اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۱)

ڈاکٹر محمد ارشد

ابتدائیہ

برعظیم پاکستان و وہند میں اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق بعض مسائل، با لخصوص خلیفہ کی اہلیت کے شرائط (قرشیت وغیرہ) ، سے متعلق علماء کے ہاں بحث و مباحثہ کا آغازتحریک خلافت کے دنوں میں (۱۹۱۸۔۱۹۲۲ء) ہوا۔ تحریک خلافت کے مخالف علماء نے ترکانِ عثمانی کی خلافت کی شرعی حیثیت کو چیلنج کیا، کہ ان کی نظر میں عثمانی خلفاء منصب خلافت کی ایک اساسی شرط، شرط قرشیت کو پورا نہ کرتے تھے (۱)۔ جب کہ تحریک خلافت کے حامی و مؤید علماء نے عثمانی خلافت کو شرعی طور پر جائز تسلیم کیا اور شرطِ قرشیت کی ایک مختلف تعبیر پیش کی(۲) ۔تحریک خلافت کے مخالف علماء کی رائے کے برعکس علماء کی اکثریت کی رائے یہ ٹھیری کہ منصبِ خلافت کے لیے ’’قریشیت ہو تو افضل ہے نہ ہو تو غیر قریشی قابل بھی ہو سکتا ہے‘‘(۳)۔ اسلام کے دستوری قانون پر بحث و گفتگو کو خطباتِ اقبال (تشکیل جدید الٰہیاتِ اسلامیہ) سے بھی مہمیز ملی۔ علامہ محمد اقبال نے اپنے مشہور خطبے ’’الاجتہاد فی الاسلام‘‘ میں انفرادی اجتہاد کے بجائے اجتماعی اجتہاد پر زور دیا اور دور جدید کی مجالس قانون ساز (پارلیمان) کے حق اجتہاد اور قانون سازی کی وکالت کی۔مزید براں ملوکیت و آمریت کے برخلاف جمہوری و نمائندہ طرزِحکومت کے تصور کو اسلام کے سیاسی قانون کا مقصود مطلوب قرار دیا(۴)۔ 

طبقۂ علماء کے ہاں اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام پر بحث و گفتگو کا آغاز ۱۹۴۰ء کی دہائی کے آغاز سے ہوا۔ تحریک پاکستان کے آغاز میں ہی (۱۹۴۰ء کے لگ بھگ) اسلام کے دستوری قانون اور نظامِ حکومت کے ایک خاکے (blueprint) کی تدوین بعض قائدین تحریک پاکستان کی توجہ کا مرکز بنی تو انہوں نے اس کے لیے علماء کی طرف رجوع کیا۔ ممتاز مسلم لیگی رہنما نواب سر محمد اسماعیل (۱۸۸۶۔۱۹۵۸ء) نے نواب سعید چھتاری(م ۱۹۸۲ء) کی سرکردگی میں مولانا سید سلیمان ندوی ( ۱۸ ۔۱۹۵۳ء)،مولانا آزاد سبحانی (۱۸۸۲۔۱۹۵۷ء)، مولانا عبدالماجد دریابادی (۱۸۹۲۔۱۹۷۸ء)، مولانا عبدالحامد بدایونی(۱۹۰۰۔۱۹۷۰ء) اور ڈاکٹر ذاکر حسین وغیرہ پر مشتمل ایک مجلس (مجلس نظام اسلامی) تشکیل دی گئی۔مجلس کے کنوینر سید سلیمان ندوی نے اسلامی دستور کے مہمات مسائل پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر اہل فکر و علم : مولانا ابوالبرکات عبدالرؤف دانا پوری (۱۸۸۴۔۱۹۴۸ء)، ڈاکٹر سید ظفر الحسن (م ۱۹۴۹ء) اورمولانا سید مناظر احسن گیلانی (۱۸۹۲۔۱۹۵۶ء) وغیرہ) کو اسلامی دستور کا خاکہ مرتب کرنے کی غرض سے تجاویز پیش کرنے کا کہا (۵)۔چنانچہ مجلس نظامِ اسلامی نے طویل غور وفکر اور اہل علم و فکر سے استصواب رائے کے بعد اسلام کے سیاسی نظام کا ایک دستورالعمل مرتب کیا۔اس دستور العمل کی تدوین کا کام مولانا محمد اسحاق صدیقی سندیلوی کو تفویض کیا گیا۔تاہم ان کا مرتب کردہ اسلامی دستور اورسیاسی نظام العمل کا خاکہ ۱۹۵۶ء سے قبل اشاعت پذیر ہو کر منظر عام پر نہ آسکا (۶)۔

جون ۹۴۷اء میں تقسیم ہند کے اعلان کے ساتھ ہی مستقبل قریب میں قیام پذیر ہونے والی مسلم ریاست ’’پاکستان‘‘ کے دستور اور اس کے نظام حکومت پر بحث کا آغاز ہوا۔ نو مسلم فاضل محمد اسد (۱۹۰۰۔۱۹۹۲ء) نے اپنی زیر ادارت شائع ہونے والے ماہنامے عرفات کے شمارہ بابت جولائی ۱۹۴۷ء، میں قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی دستور کے اصول و مبادی کی توضیح و تشریح کا آغاز کیا (۷)جبکہ مارچ ۱۹۴۸ء میں ’’اصول دستور اسلامی‘‘ کے عنوان سے اسلامی دستور کا ایک خاکہ مرتب کر کے شائع کیا (۸)۔محمد اسد کے علاوہ بانئ جماعتِ اسلامی، سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے خطبات اور تحریروں میں اسلامی دستور کے بنیادی اصول کی توضیح و تنقیح کی اور علمی و فکر ی نیز سیاسی محاذ پر اسلامی دستور کی تدوین و تنفیذ کا مقدمہ بڑی قوت و طاقت سے پیش کیا۔سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی فکر سے متأثر اہل قلم نے ماہنامہ ترجمان القرآن میں اپنی تحریروں میں تواتر کے ساتھ اسلام کے سیاسی نظام کے خدوخال کی وضاحت کی (۹؍ا)۔

