الشیخ محمد امین: راہِ علم کا ایک مسافر

حافظ محمد رشید

عید الفطر کا دوسرا روز تھا ۔ استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم نے الشریعہ اکادمی میں یاد فرمایا۔ پہنچا تو استاد گرامی کے ساتھ ایک ملائیشی بزرگ تشریف رکھتے تھے ۔ استاد گرامی نے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ یہ ملائیشیا سے سفر کر کے آئے ہیں اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کے علوم وافکار میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انگلش اور عربی جانتے ہیں۔ ان سے یہاں قیام کی ترتیب اور مقصد کے بارے میں تفصیلی معلومات لے لیں۔ میں نے ان سے آمد کا مقصد پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ التفہیمات الالہیۃ کا عربی حصہ میں نظر سے گزار چکا ہوں،مجھے ملائشیا میں فارسی جاننے والا اور خصوصاً تفہیمات کے فارسی حصہ کو سمجھنے والا کوئی نہیں ملا۔ اس لیے اس حصے کو سمجھنے کے لیے پاکستان آیا ہوں۔ استاد گرامی کو آگاہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کام تو مولانا عمار خان ناصر کے کرنے کا ہے ، لیکن وہ عین انھی دنوں میں امریکا کے لیے رخت سفر باندھ رہے تھے۔

مولانا عمار خان ناصر نے بھی مہمان کے ساتھ تفصیلی نشست کی۔ ہماری رائے یہ ہوئی کہ ان کی چند ایسے اصحاب علم سے ملاقات کروا دی جائے جو اس موضوع پر معلومات و مطالعہ کے حامل ہیں، لیکن مہمان نے کہا کہ میں محض تفہیمات کے فارسی حصہ کو سمجھنا چاہتا ہوں اور کسی سے ملاقات کا خواہش مند نہیں ہوں۔ چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق طے ہوا کہ استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی تفہیمات کا فارسی حصہ راقم کو سمجھائیں گے اور پھر میں مہمان کو اس کا ترجمہ لکھوا دیا کروں گا۔ 

یہ مہمان ملائیشیا کے نو مسلم بزرگ محمد امین چنگ بن عبد اللہ تھے جو عید الفطر کے دوسرے روز الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور 16 اکتوبر تک یہاں مقیم رہ کر استاد گرامی سے تفہیمات کا فارسی حصہ سمجھتے رہے۔ ان کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے۔

