اقلیتوں سے متعلق مسلمانوں کے فکری تحدیات

ڈاکٹر محمد ریاض محمود

(شعبہ علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۳۰، ۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء کو ’’معاصر مسلم معاشروں کو درپیش فکری تحدیات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی کانفرنس کے لیے لکھا گیا۔)


اسلام روحانی اورمادی اعتبارسے ایساانسان دوست دین ہے جس میں تمام طبقات کے لئے امن،محبت، ترقی، خوشحالی، رواداری اوراحترام کی ہدایات ملتی ہیں۔(۱) یوں اسلامی فکروفلسفہ سے وابستہ کسی بھی سیاسی،معاشی یاسماجی نظام میں ظلم، تعصب،جانبداری، حق تلفی یاکسی قسم کے امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں۔اسی اعلیٰ ظرفی اور شانداربصیرت کی کرشمہ سازی تھی کہ مختلف ادوارمیں قائم ہونے والی مختلف علاقوں کی مسلم حکومتوں نے غیرمسلم اقلیتوں کو بڑی فراخ دلی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ برداشت کیا بلکہ ان کی سیاسی حیثیت اور نسلی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں مختلف شعبہ ہائے حیات میں بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔مختلف مذاہب کے حاملین سے عدل اورمساوات کی بنیاد پرمعاملات کوطے کیاگیا،مذہبی اختلافات کو ہوادینے کے بجائے تحمل،ایثاراوربات چیت کے ذریعے مسائل کوحل کرنے کی راہ ہموارکی گئی،عقائدکے اختلاف کی وجہ سے گالی اوربلاتحقیق الزام تراشی کوناپسندکیا گیا۔(۲)حل تنازعات کے لیے مثبت رویے اپنانے کی تعلیم دی گئی۔(۳) مسلم فکرپران تعلیمات کااثریہ ہوا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی گئی، ان کی تعلیم وتربیت کوترجیحی بنیادوں پراہمیت دی گئی،ان کواپنے مذہبی وسماجی تہوارمنانے میں آزادی فراہم کی گئی اورانہیں عبادت گاہیں تعمیرکرنیکی اجازت دی گئی۔غیرمسلموں کے ساتھ مسلمانوں کی رواداری اوراُن کے حسن سلوک کی تصدیق وتحسین معروف مستشرقین نے بھی کی ہے۔سرولیم میورکے الفاظ کامفہوم ملاحظہ ہو: 

’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بشپوں، پادریوں اور راہبوں کویہ تحریردی کہ اُن کے گرجاگھروں اورخانقاہوں کی ہر چیز ویسے ہی برقرار رہے گی۔ کوئی بشپ اپنے عہدہ،کوئی راہب اپنی خانقاہ اورکوئی پادری اپنے منصب سے معزول نہیں کیا جائے گا۔ اُن کے ا ختیارات وحقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی نیزجبروتعدی سے کام نہیں لیا جائے گا۔‘‘ (۴) 

معروف ہندومحقق ونقادشری سندرلال جی کے الفاظ اس طرح ہیں: 

’’حکمران کی حیثیت سے محمدصاحب نے غیرمسلموں کویہاں تک کہ بت پرستوں کوبھی اپنی ریاست کے اندررہتے ہوئے اپنے مذہبی مراسم اداکرنے کی پوری پوری آزادی بخشی اوراُن کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرناہرمسلمان کافریضہ قراردیا۔لااکراہ فی الدین مدنی آیت ہے اورمحمدصاحب کی پوری زندگی اس آیت کی جیتی جاگتی تصویرہے‘‘۔ (۵) 

ساری اسلامی تاریخ مسلمانوں کے غیرمسلموں کے ساتھ حسن سلوک کے شواہدپرمشتمل ہے خصوصاً برصغیرمیں سلاطین دہلی اورمغل حکمرانوں کامذہبی رواداری کوفروغ دینے کے ضمن میں کردارنہایت شاندار اور قابل فخر ہے۔ (۶) یہ مثالی صورتِ حال اُس وقت قائم نہ رہ سکی جب بعض انتہاپسندعناصرنے مذہبی اختلافات کی بنیادپرتشدداورتوہین آمیز رویوں کواختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔ایسے غیرذمہ دارانہ اورناعاقبت اندیش رویوں کاہی نتیجہ ہے کہ آج ایسی فضا پیدا ہو گئی ہے کہ جس میں نہ صرف یہ کہ مذہبی اقلیتیں خوف وہراس کاشکار ہو کر رہ گئی ہیں بلکہ مسلمانوں میں موجودبہت سے سنجیدہ حلقے بھی اس پرافسوس،پریشانی،حیرت اورتشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ شدت پسندی پرمبنی اس ہلاکت خیز بیان نے مسلم اُمہ کوابہام اورفکری انتشار سے دوچار کردیاہے،اسلامی ریاست کی نوعیت وحیثیت کی تشریح و توضیح پر اختلافات سامنے آئے ،(۷) قوم اسلامی ریاست، مسلم ریاست،دینی ریاست،قومی ریاست اورجدیدریاست کی لفظی موشگافیوں میں پھنس کررہ گئی ہے،(۸) بعض علماء نے اس ضمن میں قدیم فقہی اصطلاحات کااستعمال کیا ہے، اُنہوں نے دار الاسلام اور دارالحرب کی تقسیم کرکے جدیدسیاسی، عالمی اورجغرافیائی حقائق اوراِن کے پس منظر کو نظرانداز کردیا ہے۔(۹) جہاد جو ایک مقدس فریضہ ہے اس کی عصری تعبیرات نے قوم کونظریاتی طورپرپریشانی اورابہام میں مبتلا کر دیا ہے، اب قوم کااس معاملے پر متفقہ موقف سامنے آنامحال نظرآرہاہے۔(۱۰)

مسلم ریاستوں کے غیرمسلم باشندگان اہل ذِمہ،اہل صلح،معاہدین اور محاربین کی اصطلاحات کے الجھاؤ میں اپنا وجود تلاش کررہے ہیں،اُن کی وفاداریوں پربلاوجہ شک کیاجارہاہے،بعض حلقہ یہ تاثردینے کی کوشش میں ہیں کہ اِن غیرمسلموں کے مغربی طاقتوں سے خفیہ روابط ہیں اوروہ مسلمانوں کے زیر انتظام علاقوں اور ممالک کے خلاف کسی بین الاقوامی منصوبہ بندی اورسازش کاحصہ ہیں۔بعض طبقات ایک عجیب قسم کی نفسیاتی کیفیت میں مبتلاہیں جس کے مطابق حقیقی دشمن پرقابونہ پانے کی صورت میں کسی امکانی یافرضی دشمن کوہدف بنا کر ذہنی تسکین حاصل کی جاتی ہے،چونکہ دورِ حاضر میں ترقی یافتہ مغربی ممالک کے خلاف کسی قسم کاقدم اُٹھانامسلم حکومتوں اورتشددپریقین رکھنے والے بعض مسلم طبقات کے بس کی بات نہیں،اس لئے وہ اپنے ممالک میں موجودکمزوراوربے بَس اقلیتوں کوہدف بناتے اوراپنا غصہ نکالتے ہیں۔ 

