خواتین کے حقوق و مسائل اور معاشرتی اصلاح کا مذہبی ایجنڈا

محمد عمار خان ناصر

انبیاء کی دعوت کی جو تاریخ  آسمانی صحائف میں بیان ہوئی ہے، اس کے مطابق     انسانوں کو دعوت ایمان اور  اصلاح عقیدہ  کے بعد   انبیاء کا اہم ترین کام اپنے ماحول  کے اخلاقی بگاڑ اور فساد معاشرت کو درست کرنا ہوتا ہے۔  تمام انبیاء کی دعوت میں   ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی فساد کا کوئی نہ کوئی پہلو  نمایاں موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔   قرآن مجید کی تعلیم   اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی   دعوتی جدوجہد بھی اس سے مستثنی نہیں اور   خاص طور پر   قرآن میں شرعی احکام کا  ایک بہت بڑاحصہ  خاندانی  رشتوں  کے حوالے سے  جاہلی معاشرت میں پائی جانے والی افراط وتفریط  کی اصلاح پر مبنی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد  ہر قسم کی نبوت کا دروازہ  بند کیا جا چکا ہے، لیکن  آپ کی پیش کردہ دعوت  اور  برپا کردہ اصلاحات  کی تفصیل قرآن وحدیث اور سیرت وتاریخ میں محفوظ ہے۔  غور کرنے کی بات یہ ہے کہ  بالفرض اگر نبوت کا سلسلہ جاری ہوتا اور آج ہمارے معاشرے میں    کوئی نبی  بھیجا جاتا تو   صنفین کے مقام، حقوق، ذمہ داریوں اور حدود کے حوالے سے   اس کے معاشرتی اصلاح کے ایجنڈے کے موضوعات اور ترجیحات کیا ہوتیں؟ یہ سوال   خاص طور پر  مذہبی روایت سے وابستہ اور اس کے نمائندہ طبقوں کے لیے  قابل غور ہے اور اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ  کیا  نبی  کی بنیادی توجہ  کسی مخصوص  سماجی شناخت کے تحفظ  یا اس کو درپیش چیلنجز پر رد عمل    کو منظم کرنے پر ہوتی یا  وہ مثبت طور پر   معروف  انسانی اخلاقیات اور مذہبی اقدار کی روشنی میں  معاشرتی اصلاح کا کوئی  تعمیری ایجنڈا  پیش کرنے  کو اپنی ترجیح بناتا؟

ہمارے فہم کے مطابق ، انبیاء کی مجموعی تعلیم  اور خاص طور پر   پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی  اصلاحی مساعی کو  سامنے رکھتے ہوئے، بہت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ   ہمارے معاشرتی تناظر میں    ان کا   تعلیم کردہ ایجنڈا حسب ذیل ہوتا:

۱۔ نبی کی سب سے  پہلی ترجیح یہ ہوتی کہ وہ  صنفی بنیادوں پر معاشرے میں  تقسیم پیدا کیے  یا ایسی کسی تفریق کا حصہ بنے بغیر   بحیثیت مجموعی پورے معاشرے  سے مخاطب ہوتا  اور بتاتا کہ   انسانی معاشرت کی بقا اور استحکام کے لیے  صنفین کے مابین مطلوب  اور فطری تعلق   باہمی ہمدردی اور تعاون کا تعلق ہے۔ نبی اپنی تعلیم  اور رویے سے اجتماعی طرز احساس   کو اس طرح تشکیل دیتا کہ   انسان کی فطری کمزوریوں کی وجہ سے معاشرتی تعلقات اور رویوں میں   جو ناہمواری اور   ناانصافی  پیدا ہو جاتی ہے،  اس کا  حل لوگ تفریق اور مخاصمت کے فروغ اور   صنفی یا طبقاتی سیاست میں تلاش کرنے کے بجائے انسانوں کے حاسہ اخلاقی کو اپیل کرنے،  اجتماعی انسانی  ہمدردی کے جذبات کو بیدار کرنے  اور معاشرتی رویوں میں عدل وانصاف کی قدروں  کو مستحکم کرنے کی طرف متوجہ ہوتے۔

