مسلمانوں کے خلاف جنگ میں غیر مسلموں کی معاونت ۔ تکفیری مکتب فکر کے ایک اہم استدلال کا تنقیدی جائزہ

محمد عمار خان ناصر

موجودہ مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرنے والے گروہوں کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ان حکمرانوں نے بہت سی ایسی لڑائیوں میں کفار کے حلیف کا کردار ادا کیا ہے جو انھوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف شروع کی ہیں اور اسلامی شریعت کی رو سے یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا مرتکب کافر اور مرتد قرار پاتا ہے۔

یہ نقطہ نظر ہمارے ہاں سب سے پہلے غالباً انگریزی دور اقتدار میں جنگ عظیم اول کے موقع پر اس وقت پیش کیا گیا جب برطانوی فوج میں شامل مسلمانوں کے لیے ترکی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا سوال سامنے آیا۔ تحریک خلافت کے قائدین نے اس پر ایک سخت مذہبی موقف اختیار کیا اور مولانا ابو الکلام آزاد نے اس کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے لکھا کہ:

’’تیسری صورت قتل مسلم کی یہ ہے کہ کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ ہو کر ان کی فتح ونصرت کے لیے مسلمانوں سے لڑے یا لڑائی میں ان کی اعانت کرے اور جب مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جنگ ہو رہی ہو تو وہ غیر مسلموں کا ساتھ دے۔ یہ صورت اس جرم کے کفر وعدوان کی انتہائی صورت ہے اور ایمان کی موت اور اسلام کے نابود ہو جانے کی ایک ایسی اشد حالت ہے جس سے زیادہ کفر وکافری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کے وہ سارے گناہ، ساری معصیتیں، ساری ناپاکیاں، ہر طرح اور ہر قسم کی نافرمانیاں جو ایک مسلمان اس دنیا میں کر سکتا ہے یا ان کا وقوع دھیان میں آ سکتا ہے، سب اس کے آگے ہیچ ہیں۔ جو مسلمان ایسے فعل کا مرتکب ہو، وہ قطعاً کافر ہے اور بد ترین قسم کا کافر ہے۔ اس کی حالت کو قتل مسلم کی پہلی صورت پر قیاس کرنا درست نہ ہوگا۔ اس نے صرف قتل مسلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا ہے، بلکہ اسلام کے برخلاف دشمنان حق کی اعانت ونصرت کی ہے اور یہ بالاتفاق وبالاجماع کفر صریح وقطعی مخرج عن الملۃ ہے۔ جب شریعت ایسی حالت میں غیر مسلموں کے ساتھ کسی طرح کا علاقہ محبت رکھنا بھی جائز نہیں رکھتی تو پھر صریح اعانت فی الحرب اور حمل سلاح علی المسلم کے بعد کیونکر ایمان واسلام باقی رہ سکتا ہے؟‘‘ (مسئلہ خلافت، ص ۹۷، مکتبہ جمال لاہور، ۲۰۰۶ء)

مولانا سید حسین احمد مدنی نے بھی اس موقف کی تائید کی، چنانچہ مولانا آزاد کا مذکورہ اقتباس ان کی ’’تقریر ترمذی‘‘ میں باللفظ مولانا مدنی کے موقف کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔ معاصرتکفیری گروہوں کی طرف سے بالعموم اپنے موقف کے حق میں اسی اقتباس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

یہ معاملہ شرعی نقطہ نظر سے تفصیل طلب ہے۔ اس ضمن میں بنیادی اور فیصلہ کن نکتے دو ہیں: ایک یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی باہمی جنگ میں لڑائی کا اصل باعث کیا ہے اور اس سے کس مقصد کا حصول کفار کے پیش نظر ہے؟ اور دوسرا یہ کہ غیر مسلموں کا ساتھ دینے والے مسلمان، کس محرک کے تحت اس جنگ میں کفار کے ساتھ شریک ہو رہے ہیں؟ اگر وجہ قتال نفس اسلام ہے، یعنی کفار صرف اس لیے مسلمانوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور انھیں اسلام سے برگشتہ کرنا یا اسلام کو مٹا دینا اس جنگ کا مقصد ہے، جبکہ جنگ میں غیر مسلموں کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کا محرک بھی اسلام کو زک پہنچانا ہے تو بلاشبہ یہ کفر ہے، اس لیے کہ کوئی مسلمان حالت ایمان میں یہ طرز عمل اختیار نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر لڑائی کی وجہ عام دنیاوی مفادات کا تصادم ہے اور کفار، مسلمانوں کے کسی علاقے پر قبضہ کرنے یا ان کی دولت ہتھیانے یا ان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں جبکہ اس جنگ میں کچھ دوسرے مسلمان بھی کچھ دنیوی مفادات کے حصول کے لیے، کفار کے ساتھ شریک جنگ ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو اس عمل کو فی نفسہ کفر نہیں کہا جا سکتا، اگرچہ اس کا مذموم اور قابل اجتناب ہونا واضح ہے۔ گویا لڑائی کا واقعاتی تناظر اور جنگ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کی نیت اور ارادہ یہ طے کریں گے کہ ان کے اس عمل کی حیثیت کیا متعین کی جائے۔ اگر لڑائی کفر اور اسلام کے تناظر میں لڑی جا رہی ہے اور لڑائی میں شریک ہونے والے بھی اسی نیت سے لڑ رہے ہیں کہ اسلام بطور دین کمزور جبکہ کفر اس پر غالب ہو جائے تو بلاشبہ یہ عمل کفر وارتداد کے ہم معنی ہے، لیکن کفار اور مسلمانوں کے مابین ہر جنگ کو نہ تو کفر واسلام کی جنگ کہا جا سکتا ہے اور نہ یہ قرار دینا ممکن ہے کہ کسی دنیوی مفاد کے تناظر میں، جنگ میں کفار کا ساتھ دینے والے مسلمان فی نفسہ اسلام ہی کے دشمن ہیں اور ان میں اور کھلے کافروں میں کوئی فرق ہی باقی نہیں رہا۔

