جہادِ کشمیر کی شرعی بنیادیں

ڈاکٹر عصمت اللہ

تغیر، ارتقا اور تبدیلی انسانی زندگی کا لازمی خاصہ ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ حرب و ضرب اور جنگ کے مفہوم میں بھی مرورِ ایام کے ساتھ کافی تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔ اب یہ لفظ کئی طرح کی مختلف النوع جنگوں پر بولا جاتا ہے، مثلاً معروف عسکری زمینی جنگ، الیکٹرانک جنگ میڈیا کی جنگ، میزائیلوں کی جنگ، حیاتیاتی جنگ، کیمیائی جنگ، ایٹمی جنگ، نفسیاتی جنگ وغیرہ ۔ جنگ کی ان مختلف اقسام میں سے آخری قسم یعنی نفسیاتی جنگ اپنے نت نئے اور جدید ترین فکری اور نفسیاتی حربوں کی بدولت نظریاتی و جہادی تحریکوں کے حق میں دور حاضر کی سب سے خطر ناک اور تباہ کن جنگ تصور کی جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نفسیاتی جنگ کا اصل ہدف وہ نظریات اور اصول ہوتے ہیں جن پرکسی تحریک کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ اس جنگ میں پس پردہ رہ کر کاروائی کی جاتی ہے اور ہمیشہ پیٹھ کے پیچھے سے وار کیا جاتا ہے۔ افواہ سازی کے ذریعہ حوصلے پست کیے جاتے ہیں، خفیہ اور غیر محسوس طریقے سے ذہنوں کے اندر خیالات اتارے جاتے ہیں، مسلمہ عقائد و نظریات کے بارے میں دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ عقائد اور نظریات پر پختہ ایمان متزلزل ہو جائے اور لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر اندر ہی اندر سے شکست کھا جائیں۔ ان کے ایمان میں اتنی جان باقی نہ رہے کہ وہ انہیں کوئی بڑی قربانی دینے پر آمادہ کر سکے۔ یہ وہ خوفناک فکری و نفسیاتی چالیں ہیں جو اس جنگ میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اسی بنا پر اس جنگ کو کھلے میدان میں لڑی جانے والی دو بدو عسکری جنگوں سے بدرجہا زیادہ خطر ناک سمجھا جاتا ہے۔ 

موجودہ زمانے میں نفسیاتی جنگ ہی اصل اور حقیقی لڑائی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جسے موثر اور کامیاب بنانے کے لیے باقی عسکری طاقت کو اس کی پشت پر رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا طریق واردات یہ ہوتا ہے کہ بڑی محنت، توجہ، عرق ریزی، جستجو اورمکمل حساب کتاب کے بعد کچھ الفاظ، جملے، خیالات اور نظریات گھڑے جاتے ہیں جو اپنی فکری ہلاکت آفرینی کے اعتبار سے کسی طرح بھی مادی بموں اور میزائیلوں سے کم نہیں ہوتے۔ پھر ان مصنوعی افکار و نظریات کو بڑی چالاکی و مکاری سے دشمن کی صفوں میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے سپاہیوں اور کارندوں کو اپنے موقف کی سچائی کے متعلق شک میں مبتلا کر دیا جائے، اپنے قائدین، راہنماؤں اور کمانڈروں پر ان کے اعتماد کو ختم کر دیا جائے۔ ان کے ذہن میں کسی طرح یہ بات بٹھا دی جائے کہ تمھارا موقف اور تمھاری حکمت عملی درست نہیں اور موجودہ طریقہ کار سے تم کبھی فتح حاصل نہیں کر سکتے۔ اس وقت چونکہ نفسیاتی جنگ اور اس کی تفصیلات ہمارا موضوع نہیں ہیں، اس لیے ہم اس تمہید کو یہیں سمیٹتے ہوئے اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ 

کشمیر کی تحریک جہاد جو بھارتی تسلط کے خلاف فلسطین کی تحریک انتقاضہ کے ساتھ ہی شروع ہوئی تھی، اسے اب نفسیاتی، اخلاقی اور فکری محاذوں پر بظاہر زبردست مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس کے سامنے بھارتی ذرائع ابلاغ کی شکل میں صرف ایک دشمن نہیں ہے بلکہ بہت سے مسلمان اہل قلم،کئی معروف اسلامی شخصیات بھی دشمن کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک ہیں۔ بھارت کے شاطر حکمران ان بزرگوں کو خوب خوب استعمال کر رہے ہیں اور ان کی علمی اور قلمی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں تاکہ بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کی برین واشنگ کی جائے، ان کے ذہنوں میں جعلی اور بے سروپا خیالات ڈال کر اسلامی عقائد و نظریات پر ان کے ایمان کو متزلزل کیا جائے اور اس طرح امت مسلمہ کی نظر میں ان کی جہادی تحریک کو بدنام کر کے اپنے مذموم سیاسی مقاصد حاصل کیے جائیں۔ 

بھارت نے کشمیر کے اندر عسکری قوت کے استعمال سے بہت پہلے کشمیری عوام کے خلاف نفسیاتی جنگ کا آغاز کردیاتھا۔ بھارتی حکمرانوں نے کشمیر ی قائدین میں سے بعض چوٹی کے رہنماؤں کو خریدا اور انہیں استعمال کرتے ہوئے ہر محاذ پر جنگ کا آغاز کر دیا ۔ آج بھارت کے پاس بہت سے زر خرید اہل قلم، منبر و محراب سے تعلق رکھنے والی کئی علمی شخصیات موجود ہیں جو اس کے مقاصد کے لیے دانستہ یا نادانستہ طور پر آلہ کار بنی ہوئی ہیں۔ مظلوم کشمیری عوام کی صفوں کو درہم برہم کرنے اور ان کے جہاد کو ناکامی و ہزیمت سے دوچار کرنے کے لیے وہ کچھ کر رہی ہیں جو بھارت کی آٹھ لاکھ کے قریب مسلح فوج بھی نہیں کر سکی تھی۔ 

بھارت کی اس پروپیگنڈا مہم کے سلسلے میں کچھ عرصہ قبل نئی دہلی سے نکلنے والے کچھ رسالوں اور اخبارات میں بعض مضامین شائع ہوئے ہیں ۔ مثلاً ’’جہاد کشمیر اور اسلام: ایک غیر جانبدارانہ جائزہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون ماہنامہ ’’افکارِ ملی‘‘ دہلی میں شائع ہوا جسے ایک نامعلوم شخص محمد انیس نے تحریر کیا ہے جو علمی دنیا میں قطعاً ایک غیر معروف نام ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محض ایک علامتی نام ہو۔ اور ابھی حال ہی میں راقم کے کئی سال قبل (۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۴ء میں) ’’غزوۂ سند ھ وہند: ایک مبارک نبوی پیشین گوئی‘‘ کے عنوان سے لاہور اور لکھنو، انڈیا کے بعض رسائل ومجلات میں شائع ہونے والے ایک مضمون پر ایک تنقیدی مضمون ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں شائع ہوا جس کا عنوان ہے: ’’حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق‘‘۔ مضمون نگار مولانا محمد وارث مظہری ہیں اور اسے مجلہ الشریعہ کی طرف سے ایک ادارتی وضاحت کے ساتھ شائع کیا گیاتھا کہ یہ ہندوستانی مسلمانوں کا نقطہ نظر ہے:

’’ہمارے ہاں جہادی تصورات وعزائم کے اظہار میں بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت میں مقیم مسلمانوں کے زاویہ نظر کو بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ذیل کا مضمون اسی تناظر میں شائع کیا جا رہاہے۔ مصنف دار العلوم دیوبند کے قدیم فضلا کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری اور ماہنامہ ’’ترجمان دار العلوم‘‘ کے مدیر ہیں۔‘‘