ایک مخصوص مذہبی طبقہ اپنے آپ کوبرصغیرکے نوآبادیاتی دورمیں رواج پانے والی مختلف المذاہب مناظرانہ کشمکش کا آج بھی حصہ سمجھتاہے،(۱۱) دیگر مذاہب کے علمی مصادرسے کسی بھی درجے میں اخذ واستفادہ کونامناسب خیال کیا جاتا ہے۔ توہین رسالت جوکسی بھی مذہب میں ایک ناپسندیدہ اورقابل مذمت فعل ہے(۱۲) خصوصاً مسلمان اس حوالے سے اپنی ایک شانداراورغیرت مندانہ تاریخ رکھتے ہیں، اس تصور کوضد،انااورناسمجھی کی بھینٹ چڑھادیاگیاہے۔ دنیا کے ا یک بڑے حصے پراسلام کے فروغ کا واحد ذریعہ تبلیغ، دعوت،حسن اخلاق اورتصوف رہا ہے، مگرآج نوبت یہ آگئی ہے کہ غیرمسلموں کے قبولِ اسلام پرسوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں ایسی قانون سازی کی جارہی ہے کہ ایک مخصوص عمر تک کوئی شخص اپنامذہب تبدیل نہ کر سکے۔ 

مذہبی اقلیتیں سیاسی میدان میں اپنی شناخت کوکس طرح قائم رکھیں،اِن کاقانون سازاداروں میں پہنچنے کا طریقہ کار کیا ہو،؟ اِن معاملات پرعجیب ابہام پایاجاتاہے،اقلیتوں کے طریقہ انتخاب میں باربارتبدیلیاں کی جا رہی ہیں، کبھی وہ براہِ راست اپنے ہم مذہبوں کیے ووٹ لے کرمنتخب ہوتے ہیں اورکبھی وہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے رحم وکرم پرہوتے ہیں کیونکہ اُنہیں بالواسطہ طورپرمنتخب ہوناہوتاہے،سیاسی جماعتیں اپنے غیرمسلم نمائندوں کی فہرست ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دیتی ہیں جن کے مطابق حاصل کردہ کل ووٹوں کے تناسب سے یہ نمائندے اسمبلی کی رکنیت حاصل کرتے ہیں۔اقلیتوں میں موجودسیاسی بصیرت کے بہت سے حاملین اس سرگرمی کوالیکشن کے بجائے سلیکشن خیال کرتے ہیں۔ (۱۳)یوں اقلیتیں تسلسل کے ساتھ تجربات کی زد میں ہیں، کبھی انہیں ایک ووٹ کاحق دیاجاتاہے اورکبھی دُہرے ووٹ کا۔(۱۴)علاوہ ازیں قانون سازی کے مختلف مراحل میں اقلیتوں کونظراندازکئے جانے کی شکایات بھی عام ہیں، مذہبی میدان میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ اقلیتوں سے متعلق قانون سازی کرتے وقت مسلمانوں کی رائے کوکس حدتک دخل حاصل ہے اور خود اقلیتوں کی رائے کو کتنی اہمیت دی جائے،آج تک کوئی اصول اورضابطہ اس ضمن میں طے نہیں کیاجاسکا۔یہ امربھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ مذہبی اقلیتوں کی مقدس کتب اوراُن کی تاریخ کوتعلیمی نصاب کاحصہ بنایاجائے یااس سے گریز کیا جائے۔ 

مسلم اُمہ اقلیتوں سے متعلق فکری طورپردوطبقات میں تقسیم ہے،ایک طبقہ قدامت پسندجب کہ دوسراروشن خیال ہے۔ مسلمانوں کی یہ داخلی فرقہ بندی کسی ایک مؤقف پرامت مسلمہ کوجمع نہیں ہو نے دیتی۔یہ سوال وضاحت طلب ہے کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ غالب ہے یاملکی وغیرملکی قوانین کی پاسداری کی جائے گی۔ علاوہ ازیں اقلیتوں سے متعلق مختلف علمی موضوعات پرگفتگوکے بارے میں بہت سے ذہنی الجھاؤ موجود ہیں مثلاً علمی میدان میں اختلاف کرنے کی حدود کیا ہیں؟ کون کس معاملہ میں کتنا اختلاف کرسکتا ہے اور کیوں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کے لیے برداشت کی بڑی قوت درکارہے۔مسلم امہ فکری اورنظریاتی طورپر اسی نوعیت کے بہت سے سوالات، ابہامات اورعلمی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ اس پس منظرمیں یہ سوال بڑااہم ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے بارے میں معاملات کوطے کرتے وقت کیاحکمت عملی اختیارکی جائے۔اسلامی ریاست، جہاد، دہشت گردی،توہین رسالت، قبولِ اسلام کی حدودوشرائط،حق اختلاف، اقلیتوں کی مذہبی شناخت اوراُن کاحق تبلیغ مذہب،مختلف قومیتوں کاوجوداوراستحکام،اقلیتوں کاقانون سازی میں کرداراورمختلف المذاہب طلبہ کے لیے نصابِ تعلیم ایسے معاملات ہیں جن پردرست اوریک سومسلم فکرکیاہے اوراس کے تقاضوں کو کس طرح روبہ عمل لایا جا سکتا ہے۔ (۱۵) ایسے ہی علمی وفکری اورنظریاتی سوالات کے جوابات تلاش کرنے اور اس ضمن میں درپیش چیلنجز کو سمجھنے اوراُن کی حساسیت کااندازہ کر نے کے لئے موضوعِ تحقیق کے طور پر ’’اقلیتوں سے متعلق مسلمانوں کودرپیش فکری تحدیات‘‘ کا انتخاب کیاگیاہے۔ذیل میں اُن فکری چیلنجز کا تجزیہ پیش کیاجاتاہے جومسلمانوں کواقلیتوں سے متعلق درپیش ہیں۔ 