اس حوالے سے فقہاء کا بیان کردہ یہ بنیادی اصول پیش نظر رہنا چاہیے کہ اگر مسلمان کا کوئی قول یا عمل ایک سے زیادہ احتمال رکھتا ہو اور ان میں سے بعض احتمال اس کی تکفیر کا تقاضا کرتے ہیں جبکہ کچھ احتمال اسے تکفیر سے بچاتے ہوں تو اس کی نیت اور ارادہ فیصلہ کن ہوگا۔ اگر اس نے اس عمل کا ارتکاب ایسی نیت سے کیا ہو جو کفر کو مستلزم ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی، جبکہ اس کے برعکس صورت میں تکفیر سے گریز کیا جائے گا۔ فقہ حنفی کی معروف کتاب ’’المحیط البرہانی‘‘ میں ہے:

یجب ان یعلم انہ اذا کان فی المسئلۃ وجوھا توجب التکفیر ووجھا واحدا یمنع التکفیر فعلی المفتی ان یمیل الی الوجہ الذی یمنع التکفیر تحسینا للظن بالمسلم، ثم ان کان نیۃ العامل الوجہ الذی یمنع التکفیر فھو مسلم، وان کانت نیتہ الوجہ الذی یوجب التکفیر لا ینفعہ فتوی المفتی ویومر بالتوبۃ والرجوع عن ذلک وبتجدید النکاح بینہ وبین امراتہ (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی، ج ۵، ص ۵۵۰)

’’یہ جاننا لازم ہے کہ اگر کسی مسئلے میں ایک سے زیادہ احتمالات تکفیر کا تقاضا کرتے ہوں جبکہ صرف ایک احتمال تکفیر سے مانع ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اسی احتمال کو اختیار کرے جو تکفیرسے مانع ہے۔ پھر اگر اس عمل کا ارتکاب کرنے والے کی نیت وہی احتمال ہو جو تکفیر سے مانع ہے تو وہ مسلمان شمار ہوگا، لیکن اگر خود اس کی نیت وہ احتمال ہو جو تکفیر کا موجب ہے تو ایسی صورت میں اسے مفتی کا فتویٰ کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اسے کہا جائے گا کہ وہ توبہ کر کے اس عمل سے رجوع کرے اور اپنی بیوی کے ساتھ نکاح کی تجدید کرے۔‘‘

’’المحیط البرہانی‘‘ میں اس اصول کے انطباق کی ایک عمدہ مثال بھی نقل کی گئی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:

المسلمون اذا اخذوا اسیرا وخافوا ان یسلم فکغموہ ای سدوا فمہ بشیء حتی لا یسلم او ضربوہ حتی یشتغل بالضرب فلا یسلم فقد اساء وا فی ذلک، ولم یقل فقد کفروا ۔۔۔ وذکر شیخ الاسلام رحمہ اللہ فی شرح السیر ان الرضا بکفر الغیر انما یکون کفرا اذا کان یستجیز الکفر ویستحسنہ، اما اذا کان لا یستجیزہ ولا یستحسنہ ولکن احب الموت او القتل علی الکفر لمن کان شریرا موذیا بطبعہ حتی ینتقم اللہ منہ فھذا لا یکون کفرا (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی، ج ۵، ص ۵۵۱)

’’مسلمان اگر (جنگ میں) کسی قیدی کو گرفتار کریں اور اس ڈر سے کہ کہیں وہ (زبان سے) اسلام کا اقرار نہ کر لے، اس کے منہ کو کسی چیز سے بند کر دیں یا اسے مارنا شروع کر دیں تاکہ وہ مار سے بد حواس ہو جائے اور قبول اسلام کا اعلان نہ کر پائے تو ایسا کرنے والوں نے غلط کام کیا، لیکن اس سے وہ کافر نہیں ہو جائیں گے۔ شیخ الاسلام نے شرح السیر میں واضح کیا ہے کہ دوسرے کے کفر پر راضی ہونا صرف اس صورت میں کفر ہے جب ایسا کرنے والے کفر کو اچھا اور جائز سمجھتا ہو۔ لیکن اگر وہ کفر کو نہ تو جائز سمجھتا ہو اور نہ اسے پسند کرتا ہو، بلکہ صرف یہ چاہتا ہو کہ ایک شریر اور طبعاً موذی کافر، کفر پر ہی مرے یا اسے قتل کر دیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے (ان اذیتوں کا جو اس نے مسلمانوں کودیں) انتقام لے تو اس نیت سے ایسا کرنے والا کافر نہیں ہوگا۔‘‘

