نومبر ۲۰۱۰ء

ہمارے معاشی مسائل اور مفتی محمودؒ کے افکار و خیالات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج کی نشست میں پاکستان کے معاشی مسائل کے بارے میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے چند ارشادات وافکار کو پیش کیا جا رہا ہے جو مولانا ڈاکٹر عبدالحکیم اکبری (گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان) کی کتاب ’’مولانا مفتی محمودؒ کی علمی، دینی وسیاسی خدمات‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ اس مرد درویش کے خیالات وارشادات ملاحظہ فرمائیے اور اس کی فراست وبصیرت پر اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان فاصلوں کو بھی دیکھنے کی کوشش فرمائیے جو ان کی وفات کو صرف دو عشرے گزرنے کے ساتھ ہی ہمارے اور ان کے درمیان نہ صرف دکھائی دے رہے ہیں بلکہ دن بدن بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مولانا...

قرآن مجید میں قتلِ خطا کے احکام ۔ چند توجہ طلب پہلو

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

’’کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، سوائے یہ کہ اس سے خطا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو ایک مومن گردن آزاد کر ے اور مقتول کے گھر والوں کودیت دے مگر یہ کہ وہ صدقہ کردیں۔ لیکن اگر وہ مومن مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس کے ساتھ تمہارا میثاق ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہادیا جائے گا اورایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہو گا۔ پھر جو نہ پائے، وہ پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم...

جہادِ کشمیر کی شرعی بنیادیں

― ڈاکٹر عصمت اللہ

تغیر، ارتقا اور تبدیلی انسانی زندگی کا لازمی خاصہ ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ حرب و ضرب اور جنگ کے مفہوم میں بھی مرورِ ایام کے ساتھ کافی تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔ اب یہ لفظ کئی طرح کی مختلف النوع جنگوں پر بولا جاتا ہے، مثلاً معروف عسکری زمینی جنگ، الیکٹرانک جنگ میڈیا کی جنگ، میزائیلوں کی جنگ، حیاتیاتی جنگ، کیمیائی جنگ، ایٹمی جنگ، نفسیاتی جنگ وغیرہ ۔ جنگ کی ان مختلف اقسام میں سے آخری قسم یعنی نفسیاتی جنگ اپنے نت نئے اور جدید ترین فکری اور نفسیاتی حربوں کی بدولت نظریاتی و جہادی تحریکوں کے حق میں دور حاضر کی سب سے خطر ناک اور تباہ کن جنگ تصور کی جاتی ہے۔...

دار العلوم دیوبند کی کشمیر کانفرنس

― عارف بہار

دارالعلوم دیوبند برصغیر کی شہرہ آفاق دینی درسگاہ ہے جس نے برصغیر کی سیاست، صحافت، خطابت کو کئی جوہر قابل عطا کیے، لیکن یہ بات بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ برصغیر کی داخلی سیاست میں یہ دانش گاہ تعبیر کے جن سرابوں کے پیچھے بھاگتی رہی، ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ ۱۶؍ اکتوبر کو دارالعلوم دیوبند میں ہونے والی ایک روزہ کشمیر کانفرنس اس تعاقب کا ایک ثبوت ہی تھی جس میں ایک طرف تو کشمیر میں ظالمانہ قوانین کے خاتمے اور فوج کی تعداد کم کرنے کے مطالبے کی حمایت کی گئی، وہیں ایک قرارداد میں فتوے کے انداز میں کشمیر کو بھارت کا ا ٹوٹ انگ قرار دیا گیا۔ اس کانفرنس...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) آپ کی جوابی تحریر موصول ہوئی۔ راقم آپ کی پہلی تحریر میں اپنے نکات سے متعلق جوابی سیکشن نہ دیکھ سکا تھا جس کی وجہ سے جواب نہ ملنے کی شکایت کی۔ اس کے لیے معذرت قبول کیجیے۔ قلت وقت کے سبب انتہائی اختصار کے ساتھ چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں: (۱) آپ کی آخری تحریر سے یہ واضح ہوجا تا ہے کہ کم از کم آپ مجاہدین کے اس مقدمے سے متفق ہیں کہ (شرعی حدود کا لحاظ رکھتے ہوئے ) امریکہ پر اقدامی حملہ کرنا شرعاً و اصولاً جائز ہے ۔ ۲) آپ کا فرمانا ہے کہ کسی جنگی اقدام کے جہاد کہلانے کی لئے ضروری ہے کہ اس میں ’کسی بھی ‘ شرعی اصول و تعلیم کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو۔ آپ...

ایں آہِ جگر سوزے در خلوت صحرا بہ!

― محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمد فاروق خان بھی شہادت کے اس مقام پر فائز ہو گئے جو اس دنیا میں ایک مرد مجاہد کی سب سے بڑی تمنا ہو سکتی ہے۔ پچھلے تیس سال سے ہماری مذہبی اور عسکری قیادت ا س خطے میں جو کھیل کھیلتی چلی آرہی ہے، اس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی ’فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ‘ کی صورت میں اپنے منحوس سایے پوری قوم اور پورے ملک پر پھیلا چکی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کی بھینٹ چڑھنے والے پہلے فرد نہیں، لیکن انھوں نے ایک مذہبی دانش ور کی حیثیت سے دینی استدلال کے ساتھ جس جرات واستقامت اور بے خوفی کے ساتھ اس کے خلاف کلمہ حق مسلسل بلند کیے رکھا، اس کی کوئی دوسری...

گلہڑ کا اچھوتا اور حیران کن علاج

― حکیم محمد عمران مغل

یہ واقعہ باغبان پورہ لاہور برف خانہ کا ہے۔ مریضہ کا چچا ایک نامی گرامی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے علاج کی پوری کوشش کی۔ آخری چارے کے طور پر تھائی راکسن کا ہی انتخاب ہوا۔ یاد رہے تھائی راکسن دوا پر جلی حروف میں ’’پوائزن‘‘ لکھا ہوا ہے۔ مریضہ کی ماں نے مجھے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ بچی کو جب یہ دوا دی جاتی ہے تو چار گھنٹے تک بچی دنیا ومافیہا سے بالکل بے خبر اور بے ہوش ہو جاتی ہے اور مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا۔ علاج کے باوجود بچی دن بدن ہڈیوں کا ڈھانچہ بنتی جا رہی ہے۔ ایف اے کی طالبہ ہے۔ پڑھائی چھڑوا دی گئی۔ بچی کا قد بھی رک گیا ہے اور...