SDPI کی رپورٹ کا ایک جائزہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(سرکاری نظام تعلیم میں رائج نصابی کتب پر اسلام آباد کی ایک غیر حکومتی تنظیم SDPI کی تیار کردہ ایک رپورٹ ان دنوں علمی وتعلیمی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ ہمارے روایتی قومی مزاج کے باعث بحث ومباحثہ میں اس رپورٹ کے منفی پہلوؤں پر توجہ زیادہ مرکوز ہو گئی ہے اور اس کے نتیجے میں بحث کے بہت سے مثبت اور قابل اعتنا گوشے نظر انداز ہو گئے ہیں۔ پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب نے اسی تناظر میں اپنے خیالات قلم بند کیے ہیں جنھیں عمومی بحث ومباحثہ کی غرض سے یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


پاکستان کی تاریخ محض سیاسی کشمکش کی تاریخ نہیں ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے اسے مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ان مسائل کی نوعیت مختلف ہونے کے باوجود ’’تعلیم ‘‘ ہمیشہ موضوع بحث ہونے کے باعث ہر دور کا مشترکہ مسئلہ رہی۔ یہ بات بہرحال تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ تعلیم کے حوالے سے حکومتوں کا رویہ بالخصوص اور غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کا رویہ بالعموم، فقط گفتار تک محدود رہا۔ حکومتی اور غیر حکومتی سطح پرہم لوگ کس حد تک گفتار کے غازی ہیں، ہماری شرح خواندگی اس کی واقعاتی گواہ ہے۔ 

تعلیم کے حوالے سے ہی وطنِ عزیز میں مختلف طبقات کے درمیان کھینچا تانی جاری رہی۔ پہلے پہلے مسٹر اور ملا کی تقسیم تھی۔ حکومتی ادارے مسٹروں کو جنم دے رہے تھے اور خالصتاً مذہبی ادارے ملا پیداکر رہے تھے۔ ان دو طبقات کی سوچ، فکر اور اپروچ میں گہری خلیج حائل تھی جس کی وجہ سے معاشرہ بھی منقسم تھااور نت نئے مسائل سر ابھار رہے تھے ۔ ان حالات کے پیشِ نظر دونوں طرف سے اصلاحِ احوال کی کوشش کی گئی۔ نتیجے کے طور پراب خلیج پہلے جیسی گہری نہیں رہی۔

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وطنِ عزیز کے مذکورہ دوطبقات نے جب شدید تگ و دو کے بعد کچھ ہم آہنگی حاصل کر لی تا کہ قومی یک جہتی کے تقاضے نبھائے جا سکیں اور معاشرتی اشتراک بھی راہ پاسکے تو ایک نہایت محدود طبقے نے قومی یک جہتی کے نام پر ہی قومی انتشار کی جھنڈی لہرا دی اور یہ واویلا شروع کردیا کہ حکومتی اداروں میں ’’اسلام کی تعلیم‘‘ دی جا رہی ہے جس سے نہ صرف جمہوری قدریں پامال ہو رہی ہیں بلکہ قومی یک جہتی بھی پارہ پارہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وقت ہمارے پیشِ نظر اسی طبقے کی ایک رپورٹ ہے جس میں نصابِ تعلیم اور نصابی کتابوں (اردو ، انگلش ، سوشل سٹڈیز اور سوکس )کو ہدفِ تنقید بنایا گیاہے۔ The Subtle Subversion کے عنوان سے یہ رپورٹ Sustainable Development Policy Institute نے پیش کی ہے ، جسے ہم آئندہ صفحات میں SDPI کہیں گے ۔ Subtle Subversion کے ۱۴۰صفحات گیارہ ابواب اور تین ضمیموں پر مشتمل ہیں، جنھیں مختلف اشخاص نے لکھا ہے۔ آغاز میں چار صفحات کا خلاصہ بھی الگ سے دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مرتبین جناب اے ایچ نیر اوراحمد سلیم ہیں۔ بہتر ہو گا کہ تمام ابواب کا الگ الگ سرسری جائزہ لینے سے قبل ان نکات کو دیکھ لیا جائے جو اس رپورٹ میں ’’مکرر‘‘ وارد ہوئے ہیں۔ 

