میں موجود اس خلا نے مختلف گروہوں کویہ موقع فراہم کردیا کہ وہ قائداعظم کے بیانات کی تشریح اپنے اپنے تصورِ اسلام کی روشنی میں کریں۔ اب اگرکوئی ان کے کسی انٹرویو میں موجود ''اسلامی ریاست‘‘ کی اصطلاح کو مولانا مودودی کے تصورِاسلامی ریاست کی روشنی میں پیش کرنا چاہے توآپ اس کا قلم یا زبان نہیں روک سکتے۔ اسی طرح اگرکوئی سردار شوکت حیات اور سبطِ حسن کی طرح قائداعظم کو غیر مذہبی (سیکولر) ثابت کرنا چاہے توآپ اس پربھی کوئی قدغن نہیں لگا سکتے۔ کوئی ان کی تقریر سے 'اسلامی سوشلزم‘ (چٹاگانگ، 26مارچ 1948ء) کی اصطلاح لے کر انہیں 'سوشلسٹ‘ قراردینا چاہے تو قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں اس کی تردید نہیں کی جاسکتی۔

میں نے قائداعظم کی تقاریر، بیانات اور اقدامات سے بلاواسطہ ان کے فہمِ اسلام تک رسائی کی کوشش کی ہے۔ اس سے بڑی حد تک اُس ریاست کے خدوخال نمایاں ہوتے ہیں جوان کے نزدیک ایک اسلامی ریاست ہے۔ اس کوشش میں کسی دوسرے کی تشریح یا توضیح شامل نہیں۔ میں اس فہم کو چند نکات کی صورت میں بیان کررہا ہوں:

1۔ پاکستان کی ریاست اپنے سیاسی ومعاشی نظام کی تشکیل میں اسلام کی تعلیمات کو بنیاد بنائے گی۔ (25جنوری 1948ء)

2۔ قرآن مجید کے مطابق انسان زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے دوسروں انسانوں کے ساتھ اُسی طرح معاملہ کرنا ہے جس طرح خدا اپنے بندوں کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ محبت اور تحمل و برداشت سے عبارت ہے۔ ہمیں خداکی مخلوق سے یہی رویہ رکھنا ہے۔ اس کو سمجھنے کیلئے قرآن مجید کی ایک عقلی تفسیروتشریح کی ضرورت ہے۔ اسلامی عبادات دراصل اسی رویے کی تشکیل کیلئے ہیں۔ (نومبر1939ء‘ عید کا پیغام)

3۔ اسلام انسانوں کے درمیان امتیاز نہیں کرتا۔ بطور نظام، تہذیب اور تمدن، اسلام انسانی برابری، بھائی چارے‘ آزادی اور مساوات کا قائل ہے اور پاکستان کا نظام اسی تصورِ اسلام کی اساس پر بنے گا۔ (25 جنوری 1948ء، 26مارچ 1948ء)

4۔ ہندوئوں سے مختلف ہونے کا بنیادی سبب نظام ہائے معاشرت کا اختلاف ہے۔ اسلام وحدتِ آدم پریقین رکھتا ہے اور ہندومت معاشرتی سطح پر انسانوں کو طبقات میں تقسیم کرتا ہے۔ (22مارچ، 1940)

5۔ پاکستان کی ریاست میں، مذہب کی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہیں کی جائے گی۔ وہ اپنے مذہبی وجود کے اظہار میں آزاد ہوں گے اورریاست کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ (11اگست 1947ء)

6۔ پاکستان کی ریاست ان معنوں میں کوئی مذہبی ریاست (Theocracy) نہیں بن رہی جس میں مذہبی پیشواؤں (priests) کا ایک طبقہ کسی خدائی مشن کے ساتھ حکومت کرے گا۔ ) فروری 1948ء)

7۔ پاکستان میں بسنے والے ہندوئوں، مسیحیوں اور پارسیوں کو وہی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی جو کسی دوسرے شہری کو میسر ہیں۔ (فروری 1948ء)

