جون ۲۰۲۰ء

مدارس کا موجودہ نظام اور علماء کا روزگار

― محمد عمار خان ناصر

والد گرامی کی روایت ہے، گوجرانوالہ میں یوسف کمال نام کے ایک ڈپٹی کمشنر صاحب مقرر ہوئے جو کافی رعونت پسند اور طبقہ علماء کے بہت خلاف تھے۔ ایک میٹنگ میں، جس میں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب سمیت شہر کی بڑی مذہبی شخصیات شریک تھیں، ڈی سی صاحب نے گفتگو شروع فرمائی کہ مجھے علماء کرام پر بہت ترس آتا ہے، میرا دل دکھتا ہے کہ ان کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا، ان کا روزگار لوگوں کی جیب سے وابستہ ہوتا ہے، وغیرہ۔ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب مضطرب ہوئے اور زیر لب کہنے لگے کہ یہ بہت زیادتی ہے۔ والد گرامی نے کہا کہ اگر آپ فرمائیں تو میں ڈی سی صاحب کو جواب دوں؟...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۶)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

سورة سبا کے بعض مقامات کا ترجمہ۔ (۲٠۳) یُخلِفُہُ کا ترجمہ۔ اخلف کا ایک مطلب ہوتا ہے کوئی چیز ختم ہوگئی ہو تو اس کی جگہ دوسری چیز لے آنا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: واَخلَفَ فلان لنفسہ، اذا کان قد ذھب لہ شیءفجعل مکانَہ آخر(الصحاح) اس معنی میں یہ لفظ قرآن مجید میں ایک آیت میں آیا ہے، لیکن بہت سے مترجمین سے یہاں غلطی ہوئی اور انھوں نے بدل کے بجائے بدلے کا ترجمہ کردیا۔ اس غلطی کی وجہ غالبا یہ ہوئی کہ اسی جملے میں انفاق کا ذکر آیا ہے جس سے انھوں نے راہ خدا میں خرچ کرنا سمجھ لیا۔ دراصل جیسا کہ سیاق سے صاف معلوم ہوتا ہے یہ آیت راہ خدا میں خرچ کرنے...

ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کی وفات کی خبر نے نہ صرف ان کے تلامذہ اور معتقدین بلکہ ان کی علمی جدوجہد اور اثاثہ سے با خبر عامۃ المسلمین کو بھی غم و اندوہ کے ایسے اندھیرے سے دوچار کر دیا ہے جس میں دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ علامہ صاحبؒ کی علالت کی خبریں چند دنوں سے آ رہی تھیں اور بستر سے اٹھتے ہوئے گر کر زخمی ہونے کی خبر نے پریشانی میں اضافہ کر رکھا تھا۔ مگر موت نے اپنے وقت پر آنا تھا، وہ آئی اور علامہ صاحبؒ ہزاروں بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے...

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ کی وفات کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مفتی صاحبؒ کی علالت کی خبریں کئی روز سے آرہی تھی، اور آخر عالم اسلام کی یہ عظیم علمی شخصیت، محدث، فقیہ، متکلم اور ہزاروں علماء کرام کے شفیق استاذ اپنا سفر زندگی مکمل کر کے دار باقی کی طرف روانہ ہوگئے۔ مولانا پالنپوریؒ کے تعارف کے لیے اس کے بعد مزید کسی بات کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی علمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے...

الشریعہ اکادمی کا تین سالہ آن لائن کورس

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۹۹۰ء میں ہم نے گوجرانوالہ میں ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے نام سے دینی و عصری تعلیم کے نصابوں کی مشترکہ تعلیم کا پروگرام تشکیل دیا تو ہمارے دونوں بزرگوں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے، جو اس پروگرام کے عملی سرپرست اور شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے رکن تھے، کہا کہ اسے درس نظامی کے روایتی نظام اور دینی مدارس کے سسٹم میں کسی قسم کا دخل دیے بغیر الگ تجربے کے طور پر چلائیں، چنانچہ یہ سلسلہ مختلف نشیب و فراز سے گزر کر اب جامعۃ الرشید کراچی کے زیر اہتمام بہت بہتر طریقے سے ’’جامعہ شاہ...