ان کا پورا نام محمد امین چنگ ہے۔ 7ستمبر 1950ء کو جارج ٹاؤن ، پولاؤ، پنینگ (GeorgeTown, Pulau, Pinang) میں پیدا ہوئے جو کہ ملائشیا کا ایک جزیرہ ہے۔والد کانام چنگ تزی نن(Cheng Tze Nen) ہے۔ چین سے ہجرت کر کے ملائشیا آئے۔ ایک ٹیچر کی زندگی گزاری اور بطور ہیڈ ماسٹر ریٹائر ہوئے۔ ملائیشیا میں اسلام قبول کرنے والوں کی شناخت کے لیے ان کی ولدیت میں مستقل طور پر ’’ عبد اللہ ‘‘ لکھا جاتا ہے ، اس لیے یہ اپنے نام کے ساتھ ’’محمد امین چنگ بن عبد اللہ ‘‘ لکھتے ہیں۔ والدہ کا نام کینٹو نیسا چیونگ لائی کوئن(Cantonese Cheong Lai Kuen) ہے، ان کا خاندان بھی چین سے ہجرت کر کے ملائیشیا آیا اور اب غالباً ان کی پانچویں پشت ملائشیا میں آباد ہے۔ ان کی فیملی میں ان کے علاوہ دو بہنیں اور ایک بھائی شامل ہے۔ بہن کانام چنگ شاؤن فنگ (Cheng Shwn Feng)ہے جن کی عمر ۸۰ سال ہے ۔ ابھی تک حیات ہیں اور ایک ریٹائرڈ ٹیچر کی زندگی گزار رہی ہیں ۔ دوسری بہن کا نام چنگ سو فنگ ( Cheng Soo Feng)ہے جن کی عمر ۷۴ سال ہے۔ ابھی تک حیات ہیں اور بطور نرس ملازمت کرنے کے بعد اب ایک نرسنگ ہوم چلا رہی ہیں ۔ بھائی چنگ شانگ شو(Cheng Shang Show) ہیں ، عمر ۷۲ سال اور ہسپتال اسسٹنٹ کے عہدہ سے ریٹائرڈ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔آبائی زبان چائنیز ہے،قومی زبان ملائے ہے لیکن گھر میں عام طور پرگفتگو کے لیے انگریزی استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم (سینئر کیمبرج تک) مقامی سکول میں حاصل کی، لیکن جس سکول میں پڑھتے تھے، وہاں ذریعہ تعلیم انگلش تھا اور ملائے زبان سیکنڈ لینگوئج کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اس کے بعدایک سال تک مابعد ثانوی تعلیم حاصل کی اور پھر امریکہ کے سفر پر روانہ ہوئے اور دو سال (1969-71) وہاں رہے۔ وہیں سے یورپ کا سفر کیا اور تقریباً پورے یورپ کی سیاحت کا لطف اٹھایا۔ ان کا آبائی مذہب بدھ مت تھا لیکن ان کے بقول ان دنوں وہ مختلف گروہوں کے ساتھ گھومتے رہے۔ ان میں عیسائی، بدھ اور ہندوؤں کے کچھ گروہ بھی شامل تھے، خصوصاً ایسے گروہ جو کسی قدر تصوف کی طرف رجحان رکھتے تھے اور جن کے اعمال کا بڑا حصہ مراقبہ ، دھیان گیان وغیرہ پر مشتمل تھا ۔ وہاں سے واپسی پر انہوں نے معاشی ذرائع اپنائے اور ابتدائی طور پر ایک اسکول بک ایڈیٹنگ کمپنی میں بطور ایڈیٹر نوکری کی۔ کمپنی کا نام ’’ پان پیسفک بک کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، سنگاپور ‘‘ تھا ۔ ۷۰ کی دہائی میں یہ اسی کمپنی میں ملازمت کرتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ٹی وی چینل ’’ TV3‘‘ کو بطور اسسٹنٹ پروڈیوسر کے جوائن کیااور اس کے اسٹیشن کولالمپور میں تعینات رہے ۔ ۸۰ کی دہائی میں انہوں نے اسی چینل میں کام کیا ۔ اس میں ان کا کام مختلف موضوعات پر دستاویزی فلمیں بنانے کا تھا۔

اسلام سے ان کی شناسائی محض اس قدر تھی کہ ملائیشیا کی اکثرآبادی کا مذہب اسلام تھا۔یہ شناسائی تفصیلی تعارف میں کیسے تبدیل ہوئی؟ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ملائیشیا میں مسلمانوں کی دو سیاسی جماعتیں تھیں جن میں سے ایک ڈیمو کریٹک نظریات کی نمائندہ تھی اور دوسری کنزرویٹو نظریات کی۔ 1985ء میں ملائیشیا میں ایک ’’ امام ‘‘ تحریک شروع ہوئی جس کا پس منظر یہ تھا کہ مساجد میں دو عہدے ہوتے تھے، امام اور نائب امام ۔ دونوں جماعتوں میں اس بات کی کشمکش شروع ہوئی کہ مساجد میں موجود ان دو عہدوں (امام و نائب امام) پر ہمارے موقف سے اتفاق رکھنے والے امام مقرر کیے جائیں ۔ اس کشمکش میں اس قدر شدت آئی کہ سخت قسم کی محاذ آرائی شروع ہو گئی ۔ اس تحریک میں محمد امین TV3کی طرف سے کوریج پر مامور تھے ۔ اس تحریک نے پورے ملک کو متاثر کیا ۔ کوریج کے دوران ان کو مسلمانوں کے معاشرتی نظام ، خاندانی نظام اور نظریاتی پس منظر کو جاننے کے لیے مطالعہ کرنے کی ضرورت پڑی ۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اسلام کا تفصیلی مطالعہ شروع کیا جس کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہوئے۔