قیام پاکستان کے بعد تحریک پاکستان میں سرگرم عمل علماء ،جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست کے بطور دیکھنے کے آرزو مند تھے، مملکت کے دستور اور سیاسی نظام کو اسلام کے اصول و احکام پر استوار کرنے کامطالبہ لے کر اٹھے ۔ چنانچہ علامہ شبیر احمد عثمانی (۱۸۸۶۔۱۹۴۹ء) اور ان کے ہم خیال ارکانِ دستور ساز اسمبلی خصوصاًڈاکٹر عمر حیات ملک (۱۸۹۴۔۱۹۸۲ء) وغیرہ کی مساعی کا نتیجہ مجلس دستور ساز کی طرف سے قرار داد مقاصد کی منظوری (مارچ ۱۹۴۹ء)کی صورت میں نکلا (۹؍ب)۔ بعد ازاں مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کی ایک مجلس نے اسلامی دستور سازی کے سلسلہ میں تجاویز مرتب کیں جو علماء کے بائیس نکات کے نام سے مشہور ہوئیں (۱۰) ۔ خود مجلس دستور ساز کی طرف سے دستورسازی کے سلسلہ میں تجاویز ؍ اسلامی دستور کے خاکہ کی تدوین کے لیے تشکیل کردہ اسلامی تعلیمات بورڈ ( جس کے ارکان میں سید سلیمان ندوی، مفتی محمد شفیع، ڈاکٹر محمد حمیداللہ، مولانا ظفر احمد انصاری، پروفیسر عبدالخالق اور مولانا جعفر حسین مجتہدوغیرہ شامل تھے) نے بھی اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق تجاویز مرتب کیں (۱۱)۔ 

جنرل محمد ایوب کے عہد حکومت میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کے بطور صدارتی امید وار کے منظرِ عام پر آنے پر اسلامی مملکت میں سربراہِ ریاست و حکومت کی اہلیت کے شرائط اور عورت کی حکمرانی کے مسئلہ نے علماء کی توجہ اپنی طرف مبذول کی(۱۲)۔ مابعد ادوار میں خصوصا۱۹۷۳ء میں آئین کی تدوین اور بعد ازاں جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے ۱۹۸۳ء کے آئین کی تشکیل نو کی غرض سے انصاری کمیشن کے قیام (۱۹۸۲ء) ، ہر دو مواقع پر علماء نے دستوری و سیاسی مسائل پر بحث و مباحثہ میں پوری سرگرمی سے حصہ لیا (۱۳)۔ علماء نے ان مواقع پر دستوری و سیاسی مسائل پر رسائل تصنیف کیے اور فتاویٰ بھی جاری کیے۔ بعد ازاں۱۹۸۸ء اور پھر ۱۹۹۳ء میں بینظیر بھٹو کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر عورت کی حکمرانی کے مسئلہ پر علماء نے بڑے شدومد سے مباحثہ میں حصہ لیا۔چنانچہ عورت کی حکمرانی کی حرمت میں کثیر تعداد میں رسائل و مقالات اور فتاویٰ منظر عام پر آئے۔

سطور ذیل میں ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری سے لے کر پاکستان میں بینظیر بھٹوکے دوسرے دورِ حکومت کے اختتام (۱۹۹۶ء) تک اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام کے متعلق پاکستان و ہند کے علمائے اہل سنت کے تینوں مکاتبِ فکر ( دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی ) کے فتاویٰ کا تنقیدی مطالعہ پیش کیا جائے گا۔

امہات دستوری مسائل

مملکت پاکستان کے لیے اسلامی دستور کی تدوین کی جدوجہد کے دوران میں وہ دستوری و سیاسی مسائل جو علما سے قرآن و سنت اور تاریخی نظائر (خصوصا خلافت راشدہ) کی روشنی میں توضیحات و تشریحات کا تقاضا کر رہے تھے، بالعموم حسب ذیل تھے:

  1. اسلامی ریاست کی صحیح صحیح تعریف کیا ہے؟ اسلامی ریاست آج کے سیاق و سباق میں کس ریاست کو کہا جائے گا؟ کسی ریاست کے اسلامی ریاست ہونے کے کم سے کم تقاضے کیا ہیں؟
  2. اسلامی ریاست کے اعضاء (حاکمہ، مقننہ اور عدلیہ)کی ضع و ہےئت اور نوعیت کیا ہونی چاہیے؟ کیا عہدِ نبوی کی مثالی اسلامی مملکت اور خلافت راشدہ کے سیاسی اوضاع (forms) کا نمونہ ہمیشہ کے لیے متعین ہو چکا ہے کہ جس کی تقلید و پیروی ہر دور کے مسلمانوں کے لیے ضروری و لازمی ہے؟ یا پھر اسلام نے اس باب میں محض بنیادی اصول مقرر کرنے پر اکتفا کیا ہے کہ جن کا لحاظ رکھتے ہوئے ہر دور کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق اسلامی ریاست و حکومت کا ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے اور اسلامی دستور کی جزئیات متعین کی جا سکتی ہیں؟
  3. اسلامی ریاست اپنی مائیت میں ایک جمہوری ریاست ہے یا پھر یک جماعتی آمریت؟
  4. اسلامی ریاست میں ہےئت مقتدرہ (حاکمہ، تنفیذیہ) ، مقننہ اور عدلیہ کی تشکیل و قیام کا طریق کار کیا ہوگا؟ سربراہ مملکت ؍سربراہ حکومت کا انتخاب و تقرر کیسے ہوگا؟ اس کی اہلیت کے اوصاف و شرائط (Qualifications) کیا ہوں گے؟ اس کے اختیار ات کا دائرہ کیا ہوگا؟ حاکمہ(تنفیذیہ) اپنے افعال و وظائف کی بجا آوری کے سلسلے میں کسی(مجلس شوریٰ وغیرہ) کے سامنے جواب دہ ہے کہ نہیں؟ نیز اس کے مواخذہ و عزل کا طریق کا ر کیا ہو گا؟ 
  5. مقننہ (مجلس شوری ٰ )کی تشکیل کیسے ہوگی، بذریعہ انتخاب یا بذریعہ نامزدگی(سربراہِ مملکت؍حکومت کی طرف سے)؟ اس کی رکنیت کے لیے اہلیت کی صفات کیا ہوں گی؟ کیا عورتوں کو مجلس شوریٰ میں شامل کیا جائے گا؟ مجلس شوریٰ کے حق قانون سازی کا دائرہ عمل اور اس کے حدود کیا ہوں گے؟ حاکمہ (تنفیذیہ) اور مقننہ (مجلس شوریٰ) کے باہمی ارتباط و تعامل کی صورت کیا ہوگی؟ سب سے اہم یہ کہ عصرِ جدید میں اسلام کے اصول شورائیت کو کیسے مؤثر طور پر رو بہ عمل لایا جاسکتا ہے؟ شوریٰ کے فیصلوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا شوریٰ کے فیصلے حاکمہ کے لیے واجب التعمیل ہوں گے؟ یا سربراہ مملکت و حکومت شوریٰ کے فیصلوں کو ویٹو کر سکتا ہے؟
  6. ریاست کے تیسرے ستون عدلیہ کی تشکیل کیسے کی جائے گی؟ قانون سازی یا اس کی تعبیر و تشریح کے باب میں اس کے اختیارات کی نوعیت کیا ہوگی؟
  7. اسلامی ریاست میں سیاسی جماعتوں کا کردار کیا ہوگا؟ کیا اسلامی مملکت میں مختلف نظریات کی علمبردار سیاسی جماعتوں کے قیام اورپھر انھیں اپنے اپنے منشور کی بنیاد پر انتخابی سیاست میں معرکہ آرائی کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
  8. حق رائے دہی کی نوعیت کیا ہوگی اور ووٹر کی اہلیت کے اوصاف و شرائط کیا ہوں گے؟کیا خواتین کو بھی حق رائے دہی حاصل ہوگا؟
  9. اسلامی ریاست میں شہریوں کے حقوق و فرائض کیا ہوں گے؟ غیر مسلم شہریوں کی حیثیت و کردار(position and role) کیا ہوگا۔ ان کے مذہبی، قانونی و سیاسی اور شہریتی حقوق کیا ہوں گے؟ کیا غیر مسلم شہریوں کو حاکمہ اور مقننہ میں نمائندگی حاصل ہوگی؟ غیر مسلموں کے لیے نمائندگی کا حق تسلیم کرنے کی صورت میں ان کے انتخاب کا طریق کار کیا ہوگا؟ طریق انتخاب کیا ہو گا مخلوط یا جداگانہ؟