میں اس مضمون کو وقت پر نہ دیکھ سکا۔ برادر عمار ناصر صاحب کے ساتھ بیروت کے سفر (اواخر مارچ ۲۰۱۰ء ) سے کچھ ہی روز قبل یہ مجھے ملا۔ میں نے ماہنامہ ’’ترجمان دار العلوم‘‘ سے اس کے اولین اور متبادر مفہوم کو لیا کہ مجلہ مذکور ہندوستان بلکہ عالم اسلام کی عظیم درسگاہ دار العلوم دیوبند سے شائع ہوتاہے، لیکن مضمون کا مطالعہ کرنے کے بعددل ودماغ نے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ ایسا مضمون کسی مسلمان کا ہوسکتاہے، چہ جائیکہ وہ ایک عالم دین بھی ہو اور دار العلوم دیوبند سے ایسے شخص کی نسبت کو ماننے سے دل، جو اکابر دار العلوم دیوبند سے اپنے بے شمار اساتذہ ومشائخ کی محبت کے ذریعے سے جڑا ہوا ہے، بالکل ہی منکر ہوا تو میں نے تحقیق کی غرض سے ماہنامہ دار العلوم دیوبند کو برقی خط لکھا جہاں سے جواب آیا کہ مولانا محمد وارث مظہری اور ان کے رسالہ ’’ترجمان دار العلوم‘‘ کا دیوبند سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ نئی دہلی سے یہ رسالہ نکالتے ہیں۔ بہرحال ہم اس مقالہ میں انیس صاحب کے مضمون میں اٹھائے گئے نکات پر اپنی معروضات پیش کریں گے اور کسی دوسرے موقع پر مولانا مظہری صاحب کے مضمون میں اٹھائے گئے نکات پر بھی ایک تجزیہ قارئین الشریعہ کے سامنے رکھیں گے۔ 

محمد انیس صاحب کا مضمون ان افکار وخیالات کا نچوڑ ہے جسے وقتاً فوقتاً بعض بھارتی مسلمان جنہیں ہم (مستشرق کے وزن پر )مستغرب کہہ سکتے ہیں، پھیلاتے رہتے ہیں۔ انیس صاحب کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے :

  • اس وقت کشمیر کے اندر بعض جنگجو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں جو ایک خونریز جنگ لڑ رہے ہیں، یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے، اس لیے کہ اس جنگ کا مقصد یا تو استصواب رائے سے متعلق اقوام متحدہ کے فیصلوں کانفاذ ہے یا آزادی کا حصول ہے اور یا پھر اس خطے کا پاکستان سے الحاق کرنا ہے۔ یہ سب سیاسی مقاصد ہیں، ان میں کوئی چیز بھی دینی حیثیت نہیں رکھتی۔ 
  • اس قسم کی گوریلا جنگ کا اسلام کی جہادی تاریخ میں کوئی تصو ر و وجود نہیں پایا جاتا، کیونکہ اس میں ’’ضرب لگاؤ اور بھاگو‘‘ کا اصول چلتا ہے جو کمزوری اور بے بسی کی دلیل ہے۔یہ ایک بزدلانہ طریقہ کار ہے جو اسلامی ہے نہ کسی مسلمان کے شایان شان۔ 
  • اس مسلح جدوجہد میں اسلامی جہاد کی اہم خصوصیات نہیں پائی جاتیں، مثلاً یہ کہ اسلا م میں جہاد کی حیثیت ایک دفاعی اقدام کی ہے نہ کہ پیش قدمی و چڑھائی کی۔ پھر یہ کہ مجاہدین کشمیر کے پاس بقدرضرورت جنگی طاقت ہے نہ سیاسی قیادت و متحدہ امارت، بلکہ وہ منتشر گروپوں اور تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں جو ان کے ضعف کی دلیل ہے۔ کمزور کے لیے واحد راستہ ہجرت ہے نہ کہ جہاد جیسے کہ اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے ہجرت کی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب تک آپ مکہ میں کمزور حیثیت میں تھے، کوئی مزاحمت کی نہ جہاد کیا بلکہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ 

اب ہم ان تمام اعتراضات اور شبہات کا قرآن و حدیث اور شرعی اصول وضوابط کی روشنی میں ایک جائزہ آپ کے سا منے رکھیں گے۔

مقدس و قابل احترام چیزوں کا دفاع انسانی فطر ت اور خدائی قانون

اللہ تعالیٰ نے انسان و حیوان دونوں کی فطرت میں یہ چیز ودیعت کی ہے کہ وہ اپنی ضروریات یا جدید محاورے کے مطابق اپنے بنیادی حقوق کا بھرپور دفاع کرتے ہیں اور بنیادی حقوق میں یہ چیزیں آتی ہیں :

  • دین اور عقیدہ 
  • جان یا زندگی 
  • انسانی عقل / حریت فکر 
  • نسب / عزت و آبرو 
  • مال و متاع

اِن پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کے لیے انسان ہی نہیں، حیوان بھی مطلوبہ قوت طاقت اور دیگر مادی وسائل سے تہی دست ہونے کے باوجود جان پر کھیل جانے کو تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرغی ایک بے ضرر قسم کا گھریلو پالتوجانور ہے، لیکن اگر کوئی چیل اس کے بچوں پر دست درازی کرے تو وہ طیش میں آ کر اس پر حملہ کر دیتی ہے اور اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے حفاظت کی غرض سے چھپا لیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنا دفاع کرنا ہر جاندار میں فطری طور پر ودیعت کیا گیا ہے۔ 

دفاع نفس صرف فطرت ہی نہیں، شرعی حکم بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کئی احادیث مروی ہیں جن سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ناحق طور پر دوسرے کی عزت و حرمت پر دست درازی کرے تو حملہ آور کامقابلہ اور دفاع کرنا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص جان، مال اور اولاد کا دفاع کرتے ہوئے قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔ ایسی چند احادیث ائمہ حدیث کی تشریحات سے اخذ کردہ نتائج کے ساتھ ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔ 

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص اپنے مال کے دفاع کے لیے لڑا اور مارا گیا، وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنی جان کے دفاع کے لیے لڑا اور مارا گیا تو وہ بھی شہید ہے اور جو اپنے بیوی بچوں کے دفاع کے لیے لڑتے مارا گیا، وہ بھی شہید ہے۔‘‘ (۱)

امام بخاری نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا، وہ شہید ہے۔‘‘ (۲)

ایک صحیح روایت میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے بھائی عنبسہ بن ابی سفیان نے، جو امیر معاویہ کی طرف سے مکہ اور طائف کے گورنر بھی تھے، ایک چشمہ کے پانی سے طائف میں اپنی زمین کو سیراب کرنے کے لیے نالہ کھدوایا۔ اتفاق سے راستے میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے خاندان کا ایک باغ رکاوٹ بن رہاتھا ۔ حضرت عنبسہ نے چاہا کہ باغ کے بیچ میں سے آبپاشی کا راجباہ گزار لیاجائے تو عبداللہ بن عمر واور ان کے ملازمین اسلحہ لے کر نکل آئے۔ کہنے لگے: خدا کی قسم! جب تک ہم میں سے ایک شخص بھی زندہ ہے، آپ لوگ اس باغ کے اندر سے نالہ نہیں گزار سکتے۔ جب وہ لڑا ئی پر تل گئے تو خالد بن العاص رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمروکے پاس گئے اور انہیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کیاآپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا، وہ شہید ہے!‘‘ (۳)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ بتائیے اگر کوئی شخص میر امال چھیننے کے لیے آ جائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے اپنا مال نہ دو ۔ اس نے پوچھا کہ اگر وہ مجھ سے لڑائی شروع کر دے تو؟ فرمایا : تم بھی اس سے لڑو۔ پوچھا:یہ بتائیے کہ اگر وہ مجھے قتل کر دے تو؟ فرمایا: تم شہید ہو گے۔ اس نے سوال کیا کہ اگر میں اسے قتل کردوں تو پھر آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ (۴)

ان احادیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں :

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کہ ’’اسے اپنا مال نہ دو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اسے تمھارا مال جبراً لینے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے۔ بظاہر یہ ممانعت ہے، اس لیے اس کا اولین مفہو م یہی ہوگا کہ زبردستی اور جارحانہ انداز سے قبضہ کی کوشش کرنے والے کے آگے مزاحمت کا بند باندھنا ضروری ہے اور اِس کے بغیر ’’قبضہ گروپ‘‘ جارحیت پسند لوگوں کے حوصلے بڑھیں گے۔ 
  • جو شخص اس طرح مال لینا چاہے، خواہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ، اسے جان سے مار ڈالنا جائز ہے ۔ 
  • اپنی حرمت کا دفاع کرنا واجب ہے جیسے ، بیوی ، بچے ، عزت و آبرو وغیرہ۔ 
  • اپنی جان کا دفاع کرنا واجب ہے، خواہ اس کے نتیجے میں آدمی خود شہید ہوجائے یاحملہ آور کو قتل ہی کرنا پڑے ۔ 
  • حملہ آور کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’ہو فی النار‘ کامطلب یہ ہے کہ وہ اس سزا کا مستحق ہے ۔ اسے یہ سزا مل سکتی ہے اور معاف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ اس ظلم کو بلا تاویل جائز اورحلال سمجھے تو وہ کافر ہے، اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔ 
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بنیادی انسانی حقوق اورحرمتوں کے دفاع میں قتل ہو جانے کو شہادت اور ایسے مقتول کو شہید فی سبیل اللہ قرار دیا ہے ۔ اس میں یہ ترغیبی اشارہ موجود ہے کہ حملہ آور غاصب کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہییں بلکہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے ۔

آل عمرو رضی اللہ عنہم کے قصے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی نہج پر نبی کے ہاتھوں تیار ہونے والی سب سے پہلی نسل یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ظلم کا مقابلہ کیا کرتے تھے اور اس راہ میں موت کو شہادت شمار کرتے تھے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ ۔ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن یَقُولُوا رَبُّنَا اللَّہُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللَّہِ کَثِیْراً وَلَیَنصُرَنَّ اللَّہُ مَن یَنصُرُہُ إِنَّ اللَّہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (الحج: ۳۹، ۳۰) 
’’اجازت دے دی گئی ہے (لڑائی کی)ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جارہی ہے اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ وہ جنہیں ناحق طور پر ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، صرف اس لیے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ ہٹاتا تو وہ گرجے، عبادت خانے اور مساجد ویران ہو جاتیں جن میں اللہ کا بہت ذکر کیا جاتا ہے۔ اور اللہ اُن لوگوں کی ضرور مدد کرے گا جو اس کے دین کے مدد گار ہیں۔ بے شک اللہ قوت والا اور غالب ہے ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 

وَقَاتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْنَ (البقرہ: ۱۹۰)
’’اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرو اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔‘‘

پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مظلوم و ستم رسیدہ بندوں کو اجازت دی ہے جنہیں کفار نے ناحق طور پر ان کے وطن سے نکال دیا اور ہجرت پر مجبور کر دیا کہ وہ اس ظلم و ستم کا مقابلہ کریں اور اس زیادتی کا جواب دیں کیونکہ یہ ان کی طرف سے اپنی عزت و حرمت کا دفاع ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس اجازت دفاع و مزاحمت کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ اگر مظلوم ظالم کے سامنے کھڑا نہیں ہوگا، اس کے ظلم و ستم کا جواب نہیں دے گا تو یہ خاموشی ظالم کو اور زیادہ جری و دلیر بنا دے گی اور اس کے کبروغرور میں اضافہ ہو گا۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ ظلم و زیادتی اور مظلوموں پر دست درازی کرے گا اور نتیجتاً لوگوں کے گھر بار تو کجا خدا کے گھر یعنی مساجد اور عبادت گاہیں تک محفوظ نہ رہیں گی جو فسادِ عظیم ہے ۔ جہاد فی سبیل اللہ کے انہی عظیم مصالح کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے صرف قتال کی اجازت پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسری آیت میں حکم دیا کہ ایسے لوگوں سے لڑو۔ (۵)

نہتے کشمیری مسلمان بھی اس جنگ میں مظلوم ہیں جیسا کہ ’ان الکذوب قدیصدق‘ کے مصداق ہمارے فاضل مضمون نگار نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اس جنگ میں قریب قریب یک طرفہ طور پر مسلم جانیں جا رہی ہیں، بے شمار عورتیں بیوہ، بے اولاد اور بے سہارا ہوگئی ہیں اور ہندوستانی حفاظتی دستے جب چاہیں بے گناہ مسلم شہریوں کو حراست میں لے کر ان پر تشدد کرتے ہیں۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی زبان سے بھی اس کھلی حقیقت کا اظہار کروا دیا ہے جو اپنے مسلمان بھائیوں کو چھوڑ کر بھارت کے وکیل و حمایتی بنے ہوئے ہیں تو کیا اب بھی وہ اپنے مظلوم کشمیری مسلمان بھائیوں کو جنہیں بھارت نے جموں ، راجوری ، پونچھ ، وادی اور دیگر کئی شہروں سے بے وطن کر کے ہجرت پر مجبور کر دیا ہے، یہ حق دینے کو تیار نہیں ہیں کہ وہ دشمن کی اس جارحیت کا جواب دیں؟ حالانکہ بین الاقوامی معاہدے اور قوانین بھی جارحیت کا شکار ہونے والے ایسے تمام لوگوں کو اپنی عزت و آبرو اور مقدس مقامات کے دفاع کا حق دیتے ہیں۔ ہماری اسلامی شریعت بھی مظلوموں کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حملہ آور دشمن کا پیچھا کریں، اگر چہ دشمن حرم کے اندر ہو اور زمانہ اشہرحرم ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : 

وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیہِ فَإِن قَاتَلُوکُمْ فَاقْتُلُوہُمْ کَذَلِکَ جَزَاء الْکَافِرِینَ (البقرۃ: ۱۹۱)
’’اور ان دشمنوں سے مسجد حرام میں نہ لڑو جب تک وہ تم سے لڑائی نہ کریں، لیکن اگر وہ تم سے وہاں بھی لڑیں تو پھر انہیں قتل کرو۔ کافروں کی یہی سزا ہے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کے پاس دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے منع کیا ہے، لیکن اس صورت کومستثنیٰ رکھا ہے جب کفار خود مسجد حرام یاحدود حرم میں لڑائی کا آغاز کر دیں۔ اس وقت ان کی زیادتی و جارحیت کی وجہ سے ان کے ساتھ لڑائی کی جائے گی۔ اس دفاعی جنگ میں اگر کسی مقدس مقام یا زمانہ کی بے حرمتی ہورہی ہو، تب بھی دفاعی جنگ میں توقف نہیں آنا چاہیے کیونکہ اسلام کے بین الاقوامی قانون کی ایک دفعہ یہ بھی ہے کہ:مقدس مقامات جگہوں اور اوقات کے احترام میں بھی یک گونہ مساوات ملحوظ رکھی جائے گی: والحرمٰت قصاص۔ (نیز دیکھیے: البقرہ: ۲۱۷)

اگرچہ یہ آیت ابتدا میں حضرت عبداللہ بن حجش کے اس فوجی دستے کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے عمروبن الحضرمی کے قافلے پر حملہ کر کے ان کا مال واسباب لوٹ لیا تھا، لیکن اس کا حکم اپنے عموم کے لحاظ سے ہر اس لڑائی کو شامل ہے جو حرام مہینوں میں واقع ہو۔ چنانچہ علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی نے اپنی مشہور تفسیر ’’تیسیرالکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان‘‘ میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ ا شہر حرم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں جنگ حرام ہے اور اس سے مراد لڑائی کی ابتدا ہے۔ رہی دفاعی جنگ تو وہ جس طرح بلد حرام اورحرم میں جائز ہے، حرام مہینوں میں بھی جائز ہے۔ (۶)