اسی دوران انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں تسبیح دی گئی ہے اور وہ اس پر کچھ ورد کر رہے ہیں۔ ملائشیا میں چونکہ تسبیح مسلمانوں کی شناخت تھی ، اس لیے یہ بھی اسلام قبول کرنے کی طرف اشارہ تھا ۔اسی دوران رمضان کی آمد ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی پورا رمضان روزے رکھے۔ انہوں نے قبول اسلام کی ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ ان کو بچپن سے ہی سر میں درد رہتا تھا ۔ جب یہ اذکار میں سے کوئی ذکر کرتے تو انہیں اس سر درد میں بہت افاقہ محسوس ہوتا جس کی وجہ سے وہ اسلام قبول کرنے پر تیار ہوئے ۔ رمضان گزرنے پر TV3کے مالک کو اپنے اسلام قبول کرنے کی خواہش کا بتایا جنہوں نے ان کے قبول اسلام کے انتظامات کیے ۔ اس طرح انہوں نے 1987ء میں اسلام قبول کیا۔ TV3کے مالک خود نقشبندی سلسلے سے منسلک تھے، انہیں کی راہنمائی میں یہ بھی نقشبندی سلسلے سے منسلک ہو گئے اورنہ صرف نقشبندی سلوک کے تمام مراحل طے کیے بلکہ حضرت مجدد ؒ کی تعلیمات کا گہرامطالعہ بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملائشیامیں جس نقشبندی گروہ کے ساتھ ان کا تعلق ہے، وہ ’ نقشبندی مجددی خالدی جبل ترکی ‘کے نام سے موسوم ہے ۔ اس گروہ کے طریق کے بارے میں ایک بات انہوں نے یہ بتائی کہ اس گروہ میں عموماً چھ ماہ بعد کسی پر فضا مقام پر کیمپ لگایا جاتا ہے جس کو ’عزلہ‘ کہا جاتا ہے ، سب منتسبین وہاں ایک یا دو ہفتے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور ذکر و اذکار کی پہلے سے طے شدہ ترتیب سے معمولات بجا لاتے ہیں ۔ اسی جماعت سے متعلق ایک خاتون سے انہوں نے 1992ء میں شادی کی ، لیکن یہ شادی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔

اسی اثناء میں انہوں نے اپنے گھر کے قریب واقع ایک دینی مدرسہ سے باقاعدہ عربی زبان کی تعلیم حاصل کی ۔ نقشبندی سلسلہ میں ان کے ایک دوست تھے جو شاہ ولی اللہ کے فلسفہ سے کافی متاثر تھے ۔ ان کے توجہ دلانے پر انہوں نے شاہ صاحب ؒ کی کتب کا مطالعہ شروع کیا اور اس وقت وہ حقائق کو پرکھنے کے مغربی سائنسی نظریہ اور حضرت شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ کے مابین مماثلت کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس وقت مغرب کا سائنسی نظریہ غالب ہے اور اس کا مقابلہ یا اس سے ہم آہنگی اگر کسی شخصیت کی فکر میں پائی جاتی ہے تو وہ شاہ ولی اللہ ہیں ۔ اس لیے ان کے افکار کا مطالعہ اہل مغرب اور ان کے نظریہ سے متاثر افراد میں دعوت دین کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔اسی مقصد کے لیے وہ شاہ ولی اللہ ؒ کے لٹریچر کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں تفہیمات الہیہ کے فارسی حصہ کو سمجھنے کے لیے پہلے انہوں نے انڈیا کا سفر کیا اور ندوۃ العلماء میں تین ماہ قیام کیا۔ اسی مقصد کے لیے وہ پاکستان تشریف لائے۔ ان کے علاقے میں دار القرآن فیصل آباد کی ایک شاخ قائم ہے جس کو مولانا قاری محمد یاسین صاحب کے ایک شاگرد چلا رہے ہیں ۔ ان کی وساطت سے وہ دار القرآن فیصل آباد آئے اور ایک ماہ وہاں قیام کرنے کے بعد وہاں کے احباب کی راہنمائی میں گوجرانوالہ استاد گرامی کے پاس تشریف لائے۔ گوجرانوالہ آنے کی ایک وجہ انہوں نے یہ بھی بتائی کہ امریکہ کی ایک نو مسلم خاتون دانش ور ڈاکٹر ایم کے ہرمینسن نے اپنے ایک مضمون میں گوجرانوالہ کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ حضرت شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ پر اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کی تکمیل کے سلسلے میں گوجرانوالہ آئی تھیں ۔ وہ مضمون ان کے پاس موجود تھا۔ اصل میں ڈاکٹر ہرمینسن مفسر قرآن مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ سے استفادہ کے لیے گوجرانوالہ آئی تھیں اور جامعہ نصرۃ العلوم میں انہوں نے حضرت صوفی صاحب ؒ سے اس غرض سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس مضمون میں اسی ملاقات کی طرف اشارہ ہے ۔ 