فتاویٰ لٹریچراور دستوری و سیاسی مسائل

برعظیم پاکستان و ہند کے مفتیان کرام نے دستور اسلامی سے متعلق مذکورہ مسائل کو غورو فکر کا موضوع بنایا اور ان کے متعلق فتاویٰ جاری کیے۔ اس سلسلے میں یہ بات بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کی قیادت میں اسلامی دستور کی تدوین کے لیے سرگرم عمل علماء اور ان کے متبعین کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں دیگر علماء کے مجموعہ ہائے فتاویٰ کے مقابلے میں سیاسی اور دستوری مسائل پر زیادہ توجہ دی گئی ہے(۱۴)۔ گو علمائے اہلحدیث کی زیادہ تر توجہ کلامی مسائل اور اصلاح رسوم و بدعات پر مرکوز رہی ہے تاہم ان کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق مسائل پر چند فتاویٰ بھی ملتے ہیں۔ بریلوی مکتبِ فکر کے علماء کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں علمائے اہلحدیث و علمائے دیو بند کے کلامی آرا کے رد کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ چنانچہ ان کے مجموعۂ ہائے فتاویٰ دستوری و سیاسی مسائل سے با لعموم معرا نظر آتے ہیں۔ بریلوی مکتب فکر کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام کے متعلق مسائل و موضوعات سے اس عمومی بے اعتنائی کا ایک ممکنہ سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عامۃ الناس (جن کے ہاں پاپولر رسوماتی اسلام کا چلن ہے) سیاسی و دستوری معاملات کو مذہبی نہیں بلکہ ایک خالص دنیوی (سیکولر) امر خیال کرتے رہے۔ چنانچہ وہ ان معاملات میں رہنمائی کے لیے علماء اور مفتیان کرام کی طرف رجوع کرنے کے بجائے ایسے سیاسی قائدین کا اتباع کرتے رہے ہیں جو نسلی ، لسانی اور علاقائی عصبیتوں پر اپنی عملی سیاست کا قصر تعمیر کیے ہوئے تھے، یا پھر اشتراکی نظام کی ترویج( روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی )جیسے پرکشش نعرے کو رواج دے کر سادہ لوح عوام کی توجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ عامۃ الناس کے برخلاف جدید تعلیم یافتہ طبقات بالعموم مذہب و سیاست کی علیحدگی کے نظریے کے قائل رہے ہیں۔ البتہ ایسے تعلیم یافتہ افراد جو بانئ جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر سے متاثر تھے اور ملک میں اقامتِ دین اورحکومتِ الٰہیہ کے قیام کے آرزو مند تھے، وہ مذہبی و سیاسی جملہ مسائل میں رہنمائی کے لیے روایتی علماء کی طرف رجوع کے بجائے سید ابوالاعلیٰ مودودی یا پھر جماعت سے تعلق رکھنے والے دیگر اہل علم و نظر سے رجوع کرتے تھے۔الغرض اسباب و محرکات خواہ کچھ بھی رہے ہوں بر عظیم پاکستان و ہند کے مجموعہ ہائے فتاویٰ کے جائزہ سے اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام کا کوئی مربوط و مکمل خاکہ سامنے نہیں آتا ، البتہ ان سے چند متفرق مسائل پر علماء کا موقف ضرور سامنے آجاتا ہے ۔

سطورِ ذیل میں برعظیم پاکستان و ہند کے اہلِ سنت کے تینوں مکاتب فکر (دیو بندی، بریلوی، اور اہل حدیث)کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں دستوری قانون ا ور سیاسی نظام سے متعلق مسائل پر فتاویٰ کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ان جملہ دستوری و سیاسی مسائل کو جو ان فتاویٰ کا موضوع بنے ہیں،زیر بحث لاتے ہوئے ان کی بابت مختلف آرا کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ 