۲۔  صنفی تقسیم وتفریق کا طریقہ اختیار  یا اس کی تائید کیے بغیر، نبی   اس رجحان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتا بلکہ   اس کو  ہر طرح کی عملی نصرت فراہم کرتا  کہ خواتین  ایک معاشرتی طبقے کے طور پر    اپنے مقام اور حقوق کا شعور  پیدا کریں،    خواتین کی ذہن سازی ا ور تعلیم وتربیت کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیاں منظم کریں،  مسائل  اور مشکلات کی نشان دہی کے لیے  ابلاغ اور رابطے کے   تمام میسر ذرائع اختیار کریں،  ضروری قانونی وسیاسی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے  اجتماعی جدوجہد   کریں، غرض یہ کہ  ایک  متاثرہ فریق کی حیثیت سے ، معاشرت میں مطلوبہ اصلاحات کے لیے سرگرم اور منظم کردار ادا کریں۔

۳۔ نبی، صنفین کے ساتھ ساتھ صنف ثالث کی انسانی حیثیت اور سماجی  مقام کو بھی موضوع بناتا  اور انھیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینے  اور  انسانوں سے کم تر  حیثیت  میں کسی نہ کسی طرح زندگی گزار لینے کو   ان کی تقدیر   قرار دینے  کے بجائے  معاشرے میں اس بات کے لیے قبولیت اور آمادگی پیدا کرنے کی سعی کرتا کہ ان کے لیے بھی  معمول کی معاشرتی سرگرمیوں میں   شریک ہونے کے مواقع پیدا کیے جائیں اور   ان کی خصوصی  جسمانی حالت پر تحقیر یا تضحیک کا رویہ اپنانے کے بجائے، دیگر تمام اصحاب عذر کی طرح، ان کے لیے  بھی انسانی احترام وتوقیر  کا انداز نظر پیدا کیا جائے۔

۴۔  نبی،   خاندان  کے ادارے کی اہمیت  اور  بنیادی مقصد    کی روشنی میں   مروجہ غیر متوازن معاشرتی ترجیحات  کو  اپنی اصلاحی مساعی کا اولین ہدف قرار دیتا  اور  لوگوں کو سمجھاتا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد  دین واخلاق اور انسان کی فطری  ضروریات، سب کا تقاضا یہی ہے کہ  مرد اور عورت  ایک باہمی رشتے میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کی نفسیاتی اور جسمانی  تکمیل  کا ذریعہ بنتے ہوئے زندگی گزاریں۔  نبی،  نکاح کو آسان بنانے اور  اس کے راستے میں  کھڑی کر دی جانے والی ہر قسم کی  رکاوٹوں کے ازالے کو  تعلیم وتلقین کا خصوصی  موضوع بناتا اور    نکاح کو مرد  کے معاشی اسٹیٹس اور  عورت کی طرف سے قیمتی جہیز  جیسی    شرائط کے ساتھ مشروط کرنے کے رجحان کی   سخت حوصلہ شکنی کرتا۔   

۵۔ نبی ایک سماجی مسئلے کے طور پر مطلقات اور بیواوں نیز ایسی خواتین  کے لیے   جن کی شادی کی مناسب عمر گزر چکی ہو، ازدواجی زندگی کے حق کو  بطور خاص نمایاں کرتا  اور معاشرے  کو اس ذمہ داری  کی طرف متوجہ کرتا کہ ایسی خواتین  کے لیے   بھی اس فطری معاشرتی حق سے  بہرہ مند ہونے کے مواقع پیدا کیے جائیں۔  اس ضمن میں نبی،  حسب ضرورت  ایسے افراد کو جو ایک سے زیادہ  خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں،    اس کی ترغیب دیتا  کہ وہ ایسا کریں اور  خواتین کو یہ  تعلیم  دیتا کہ وہ  اس مسئلے کو اپنے شخصی احساسات اور جذبات  کے زاویے سے نہیں، بلکہ  ایک معاشرتی ضرورت کے زاویے سے دیکھیں ۔ نبی، خواتین میں اس طرز احساس کو فروغ دیتا کہ اگر وہ اپنی ہی کچھ بہنوں  کو اپنے ساتھ اس رشتے میں شریک بنانے پر رضامند ہوں گی تو دین واخلاق کے لحاظ سے یہ کوئی محرومی نہیں، بلکہ   ایک اعلی انسانی وٰ اخلاقی رویے کا اظہار ہوگا۔