الشریعہ اکادمی میں قیام کے دوران میں میری شیخ محمد امین کے ساتھ ایک مترجم کی حیثیت سے مسلسل رفاقت رہی ۔ استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی ایک یا دو تفہیمات مجھے سمجھا دیتے جو میں ان کو عربی میں ترجمہ کروا دیتا اور اگلے سبق میں وہ یہ ترجمہ استاد محترم کو چیک کروا کر اصلاح لے لیتے۔ جہاں کوئی بات سمجھ نہ آتی، اس کو دوبارہ سمجھ لیا جاتا۔ اس کے علاوہ ان کے کھانے پینے اور دیگر معاملات میں ان کی ضروریات کی دیکھ بھال کے حوالے سے بھی مجھے خدمت کا موقع ملا۔ اس سارے عرصے میں ان کو سادگی کا پیکر اور تکلفات سے کوسوں دور پایا ۔ ان کے پاس لباس کی مد میں صرف دو جوڑے تھے ۔ ہم نے بارہا ان سے درخواست کی کہ آپ کپڑے دھونے کے لیے ہمارے حوالے کر دیا کریں، لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔ انتہائی قلیل غذا استعمال کرتے ۔ کبھی ہم سے کھانے کی بروقت فراہمی میں سستی ہو جاتی تو خود کبھی نہیں مانگتے تھے بلکہ قریبی بازار میں جا کر کسی ہوٹل سے کھانا کھا لیتے۔ ہم نے دو طلبہ کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ ان کے کھانے کے اوقات کا خیال رکھیں، لیکن انہوں نے کبھی ان سے بھی کوئی کام نہیں کہا ۔ اپنے سارے کام خود کرتے تھے۔ دو چیزوں کا انتہائی اہتمام کرتے، ایک یہ کہ سبق کا ناغہ نہ ہو۔ استاد گرامی کے اسفار یا میری سستی کی وجہ سے ہفتے میں ایک آدھ دن کا ناغہ ہو جاتا تو ان دنوں میں اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے نیٹ سے شاہ صاحب ؒ کے فلسفہ سے متعلق کتابیں ڈاؤن لوڈ کر لیتے۔ ان کے پاس شاہ صاحبؒ کے فلسفے سے متعلق چند انگریزی کتابیں بھی تھیں، فارغ اوقات میں ان کا مطالعہ کرتے رہتے۔دوسرا، نماز کے انتہائی پابند تھے ۔ نماز کے اوقات میں فوراً اپنے کام چھوڑ کر مسجد کی طرف چلے جاتے۔ جتنا عرصہ وہ اکادمی میں رہے، بہت کم ایسا ہوا کہ تکبیرہ اولیٰ ان سے رہ گئی ہو ۔