۱۔ مذہبی تکثیریت کی اہمیت وحساسیت کاعدم احساس

تنوع کائنات کاحسن اورقدرت کی تخلیق کاایک بنیادی اصول ہے،انسانی زندگی میں موجودرنگارنگی کا شعوراوراس کی حکمتوں کی تفہیم خدا شناسی میں معاون ہے۔آسمانوں اورزمین کوپیداکرنا،انسانوں کے درمیان زبانوں اوررنگوں کے مختلف ہونے کوقرآن مجیدنے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں قرار دیاہے۔(۱۶) شکل وصورت اوررنگ ونسل کی انفرادیت کے باعث انسانوں کے درمیان میلانات،جذبات،رجحانات،خیالات اور ترجیحات کااختلاف ہے۔یہ اختلاف قدرت الٰہی کا کرشمہ اورایک اہم معاشرتی ضرورت ہے۔اس تنوع اور رنگارنگی کی حکمتوں سے واقف ہونامعاشرتی اورمذہبی میدان میں نہایت مفیدہے۔دنیامیں مختلف المذاہب لوگ رہتے ہیں ان کی مذہبی ونسلی شناخت کااحترام،ان کے حقوق اوران کی ترجیحات کاعلم خوش گوارمعاشرت کاایک لازمی تقاضاہے۔کثیرالعقائدیامذہبی تکثیریت پرمبنی معاشرے کس طرح بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرتے ہیں، اس حقیقت کاادراک مذہب سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔پاکستان مذہبی،نسلی،لسانی، جغرافیائی،معاشی اورسماجی تنوع کاحامل ملک ہے۔اس تنوع کو ایک فلاحی اورصحت مندمعاشرے کی بنیادرکھناتھی، لیکن فہم اورتربیت کے فقدان نے ایساممکن نہ ہونے دیا۔ علم وفکر اور شعور وآگہی کے اسی زوال نے پاکستان کواپنے حقیقی مسائل کے حل سے دوررکھا۔مذہبی تکثیریت کی نوعیت، اہمیت، فوائد اور محاسن کاعدم شعورہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جوکسی قوم کواقلیتوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کوقومی دھارے میں شامل کرنے سے روکے رکھتاہے۔مختلف المذاہب لوگوں کاباہم مل جل کررہنا، اعتدال وتوازن کے رویوں کوجنم دیتاہے۔اوراگرلوگ دیگر افراد معاشرہ کی اہمیت سے ہی آگاہ نہ ہوں توانواع واقسام کے تضادات اورعدم برداشت کے رویے پاتے ہیں۔اس پس منظرمیں مذہبی تکثیریت کے مختلف پہلوؤں کافہم نہایت ضروری ہے۔کثیرالعقائدمعاشر ے علمی وفکری اعتبارسے بڑے زرخیز واقع ہوتے ہیں۔اس زرخیزی کامشاہدہ وتجربہ مسلمانوں نے عباسی اوراُندلسی ادوارِ حکومت میں خوب کیا،ان مثالی ادوار میں مسلم 150غیرمسلم تعلقات اس حدتک خوشگوارتھے کہ اعلیٰ ترین سطح کی تعلیم وتحقیق کیلئے قائم کئے گئے اداروں کی سربراہی کئی مرتبہ غیرمسلم ماہرین علم وفن کوسونپی گئی۔دورِجدیدمیں مسلم معاشروں کویہ چیلنج درپیش ہے کہ مذہبی وثقافتی تنوع کی اہمیت کااحساس رکھنے والوں کی تعدادبہت کم ہے۔تنوع ایک قوت ہے،اسے دبانے کے بجائے قبولیت سے نوازا جائے اوردوسروں کوجگہ بنانے کاموقع فراہم کیاجائے۔ 

۲۔اقلیتوں کے حقوق سے متعلق احساسِ ذمہ داری کافقدان

مذہبی،سماجی اورسیاسی اعتبارسے اقلیتوں کاوجودکسی بھی ملک کیلئے ایک اہم اورحساس معاملہ ہے۔کسی بھی ملک کی آزادی، ترقی اوراستحکام کااندازہ اس امرسے لگایاجاتاہے کہ اس میں بسنے والی اقلیتیں،کتنی مطمئن اورخوشحال ہیں،انہیں کس حدتک قومی دھار ے میں شامل کیاگیاہے(۱۷)، ان کے تعلیمی ادارے کتنے بااختیار اور مؤثرہیں، ریاست کے ساتھ اُن کی وابستگی کی گہرائی کتنی ہے اوراُن کے حقوق کی ادائیگی کیلئے اکثریتی آبادی کیانقطہ نظررکھتی ہے ؟نیزاس نقطہ نظرکاعملی اظہار اُن میں کس درجے تک پایاجاتاہے؟یہ تمام سوالات ساری پاکستانی قوم سے تقاضاکرتے ہیں کہ اقلیتوں سے متعلق نہایت مثبت اورحوصلہ افزا رویہ رکھاجائے لیکن مقامِ افسوس ہے کہ اس ضمن میں کوئی قابل ذکرکارنامہ منظر عام پرنہیں آیا بلکہ احساسِ ذمہ داری کے فقدان نے منصوبہ سازوں کی منفی کارکردگی سے پردہ اٹھادیاہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم آج تک بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کی ۱؍۱اگست ۱۹۴۷ ء کی اُس تقریرکی مبہم تشریحات میں پھنسے ہو ئے ہیں جس میں اُنہوں نے پاکستان کی غیرمسلم اقلیتوں کویہ یقین دلایاتھاکہ اُن کے مذہبی وسیاسی حقوق پوری طرح محفوظ ہوں گے اور ریاست پاکستان اس ضمن میں کوئی جانب دارانہ رویہ اختیارنہیں کرے گی۔(۱۸)اس پس منظرمیں یہ امر نہایت ضروری ہے کہ اقلیتوں کے وجودکودلی طورپرنہ صرف یہ کہ تسلیم کیاجائے بلکہ اُن کی خوشحالی وترقی کیلئے شعوری کوششیں کی جائیں۔ 

۳۔ اسلامی ریاست اوراقلیتوں کی حیثیت کے بار ے میں ابہامات

فکری میدان میں مسلم امہ کوآج جن چیلنجزکاسامناہے اُن میں اسلامی ریاست کاوجوداور اُس کی نوعیت وتشکیل بڑے نمایاں ہیں۔آج تک یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے،مسلم ریاست ہے،قومی ریاست ہے، اسلامی جمہوریہ ہے یادارالاسلام ہے۔(۱۹)اسی طرح اس ملک میں رہنے والے غیرمسلم فقہ اسلامی کی رُو سے کس حیثیت اور درجے کے مالک ہیں،اہل کتاب اورغیر اہل کتاب کی بحث اس ضمن میں نمایاں اہمیت کی حامل ہے،(۲۰)علاوہ ازیں معاہدین، اہل ذِمہ،اہل صلح اورمحاربین ایسی فقہی اصطلاحات کی مددسے اُن کی قانونی حیثیت کاتعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ (۲۱) علم وفکراورفہم ودانش کے میدان میں یہ عجیب وغریب الجھاؤقوم کواقلیتوں کے بار ے میں یک رُخ ہونے سے روکے رکھتے ہیں۔ 