(۱) سیاست شریعت سے جدا نہیں 

اسلامی دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق مسائل کے ضمن میں سب سے اہم سوال مذہب و سیاست کے باہمی تعلق کے بارے میں ہی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ دیوبندی مکتبِ فکر کے مفتی رشید احمد نے اپنے مجموعہ فتاویٰ احسن الفتاویٰ میں اس سوال (استفتاء) کہ :’’کیا سیاست دین میں داخل ہے یا اس سے الگ نئی چیز ؟ کے جواب میں دین و سیاست کے باہمی تعلق کی وضاحت کی ہے۔مفتی رشید احمد کی رائے میں دین و سیاست کی علیحدگی کا نعرہ اپنی ماہیت میں دین اسلام کی روح کے منافی ہے اورجدید مغربی لادینی تہذیب کی پیداوار ہے۔ ان کے الفاظ میں:

’’مروجہ سیاست اور اس کے تمام طور طریقے چونکہ یورپ سے درآمد ہوئے ہیں لہٰذا مغرب گزیدہ لوگوں نے یہ سوچ کر کہ ایسی سیاست کا دین اسلام سے کوئی جوڑ نہیں بیٹھتا، اور دونوں ایک قدم بھی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نعرہ لگایا: 

’’دین و سیاست دو الگ الگ چیزیں ہیں‘‘

یورپ والوں کو تو یہ نعرہ زیب دیتا ہے کہ ان کے دین میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں، حکومت و سلطنت کے لیے کوئی ہدایات نہیں، مگر ایک مسلمان کی طرف سے اس قسم کا نعرہ درحقیقت اس الحاد و بے دینی کا اظہار ہے کہ ہمارے دین میں بھی سیاست و حکومت کے لیے کوئی رہنما اصول نہیں، حضور اکرم صلٰی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اس پہلو پر کوئی روشنی نہیں پائی جاتی، اس لیے ہم سیاست کو دین سے الگ رکھنے پر مجبور ہیں۔اس کا کفر والحاد ہونا محتاج دلیل نہیں۔خلاصہ یہ کہ سیاست دین سے جدا نہیں بلکہ دین کہ کا ایک اہم شعبہ ہے مروجہ نعرہ مغرب پرست آخرت بیزار قسم کے لوگوں کا پھیلایا ہوا ہے‘‘ (۱۵):

جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

(۲) اسلامی ملک اور اسلامی حکومت کی تعریف 

اس سلسلے میں ایک نہایت اہم سوال یہ ہے کہ اسلامی حکومت کی تعریف کیا ہے؟ کسی مملکت و حکومت کے اسلامی ہونے کے کم از کم تقاضے کیا ہیں؟ اسلامی مملکت کی تعریف کے لیے کسی ملک میں شریعت کی تنفیذضروری ہے یا اس ملک کی آبادی کی اکثریت کا مسلمان ہونا کافی ہے؟ ایک ایسی مملکت جس میں قرآن و سنت کے عملی نظام کا نفاذ نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ مملکت اسلامی ہے یا غیر اسلامی؟ 

مفتی رشید احمد نے اس ضمن میں اسلامی مملکت اور اسلامی حکومت کی بڑی مختصر مگر جامع تعریف بیان کی ہے۔ ان کی رائے میں:

’’جس ملک میں اگرچہ عملًا اسلامی احکامِ اسلام کا نفاذ نہ ہو مگر تنفیذِ احکام پر قدرت ہو وہ دارالاسلام ہے، اس معنی سے اسے اسلامی ملک بھی کہا جا سکتا ہے۔ مگر ایسے ملک کی حکومت کو اس وقت تک حکومتِ اسلامیہ نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ وہ احکامِ اسلام کی تنفیذ نہ کرے‘‘ (۱۶)۔ 

(۳) نظام حکومت ۔ عوامی/ جمہوری یا شاہی

ایک اہم سوال نظام حکومت کا ہے۔ موجودہ جمہوری نظام جو مغربی سیکولر تہذیب کی تخلیق ہے اور اس وقت مشرق و مغرب کے بہت سے ممالک میں نافذ ہے جس میں بیک وقت کئی جماعتوں کا وجود شرط ہے، کیا اسلام میں اس کی گنجائش ہے؟ با لفاظ دیگر جدید مغربی جمہوری نظام اسلام کے سیاسی اصول و تصورات سے کس حد تک متصادم ہے اور ان دونوں میں کس طور سے موافقت اور ہم آہنگی پید ا کی جا سکتی ہے؟ اس ضمن میں کچھ اس طرح کے عمومی سوالات بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں: اسلام میں طرزِ حکومت شاہی ہے یا جمہوری؟ اگر جمہوری ہے تو طریق انتخاب کیا ہے؟ اسلامی جمہوریت میں مسلمانوں کا سربراہ کیسے منتخب کیا جاتا ہے؟ کیا مر اور عورت سب کو رائے دہی کا حق ہے یا صرف مردوں کو؟ اور کیا صرف اربابِ عقول اورسمجھدار لوگوں سے رائے لی جائے یا سب سے ، سمجھدار اور بے سمجھ چرواہوں اور بے وقوفوں سے بھی؟غرضیکہ جن لوگوں کو اپنا خلیفہ؍امیر اور ارکان شوریٰ (مجلس اہل حل و عقد ؍ پارلیمان)منتخب کرنے میں کوئی سمجھ بوجھ نہیں کہ کون اہلیت رکھتا ہے، کیا ان سے بھی رائے لی جائے یا نہیں؟ 

ان سوالات کا جواب دو معروف دیوبندی علماء ( مفتی رشید احمد اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی) نے دیا ہے۔ دونوں نے اپنے فتاویٰ میں مغربی جمہوریت کو شر کا منبع قرار دیا ہے۔ ان کی رائے میں اسلام میں مغربی جمہوریت کی کوئی گنجائش نہیں۔مفتی رشید احمد کی رائے میں:

’’اسلام میں مغربی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں، ( ۱)اس [مغربی جمہوریت ] میں متعدد گروہوں کا وجود (حزب اقتدار و حزب اختلاف) ضروری ہے ، جبکہ قرآن اس تصور کی نفی کرتا ہے ( واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا ، القرآن، ۳:۱۰۳) ؛ (۲) اس میں تمام فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہیں جب کہ قرآن اس انداز فکر کی بیخ کنی کرتا ہے (و ان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ ، القرآن، ۶: ۱۱۶) ؛ (۳) یہ غیر فطری نظام یورپ سے درآمد ہو اہے جس میں سروں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا۔ اس میں مرد و عورت، پیر و جواں، عامی و عالم بلکہ دانا و ناداں سب ایک ہی بھاؤ تلتے ہیں۔ جس امید وار کے پلے ووٹ زیادہ پڑ جائیں وہ کامیاب قرار پاتا ہے اور دوسرا ناکام، مثلا کسی آبادی کے پچاس علماء، عقلاء اور دانشوروں نے باالاتفاق ایک شخص کو ووٹ دیے،مگر ان کے بالمقابل علاقہ کے بھنگیوں، چرسیوں اور بے دین و اوباش لوگوں نے اس کے مخالف امیدوار کو ووٹ دیے جن کی تعداد اکاون ہو گئی تھی تو یہ امید وار کامیاب اور پور ے علاقے کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا ۔ پھر ووٹ لینے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ کا استعمال لازمۂ جمہوریت ہے۔ ہر فریق اپنے مقابل کو چت کرنے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہاتا ہے۔ مزید براں دھونس، دھاندلی، دھوکا، فریب، رشوت، غرض تمام ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں ، اور جو کامیاب ہوتے ہیں ان کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ایوان سمبلی میں پہنچ کر ان کی بولی لگتی ہے، فیکٹریوں کے پرمٹ، پلاٹس، وزارتیں، غرض یہ کہ طرح طرح کے لالچ اورچکمے دے کر انہیں خرید ا جاتا ہے۔ پھر قوم کے یہ منتخب نمائندے اسمبلی ہال میں بیٹھ کر کیا گل کھلاتے ہیں؟ یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرۂ خبیثہ کی پیداوار ہیں۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں، نہ ہی اس طریقے سے قیامت تک اسلامی نظام آ سکتا ہے۔ بفحوائے ’’الجنس یمیل الی الجنس‘‘ عوام، جن کی اکثریت بے دین لوگوں کی ہے، اپنی ہی جنس کے نمائندے منتخب کر ے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں‘‘ (۱۷)۔ 

مفتی رشید احمد کی رائے میں مغربی جمہوریت اور اسلام کے سیاسی نظام میں جو بنیادی اور جوہری فرق و امتیاز پایا جاتا ہے وہ سربراہ مملکت؍ حکومت کے انتخاب کے طریق کار کا ہے۔ ان کی رائے میں اسلام سربراہ مملکت ؍ حکومت کے انتخاب کے سلسلہ میں ہر کس و ناکس کو رائے دہی (ووٹ) کا حق نہیں دیتا بلکہ یہ حق اہل الحل والعقد کو تفویض کرتا ہے۔ مفتی رشید احمد اس سلسلے میں خلفائے راشدین کے انتخاب کے طریق سے استشہاد کرتے ہیں ۔ ان کے خیال میں:

’’اسلام میں شورائی نظام ہے جس میں اہل الحل والعقد غور و فکر کر کے ایک امیر کا انتخاب کرتے ہیں، چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات کے وقت چھ اہل الحل والعقد کی شوریٰ بنائی جنہوں نے اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو خلیفہ نامزد کیا۔ اس پاکیزہ نظام میں انسانی سروں کو گننے کے بجائے انسانیت کا عنصر تولا جاتا ہے، اس میں کسی ایک ذی صلاح مدبر انسان کی رائے لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کی رائے پر بھاری ہو سکتی ہے :

گریز از طرز جمہوری غلامِ پختہ کارے شو

کہ درمغز دو صد خر فکر انسانے نمی آید

حضرت ابو بکر نے کسی سے استشارہ کیے بغیر صرف اپنی ہی صوابدید سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب فرمایا۔ آپ کا یہ انتخاب کس قدر موزوں، مناسب اور جچا تلا تھا؟ اس کا جوا ب دینا الفاظ میں ممکن نہیں، اس حقیقت کا مشاہدہ پوری دنیا کھلی آنکھوں سے کر چکی ہے‘‘ (۱۸)۔ 

خلفائے راشدین کے انتخاب کے طریق سے متعلق تاریخی نظائر کو مفتی رشید احمد اسلامی دستورِمملکت کا ایک ابدی اصول تسلیم کرتے ہیں اور یہی چیز ان کی نظر میں اسلام کے سیاسی نظام کو مغربی جمہوریت سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی رائے میں اسلامی مملکت کے سربراہ کا انتخاب جمہور کی رائے سے نہیں بلکہ متعینہ صفات کے حامل اہلِ حل و عقد کی رائے سے عمل میں آئے گا۔ مفتی رشید احمد کے الفاظ میں: 

’’جمہوریت مروجہ میں ہر کس و ناکس کو رائے دہی کا حق ہے مگر جمہوریت اسلامیہ میں انتخاب خلیفہ کا حق صرف اہل حل و عقد کو ہے۔اہلِ حل و عقد کے لیے پانچ شرائط ہیں: ( ا) عقائد اسلام میں رسوخ و مضبوطی؛(ب)ذکورہ؛(۳)علم دین میں رسوخ؛( ۴)تقویٰ وتصلب فی الدین؛ (۵) ملکی حالات و سیاسیاتِ حاضرہ میں بصیرتِ تامہ‘‘ (۱۹)۔ 

مفتی رشید احمد کی رائے میں نصوص شرعیہ کے علاوہ عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ انتخاب امیر ہر کس و ناکس کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے عقل کی ضرورت ہے اور علم دین و تقویٰ کے بغیر عقل کامل نہیں ہو سکتی(۲۰)۔ ان کی رائے میں مغربی جمہوری نظام اور اسلام کے سیاسی نظام میں دوسرا جوہری فرق سربراہ مملکت ؍حکومت اورمجلس شوریٰ کے اختیارات میں توازن کا ہے۔ ان کی رائے میں:

’’جمہوریت مروجہ میں سربراہ مملکت خود مختار نہیں ہوتا بلکہ مقننہ کے فیصلہ کا پابند ہوتا ہے اور جمہوریت اسلامیہ میں امیر المؤمنین خودمختار ہوتا ہے، اہم امور مین اہل حل و عقد سے مشورہ کے تا بع جو اس کی رائے میں صواب ہو اس کے مطابق فیصلہ کرے، شوریٰ کے فیصلہ کا پابند نہیں، قال اللہ تعالیٰ : و شاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ (۳: ۱۵۹) (۲۱)۔ 

