صحابہ کرام کے بارے مولانا مودودی کا اصولی موقف

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت  اور تجدید و احیائے دین کی بعض عبارتیں ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنی ہوئی ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر خاص ان عبارتوں کی بجائے اس پر بات کی جاتی  کہ اصولی طور پر مولانا مودودی کس جگہ غلطی پر ہیں ۔ اصولی چیزوں کے علاوہ تاریخی چیزوں میں بعض جگہ ان کی غلطی یا بددیانتی بھی اگر ثابت ہوجاتی ہے تو دیگر بہت سی جگہوں میں اسی قسم کی چیزیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں ۔

مولانا مودودی صحابہ کرام کو محترم اور مکرم مانتے ہیں۔ اپنی تفسیر میں بہت سی جگہوں پر شیعی نظریات  کا رد کرتے ہیں ۔ صحابہ کرام کے حوالے سے جس قدر فضائل و مناقب ہیں، ان سب کو تسلیم کرتے ہیں ۔ صحابہ معیار حق ہیں ، سبھی صحابہ عادل ہیں ، سبھی صحابہ قابل اتباع  ہیں، ایسی جس قدر بھی روایات ہیں، مولانا مودودی ان کو مجموعی طور پر سبھی صحابہ  کے لیے مانتے ہیں، تاہم  انفرادی طور پر کسی سے غلطی سرزد  ہوسکتی ہے لیکن اس کی  وجہ سے  ان کے رتبہ صحابیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا ۔ پھر   اس میں بھی جہاں ممکن ہو، تاویل کی جائے گی، لیکن جہاں تاویل ممکن نہ ہو تو غلطی کو بحیثیت غلطی تو نہیں ذکرکریں گے  یعنی صرف ان کی غلطیوں پر کلام کرنا تو درست نہیں ہوگا، تاہم کسی بحث کے دوران اگر اس غلطی کا ذکر آجاتا ہے تو اس کو ہم غلطی  ہی کہیں گے ، یعنی صحیح اور غلط کے جو طے شدہ معیارات ہیں، ان سے نہیں ہٹیں گے ۔

صحابہ کرام کی عظمت اور احترام کے بارے مولانا کی بعض عبارات ملاحظہ ہوں :

"بلاشبہ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ واجب الاحترام ہیں اور بڑا ظلم کرتا ہے وہ شخص جو ان کی کسی غلطی کی وجہ سے ان کی ساری خدمات پر پانی پھیر دیتاہے ۔ اور ان کے مرتبے کو  بھول کر گالیاں دینے پر اتر آتاہے"۔ (خلافت و ملوکیت ص 143،44)

"صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہنے والا میرے نزدیک صرف فاسق ہی نہیں بلکہ اسکا ایمان بھی مشتبہ ہے. من ابغضھم فببغضی ابغضھم"۔ (ترجمان القرآن ، اگست 1961)

"وہ  ایک دوسرے پر تلوار اٹھا کر رُحَمَاء بَيْنَھُمْ ہی رہتے تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی قدر، عزت، محبت، اسلامی حقوق کی مراعات، اس شدید خانہ جنگی کی حالت میں بھی جوں کی توں برقرار رہی۔ اس میں یک سر مو فرق نہ آیا۔ بعد کے لوگ کسی کے حامی بن کر ان میں سے کسی کو گالیاں دیں تو یہ ان کی اپنی بدتمیزی ہے، مگر وہ لوگ آپس کی عداوت میں نہیں لڑے تھے اور لڑ کر ایک دوسرے کے دشمن نہ ہوئے تھے " ۔(ترجمان القرآن ،نومبر 1957)

مولانا مودودی پر سب سے بڑا الزام حضرت امیر معاویہ اور حضرت عثمان کی توہین کا عائد کیا جاتا ہے۔ حضرت امیر معاویہ کے بارے میں لکھتے ہیں :