کہا گیا ہے کہ ایک ’’ترقی پسند ، اعتدال پسند اور جمہوری پاکستان ‘‘ہمارا مقصد ہے ،یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب نظامِ تعلیم اس سے ہم آہنگ ہو۔ مزید یہ کہ بچوں میں مذکورہ مقصد کی تفہیم اور اس کی قدرو منزلت اجاگر کرنے کے ذریعے سے ہی پاکستان مطلوبہ ڈگر پر چل سکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق نصابِ تعلیم اور نصابی کتابیں پاکستان کے ترقی پسند، اعتدال پسند اور جمہوری ہونے میں بڑی رکاوٹ ہیں، اس لیے تمام ٹیکسٹ بک بورڈز اور وفاقی وزارتِ تعلیم کے نصابی ونگ کا بوریا بستر لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ مقامِ حیرت ہے کہ اس رپورٹ میں جابجا فوجی آمروں پر تنقید ملتی ہے اور تعلیمی خامیوں کو بھی ان سے نتھی کیا گیا ہے لیکن رپورٹ کا آغاز جناب جنرل پرویز مشرف کے ۱۴۔ اگست ۲۰۰۲کے ’’حکیمانہ خطاب‘‘ سے ہوتا ہے ۔ اگر ہم یہ نکتہ اٹھائیں گے کہ (SDPI) کے کرتا دھرتا افراد نے جنرل موصوف کی ’’نوازشات‘‘ سمیٹنے کی کامیاب کوشش کی ہے (۱) تو ہم پر الزام دھرا جائے گا کہ ہم ان پر الزام عائد کر رہے ہیں اور ثبوت کے طور پر یہی کہا جائے گا کہ ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ جنرل صاحب کے ’’خطبہ مبارک‘‘ کے تذکرے کے فوراً بعد موصوف کی ’’کوتاہ بینی‘‘ کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے، یعنی یہ کہ جنرل صاحب نے فرقہ واریت، انتہا پسندی، دہشت گردی اور ultra-islamist عناصر کا ذکر تو کر دیا لیکن یہ غور نہیں فرمایا کہ یہ قباحتیں کیونکر معاشرے میں رچ بس گئیں؟ رپورٹ کے مرتبین کے مطابق اس کی وجہ محض ملاؤں کے مدارس نہیں ہیں بلکہ مدارس تو کسی شمار میں ہی نہیں، اصل ’’فساد کی جڑ‘‘ حکومتی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں کا نصاب اور ٹیکسٹ بک بورڈزہیں۔ ہماری رائے میں ملک کے سابقہ فوجی آمروں پر کڑی تنقید کے باوجود اور جنرل پرویز مشرف پر Suggestive criticism کے با وصف اس رپورٹ کا مطالعہ یہی تاثر دیتا ہے کہ رائے عامہ میں مطلوبہ تبدیلی پیدا کرنے کے لیے زمینی حقائق پر مبنی جمہوری، عوامی اور معاشرتی عوامل کو اختیار کرنے کے بجائے ایک فوجی آمر کی خوشنودی حاصل کر کے اپنی رائے اور تجاویز کو ملک کی اکثریتی آبادی پرجیسے تیسے ٹھونس دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ( ایسا ایک حد تک ہو بھی چکا ہے ) پرانے زمانے میں گھروں میں ایک ’’چور دروازہ‘‘ رکھا جاتا تھا تا کہ کسی ہنگامی حالت میں اسے استعمال کیا جا سکے۔ غالباً یہی رویہ ہے جس کے تحت اکیسویں صدی میں رہنے والے لوگ، اور وہ بھی ایسے جو اپنے تئیں ’’جدید ترین‘‘ ہیں، پالیسی سازی کے لیے چور دروازے اختیار کرنے کے متمنی اور دلدادہ ہیں۔ 

