مذہب اور معاشرتی اصلاح ۔ خواتین کے مقام وحقوق کے تناظر میں / مغربی تہذیب کے مفید تصورات وتجربات سے استفادہ

محمد عمار خان ناصر

اللہ کے مستند پیغمبروں کی دعوتی جدوجہد سے مذہب کا جو تصور سامنے آتا ہے، اس کا ایک بہت بنیادی جزو معاشرتی ناہمواریوں اور اخلاقی بگاڑ کی اصلاح ہے۔ مذہب انسان کے عقیدہ وایمان کے ساتھ ساتھ اس کے عمل کا بھی تزکیہ چاہتا ہے، چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ انسانی جبلت کے منفی رجحانات سے پیدا ہونے والے معاشرتی رویوں اور رسوم واعمال کی اصلاح مذہبی تعلیمات کا موضوع بنے۔ اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ نے بھی عرب معاشرے کے تین پسے ہوئے اور مظلوم طبقوں، یعنی غلام لونڈیوں، عورتوں اور بے سہارا یتیموں کو اٹھانے اور انھیں ان کے حقوق دلوانے کو اصلاح معاشرہ کی جدوجہد کا بطور خاص ہدف ٹھہرایا۔ 

اس ضمن میں خواتین کے معاشرتی حقوق کے تحفظ اور ان کے ساتھ نا انصافی اور استحصال کے خاتمے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اصلاحی اقدامات کیے، ان کا ایک جائزہ لینے سے حسب ذیل منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔

تصورات کی اصلاح کے حوالے سے سب سے بنیادی کام یہ کیا گیا کہ بطور صنف عورت کی تکریم و احترام کو اجاگر کیا گیااوربچیوں کی اچھی پرورش کرنے اور ان کے اور لڑکوں کے درمیان امتیاز نہ کرنے کو اعلیٰ اخلاقی رویے کے طور پر پیش کیا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ ’’بچیوں کو ناپسند نہ کیا کرو، کیونکہ یہ تو (ماں باپ کا) دل لگانے والی اور غیر معمولی قدر رکھنے والی ہوتی ہیں۔’’ (مسند احمد، حدیث ۱۷۱۱۴)آپ نے فرمایا کہ ’’جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے اور اس کی تحقیر نہ کرے اور اس کے ساتھ لڑکوں کے مقابلے میں امتیازی سلوک نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دیں گے۔’’ (ابو داود، حدیث ۵۱۴۶) مزید فرمایا کہ ’’جس شخص نے دو بچیوں کے بلوغت کو پہنچنے تک ان کی کفالت کی ، قیامت کے روز وہ اس حالت میں آئے گا کہ میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے۔’’ (صحیح مسلم، حدیث ۲۶۳۱)

ایک شخص کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ تمھاری ماں، تمھارے باپ کے مقابلے میں تمھارے حسن سلوک اور خدمت کی تین درجے زیادہ حق دار ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث ۵۶۵۰) جبکہ ایک شخص کو یہ کہہ کر جہاد پر جانے سے روک دیا کہ اپنی ماں کے قدموں کے ساتھ چمٹے رہو، کیونکہ جنت وہیں ہے۔ (ابن ماجہ، حدیث ۲۷۹۵)

حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ ’’عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ وہ (رشتہ نکاح کی وجہ سے) تمھاری پابند ہو کر رہتی ہیں، لیکن اس سے آگے تمھیں ان پر (زور زبردستی کا) کوئی اختیار نہیں۔’’ (ترمذی، حدیث ۱۱۴۵)

اس کے بعد اہم ترین دائرہ جس میں بہت بنیادی اصلاحی اقدامات کیے گئے، خاندانی زندگی کا دائرہ تھا۔ اس دائرے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انھیں شوہروں کے تعدی وتجاوز سے بچانے کے لیے حسب ذیل نظری وعملی اصلاحات رو بہ عمل کی گئیں۔