"حضرت معاویہ کے محامد و مناقب اپنی جگہ پر ہیں ۔ ان کا شرف صحابیت بھی واجب الاحترام ہے ۔ ان کی یہ خدمت بھی ناقابل انکار ہے کہ انہوں نے پھر سے دنیائے اسلام کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا اور دنیا ئے اسلام میں اسلام کے غلبے کا دائرہ پہلے سے زیادہ وسیع کردیا ۔ ان پر جو شخص لعن طعن کرتاہے وہ بلاشبہ زیادتی کرتاہے لیکن ان کے غلط کام کو تو غلط کہنا ہی ہوگا ۔ اسے صحیح کہنے کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم  اپنے صحیح و غلط کے معیار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔" (خلافت و ملوکیت ، 155)

صحابہ کرام کے بہت سے فیصلوں خاص طور پر حضرت امیر معاویہ کے فیصلوں کو اجتہادی قرار دیتے ہوئے ان کے لئے گنجائش پیدا کی جاتی ہے۔ مولانا اس کو تسلیم نہیں کرتے ہیں بلکہ صحیح و غلط کے جو معیارات ہیں ان کی روشنی میں ہی ان کو دیکھا جائے گا ، لیکن کہیں بھی مولانا توہین پر نہیں اترتے ہیں بلکہ بار بار یہ بات کہتے ہیں کہ اس خاص واقعہ یا خاص بات کے غلط ہونے کے علاوہ ان کی شخصیت کے فضائل و مناقب اسی طرح رہیں گے ۔

"یہ بھی کچھ کم زیادتی نہیں ہے کہ اگر ان "صحابہ کرام " میں سے کسی نے کوئی غلط کام کیا ہو تو ہم محض صحابیت کی رعایت سے اس کو اجتہاد قراردینے کی کوشش کریں ۔ بڑے لوگوں کے غلط کام اگر ان کی بڑائی کے سبب سے اجتہاد بن جائیں تو بعد کے لوگوں کو ہم کیا کہہ کر ایسے اجتہادات سے روک سکتے ہیں ۔ ۔۔۔۔ کوئی غلط کام محض شرف صحابیت کی وجہ سے مشرف نہیں ہوجاتا بلکہ صحابی کے مرتبہ بلند کی وجہ سے وہ غلطی اور زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے ۔ لیکن اس پر رائے زنی کرنے والے کو لازما یہ احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے کہ غلط کو صرف غلط سمجھنے اور کہنے پر اکتفاء کرے ۔ اس سے آگے بڑھ کر صحابی کی ذات کو بحیثیت مجموعی مطعون نہ کرنے لگے ۔ حضرت عمرو بن عاص یقینا بڑے مرتبے کے بزرگ ہیں اور انہوں نے اسلام کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں ۔ البتہ ان سے یہ دو کام "قرآن کوبلند کرنا ، تحکیم میں بات بدل دینا " ایسے سرزد ہوگئے ہیں جنہیں غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے  ۔" (خلافت و ملوکیت ،  143، 144)

 حضرت عمرو بن عاص کے اس فعل کو اجتہادی غلطی کیسے قرار دیا جاسکتاہے ؟ حضرات صحابہ کرام سے جو غلطیاں سر زد ہوئیں  خاص طور پر باہمی جنگوں کے معاملات میں، وہ اجتہادی تھیں یا  نہیں ؟ مولانا مودودی اپنے اجتہاد سے ان کو غیر اجتہادی غلطی ثابت کرنے پر مصر ہیں۔ یہ غلطیاں اجتہادی تھیں یا نہیں  ؟ حضرات صحابہ کرام کے پاک پیغمبر کی صحبت کی  برکت ، ان کی عظمت ،  اور قرآن و حدیث میں مذکور ان کے  فضائل اور خدمات   کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط یہی ہے کہ ان کو اجتہادی غلطی قرار دیا جائے ۔ لیکن کیا صحابہ کرام سے سرزد ہونے والی ہر غلطی اجتہادی تھی ؟ قرآن کریم نے بہت سی جگہوں پر صحابہ کرام کو تنبیہ کی ہے ، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے دور میں مختلف لوگوں کو سزائیں بھی ہوئیں ۔ وہ ایک بہترین سماج  ، رسول اللہ کی صحبت اور تربیت کے زیر اثر رہے لیکن اس معاشرے میں ہر طرح کے انسان تھےان سے کوئی سرزد ہونے والی ہر غلطی کو اجتہادی قرار دینا اس دور ، تاریخ اور نصوص کا درست مطالعہ نہیں ہے ۔