۴۔جہادسے متعلق نامناسب تعبیرات وتاویلات

جہادکی حیثیت اوراس کے مقاصدوطریقہ ہائے کارکواسلام میں کیااہمیت حاصل ہے، یہ وہ بنیادی سوال ہے جو اہل مغرب مسلمانوں سے تکرارکیساتھ کرتے آئے ہیں۔کیونکہ مسلمانوں کی طرف سے جہادسے متعلق مختلف الجہات تشریحات منظرعام پر آچکی ہیں۔ان تعبیرات و تشریحات نے علمی دنیا کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے کام کرنیوالی تنظیموں کو بھی ایک عجیب اُلجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ عصر حاضر میں ’’جہاد‘‘ ایک حساس موضوع قرارپایاہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی وسعت وقبولیت کاسہرا دعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ جہادی سرگرمیوں کے سر ہے۔اس مخصوص تاریخی ونظریاتی پس منظرمیں جہادنہ صرف یہ کہ اجروثواب کے حصول کا باعث ہے بلکہ اقوام عالم کیساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی نوعیت کا تعین بھی کرتاہے۔مخمصہ یہ ہے کہ عصر حاضرمیں تصورِجہادکی مختلف تعبیرات سامنے آئی ہیں۔ایک حلقہ اسے ’’امربالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ کا فریضہ سمجھتے ہوئے کفارکودعوت اسلام کی جانب راغب کرتاہے اورکفاراس دعوت کوقبول نہ کریں تواُن کے خلاف جہادی سرگرمیوں کاآغازکر کے اُنہیں اپنازیرنگیں بنالیناچاہتاہے۔ایک دوسراحلقہ جہادکومحض مسلمانوں کے دفاع اور غیرمسلموں کے ظلم کے خاتمے کی ایک تدبیرقراردیتاہے۔سیدمودودی ؒ نے اس تصورکوپوری دنیا پر اسلام کی سیاسی حاکمیت قائم کر نے سے تعبیرکیاہے۔ (۲۲) ان کی رائے میں اسلام شخصی اعتقادمیں توکفروشرک کو گوارا کرتا ہے، لیکن کسی ایسے نظامِ حکومت کاوجوداسے قبول نہیں جس میں خدائی قانون کے علاوہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو نافذ کیا گیا ہو۔ (۲۳)

مولاناامین احسن اصلاحی کاموقف ہے کہ اللہ تعالیٰ باطل نظام کے انتشارکوبھی اُس وقت تک پسند نہیں کرتاجب تک اس بات کاامکان نہ ہو کہ جولوگ اس باطل نظام کودرہم برہم کررہے ہیں وہ اس کی جگہ پرکوئی نظامِ حق بھی قائم کرسکیں گے۔ انارکی اور بے نظمی کی حالت ایک غیرفطری حالت ہے بلکہ انسانی فطرت سے اس قدرپیچیدہ کہ تعمیر انسانیت کے لیے زہر قاتل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی جماعت کوجنگ چھیڑنے کااختیارنہیں دیاہے جوبالکل مبہم اورمجہول ہو، جس کی اطاعت ووفاداری کاامتحان نہ ہواہو،جس کے افراد منتشر اورپراگندہ ہوں،جوکسی قائم نظام کوتودرہم برہم کرسکتے ہوں، لیکن اس بات کاکوئی ثبوت اُنہوں نے بہم نہ پہنچایاہوکہ وہ کسی انتشارکومجتمع بھی کرسکتے ہیں۔(۲۴)

یعنی وہ جہادوقتال کے عمل کواتنی زیادہ پابندیوں کے ساتھ مشروط کرتے ہیں کہ جن کااہتمام کرنا،فی نفسہٖ ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ان مختلف تعبیرات نے جہادکے نام پرکام کرنے والی مختلف تنظیموں کو جہادکے نت نئے مفاہیم اور اسالیب اختیار کرنے کی گنجائش فراہم کردی ہے۔یہ غیرمحدودگنجائش اقلیتوں سے متعلق مسلم طرزِ فکرکوبعض اوقات منفی طور پر متاثر کرتی ہے۔ مسلم ممالک میں بعض مسلمان تنظیموں کی طرف سے اقلیتوں کے ساتھ روارکھے جانے والے نامناسب سلوک کو اسی پس منظرمیں سمجھنے اوراس کاحل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ 

۵۔قانون توہین رسالت کے استعمال پراقلیتوں کے تحفظات

مقدس ہستیوں،مقدس کتب خصوصاً انبیاء ورُسل سے متعلق نازیباکلمات واندازکسی بھی معاشر ے میں برداشت نہیں کئے جاتے مگر پاکستان میں ایک مخصوص قانون نے اس ساری صورتِ حال کواقلیتوں سے وابستہ کر دیا ہے۔ اقلیتیں اس قانون کے حوالے سے شدیدعدم تحفظ کاشکار ہیں،اس قانون سازی کاپس منظریہ ہے کہ برصغیرکی انگریزحکومت نے اس ضمن میں کچھ اقدامات کئے۔کسی مذہب کی عبادت گاہ کونقصان پہنچانایااس کے تقدس کوکسی بھی طریقے سے پامال کرنا، 1860ء کے قانون کی دفعہ 295کے تحت قابلِ تعزیرجرم قرارپایا، قیامِ پاکستان کے بعداسی قانون میں کئی ترامیم کی گئیں۔ ان ترامیم میں مذہبی شعائر،قرآن مجید اور انبیاء ورسل کی توہین پربھی سزاؤں کااعلان کیاگیا۔نظریاتی پس منظراپنی جگہ پر، عمل کے میدان میں اس قانون کاشکاراقلیتیں ہی ہوتی آئی ہیں۔اس حقیقت کاایک افسوسناک پہلویہ ہے کہ جن پرتوہین مذہب یا توہین رسالت کاالزام لگتا ہے، اُن پرعدالت میں جاکرجرم ثابت کرنے کے بجائے حملے کئے جاتے ہیں اور انہیں ماورائے عدالت قتل کردیاجاتاہے۔اس پرتشدداورخوفناک ماحول کے پیشِ نظرجج اوروکلاء ایسے مقدمات کی سماعت اور کاروائی کوآگے بڑھانے سے قصداً گریزکرتے ہیں۔ اس قتل وغارت میں ملوث انتہاپسند ذہنیت رکھنے والے لوگ کسی قانونی کاروائی سے محفوظ رہتے ہیں۔مذہبی اقلیتوں کاتاثریہ ہے کہ اصولی ونظریاتی طورپراگریہ قانون درست بھی ہے تو اس کے عمل درآمدمیں بہت سی ناانصافیاں موجود ہیں۔ (۲۵) اِن حالات میں عدالتیں دباؤمیں کام پرمجبورہیں اورذرائع ابلاغ اپنی غیرجانب داریت کوقائم رکھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔افسوس کامقام یہ ہے کہ اس خطرناک اورگمبھیر صورتِ حال کی اصلاح کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش ابھی تک منظر عام پرنہیں آئی ہے۔کسی بھی مہذب معاشرے میں بلاتحقیق وتفتیش کسی شخص کو کسی جرم کا مرتکب قراردینا،قطعاً ظلم اورناقابل برداشت فعل ہے۔اس رویے کی تائیدوحمایت مسلم تاریخ ومصادر سے بھی نہیں ہوتی ہے۔اقلیتوں سے متعلق اس فکری چیلنج کوسمجھے اور اس پرمناسب فیصلہ سازی کئے بغیرامن، خوشحالی اور فراہمی انصاف کے کسی دعوے کی تصدیق وتائید نہیں ہوسکتی۔ 