ایک دن گوجرانوالہ کے راستو ں سے موٹر سائیکل پر گزرتے ہوئے ٹوٹی ہوئی سڑک کی وجہ سے کافی ہچکولے لگے تو میں نے ان سے پوچھا :What about the roads in Malaysia?۔ انہوں نے جواب میں کہا ، Far batter!۔ اس کے بعد میں نے پھر کبھی کسی چیز کے بارے میں ان سے اس طرح کا سوال نہیں پوچھا۔ پاسپورٹ آفس میں داخل ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے بٹوے سے کچھ پیسے نکال کر مجھے دینے چاہے تو میں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ کوئی بات نہیں ، میرے پاس پیسے ہیں۔ انہوں نے ہاتھ کے دباؤ سے مجھے لینے کی تاکید کی اور کہا : Keep it , It is bakhshish.They don't work without this.۔ مجھے بڑی شرم آئی اور میرے ذہن میں آیا کہ انہیں اسلام آباد سے ویزا کی توسیع کا لیٹر لینے میں اس طرح کے حالات کا سامنا ہوا ہو گا جس کی وجہ سے وہ ایسا کر رہے ہیں ۔

نقشبندی سلسلہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے انہوں نے حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے مکتوبات کا انتہائی گہرائی سے مطالعہ کیا تھا اور سلوک کے تمام مراحل سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ان سے گزرے بھی تھے۔ تفہیمات کے ترجمہ کے دورا ن شاہ صاحب ؒ اور حضرت مجدد ؒ کے فلسفہ کے درمیان تقابل پر بھی گفتگو کرتے کہ یہ چیز شاہ صاحب ؒ کے ہاں زیادہ منظم اور منقح ہے اور حضرت مجدد ؒ کے ہاں یہ اس طرح بیان ہوئی ہے ۔ان کی دلچسپی کا موضوع موسمیاتی سائنس (Environmantel Science) تھا ۔ جگہ جگہ اس بات پر زور دیتے کہ شاہ صاحب ؒ نے افلاک کی حرکات کے انسانوں پر اثرات کا جو ذکر کیا ہے، وہ اسی سائنس سے متعلق ہے اور اس پر دلائل بھی دیتے کہ دیکھو آج سپیس سائنس نے اس کو ثابت کر دیا ہے کہ خلا میں تبدیلیوں کے زمین پر اثرات ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب ؒ کے مکاشف اور مابعد الطبیعیاتی احوال کے بارے میں بارہا فرمایا کہ ان تمام چیزوں کو تجربے سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ کبھی میں کسی بات پر تعجب کا اظہار کرتا کہ یہ شاہ صاحب ؒ کیا فرما رہے ہیں تو کہتے ’’ھو فی الحال‘‘۔ 

شاہ صاحبؒ کا فلسفہ پڑھنے سے ان کا مطمح نظر سائنسی نظریہ تحقیق (Scientific method)سے اس کا تقابل و تماثل دیکھنا تھا ۔ اس لیے دوران درس سائنس کے نظریات کا حوالہ دیتے کہ شاہ صاحب ؒ کی یہ بات سائنس کی اس بات کے موافق ہے ۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ہدایۃ الحکمۃ کسی استاد سے پڑھ لیں۔ اس کی دو وجوہات تھیں ، ایک یہ کہ ان کے گھر کے قریب جو مدرسہ قائم تھا، اس کے نصاب میں یہ کتاب شامل تھی لیکن وہاںیہ کتاب پڑھانے والا کوئی استاد نہیں تھا ، اور دوسرا اس وجہ سے کہ ان کے خیال میں اس کتاب میں شاہ صاحب ؒ کی بہت سی اصطلاحات کی نہایت عمدہ تشریح کی گئی ہے۔ اسی مقصد کے لیے ہم استاد گرامی کی سفارش لے کر گوجرانوالہ کے مشہور عالم مولانا داؤد احمد صاحب کے پاس بھی گئے اور ان سے یہ کتاب پڑھانے کی درخواست کی، لیکن وقت کی قلت کے باعث یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ اس کا انہوں نے یہ حل نکالاکہ نیٹ سے اس کتاب کا انگلش ترجمہ تلاش کیا اور پرنٹ کروا کر اسے اپنے مطالعہ میں رکھا اور اپنے قیام کے دوران ساری کتاب کامطالعہ کر لیا۔