اجتہادی غلطی کی تعریف کیاہے، اس کو ذکرکرکے مولانا بتاتے ہیں  کہ حضرت علی کے خلاف جنگ کو اجتہادی غلطی نہیں قرار دیا جاسکتا ۔

"اجتہادی غلطی کے لئے شریعت میں کوئی گنجائش ہوتی ہے اور اجتہادی غلطی وہ رائے ہوتی ہے جس کے حق میں کوئی نہ کوئی شرعی استدلال تو ہو مگر وہ صحیح نہ ہو یا بے حد کمزور ہو ۔ حضرت علی کے خلاف تلوار اٹھانے کے جوا ز کی کوئی کمزور سے کمزور گنجائش بھی شریعت میں اگر تھی تو وہ کیا تھی ؟ ان کے ایسے افعال محض غلطی تھی ان کو اجتہادی غلطی قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ۔" (خلافت و ملوکیت ، ص 344)

صحابہ کرام کی صرف غلطیوں کو موضوع بحث بنانے کو مولانا مودودی بالکل درست نہیں سمجھتے ہیں۔ اس بارے ان کا اصولی موقف بہت اچھا ہے  :

"ایسے واقعات جن میں صحابہ کی غلطیوں کا بیان ہے جیسا کہ ماعز کے زنا کا واقعہ ہے محض مشغلہ کے طور پر بیان کرنا تو یقینا بہت برا ہے ، لیکن جہاں فی الواقع بیان کرنے کی ضرورت پڑے وہاں بھی اجتناب کرنا چاہیے ۔ بیان کرنے میں بات کو صرف بیان واقعہ تک محدود رکھا جائے اور کسی صحابی کی تنقیص نہ ہونے پائے" ۔(خلافت و ملوکیت ،  305)

اگر کسی صحابی کی طرف کسی ایسے کام کی نسبت کی جاتی ہے جو درست نہ ہو تو اس میں حتی الامکان تاویل کی جائے گی لیکن اس کا یہ مطلب کہ نہیں کہ ان سے غلطیاں سرزد نہیں ہوسکتیں ، اور غلطیاں سرزد ہونے کا یہ مطلب نہیں جیسا کہ روافض کہتے ہیں کہ ان کی تمام تر بزرگی اور فضائل جاتے رہے ۔ مولانا کی مودودی کی عبارت ملاحظہ ہو :

"میرے نزدیک ایک غیر نبی بزرگ کا کوئی کام غلط بھی ہوسکتاہے اور اس کے باوجود  وہ بزرگ بھی رہ سکتا ہے ۔ میں  کسی بزرگ کے کسی کام کو غلط صرف اسی وقت کہتا ہوں جب وہ قابل اعتماد ذرائع سے ثابت ہو اور کسی معقول دلیل سے اس کی تاویل نہ کی جاسکتی ہو ۔ اس غلطی کی حدتک تنقید کو محدود رکھتا ہوں ، اس غلطی کی وجہ سے میری نگاہ میں نہ ان بزرگ کی  بزرگی میں کوئی فرق آتا ہے نہ ان کے احترام میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے ۔