۶۔ نبی، مرد اور عورتوں دونوں کو اپنے شریک حیات کے انتخاب   کا حق دینے کو   رشتہ نکاح کے بنیادی اصول کے طور پر  پیش کرتا اور  لوگوں کو سمجھاتا کہ نکاح بنیادی طور پر بالغ مرد اور عورت  کا باہمی فیصلہ ہے جس میں  اصل اہمیت انھی کی رضامندی کو حاصل ہے۔ خاندان اور برادری کا کردار  اس رشتے میں    اپنی ترجیحات کو مرد اور عورت پر مسلط کرنا نہیں، بلکہ افراد  کو حق انتخاب  میں سہولت مہیا کرنا اور اس رشتے سے متعلق  حقوق وفرائض  کی انجام دہی کو یقینی بنانے میں     اپنی ذمہ داری انجام دینا ہے۔     نبی، بطور خاص خواتین کو ان کی آزادی و اختیار سے محروم کرنے اور انھیں ایک جائیداد تصور کرنے کی   نفی کرتا اور  اس بات کی تعلیم دیتا کہ وہ معروف کے مطابق  اپنی ذات کےمتعلق  جو بھی فیصلہ کرنا چاہیں،  اس میں سماجی دباو   سے کام لیتے ہوئے بے جا رخنہ اندازی      کرنا ایک غیر اخلاقی طرز عمل ہے۔ نبی خواتین پر ان کی مرضی کے خلاف  فیصلے مسلط کرنے کے رویے کی حوصلہ شکنی کرتا اور  معاشرے  میں اثر ورسوخ  رکھنے والے افراد اور طبقات  کو ان کی ذمہ داری  کا احساس دلاتا ، تاکہ وہ اس طرح  کی صورت حال میں خواتین کی   نصرت وحمایت کے لیے  اخلاقی وسماجی دباو اور قانونی   اختیار کو بروئے کار لائیں۔

۷۔  انسانی تمدن   میں  تغیر وارتقاء  کے اس مرحلے   میں نبی  ، خاندان اورمعاشرے کی پدر سرانہ  بنیادوں کے حوالے سے  پائے جانے والے افراط وتفریط  کی اصلاح پر بھی خاص توجہ مرکوز کرتا۔   وہ لوگوں کو اس حقیقت کی یاددہانی کرواتا کہ خاندان  کا ادارہ  انسان نے عورتوں  کے استحصال یا ان کو  مرد کی غلامی میں دینے کے لیے نہیں ، بلکہ بقائے نسل  میں  مرد وزن کے کردار کی فطری تقسیم  کے تناظر میں  خواتین کو  بچوں کی ولادت وتربیت کے لیے ایک محفوظ  ماحول مہیا کرنے  اور   مردوں کو  ان کی حفاظت وکفالت کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے  قائم کیا تھا۔  نبی لوگوں کو متوجہ کرتا کہ  خاندانی رشتے  اور اس میں  ذمہ داریوں کی اس تقسیم کے  حوالے سے خواتین  میں مردوں سے منافرت  یا غیر فطری مسابقت کے جذبے کو تحریک دینا  خاندان کے ادارے کے لیے بھی تباہ کن ہے اور خواتین کی نفسیات میں بھی  شدید نوعیت کے اضطرابات اور  پیچیدگیاں پیدا کرنے کا موجب ہے  او رکسی بھی لحاظ سے خواتین کی خیر خواہی   پر مبنی نہیں ہے۔  

۸۔ نبی پدرسری نظام میں مرد کے زیادہ فعال کردار سے پیدا ہونے والی ناہمواریوں اور  خواتین کے سماجی مقام، کردار اور حقوق کی غیر منصفانہ تحدید  کو بھی اتنے ہی  اہتمام  سے اصلاح کا  موضوع بناتا  اور معاشرے کو تلقین کرتا کہ خانگی زندگی کی حدود وقیود  کو  خواتین  کے لیے قید خانہ  بنا دینے  اور     مردوں کے ان کی کفالت  کا ذمہ دار ہونے  کو  خواتین کی مالی خود مختاری  سلب کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا   سخت غیر اخلاقی اور    خاندانی رشتے کی اصل روح کو پامال کر دینے والا  رویہ ہے۔  اس ضمن میں خاص طور پر حسب ذیل تین   امور  نبی کی تعلیم وتلقین اور اصلاحی مساعی کا مرکزی  نکتہ ہوتے:

اولا،  بوقت نکاح خواتین کو ان کا مکمل طے شدہ مہر   اور  قرابت داروں کے ترکے میں سے خواتین کے حصوں کی ادائیگی کو ایک شرعی فریضہ قرار دیتا، اس کو خدا خوفی، تقوی  اور  حسن کردار کے ایک معیار کے طور پر    پیش کرتا اور اس مسئلے کو  عمومی دینی تعلیم وتلقین  کا ایک زندہ موضوع بناتا۔

ثانیا،  خواتین کو ان کے مالی حقوق  کے باب میں  حقیقی طور پر بااختیار  بنانے کے لیے ان کی جائیداد میں مرد رشتہ داروں کی طرف سے ناروا تصرف نیز  مہر اور حق وراثت کی  غیر حقیقی معافی کے رواج کو ممنوع ٹھہراتا  اور ارباب اختیار کو اس حوالے سے ضروری قانونی  بندوبست کی تلقین کرتا۔

ثالثا،  خواتین  کی تعلیم وتربیت   اور ان کے معاشرتی تعامل  میں اس نکتے کو ایک ترجیحی  ہدف کے طور پر  شامل کرتا کہ ان میں اپنے شرعی وقانونی حقوق کا شعور پیدا ہو اور ان کے حصول کے لیے  معاشرے میں موجود تمام ذرائع تک ان کی رسائی آسان ہو۔

۹۔  خاندانی رشتے کی حدود وقیود کو  خواتین کے لیے متوازن  بنانے کے ساتھ ساتھ نبی  عمومی معاشرتی  زندگی میں بھی  ایک طبقے کے طور پر خواتین کے تعمیری اور سرگرم کردار  کی حوصلہ افزائی کرتا  اور  ایسے معاشرتی رویے  وجود میں لانے کی سعی کرتا جو   خواتین کی فطری صلاحیتوں سے مناسبت رکھنے والے  تمام دائروں میں   ان کی شرکت کو آسان بنانے میں مددگار ہوں۔ نبی اس بات کو  ایک اخلاقی قدر کے طور پر معاشرے میں رائج کرتا کہ    خواتین کی سماجی ذمہ داریوں     میں شریک کرتے ہوئے ان کی فطری خلقی نزاکتوں اور  گھریلو ذمہ داریوں کو ملحوظ رکھا جائے اور خواتین کے لیے اوقات کار اور  ذمہ داریوں کا حجم وغیرہ  طے کرتے ہوئے  اس پہلو کی خصوصی  رعایت کی جائے۔  اس ضمن میں نبی  ایسے منفی معاشرتی رویوں اور  رجحان ساز  صنعتوں کی اصلاح پر خاص توجہ مرکوز کرتا  جو  خواتین کے لیے احترام وتوقیر کا انداز  فکر پیدا کرنے کے بجائے  ان کے متعلق جنسی تلذذ کے   رویے کو فروغ دیتے  اور خواتین کے لیے جنسی ہراسانی  جیسے مسائل پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔  نبی  ایک ایسے ماحول  کو معاشرے کے سامنے اخلاقی آئیڈیل کے طور پر پیش کرتا جس میں  خواتین اپنی سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بے خوف وخطر نقل  وحرکت کر سکیں  اور بوقت ضرورت اگر   کوئی خاتون تن تنہا اپنے گھر  سے نکل کر بیت اللہ کے حج کے لیے بھی جانا چاہے تو اسے  کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔  