8۔ پاکستان کی ریاست میں کلیدی عہدوں کیلئے مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہو گی۔ پاکستان کا کوئی شہری کسی اہم ترین منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔

9۔ خواتین کو معاشرت اور سیاست میں متحرک کردار ادا کرنا ہوگا، تاہم اس کا مطلب مغرب کی نقالی نہیں۔

یہ نکات قائداعظم کی تقاریر سے ماخوذ ہیں۔ اس میں کسی دوسرے کی تفہیم و تشریح شامل نہیں۔ یہ اسلام کو سیاسی و سماجی سطح پر سمجھنے کا ایک عقلی منہج ہے۔ اس لیے میں اس کا شمار تعبیرِ اسلام کے دوسرے طبقے میں کرتا ہوں۔ (ان طبقات کا ذکر میں نے اس سلسلے کے پہلے کالم میں کیا ہے)۔ کوئی فرد جب کسی مذہب کوعقلی سطح پر سمجھتا ہے توایک ناگزیر نتیجے کے طورپر ان مسلکی اور فرقہ وارانہ تعبیرات سے بلند ہوجاتا ہے جواسے خاندان یا معاشرے سے وراثتاً منتقل ہوتی ہیں۔ فقہ پھر اس کے نزدیک نکاح و طلاق یا تجہیزوتدفین جیسے معاملات تک محدود ہو جاتی ہے۔ قائد اعظم کا معاملہ بھی یہی تھا۔ وہ وقت کے ساتھ مسلکی تقسیم سے بلند ہوگئے۔

میں جب قائد کے ارشادات سے ابھرنے والی اس تعبیر کو سامنے رکھتا ہوں تو مجھے ان اخبارِ آحاد پر زیادہ اعتماد نہیں رہتا جو اسلام کے ساتھ ان کے وابستگی کی ایک جذباتی تصویر پیش کرتے ہیں، جیسے حسرت موہانی سے منسوب ایک روایت۔ اسی طرح خوابوں کا معاملہ بھی، اگر سچ مان لیا جائے تولاشعوری سطح پرخوش گمانیوں کے اظہار سے زیادہ کچھ نہیں۔

کیا قائداعظم اور علامہ اقبال ایک ہی تعبیرِ اسلام کے قائل تھے؟ مولانا شبیر احمد عثمانی کے ساتھ قائد کے تعلق کی نوعیت کیا تھی؟ اس بحث میں یہ سوالات اہم ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو الگ سے موضوع بنایا جائے۔

قائداعظم کا تصورِ اسلام، کیا کلی طور پرفکرِ اقبال سے مستعارہے؟

علامہ اقبال ایک عالم تھے اور قائداعظم ایک عملی سیاست دان۔ تعبیرِ دین کے باب میں دونوں کا تقابل خوش ذوقی نہیں اور نہ ہی یہاں مطلوب ہے۔ قائد نے اقبال کے علمی تبحر کا بارہا ذکر کیا اور انہیں ایک طرح سے اپنافکری رہنما بھی قرار دیا۔ اس سے یہ تاثر قائم ہواکہ قائد کے تمام تر افکار، فکرِ اقبال سے ماخوذ ہیں۔ اس لیے قائدکے فہمِ دین تک رسائی کیلئے ضروری ہے کہ اس سوال کا موضوع بناناجائے۔

اقبال، اس میں کیا شبہ ہے کہ نادرِ روزگار شخصیت تھے۔ ایک عبقری۔ ان کے اقلیمِ فکر اور مطالعے کی وسعت وہمہ گیری کا احاطہ آسان نہیں۔ مذہب، فلسفہ، تصوف، تاریخ، سماجی علوم، ادب... علم وفضل کون سا شعبہ ہے، جس کی امہاتِ کتب تک ان کی رسائی نہیں تھی۔ 'جاویدنامہ‘ میں انہوں نے جس طرح مختلف افلاک پر اقامت کیلئے شخصیات کا انتخاب کیا ہے، صرف یہی یہ جاننے کے لئے کافی ہے کہ علمی اعتبار سے وہ کس درجے کے آدمی تھے۔ اس پہ مستزاد علم کی مشرقی ومغربی روایات سے براہ راست استفادہ۔