اسلام میں جمہوریت کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اسکے بارے میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے بھی اپنے فتاویٰ میں بتفصیل اظہار خیال کیا ہے۔ ان کی رائے میں بھی اسلام اور جمہوریت کے مابین فرق نہایت وسیع و عمیق ہے، بلکہ یہ اپنی روح کے اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد ہیں اوران دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔ان کے الفاظ میں:

’’ جمہوریت اس دور کا صنم اکبر ہے جس کی پرستش اول اول دانایان مغرب نے شروع کی ، کیونکہ وہ آسمانی ہدایت سے محروم تھے اس لیے ان کی عقل نارسا نے دیگر نظام ہائے حکومت کے مقابلہ میں جمہوریت کا بت تراش لیا اور پھر اس کو مثالی طرزِ حکومت قرار دے کر اس کا صور اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ پوری دنیا میں اس کا غلغلہ بلند ہوا، یہاں تک کہ مسلمانوں نے بھی تقلید مغرب میں جمہوریت کی مالا جپنی شروع کر دی۔ کبھی یہ نعرہ لگا یا کہ ’’اسلام جمہوریت کا علمبردار ہے‘‘ اور کبھی ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کی اصطلاح وضع کی گئی، حالانکہ مغرب جمہوریت کے جس بت کا پجاری ہے اس کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے۔ اس لیے اسلام کے ساتھ جمہوریت کا پیوند لگانا اور جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنا صریحاً غلط ہے‘‘ (۲۲)۔ 

(۴) طرز حکومت ۔ صدرارتی یا پارلیمانی 

مغربی جمہوریت کے علمبردار ممالک میں یا تو صدارتی نظام رائج ہے یا پھر پارلیمانی۔ ان میں سے کو ن سا طرزِ حکومت اسلام کے سیاسی اصول سے زیادہ موافق و ہم آہنگ ہے؟ مفتی محمد شفیع(۱۸۹۷۔۱۹۷۶ء) نے اس مسئلہ کو یوں حل فرمایا ہے:

’’حکومت کے مروجہ طریقوں میں سے صدارتی طرزِ حکومت اسلام کے مزاج اور اصول سے قریب تر ہے۔ قرآنی آیت: یا داود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس با لحق (۳۸: ۲۶) کے مطابق حکم و فیصلہ کی ذمہ داری خلیفۂ وقت (امیر المومنین) پر ڈالی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ پارلیمانی طرز میں امیر مملکت پر کوئی ایسی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ، یہ صرف صدارتی طرز میں ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں قرآنی آیت (۴: ۵۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کے اولوالامر کا مسلم ہونا شرط ہے اور موجودہ دنیا میں اس شرط پر عمل صدارتی طرزِ حکومت میں بآسانی ہو سکتا ہے جس میں ولایت امر اور اقتدار اصلی صدر مملکت کا ہوتا ہے اس لیے مسلمان ہونے کی شرط عملاً سہل ہے بخلاف پارلیمانی نظام کے کہ اس میں صدر مملکت محض ایک نمائشی چیز ہے، اصل اقتدار صرف پارلیمان کا ہوتا ہے اور پوری پارلیمان میں کسی غیر مسلم کو شامل نہ کرنا عملاً دشوار ہے اس لیے بھی صدارتی طرزِ حکومت اصولِ اسلام سے قریب تر ہے‘‘ (۲۳؍ا)۔ 

(۵) شرائط اہلیتِ امیر / سربراہ مملکت و حکومت

سربراہ مملکت ؍حکومت کی اہلیت کے شرائط و اوصاف ایک اہم دستوری مسئلہ ہے۔ مفتی رشید احمد کی رائے میں نصوص قرآن و سنت سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ امیر ایسے شخص کو منتخب کرنا فرض ہے جس میں امارت کی اہلیت ہو (۲۳؍ب)۔ان کی رائے میں اسلامی مملکت کے سربراہ کی ذات میں نہ صرف ان تمام شرائط و اوصاف کا پایا جانا ضروری ہے جو اہل حل و عقد کے لیے لازم ہیں ، بلکہ اس کے لیے یہ شرط بھی ضروری ہے کہ وہ صاحب ہمت و شجاعت ہو۔ مفتی رشید احمد کی رائے ملاحظہ ہو:

’’ اہلیت اہل حل و عقد کے لیے پانچ شرائط ہیں: ( ا) عقائد اسلام میں رسوخ و مضبوطی؛ (ب) ذکورہ؛ (۳) علم دین میں رسوخ؛( ۴) تقویٰ و تصلب فی الدین ،؛(۵) ملکی حالات و سیاسیاتِ حاضرہ میں بصیرتِ تامہ (۲۴)۔ امیر کے لیے اہلیت حل و عقد کی شرائطِ مذکورہ کے علاوہ شرط یہ بھی ہے کہ صاحب ہمت و شجاعت ہو‘‘ (۲۵)۔ 


حوالہ جات و حواشی

۱) مولانا احمد رضا خاں بریلوی(۱۲۷۳۔۱۳۴۰ھ؍۱۸۵۶۔۱۹۲۱ء)، فتاویٰ رضویہ (لاہور: رضا فاؤنڈیشن، ۱۴۱۹ھ؍۱۹۹۸ء)، جلد ۱۴: رسالہ دوام العیش من الائمۃ من القریش،(زندگی کا دوام اس امر میں ہے کہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے)، ص ۱۷۳۔۲۴۷ ۔ 

۲) مولانا ابو الکلام آزاد، مسئلۂ خلافت ) ، لاہور: دارالشعور، ۲۰۰۲ء ) ؛ مولانا حبیب الرحمٰن دیوبندی، ’’خطبۂ صدارت‘‘، اجلاس چہارم جمعےۃ العلماء ہند، بمقام ’’گیا‘‘، ۲۴ تا ۲۶ دسمبر ۱۹۲۲ء، زیر صدارت مولانا حبیب الرحمٰن دیوبندی ، مشمولہ پروین روزینہ (مرتب)، جمعیت العلماء ہند: دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام ۱۹۱۹ تا ۱۹۴۵ء (اسلام آباد: قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت ، ۱۹۸۰ء)، جلد ۱، ص۱۵۴۔۱۷۴؛ سید سلیمان ندوی، ’’خطبہ صدارت: اجلاس ہفتم جمعےۃ العلماء ہند، کلکتہ، ۱۱ تا ۱۴ مارچ ۱۹۲۶ء، ‘‘، مشمولہ پروین روزینہ (مرتب)، جمعیت العلماء ہند: دستاویزات ،جلد ۱، ص۳۳۱۔۳۳۸، ۳۴۲۔۳۶۱۔

۳) مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ، فتاویٰ ثنائیہ (مرتبہ: مولانا محمد داود راز) ۲ جلدیں (لاہور: ادارۂ ترجمان السنہ، ۱۹۷۲ء)، جلد ۲، ص ۵۹۸۔۵۹۹۔

۴) تفصیل کے لیے دیکھیے: وحید عشرت، ’’اقبال اور جمہوریت‘‘، مشمولہ اقبال ۱۹۸۶ء (لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، ۱۹۹۰ء)، ص ۲۹۴۔۲۹۵؛ جسٹس کریم اللہ درانی، ’’اقبال کا اسلامی ریاست کا تصور‘‘، اقبال ریویو (لاہور)، ۲:۲ ، ص ۷۔۱۸؛ وحید قریشی، اساسیاتِ اقبال (لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، ۱۹۹۶ء)، ص ۱۶۔۱۸؛ وہی مصنف، ’’علامہ اقبال کا تصور ریاست‘‘، مخزن (لاہور)، ۲:۲ (۲۰۰۲ء)، ص ۷۷۔۸۳؛ جاوید اقبال ، زندہ رود (لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۴ء)، ص ۴۸۴۔۴۸۵؛ وہی مصنف، ’’اقبال اور عصر جدید میں اسلامی ریاست کا تصور‘‘، مشمولہ سید محمد حسین جعفری (مرتب)، اقبال: فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید (کراچی: پاکستان اسٹڈی سینٹر، جامعۂ کراچی، ۱۹۸۸ء)، ص ۷۳۔۱۲۲۔ 

مزید دیکھیے:

 Allama Muhammad Iqbal, "Presidential Address - Allahabad Session", in Syed Abdul Latif (ed.), Thoughts and Reflections of Iqbal (Lahore: Sh. Muhammad Ashraf, 1992), pp. 162-167, 173 190; Sir Muhammad Iqbal, Islam as an Ethical and a Political Ideal, ed. S. Y. Hashimy (Lahore: Islamic Book Service, 1998), pp. 99-104, 106-108; Idem, The Reconstruction of Religious Thought in Islam, ed. M. Saeed Sheikh (Lahore: Iqbal Academy Pakistan, 1989), 122-25, 137-140, 142; Idem, "Political Thought in Islam", Abdul Vahid (ed.), Thoguhts and Reflections, pp. 58-75; Javed Iqbal, "The Image of Turkey and Turkish Democracy in Iqbal's Thought and his Concept of Modern Islamic State", Iqbal Review, 28:3 (1987), pp. 27-39.

۵) مجلس نظام اسلامی کی تشکیل اور اس کی کارگزاری کے بارے میں ملاحظہ ہو: عبدالماجد دریا بادی، ’’پیش لفظ‘‘، مشمولہ مولانا محمد اسحاق سندیلوی، اسلام کا سیاسی نظام (اسلام آباد: نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۸۹ء)، ص ۱۔۳؛ سید سلیمان ندوی، ’’شذرات‘‘، معارف (اعظم گڑھ)، فروری ۱۹۴۱ء، و مئی ۱۹۴۱ء؛ دریا بادی (مرتب)، سید سلیمان ندوی کے خطوط، حصہ دوم، ص ۸۷۔۸۹، ۱۰۱۔۱۰۲؛ مسعود عالم ندوی (مرتب)، مکاتیب سید سلیمان ندوی (لاہور: مکتبہ چراغ راہ، ۱۹۵۴ء)، ص ۱۰۵، ۱۰۶، ۱۰۷۔

۶) دیکھیے: عبدالماجد دریا بادی، ’’پیش لفظ ‘‘، مشمولہ اسلام کا سیاسی نظام ( مرتبہ: محمد اسحاق صدیقی سندیلوی) ، ص ۱۔۲۔

۷) :Muhammad Asad, "Towards an Islamic Constitution", Arafat, 1:9 (July 1947), pp. 262-284 ۔اس کی تلخیص ماہنامہ شمس الاسلام (بھیرہ، ضلع سرگودھا میں شائع ہوئی۔ دیکھیے: محمد اسد مدیر عرفات، ، ’’پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بعد(۱)‘‘، جون ، جولائی ۱۹۴۷ء، ص ۵۷۔۵۸۔؛ محمد اسد، ’’پاکستان کا خواب شرمندہ ہونے کے بعد(۲)‘‘، اگست ۱۹۴۷ء، ص ۳۴۔

۸) :Asad, "Islamic Constitution-Making", Arafat: Quarterly Journal of Islamic Reconstruction, No. 1

(March 1948, pp. 16-62). ۔[اس تحریر کا اردو ترجمہ ماہنامہ شمس الاسلام (بھیرہ، ضلع سرگودھا) میں بھی شائع ہوا۔ دیکھیے: علامہ محمد اسد (جرمن نو مسلم سکالر)، ’’اصول دستور اسلامی‘‘، شمس الاسلام، مارچ ۱۹۴۹ء، ۲۷۔۳۲۔ 

۹) ابوالاعلیٰ مودودی، دستوری تجاویز (لاہور: مرکزی مکتبۂ جماعتِ اسلامی پاکستان، ۱۹۵۲ء)؛ ماہنامہ ترجمان القرآن میں اسلامی دستور کے موضوع پر مولانا مودودی کی تحریروں کے لیے ملاحظہ ہو: حکیم نعیم الدین زبیری (مرتب)، اشاریہ ماہنامہ ترجمان القرآن، ۱۹۳۲۔۱۹۷۶ء (کراچی: ادارۂ معارفِ اسلامی، ۱۹۸۵ء)، ص ۴۔۱۱؛ سید ابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی ریاست (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز، ۲۰۰۰ء)؛ امین احسن اصلاحی، اسلامی ریاست (لاہور: دارالتذکیر، ۲۰۰۲ء )۔ علامہ محمد اسد اور سید مودودی کی تعبیرات و توجیہات علماء پر اثر انداز ہوئیں؛ مناظر احسن گیلانی، ’’پاکستان کا اسلامی دستور‘‘، صدق (لکھنؤ)، ۱۹۴۸ء) ۔

۱۰) دیکھیے: نفاذِ اسلام کے لیے پاکستان کے علماء کرام کے بائیس نکات (اسلام آباد: دار العلم، س۔ ن)۔ 

۱۱) جب ۱۹۴۹ء میں یہ دستور ساز اسمبلی نے باقاعدہ دستور سازی کا کام شروع کیا تو حکومت پاکستان نے ایک اسلامی مشاورتی بورڈ بنایا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اسلامی دستور کا خاکہ تیار کر کے پیش کرے گا اور اس کی روشنی میں دستور ساز اسمبلی پاکستان کا آئین تیار کرے گی۔ اس بورڈ کے سربراہ جناب علامہ سید سلیمان ندوی مقرر ہوئے اور مفتی محمد شفیع اور ڈاکٹر امحمد حمید اللہ (سابق استاذ جامعہ عثمانیہ ، حیدر آباد دکن) ، پروفیسر عبدالخالق اور مولانا محمد جعفر حسین مجتہد ممبر کی حیثیت سے نامزد کئے گئے ۔ مولانا ظفر احمد انصاری بورڈ کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔یہ بورڈ اگست ۱۹۴۹ء سے اپریل ۱۹۵۴ء تک قائم رہا اور مفتی محمد شفیع شروع سے آخر تک اس کے اہم رکن رہے ۔ اس بورڈ نے دستور پاکستان کے لیے جو سفارشات پیش کی تھیں اگرچہ ۱۹۵۶ء کے دستور پاکستان میں ان کی جھلک بڑی حد تک موجود تھی جس کے باعث وہ دستور ’’اسلامی دستور‘‘ کہلانے کا مستحق ہو گیا۔ لیکن اس بورڈ کی تمام سفارشات کسی بھی دستور میں نہ تو تمام کی تمام روبہ عمل لائی گئیں اور نہ انہیں شائع کیا گیا۔ (مفتی محمد رفیع عثمانی، ’’ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب کے مختصر حالات زندگی‘‘، مشمولہ مولانا مفتی محمد شفیع، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: جلد دوم یعنی امداد المفتین کامل (کراچی: دارالاشاعت، ۲۰۰۱ء)، جلد ۲ ،ص ۷۸۔

مزید دیکھیے:

 Keith Callard, Pakistan: A Political Study (London: George Allen & Unwin Ltd., 1958), pp. 85-103; Leonard Binder, Religion and Politics in Pakistan (Berkeley, CA: University of California Press, 1963), chaps. 4-5, pp. 137-182 ;Manzooruddin Ahmad, Pakistan: The Emerging Islamic State (Karachi: The Allies Book Corporation, 1966), chap. 6, pp. 89-122. 

۱۲) رفیع عثمانی، ’’عورت کی سربراہی: اکابر علماء کا فیصلہ‘‘، مشمولہ مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۸۲)۔ 

۱۳) انصاری کمیشن کی سفارشات کے لیے دیکھیے: مولانا ظفر احمد انصاری(مرتب)، نظام حکومت کے بارے میں انصاری کمیشن کی رپورٹ ، ۲۴ شوال المکرم ۱۴۰۳ھ؍ ۴ اگست ۱۹۸۳ء (اسلام آباد: گورنمنٹ آف پاکستان، ۱۹۸۳ء) ۔

۱۴) علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے رفقاء بالخصوص مفتی محمد شفیع اور مولانا ظفر احمد عثمانی نے اپنے فتاویٰ اور فقہ پر اپنی کتب میں نصوص قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کے سیاسی نظائر سے اخذ کر کے اسلامی دستور کا ایک خاکہ مرتب کرنے کی سعی کی تھی (ملاحظہ ہو: مفتی محمد شفیع، دستورِ قرآنی، کراچی : مکتبہ دارالعلوم، ۱۳۷۲ھ؍۱۹۵۲ء )۔ مفتی محمدشفیع کا یہ خاکہ ان کے مجموعہ ہائے فتاویٰ جواہر الفقہ میں بھی شامل ہے ( دیکھیے: مولانا مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ: فقہی رسائل و مقالات کا نادر مجموعہ (کراچی: مکتبہ دارالعلوم، ۱۳۴۱ھ؍۲۰۱۰ء)، جلد ، ۵، ص۴۶۱ ۔۵۲۷ ۔ مزید براں انہوں نے ووٹ کی شرعی حیثیت سے متعلق ایک مفصل فتویٰ بھی جاری کیا جس میں ووٹ کو ایک امانت قرار دیتے ہوئے اس کے جائز اور ناجائز استعمال کی صورتوں کی وضاحت کی۔ یہ فتویٰ بھی ان کی فقہی تالیف جواہر الفقہ میں شامل ہے ۔

۱۵) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ  (کراچی: ایچ ایم سعید کمپنی، طبع ششم، ۱۴۲۲ء)، جلد ۶ ، ص۲۳۔

۱۶) ایضاً ، جلد ۶، ص ۲۱۔

۱۷) ایضاً ، جلد ۶، ص۲۴۔۲۷ ۔

۱۸) ایضاً ، جلد ۶، ص ۲۶۔۲۷۔

۱۹) ایضاً ، جلد۶، ص ۱۴۳۔

۲۰) ایضاً ، جلد ۶، ص ۱۴۴۔

۲۱) ایضاً ، جلد ۶، ص ۔

۲۲) مولانا محمد یوسف لدھیانوی، آپ کے مسائل اور ان کا حل، (کراچی: مکتبہ لدھیانوی، ۱۹۹۹ء) جلد ۸، ص ۱۸۲۔۱۸۵۔ 

۲۳ (ا) مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ، جلد ۵، ص ۴۷۹۔

۲۳ (ب) احسن الفتاویٰ، ص ۱۴۳۔۱۴۴۔

۲۴) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، ص ۱۴۳۔ 

۲۵) ایضاً ، جلد ۶، ص ۱۴۴۔۱۴۵۔

(جاری)

آراء و افکار