صحابہ بھی ایک انسانی معاشرہ تھا ان میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے تھے اور فی الواقع تھے جن کے اندر تزکیہ نفس کی اس بہترین تربیت کے باوجود کسی نہ کسی پہلو میں کوئی کمزور باقی رہ گئی تھی ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اور یہ صحابہ کرام کے ادب کا کوئی لازمی تقاضا بھی نہیں ہے کہ اس کا  انکار کیا جائے۔ تمام بزرگان دین کے معاملہ میں عموما اور صحابہ کرام کے معاملہ میں خصوصا میرا طرز عمل یہ ہے کہ جہاں تک کسی معقول تاویل سے یا کسی معتبر روایت کی مدد سے ان کے کسی قول یا عمل کی صحیح تعبیر ممکن ہو اسی کو اختیار کیاجائے اور اس کو غلط قراردینے کی جسارت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک کہ اس کے سوا چارہ نہ رہے ۔ لیکن دوسری طرف میرے نزدیک معقول تاویل کی حدوں سے تجاوز کرکے اور لیپ پوت کرکے غلطی کو چھپانا یا غلط کو صحیح بنانے کی کوشش کرنا نہ صرف انصاف اور علمی تحقیق کے خلاف ہے بلکہ میں اسے نقصان دہ بھی سمجھتا ہوں  کیونکہ اس طرح کی کمزور وکالت کسی کو مطمئن نہیں کرسکتی اور اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ صحابہ اور دوسرے بزرگوں کی اصلی خوبیوں کے بارے میں جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ بھی مشکوک ہوجا تاہے ۔ غلطیاں بڑے سے بڑے انسانوں سے بھی ہوجاتی ہیں اور ان سے ان کی بڑائی میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ ان کا مرتبہ ان کے عظیم کارناموں کی بنا پر متعین ہوتاہے نہ کہ ان کی کسی ایک یا دو چار غلطیوں کی بناء پر ۔" (خلافت و ملوکیت ،  308)

محدثین کا ایک اصول ہے الصحابۃ کلہم عدول ، مولانا اس میں تاویل کرتے ہیں :

"میں الصحابۃ کلہم عدول کا مطلب یہ لیتا کہ تما م صحابہ بے خطا تھے اور ان میں ہر ایک ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے بالاتر تھا اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرنے یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابی نے کبھی راستی سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے۔" (خلافت و ملوکیت ، ص 303 )

حضرت عثمان کے بارے مولانا کی  جس قدر عبارات ہیں ان پر بحث ہوسکتی لیکن ان کا اصولی موقف ملاحظہ ہو۔ حضرت عثمان کی پالیسیوں کے بارے بات چیت انتہائی محتاط انداز میں کرتے ہیں ، جس میں توہین یا تنقید کا دور تک بھی اندیشہ نہیں پڑتاہےاور الفاظ کا چناؤ بھی بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں  :

"حضرت عثمان کی پالیسیاں بلحاظ تدبیر نا مناسب تھی اور عملا سخت نقصان دہ ثابت ہوئیں ۔ ، جائز ناجائز ایک الگ معاملہ ہے لیکن سیاسی تدبیر کے لحاظ سے کسی چیز کا نامناسب ہونا ایک الگ معاملہ ہے حضرت امیر معاویہ کو ایک صوبے کی گورنری دینا  سیاسی  تدبیر کے لحاظ سے نامناسب ضرور تھا ۔" (خلافت و ملوکیت ، 322تا    325)

مولانا مودودی کی ایک عبارت پر اعتراض کیاگیا اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں  :

" دوسری طرف حضرت عثمان جن پر اس کار عظیم کا بار رکھا گیا ، ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطاء ہوئی تھیں ۔ اس لئے ان کے زمانہ خلافت میں جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا موقع مل گیا  ۔ بعض مفتیان کرام نے اس فقرے سے حضرت عثمان کی توہین کا پہلو نکالا ہے ۔ حالانکہ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ حضرت عثمان میں بعض اوصاف حکمرانی کی کمی تھی جو سیدنا ابو بکر صدیق اور سید عمر میں بدرجہ کمال پائے جاتے تھے ۔ یہ تاریخ کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں تاریخ کے طالب علم مختلف رائیں ظاہر کرسکتے ہیں ۔ یہ کوئی فقہ و کلام کا  مسئلہ نہیں ہے کہ دار الافتاؤں سے اس کے متعلق کوئی رائے بصورت فتویٰ صادر کی جائے " ۔  (تجدید و احیائے دین ، 28 )