بعض وجوہات کی بنا پر ان کا خیال یہ تھا کہ شاہ صاحب ؒ کی اصطلاحات کی تسہیل سب سے زیادہ ایرانیوں نے کی ہے اور انہوں نے شاہ صاحب ؒ کے فلسفے کو عملی طور پر آزمایا ہے ، اسی لیے وہ کہتے تھے کہ میں واپس جا کر شاہ صاحب ؒ کے فلسفے اور ایرانی فلسفے کا تقابل کروں گا۔ ان میں سے مجھے جو مغربی سائنسی فکر کے زیادہ مناسب لگا، اس کے مطابق کام کو آگے بڑھاؤں گا اور دوسرے کو چھوڑ دوں گا۔میں نے استاد گرامی کو اس بارے میں بتایا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کی نظر سے میرے وہ مضامین گزرنے چاہیے جو خلافت کے ایرانی تصور امامت کے بارے میں، میں نے لکھے ہیں تاکہ وہ اصل تناظر میں ایرانی فلسفے کا مطالعہ کر سکیں، لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے یہ کام نہ ہو سکا ، اللہ کرے کہ اس کا کوئی انتظام ہو سکے کیوں کہ استاد گرامی کے مضامین اردو میں ہیں اور ان کو اردو نہیں آتی۔ لعل اللہ یحدث بعد ذالک امرا۔ 

تفہیمات کی دو جلدیں ہیں۔ شیخ محمد امین کے قیام کے دوران صرف ایک جلد کا فارسی حصہ ہی مکمل ہو سکا۔ دوسری جلد کے بارے میں یہ طے ہوا کہ استاد گرامی کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے گا، اس کا ترجمہ بذریعہ ای میل ان کو بھیج دیا جائے گا۔ اپنے قیام کے دوران وہ دو مرتبہ لاہور بھی گئے اور تحریک فکر ولی اللہی کے مرکز جامعہ رحیمیہ میں دو دن قیام کیا۔ وہاں کے ذمہ داران سے تو خاطر خواہ گفتگو نہ ہو سکی، لیکن وہاں انہوں نے پروفیسر محمد اقبال صاحب کو تلاش کر لیا جو حضر ت مجدد ؒ کے مکتوبات پر کافی گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ ملاقات میں حضرت مجدد ؒ اور نقشبندی سلسلہ کے بارے میں ان سے کافی استفادہ کیا، ان سے کچھ کتب کی انہوں نے تصاویر بھی لیں ۔ ان سے حضرت مجدد ؒ کے مکتوبات کے انگلش ترجمہ اور نقشبندی سلسلہ کے مراتب کے حوالے سے شیخ وجیہ الدین صاحب کی ایک کتاب کا پتہ چلا ۔ ملائشیا روانگی سے پہلے 14اکتوبر کو شیخ وجیہ الدین صاحب سے ملاقات کی غرض سے ہم ان کے ساتھ لاہور روانہ ہوئے اورمولانا قاری محمد رمضان صاحب کے پاس مکی مسجد میں قیام کیا۔ قاری صاحب کے صاحبزادہ مولانا عثمان صاحب کی راہنمائی میں شیخ صاحب کی مسجد میں پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ شدید بیمار ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں، اس لیے ان سے ملاقات ممکن نہیں ۔ وہاں احباب سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ان کے صاحبزادہ سے مطلوبہ کتابیں مل سکتی ہیں، لیکن وہ بھی ان کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ بڑی پریشانی ہوئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا تو شیخ صاحب کے ایک مرید ملے، انہیں صورتحال سے آگاہ کیا کہ شیخ محمد امین ملائشیا سے آئے ہیں، کتاب کے شائق ہیں ، کوئی بندوبست فرمائیں ۔ انہوں نے بڑی تگ و دو کے بعد کتاب کا بندوبست کر دیا ۔ اللہ ان کو جزائے خیر عطا کرے۔

دو دن شیخ محمد امین مکی مسجد میں ہی رہے۔ 16اکتوبر کو ان کی واپسی کی فلائیٹ تھی جس سے وہ مقررہ وقت پر ملائشیا کے لیے روانہ ہو گئے۔

اخبار و آثار