  • رشتہ نکاح قائم کرنے کے لیے بیوی کو مہر کی ادائیگی شرعی حکم کے طور پر لازم قرار دی گئی (سورۃ النساء، آیت ۲۴) اور عورت کا یہ حق قرار دیا گیا کہ وہ مہر وصول کیے بغیر مرد کے ساتھ رخصتی سے انکار کر دے۔
  • نکاح کے لیے عورت کی رضامندی کو بنیادی شرط قرار دیا گیا اور اہل خاندان کو پابند کیا گیا کہ وہ ان کی مرضی معلوم کیے بغیر ان کا نکاح نہ کریں۔ (صحیح بخاری، حدیث ۴۸۶۰) اگر ایسا کوئی نکاح کیا گیا تو عورت کی شکایت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عدالتی طور پر منسوخ کر دیا گیا۔ (ابوداود، حدیث ۱۸۳۴)
  • وٹے سٹے کے نکاح پر پابندی عائد کی گئی۔ عرب معاشرے میں اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ دو افراد اپنی زیر سرپرستی خواتین کا نکاح ان کی رضامندی کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ کر دیتے تھے اور اس تبادلے کو ہی مہر کا بدل تصور کیا جاتا تھا، جبکہ متعلقہ خواتین حق مہر سے محروم رہ جاتی تھیں۔ (صحیح بخاری، حدیث ۴۸۳۹)
  • نکاح کے وقت عورت سے جو وعدے اور پیمان کیے گئے ہوں اور جو شرائط طے کی گئی ہوں، ان کی پابندی کی تاکید کی گئی۔ (صحیح بخاری، حدیث ۲۵۹۹)
  • خواتین کو شوہروں کی زیادتی سے بچانے کے لیے طلاق کے حق کو دو تک محدود کر دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ تیسری طلاق کے بعد شوہر، رجوع نہیں کر سکے گا۔ (سورۃ البقرۃ، آیت ۲۳۰) اسی طرح عدت کے دوران میں بیویوں کو ان کے شوہروں کے گھروں سے نکالنے کو ممنوع قرار دیا گیا اور شوہروں کو عدت پوری ہونے تک ان کے ضروری اخراجات اٹھانے کا پابند ٹھہرایا گیا۔ (سورۃ الطلاق، آیت ۱)
  • ماہواری کے ایام میں بیویوں کے ساتھ میل جول کے حوالے سے عرب معاشرے میں افراط وتفریط اور بے اعتدالی کے رویے پائے جاتے تھے۔ ایک طبقہ ان ایام اور معمول کے عام دنوں میں کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں برتتا تھا، جبکہ دوسرے طبقے کے ہاں ان دنوں میں خواتین کو بالکل اچھوت تصور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس بے اعتدالی کا خاتمہ کیا اور جنسی تعلق کو ممنوع ٹھہراتے ہوئے باقی ہر طرح کے میل جول اور اختلاط کو مباح قرار دیا۔
  • عدت کے لیے خواتین کی مختلف حالتوں کے لحاظ سے متوازن اور مبنی بر اعتدال مدتیں مقرر کی گئیں اور عدت کی پابندیوں کے حوالے سے عرب معاشرے کے غیر معتدل رجحانات کا خاتمہ کیا گیا۔
  • تعدد ازواج کے حق کو چار تک محدود اور تمام بیویوں کے مابین عدل ومساوات کے ساتھ مشروط کیا گیا، (سورۃ النساء، آیت ۳) جبکہ اس سے قبل عرب معاشرے میں لوگ کسی تحدید کے بغیر ان گنت خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے تھے اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک غیر ضروری سمجھا جاتا تھا۔
  • یہ قانون بنایا گیا کہ اگر شوہر سے علیحدگی کے بعد خواتین اپنی ہی اولاد کو دودھ پلائیں تو وہ بچے کے باپ سے اس کا معاوضہ لے سکتی ہیں اور شوہروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ باہمی رضامندی سے جو معاوضہ طے کریں، وہ پوری دیانت داری سے بچے کی والدہ کو ادا کریں۔ (سورۃ البقرۃ، آیت ۲۳۳)
  • بچوں کی پرورش کے ضمن میں ماں کا حق تسلیم کیا گیا، چنانچہ ایک مقدمے میں شوہر نے بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس سے بچہ چھیننا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جب تک عورت دوسرا نکاح نہ کرے، بچہ اسی کی پرورش میں رہے گا (جبکہ بچے کا خرچ اس کے باپ کے ذمے ہوگا)۔ (ابوداود، حدیث ۱۹۷۶)
  • خواتین پر گھریلو تشدد کے رویے کی، اخلاقی تربیت اور وعظ ونصیحت کے ذریعے سے حوصلہ شکنی کی گئی۔ (مصنف عبد الرزاق، حدیث ۱۷۳۰۹) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی کردار کو شوہروں کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا اور فرمایا کہ بہترین شوہر وہی ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ ویسا برتاؤ کریں جیسا میں اپنی بیویوں کے ساتھ کرتا ہوں۔ (ترمذی، حدیث ۳۹۹۰)
  • عرب معاشرے میں باپ کی منکوحہ عورتوں کو اس کے مرنے کے بعد وراثت میں بیٹے کو منتقل ہو جانے کا دستور تھا۔ قرآن نے باپ کی منکوحہ سے نکاح کو حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ عمومی طور پر یہ اخلاقی اصول بھی واضح کیا کہ عورتوں کی رضامندی کے بغیر انھیں ڈھور ڈنگر کی طرح وراثت کا مال بنا لینا درست نہیں۔ (سورۃ النساء، آیت ۱۹)
  • باندیوں کو یہ حق دیا گیا کہ جب انھیں قانونی طور پر اپنے مالک سے آزادی ملے، جبکہ غلامی کے دوران میں مالک نے ان کی رضامندی کے بغیر ان کا نکاح کسی کے ساتھ کر دیا ہو، تو آزاد ہونے پر انھیں اس فیصلے پر بھی نظر ثانی کا حق ہوگا اور وہ یک طرفہ طور پر شوہر سے الگ ہونے کا فیصلہ کر سکیں گی۔ (صحیح بخاری، حدیث ۴۹۹۸)