قائداعظم علامہ اقبال کی اس حیثیت سے واقف تھے۔ اس لیے انہوں نے اقبال کی آرااور تجزیوں کو ہمیشہ بہت اہمیت دی۔ اس سے بڑھ کر، اس بات کی کیا دلیل ہوگی کہ علامہ نے خطبہ الٰہ آباد میں جس منزل کی نشاندہی کی تھی، قائد نے اس تک پہنچنے کواپنا مقصدِ حیات بنالیا۔ اس کے باوصف، میراتاثر یہ ہے کہ قائداعظم کا فہمِ اسلام، کلی طور پر علامہ اقبال کی تعبیرِدین سے ماخوذ نہیں تھا۔ ان کا اتفاق جزوی تھا۔

اس کی وجہ 'شاکلہ‘ کا فرق ہے۔ علامہ اقبال کی شخصیت پر جذبات کا غلبہ تھا۔ قائد پر عقل کا۔ اقبال دل سے سوچتے تھے، قائددماغ سے۔ شخصیت پرجب ایک پہلوکا غلبہ ہوتو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ دوسرے کی کلی نفی ہوگئی ہے۔ جذبات کے غلبے سے یہ مرادنہیں کہ عقل کا کردار ختم ہوگیا یاعقلی شخصیت کا یہ مفہوم نہیں کہ ایسے آدمی کے پاس دل نہیں ہوتا۔ غلبے کا مطلب یہ ہے کہ دل و دماغ میں تصادم ہوجائے تو ترجیح کسے دی جاتی ہے یا زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے، کون ساپہلو زیادہ اہم شمارہوتا ہے۔

علامہ اقبال کے بارے میں رشید حمد صدیقی نے لکھا ہے کہ انہیں اسلام کے آفاقی پیغام سے زیادہ رسالت مآبﷺ کی شخصیت نے متاثر کیا۔ گویا اسلام تک ان کی رسائی دل کے راستے سے ہوئی۔ ظاہرہے کہ یہ دل تک محدود نہیں رہا، ان کے لئے عقلی سرگرمی کا بھی سب سے بڑا موضوع بنا۔ اسلام کو پیش کرنے والی شخصیت جیسی بلند و بالا تھی، اس کا پیغام بھی اُسی شان کا تھا۔ اقبال اصلاً شاعر تھے۔ جودل کی حاکمیت کا قائل نہ ہو وہ شاعر نہیں بن سکتا۔ ان کے دیگر امتیازات ان کی شاعرانہ طبیعت کے تابع ہیں۔

قائداعظم سیاستدان تھے اور سیاستدان ہمیشہ عملی آدمی ہوتا ہے۔ عملی آدمی عقل کی حاکمیت کا قائل ہوتا ہے۔ وہ رزم گاہ میں کھڑا ہوکر فیصلے کرتا ہے، ایک سپہ سالار کی طرح۔ کبھی ہزاروں اور کبھی لاکھوں افراد کی زندگی اس کے ایک فیصلے سے بندھی ہوتی ہے۔ وہ خودکو دل کے حوالے نہیں کرسکتا۔ قائداعظم نے ہمیشہ عقلی فیصلے کیے۔ کبھی اپنی باگ دل کے ہاتھ میں نہیں دی۔ ان کی تمام سیاسی زندگی اس پر گواہ ہے۔ جیسے قیامِ پاکستان کیلئے یکسو ہونے کے باوجود، کیبنٹ مشن کی سفارشات کو تسلیم کرلیا تھا۔