مذکورہ مثال میں دیکھیے، کچھ مسلمان ایک کافر کو کلمہ پڑھنے سے روکنا چاہتے ہیں جس کا مطلب بظاہر یہ بنتا ہے کہ وہ اس کو کافر ہی رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے اسلام قبول کرنے پر راضی نہیں۔ اب ظاہر کے اعتبار سے کسی کے کفر پر راضی ہونا اور اسے قبول اسلام سے روکنا کفر ہے، لیکن فقہاء یہ قرار دے رہے ہیں کہ یہاں چونکہ اسلام سے روکنے والوں کی نیت فی نفسہ کفر کو پسند کرنا اور اسے جائز سمجھنا نہیں، بلکہ وہ اس نیت سے ایسا کر رہے ہیں کہ ایک موذی اور شرپسند دشمن اللہ کے انتقام سے بچنے نہ پائے، اس لیے ان کے اس عمل کو ان کی نیت کا اعتبار کرتے ہوئے کفر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی اصول زیر بحث سوال کے حوالے سے بھی پیش نظر رہے تو صاف واضح ہوگا کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کفار کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کو صرف اسی صورت میں کافر قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ فی نفسہ کفر کو اسلام کے مقابلے میں پسند کرتے ہوں اور اسلام پر کفر کو غالب کرنے کی نیت اور ارادے سے جنگ میں کفار کا ساتھ دے رہے ہوں۔ اگر ان کا محرک اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو تو فقہی اصول کے لحاظ سے انھیں محض مسلمانوں اور کفار کی لڑائی میں کفار کا ساتھ دینے کی بنا پر کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مذکورہ اصولی نکتے کے علاوہ فقہی ذخیرے میں متعدد ایسے نظائر موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہائے اسلام مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کفار کے ساتھ شرکت کو مطلقاً یعنی ہر حال میں کفر قرار نہیں دیتے، بلکہ ایسا کرنے والے مسلمانوں کومسلمان ہی شمار کرتے ہیں اور اس سے بھی آگے بڑھ کر بعض حالات میں اس کی باقاعدہ اجازت دیتے ہیں۔ یہاں چند اہم نظائر کا مطالعہ مفید ہوگا:

۱۔ فقہاء کے مابین اس بات میں اختلاف ہے کہ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ حکومت کے خلاف بغاوت کر دے تو اس کے خلاف جنگ میں کفار سے مدد لی جا سکتی ہے یا نہیں؟ ایک گروہ کے نزدیک ایسا کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے کفار کو مسلمانوں پر مسلط کرنا لازم آتا ہے جو کہ شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہے۔ (یہاں یہ بات بطور خاص ذہن میں رہے کہ ممانعت کرنے والے فقہاء نے اس کی دلیل یہ نہیں بیان کی کہ ایسا کرنا فی نفسہ کفر ہے)۔ اس کے برخلاف امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا موقف یہ ہے کہ مسلمانوں باغیوں کے خلاف جنگ میں اہل حرب یا اہل ذمہ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، بشرطیکہ لشکر کی کمان اہل اسلام کے ہاتھ میں ہو اور وہ جنگ کی ترجیحات طے کرنے میں آزاد ہوں۔ سرخسی لکھتے ہیں:

ولا باس بان یستعین اھل العدل بقوم من اھل البغی واھل الذمۃ علی الخوارج اذا کان حکم اھل العدل ظاھرا (المبسوط ۱۰/ ۱۳۴)

’’اس میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمان حکومت، خوارج کے خلاف جنگ میں باغیوں کے کسی گروہ یا اہل ذمہ کی مدد حاصل کریں، بشرطیکہ مسلمان حکومت کا فیصلہ غالب ہو۔‘‘

۲۔ یہ اس صورت میں ہے جب مسلمان حکومت، باغیوں کے خلاف کفار کی مدد لینے پر مجبور نہ ہو۔ اگر صورت حال ایسی پیدا ہو جائے کہ باغیوں کا زور توڑنے کے لیے مدد لینا ناگزیر ہو جائے تو یہاں دلچسپ صورت حال پید اہو جاتی ہے۔ فقہائے احناف تو اپنے اصول کے مطابق اس صورت میں باغیوں کے خلاف کفار کی مدد لینے کو جائز قرار نہیں دیتے، چنانچہ سرخسی لکھتے ہیں:

وان ظھر اھل البغی علی اھل العدل حتی الجاوھم الی دار الشرک فلا یحل لھم ان یقاتلوا مع المشرکین اھل البغی، لان حکم اھل الشرک ظاھر علیھم ولا یحل لھم ان یستعینوا باھل الشرک علی اھل البغی من المسلمین اذا کان حکم اھل الشرک ھو الظاھر (المبسوط ۱۰/ ۱۳۴)

’’اگر باغی حکومت کے مقابلے میں غالب آ جائیں اور انھیں اہل شرک کے علاقے کی طرف دھکیل دیں تو اس حالت میں حکومت کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف جنگ کرے، کیونکہ اہل شرک کا اقتدار غالب ہے جبکہ ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے حلال نہیں کہ وہ مسلمان باغیوں کے خلاف اہل شرک کی مدد حاصل کریں۔‘‘

لیکن فقہا کا دوسرا گروہ جو عام حالات میں باغیوں کے خلاف کفار کی مدد لینے کو ناجائز کہتا ہے، ان میں سے بعض اہل علم مذکورہ صورت حال میں مجبوری کے تحت کفار کی مدد لینے کی اجازت دیتے ہیں، چنانچہ علامہ ابن حزم تصریح کرتے ہیں کہ باغیوں کے خلاف کفار سے مدد لینے کی ممانعت اس صورت میں ہے جب مسلمان خود باغیوں کے خلاف لڑنے کی قدرت رکھتے ہوں۔ اگر حکومت اتنی کمزور ہو جائے کہ کفار کی مدد لیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو پھر اہل حرب یا اہل ذمہ کا سہارا لے کر اور ان کی مدد سے باغیوں کے خلاف جنگ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ جن کفار سے وہ مدد لے رہے ہیں، ان کی طرف سے یہ خدشہ نہ ہو کہ وہ کسی مسلمان یا ذمی کی جان ومال کو نقصان پہنچائیں گے۔ لکھتے ہیں:

ھذا عندنا ما دام فی اھل العدل منعۃ، فان اشرفوا علی الھلکۃ واضطروا ولم تکن لھم حیلۃ فلا باس بان یلجؤا الی اھل الحرب وان یمتنعوا باھل الذمۃ، ما ایقنوا انھم فی استنصارھم لو یوذون مسلما ولا ذمیا فی دم او مال او حرمۃ مما یحل (المحلی، ۱۱/ ۳۵۵)

’’ہمارے نزدیک یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب حکومت اپنے دفاع پر قادر ہو۔ اگر مسلمان ہلاکت کے قریب پہنچ جائیں اور حالت اضطرار سے دوچار ہو جائیں اور کوئی چارہ باقی نہ رہے تو پھر (باغیوں کے خلاف) اہل حرب کا سہارا لینے میں یا اہل ذمہ کے ساتھ مل کر دفاع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، بشرطیکہ انھیں یہ یقین ہو کہ ان سے مدد لینے کے نتیجے میں وہ وہ کسی مسلمان یا ذمی کی جان ومال یا کسی حرمت پر دست درازی نہیں کریں گے۔‘‘

فقہ شافعی کی کتاب ’’الاقناع‘‘ میں ہے:

ولا یستعان علیھم بکافر لانہ یحرم تسلیطہ علی المسلم الا لضرورۃ (۲/۵۴۹)

’’مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں کسی کافر سے مدد نہ لی جائے، کیونکہ انھیں مسلمانوں پر مسلط کرنا حرام ہے، الا یہ کہ مجبوری ہو۔‘‘

’’مغنی المحتاج‘‘ میں ہے:

فی التتمۃ صرح بجواز الاستعانۃ بہ ای الکافر عند الضرورۃ وقال الاذرعی وغیرہ انہ المتجہ (۵/۴۰۷)

’’تتمہ میں ضرورت اور مجبوری کے تحت کفار سے (مسلمانوں کے خلاف) مدد لینے کے جواز کی تصریح کی گئی ہے۔ اذرعی اور دوسرے اہل علم نے کہا کہ یہی بات درست ہے۔‘‘

یہی بات فقہ حنبلی کی کتاب شرح منتہی الارادات (۳/۳۹۰) میں بھی کہی گئی ہے۔ 

۳۔ فقہاء اس کی بھی تصریح کرتے ہیں کہ اگر مسلمان باغی، حکومت کے خلاف جنگ میں کفار سے مدد لیں تو ایسا کرنے سے باغی، کافر نہیں ہو جائیں گے۔ چنانچہ امام شافعی لکھتے ہیں:

ولو استعان اھل البغی باھل الحرب علی قتال اھل العدل وقد کان اھل العدل وادعوا اھل الحرب فانہ حلال لاھل العدل قتال اھل الحرب وسبیھم ۔۔۔ وقد قیل: لو استعان اھل البغی بقوم من اھل الذمۃ علی قتال المسلمین لم یکن ھذا نقضا للعھد لانھم مع طائفۃ من المسلمین (الام ۴/ ۲۳۴)

’’اگر باغی، حکومت کے خلاف جنگ میں اہل حرب کی مدد حاصل کریں ، جبکہ ان اہل حرب کے ساتھ اس سے پہلے حکومت نے صلح کا معاہدہ کر رکھا ہو تو اب نئی صورت حال میں حکومت کے لیے ان اہل حرب کے ساتھ جنگ کرنا اور انھیں قیدی بنانا جائز ہو جائے گا۔ ۔۔۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ اگر باغی، مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں اہل ذمہ کی مدد حاصل کریں تو ایسا کرنے والے اہل ذمہ کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ وہ (مسلمانوں کے خلاف) مسلمانوں ہی کے ایک گروہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔

یہی بات ابن قدامہ نے المغنی (ج ۹، مسئلہ ۷۰۸۱) میں اور امام نووی نے روضۃ الطالبین (۷/۲۸۰، ۲۸۱) میں لکھی ہے۔ 

امام سرخسی نے شرح السیر الکبیر کی ایک مستقل فصل میں اس صورت حال کے فقہی احکام پر بحث کی ہے جب مسلمانوں کا کوئی باغی گروہ اہل حرب کے ساتھ مل کر مسلم ریاست کے خلاف جنگ کرے۔ سرخسی نے اس کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں، مثلاً یہ کہ اہل حرب، خوارج کی کمان میں مسلمانوں کے ساتھ لڑیں یا یہ کہ خوارج، اہل حرب کی کمان میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کریں یا یہ کہ دونوں کی کمان اپنی اپنی ہو اور وہ مختلف محاذوں سے مسلمانوں کے خلاف حملہ آور ہوں۔ اس ساری بحث کے فقہی احکام اس نکتے پر مبنی ہیں کہ خوارج ایسا کرنے کے باوجود مسلمان ہی شمار ہوں گے اور ان پر مسلمانوں ہی کے احکام جاری ہوں گے۔ کہیں بھی سرخسی نے اشارۃً بھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے یہ مترشح ہوتا ہو کہ وہ اس عمل کو، خاص طور پر اہل حرب کی کمان میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کو کفر وارتداد کے ہم معنی سمجھتے اور اس کے نتیجے میں خوارج کو ان مخصوص رعایتوں سے محروم تصور کرتے ہیں جو انھیں بطورمسلمان حاصل ہیں:

ولو سال الخوارج من اھل الحرب ان یعینوھم علی اھل العدل فقالوا لا نعینکم الا ان یکون الامیر منا ویکون حکمنا ھو الجاری ففعلوا ذلک ثم ظھر علیھم اھل العدل فاھل الحرب واموالھم فیء، اما اذاکانت الخوارج لم یومنوھم فالجواب ظاھر لانھم اھل حرب لاامان لھم، واما اذا کانوا امنوھم حتی خرجوا فلانھم نقضوا ذلک الامان حین قاتلوا اھل العدل لمنعتھم وتحت رایتھم بخلاف ما تقدم فھناک انما قاتلوا تحت رایۃ الخوارج وکان حکم الخوارج ھو الجاری فلم یکن ذلک نقضا لامانھم (شرح السبیر الکبیر، باب النفل من اسلاب الخوارج واہل الحرب یقاتلون معہم بامان او بغیر امان، ص ۲۷۲)

’’اگر خوارج، اہل حرب سے اہل عدل کے خلاف مدد کا مطالبہ کریں اور اہل حرب اس کے لیے یہ شرط عائد کریں کہ امیر لشکر ہم میں سے ہوگا اور ہمارے فیصلے جاری ہوں گے اور خوارج یہ شرط قبول کر لیں تو اس کے بعد اگر اہل عدل، جنگ میں غالب آ جائیں تو اہل حرب اور ان کے اموال کا حکم مال فے کا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تو خوارج نے ان کو امان نہ دی ہو تو پھر تو جواب ظاہر ہے کہ یہ لوگ اہل حرب ہیں جنھیں امان حاصل نہیں تھی۔ اور اگر خوارج نے ان کو امان دی ہو اور اس کے تحت وہ (اپنے علاقے سے) نکلے ہوں تو جب انھوں نے اپنے لشکر کی حفاظت میں اور اپنی کمان کے تحت اہل عدل کے خلاف جنگ شروع کی تو خود ہی اس امان کو باطل کر دیا، بخلاف سابقہ صورت کے کہ وہاں انھوں نے خوارج کی کمان میں لڑائی کی تھی اور خوارج کا حکم ان پر غالب تھا، اس لیے اس صورت میں ان کر لڑنا، ان کی امان کو باطل کرنے والا نہیں تھا۔‘‘

دیکھ لیجیے، اس بحث میں بھی فقہاء، مسلمان حکومت کے خلاف کفار کی مدد سے جنگ کرنے والے باغیوں کو کافر قرار نہیں دیتے، بلکہ انھیں مسلمان شمار کرتے ہوئے ہی ان کے احکام بیان کرتے ہیں۔

ابن حزم کی رائے یہ ہے کہ اگر کمان مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو یا مسلمان اور کفار اپنے الگ الگ لشکروں میں دوسرے مسلمانوں کے خلاف مل کر لڑائی کریں تو ایسا کرنا بہت بڑا فسق تو ہے، لیکن انھیں کافر نہیں کہا جا سکتا۔ لکھتے ہیں:

واما من حملتہ الحمیۃ من اہل الثغر من المسلمین فاستعان بالمشرکین الحربیین واطلق ایدیہم علی قتل من خالفہ من المسلمین او علی اخذ اموالہم او سبیلہم فان کانت یدہ ہی الغالبۃ وکان الکفار لہ کاتباع فہو ہالک فی غایۃ الفسوق ولا یکون بذلک کافرا لانہ لم یات شیئا اوجب بہ علیہ کفرا قرآن او اجماع ۔۔۔۔۔۔ فان کانا متساویین لا یجری حکم احدہما علی الآخر فما نراہ بذلک کافرا (المحلی ۱۱؍۲۰۰، ۲۰۱)

’’سرحدوں پر رہنے والے مسلمانوں میں سے اگر کچھ لوگ (مسلمان حکومت سے) ناراض ہو کر حربی مشرکین سے ان کے خلاف مدد حاصل کریں اور اپنے مخالف مسلمانوں کو قتل کرنے یا ان کے اموال لوٹنے میں مشرکین کا ساتھ دیں تو اگر تو ان مسلمانوں کو غالب حیثیت حاصل ہو اور کفار ان کے بالتبع ہوں تو ایسے لوگ انتہائی درجے کے فاسق ہیں، لیکن اس سے وہ کافر نہیں ہو جائیں گے، کیونکہ انھوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کو قرآن یا اجماع نے مستوجب کفر قرار دیا ہو۔ اسی طرح اگر مسلمانوں اور کافروں کو برابر کی حیثیت حاصل ہو اور کوئی بھی دوسرے پر بالادست حیثیت نہ رکھتا ہو تو بھی کافروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے مسلمان، کافر نہیں ہوں گے۔‘‘

علامہ ابن حزم نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ اگر مسلمانوں کا کوئی محارب گروہ اہل حرب کے ساتھ مل کر مسلمان باغیوں کا مال لوٹنے کے لیے ان پر حملہ کرے تو اس کے باوجود وہ مسلمان ہی رہے گا، البتہ دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان حملہ آوروں کے خلاف باغی مسلمانوں کا دفاع کریں۔ لکھتے ہیں:

ولو ترک اھل الحرب من الکفار واھل المحاربۃ من المسلمین علی قوم من اھل البغی ففرض علی جمیع اھل الاسلام وعلی الامام عون اھل البغی وانقاذھم من اھل الکفر ومن اھل الحرب لان اھل البغی مسلمون ۔۔۔ واما اھل المحاربۃ من المسلمین فانھم یریدون ظلم اھل البغی فی اخذ اموالھم والمنع من الظلم واجب (المحلی ۱۱/ ۳۶۱)