۶۔تبدیلی مذہب سے متعلق حالیہ قانون سازی

اقلیتوں کی طرف سے یہ شکایات اکثرموصول ہوئی ہیں کہ اُن کی لڑکیوں کوزبردستی مسلمان بناکرشادیاں کرلی جاتی ہیں، نیزاُن کے نا بالغ بچوں کے مذہب بھی تبدیل کئے جاتے ہیں۔(۲۶) اگریہ سب کچھ درست ہے تونہایت قابل افسوس ہے، اس ظالمانہ اورغیراسلامی روش کاسدباب مسلم اُمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اسی پس منظرمیں گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے عنوان سے ایک بل منظورکیاہے جس کے مطابق کسی غیرمسلم کے اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پرپابندی عائدکردی گئی ہے اوراسے قابل تعزیر جرم قراردیاگیاہے۔اس بل کی منظوری حقائق کومسخ کرنے کی کوشش ہے ا وریہ ساری کاروائی عدل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔امر مسلمہ ہے کہ اسلام میں کسی کوزبردستی مسلمان بناناقطعاً جائز نہیں اورایسی کسی کوشش کو روکنابھی درست ہے جس میں کسی شخص پرتبدیلی مذہب کے لیے دباؤ ڈالا جائے، لیکن دوسری طرف اپنی مرضی سے ا سلام لانے پرپابندی لگاکرکسی کو دوسرے مذہب پرباقی ر ہنے کے لئے مجبورکرنا بھی بدترین زیادتی ہے۔ اگرکوئی نابالغ بچہ مسلمان ہوناچاہے تواُسے ر وکنابنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اس قابل اعتراض قانون کومنسوخ کیاجا ئے، البتہ اگرتبدیلی مذہب کے لیے کسی زبردستی یا جبر کا ارتکاب کیاجائے تو اس کے مرتکب افرادیااداروں کے خلاف موثرکاروائی ضرورکی جائے۔ 

۷۔ آئینی تضادات

اقلیتوں کے حقوق اوراُن کے سماجی رُتبہ کابراہ راست تعلق آئین اورقانون سے ہے۔بہت سے ایسے قانونی اور سماجی معاملات ہیں جن کے بارے میں آئین میں تضادات ہیں۔آئین ایک طرف شریعت کی پاسداری کی ضمانت دیتاہے تودوسری طرف بین الاقوامی اداروں کے بیان کردہ انسانی حقوق کی ادائیگی کایقین دلاتاہے۔ دلچسپ اورقابل غورنکتہ یہ ہے کہ شریعت کے کئی امورایسے ہیں جوکہ مختلف اداروں کے بیان کردہ انسانی حقوق سے مختلف بلکہ متصادم ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم نظریاتی واصولی طورپرایسی چیزیں طے کرلیں کہ کہاں شریعت پرعمل ہوگااورکہاں بین الاقوامی قوانین پر۔ یہ فیصلہ ہوناچاہئے کہ موجودہ بین الاقوامی قانون کی حیثیت کیاہے،کیونکہ تمام مسلم ممالک نے مختلف بین الاقوامی معاہدات کوتسلیم کررکھاہے اورانہوں نے بین الاقوامی عرف کی پابندی کی یقین دہانی کرارکھی ہے۔اس پس منظرمیں بین اقوامی معاملات میں چنداصولوں کو قانونی طورپر مسلمات کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، (۲۷) یوں جب تک معاصربین الاقوامی قانون کی حجیت یاعدمِ حجیت کا فیصلہ نہ کر لیا جائے، اُس وقت تک اقلیتوں کے بار ے میں واضح حکمت عملی کاتعین کرنا ایک نہایت مشکل معاملہ ہے۔ 

۸۔ دورِ جدیدکے مسلمات سے عدم واقفیت

اقلیتوں سے متعلق عدم برداشت کے رویوں کے بہت سے نفسیاتی وجذباتی اسباب بھی ہیں، بعض لوگ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اورتحقیق وتنقیدکوبالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی دینی ترجیحات کاتعین کرتے ہیں۔ وہ ایسے قدیم لٹریچرکی بنیادپررائے قائم کرتے ہیں جوکہ دورِ جدیدمیں اپنی حیثیت گنواچکاہے۔ زمانے کے تغیرات نے مسلمات کوبدل کررکھ دیا ہے، اس علمی وفکری اورسماجی ارتقاء کوسمجھے بغیرمعاملات دنیاکی تفہیم ناممکن نہیں توازحدمشکل ضرورہے۔افسوس کامقام یہ ہے کہ ہم آج تک مذہبی اقلیتوں کے بار ے میں ذمی، معاہد، اہل صلح،محارب اورمفتوح ایسی مخصوص فقہی اصطلاحات کے معانی ومفاہیم کے تعین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اقلیتوں سے متعلق غوروفکرکرتے ہوئے ہمیں تغیرپذیرعالمی حالات کی نوعیت وحساسیت کو سمجھناہوگا۔عالمی اداروں اوران کے چارٹرز کو نظر انداز کر کے ہمیں کیامشکلات پیش آسکتی ہیں، اُن پربھی نظرکرنے کی اشدضرورت ہے۔ 

۹۔اقلیتوں سے متعلق امورمیں غیرتحقیقی رویے

اقلیتوں کے لیے مسائل پیداکرنے میں اکثریتی آبادی کے جذباتی اورغیرتحقیقی رویوں کوبڑادخل حاصل ہے۔ مذہبی اشتعال پیداکرنے والے اکثر واقعات کی تحقیق وتفتیش جب بھی کی گئی تومعلوم ہواکہ اصل مسئلہ وہ نہیں جس کاشہرہ تھا۔ توہین رسالت اورقرآن مجیدکونذرِ آتش کرنے کے بہت سے واقعات کی حقیقت یہ ہے کہ ان کے پس منظرمیں ذاتی انتقام، غصہ اورتعصب کارفرماتھا۔(۲۸) اقلیتوں سے متعلق امورمیں غیرتحقیقی رویوں کو اختیار کرنا ایک ایسا مذہبی وسماجی مسئلہ ہے جس کے اثرات پاکستان مسلسل بھگت رہاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ بحیثیت قوم تمام معاشرتی طبقات کو عدل، مساوات اورتحقیق کاپابندکیاجائے۔ 

۱۰۔علمی مکالمات کافقدان

قومی وبین الاقوامی مسائل کے حل میں علمی مکالمہ کاکردارانتہائی اہمیت کاحامل ہوتاہے، مذہبی اقلیتوں کے مسائل کیا ہیں؟ ان کے اسباب ومحرکات کیاہیں؟مذہبی اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں کون سے عوامل وعناصرموثر ہوسکتے ہیں؟ اس ضمن میں مذہب ہماری کیارہنمائی کرتاہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کاجواب ایک موثرعلمی مکالمہ ہی فراہم کرسکتاہے۔ کیونکہ مکالمہ دوطرفہ عمل ہے جس میں مسئلہ کے تمام پہلوؤں پربحث ہوتی ہے۔ مکالمہ سے گریز، ضد، اشتعال اورغیرسنجیدگی کی علامت ہے۔مکالمے کی عدم موجودگی کامطلب یہ ہوتاہے کہ افرادواقوام نے اپنے تمام مسائل حل کرلئے ہیں یاپھریہ کہ تمام طبقات کی علمی صلاحیتیں کمزورپڑگئی ہیں۔ اس علمی کمزوری کافائدہ مخصوص مفاداتی طبقات اٹھاتے ہیں۔یہ طبقات تشدد اور عدم برداشت کی راہ ہموارکرتے ہیں اورمعاشرے میں شکست وریخت کاباعث بنتے ہیں۔مذہبی اقلیتوں کے وجود، ان کے تشخص اور اُن کے سیاسی ومذہبی حقوق پربات چیت سے گریزکرنا،پاکستانی مسلمانوں کیلئے ایک اہم نفسیاتی اور فکری چیلنج ہے۔علمائے کرام،اہل دانش، پالیسی سازشخصیات اورعام لوگوں کواس چیلنج کی حساسیت کااحساس کرتے ہوئے اقلیتوں کے سماجی،علمی،سیاسی اورمذہبی معاملات میں گنجائش اوروسعت کا پہلوتلاش کرناہوگاجوکہ مؤثرمکالمہ کے بغیر ممکن نہیں۔ 

۱۱۔اپنے دائرہ اختیارسے تجاوزکرنے کے رجحانات

اقلیتوں سے عدم رواداری کاایک اہم سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے دائرہ اختیار سے لاعلم ہیں،وہ ہرچیزکو انفرادی اور ذاتی حیثیت میں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگراس کوشش میں وہ ناکام ہوجائیں تو انتہائی اقدام کرنے سے گریزنہیں کرتے،اس بات کی فکرکم ہی ہوتی ہے کہ یہ عمل یاردعمل میرے دا ئرہ اختیارمیں بھی ہے یا نہیں۔ توہین رسالت اور قرآنی اوراق جلانے کے ردعمل میں جتنے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، اُن میں کبھی کسی نے یہ نہیں خیال کیاکہ ان واقعات پرردعمل دینااس کے دائرہ اختیارسے باہرہے نیزوہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس عمل کا جواب دہ نہیں ہے۔اگرعدالتی نظام کومضبوط بنایاجائے اوراس نظام پر اعتمادکیاجائے توریاست ایسے واقعات سے زیادہ بہترطورپرنمٹ سکتی ہے۔ریاستی نظام کی تمام ترکمزوریوں کے باوجودکسی فردکویہ حق نہیں دیاجاسکتاکہ وہ قانون کواپنے ہاتھ میں لے اورکسی قسم کی مذہبی اشتعال انگیزی کاباعث بنے۔ 

۱۲۔اختلافِ رائے کے اصول وآداب کی عدمِ تفہیم

مختلف معاملات میں افرادِمعاشرہ کامختلف نقطہ ہائے نظرکاحامل ہوناایک فطری امر ہے۔تمام لوگوں کی علمی وفکری اور ذہنی وجسمانی صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہوسکتیں کیونکہ ان کی معلومات،مشاہدات اورتجربات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے مناسب مواقع فراہم نہ کئے جائیں تویہ اختلاف اپنی حدودسے تجاوزکرجاتاہے جس کے منفی اور برے نتائج بھگتناپڑتے ہیں۔اختلافِ رائے کا مقصد بلاوجہ اپنی رائے پراصرارنہیں ہے بلکہ دستیاب وسائل کی روشنی میں ٹھوس ثبوت کی بنیادپراپنی رائے خوبصورت اندازمیں دوسرے کے سامنے پیش کرناہے۔اگر دوسروں کے پاس بہتر ثبوت اوردلائل موجودہوں توان کو سناجائے اور انہیں اپنی رائے پرقائم رہنے کاحق دیاجائے۔اختلافِ رائے کے اصول وآداب کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔اختلافِ رائے کی صورت میں تحقیقی رویوں کوفروغ دیاجائے،مخالف اوراس کی رائے کااحترام کیا جائے اوریہ تسلیم کیاجائے کہ غلطی کاامکان ہر وقت موجود رہتاہے۔ ان اصول وآداب کوسمجھنااورانہیں استعمال کرناکثیرالمذاہب معاشروں کے افراد کیلئے بہت ضروری ہے۔مسلم امہ کا ایک المیہ عہد حاضرمیں یہ ہے کہ اختلافِ رائے کے معنی ومفہوم پرتوجہ نہیں دی جاتی نیزاس کے آداب و شرائط کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہ رجحان مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی ادائیگی اور اس ضمن میں مناسب ذہن سازی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ 

۱۳۔متوازن نصابِ تعلیم

تعلیمی نصاب کسی قوم کی نظریاتی اساس کے تحفظ کاضامن ہوتاہے،اسے متوازن ومعتدل اورمختلف معاشرتی طبقات کے لیے یکساں طورپر قابل قبول ہوناچاہئے۔نصاب میں کسی مذہب کی توہین ایک نامناسب بات ہے،اکثریتی آبادی کے مذہبی فلسفہ کوہی اگرنصاب قرارپاناہے تومتحدہ ہندوستان میں ’’بندے ماترم‘‘ کے گیت پرمسلمانوں نے جواحتجاج کیا تھا، اس کی کیاحیثیت رہ جاتی ہے؟ہندواکثریت میں تھے،مسلمانوں نیاکثریت کیاس طرزِعمل کوکیوں قبول نہیں کیا تھا؟ یقیناً اس سوال کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرطالب علم کاحق ہے کہ اسے برابری کے اصول پرتعلیم وتربیت کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ جو عقائدو افکاراس کے مذہب سے مناسبت نہ رکھیں، اُسے اُنہیں پڑھنے پرمجبورنہ کیاجائے۔یہ ہمارافکری تضاد ہوگا کہ ہم غیرمسلم بچوں کو اسلام پڑھنے کاپابندکریں اورجہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں دیگرمذاہب کی تدریس پر احتجاج کریں اور ناراضگی کااظہارکریں۔ معقولیت اسی میں ہے کہ اکثریت اپنی رائے دوسروں پرٹھو نسنے سے گریز کرے۔ 