مزید بر آں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ مَعَ الْمُتَّقِینَ (البقرۃ: ۱۹۴)
’’محترم مہینہ ، محترم مہینے کا بدلہ ہے اور تمام حرمتوں میں باہمی مساوات و قصاص ملحوظ رکھاجائے گا۔ پس جو تم پر زیادتی کرے، تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرسکتے ہو جتنی ان نے تم پر کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ خدا ترسوں کے ساتھ ہے۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں ایک اہم اور بنیادی اصول بیان کیا گیا کہ ہر مقدس و محترم چیز،مقامات، اوقات اور حالت احرام، کا احترم کیا جائے گا، خواہ وہ چیز شریعت کی نظر میں محترم ہو یا تمام بنی نوع انسان کی نظر میں ازخود احترام حاصل کرچکی ہو یا بین الاقوامی ومقامی انسانی اداروں نے اس کا احترام و تقدس ضروری قرار دیا ہو تو ایسی حرمت بھی واجب التسلیم ہوگی اور جو شخص ایسی کسی حرمت و قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اس کا ویسا ہی جواب دیاجاسکتا ہے، چاہے اس میں بظاہر کسی تقدس کی پامالی ہی کیوں نہ ہوتی ہو۔ لہٰذا جو شخص حرمت والے مہینے میں لڑائی کرے گا، اس سے لڑائی کی جائے گی۔ جو شخص مسجد حرام کی یا کسی دوسری شرعی حرمت کی پامالی کرے گا تو اس سے بدلہ لیا جائے گا اور اس کی حرمت کا لحاظ نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ حرم میں جا چھپے۔ 

گزشتہ سطور میں ہم نے جو قرآنی آیات اور احادیث ذکر کی ہیں، مجاہدین کشمیر نے اپنی جدوجہد اور جہاد کی بنیاد انہی خطوط پر استوارکی ہے اور وہ اپنے دفاع کا جائز اور مسلمہ حق استعمال کر رہے ہیں۔ 

کشمیری عوام کا جہاد دفاعی ہے نہ کہ اقدامی

کشمیر کے عوام نے اپنی ریاست کو ہندو کے غاصبانہ قبضہ سے آزادکرانے کے لیے جو جدجہد شروع کی ہے، وہ ہر اعتبار سے ایک دفاعی جنگ ہے نہ کہ اقدامی جیسا کہ بھارتی پراپیگنڈا بازوں کا دعویٰ ہے کیونکہ یہ جنگ کشمیر ی عوام نے نہیں بلکہ خود بھارت نے شروع کی ہے۔ بھارت نے ۱۹۴۸ء میں انگریز سامراج کے ساتھ ساز باز کر کے کشمیر میں اپنی فوج داخل کی تاکہ مسلم اکثریت کی حامل ریاست پر قبضہ کر سکے۔ کشمیری عوام اس ظلم کو برداشت نہ کر سکے۔ وہ قابض فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اورمقابلہ شروع کر دیا۔ کشمیری مسلمانوں کی یہ جدو جہد ایک معر وف تاریخی حقیقت ہے ۔ اس جد و جہد میں پاکستان کی حکومت اور عوام نے بھی اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیا جس کے نتیجہ میں ریاست کا ایک تہائی حصہ آزاد کرا لیاگیا۔ اب یہ آزاد حصہ دو حصوں پر مشتمل ہے: 

(۱) گلگت بلتستان : یہ علاقہ چین کی سرحد کے ساتھ ملتا ہے اور انتظامی اعتبار سے ایک باقاعدہ معاہدہ کے تحت پاکستان کے حوالہ کیا گیا تھا جسے اب نیم صوبائی درجہ میں ایک وزیر اعلیٰ اور اسمبلی کا حق بھی دیاگیاہے۔

(۲) دوسرے حصے کانام آزاد کشمیر ہے جس میں نیم خود مختار آزاد حکومت قائم ہے۔ 

جو لوگ اس قسم کے غیر معمولی حالات میں غلامی کی زندگی میں مبتلا ہوجائیں، انہیں تمام بین الاقوامی انسانی قوانین اور خدائی قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ قابض دشمن کا مقابلہ کریں۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اسی جنگ کے دوران بھارت خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا جس نے یہ فیصلہ کیا کہ فوری طور پر جنگ بند کرادی جائے جس کے بعد اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر میں استصواب رائے کرایا جائے گا۔ بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ مضمون نگار کا خیال ہے کہ اسی فیصلے کی وجہ سے کشمیری عوام اور بھارتی فوج کے درمیان لڑائی شروع ہوئی، حالانکہ اس جھگڑے کا سبب اقوامِ متحدہ کی یہ قرارداد نہیں ہے بلکہ یہ قرارداد اس جنگ کو ختم کرانے کے لیے منظور ہوئی جو انڈیا نے کشمیریوں پر مسلط کی تھی۔ بین الاقوامی اداروں نے مداخلت کر کے جنگ تو بند کرادی، لیکن جس قرارداد کی بنیاد پر یہ جنگ بندی عمل میں آئی تھی، وہ آج تک تشنہ تنفیذ ہے۔ بھارت نے اس قرارداد کی من مانی تشریح کی اور اپنے مفاد والے حصہ پر عمل درآمد کا یک طرفہ مطالبہ دوسرے فریقوں سے کرنے لگا، حالانکہ اس فیصلے پرمکمل عمل درآمد خود بھارت کے مفاد میں تھا۔

اس عارضی جنگ بندی کے بعد کشمیری عوام اس انتظار میں رہے کہ یہ بین الاقوامی ادارے جنہوں نے ہم سے ہتھیار رکھوائے ہیں اور استصواب رائے کروانے کا وعدہ کیا ہے، وہ اس مسئلے کو ضرور حل کریں گے، لیکن انہوں نے دیکھا کہ سالہا سال گزر جانے کے باجود ان اداروں نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کی بلکہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، یہ ادارے مسئلہ کشمیر سے لاتعلق و کنارہ کش ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جب نصف صدی کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد انہیں یقین ہوگیا کہ یہ ادارے غیر جانبدار نہیں ہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے آلہ کار ہیں تو وہ اس مجرمانہ غفلت پر بھڑک اٹھے اور اپنی وہی جنگ جو انہوں نے ۱۹۴۸ ء میں کچھ وقت کے لیے عارضی طور پر بند کر دی تھی، دوبارہ شروع کر دی، لہٰذا اس وقت بھارتی فوج کشمیری عوام کے خلاف جو جنگ لڑرہی ہے، یہ اسی جنگ کا تسلسل ہے جو ۱۹۴۸ ء میں بھارت نے خود شروع کی تھی۔ 

اب صرف یہ جاننا باقی ہے کہ آیا کشمیر ی عوام کی طرف سے اقوام متحدہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنا اور کشمیر کے جہادی و سیاسی قائدین کی طرف سے ان فیصلوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا کشمیری عوام کے جہاد پر کسی طور اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں؟ آیا وہ اس مطالبہ کے بعد جہاد کے اجروثواب کے عند اللہ مستحق رہتے ہیں یا نہیں؟ بعض لوگوں نے اس سلسلے میں بھی ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ 

اس کا واضح اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کو قبول کرنے یا ان پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنے سے جہاد پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ اس قسم کے فیصلے اور قراردادیں تو ان مسلمہ قوانین و معاہدات کا فطری و طبعی نتیجہ ہیں جن پرمسلم امت سمیت پوری دنیا کی اقوام نے دستخط کیے ہیں اور یہ ادارے ان فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے ہی قائم کیے گئے ہیں تو پھر اس قسم کے فیصلوں و قراردادوں کا وجود میں آنا ایک فطری معاملہ ہے۔ کشمیری عوام و مجاہدین بھی چونکہ اسی انسانی معاشرے کا حصہ ہیں، لہٰذا ان کے لیے اس قسم کے فیصلوں کو قبول کرلینے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے کیونکہ ان مسلمہ قوانین و معاہدات کی حیثیت عرف عام کی سی ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا شریعت بھی اعتبار کرتی ہے۔ شریعت جب اس قسم کے معاشرتی معاہدے کرنے کی اجازت دیتی ہے تو ان کی تنفیذ کا مطالبہ کرنا کیسے ناجائز اور غیر شرعی ہو سکتا ہے؟ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں اس قسم کے معاہدات کا نمونہ موجود ہے جو صرف جائز و مباح ہی نہیں بلکہ واجب الاتباع بھی ہے۔ مثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے ددھیال کے ساتھ جب حلف المطیبین میں شریک ہوا تو میں ایک نو عمر لڑکا تھا اور مجھے عربو ں کا قیمتی اور بہترین مال یعنی سرخ اونٹ بھی دیے جائیں تو مجھے اس معاہدے کو توڑنا پسند نہیں۔ (۷)

حلف الفضول کا مشہور معاہدہ قریش کے مابین ہونے والی مشہور لڑائی حرب فجار کے بعد ذیقعدہ کے مہینے میں عمل میں آیا۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بیس سال تھی۔ سب سے پہلے زبیر بن عبدالمطلب نے اس معاہدے کی دعوت دی۔ پھر قبیلہ بنو ہاشم ، بنوزہرہ اوربنو تیم کے لوگ عبداللہ بن جدعان کے گھر میں جمع ہوئے، کھانا تیار کیا گیا جس کے بعد انہوں نے اللہ کے نام پر باہمی معاہدہ کیا کہ ہم ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیں گے اور مکہ میں جس شخص پر بھی ظلم ہوگا، خواہ وہ مکہ کا باشندہ ہو یا پردیسی، ہم اس کا ساتھ دیں گے اور ظالم کے خلاف لڑیں گے یہاں تک کہ ظلم کا خاتمہ ہو جائے اور مظلوم کا حق ادا کر دیا جائے۔ اس معاہدے کا نام حلف الفضول اس وجہ سے ہے کہ قبل ازیں مکہ کی قدیم تاریخ میں بنوجرہم کے زمانہ میں بھی اسی نوعیت کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس مین فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضل بن فضالہ ایک ہی نام کے تین اشخاص نے شرکت کی تھی۔ (۸) اس مشابہت کی بنا پر اس معاہدے کو بھی حلف الفضول کہا گیا یعنی فضل نامی اشخاص کے درمیان ہونے والے معاہدے کی طرز پر عہد و پیمان۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلمکا فرمان ہے کہ میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں طے پانے والے معاہدے میں شریک تھا اورآج بھی اگر مجھے ایسے کسی معاہدے کے لیے دعوت دی جائے تو میں تیار ہوں۔ (۹)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین عرب اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ کے ساتھ معاہدے کیے اور ان سے تنفیذ کا مطالبہ بھی کیا، مثلاً صلح حدیبیہ کا معاہدہ۔ آپ نے بنو نضیر سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دو مقتولوں کی دیت ادا کرنے میں ان کی مدد کریں جنہیں عمرو بن امیہ ضمری نے بئرمعونہ کے شہدا کے انتقام میں قتل کر دیا تھا۔ (۱۰) آپ کی عادت تھی کہ وعدہ ہر حال میں پورا کرتے تھے خواہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہوتا یا کفار کے ساتھ اور اپنے صحابہ کو بھی یہی تعلیم دیتے تھے۔

اس وضاحت کے بعد ہم یہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حیثیت دراصل ایک ایسے ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے احکام اور قراردادوں کی سی ہے جس کے بارے میں عالمی معاشرے کے ساتھ ہم نے یہ اتفاق کیا ہے کہ اگر اس ادارے کے فیصلے ہماری شریعت سے متصادم نہیں ہوں گے تو ہم انہیں قبول کریں گے اور مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں شریعت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اگر انہیں نافذ کر دیا جائے تو وہ شریعت کے حق میں جاتی ہیں، لہٰذا ان کے نفاذ کا مطالبہ کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں اور نہ جہاد کشمیر کی شرعی حیثیت پر اس کا کوئی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ 

یہ بھی کہا جاتا ہے (اور کہنے والے وہ اہل قلم ہیں جنہیں دین کی سمجھ ہے، نہ خدا اور رسول سے کوئی وفاداری وموالات ہے اور نہ اہل ایمان سے کوئی محبت)کہ کشمیریوں کی جدو جہد شرعی معیار کا جہاد نہیں ہے اور فی سبیل اللہ بھی نہیں ہے کیونکہ اس میں وہ خلوصِ نیت مفقود ہے جس کی بنا پر کوئی جنگ جہاد فی سبیل اللہ کہلانے کی مستحق بنتی ہے اور وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی ہے اور کشمیر ی جنگجو اللہ کی رضا کے لیے نہیں لڑرہے ہیں بلکہ ان کی ساری جدوجہد کامقصد یا تو مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کروانا ہے تاکہ استصواب رائے عمل میں آ سکے یا آزادی کا حصول ہے یا پھر پاکستان کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق ہے اور ان میں سے کوئی چیز بھی شرعاً ایسی حیثیت نہیں رکھتی کہ اس کی بنیاد پر کوئی خونریز جنگ چھیڑ دی جائے کہ ایک پوری قوم اس کی بھینٹ چڑھ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس شبہے کاجواب یہ ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مجاہدین کشمیر کا اس جنگ سے مقصود اور نیت اللہ کی رضا اور خوشنودی نہیں ہے، ایسے لوگ دراصل مجاہدین کی نیتوں پر حملہ کر رہے ہیں حالانکہ کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی کے دل میں چھپی ہوئی نیت اور ارادے کو جان سکے کیونکہ دلوں کے راز غیبی معاملہ ہے اور غیب جاننے ولا صرف اللہ ہے۔ یہ ایک ایسی واضح اور بدیہی بات ہے جس کے لیے کسی دلیل و استدلال کی ضرورت نہیں اور اگر کسی کی نیت جاننی ہو تو نیت والے کی طرف ہی رجوع کرنا پڑے گا، کیونکہ اس معاملے میں اسی کی بات حرف آخر ہے۔ اور کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ظاہری حالات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کسی کا باطن کریدے اور دلوں کے اندر پوشیدہ نیتوں پر حکم لگائے۔ 

سورۂ نساء کی آیت ۹۴ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ جہاد کے لیے نکلیں تو ثابت قدمی دکھائیں اور تحقیق کر لیا کریں اور اگر کوئی شخص زبان سے مسلم ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کے ظاہری دعوے سے صرف نظر کر کے اس کے باطن کو کریدنے کی کوشش نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ وہ صرف جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے اور اس کے دل میں اخلاص نہیں ہے، کیونکہ یہ حق انہیں حاصل نہیں ہے۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو خدا کی راہ میں دشمنان اسلام سے لڑنے کے لیے جا رہا ہے اور قدم قدم پر اسے دشمن کی چالوں اور کاروائیوں سے واسطہ پڑ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے سامنے اپنے مسلم ہونے کا دعویٰ یااقرار کرے تو وہ اس کے معاملہ میں غوروفکر، احتیاط اور تحقیق سے کام لے ، جھٹ سے اسے جھٹلانے کی کوشش نہ کرے، حالانکہ اس قسم کے حالات میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ شخص فی الواقع جان بچانے کے لیے ہی کلمہ اسلام کا سہارا لے رہا ہو، لیکن پھر بھی یہ حکم ہے کہ غوروفکر اور احتیاط سے کام لو اور تحقیق کر و۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم کا منشا یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی شک والا معاملہ ہو، وہاں جلدی میں کوئی حکم لگانے سے پہلے تحقیق اور غورو فکر انتہائی ضروری ہے۔ 

حضرت خالد بن ولید نے ایسے ہی ایک شخص کے قتل کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا : مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل چیروں اور ان کے پیٹ پھاڑ کر دیکھوں۔ (۱۱) ایک لڑائی میں حضرت اسامہ بن زیدنے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جس نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پڑھ کر دعوائے ایمان کر دیا تھا۔ جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آئی تو آپ نے حضرت اسامہ سے فرمایا: کیا تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے باوجود قتل کر دیا ؟ اُسامہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ! اس نے تلوار کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا۔ آپ نے فرمایا: تو تم نے اس کا دل کیوں نہ چیر کر دیکھ لیا کہ تمھیں پتہ چل جاتا کہ اس نے اخلاص سے کلمہ پڑھا ہے یا نہیں؟ حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ آپ یہ جملہ بار بار دہراتے رہے، حتیٰ کہ میرے جی میں آیا کہ کاش میں نے آج ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔ (۱۲)

امام نووی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد (افلا شققت قلبہ) میں فقہ اور علم الاصول کے اس مشہور قاعدے کی دلیل ہے کہ فیصلہ ظاہر کے مطابق کیا جاتا ہے اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ (۱۳) مشہور محدث اور صحیح بخاری شارح امام ابن حجرعسقلانی نقل کرتے ہیں : تمام علما کا اس پر اجماع ہے کہ اس دنیا میں تمام فیصلے ظاہر کی بنا پر ہوتے ہیں اور دلوں کے حالات اللہ کے سپرد کیے جاتے ہیں۔ (۱۴)

ہر مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ وہ ہمیشہ ظاہر کے مطابق فیصلہ کرے گا اور اس اصول سے تجاوز نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قاعدے سے کسی کو حتی کہ اپنے نبی کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا اور پوری امت کا اس اصول پر اتفاق و اجماع ہے تو پھر محمد انیس صاحب! آپ کو یہ حوصلہ کیسے ہوا کہ آپ کشمیری مجاہدین کی نیتوں پر حکم لگائیں یا تبصرہ کریں؟ حالانکہ وہ واضح طور پر کہہ بھی رہے ہیں کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہندؤوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ اپنی حدود سے تجاوز کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اللہ سے توبہ کریں اور اس گناہ کی معافی مانگیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ جیسے دیگر افراد کو بھی ہدایت دے ۔ آمین 

اسلامی ممالک کی آزادی کے لیے کوشش جہاد میں داخل ہے

ان لوگوں کا یہ کہنا کہ اگر کوئی مسلمان اپنے مقبوضہ وطن کو آزاد کرانے کے لیے یا کسی اسلامی ملک کے ساتھ اس کا الحاق کرنے کے لیے جنگ کرے تو وہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے اور یہ چیز جہاد کی متفق علیہ تعریف میں نہیں آتی، قطعاً غلط اور دین و شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ اگر ان لوگوں کو اس قسم کے مسائل کا علم نہیں تو انہیں چاہیے کہ علما اور ماہرین شریعت سے پوچھیں جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: إِنَّمَا شِفَاءُ الْعِیِّ السُّؤَالُ (۱۵)۔

ہمارے اور جہاد کشمیر کے مسلمان مخالفین یا مترددین کے درمیان اس اختلافِ رائے میں قرآن و حدیث کی شرعی نصوص بہترین حکم ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

أَلَمْ تَرَ إِلَی الْمَلإِ مِن بَنِی إِسْرَاءِیلَ مِن بَعْدِ مُوسَی إِذْ قَالُواْ لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکاً نُّقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللّہِ قَالَ ہَلْ عَسَیْتُمْ إِن کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ أَلاَّ تُقَاتِلُواْ قَالُواْ وَمَا لَنَا أَلاَّ نُقَاتِلَ فِی سَبِیلِ اللّہِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِیَارِنَا وَأَبْنَآءِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْاْ إِلاَّ قَلِیلاً مِّنْہُمْ وَاللّہُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ. (البقرۃ: ۲۴۶)
’’کیا تم نے بنی اسرائیل کے ان سرداروں کو نہیں دیکھا جو موسیٰ کے بعد ہوئے تھے، جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ آپ ہمارا کوئی بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۔ پیغمبر نے کہا: کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ اگر تم پر لڑائی فرض کر دی جائے تو تم نہ لڑو؟ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور بال بچوں سے نکال دیا گیا ہے۔ لیکن جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو سوائے چند ایک کے سب پھر گئے اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے۔‘‘

اس آیت مبارکہ سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں :

  • مظلوم کا ظالم سے نبردآزما ہونا ایک فطری امر ہے، خصوصاً جبکہ مظلوم کواپنے اہل وعیال اور وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا ہو۔ اور کسی کے اہل و عیال پرزیادتی کرنا، مال و اسباب لوٹ لینا، علاقوں پر قبضہ کرنا صریح ظلم ہے جو مظلوم کو غیظ و غضب میں مبتلا کر کے انتقام پر ابھارتا ہے۔ اسی بنا پر سرداران بنی اسرائیل نے وقت کے نبی کو تعجب کے اسلوب میں جواب دیا کہ ہم آخر کیوں نہ لڑیں گے جبکہ قتال کے تمام اسباب وجوہات موجود ہیں ۔ 
  • قابض دشمن سے مقابلہ کرنا اور اسے اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا انبیا اور صالحین کی سنت ہے ۔ 
  • اللہ تعالیٰ نے اس واقعے میں اہل ایمان کی گفتگو ذکر کر کے پیغمبر وقت کی خاموشی اور عدم انکار بیان کیا ہے اور اصول فقہ کی روشنی میں اس طرح کی گفتگو ہمارے لیے شرعی قانون کا درجہ رکھتی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں بھی ایسی بہت سی نصوص ہیں جواس چیز کی تائید و توثیق کرتی ہیں، مثلاً قرآنِ کریم کی یہ آیت: 

وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ وَأَخْرِجُوہُم مِّنْ حَیْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیہِ فَإِن قَاتَلُوکُمْ فَاقْتُلُوہُمْ کَذَلِکَ جَزَاء الْکَافِرِینَ (البقرۃ: ۱۹۱)
’’تم انہیں جہاں بھی پاؤ، قتل کرو اور جہاں سے انہوں نے تمھیں نکالا ہے، تم بھی انہیں وہاں سے نکالو اور دین سے ہٹانا قتل سے زیادہ سخت گناہ ہے اور جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی مسجد حرام میں ان سے نہ لڑو، لیکن اگر وہ وہاں بھی تم سے لڑیں تو پھر انہیں قتل کرو۔ کافروں کی یہی سزا ہے۔‘‘

اس آیت میں اپنے سب ایمان والے بندوں کو، خواہ اپنے گھروں میں بس رہے ہوں یا انہیں گھروں سے بے گھر کیا گیا ہو، حکم دیا گیا ہے کہ وہ بہرحال ان شہروں سے کفار کو نکالنے کے لیے اٹھیں جن پر انہوں نے مسلمان باشندوں کو نکال کر قبضہ کر لیا ہے، کیونکہ ان علاقوں ، شہروں اور وہاں پر موجود مسلمانوں کے تمام مال و متاع کی خدا کی نظر میں وہی حرمت اور تعظیم ہے جو خود ایک مسلمان کی ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں کو کفار کے تسلط سے آزاد کرانا ایک شرعی حکم ہے جسے بجا لانا واجب ہے اور ظاہر ہے جو لڑائی بھی شرعی احکام کے تحت ہو، وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ 

کیا کسی پڑوسی اسلامی ملک کے ساتھ الحاق چاہنے سے جہاد باطل ہوجاتا ہے؟

امت مسلمہ کے لیے رہنما اور اسوہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ آپ امت کو اس حال میں چھوڑ کر گئے تھے کہ اس کے پاس ایک متحد اور مضبوط حکومت تھی ا ور ایک خلیفہ اور ا میر المومنین اس کی رہنمائی کر رہا تھا۔ اب اگر ہم اس بلند درجے تک نہیں پہنچ سکتے تو کم از کم اتنا تو کریں کہ جس حد تک ممکن ہو، امت کو ایک پرچم تلے جمع کر کے متحدہ امت بنانے کی کوشش کریں۔ کشمیری ایک مسلم قوم ہیں اور دین اسلام کو دل کی گہرائیوں سے پسند کرتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ جس چیز کا انسان کی محبوب ہستی سے تعلق ہو، انسان اس چیز سے بھی محبت کرتا ہے۔ پاکستان چونکہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے، لہٰذا کشمیری مسلمان اس دینی رشتے کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسلامی پاکستان سے منسلک ہو جائیں۔ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۰۳ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ کی رسی یعنی اس کے دین اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور تفرقے میں نہ پڑیں، لہٰذا ہر مسلمان فرد اور قوم پر شرعاً یہ لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، آپس میں جڑنے اور متحد ہونے کی کوشش کرے اور افتراق و انتشار سے بچنے کی کوشش کرے۔ کشمیری عوام کے پاکستان کے ساتھ بہت سے خونی رشتے بھی ہیں۔ مزید برآں ان کے تما م تجارتی راستے پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں، لہٰذا اگر یہ آر پار کے مسلمان بھائی آپس میں مل جائیں اور اس طرح ایک مضبوط اور متحد ملک بن جائیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ ہمارا دین بھی اس کی اجازت دیتا ہے، پوری عالمی انسانی برادری بھی کشمیریوں کے اس حق کی تائید کررہی ہے تو جب اس جہاد کی اس قدر شرعی اور بین الاقوامی تائید وحمایت موجود ہے تو پھر آخر اسے غیر شرعی قرار دینے کی کیا وجہ ہے؟

مسلمانوں کا آزاد و خودمختار ہونا شرعاً ضروری ہے تاکہ شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہو۔ یہ دعویٰ کہ آزادی کے لیے جدوجہد ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ نہیں ہے، احکام شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ ہر انسان ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوتا ہے اور اسے غلام بنانا خلاف اصول ہے اور ایک مومن اللہ کے سوا کسی کا بندہ اور غلام نہیں ہوتا اور اللہ اور اس کے رسول کے بعد اگر وہ کسی کی اطاعت کرتا ہے تو وہ ان دونوں کی اطاعت کے دائرے میں رہ کر کرتا ہے۔ شریعت سے ہٹ کر کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں پر سننا اور ماننا لازم ہے ہر پسند و ناپسند میں جب تک اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر اس پر سننا لازم ہے نہ ماننا۔ (۱۶) لہٰذا اگر کوئی مسلمان فرد یا گروہ اپنی مرضی کے خلاف محض مجبوری اور بے بسی کی وجہ سے کفار کی غلامی میں پھنس جائے تو شرعاً اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو ا س غلامی سے آزاد کروانے کے لیے پوری کوشش کرے اور امت پر بھی اس کی مدد و اعانت واجب ہے، اگرچہ اس کے لیے جنگ ہی کیو ں نہ کرنی پڑے کیونکہ آزادی ہر انسان کا فطری حق اور تقاضا ہے۔ مسلمان کے معاملے میں یہ اور بھی ضروری ہے کیونکہ مسلمان کے لیے آزادی ایک فطری تقاضے سے بڑھ کر شرعی مقاصد کے حصول کا ذریعہ اور سبب بھی ہے اور یہ مقصد مسلمانوں کا نفاذ شریعت کے مواقع حاصل کرنا ہے۔ جب مسلمان کسی ملک میں آزاد ہوں گے تو وہ آزادی کے ثمرات و برکات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شریعت کا نفاذ کر سکیں گے اور اہل علم جانتے ہیں کہ یہ ایک معروف اصول ہے کہ: لِلْوَسَاءِلِ حُکْمُ الْمَقاَصِدِ وَالْغَایَاتِ (۱۷) ’’وسائل وذرائع کا حکم و حیثیت اصل مقاصد کی ہوتی ہے‘‘ اور: مَا لَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ إِلَّا بِہِ فَہُوَ وَاجِبٌ (۱۸) ’’جس چیز پر واجب کا دارو مدار ہو، وہ بھی واجب ہوتی ہے‘‘، لہٰذا آزادی کی خاطر جدجہد کرنا واجب شرعی ہے اور کشمیر کا جہاد اسی قبیل سے ہے ۔ 

مظلوم کو پنجہ استبداد سے چھڑانا واجب ہے

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ شریعت اسلامیہ نے مظلوم مسلمانوں پر اپنی حرمتوں کا دفاع کرناواجب قراردیاہے۔ یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب مظلوم مسلمان کسی بھی وجہ سے اپنا دفاع نہ کر سکتے ہوں تو سب مسلمانوں کا شرعی فرض یہ ہے کہ ان کی مدد اور اعانت کریں اور انہیں پنجہ استبداد سے چھڑانے کی فکر کریں۔ 

سورۂ نساء کی آیات ۷۴، ۷۵میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے اور انہیں اس بات پر ابھارا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کریں اور اس امر پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ جب حالات جنگ کا تقاضا کر رہے ہوں تو مسلمان اللہ کی راہ میں لڑنے سے کیوں پہلو تہی کر رہے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ سے کیوں کنی کترا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ کے اسباب میں اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ کفار نے مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو کمزور اور بے بس سمجھ کر دبا لیا ہے اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور وہ پکار پکار کر اللہ سے دعائیں کر رہے ہیں کہ مولائے کریم! ہمیں ان ظالم انسانوں کی بستی سے نکال جو تیرے ساتھ کفروشرک کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور اہل ایمان کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچا رہے ہیں اور انہیں قانون الٰہی کے نفاذ اور دعوت الی اللہ سے روک رہے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایک دن حضرت موسیٰ چپکے سے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمی لڑرہے ہیں۔ ایک ان کی جماعت کا اور ایک ان کی دشمن کی جماعت کا تھا۔ جو آدمی حضرت موسیٰ کی جماعت سے تھا، اس نے اپنے دشمن کے خلاف حضرت موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا۔ حضرت موسیٰ نے آکر مخالف کو گھونسہ دے مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر سوچا کہ یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان تو ہے ہی انسان کا دشمن اور گمراہ کرنے والا ۔ اگلے دن پھر یہی واقعہ ہوا اور اسی شخص نے جس نے گزشتہ روز موسیٰ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارا تھا، دوبارہ انھیں آواز دی۔ جب موسیٰ نے اس شخص پر جو ان کا کا دشمن تھا، ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا تو اسرائیلی کہنے لگا، اے موسیٰ، کیا تم مجھے بھی اسی طرح مارڈالنا چاہتے ہو جس طرح کل تم نے ایک آدمی کو مارڈالا تھا؟ لگتا ہے کہ تم دنیا میں ظالم بننا چاہتے ہو اور تمھارا اصلاح کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ (۱۹)

ان دو آیتوں سے ایک چیز یہ معلوم ہوتی ہے کہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرنا اور اسے ظالم کے ظلم و ستم سے نجات دلانا انبیا علیہم السلام اور رسولوں کی سنت ہے اور دوسری چیز یہ واضح ہوتی ہے کہ جو قومیں غلامی کی زندگی بسر کرتی ہیں اور ایک مدت تک طرح طرح کے مظالم اور بے انصافیوں کا شکار رہتی ہیں، ان کے اندر خوف کی نفسیات پید اہو جاتی ہیں اور ظلم اور ظالم ان کے ذہنوں پر اس طرح مسلط ہو جاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نیکی اور خیرخواہی کے ارادے سے بھی ان کی طرف بڑھتا ہے تو وہ خوف زدہ ہو جاتے ہیں اور آسانی سے اس پر اعتماد کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ 

ان آیات کی مزید وضاحت احادیث سے ہوتی ہے:

حضرت انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ! اگر میرا بھائی مظلوم ہو پھر تو میں اس کی مدد کروں گا، لیکن اگر وہ ظالم ہو تو پھر اس کی مدد کیسے کرو ں؟ آپ نے فرمایا: اگر تم اسے ظلم سے روک دو تو یہ تمھاری طرف سے اس کی مدد ہے۔ (۲۰) ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ تم اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ مراد یہ ہے کہ اگر وہ زبانی طور پر سمجھانے سے باز نہ آئے تو اسے زبردستی روک دو ۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: اگر وہ ظالم ہو تو اسے ظلم سے منع کرو۔ یہ اس کی مدد ہے۔ (۲۱) حضرت عائشہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اگر وہ مظلوم ہوتو اس کا حق دلوا ؤ اور اگر وہ ظالم ہو تو خود اس کے نفس سے اس کا حق لو۔ (۲۲)

یعنی ظالم بھی درحقیقت مظلوم ہی ہے اور وہ دوسروں پر ظلم کر کے خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے اور حدیث کا منشایہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو، ظالم کو ظلم سے باز رکھنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر حال میں مسلمانوں کی مدد کریں۔ اگر وہ مظلوم ہوں تو ظالم سے ان کا حق دلا کر اور اگر وہ ظالم ہوں تو انہیں ظلم سے باز رکھ کر ۔ جب ایک ظالم مسلمان کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرنے کا حکم ہے تو غیر مسلم ظالم کے مقابلے میں تو ہم بطریق اولیٰ اس کے پابند ہیں۔ 

ان تمام آیات و احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان پر اپنے مظلوم اور بے بس بھائیوں کی مدد کرنا واجب ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں، رشتے داروں اور پڑوسیوں پر سب پہلے اور پھر درجہ بدرجہ سب مسلمانوں پر۔ پاک وہند کے مسلمانوں کی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی نسبت اس وقت یہی پوزیشن ہے۔ وہ دینی رشتوں کے ساتھ خونی رشتوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ اب میں ان معترضین سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے یہ فریضہ ادا کر دیا ہے یا آپ صرف ان لوگوں کو ادائے فرض سے روکنے کے درپے ہیں جو اپنے طور پر اس فرض کو ادا کرنا چاہتے ہیں؟

قرآن و حدیث کی ان شرعی نصوص کے بعد جن کے ذریعے ہم نے ثابت کر دیا کہ کشمیر میں خالص شرعی جہاد ہورہاہے، ہم یہ ضرورت نہیں محسوس کرتے کہ ان نام نہاد معترضین کے ان مزعومات کا رد کیا جائے کہ آزادی یا الحاق پاکستان یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کروانے کا مطالبہ کرنا سیاسی مقاصد ہیں نہ کہ دینی۔ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ یہ سب شرعی اور دینی مقاصد ہیں۔ آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مصر سے ہجرت کو بطورِ مثال ذکر کر کے اپنے باطل اور اسلام ومسلم دشمن مشورہ کو دلیل فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ آپ موقف کی تائید نہیں بلکہ تردید کر رہا ہے اور اس قصے سے تو کشمیری عوام، مجاہدین اور ان کے سیاسی راہنماؤں کے لیے ایک بہترین رہنمائی مل رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہاتھا کہ تمھارا مجھ پر یہی احسان ہے کہ تم نے (میری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنالیا؟ (۲۳)گویا آپ نے اس کے اس فعل کی مذمت کی اور پھر اس سے یہ مطالبہ کیا کہ دیکھو میں تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لایا ہوں، لہٰذا تم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔ (۲۴) قرآن کریم سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف حضرت موسیٰ کا نہیں بلکہ حضرت ہارون کامطالبہ بھی یہی تھا۔ (۲۵)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بندگان خدا کو انسانوں بالخصوص اللہ کے باغی انسانوں کی غلامی سے چھڑانا وہ فریضہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا، لہٰذا یہ نبیوں کی سنت ہے۔ حیرت ہے کہ جہادِ کشمیر کے مخالفین کی نظر میں یہ ایک سیاسی مقصد ہے! لگتا ہے کہ ایسے لوگوں کا اصل مقصد دین کو سیاست سے جدا کرنا ہے جیسا کہ لادین اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کا وطیرہ ہے۔ ہم تو یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان مخالفین کواور ان جیسے باقی لوگوں کو اس فکری بیماری سے نجات دے جس نے امت کو کمزور سے کمزور تر کردیا اور سامراج اور غلامی کے مقابلے کے قابل نہیں چھوڑا۔ 


حوالہ جات

(۱) سنن نسائی، کتاب تحریم الدم، باب من قاتل دون مالہ، ۴۰۹۴۔ سنن ابوداود، کتاب السنۃ، باب قتال اللصوص، ۴۷۷۲۔

(۲)صحیح بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب من قاتل دون مالہ، ۲۴۸۔

(۳)صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من قصد اخذ مال غیرہ کان مہدر الدم، ۲۰۲۔

(۴) صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من قصد اخذ مال غیرہ کان مہدر الدم، ۲۰۱۔

(۵) الصارم المسلول، ۲/۲۰۴-۲۰۷

(۶) تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان، ص ۹۷۔ المولف: عبد الرحمن بن ناصر السعدی (المتوفی: ۱۳۷۶ھ)۔ المحقق: عبد الرحمن بن معلا اللوسجق، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، الطبعۃ الاولی، ۱۴۲۰ھ/۲۰۰۰ء۔

(۷) مسند احمد/مسند عبد الرحمن بن عوف الزہری: ۱۶۵۸، ۱۶۷۹۔ امام مقدسی نے انھی کے حوالے سے اس حدیث کو الاحادیث المختارۃ ۳/۱۱۶ میں نقل کر کے صحیح قرار دیا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو: الطبقات الکبریٰ لابن سعد، نبی اکرم کی حلف الفضول میں شمولیت، ۱/۱۲۸، ۱۲۹۔ سیرت ابن ہشام ۱/۲۶۵۔

(۸) سیرت ابن ہشام ۱/۲۶۵۔

(۹) سنن البیہقی الکبریٰ، ۶/۳۶۷، حدیث: ۱۲۸۵۹۔

(۱۰) کتب سیرت، قصہ صلح حدیبیہ۔ صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث بنی نضیر۔

(۱۱) صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب بعث علی بن ابی طالب وخالد بن الولید الی الیمن، ۴۰۰۴۔ صحیح مسلم، الزکاۃ، باب ذکر الخوارج، ۱۷۶۳۔

(۱۲) صحیح مسلم، الایمان، باب تحریم قتل الکافر بعد ان قال لا الہ الا اللہ: ۱۴۰۔

(۱۳) شرح النووی علیٰ صحیح مسلم ۲/۱۰۷۔

(۱۴) فتح الباری ۱۲/۲۷۳۔

(۱۵) یہ حضرت جابر کی طویل حدیث کا حصہ ہے جس کو ایک قصہ کے ساتھ امام ابو داود نے السنن، الطہارۃ، باب المجروح یتیمم: ۳۳۶ میں نقل کیا ہے۔

(۱۶) سنن الترمذی، الجہاد، باب ما جاء لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، ۱۷۰۷۔ امام ترمذی نے اس کو حدیث حسن قرار دیا ہے۔

(۱۷) ملاحظہ ہو: قواعد الاحکام فی مصالح الانام، ۱/۴۶، ۱۰۳، ۱۰۶، ۱۰۹۔

(۱۸) تہذیب الفروق ۲/۴۳، ۴۴ ونہایۃ السؤل ۱/۱۰۰ للامام جمال عبد الرحیم الاسنوی المتوفی سنۃ ۷۷۲ھ، مطبوع فی مصر مع شرح البدخشی۔

(۱۹) القصص: ۱۵، ۱۹۔

(۲۰) صحیح بخاری، الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ انہ اخوہ اذا خاف علیہ القتل، ۶۹۵۲۔

(۲۱) صحیح مسلم، البر والصلۃ، باب نصر الاخ ظالما او مظلوما، ۲۵۸۴ بروایۃ جابر۔

(۲۲) آداب الحکماء لابن ابی عاصم (بحوالہ ابن حجر، فتح الباری ۱۲/۳۲۶)۔

(۲۳) الشعراء: ۲۲۔ 

(۲۴) الاعراف: ۱۰۵

(۲۵) الشعراء: ۱۵-۱۷۔

حالات و مشاہدات