اصلاح کا ایک اور اہم دائرہ خواتین کے مالی ومعاشی حقوق سے متعلق تھا۔ اس حوالے سے بنیادی ترین اصلاحی اقدام یہ تھا کہ وراثت میں خواتین کے لازمی حصے مقرر کیے گئے اور ان کی ادائیگی کو شرعی فریضہ قرار دیا گیا، (سورۃ النساء، آیت ۷) جبکہ اس سے پہلے خواتین سرے سے وراثت میں حصہ لینے کی حق دار ہی تصور نہیں کی جاتی تھیں۔عہد صحابہ میں خواتین کے، کسی معاشرتی دباؤ کے تحت اس حق سے دست بردار ہونے کو روکنے کے لیے بعض قانونی پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ مثلاً جلیل القدر تابعی عامر شعبی کہتے ہیں کہ قریش کی ایک لڑکی سے اس کے بھائی نے کہا کہ تم اپنے شوہر کے پاس جانے سے پہلے اپنی وہ میراث جو تمھیں والد کی طرف سے ملی ہے، مجھے ہبہ کر دو۔ لڑکی نے اس کی بات مان لی، لیکن پھر شادی ہو جانے کے بعد اس نے اپنی میراث دوبارہ مانگی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ اسے واپس دلوا دی اور قاضی شریح کو تاکید کی کہ جب تک عورت اپنے شوہر کے گھر میں جا کر ایک سال نہ گزار لے یا ایک بچے کو جنم نہ دے دے، اس وقت تک اس کی طرف سے ہبہ کے فیصلے کو نافذ نہ مانا جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ۲۱۹۱۴، ۲۱۹۱۶)