 مولانا یہاں  کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے جس میں مختلف رائیں ہوسکتی ہیں لیکن حضرت علی  کے خلاف جنگ میں حضرت امیر معاویہ کو غلطی پر ٹھہرانا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بھی خالص ایک تاریخی معاملہ ہے جس میں فریقین کے پاس بنیادیں موجود تھیں ۔ کسی تاریخی مسئلے پر اگر مولانا مودودی فتویٰ لگائیں تو ان پر فتویٰ کیوں نہیں لگایا جاسکتا ؟ اور پھر وہ حضرت علی کے فعل کی تاویل کرسکتے ہیں تو دیگر صحابہ کے بارے ایسا کیوں نہیں کرتے ؟

صحابہ کی باہمی جنگوں میں مولانا حضرت علی کے مقابلے میں  عموما حضرت امیر معاویہ کو غلطی پر ٹھہراتے ہیں تاہم تاریخی ریکارڈ کی بنا پر وہ کہیں حضرت علی کو بھی غلطی پر کہتے ہیں ۔

"جنگ جمل کے بعد حضرت علی نے قاتلین عثمان کے بارے اپنا رویہ بدل دیا ۔ جنگ جمل تک وہ ان لوگوں سے بیزار تھے ، بادل نخواستہ ان کو برداشت کررہے تھے ، اور ان پر گرفت کرنے کے لئے موقع کے منتظر تھے ۔ مالک بن اشتر اور محمد بن ابی کو گورنری کے عہدے دیے ۔ حضرت علی کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔" (خلافت و ملوکیت ، 146)

حضرت علی مجبور ہوگئے جب صحابہ کرام ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے کہ جس گروہ سے بھی ہوسکے مددلیں اور قاتلین عثمان سے لڑائی نہ چھیڑیں ۔(خلافت و ملوکیت ،  323)

اگر چہ اس معاملے میں بھی وہ حضرت علی کو سپیس دینے کی طرف مائل ہیں  ، ملاعلی قاری کی ایک عبارت ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں  کہ قاتلین عثمان  باغی تھے اور ان کے پاس قوت تھی اور وہ اپنے فعل کے جواز کی تاویل کررہے تھے  اس قسم کے باغی اگر اطاعت کی طرف آجائیں تو جو کچھ انہوں نے نقصان کیا ہو اس پر مواخذہ نہیں ہوگا ، اور جن فقہاءکی رائے ہے کہ ان کا مواخذہ واجب ہے وہ اس وقت ہے جب ان کازور ٹوٹ جائے ۔ (خلافت و ملوکیت  ص ،)342۔  حضرت عثمان کے قاتلین کے بارے میں یہ سپیس اور رویہ اور حضرت امیر معاویہ جن کےساتھ بڑے بڑے صحابہ کھڑے تھے ان کے فعل میں کسی قسم کی تاویل کرکے اس کو اجتہاد غلطی نہیں کہا جاسکتا ؟  مولانا  کی فکر میں یہ تضاد موجودہے ۔

مولانا کی مجموعی فکر کی روشنی میں بھی اس مسئلہ کو دیکھنا ضروری ہے ۔ مولانا خلافت اور اسلامی ریاست کے داعی تھے اور اس کے لئے خلفاء راشدین کے دور کو آئیڈیل قرار دیتے  ہیں ۔ اس دوران یا اس کے بعد دور کی تبدیلیوں کے زیر اثر جو کچھ ہوا، اس کو اپنے خالص اسلامی نکتہ نظر کے منافی سمجھتے ہیں ۔ مولانا کی کتابوں کو پڑھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ مولانا صرف کسی خاص حکومت مثلا بنو امیہ کی بات نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بعد بھی جتنی حکومتیں قائم ہوئیں، ان کے بارےیہی نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ درحقیقت وہ اسلامی نہیں تھیں  ، ان  کو برداشت تو کیا جاسکتا تھا لیکن ان کو قبول نہیں کیا جاسکتا تھا، ان کا خاتمہ ہر حال میں ضروری تھا ، اور آج بھی مسلم یا غیر مسلم جتنی بھی حکومتیں ان سب کے بارے مولانا مودودی کی رائے یہی ہے ۔ یہ مسئلہ صرف مولانا مودودی کا نہیں ہے بلکہ اسی مخمصے میں بہت سے اسلامسٹ  مبتلا ہیں  ۔ آئیڈیلزم اور خالص اسلام کے نعرے تلے وہ دور  کے تحت ہونے والی فطری اور ضروری تبدیلیوں کو بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں اوراپنے ذہن کے تحت پوری تاریخ حتی کے مقدس شخصیات جن کا اجتہاد ایک معتبر مقام رکھتا ہے، اس کو بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں ۔