۱٠۔ نبی خاص طو رپر   تعلیم وتربیت کے میدان میں   خواتین کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی  ترغیب دیتا  اور ایسا ماحول پیدا کرتا جس میں    علمی وفکری اہلیت رکھنے والی خواتین  معاشرے کی دینی ودنیوی راہ نمائی  کے باب میں   مرد اہل علم ہی کی طرح موثر  کردار ادا کر سکیں۔  نبی اس بات کو بھی  بنیادی ترجیح قرار دیتا کہ خاص طور پر خواتین  کی تعلیم وتربیت  اور  ان کی علمی وعملی راہ نمائی  میں خواتین اہل علم ہی مرکزی  کردار ادا کریں  اور   اگر اس کام کو یکسوئی اور ترکیز کے ساتھ  کرنے کے لیے خواتین کی مستقل مساجد   کا قیام مفید یا مددگار ہو  جہاں تعلیم، وعظ اور امامت وخطبہ کی ذمہ داریاں خواتین کے سپرد ہوں تو معاشرہ اس کا بھی انتظام کرے۔

۱۱۔ نبی، جنسی جبلت  سے متعلق      فکری وعملی انحرافات کو  بطور خاص موضوع بناتا اور لوگوں کو بتاتا کہ  جو چیز انسان کو   جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ صرف عقل نہیں  جس کی مدد سے انسان اپنی  خواہشات  کو پورا کرنے کے  طریقے تلاش کرتا رہے، بلکہ   انسان کا اصل شرف اس کا اخلاقی وجود  ہے  جو اسے   حیوانی  جبلتوں  کی تہذیب میں    مدد دیتا  ہے۔   نبی   انسانوں کو یہ سمجھاتا کہ جانوروں کے برعکس انسان کے لیے  بھوک پیاس اور مال ودولت کی حرص کی طرح جنسی جبلت بھی  اخلاقی قدغنوں  اور  انسانی اجتماع کے مصالح کے تابع ہے اور اس کی تسکین کے  انھی طریقوں کو  انسانی معاشرے میں قبولیت اور جواز  ملنا چاہیے جو   شرف انسانی  سے ہم آہنگ اور  معاشرتی مصالح   کی حفاظت میں  مددگار ہوں۔  بالفاظ دیگر، نبی     لوگوں پر بے قید جنسی تعلق،  ہم جنس پرستی  اور شذوذ جنسی کے   دیگر طریقوں کا غیر فطری اور غیر اخلاقی ہونا واضح کرتا اور انھیں متوجہ کرتا کہ  جنسی جبلت کو ان  اخلاقی قدغنوں سے آزاد  کر کے جو انسانی  اجتماع نے صدیوں کی  اخلاقی وتہذیبی تربیت  سے مستحکم کی تھیں،  انسان اپنے آپ کو حیوانیت کی سطح پر اتار رہا اور  خود کو انسانی  شرف وامتیاز سے  محروم کر رہا ہے۔

۱۲۔   نبی لوگوں کو یاد دلاتا  کہ جہاں جنسی جذبے کی تسکین کا ضروری بندوبست  فطری بنیادوں پر معاشرے کی تعمیر وتشکیل کے لیے ضروری ہے، وہاں   انسان کے اندر کے اس وحشی کو  کسی بھی طریقے سے چھیڑچھاڑ کر کے ابھارنا  فرد اور معاشرہ، دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔  نبی اس باب میں   صنفین کو  انفرادی سطح پر بھی مخاطب کرتا کہ وہ  جنسی جذبے کو بے لگام ہونے سے بچانے کے لیے  ضروری حدود وآداب کی پابندی کریں اور  معاشرے میں رجحان سازی  کا کردار ادا کرنے والے  تمام طبقات کو بھی   ان کی ذمہ داری کا احساس دلاتا کہ  وہ جنسی جذبے کی  انگیخت کو  کھیل تماشے کا ذریعہ یا ایک فروختنی چیز نہ بنائیں۔  نبی انسانوں کو    اس طرف بھی متوجہ کرتا کہ جنسی جبلت کے متعلق   حیوانی انداز فکر  کیسے انسانی معاشرے میں جنسی درندگی  کو فروغ دینے اور جنسی ہوس کا نشانہ  بن سکنے والے ہر طبقے کی   حفاظت وحرمت کو شدید خطرے سے دوچار کر  دینے کا موجب ہے۔

دین اور معاشرہ

(اپریل ۲۰۲۱ء)

اپریل ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۴

Flag Counter