خواتین کی، اجتماعی مذہبی وتعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کی گئی (صحیح بخاری، حدیث ۸۷۳) اور مسجد میں باجماعت نماز میں شرکت کے علاوہ تعلیمی مجلسوں میں شریک ہونے اور مختلف سماجی سطحوں پر متحرک کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ عہد نبوی میں اس حوالے سے صحابہ کے ساتھ ساتھ بہت سی ممتاز صحابیات کے نمایاں کردارکا بھی ذکر ملتا ہے۔ مسجد نبوی میں خواتین کی تعلیم کے مخصوص اور مستقل حلقے قائم کیے گئے اور بعض صحابیات کو اپنے گھروں میں خواتین کی باجماعت نماز کا امام مقرر کیا گیا۔ (ابو داود، حدیث ۵۲۰)

خواتین کے لیے کسی جھجھک یا حجاب کے بغیر اپنے مخصوص مسائل کے حوالے سے استفسار کرنے کا ماحول بنایا گیا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک موقع پر کہا کہ’’انصار کی خواتین بہت ہی اچھی تھیں کہ ان کی شرم، دین کے معاملے میں سوال کرنے سے ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی تھی۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث ۵۳۵)

سماجی اصلاح اور پسے ہوئے طبقات کو اٹھانے کی حکمت عملی کے ضمن میں ایک اہم نکتہ یہ یاد رکھنے کا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے غلاموں کو آقاؤں کے خلاف، عورتوں کو مردوں کے خلاف اور فقرا کو اصحاب ثروت کے خلاف بھڑکا کر ایک دوسرے کا مد مقابل بنا دینے کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ یہ طریقہ کوتاہ نظر طبقاتی لیڈروں کا ہوتا ہے جن کے جوش وخروش میں ذاتی محرومیوں کا غصہ شامل ہوتا ہے۔اللہ کا پیغمبر کسی ایک طبقے کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا نبی ہوتا ہے۔ اسے آقا کی فلاح سے بھی اتنی ہی غرض ہوتی ہے جتنی غلام کی، مردوں کی کامیابی بھی اتنی ہی عزیز ہوتی ہے جتنی عورتوں کی اور مال داروں کا حسن انجام بھی اتنا ہی محبوب ہوتا ہے جتنا فقرا اور یتامی ومساکین کا۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصلاحی پروگرام کی بنیاد طبقاتی کشمکش کو ابھارنے پر نہیں، بلکہ ہر طبقے میں فطری طور پر موجود نیک جذبات اور اخلاقی تصورات کو اپیل کرنے پر رکھی اور یہ سمجھایا کہ انسانی سماج میں بہتر وکہتر کی یہ تقسیم انسان کی آزمائش کا ایک ذریعہ ہے جس میں کامیابی کا معیار اللہ کی نظر میں صرف اور صرف اچھا عمل اور حسن کردار ہے۔

مغربی تہذیب کے مفید تصورات وتجربات سے استفادہ

مغربی تہذیب نے گذشتہ کئی صدیوں میں فکری ارتقا کا جو سفر طے کیا ہے، اس نے متعدد اسباب سے اسے مذہب اور روحانیت سے دور کر دیا ہے اور وہ بلاشبہ اس وقت دنیا میں ایک لادینی تہذیب کا علم بردار ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی ذہن کو سیاست مدن اور تنظیم معاشرت کے ضمن میں عملی نوعیت کے جو بہت سے سوالات ہمیشہ سے درپیش رہے ہیں، ان کے حل کے لیے مغرب نے کئی مفید تصورات اور تجربات سے بھی دنیا کو روشناس کرایا ہے۔ ان میں مثال کے طور پر حکومت سازی میں رائے عامہ کو بنیادی اہمیت دینے، حکومت کی سطح پر اختیار کے سوء استعمال کو روکنے کے لیے تقسیم اختیارات کے اصول، دنیا کی مختلف اقوام کے لیے اپنے اپنے مخصوص جغرافیائی خطوں میں حق خود ارادیت تسلیم کرنے اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن تصفیے کے لیے عالمی برادری کی سطح پر مختلف اداروں اورتنظیموں کے قیام جیسے تصورات کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ان تصورات پر عمل کے حوالے سے مغرب کا اپنا طرز عمل کیا ہے، اس پر یقیناًبات ہو سکتی ہے اور مذکورہ سیاسی تصورات کا جو ماڈل مغرب نے پیش کیا ہے، اس میں مزید بہتری کی ضرورت پر بھی بحث ومباحثہ کی پوری گنجائش موجود ہے۔ لیکن اصولی طور پر ان تصورات کی اہمیت اور اجتماعی انسانی تعلقات کی تنظیم کے ضمن میں ان کی افادی صلاحیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