میں اس فرق کو ایک مثال سے واضح کرتاہوں۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم دونوں نے حج نہیں کیا لیکن دونوں کے حج نہ کرنے کے اسباب مختلف تھے۔ اقبال ہمیشہ اس خواہش میں جیتے رہے۔ عمر کے آخری حصے میں تو ٹریول ایجنٹ تک سے رابطہ کر لیا تھا کہ سفر کی تفصیلات طے کریں۔ گفتگو کے دوران میں سفرِ حجاز کا ذکر آ جاتا تو وہ ایک دوسری کیفیت میں چلے جاتے۔

حج اصلاً مکہ کا سفر ہے۔ اقبال دین کے عالم تھے، اس بات سے بہتر واقف تھے۔ اس کے باوجود جب بھی سفرِ حجاز کی بات ہوئی، ان کا دل مدینہ میں اٹکا دکھائی دیا۔ شاعری اور نثر دونوں کا یہی معاملہ ہے۔ 13جون 1937ء کو سر اکبر حیدری کے نام خط میں لکھا ''ایک ہی خواہش، جو ہنوز میرے دل میں خلش پیدا کرتی ہے، یہ رہ گئی ہے کہ اگر ممکن ہو تو حج کیلئے مکہ جاؤں اور وہاں سے اس ہستی کی تربت پر حاضری دوں، جس کا ذاتِ الٰہی سے بے پایاں شغف میرے لیے وجہ تسکین اور سرچشمہ الہام رہا ہے‘‘۔

عمر کے اس آخری حصہ میں جذباتی اور روحانی طور پر وہ حجاز کے سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ 'حضورِ رسالت‘ کے عنوان سے فارسی رباعیات اور قطعات لکھے جا رہے تھے کہ

بہ ایں پیری رہِ یثرب گرفتم
نوا خواں از سرورِ عاشقانہ

اس ذوق و شوق کی کہانی، اقبال نے جس والہانہ انداز میں، اپنی نثر اور شاعری میں لکھی ہے، چشمِ ترکے ساتھ ہی پڑھی اور بیان کی جا سکتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اقبال اگر مدینہ پہنچ جاتے تو شاید واپس نہ آسکتے۔ وہ 'پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘ کا مصداق بن جاتے۔

دوسری طرف قائداعظم کے ہاں کہیں جذبات کا ایسا اظہارنہیں ملتا۔ وہ حج پر نہ جا سکے اور کبھی اعلانیہ اس خواہش کا اظہار بھی نہیں کیا۔ قائد نے خود اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔ میرا قیاس یہ ہے کہ ان دو رویوں کا فرق دراصل شاکلہ کافرق ہے۔ رسالت مآبﷺ اور اسلام سے اقبال کے تعلق کی بنیاد جذباتی تھی، جس کا ظہور حج کے معاملے میں بھی ہوا۔ قائد کی رسول اللہﷺ اور اسلام سے تعلق اصلاً عقلی تھا، اس لیے اس کا اظہار جذباتی سطح پر نہیں ہوا۔ اس فرق کی وجہ سے قائد نے فکرِاقبال کے اس پہلوسے تو اثر قبول کیا جس کا تعلق اسلام کے سیاسی و سماجی تعلیمات کی عقلی توجیہ اور تشریح سے تھا لیکن وہ اقبال کی کلی تعبیر سے کوئی مناسبت نہ پیدا کر سکے۔