’’اگر اہل حرب کفار اور مسلمانوں میں سے کچھ محاربین، باغیوں پر حملہ کریں تو تمام اہل اسلام اور مسلمان حکمران پر لازم ہے کہ وہ باغیوں کی مدد کریں اور انھیں اہل کفر اور محاربین سے بچائیں کیونکہ یہ باغی مسلمان ہیں۔ جہاں تک (کفار کے ساتھ مل کر حملہ کرنے والے) مسلمان محاربین کا تعلق ہے تو (ان سے لڑنا اس لیے ضروری ہے کہ) وہ باغیوں کے مال چھین کران پر ظلم کرنا چاہتے ہیں اور ظلم سے روکنا واجب ہے۔‘‘

۴۔ مذکورہ نظائر کا تعلق اس صورت سے ہے جب مسلمانوں (حکومت یا باغیوں) کے خلاف جنگ کا بنیادی فریق خود مسلمان ہوں اور کفار کو اس جنگ میں ایک مددگار فریق کے طور پر شریک کیا جائے۔ اگر صورت حال اس کے برعکس ہو، یعنی مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اصل فریق کفار ہوں اور کچھ مسلمان ان کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں تو فقہاء کے ہاں اس کے حکم کے متعلق قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ علامہ ابن حزم اس کے قائل ہیں کہ اگر مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی کمان کفار کے ہاتھ میں ہو تو ان کے ساتھ مل کر لڑنا مسلمانوں کے لیے مستوجب کفر عمل ہے۔ 

لکھتے ہیں:

وان کان حکم الکفار جاریا علیہ فہو بذلک کافر علی ما ذکرنا (المحلی ۱۱؍۲۰۰، ۲۰۱)

’’اگر کفار کا حکم ان پر غالب ہو تو ان کی کمان میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے والا کافر ہو جائے گا۔‘‘

تاہم یہ ابن حزم کا انفرادی نقطہ نظر ہے۔ جمہور فقہاء کی تصریحات کے مطابق مسلمانوں کے، کفار کی کمان میں دوسرے مسلمانوں کے خلاف لڑنے یا اپنی کمان میں ان سے مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں مدد لینے سے معاملے کی شرعی حیثیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا اور ایسے مسلمان اس عمل کے بعد بھی مسلمان ہی تصور کیے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے چند تصریحات درج ذیل ہیں:

امام سرخسی نے لکھا ہے کہ اگر کسی مرتد کا مسلمان غلام کفار کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہو اور گرفتار ہو جائے تو اسے مسلمان ہونے کی وجہ سے قیدی نہیں بنایا جائے گا بلکہ آزاد کر دیا جائے گا:

ان کان خرج لیقاتل المسلمین فظھروا علیہ فان کان مسلما فھو حر لانہ مراغم لمولاہ ولو کان ذمیا فھو فیء لمن اخذہ لان قتالہ المسلمین نقض منہ للعھد (شرح السیر الکبیر ج ۵ ص ۲۰۸)

’’اگر مرتد کا غلام مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے لیے دار الحرب سے نکلا ہو اور پھر مسلمان اسے پکڑ لیں تو اگر وہ مسلمان ہو تو اسے آزاد کر دیا جائے گا کیونکہ وہ اپنے آقا کی مرضی کے برخلاف آیا ہے، اور اگر وہ غلام ذمی ہو تو جو لوگ اسے گرفتار کریں گے، وہ ان کی ملکیت بن جائے گا کیونکہ ذمی کا، مسلمانوں کے ساتھ قتال کرنا معاہدہ کو توڑ دیتا ہے۔‘‘

یہاں واضح طور پر کفار کی طرف سے شریک جنگ ہونے والے مسلمان اور غیر مسلم غلام میں فرق کیا جا رہا ہے اور محض جنگ میں شریک ہونے کی بنا پر مسلمان غلام کو کافر اور مرتد شمار نہیں کیا جا رہا۔

امام سرخسی لکھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ کفار کے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرے تو مسلمانوں کے لیے بھی ان کو جواباً قتل کرنا جائز ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا شمار مسلمانوں میں ہی ہوگا:

ولو لقوا فی صف المشرکین قوما من المسلمین معھم الاسلحۃ فلا یدرون امکرھون علی ذلک ام غیر مکرھین فانی احب لھم الا یعجلوا فی قتالھم حتی یسالوھم ان قدروا علی ذلک، وان لم یقدروا فلیکفوا عنھم حتی یروھم یقاتلون احدا منھم فحینئذ لا باس بقتالھم وقتلھم، لان موافقتھم فی الدین تمنعھم من محاربۃ المسلمین وھذا منھم معلوم للمسلمین۔ فما لم یتبین خلافہ لا یحل لھم ان یقتلوھم وبمجرد وقوفھم فی صف المشرکین لا یتبین خلاف ذلک، لان ذلک محتمل وقد یکون عن اکراہ وقد یکون عن طوع، فالکف عن قتالھم احسن حتی یتبین منھم القتال، فحینئذ لا باس بقتالھم لان مباشرۃ القتال فی منعۃ المشرکین مبیح لدمھم وان کانوا مسلمین، الا تری ان اھل البعی یقاتلون دفعا لقتالھم وان کانوا مسلمین (شرح السیر الکبیر ۴ /۲۰۶، ۲۰۷)