مغربی غلبے کے رد عمل میں اور اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے بعض تاریخی تجربات کی فوقیت ثابت کرنے کے جذبے کے زیر اثر مسلم فکر میں ایک بڑا نمایاں رجحان سرے سے مذکورہ تصورات وتجربات کی نفی کر دینے کا دکھائی دیتا ہے جو ایک غیر متوازن رویہ ہے۔ کوئی بھی مفید اور اچھا تصور انسانیت کا مشترک سرمایہ ہوتا ہے، چاہے اس کا ابتدائی تعارف کسی بھی گروہ کی طرف سے سامنے آئے۔ انسانی تمدن کا ارتقا اسی طرح باہم اخذ واستفادہ سے ہوتا ہے اور مسلم تہذیب نے بھی اپنے دور عروج میں کبھی دوسری قوموں، تہذیبوں اور معاشروں سے اچھے اور مفید تصورات کو لے لینے کبھی کوئی باک محسوس نہیں کیا۔ 

مثال کے طور پر رائے عامہ کو حکومت سازی میں بنیادی اہمیت دینے کا اصول بنیادی طور پر خود اسلام کا اصول ہے جس سے مسلمان اپنی تاریخ کے بالکل ابتدائی دور میں ہی مختلف عملی اسباب سے دست بردار ہو گئے اور رفتہ رفتہ اس سے بالکل غیر مانوس ہوتے چلے گئے۔ امام ابوعبید نے کتاب الاموال میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کا لشکر دوران جنگ میں دشمن کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرنا چاہے اور اس کی شرائط ایسی ہوں جن کا اثر دشمن کے زیر نگیں عوام الناس پر بھی پڑتا ہو تو ایسی کوئی بھی شرط اسی وقت معتبر سمجھی جائے گی جب براہ راست ان کے عوام سے رابطہ کر کے ان کی رضامندی معلوم کر لی جائے۔ اس کے بغیر محض ان کے سرداروں یا امراء کے اس شرط کو تسلیم کر لینے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ امام ابوعبید نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ امرا اور سرداروں کو کوئی بھی اجتماعی فیصلہ کرنے کا اختیار عام لوگوں کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے، اس لیے وہ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جس سے لوگ متفق نہ ہوں۔ (کتاب الاموال، ص ۲۷۰، ۲۷۱) اس فقہی جزئیے سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب اسلام دشمن قوم کی رائے عامہ کو اتنی اہمیت دیتا ہے تو خود مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کی رائے عامہ اس کے نزدیک کتنی اہم ہوگی۔

آج مغرب نے حکمرانوں کے عزل ونصب میں رائے عامہ کو بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کر کے اقتدار کے پرامن انتقال کا ایک ایسا طریقہ اختیار کر لیا ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں ہمیں ایک طرف تو موروثی بادشاہت اور بزور بازور اقتدار پر قبضے جیسے طریقوں کو جواز فراہم کرنا پڑا اور دوسری طرف عملی طور پر پرامن انتقال اقتدار کا کوئی طریقہ باقی نہ رہا۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس سے کھلے دل سے استفادہ کرنا چاہیے، نہ کہ مغرب کی ہر بات کے رد کر دینے کو اسلامیت کا اظہار سمجھ کر ’’لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘ کی تحریک برپا کرنی چاہیے۔