قائد اعظم اسلام کو عصری نظریات کے تقابل میں، عقلی اور فکری سطح پر ایک سیاسی و سماجی نظام کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ جنہوں نے دین کوصرف اس پہلو سے سمجھا، ان کے ہاں، مذہب کا وہ پہلو پس منظر میں چلا گیا جو تعلق باللہ یا شخصی عبادات سے متعلق ہے۔ اس تعبیر کے مطابق یہ پہلو ایک فرد کے لیے اہم ہو سکتا ہے لیکن مقصود بالذات نہیں۔ اس تعبیرمیں مقاصدِ شریعت اہم ہوتے ہیں، شریعت نہیں۔ اقبال نے جب مذہب کی عقلی توجیہ کی تو ان کا رجحان بھی اسی جانب دکھائی دیتا ہے۔ خطبات میں جب وہ اجتہاد کو موضوع بناتے اور شرعی سزاؤں کے آفاقی پہلو پر گفتگو کرتے ہیں تواسے مقاصدِ شریعت ہی کی روشنی میں حل کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم، اقبال چونکہ ایک عالم تھے، اس لیے اس عقلی توجیہ کے باوجود، وہ عبادات اور شریعت کی اہمیت سے صرفِ نظر نہیں کرسکتے تھے‘ اس لیے وہ دونوں میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس میں کتنے کامیاب رہے، یہ اس وقت میرا موضوع نہیں۔ مجھے تو یہاں علامہ اقبال اور قائداعظم کے نظام ہائے فکر کے باہمی تعلق تک محدود رہنا ہے۔ میرا تاثر ہے کہ تعبیرِ دین کے حوالے سے قائد سید امیر علی سے قریب تر ہیں۔ شایدان کی کتاب 'سپرٹ آف اسلام‘ قائد کے پیش نظر رہی ہو۔

فکرِ قائد کی تشکیل میں، کیا مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی کا بھی کوئی حصہ تھا‘ جنہوں نے ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے، اپنے حلقے سے علیحدگی اختیار کی اور قائد کا ساتھ دیا؟

متحدہ قومیت کے مسئلے پر مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی اپنے حلقۂ فکر سے بغاوت، مسلم برصغیر کا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ اس نے تاریخ کا رخ متعین کرنے میں ایک اہم کردار اداکیا۔ یہ داستان ابھی تک اُس طرح لکھی نہیں جاسکی جیسے لکھی جانی چاہیے تھی۔ میری دلچسپی بھی اس کے صرف ایک پہلوسے ہے کہ کیا مولانا تھانوی کے سیاسی افکار قائداعظم کے فہمِ اسلام پراثر انداز ہوئے؟

مسلم برصغیر کی علمی و تہذیبی تشکیل میں مولانا اشرف علی تھانوی کا مقام پیشِ نظر رہے تواس سوال کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ علمِ تفسیر سے فقہ تک، تصوف سے کلام تک، نفسیات سے سماجی علوم تک، علم کا شاید ہی کوئی شعبہ ہو جس پر مولانا تھانوی کااثر نہ ہو۔ ہماری تاریخ میں علامہ اقبال کے بعد وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں حکیم الامت کہا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ اس اعزازکے مستحق تھے۔مولانا تھانوی اکابر علمائے دیوبند میں سے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند اپنے جن فرزندوں پر نازکرتا ہے، وہ ان میں سے ایک تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے متحدہ قومیت کے مسئلے پراپنے مسلک کے سوادِ اعظم سے اختلاف کیا۔ مولانا شبیراحمد عثمانی، مولانا تھانوی ہی کا فکری وسیاسی تسلسل ہیں۔ ان کا انتقال 1943ء میں ہوا جب تحریکِ پاکستان برپا ہوچکی تھی اور مسلم لیگ کوان لوگوں کی شدت کے ساتھ ضرورت تھی جواس کا مقدمہ دینی ومذہبی بنیادوں پر پیش کرسکیں۔ یہ کام مولانا شبیراحمد عثمانی نے سرانجام دیا۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم لیگ کا ساتھ کیوں دیا؟ مولانا عملی سیاست میں علما کی شرکت کے خلاف تھے؛ تاہم وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ ملی سیاست علما کے اثرسے باہر نہ رہے تاکہ وہ صراطِ مستقیم پررہے۔ اس کا حل انہوں نے یہ تجویزکیا کہ مسلمانوں کی دو جماعتیں ہونی چاہئیں۔ ایک سیاسی جو عملاً بروئے کار آئے اور ایک علما کی جماعت جواس کی فکری رہنمائی اور تبلیغ (انذار)کاکام کرتی رہے۔ سیاسی جماعت اس کے زیرِ اثررہے۔ اسی خیال کے تحت انہوں نے مسلم لیگ کی طرف دستِ تعاون بڑھایا۔