مولانا مودودی جس کو ملوکیت قرار دے کر منفی تصور قائم کرتے  ہیں اور بعض ضعیف روایات کی روشنی میں اپنے اس تصور کو تقویت دیتے ہیں، اس میں اکیلے حضرت امیر معاویہ ہی شریک نہ تھے بلکہ اس دور کے اہل حل و عقد کی اکثریت نے اس کو قبول کرلیا تھا ۔ مابعد کے ادوار میں شخصیات کی غلط پالیسیوں اور ناجائز اقدامات کی بناء پر حکومتوں کے خلاف خروج اور بغاوتیں بھی ہوئیں تاہم صرف ملوکیت کی بناء پر  ہر حکومت کا تختہ الٹنا ضروری تھا اور اس حکومت کو ختم کرنا کوئی شرعی اور دینی امر تھا روایت میں ایسا تصور نہیں ہے بلکہ علماء ، فقہاء ، اھل حل وعقد ان حکومتوں کے ساتھ رہے اور  اسلامی احکامات پر عمل انہی حکومتوں کے زیر اثر ہوتار ہا ہے۔ علماء و فقہاء ان حکومتوں کے زیر اثر کام کرتے رہے ہیں ۔

 مولانا موودی پر اس حوالے سے یہ بڑا اعتراض رہا ہے کہ اگر پاک پیغمبر کے براہ راست تربیت یافتہ لوگ حکومت الہیہ کو محض پندرہ سال کے بعد ٹھیک طرح نہ چلا سکے اور تیس سال کے بعد وہ ایسی حالت میں رہی کہ  ہردم اس کا خاتمہ شرعی و دینی امر تھا تو آج حکومت الہیہ کو قائم کرنے والے لوگ کہاں  سے نازل ہوں گے ؟ مولانا مودودی اس  سوال  کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ شخصیات کی بجائے ہمیں اصولوں کی طرف دیکھنا ہے جو کسی حالت میں بھی غلط قرار نہیں پاتے ہیں ۔ لیکن اعتراض وہیں کا وہیں رہتا ہے کہ حکومت الہیہ  اور ان اصولوں کو چلانے کے  لئے خدائی فوج کہاں سے نازل ہوگی ؟ اس کا کسی دور کے ساتھ کوئی تعلق  ہوگا کہ نہیں ؟ 

حقیقت تو یہ ہے کہ دور  کے زیر اثر  ہونے والی تبدیلیوں کومولانا مودودی نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ آج اگر مولانا جمہوریت کو قبول کررہے ہیں تو ملوکیت جمہوریت سے بری تو نہیں تھی ۔ اسی طرح ایک خالص اسلامی حکومت کے تصورات میں مولانا بہت کچھ تبدیلی کرتے ہیں جیسا کہ ہم ایک مضمون میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اگر مولانا خود کو مجبور پاتے ہیں اور اسلامی نظام کی بنیاد بننے والی جماعت کو جب تک اکثریت میں نہ آجائے، اسی نظام کے زیر اثر چلنے کی ہدایت کرتے ہیں  اور اپنی اکثریت پیدا کرکے  اسلام نافذکرنے کی بات کرتے ہیں جو کہ ایک خالص جمہوری تصور ہےتو پھر  ملوکیت بھی ان کے نزدیک قابل اعتراض نہیں رہنی چاہیے تھی ۔ ملوکیت ، جمہوریت یا خلافت کسی بھی نام کے تحت واقع حکومت کو اس کے قانون اور طریقہ حکومت سے  ہی جانچنا چاہیے ۔


آراء و افکار