’’اگر مسلمان، مشرکین کی صفوں میں کچھ مسلمانوں کو دیکھیں جن کے پاس ہتھیار ہوں تو اب یہ معلوم نہیں کہ وہ مجبوراً آئے ہیں یا اپنے اختیار سے، اس لیے مجھے یہ پسند ہے کہ اگر وہ ایسا کر سکیں تو جب تک ان سے دریافت نہ کر لیں، ان کے خلاف لڑنے میں جلدی نہ کریں۔ اور اگر ان سے دریافت نہ کر سکتے ہوں تو بھی ان کے خلاف اقدام نہ کریں جب تک کہ انھیں اپنے خلاف لڑتا ہوا نہ دیکھ لیں۔ اس صورت میں ان سے لڑنے اور انھیں قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (پہلے مرحلے پر انھیں قتل کرنا) اس لیے درست نہیں کہ ان کا مسلمان ہونا انھیں مسلمانوں ہی کے خلاف لڑنے سے روکتا ہے اور یہ بات مسلمانوں کو معلوم ہے، اس لیے جب تک معاملے کا اس کے برخلاف ہونا بالکل واضح نہ ہو جائے، ان کے محض مشرکوں کی صف میں کھڑے ہونے کی وجہ سے انھیں قتل کرنا جائز نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ جبراً لائے گئے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنی مرضی سے آئے ہوں۔ اس لیے جب تک وہ صاف طور پر لڑائی میں شریک نہ ہو جائیں، ان کے خلاف جنگ سے گریز کرنا ہی اچھا ہے۔ البتہ دوسری صورت میں ان کے خلاف لڑنے میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ مشرکین کی کمان میں (مسلمانوں کے خلاف) جنگ کرنا ان کے خون کو مباح کر دیتا ہے، اگرچہ وہ مسلمان ہی ہیں۔ دیکھتے نہیں کہ باغیوں کی لڑائی کے سد باب کے لیے ان کے خلاف جنگ کی جاتی ہے، حالانکہ وہ مسلمان ہوتے ہیں۔‘‘

یہ تو اس ضمن میں کلاسیکی فقہی ذخیرے کی تصریحات تھیں۔ علمائے اسلام کے زاویہ نظر میں اس کی تائید وتوثیق کی مثال ہمیں ماضی قریب کی بعض بحثوں میں بھی ملتی ہے۔ چنانچہ بیسویں صدی کے نصف اول میں جب برصغیر سے انگریزی اقتدار کے خاتمے کے لیے سیاسی جدوجہد کی جا رہی تھی تو یہاں کے مذہبی سیاسی قائدین کی اکثریت کا رجحان متحدہ قومیت کے تصور کے تحت ایک ایسی آزاد جمہوری ریاست کے قیام کی طرف تھا جس میں مسلمانوں، ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو یکساں سیاسی وشہری حقوق حاصل ہوں۔ اس ضمن میں ان حضرات کے سامنے ایک اہم سوال یہ آیا کہ اگر کسی وقت ہندوستان اور کسی بیرونی مسلمان حکومت کے مابین جنگ کی نوبت آ جائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کا شرعی موقف کیا ہوگا یا کیا ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں ممتاز ترین اہل علم نے دوٹوک انداز میں یہ بات واضح کی کہ ہندوستان کے مسلمان ایسی صورت میں کسی بھی غیر ملکی طاقت کے خلاف، چاہے وہ مسلمانوں ہی کی کیوں نہ ہو، ہندوستان کا دفاع کرنے کے پابند ہوں گے اور یہ نہ صرف ان کا وطنی وقومی فریضہ بلکہ ان کی شرعی واخلاقی ذمہ داری بھی ہوگی۔

اس ضمن کی چند اہم تصریحات یہاں نقل کی جا رہی ہیں۔

علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ نے جمعیۃ علمائے ہند کے اجلاس منعقدہ پشاور (۱۹۲۷ء) میں خطبہ صدارت ارشاد فرماتے ہوئے کہا کہ:

’’اگر آج مسلمانوں کو اکثریت کی تعدی کے خطرے سے محفوظ کر دیا جائے تو وہ ہندوستان کی طرف سے ایسی ہی مدافعانہ طاقت ثابت ہوں گے جس طرح اپنے وطن کی کوئی مدافعت کرتا ہے۔ یہ خطرہ کہ آزادی کے وقت اگر کسی مسلمان حکومت نے ہندوستان پرحملہ کر دیا تو مسلمانوں کا رویہ کیا ہوگا؟ نہایت پست خیالی ہے اور اس کا نہایت سیدھا اور صاف جواب یہ ہے کہ اگر مسلمان اپنے ہمسایوں کی طرف سے کسی معاہدے کی وجہ سے مطمئن ہوں گے اور ہمسایوں کی زیادتیوں کا شکار نہ ہوں گے تو ان کا رویہ اس وقت وہی ہوگا جو کسی شخص کا اس کے گھر پر حملے کرنے کی حالت میں ہوتا ہے، اگرچہ حملہ آور اس کا ہم قوم اور ہم مذہب ہی ہو۔‘‘ (بحوالہ ’’ہند پاکستان کی تحریک آزادی اور علمائے حق کا سیاسی موقف‘‘، از مولانا سعید احمد اکبر آبادی، جمعیۃ پبلی کیشنز لاہور، جنوری ۲۰۰۷ء، ص ۹۷)

مولانا سعید احمد اکبر آبادی نے اس موضوع پر علامہ انور شاہ کشمیری کے مختلف بیانات اور تصریحات کا حاصل ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:

’’ازروئے معاہدہ مسلمانوں پر اس ملک کی، جو خود ان کا بھی وطن ہے، خیر خواہی اور اس کی حفاظت ومدافعت ایسی ہی واجب اور ضروری ہوگی جیسی کہ ہندوؤں پر ہے، چاہے وہ حملہ آور کوئی بیرونی مسلم طاقت ہی ہو اور یہ سب کچھ محض ڈپلومیسی نہیں بلکہ ازروئے شرع واحکام دین مسلمانوں کو کرنا ہوگا۔‘‘ (’’ہند پاکستان کی تحریک آزادی اور علمائے حق کا سیاسی موقف‘‘، ص ۱۰۳)