کشمکشِ عقل و نقل: امام رازیؒ اور علامہ ابن تیمیہ ؒ

― مولانا محمد بھٹی

علامہ صاحب کی انتقادی سرگرمی کے موردِ اصلی متکلمینِ اہل سنت ہیں اور اس انتقادی پیکار کا منتہائی ہدف صفاتِ متشابہات بابت اپنے مخصوص مذہب کا دفاع ہے،باقی سب زیبِ داستان ہے۔عقل و نقل کی کشمکش ہو یا لغت و بلاغت کے مسائل ہوں،سب اسی غرض کی براری کے لیے خام مال کے طور پر کام میں لائے گئے ہیں۔آپ کی کتاب 'درء تعارضِ العقل و النقل' کا ہدفِ اصلی بھی صفات کے باب میں اپنے 'مائل بہ تجسیم' موقف کا دفاع اور متکلمینِ اہلسنت کی تردید تھا جس کی حیثیت محض ایک خام آرزو کی ہی رہی۔علامہ صاحب کے احترامات فراواں کے باوجود یہ کہنا ناگزیر ہے کہ مذکورہ بالا کتاب میں بھی...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۷)

― محمد عمار خان ناصر

غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کے مطابق قرآن مجید سے رسولوں کے باب میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخصوص سنت واضح ہوتی ہے جس کی رو سے منصب رسالت پر فائز کسی ہستی کو جب کسی قوم میں مبعوث کیا جاتا ہے تو اس فیصلے کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور باطل کے فرق کو بالکل قطعی درجے میں اور علیٰ رؤوس الاشہاد واضح کر دیے جانے کے بعد بھی جو لوگ حق کے انکار پر مصر رہیں، وہ اسی دنیا میں خدا کے عذاب کے مستحق ہو جائیں گے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ’’اللہ تعالیٰ کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہو جاتی ہے تو منکرین حق پر اسی دنیا میں اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے...

جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۱)

― مولانا محمد اشفاق

انسانی جسم میں بعض تصرفات خصوصاً عورتوں سے متعلقہ چند افعال سے احادیث ِ مبارکہ میں سختی سے منع کیا گیا ہے ،اور ان پر لعنت بھی کی گئی ہے ؛جیسے بالوں میں دوسرے بال ( وصل کرنا یا کروانا)لگوانا،جسم کو گودنا یا گدوانا( وشم)، ابرؤوں کو باریک کروانا( نمص) دانتوں کے درمیان فاصلہ کروانا( تفلیج) ۔ انھی میں جدید دور کے بعض جمالیاتی تصرفات کو بھی شامل کیا جاتاہے ،جیسے چہرے کی جھریوں کو ختم کرنے کےلیے یا اس طرح کے دوسرے مقاصد کےلیے سرجری کرواناوغیرہ ۔اس طرح کے افعال سے ممانعت کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس میں اللہ کی بنائی ہوئی جسمانی ساخت میں تبدیلی...

ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم

― محمد عرفان ندیم

عرب و ہند کے تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے، بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہندوستان کے مختلف قبائل جاٹ، مید، سیابچہ ، احامرہ، اساورہ اور بیاسرہ وغیرہ تجارت کی غرض سے بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ آیا جایا کرتے تھے۔یہ قبائل براستہ ایران عراق گئے اور وہاں سے جحاز کے مختلف خطوںمیں آ باد ہوگئے۔انہی تجارتی تعلقات اور میل جول کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی نقوش پہلی صدی ہجری میں ہی نظرآنے لگے تھے۔سن دس ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ نے ان کو دیکھ کر فرمایاتھا کہ:...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter