اعجازِ قرآن ۔ ایک مختصر جائزہ

محمد حسنین

علوم قرآن کے تمام مباحث پر قرن اول سے اب تک ہر پہلو اور ہر زاویہ سے بحث کی جاتی رہی ہے لیکن پھر بھی ان کا حق ادا نہ ہو سکا اور اب بھی وہ تشنہ معلوم ہوتے ہیں۔ دوسرے مباحث کی طرح ’’اعجاز قرآن‘‘ کا موضوع بھی ابتدا ہی سے زیر بحث رہا ہے۔ اگرچہ ابتدائی صدیوں میں متکلمین کے کلامی مباحث یا مفسرین کی تفسیروں کے ضمن میں اس کا تذکرہ ہوتا تھا، لیکن بہت جلد اس موضوع پر مستقل تالیفات وجود میں آنے لگیں۔ چنانچہ کوئی صدی ایسی نہیں ملتی جس میں اعجاز قرآن کے موضوع پر پائے جانے والے علمی سرمایہ میں اضافہ نہ ہوا ہو۔

اعجاز قرآن کے مسئلہ کو شروع شروع میں مستقل بحث و تحقیق کا موضوع نہیں بنایا گیا، بلکہ اسے دیگر ان مسائل کے ساتھ شامل رکھا گیا جن میں اس زمانے میں زبردست کلامی بحثیں ہوتی تھیں اور ان کے سلسلہ میں اسلامی فرقوں کے درمیان باہم اختلاف تھا، خاص طور پر ان مسائل کے ساتھ جو نبوت اور معجزہ سے متعلق تھے۔ تیسری صدی ہجری میں اسلامی معاشرہ میں اعجاز قرآن کے بارے میں مختلف اقوال تھے جن کی وجہ سے اسلامی فرقوں میں کشمکش کی نازک صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ ہر فرقہ کے لوگ اعجاز قرآن کے بارے میں اپنی رائے کا اثبات اور اپنے مخالفین کی آواز کا ابطال کرتے تھے۔ اس قسم کی کتابوں میں ابن قتیبہ کی ’’تاویل مشکل القرآن‘‘ ابوالحسن اشعری کی ’’مقالات الاسلامیین‘‘ جاحظ کی ’’حجج النبوۃ‘‘ اور ابوالحین خیاط کی ’’الانتصار‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ہر صدی میں ’’اعجاز قرآن‘‘ پر لکھی جانے والی تالیفات کے مصنفین نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اعجاز قرآن پر جو کچھ لکھ رہے ہیں، وہ حرفِ آخر ہے، لیکن اگلی صدی نے ان کے اس دعویٰ پر خط نسخ کھینچ دیا۔

معجزہ

معجزہ کی حقیقت پر بات کرتے ہوئے علامہ جلال الدین السیوطی ؒ المتوفی ۹۱۱ھ ؁ رقمطراز ہیں کہ 

’’اعلم أنَّ المعجزۃ أمر خارق للعادۃ ، مقرون بالتحدی، سالم من المعارضۃ‘‘ ۱؂
ترجمہ’’ معجزہ ایسے خارق عادت امر کو کہتے ہیں جس کے ساتھ تحدی بھی کی گئی ہو اور وہ معارضہ سے سالم رہے۔‘‘

جہاں تک معجزہ کی اقسام کا تعلق ہے حضرات علماء نے اس کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ 

۱۔ حسی معجزہ 

۲۔ عقلی معجزہ

قوم بنی اسرائیل کے اکثر معجزات کا تعلق حسی معجزات سے تھا جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ قوم بڑی کند ذہن اور کم فہم تھی جبکہ امت محمدیہ کے زیادہ تر معجزات عقلی ہیں جس کا سبب اس امت کے افراد کی ذکاوت اور ان کے عقل کا کمال ہے اور دوسرا سبب یہ ہے کہ شریعت محمدیہ چونکہ آخری اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، اس لحاظ سے بھی اس کو عقلی معجزہ دیا گیا تاکہ اہل بصیرت اسے ہر وقت اور ہر زمانہ میں دیکھیں۔۲؂

اس ضمن میں ایک قول یہ بھی ہے کہ گزشتہ زمانہ کے واضح معجزات حسی اور آنکھوں سے نظر آنے والے تھے مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی اور موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور قرآن کا معجزہ عقل و ادراک کے ذریعہ سے مشاہدہ میں آتا ہے۔ اس لیے اس کے متبع لوگ بکثرت ہوں گے کیونکہ آنکھوں سے دکھائی دینے والی چیز اپنے دیکھنے والے کے فنا ہوتے ہی خود بھی فنا ہو جاتی ہے، مگر جو چیز عقل کی آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے، وہ باقی رہنے والی شے ہے۔ اس کو ہر ایک شخص یکے بعد دیگرے دائمی طور پر دیکھتا رہے گا۔۳؂

۱۔ قرآن کریم، ایک مسحور کن کلام 

قرآن کریم کے اعجاز بیان کے سامنے اہل عرب نے آغاز بعثت ہی سے سپرڈال دی۔ جونہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے اس کی تلاوت کی، ان کو اس کے اعجاز بیان کا اندازہ ہو گیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ کوئی بھی عربی ، جو عربی زبان کی حس اور اس کا اصلی ذوق رکھتا ہے یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اہل عرب کو اس کلام الٰہی کے سننے سے روکنا چاہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بلاشبہ یہی تھی کہ ان کو یقین تھا کہ کوئی بھی عربی اس قرآن اور انسانی کلام میں تمیز کرنے میں غلطی نہیں کر سکتا۔ 

کبھی کبھی اس کی کچھ آیتیں کسی ایسے شخص کے گوش گزار ہو جاتیں جو اسلام کا شدید دشمن ہوتا، لیکن انہیں سنتے ہی اعجاز قرآن کے سامنے سپرڈال دیتا ، جیسا کہ حضرت عمر بن الخطابؓ کا اسلام لانے کا واقعہ ہے۔۴؂ اسی طرح روایتوں میں آتا ہے کہ جبیر بن مطعم بن عدی ایک مشترک کافدیہ ادا کرنے کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپ سورۃ الطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔۵؂ جب اس آیت پر پہنچے:

إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ، مَا لَہُ مِن دَافِعٍ (الطور /۷، ۸)
ترجمہ: ’’ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘‘

تو ان پر کپکپی طاری ہو گئی اور فوراً اسلام قبول کر لیا اور کہنے لگے، مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں مجھ پر عذاب نہ آپڑے۔

پھر یہی نہیں کہ یہ شعلہ بیان خطیب اور آتش نوا شاعر قرآن کریم کا مقابلہ نہیں کر سکے بلکہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اس کلام کی حیرت انگیز تاثیر کا کھل کر اعتراف کیا۔ امام حاکمؒ اور امام بیہقیؒ نے قرآن کریم کے بارے میں ولید بن مغیرہ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

واللّٰہ ان لقولہ الذی یقول حلاوۃ وان علیہ لطلاوۃ وانہ لمثمر اعلاہ مغدق اسفلہ وانہ لیعلو وما یعلیٰ
’’خدا کی قسم ، جو یہ کلام بولتے ہیں اس میں بلا کی شیرینی اور رونق ہے۔ یہ کلام غالب ہی رہتا ہے، مغلوب نہیں ہوتا‘‘۔ 

یہ ولید بن مغیرہ ابوجہل کا بھتیجا تھا۔ ابوجہل کو جب یہ پتہ چلا کہ میرا بھتیجا اس کلام سے متاثر ہو رہا ہے تو وہ اسے تنبیہ کرنے کے لیے اس کے پاس آیا۔ اس پر ولید نے جواب دیا کہ خدا کی قسم ! تم میں کوئی شخص شعر کے حسن کو مجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں، خدا کی قسم ! محمد جو کہتے ہیں، شعر کو اس کے ساتھ کوئی مناسبت اور مشابہت نہیں ہے۔ ۶؂ 

۲۔ اعجاز قرآن کے ادراک میں تمام اہل عرب برابر تھے:

کیا ان لوگوں پر قرآن کا اعجاز واضح ہو گیا تھا؟ جس سے ان کی بصیرتیں روشن ہو گئیں اور وہ قرآن کی چند آیات سن کر ہی رسول اکرم صلی اللہ علی وسلم کے معجزہ پر ایمان لے آئے جبکہ دوسرے لوگوں پر قرآن کا اعجاز واضح نہ ہو سکا اور وہ عرصہ تک دشمنی اور تکذیب میں لگے رہے؟

قاضی ابوبکر باقلانی اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان وجوہ میں سے جن کی وجہ سے لوگ اسلام قبول کرنے سے باز رہے اور عرصہ تک شرک و تکذیب کی روش پر قائم رہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زمانہ بعثت میں فصاحت کے معاملہ میں اہل عرب میں تفاوت پایا جاتا تھا۔ انہوں نے سورۃ توبہ کی آیت ذکر کی ہے۔ 

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَأَجِرْہُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّٰہِ ثُمَّ أَبْلِغْہُ مَأْمَنَہُ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَعْلَمُونَ (التوبہ /۶)
’’ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دید و یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے‘‘

اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آیت سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ اہل عرب میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کا محض کلام الٰہی سن لینا ان پر حجت تھا۔ 

باقلانی نے اس پر درج ذیل اعتراض بھی ذکر کیا ہے:

’’ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ عہد نبویؐ میں تمام فصحاء قرآن سننے کے معاملہ میں ایک درجے پر تھے تو اسے یہ جواب دیا جائے گا کہ اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ انہیں اسلام قبول کرنے سے باز رکھنے والی اور بھی بہت سی چیزیں تھیں مثلاً یہ کہ وہ شکوک و شبہات میں مبتلا تھے۔ ان میں بعض خالق کی ذات میں شک کرتے تھے۔ بعض کو توحید میں شک تھا بعض نبوت میں مشکوک تھے۔ ‘‘۷؂

پھر ان کے شکوک و شبہات کے وجوہ مختلف تھے کچھ لوگ ایسے تھے جن کے شبہات کم تھے اور انہوں نے قرآن میں اتنا غور کیا جتنا غور کرنے کا حق تھا اور انکار کی روش اختیار نہیں کی چنانچہ وہ مشرف باسلام ہو گئے اور کچھ لوگ ایسے تھے جن کے شبہات زیادہ تھے اور انہوں نے قرآن کریم میں غور کرنے سے اعراض کیا۔ یا یہ کہ وہ بلاغت کے اعلیٰ مرتبہ پر نہیں تھے، اسی لیے انہیں غور و فکر کرنے میں عرصہ لگ گیا اور انہیں یہ دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کیا دوسرے ویسا کلام لانے سے عاجز، ہیں اس لیے ان کا معاملہ موقوف رہا۔ اگروہ فصاحت میں ایک ہی مرتبہ پر ہوتے اور اسلام قبول کرنے سے بار رکھنے والے اسباب یکساں ہوتے تو بیک وقت سب کے سب مشرف با سلام ہو جاتے۔۸؂

ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی اس کے جواب میں کہتی ہیں کہ جو شخص عربی زبان جانتا ہو لیکن فصاحت کے اس درجے پر نہ ہو جو اسالیب کلام اور زبان جاننے کے وجوہ کی معرفت کے لیے ضروری ہے، وہ عجمی کے برابر ہے کیونکہ جس طرح عربی نہ جاننے والا اعجاز قرآن کا ادراک نہیں کر سکتا، اسی طرح وہ بھی اس سے ناواقف رہتا ہے۔ اس معاملہ میں ایک عرب اہل زبان جو زبان کے اس مرتبے پر نہ ہو اور غیر اہل زبان دونوں برابر ہیں۔۹؂

اس کلام میں ضعف اور زیادتی ہے، اس لیے کہ زمانہ بعثت میں اہل عرب تمام کے تمام فصحاء تھے، اگرچہ ان میں بلاغت اور اظہار کی قدرت کے مراتب میں تفاوت تھا اور اس میدان میں بلیغ خطباء اور ماہر شعراء کو امتیاز حاصل تھا۔ ایسا بھی نہ تھا کہ وہ اچھے اور برے قول اور اعلیٰ اور ادنیٰ کلام میں فرق نہ کر سکتے ، مگر ان میں تنقیدی حس موجود تھی جسے خالص لغوی سلیقہ نے مزید جلا بخشی تھی۔ ۱۰؂

ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی فرماتی ہیں کہ اعجاز قرآن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر فرد قرآن جیسا کلام پیش کرنے کی قدرت کا گمان کرنے لگے، پھر ویسا کرنے سے عاجز ہو جائے اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایک فرد کے بجائے تمام ماہرین فصاحت سے رجوع کیا جائے اور وہ اس کا مثل لانے سے عاجز رہیں ۔ لہٰذا اصل بات یہ ہے کہ تمام اہل عرب فصحاء تھے۔۱۱؂

۳۔ قرآن کریم کا چیلنج 

اب ذرا زمانہ جاہلیت کے اہل عرب کا تصور کیجیے۔ خطابت اور شاعری ان کے معاشرے کی روح رواں تھی۔ عربی شعر و ادب کا فطری ذوق ان کے بچے بچے میں سمایا ہوا تھا۔ فصاحت و بلاغت ان کی رگوں میں خون حیات بن کر دوڑتی تھی۔ ان کی مجلسوں کی رونق، ان کے میلوں کی رنگینی ، ان کے فخر وناز کا سرمایہ اور ان کی نشرو اشاعت کا ذریعہ سب کچھ شعرو ادب تھا اور انہیں اس پر اتنا غرور تھا کہ وہ اپنے سوا تمام قوموں کو ’’ عجم ‘‘ یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ایسے ماحول میں ایک اُمّی (جناب محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک کلام پیش کیا اور اعلان فرمایا کہ یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ:

قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی أَن یَأْتُواْ بِمِثْلِ ہَذَا الْقُرْآنِ لاَ یَأْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْراً (الاسراء/۸۸)
’’ اگر تمام انسان اور جنات مل کر اس قرآن جیسا (کلام) پیش کرنا چاہیں تو اس جیسا پیش نہیں کر سکیں گے، خواہ وہ ایک دوسرے کی کتنی مدد کیوں نہ کریں ‘‘۔ 

یہ اعلان کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ دعویٰ اس ذات پاکؐ کی طرف سے تھا جس نے کبھی وقت کے مشہور ادباء اور شعراء سے کوئی علم حاصل نہ کیا تھا۔ کبھی مشاعرے کی محفلوں میں کوئی ایک شعر بھی نہیں پڑھا تھا اور کبھی کاہنوں کی صحبت بھی نہ اٹھائی تھی۔ خود شعر کہنا تو درکنار آپؐ کو دوسرے شعراء کے اشعار تک یاد نہیں تھے۔ پھر یہی وہ ذات تھی جسے میدان فصاحت کے یہ سور ما ایک نئے دین کا بانی کہا کرتے تھے۔ اگریہ اعلان سچا ثابت ہو جائے تو ان کے آبائی دین کی ساری عمارت منہ کے بل گر پڑتی ۔ اس لیے یہ اعلان تو درحقیقت ان کی ادبی صلاحیتوں کو ایک زبردست چیلنج تھا۔۱۲؂

سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمایا کہ 

وَإِن کُنتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَۃٍ مِّن مِّثْلِہِ وَادْعُواْ شُہَدَاءَ کُم مِّن دُونِ اللّٰہِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ (البقرۃ / ۲۳، ۲۴)
’’اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ۔ اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو۔ ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو ۔ اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھاؤ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور یقیناًکبھی نہیں کر سکتے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر، جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے‘‘۔ 

اس طرح اس آیت مبارکہ کے ذریعے چیلنج ختم کر دیا گیا۔ اس سلسلہ میں مکی عہد میں ۸۶ سورتیں نازل ہوئیں لیکن اہل عرب قرآن جیسی ایک سورت بھی لانے سے عاجز وبے بس رہے۔ 

ڈاکٹر عائشہ کہتی ہے کہ بعض متکلمین کا یہ خیال ہرگز درست نہیں۔۔۔ جیسا کہ قاضی عبدالجبار نے نقل کیا ہے ۔۔۔ کہ نبیؐ نے قرآن کے ذریعے انہیں اس وقت چیلنج کیا جب آپ کو قوت و شوکت حاصل ہو گئی تھی، آپ کی دعوت پھیل گئی تھی، آپ کے اصحاب کثیر تعداد میں ہو گئے تھے اور آپ نے ان سے جنگ بھی چھیڑ دی تھی، اس لیے اہل عرب خوف کی وجہ سے ان کا مثل نہ لا سکے۔ کیوں کہ سورۃ بقرہ کی آیت کے علاوہ بھی چیلنج کی تمام آیات ہجرت سے قبل ہی نازل ہوئی تھیں جب مکہ میں ظلم و زیادتی ، اذیت و تعذیب اور فتنہ اپنے بام عروج پر تھا۔۱۳؂

ولید بن مغیرہ کا واقعہ حضرت ابن عباسؓ نقل فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جب موسم حج آیا تو اس نے قریش کو جمع کر کے کہا کہ موسم حج میں عرب کے مختلف قبائل یہاں آئیں گے۔ اس لیے محمد کے بارے میں کوئی ایسی بات طے کر لو کہ پھر باہم کوئی اختلاف نہ ہو۔ قریش نے کہا کہ ہم لوگوں سے یہ کہیں گے کہ محمد کاہن ہیں ۔ ولید نے کہا : خدا کی قسم! ان کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے۔ قریش نے کہا کہ پھر ہم انہیں مجنون کہیں گے، ولید بولا کہ ان میں جنون کا شائبہ تک نہیں ۔ قریش کہنے لگے کہ پھر ہم کہیں گے کہ وہ شاعر ہیں ۔ ولید نے کہا کہ شعر کی تمام اصناف سے میں واقف ہوں۔ یہ کلام شعر ہرگز نہیں ہے۔ قریش نے کہا کہ پھر ہم انہیں جادوگر کہہ دیں ۔ ولید نے پہلے اس کا بھی انکار کیا مگر عاجز آ کر اسی پر فیصلہ ہوا۔۱۴؂

البتہ چند مسخروں نے قرآن کریم کے مقابلے میں کچھ مضحکہ خیز جملے بنائے تھے وہ تاریخ کے صفحات میں آج تک محفوظ ہیں اور اہل عرب ہمیشہ ان کی ہنستی اڑاتے آئے ہیں۔ مثلاً کسی نے ’’ سورۃ القارعہ ‘‘ اور ’’ سورۃ الفیل ‘‘ کے انداز پر یہ جملے کہے تھے کہ: الفیل ما الفیل وما ادراک ماالفیل لہ مشفر طویل وذنب اثیل وما ذاک من خلق من ربنا لقلیل۔۔۔ یا کسی نے قرآن کے مقابلے پر یہ جملے بنائے تھے: الم ترا الی ربک کیف فعل بالحبلی اخرج منھا نسمۃ تسعی بین شراسیف وحشی۔۔۔ پھر نزول قرآن کے کافی عرصے کے بعد عربی کے مشہور ادیب اور انشاء پرداز عبداللہ بن المقفع (المتوفی ۱۴۲ھ) نے قرآن کریم کا جواب لکھنے کا ارادہ کیا لیکن اسی دوران کسی بچے کو یہ آیت پڑھتے سنا کہ: وَقِیْلَ یَا أَرْضُ ابْلَعِیْ مَاء کِ وَیَا سَمَاء أَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَاء وَقُضِیَ الأَمْرُ (ہود /۴۴) تو پکار اٹھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کلام کا معارضہ ناممکن ہے اور یہ ہرگز انسانی کلام نہیں۔ ۱۵؂

اعجاز قرآن کے مختلف وجوہ

زمانہ قدیم سے مسلم علماء سلف میں اعجاز کی بحث ہوتی رہی ہے اور اعجاز کے وجوہ میں ان کے مختلف مسالک اور متعدد اقوال رہے ہیں۔ انہوں نے وجوہ اعجاز کے بارے میں کچھ بھی کہا ہو۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کا بلاغی اعجاز کبھی جدل و اختلاف کا موضوع نہیں بنا۔ اسلامی فرقوں میں اس کے بارے میں اگر کچھ اختلاف رہا ہے تو محض یہ کہ صرف بلاغت ہی قرآن کا وجہ اعجاز ہے یا اس کے ساتھ ساتھ دوسرے وجوہ بھی ہیں۔ بظاہر ان کے کلامی مجادلہ کے شور میں اختلاف کا شبہ ہوتا ہے لیکن اگر ان کے موقف میں بنظر غائر دیکھا جائے تو آخر کار کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔۶ ۱؂

علامہ الرمانی کہتے ہیں کہ اعجاز قرآن کے وجوہ ان امور سے ظاہر ہوتے ہیں کہ باوجود بکثرت و داعی اور سخت حاجت ہونے اور تمام لوگوں کے مقابلہ پر تحدی کیے جانے کے اس کا معارضہ کسی سے نہ بن آیا۔۱۷؂ جبکہ علامہ زرکشیؒ نے وجوہ کی ایک وجہ وہ رعب بیان کیا ہے جو کہ اس کے سننے سے سامعین کے قلوب میں پیدا ہوتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ سننے والے قرآن کے مقر ہوں یا منکر ۔ ۱۸؂ اس بات میں تو کسی کو شک نہیں کہ اعجاز قرآن کی بہت سی وجہیں ہیں۔ یہاں چند وجوہ کو بیان کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ 

۱۔ قرآن کریم کی بلاغت اور فصاحت:

قرآن حکیم بلاغت کے اس اعلیٰ معیار پر پہنچا ہوا ہے جس کی مثال انسانی کلام میں قطعی نہیں ملتی۔ ان کے کلام کی بلاغت اس معیار تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ بلاغت کا مطلب یہ ہے کہ جس موقع پر کلام کیا جا رہا ہے اس کے مناسب معنی کے بیان کے لیے بہترین الفاظ اسی طرح منتخب کیے جائیں کہ مدعا کے بیان کرنے میں اور اس پر دلالت کرنے میں نہ کم ہوں نہ زیادہ ہوں۔ لہٰذا قرآن کریم بلاغت کے اس بلند معیار پر پورا اترتا ہے۔

علامہ جلال الدین السیوطیؒ کہتے تھے کہ قرآن کریم کی بلاغت اور اُس کے آئندہ معاملات میں پیشین گوئیاں اور اس کا معمول کو توڑ دینا اور پھر اس کا ہر ایک معجزہ پر قیاس ہونا، یہ باتیں بھی اُس کے اعجاز کی مثبت ہیں۔ اور معمول کلام توڑنا اس بات کا نام ہے کہ نزول قرآن سے قبل اور اس کے عہد میں معمول اور عادات کے مطابق کلام کی کئی نوعیں رائج تھیں۔ مثلاً شعر ، سجع ، خطبے ، رسائل اور منشور کلام جس کے ذریعہ سے لوگ معمولی بات چیت کیا کرتے ہیں اور جو روزمرہ کی بول چال ہے مگر قرآن نے ان سب طریقوں سے جدا اور خارج از عادت ایک نیا مفرد طریقہ پیش کیا جس کا درجہ حسن میں ہر ایک پر فائق ہے۔۱۹؂

قرآن کریم کے جملوں میں وہ شوکت ، سلاست اور شیرینی ہے کہ اس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔ یہاں صرف ایک مثال پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ 

قاتل سے قصاص لینااہل عرب میں بڑی قابل تعریف بات تھی اور اس کے فوائد ظاہر کرنے کے لیے عربی میں کئی مقولے مشہور تھے۔ مثلاً : القتل احیاء للجمیع (قتل اجتماعی زندگی ہے) اور القتل الفی للقتل  (قتل سے قتل کی روک تھام ہوتی ہے) اور اکثروا القتل لیفل القتل  (قتل زیادہ کرو تاکہ قتل کم ہو جائے) ۔ 

ان جملوں کو اتنی مقبولیت حاصل تھی کہ یہ زبان زد عام تھے اور فصیح سمجھے جاتے تھے۔ قرآن کریم نے بھی اسی مفہوم کو ادا فرمایا لیکن کس شان سے ؟ ارشاد ہے : 

وَلَکُمْ فِیْ الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ (البقرۃ/۱۷۹)
’’ اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے ‘‘۔ 

اس جملے کے اختصار ، جامعیت ، سلاست ، شوکت اور معنویت کو جس پہلو سے دیکھیے بلاغت کا معجز شاہکار معلوم ہوتا ہے اور پہلے کے تمام جملے اس کے آگے سجدہ ریز دکھائی دیتے ہیں ۔ ۲۰؂

۲۔ اسلوب کا اعجاز:

زمانہ بعثت میں جب مشرکین اہل عرب قرآن کے مثل ایک سورت بھی نہ لا سکے تو اس پر چیلنج کی بحث ختم کر دی گئی۔ تاکہ اعجاز کا مسئلہ پے در پے نسلوں کے سامنے رہے اور یہ سوال ہمیشہ ان کے پیش نظر رہے کہ آخر اہل عرب قرآن کے مثل ایک سورۃ بھی لانے سے کیوں قاصر و عاجز رہے۔ 

قرآن کریم کے اعجاز کا سب سے زیادہ روشن مظاہرہ اس کے اسلوب میں ہوتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا مشاہدہ ہر کس و ناکس کر سکتا ہے۔ اس کے اسلوب کی چند اہم معجزانہ اور خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ 

۱۔ قرآن کریم ایک ایسی نثر پر مشتمل ہے جس میں شعر کے قواعد و ضوابط ملحوظ نہ ہونے کے باوجود ایک ایسا لذیذ اور شیریں آہنگ پایا جاتا ہے جو شعر سے کہیں زیادہ حلاوت اور لطافت کا حامل ہے۔ ۲۱؂

۲۔ علماء بلاغت نے اسلوب کی تین قسمیں قرار دی ہیں۔ ۱۔خطابی ۲۔ادبی ۳۔علمی

ان تینوں قسموں کے دائرے الگ الگ ہیں۔ خصوصیات جدا اور ان تینوں کو ایک ہی عبارت میں جمع نہیں کیا جا سکتا مگر قرآن کریم کا اعجاز یہ ہے کہ وہ ان تینوں اسالیب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ 

۳۔ اگر ایک ہی بات کو بار بار دہرایا جائے تو کہنے والا ادب و انشاء میں خواہ کتنا بلند پایہ مقام رکھتا ہو ایک مرحلے پر پہنچ کر سننے والے اکتا جاتے ہیں، لیکن قرآن کریم کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں ایک ہی بات بعض اوقات بیسیوں مرتبہ کہی گئی ہے۔ ایک ہی واقعہ بار بار مذکور ہوا ہے لیکن ہر مرتبہ نیا کیف ، نئی تاثیر محسوس ہوتی ہے۔ ۲۲؂

۳۔ غیب کی خبروں سے اعجاز کا پہلو:

قرآن کے اعجاز کی وجوہ میں سے تیسری بڑی وجہ غیب کی خبروں کے بارے میں پیشن گوئیاں ہیں ۔یہاں پر صرف چند پیشن گوئیاں بیان کی جا رہی ہیں۔ 

قرآن کریم آنے والے واقعات کی ان پیشن گوئیوں پر مشتمل ہے جو بالآخر سو فیصد درست ثابت ہوئیں۔ 

(۱) الم، غُلِبَتِ الرُّومُ، فِیْ أَدْنَی الْأَرْضِ وَہُم مِّن بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُونَ، فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ (الروم/ ۱۔۳)
’’ ا۔ل۔م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے ‘‘ ۔
(۲) لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاء اللَّہُ آمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُؤُوسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لَا تَخَافُونَ (الفتح/۲۷)
’’ اگر اللہ نے چاہا تو تم مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گئے۔ اس طرح کہ تم میں بعض نے اپنے سرمنڈوائے ہوئے ہوں گے ، بعض نے بال چھوٹے کرائے ہوئے ہوں گے اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا‘‘۔ 
(۳) سَتُدْعَوْنَ إِلَی قَوْمٍ أُوْلِیْ بَأْسٍ شَدِیْدٍ (الفتح/۱۶)
’’ عنقریب تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بلایا جائے گا جو سخت قوت والی ہے‘‘۔

اس میں جو خبر دی گئی ہے وہ بعینہ اسی طرح واقع ہوئی۔ اس لیے کہ سخت قوت والی قوم کا مصداق راحج قول کے مطابق بنو حنیفہ مسلیمۃ الکذب کا قبیلہ ہے اور بلانے والے صدیق اکبرؓ ہیں۔ 

(۴) إِذَا جَاء نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ أَفْوَاجاً (النصر/۱،۲)
’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے اور آپؐ لوگوں کو دیکھ لیں کہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں‘‘۔ 

یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے، کیونکہ صحیح قول کے مطابق یہ سورت فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی ہے۔ اس لیے کہ اِذَا استقبال کو مقتضی ہے۔گزرے ہوئے واقعہ کے لیے اِذَا جَأءَ مستعمل نہیں ہوتا اور نہ اِذَا وَقَعَ کہا جاتا ہے۔ سو مکہ فتح ہو گیا اور لوگ جوق در جوق گروہ در گروہ اہل مکہ اور طائف کے رہنے والے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں داخل اسلام ہوئے۔ 

(۵) قُل لِّلَّذِیْنَ کَفَرُواْ سَتُغْلَبُونَ (آل عمران/۱۲)
’’ آپ کافروں سے کہہ دیجیے کہ عنقریب تم مغلوب ہوجاؤ گے ‘‘۔ 

ٹھیک اسی طرح واقع ہوا جس طرح خبر دی گئی اور کفار مغلوب ہو گئے۔۲۳؂

اعجازِ قرآن اور اہل بلاغت

مفسرین اور خاص طور پر ان میں سے اہل بلاغت نے آیات قرآنی کی تفسیر کے سیاق میں بلاغت کے جن پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ قرآن کے اعجازبیان پر اس اجماع نے اعجاز کی بحث کو خاص طور پر بلاغی میدان میں منتقل کر دیا۔ بلاغی اعجاز کے سلسلہ میں ابتدائی کوششیں ظاہر ہوئیں اور عبدالقاہر جرجانی کو اس بات میں شہرت حاصل ہوئی کہ وہ نظم میں اعجاز کے قائل ہیں۔ اسی طرح ابوبکر باقلانی اس حیثیت سے مشہور ہوئے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قرآن کی بلاغت میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ 

اگر ہم بلاغی اعجاز کے سلسلہ میں ان ابتدائی مصنفین کے اسلوب اور طریقہ بحث پر کوئی حکم نہیں لگا سکتے جن کی کتابیں ہم تک نہیں پہنچ سکی ہیں تو کم از کم ان لوگوں کے اسالیب میں تو ضرور غور کر سکتے ہیں جن کی کتابیں ہم تک پہنچتی ہیں اور جو ہمارے لیے نقوش راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چند کا مختصراً تعارف یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ 

۱۔ خطابی ؒ 

سب سے پہلے خطابی (متوفی ۳۸۸ھ) نے چوتھی صدی ہجری میں اپنے رسالہ ’’ بیان اعجاز القرآن ‘‘ میں نظم کے ذریعے اعجاز کے فکر کی تشریح کی۔ اسی طرح بلاغت کے پہلو سے اعجاز کی وضاحت کی جس کے ان سے پہلے اکثر علماء اہل نظر قائل تھے، اگرچہ ان کی فکر اس سلسلہ میں ایک قسم کی تقلید اور غلبہ ظن پر مبنی تھی۔ 

خطابی نے اس کتاب میں ان لوگوں کے شبہات کا بھی جواب دیا جنہوں نے بعض قرآنی آیات کی بلاغت پر اعتراض کیا اور مدعیان نبوت کے ان اقوال کا رد کیا ہے جنہیں ’’ معارضات قرآن ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کتاب کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ خطابی نے قرآن کریم کے ایسے الفاظ میں دلالت کے لحاظ سے باریک فرق کی طرف اشارہ کیا ہے جن کے بارے میں ہماری ڈکشنریوں اور تفسیر کی کتابوں میں کیا جاتا ہے۔۲۴؂

۲۔ رمانی ؒ 

علی بن عیسیٰ الرمانی نے، جو چوتھی صدی ہجری کے ہیں، اپنے رسالہ ’’ النکت فی اعجاز القرآن ‘‘ میں بلاغت قرآن کو موضوع بنایا ہے۔ شروع میں انہوں نے اعجاز قرآن کے سلسلہ میں سات وجوہ بیان کیے ہیں پھر بلاغت کے پہلو سے اعجاز پر تفصیل سے بحث کی ہے۔۲۵؂

۳۔ قاضی عبدالجبار ؒ 

قاضی عبدالجبار معتزلی کی کتاب ’’ المغنی ‘‘ کا جو حصہ ’’ اعجاز قرآن ‘‘ کے لیے خاص ہے اس میں قرآن کی فصاحت ، بحث و نظر کا موضوع رہی ہے۔۲۶؂

۴۔ باقلانی ؒ 

چوتھی صدی کے اواخر میں باقلانی ظاہر ہوئے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب ’’ اعجاز القرآن ‘‘ پیش کی جو اعجاز پر خالص قرآنی مطالعہ نہیں جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے اور جیسا کہ اس کے مقدمہ میں بھی باقلانی وعدہ کرتے ہیں بلکہ وہ کلامی اور مذہبی مجادلہ اور شعرو نثر کے بے شمار طویل نصوص کی ادبی تنقید سے زیادہ قریب ہے۔ 

باقلانی کی کتاب کا مطالعہ کرنے والے کے لیے دشوار ترین امر یہ ہے کہ کلامی مجادلہ اور شعر و نثر کے طویل نصوص کے اس طومار سے نظم قرآن کے بلاغی اعجاز کے سلسلہ میں باقلانی کی کوئی واضح فکر حاصل کر سکے۔ 

۵۔ جرجانی ؒ 

پانچویں صدی ہجری میں عبد القاہر جرجانی نے اپنے رسالہ ’’الشافیہ‘‘ میں اعجاز کی بحث میں متکلمین اور مذہبیین کے اختلافات کا جائزہ لیا اور ان تمام لوگوں کے شبہات کا استقصاء کیا جنہوں نے اعجاز کو اس کے بلاغی پہلو سے پھیر دیا ہے خاص طور پر وہ لوگ جو ’’صرفہ‘‘ کے قائل ہیں۔ ۲۷؂

عبدالقاہر کے نزدیک نظم میں اس بلاغی اعجاز کو وہ شخص نہیں سمجھ سکتا جو سمجھنے کے آلہ سے محروم ہو اور وہ ہے علم بلاغت و فصاحت ، انہوں نے اپنی کتاب ’’ دلائل الاعجاز ‘‘ میں اس علم کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ جرجانی نے اپنی کتاب ’’دلائل الاعجاز ‘‘ کی ابتدائی فصلوں میں اپنے مسلک کا اثبات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فصاحت و بلاغت میں اصل اعتبار نظم کا ہے نہ کہ الفاظ کا اس لیے کہ الفاظ معانی کے خادم ہوتے ہیں چونکہ ان کا خیال ہے کہ نظم قرآن کا اعجاز اسی وقت سمجھ میں آ سکتا ہے جب فصاحت کے اسرار کا ادراک حاصل ہو۔۲۸؂

اعجاز قرآن پر عیسائی علماء کے اعتراضات 

پہلا اعتراض:  قرآن کریم کی بلاغت پر 

عیسائی علماء قرآن کریم پر اعتراض یہ کرتے ہیں کہ یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کریم بلاغت کے اس انتہائی معیار پر پہنچا ہوا ہے جو انسانی دسترس سے باہر ہے اور اگر اس کو مان بھی لیا جائے تب بھی یہ اعجاز کی ناقص دلیل ہے، کیونکہ اس کی پہچان اور شناخت صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کو عربی زبان اور لغت عرب کی پوری مہارت ہو۔ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ تمام کتابیں جو یونانی ، لاطینی زبانوں میں بلاغت کے اعلیٰ معیار پر پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ بھی کلام الٰہی مانی جائے۔ 

جواب : 

قرآن کریم کی عبارت کو بلاغت کے اعلیٰ درجہ تک پہنچا ہوا نہ ماننا سوائے ہٹ دھرمی کے کچھ نہیں۔ رہی یہ بات کہ اس کی شناخت صرف وہی کر سکتا ہے جس کو عربی زبان کی کامل مہارت ہو ، سو یہ درست ہے لیکن اس سے ان کا مدعا ہرگز ثابت نہ ہو گا کیونکہ یہ معجزہ بلغاء اور فصحاء کو عاجز اور قاصر کرنے کے لیے تھا اور ان کا عاجز ہونا ثابت ہو چکا، نہ صرف یہ کہ وہ معارضہ نہیں کر سکے بلکہ اپنی عاجزی کا اعتراف بھی کیا اور مسلمانوں نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا سبب صرف اس کا بلیغ ہونا ہے بلکہ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ بلاغت بھی قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے بے شمار اسباب میں سے ایک سبب ہے اور قرآن کریم اس لحاظ سے منجملہ بہت سے معجزات کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ ہے۔ ۲۹؂

جسٹس محمد تقی عثمانی اس اعتراض کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگرشیخ سعدی کی کتاب فارسی زبان کی اعلیٰ ترین کتاب تسلیم کی جاتی ہے یا پھر دوسرے لوگوں نے اپنی اپنی زبانوں میں جو اعلیٰ بلاغت پر کتب لکھی اور آج تک ان کی کوئی نظیر پیش نہیں کر سکا تو پھر بھی ان اعلیٰ غلاغت کی کتب کو کلام الٰہی تسلیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ کلام الٰہی کو کلام الٰہی اس لیے تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ کلام ایک اُمّی نے پیش کیا۔ جبکہ شیخ سعدی نے دن رات محنت کر کے اساتذہ سے علم حاصل کر کے اعلیٰ بلاغت کی کتب لکھی جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ کوئی استاد تھا اور نہ ہی آپ پڑھے لکھے تھے۔ ۳۰؂

دوسرا اعتراض: بائبل کی مخالفت 

چونکہ قرآن کریم نے بعض مقامات پر عہد نامہ جدید و عہد نامہ قدیم کی کتابوں کی مخالفت کی ہے اس لیے وہ خدا کا کلام نہیں ہو سکتا ؟ 

جواب : 

عیسائی پادری قرآن کریم اور بائبل کے درمیان جو مخالفتیں بیان کرتے ہیں وہ تین قسم کی تھیں۔

اول : منسوخ احکام کے لحاظ سے 

دوم : بعض واقعات ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور دونوں عہد ناموں میں نہیں پایا جاتا۔ 

سوم: قرآن کے بعض بیان کردہ حالات ان کتابوں کے بیان کیے ہوئے احوال کے مخالف ہیں۔ 

ان تینوں لحاظ سے عیسائیوں کا قرآن پر طعن کرنا محض بے جا اور بے معنی ہے کیونکہ قرآن کریم نے سابقہ کتب کے احکام کو منسوخ کر دیا اور یہ عمل کثرت سے سابقہ شریعتوں میں بھی پایا جاتا رہا ہے تو پھر قرآن کے منسوخ احکام پر ہی اعتراض کیوں ؟ جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت نے سوائے نو ( 9 ) احکام کے تمام احکام کو منسوخ کر دیا، یہاں تک کہ توریت کے مشہور دس احکام بھی منسوخ کر دیے گئے۔ پھر عہد نامہ جدید میں بہت سے قصے وہ ذکر کیے گئے ہیں جن کا ذکر عہدنامہ قدیم کی کسی کتاب میں نہیں۔ ۳۱؂

تیسرا اعتراض: اللہ کی جانب گمراہی کی نسبت 

قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ ہدایت اور گمراہی اللہ کی جانب سے ہے۔ جنت میں نہریں اور حوریں اور محلات ہیں اور کافروں کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہے۔ یہ تینوں کام قبیح اور برے ہیں جو اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن جو ایسے قبیح مضامین پر مشتمل ہے وہ اللہ کا کلام نہیں ہو سکتا۔ 

جواب : 

پہلی بات کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس قسم کا مضمون عیسائیوں کی مقدس کتابوں میں بہت سے مقامات پر موجود ہے۔ لہٰذا ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ ان کی مقدس کتابیں بھی یقینی طور پر منجانب اللہ نہیں ہیں۔ کچھ آیات یہاں نقل کی جا رہی ہیں:

۱۔ ’’ پر خداوند نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا اور اس نے بنی اسرائیل کو جانے نہ دیا‘‘۳۲؂
۲۔ ’’ لیکن خداوند نے تم کو آج تک نہ تو ایسا دل دیا جو سمجھے اور نہ دیکھنے کی آنکھیں اور سننے کے کان دیئے‘‘ ۳۳؂
۳۔ ’’ اس سبب سے وہ ایمان نہ لا سکے کہ یسعیاہ نے پھر کہا ، اس نے ان کی آنکھوں کو اندھا اور دل کو سخت کر دیا، ایسا نہ ہو کہ وہ آنکھوں سے دیکھیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع کریں ‘‘ ۳۴؂

دوسری بات کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امر میں کہ جنت حورو قصور اور دوسری نعمتوں پر مشتمل ہے۔ عقلی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے، نیز مسلمان یہ نہیں کہتے کہ جنت کی لذتیں جسمانی لذتوں تک محدود ہیں، جس طرح فرقہ پروٹسٹنٹ کے علماء غلطی سے یا عوام کو غلطی میں ڈالنے کے لیے کہتے ہیں بلکہ جنت روحانی اور جسمانی ہر دو قسم کی لذتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پہلی لذت دوسری سے بڑھی ہوئی ہے۔۳۵؂

چوتھا اعتراض: اختلافات مضامین 

قرآن کریم میں وہ مضامین نہیں پائے جاتے جو روح کے مقتضیات اور اس کے پسندیدہ ہو سکتے ہیں۔ 

جواب : 

دو چیزیں جو روح کے مقاصد اور مقتضیات ہیں اور جو اس کی پسند اور چاہت کی چیزیں ہیں، وہ صرف دو ہیں۔ کامل اعتقادات اور نیک اعمال۔ قرآن کریم ان دونوں قسم کے مضامین کو مکمل طور پر بیان کرتا ہے۔ ۳۶؂

پانچواں اعتراض: قرآن کا معنوی اختلاف 

قرآن میں جابجا معنوی اختلاف پائے جاتے ہیں۔ مثلاً : 

لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ (البقرۃ/۲۵۶)
’’ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے‘‘ 
فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَکِّرٌ، لَّسْتَ عَلَیْْہِم بِمُصَیْْطِرٍ (الغاشیۃ/۲۱، ۲۲)
’’ پس اے نبیؐ! آپ نصیحت کیجیے آپ نصیحت کرنے والے ہی تو ہیں۔ آپ ان کے داروغہ نہیں ‘‘

یہ آیات ان آیات کے مخالف ہیں جن میں جہاد کا حکم پایا جاتا ہے۔ 

اسی طرح اکثر آیتوں میں کہا گیا ہے کہ مسیح انسان اور صرف رسول ہیں :

إِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِّنْہُ (النساء/۱۷۱)
’’ بلاشبہ عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول اور اللہ کا وہ کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم پر نازل کیا، اور اللہ کی روح ہیں ‘‘ 

اس کے برعکس دوسرے موقع پر کہا گیا ہے کہ وہ نوع انسانی میں سے نہیں ہیں بلکہ ان کا مقام بلند تر ہے:

وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِن رُّوحِنَا (التحریم/۱۲)
’’ اور مریم بنت عمران جس نے اپنی شرمگاہ کو (بدکاری) سے محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی‘‘ 

جواب : 

پہلے اختلاف کی نسبت تو یہ کہا جائے گا کہ اس کو اختلاف کہنا ہی غلط ہے، بلکہ یہ حکم جہاد کے حکم سے قبل کا ہے۔ جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو پہلا حکم منسوخ ہو گیا اور نسخ کو اختلاف معنوی کہنا بالکل لغو ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ توریت اور انجیل کے تمام احکام منسوخہ میں اختلاف معنوی تسلیم کیا جائے۔ 

جب ان دونوں آیتوں کے فیصلہ کے مطابق مسیح خدا کی روح ہیں تو ضروری بات ہے کہ وہ الوہیت کے درجہ میں ہوں کیونکہ خدا کی روح خداسے کم نہیں ہو سکتی۔ عیسائی علماء کا یہ اعتراض در حقیقت صرفی قواعد سے لاعلمی کی بنیاد پر ہے اور یہ دونوں قسم کی آیات ہرگز اس پر دلالت نہیں کرتیں کہ عیسیٰ بن مریم نوع انسانی میں سے نہیں ہیں۔ 


حوالہ جات

۱؂ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الاتقان فی علوم القرآن ، بیروت: دارالمعرفہ، ۱۳۱۷ھ، جلد ۲،ص۲۲۸

۲؂ ایضاً

۳؂ ایضاً،۲/۲۲۹۔۲۲۸

۴؂ ابن ہشام، جمال الدین عبداللہ بن یوسف، السیرۃ النبویۃ، بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۳۹۸ھ، جلد۱، ص ۷۰ ۔ ۳۶۹

۵؂ ایضاً ، ۲/۲۳۵ 

* مزید وضاحت کیلئے دیکھیں، اعجاز القرآن ازباقلانی، ص ۳۸

۶؂ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الخصائص الکبریٰ، بیروت: دارصادر، جلد۱، ص ۱۱۳

۷؂ البلاقانیؒ ، ابوبکر قاضی، اعجاز القرآن، مصر: دارالمعارف، ۱۱۱۹ھ، ص ۴۰

۸؂ ایضاً، ص ۱۷۱

۹؂ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، مترجم(محمد رضی الاسلام ندوی)، لاہور: دارالکتاب،جولائی ۲۰۰۴ء، ص ۴۸

۱۰؂ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۴۸

۱۱؂ ایضاً، ص ۴۹

۱۲؂ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، کراچی: مکتبہ دارالعلوم، ۱۴۲۳ھ، ص ۵۰۔۲۴۹

۱۳؂ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۸۱

۱۴؂ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الخصائص الکبریٰ، جلد۱، ص۱۱۳

۱۵؂ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، ص ۵۴۔۲۵۳

۱۶؂ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۹۸

۱۷؂ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الاتقان فی علوم القرآن ، جلد ۲، ص۲۳۰

۱۸؂ الزرکشیؒ ، بدر الدین، امام، البرہان فی علوم القرآن، بیروت: دارالمرفۃ، ۱۲۱۷ھ، جلد۱، ص ۱۴۲

۱۹؂ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الاتقان فی علوم القرآن ، جلد ۲، ص۲۳۵

۲۰؂ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، ص ۲۵۹

۲۱؂ یہ پوری بحث حضرت شاہ ولی اللہ محدث علی دہلویؒ کی کتاب ’’الفوزالکبیر فی اصول تفسیر‘‘ میں دلکھیں۔

۲۲؂ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، ص ۶۴۔۲۶۳

۲۳؂ کیرانویؒ ، رحمت اللہ، مولانا، اظہار الحق، بیروت: منشورات المکتبۃ المعریۃ، جلد۲، ص، ۹۹۔۹۸

۲۴؂ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۱۲۴۔۱۲۰

۲۵؂ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۱۲۵

۲۶؂ ایضاً، ص ۱۳۰

۲۷؂ ایضاً، ص ۱۴۷۔۱۳۴

۲۸؂ ایضاً، ص ۱۵۰۔۱۴۸

۲۹؂ کیرانویؒ ، رحمت اللہ، مولانا، اظہار الحق،جلد۲، ص، ۱۲۶۔۱۲۴

۳۰؂ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، ص ۲۵۹

۳۱؂ کیرانویؒ ، رحمت اللہ، مولانا، اظہار الحق،جلد۲، ص، ۲۷۔۱۲۶

۳۲؂ کتاب مقدس، عہد نامہ قدیم، کتاب خروج،باب، ۱۰، آیت ۲۰

۳۳؂ کتاب استثناء، باب ۲۹، آیت ۴

۳۴؂ انجیل یوحنا، باب ۱۲،آیت۱۰

۳۵؂ کیرانویؒ ، رحمت اللہ، مولانا، اظہار الحق،جلد۲، ص، ۱۲۶۔۱۲۵

۳۶؂ ایضاً، جلد۲، ص ۱۶۳

قرآن / علوم قرآن

(اگست ۲۰۱۴ء)

Flag Counter