مسلم مفادکے حوالے سے مولانا تھانوی مسلم لیگ اورکانگرس دونوں کومثالی نہیں سمجھتے تھے؛ تاہم مسلم لیگ کوترجیح دیتے ہیں۔ اس ترجیح کی دووجوہات تھیں۔ پہلی‘ یہ مسلم لیگ مذہب کو قومیت کی اساس قراردیتی تھی اور مولانا تھانوی کے نزدیک یہی موقف درست تھا۔ دوسری یہ کہ کانگرس کے مقابلے میں مسلم لیگ کی اصلاح کے امکانات زیادہ تھے۔

مولانا کے پیش نظر یہ خاکہ تھاکہ مسلم لیگ مولانا تھانوی (یاعلما) سے فکری رہنمائی لے۔ اس ضمن میں مولاناکی مسلم لیگ کی قیادت کے ساتھ خط وکتابت رہی، بالخصوص نواب محمد اسماعیل خان کے ساتھ جو مسلم لیگ یوپی کے صدرتھے۔ نواب صاحب سے انہوں نے استفسار کیاکہ تعاون کی صورت میں مسلم لیگ میں علماکا کردار کیا ہوگا؟ ان کا جواب تھا: وہی جوایک مسلم سماج میں ہوتا ہے۔ مولانا تھانوی کے ساتھ قائد کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ براہ راست رابطے کا واحد ثبوت قائداعظم کا ایک خط ہے جوانہوں نے مولانا تھانوی کے ایک خط کے جواب میں لکھا۔

1937ء تک مولانا تھانوی مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد میں یکسو نہیں تھے۔ اس سال ہونے والے انتخابات سے پہلے جب جھانسی کے لوگوں نے مولاناکی رائے معلوم کرنا چاہی توان کاجواب واضح نہیں تھا۔ انہوں نے مسلم لیگ کے بارے میں اپنی ترجیح کا ذکرکیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ مسلم لیگ زمین داروں کی جماعت ہے‘ اس لیے یہ امرمشتبہ ہے کہ وہ جیت کراسلامی نظام نافذ کرسکے گی؛ تاہم مولانا ظفراحمد عثمانی کی تجویز پر انہوں نے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ بحیثیت مجموعی یہ انتخابات ہارگئی لیکن مولاناکی نصرت کے باعث جھانسی میں کامیاب رہی۔

6جون 1938ء کو پٹنا میں مسلم لیگ کا ایک اہم اجلاس ہوا۔ اس میں مولانا تھانوی کی طرف سے چار رکنی وفد نے شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا تھانوی کا ایک خط پڑھا گیا جس میں انہوں نے یہ بیان کیاکہ وہ مسلم لیگ سے کیا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلم لیگ کواب جنداللہ‘اللہ کے لشکر میں تبدیل ہوجانا چاہیے۔ اس کیلئے وہ اللہ پر ایمان کو مضبوط کریں۔ دوسرے یہ کہ مغربی تہذیب کے اثرات سے نکلیں۔ تیسرے غیرمسلموں کے ساتھ مشابہت سے بچیں اور داڑھی رکھیں۔ چوتھا یہ کہ نماز روزہ اور زکوٰۃ کا اہتمام کریں۔ 1943ء میں مولانا تھانوی کا انتقال ہوا‘ 1944ء میں ان کے سیاسی جانشین مولانا شبیر احمد عثمانی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ 1945ء میں جمعیت علمائے ہند سے الگ ہوکر علمائے دیوبند کے ایک طبقے نے جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رہی، جس نے مسلم لیگ کی اعلانیہ حمایت کردی۔ مولانا عثمانی کلکتہ میں ہونے والے تاسیسی اجلاس میں خود شریک نہ ہو سکے۔ ان کی غیرحاضری میں ان کا خطبہ صدارت پڑھ کر سنایا گیا۔