اسی زاویے سے ریاستی اختیارات کی تقسیم کے تصور کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مغرب میں جدید ریاست کے ارتقا میں ایک اہم عامل کا کردار بادشاہ کے مطلق العنان ہونے کے مسئلے نے ادا کیا۔ مغربی مفکرین نے ارتکاز اختیارات اور اس سے پیدا ہونے والی قباحتوں کا حل یہ تجویز کیا کہ حکومت واقتدار سے متعلق اختیارات کو ایک فرد میں مرتکز کرنے کے بجائے انھیں مختلف مراکز میں تقسیم کر دیا جائے جو ایک دوسرے کو تجاوز سے روکنے کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا کام کریں۔ اس سے افراد کے بجائے اداروں مثلاً مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ وغیرہ کا نظام وجود میں آیا۔ یہ تمام ادارے الگ الگ دائروں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے باوجود ایک ہی نظم اجتماعی کا حصہ ہوتے اور اسی کے طے کردہ مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں، اور ان کے مجموعے کو ایک جامع عنوان یعنی ’’ریاست‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس کے برخلاف مسلم سیاسی فکر میں ’’امام‘‘ یعنی مسلمانوں کے حکمران کی شخصیت میں تمام تر سیاسی اختیارات کے ارتکاز کا تصور غالب ہے۔ شریعت کی پابندی کی شرط کے ساتھ مسلمانوں کے جملہ اجتماعی امور سے متعلق آخری اور فیصلہ کن اختیار ’’امام‘‘ کے لیے تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ کسی بھی اجتہادی تعبیر کو قانون کا درجہ دینے کا فیصلہ کن اختیار اسی کے پاس ہے۔ وہ دار الاسلام کے حدود میں کیے گئے کسی بھی عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کا اختیار رکھتا ہے۔ وزرا، گورنروں، عمال، قضاۃ اور فوجی امراء کے تقرر کا حتمی اختیار اس کے ہاتھ میں ہے۔ دشمن کے ساتھ جنگ کرنے یا صلح کا معاہدہ کرنے میں امام ہی فائنل اتھارٹی رکھتا ہے۔ گویا مسلمان امت اپنے اجتماعی امور سے متعلق تمام تر اختیارات ’’امام‘‘ کو تفویض کر دیتی ہے اور پھر وہ ان کی نیابت میں، انتظامی سہولت اور مصلحت کے تحت ان میں سے کچھ اختیارات مختلف سطحوں پر اپنے منتخب عمال اور افسران کے سپرد کر دیتا ہے، تاہم اختیارات کا اصل منبع ومصدر امام ہی کی شخصیت رہتی ہے اور اپنے تفویض کردہ اختیارات کے تحت کیے گئے تمام فیصلوں اور تصرفات پر نظر ثانی کا آخری اختیار امام ہی کے پاس رہتا ہے۔ 

ہر سیاسی وقانونی تصور کی طرح اس سیاسی تصور کے بھی مختلف اور متنوع مضمرات تھے اور ناگزیر طور پر ان کے اثرات ونتائج اسلامی تاریخ اور قانونی روایت پر بھی مرتب ہوئے۔ان میں سے ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ سیاسی نوعیت کے مقدمات کی سماعت اور ان کے فیصلے عمومی عدالتی سسٹم کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں تھے اور حکومت یا حاکم کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی اقدام کا فیصلہ براہ راست خود امام ہی کیا کرتا تھا اور اس کے فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ گویا عدلیہ، سیاسی مقدمات میں نہ صرف یہ کہ انتظامیہ کے تابع تھی، بلکہ سرے سے بے اختیار تھی، کیونکہ یہ مقدمات امام کی طرف سے اس کے دائرہ اختیار میں رکھے ہی نہیں گئے تھے۔ اسلامی تاریخ کے اہم ترین اور الم ناک ترین حادثات میں ہم اس قانونی تصور کے براہ راست اثرات دیکھ سکتے ہیں۔ سیدنا عثمان کو شہید کیا گیا تو قصاص کا مطالبہ کرنے والے خلیفہ وقت کو اس واقعے یا اس کی ذمہ داری سے بالکل لاتعلق تسلیم کرتے ہوئے بھی ان کی طرف سے باغیوں کے خلاف کسی موثر قانونی اقدام کے امکان پر مطمئن نہ ہو سکے، اور چونکہ معاملہ براہ راست خلیفہ کے دائرہ اختیار میں آتا تھا، جبکہ عدلیہ بطور ایک مستقل ادارے کے کوئی وجود نہیں رکھتی تھی جو اپنی آزاد حیثیت میں سیاسی مقدمات کی سماعت کا اختیار رکھتی ہو، اس لیے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کو نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنے مطالبے کی تکمیل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے نہتے خانوادے کو کربلا میں شہید کر دیا گیا، لیکن چونکہ معاملہ سرے سے عدالتی نظام کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں تھا، اس لیے نہ اس کی تحقیق کے لیے کوئی عدالتی کمیشن قائم ہو سکتا تھا اور نہ امام کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال کا مقدمہ دائر کیا جا سکتا تھا۔ حجاج بن یوسف نے حکومت مخالف رجحانات کو ختم کرنے کے لیے لوگوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے اور اکابر صحابہ وتابعین کی ایک بڑی جماعت بھی اس کی چیرہ دستیوں کا شکار ہوئی، حتی کہ بیت اللہ کی حرمت تک پامال کی گئی، لیکن اس کے خلاف بھی کوئی مقدمہ نہ چلایا جا سکا۔ 

ظاہر ہے کہ اس پوری صورت حال میں مسلم معاشرہ بھی موجود تھا اور اس کے اندر عدل وانصاف کی قدریں اور اخلاقی جرات کے اوصاف بھی زندہ تھے اور عین اسی وقت میں اپنے دائرہ اختیار میں جلیل القدر مسلمان قاضی کسی خوف کے بغیر خود حکمرانوں کے خلاف بھی فیصلے کر رہے تھے۔ اصل مسئلہ جملہ ریاستی اختیارات کو امام کی شخصیت میں مرتکز ماننے کے قانونی تصور میں تھا جس کی رو سے تمام ریاستی ادارے (اگر انھیں جدید مفہوم میں ’’ادارے‘‘ کہا جا سکے) دراصل امام کی طرف سے تفویض کیے گئے اختیار کے دائرے میں ہی کوئی قدم اٹھانے کے مجاز تھے۔ اس سے ہٹ کر ان کا کوئی اقدام کرنا صریحاً قانون کے خلاف ہوتا جس پر امام متعلقہ فرد کو معزول کرنے کا حق رکھتا تھا۔ہمارے طالب علمانہ نقطہ نظر کے مطابق دور اول میں خروج اور بغاوت کے مسلسل واقعات کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار کے پرامن انتقال نیز ریاستی جبر سے تحفظ جیسے اہم عملی سوالات کا کوئی حقیقی جواب اس وقت مسلم سیاسی فکر کے پاس، بلکہ اس وقت دنیا کے کسی بھی مسلمہ سیاسی فکر کے پاس موجود نہیں تھا۔ انسانی تمدن اور انسانی تاریخ اچھے اور برے تجربات کی روشنی میں اور خوب سے خوب تر کی تلاش کے جذبے سے ہی آگے بڑھتے ہیں۔ آج اگر دنیا کی کچھ دوسری قوموں نے اجتماعی نظام کو چلانے کے لیے مسلم سیاسی فکر سے ہٹ کر کچھ مفید تصورات یا تجربات پیش کیے ہیں تو انھیں اسلامی قانونی روایت کے لیے غیر مانوس ہونے کی بنیاد پر یکسر مسترد کر دینے کے بجائے ان کی عملی اور قانونی افادیت کے پہلو سے زیر غور لانا اور ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔

آراء و افکار