۱۴۔تنازعات کے خاتمے میں غیرسنجیدگی کامظاہرہ

ایک ہی ماحول ومعاشرہ میں مختلف العقائدلوگوں کی موجودگی سے کسی نہ کسی تنازعہ یا تناؤکاپیداہوجانافطری امر ہے لیکن اربابِ فکرودانش افراداوراقوام کے د رمیان تنازعات کوسنجیدگی کے ساتھ ختم کر نے کے لیے پرعزم ہوں تومعاشرہ مذہبی ہم آہنگی کی بہترین تصویرپیش کرسکتاہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ مختلف اوقات میں پیش آنے وا لے نامناسب سلوک کے نتیجے میں جوتنازعات سامنے آیا ان کے حل کر نے میں بہت زیادہ سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔قومی سطح پراس احساس کی بیداری اشدضروری ہے کہ اگرکسی معاملہ میں کوئی مذہبی اختلاف اشتعال کی شکل اختیار کرنے لگے توفوراًایسے اقدامات کئے جائیں جن سے ماحول پرامن منزل کی طرف بڑھ سکے۔ حل تنازعات کے ضمن میں اختیارکی جانیوالی غیرسنجیدگی کی روش اقلیتوں سے متعلق امورمیں مایوسی کی فضا کوپیداکرتی ہے۔زندہ اوربیدارمغزقوم کی حیثیت سے ہمیں اقلیتوں سے متعلق تنازعات کوحل کرنے کیلئے مستقل بنیادوں پرمنصوبہ بندی کرناہوگی کیونکہ ان تنازعات پرعدمِ توجہ کے نتیجے میں معاشرہ تشدد، ضد، خوف،احساسِ کمتری اور اجتماعیت سے دوری ایسے منفی رجحانات کاشکارہورہاہے۔ تنازعات کاعلم جدید سماجی علوم میں بڑی اہمیت اختیارکرچکاہے(۲۹)،اس شعبہ علم سے بھرپوراستفادہ عصر حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے۔ 

اقلیتوں کی حیثیت کوتسلیم کرنے اوراُنہیں حقوق عطاکرنے کے ضمن میں مسلم اُمہ کوعصر جدیدمیں جن چیلنجز کا سامنا ہے، اُن کامناسب اورشریعت اسلامیہ کی حدودکے اندررہتے ہوئے حل تلاش کرناازحدضروری ہے۔مسلم اُمہ کودرپیش فکری چیلنجزکی تفہیم کویقینی بنانے کے لیے دینی مدارس اورعصری تعلیمی اداروں میں ہم آہنگی پیداکرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ان اداروں میں تحقیقی مقالات، سیمینارز، کانفرنسوں اور کلاس روم لیکچرزکے ذریعے اقلیتوں سے متعلق شعور کو بیدار کیا جائے۔ نیزسماجی وسیاسی ڈھانچے کومعتدل ومتوازن بنانے کے لئے ہرقسم کے تعصب کوبالائے طاق رکھا جائے۔ اس ضمن میں نہایت ضروری ہے کہ نصابِ تعلیم میں اقلیتوں اورمذہبی تکثیریت سے متعلق مختلف مباحث کوشامل کیاجائے، اس ضمن میں مختلف مذاہب کی تعلیمات سے مدد لی جائے اور ان کے نمائندوں کومختلف نصابی کمیٹیوں میں نمائندگی دی جائے۔ اقلیتوں سے متعلق شعورکی بیداری میں ذرائع ابلاغ کوبھی استعمال کیاجائے۔ علاوہ ازیں اختلاف اورتنقیدکی اخلاقیات کی پابندی کوہرطبقہ فکرمیں رواج دیا جائے۔مذہبی اشتعال انگیزی کوریاستی اداروں کے ذریعے کنٹرول کیاجائے اور اس ضمن میں کسی بھی طبقہ کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے۔اقلیتوں سے متعلق معاملات میں عدل، احتیاط اور تحقیق سے کام لیا جائے، نیز کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔پاکستان میں اقلیتوں کی حیثیت اوراُن کے حقوق کی ادائیگی سے متعلق عالمی سطح پر پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے۔اسلام کے سیاسی نظام کی وضاحت میں اعتدال وتوازن سے کام لیاجائے۔ 

اسلامی ریاست، اقلیتوں، جہاد اور توہین رسالت ایسے حساس موضوعات پرغیرذمہ دارانہ تبصرہ سے گریز کیا جائے۔ پاکستان میں موجودمذہبی اقلیتوں کواہل مغرب کاہم خیال اورہم نواسمجھنے کے بجائے محبِ وطن شہری تصور کیا جائے، اگرکسی معاملے میں کوئی تنازعہ سامنے آئے تواختلافِ رائے کے اصول وآداب کوملحوظِ خاطررکھاجائے نیز اُس مسئلہ کوحل کرنے کی غیر جانبدارانہ اورموثر کوششیں کی جائیں۔ 


حواشی وحوالہ جات 

۱۔سیدصباح الدین عبدالرحمن، اسلام میں مذہبی رواداری،دارالشعور،۷۳۔مزنگ روڈ، بُک سٹریٹ، لاہور، ۲۰۱۰ء، ص: ۱تا۷۱ 

۲۔الانعام۶:۸۰۱ 

۳۔النحل۵۲۱:۶۱ 

4- William Muir, The Life of Mahomet, Smith Elder & Company, London, 1958, P:158

۵۔شری سندرلال جی،آنحضرت کی زندگی،ششماہی وشال،کلکتہ،بھارت،نومبر۱۹۳۳ء،ص:۵۱۴ 

۶۔ملاحظ ہو:سیدصباح الدین عبدالرحمٰن،ہندوستان کے عہدِ ماضی میں مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری، دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، یوپی،۲۰۰۹ء،مجلدات:۳ 