اس اجلاس میں کم وبیش پانچ ہزارعلما شریک ہوئے۔ انہوں نے 'گاندھی ازم، اشتراکیت اور کمال ازم کی ملحدانہ سیاست‘ سے اظہارِ لاتعلقی کیا اور قائداعظم کو یقین دلایاکہ علما اور مشائخ انتخابات میں مسلم لیگ کا ساتھ دیں گے۔ مسلم لیگ کی طرف سے نواب محمد اسماعیل کا پیغام بھی سنایا گیا‘ جنہوں نے وعدہ کیاکہ پاکستان میں شریعت اور مذہب کے معاملات میں علماکی قیادت کوتسلیم کیا جائے گا۔

اجلاس میں مختلف قراردادوں کی صورت میں جمعیت نے اسلامی ریاست کا خاکہ بھی پیش کیا۔ ان قراردادوں کے مطابق، چونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا لہٰذا اس میں علما کا کردار اہم ہونا چاہیے۔ اس کے لیے تجویزکیا گیاکہ پاکستان میں 'شیخ الاسلام‘ کا منصب ہو۔ ایک مفتیٔ اعظم ہو جو عدالتوں اورفقہی مسائل میں رہنما ہو جہاں مسلمانوں کے امورکے فیصلے ان کی فقہ کے مطابق ہوں۔ زکوٰۃ وصدقات کے لیے بیت المال ہو اور 'نظاماتِ اوقافِ اسلامیہ‘ ہو۔

مولانا تھانوی علما کے عملی سیاست میں حصہ لینے کے خلاف تھے لیکن ان کی رائے کے برعکس، مولانا عثمانی نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور عوامی سطح پر بھرپور انداز میں مسلم لیگ کا مقدمہ پیش کیا۔ انہوں نے متحدہ قومیت کے تصورکو شدت کے ساتھ رد کیا جو جمعیت علمائے ہند پیش کررہی تھی۔ اسے غیراسلامی کہا۔ نبیﷺ کی آمد کے بعد ان کے خیال میں اب صرف ایک تقسیم باقی ہے: مومن اور کافر۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیاکہ شیخ الہند بھی ہندو اور مسلمان کو دوالگ قومیں سمجھتے تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنی وفات سے نو دن پہلے کیا۔ انہوں نے مدینہ اور پاکستان کو مترادف کہا اور یہ تعبیر پیش کی کہ رسالت مآبﷺ نے مدینہ میں ایک پاکستان قائم کیا (جمعیت کے لاہوراجلاس میں خطاب) ان کا کہنا تھاکہ جس طرح مدینہ کی ہجرت اوروہاں ایک اسلامی مرکزکا قیام ہمہ گیر اسلامی ریاست کی طرف پہلا قدم تھا، اسی طرح پاکستان کا قیام بھی اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

پاکستان بننے کے بعد 13 جنوری 1848ء کو مولانا عثمانی کی رہائش گاہ پر جمعیت علمائے اسلام کا اجتماع ہوا جس میں شیخ الاسلام کے منصب کی بحالی کا مطالبہ دہرایا گیا۔ مولانا تھانوی اور مولانا عثمانی جمہوریت کے مخالف تھے اور اسے غیر اسلامی سمجھتے تھے۔

اس تجزیے سے واضح ہے کہ مولانا تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی‘ دونوں قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کو ایک الگ قوم سمجھتے تھے؛ تاہم 'اسلامی ریاست‘ اور سیاسی تصورات کے باب میں دونوں کا نقطہ ہائے نظر مختلف تھے۔ اس بات کا مجھے کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان علما کے کردار کی تحسین کے باوجود، قائد اعظم نے ان سے کوئی فکری اثر لیا ہو۔

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

شخصیات

(مئی ۲۰۲۱ء)

مئی ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۵

Flag Counter