مولانا عبید اللہ سندھی لکھتے ہیں:

’’اگر کوئی بیرونی طاقت ہندوستان پر حملہ آور ہو تو خواہ وہ مسلمان کیوں نہ ہو، ہم اس کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی مسلمان طاقت کا بھی یہ حق نہیں ہے کہ ہماری موجودگی میں وہ اسلام کے نام پر ہندوستان کی سرزمین کو پامال کرنے کی کوشش کرے۔ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا ہمیں اپنے وطن میں حکومت قائم کرنے کا حق نہیں ہے؟ اس میں شک نہیں کہ بیرونی مسلم ممالک کو اپنی حکومتوں کو مستحکم اور منظم کرنے کا حق حاصل ہے، مگر ہم ان کے اس حق کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے کہ وہ ہندوستان پر حملہ کر کے اسے فتح کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ہندوستان میں ہندوستانی حکومت قائم کریں۔‘‘ (خطبات ص ۱۹۶)

تقسیم ہند کی بحث کے تناظر میں بھی یہی سوال اٹھایا گیا تو مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے اس کے جواب میں لکھا:

’’عموماً پاکستان کے حامیوں کی جانب سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کی خارجی پالیسی میں اس کی کیا گارنٹی ہوگی کہ جنگ وصلح اور دیگر معاہدات میں مسلمان حکومتوں کے ساتھ مسلمانان ہند کے اتحاد اسلامی کا لحاظ رکھا جائے گا؟ سو اس کے متعلق بھی کانسٹی ٹیوشن بناتے وقت طے کیا جا سکتا ہے اور اس سے متعلق تفصیلات کو تسلیم کرایا جا سکتا ہے۔ اور میرے خیال میں یہ مسئلہ ایسا پیچیدہ بھی نہیں ہے، خصوصاً جبکہ ہندوستان کی حکومت اس اصول پر قائم کی جائے گی کہ وہ استعمارانہ ہو اس میں خود کسی پر بھی جارحانہ حملہ نہیں کرے گی۔ ہاں، اس سلسلہ میں اگر کوئی پیچیدگی پیش آ سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ دنیا کی مختلف حکومتوں کی باہمی جنگ میں اگر جمہوریت کی حمایت میں ہندوستان کو ایسی حکومت کا ساتھ دینا پڑے جس کے برعکس کوئی مسلمان حکومت کسی سرمایہ پرست، جمہوریت کے مخالف، یورپین یا کسی ایشیائی حکومت کے ساتھ ہو تو اس صورت میں مسلمانان ہند کیا رویہ اختیار کریں گے؟ تو ظاہر ہے کہ جب ہم ہندوستان میں صاحب حکومت ہوں گے تو جس طرح ہمارا فرض ہے کہ مسلمان حکومتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ضروری سمجھیں، اسی طرح اس مسلمان حکومت کا بھی یہی فرض ہوگا اور اگر وہ خدا نخواستہ اس فرض کو قصداً نظر انداز کر دے تو مسلمانان ہند بھی مجبور ہوں گے کہ اپنے ملک اور خود اپنی حفاظت کے لیے جو صورت مناسب سمجھیں، اختیار کریں۔ جس طرح آج ترکی، ایران، افغانستان، عراق، شام او رمصر میں ہو رہا ہے اور اگر یہ بات بھی دل میں کھٹکتی ہو تو ترکی اور دوسری مسلمان حکومتوں کے حالات کو پیش نظر رکھ کر اور جذبات سے الگ ہو کر بعینہ اس پوزیشن کو اس حالت میں بھی سوچیے اور حل کیجیے کہ جب پاکستان کو اپنی حفاظت کے لیے کسی دوسری مسلمان حکومت کے خلاف جنگ آزما ہونا پڑ جائے اور جو حل آپ اس کے لیے تجویز فرمائیں، وہی حل وحدت ہند کی صورت میں بھی اختیار کرنے کی تجویز فرمائیں۔‘‘ (’’پاکستان پر ایک نظر‘‘، نئی زندگی الہ آباد، خاص (پاکستان) نمبر، ۱۹۴۶ء، جلد ۶، شمارہ ۱، کتاب دوئم، ص ۴۵)

اس بحث سے واضح ہے کہ مختلف جنگوں میں مسلمانوں کے خلاف غیر مسلم قوتوں کا ساتھ دینے کی بنیاد پر مطلقاً تکفیر کا موقف ایک انتہائی غیر محتاط اور علمی وشرعی لحاظ سے بے بنیاد موقف ہے۔ نہ تو شرعی نصوص میں ایسی کوئی تصریح موجود ہے اور نہ فقہاء نے ایسا مطلق اور کلی نوعیت کا کوئی شرعی حکم بیان کیا ہے۔ اس موقف میں کفر واسلام کی جنگ اور مسلمانوں اور کفار کی باہمی جنگ کو ایک ہی شمار کرتے ہوئے سنگین نوعیت کا خلط مبحث پیدا کیا گیا ہے اور اس اہم نکتے کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ دنیا میں مختلف گروہوں کے مابین جنگ کے اسباب مذہبی اختلاف سے ہٹ کر بھی کئی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی جنگ میں محض ایک فریق کے مسلمان اور دوسرے فریق کے کافر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ جنگ، مذہبی تناظر میں، کفر اور اسلام کی جنگ بھی ہو جس میں ایک طرف یا دوسری طرف فریق بننے کو ایمان یا کفر کا معیار قرار دیا جا سکے۔ ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم

آراء و افکار