۷۔سیدمحمدمیاں،پاکستان گورنمنٹ کی اسلامی حیثیت،ماہنامہ برہان،دہلی،جون۱۹۵۰ء،مشمولہ،برصغیرپاک وہندکی شرعی حیثیت از ابوسلمان شاہجہانپوری،ڈاکٹر، مجلس یادگارِ شیخ الاسلام، قاری منزل، پاکستان چوک، کراچی، ۱۹۹۳ء، ص:۹۱۱ تا ۳۲۱، نیز ملاحظہ ہو:مجتبیٰ محمدراٹھور، جہاد، جنگ اور دہشت گردی، نیریٹوز پرائیویٹ لمیٹڈ، پوسٹ بکس نمبر: ۲۱۱۰، اسلام آباد، جون۲۰۱۲ء، ص: ۹۰تا۹۱ 

۸۔ابوسلمان شاہجہانپوری،ڈاکٹر،برصغیرپاک وہندکی شرعی حیثیت، ص:۹۳تا۹۷ 

۹۔محمدمشتاق احمد،جہاد،مزاحمت اوربغاوت،الشریعہ اکادمی،گوجرانوالہ،جون۲۰۱۲ء،ص:۸۳تا۱۴۸ 

۱۰۔محمدشہبازمنج،ڈاکٹر،مباح الدم اور ’’جہادیوں‘‘ کا بیانیہ، ماہنامہ الشریعہ،گوجرانوالہ، ستمبر۲۰۱۶ء،ص:۳۰تا۳۵ 

۱۱۔ڈاکٹرمحمدریاض محمود(راقم)،برصغیرمیں مسلم۔مسیحی مناظرانہ ادب(۱۸۵۷ ء تا۱۹۴۷ء): تحقیقی وتنقیدی جائزہ، مقالہ برائے پی ایچ ڈی علومِ اسلامیہ،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی،اسلام آباد،سیشن:۲۰۰۸ء تا۲۰۱۰ء،ص: ۹۲ تا ۱۰۵ 

۱۲۔سیف الحق چکیسری،اسلام کاتصورِجہاداورالقاعدہ،شعیب سنز،مینگورہ،سوات،۲۰۱۰ء،ص:۵۶۵تا۵۷۲

۱۳۔طارق کرسٹوفرقیصر،کتابچہ:صُلح کُل،سلسلہ:۲۱فلیٹ نمبر:۸،آربی۔I،عوامی کمپلیکس،گارڈن ٹاؤن، لاہور، ص: ۱۔۲ 

۱۴۔ نذیرناجی،اب دھاندلی نہیں ہوگی،روزنامہ نوائے یوقت،اسلام آباد،۴مارچ۱۹۹۶ء،مشمولہ پاکستان کی پہچان: جے سالک، اہل بصیرت کی نظر میں، تدوین، جبارمرزا، شہریارپبلی کیشنز، پوسٹ بکس نمبر:۱۶۹۲،جی پی او، اسلام آباد، ۷مئی ۲۰۰۶ء، ص:۲۰۶ 

۱۵۔خورشیدندیم،صدارتی خطبہ،سماجی ہم آہنگی،رواداری اورتعلیم:پاکستان کی جامعات کے اساتذہ کے ساتھ نشستوں کی روداد، مرتبین: سجاد اظہر، احمداعجاز، پاکستان انسٹی ٹوٹ فارپیس سٹڈیز، جولائی ۲۰۱۶ء، ص:۴۵تا۴۸، نیز ملاحظہ ہو: شہزاداقبال شام، ڈاکٹر، دساتیرپاکستان کی اسلامی دفعات۔ایک تجزیاتی مطالعہ، شریعہ اکیڈمی،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام، آباد، ۲۰۱۱ء، ص: ۲۹۱ تا ۲۲۲ 

۱۷۔ الروم۲۲:۳۰ 

۱۷۔ جنیدقیصر،پاکستانی اقلیتوں کانوحہ،فکشن ہاؤس،۱۳مزنگ روڈ،لاہور،۲۰۰۷ء،ص:۳۱تا۵۱ 

۱۸۔محمدعمارخان ناصر، بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال وجواب، ماہنامہ الشریعہ،گوجرانوالہ، جلد:۲۷، شمارہ:۱، جنوری۲۰۱۶ء، ص: ۲۵ 

۱۹۔جاوید احمدغامدی،ریاست اورحکومت،ماہنامہ اشراق، لاہور، جلد:۲۷، شمارہ:۴، اپریل۲۰۱۵ء، ص:۱۷تا۲۰، نیز ملاحظہ ہو: محمد عمارخان ناصر، ریاست،معاشرہ اورمذہبی طبقات،ماہنامہ الشریعۃ، گوجرانوالہ، جلد:۲۴، شمارہ:۳، مارچ ۲۳۱۰ء، ص:۱۸تا۲۳ 

۲۰۔ ابوسلمان شاہجہانپوری،ڈاکٹر،برصغیرپاک وہندکی شرعی حیثیت،ص:۹۹تا۱۰۳

۲۱۔محموداحمدغازی، ڈاکٹر،اسلام کاقانون بین الممالک،شریعہ اکیڈمی،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی،اسلام آباد، ۲۰۰۷ء، ص: ۲۱۷ تا ۳۱۳، نیزملاحظہ ہو:محمدعمارخان ناصر،بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال وجواب، ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ، جلد: ۲۷، شمارہ:۱، جنوری ۲۰۱۶ء، ص:۲۲تا۲۵ 

۲۲۔سیف الحق چکیسری،اسلام کاتصورِجہاداورالقاعدہ،ص:۱۱۳تا۱۱۴ 

۲۳۔محمدعمارخان ناصر،جہاد:ایک مطالعہ،المورد،لاہور،۲۰۱۰ء،ص:۱تا۱۰ 

۲۴۔ سیف الحق چکیسری،اسلام کاتصورِجہاداورالقاعدہ،ص:۱۱۵تا۱۱۹ 

۲۵۔ رازشتہ سیتھنا، پاکستان میں اقلیتوں کی حالت زار،سہ ماہی تجزیات،اسلام آباد،شمارہ:۷۳،اپریل 150 جون ۲۰۱۵ء، ص: ۹۰۔۹۱ 

۲۶۔ روزنامہ جنگ،لاہور،۲۶نومبر۲۰۱۵ء،پاکستانی سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس، ص:۱،۵ 

۲۷۔محمدمشتاق احمد،جہاد،مزاحمت اوربغاوت،ص:۱۴۹تا۱۷۵

۲۸۔ اداریہ، ماہنامہ ہم سخن انٹرنیشنل،لاہور،جولائی۲۰۱۳ء،جلد:۱۷،شمارہ:۵،ص:۴تا۵ 

۲۹۔ محمدحسین، حل تنازعات کے طریقے سیرتِ نبوی کی روشنی میں، ماہنامہ الشریعہ،گوجرانوالہ، جلد:۲۷، شمارہ:۳، مارچ ۲۰۱۶ء، ص: ۲۲تا۲۷

آراء و افکار