اس رپورٹ میں جس طرح غیر مسلم اقلیتوں کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے بھی بہتوں کے علم میں اضافہ ہوگا۔ تاثر یہ دیا گیا ہے کہ غیر مسلم پاکستان میں خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں (۲) جو شخص پاکستان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا، وہ رپورٹ کے مطالعے کے بعد یہی خیال کرے گا کہ پاکستان میں مذہبی اعتبار سے بڑی ورائٹی ہے اورایک اکثریتی طبقہ دیگر مذا ہب والوں کو زبردستی اپنے مذہب کی تعلیم دے رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقلیتوں کے ذکر کے ضمن میں(ص ۱۶ پر ) دستورِ پاکستان ۱۹۷۳ کے آرٹیکل ۳۶ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔ ہمیں نہ تو اقلیتوں کے حقوق کی بات اٹھانے پر اعتراض ہے اور نہ ہی دستور کا حوالہ دینے پر۔ ہم تو فقط یہ نکتہ بیان کریں گے کہ SDPI کی اس رپورٹ میں پاکستان کو ’’اسلامی ریاست‘‘ کہنے پر تنقید کیوں کی گئی ہے؟ کیا پاکستان کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ کا لفظ دستورِ پاکستان نے نہیں لگایا؟ کیا کچھ لوگ ایسے ہی اسے اسلامی کہتے پھرتے ہیں؟ معترضین نے غالباً دستور کا پہلا آرٹیکل تو پڑھا ہو گا (تبھی تو آرٹیکل ۳۶ تک جا پہنچے) ، جس کے مطابق پاکستان ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار پاتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ دستورِ پاکستان کے آرٹیکلز کو اپنے موقف میں تقویت دینے کے لیے استعمال کرنے والے اسی دستور کے پہلے آرٹیکل سے چشم پوشی کا مظاہرہ کیوں کررہے ہیں؟ ہمارے خیال میں اس رپورٹ کو پیش کرنے والے پاکستان کو نہ تو اسلامی دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی جمہوریہ بلکہ شاید وہ پاکستان میں دستوری نظام ہی نہیں چاہتے۔ دستورِ پاکستان کے اسلامی ہونے کے باوجود انھیں ’’اسلامی‘‘ قابلِ قبول نہیں ، اور دستورِ پاکستان کے ’’جمہوری‘‘ ہونے کے باوجودوہ ایک فوجی آمر سے قربت کی پینگیں بڑھانے کی کوشش میں ہیں تاکہ ان کے موقف میں ’’سرکاری وزن‘‘ شامل ہو جائے۔ (خیال رہے کہ کوئی ملک اسی وقت جمہوریہ کہلاتا ہے جب اس کا سربراہ ’’منتخب‘‘ ہو) یہ اپروچ ان کے ’’ماڈرن ‘‘ہونے کوخوب بے نقاب کر رہی ہے۔ 

SDPI کی اس رپورٹ میں بہت زور دے کر یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اسلام اور پاکستانی نیشنل ازم کو لازمی درسی کتب میں ’’مترادف‘‘ معنوں میں استعمال کیا جاتاہے، جس سے غیر مسلم پاکستانی تحفظات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگرچہ اس نکتے کے ڈانڈے ’’اسلامی ریاست‘‘ والے نکتے سے جا ملتے ہیں اور اس رپورٹ میں بات کو اسی انداز میں لیا گیا ہے (اور حقیقتاًبات ہے بھی یہی) لیکن ہمارا رجحان اس سے متفق ہونے کے باوجود’’اپروچ‘‘ کے اعتبار سے مختلف ہے۔ ہماری رائے میں ’’امہ‘‘ کے تصور کے بموجب دنیا میں ایک وقت میں ’’ایک اسلامی ریاست‘‘ قائم کی جاسکتی ہے (خلافت کاتصور بھی یہی ہے ) اب اگر پاکستان کو اسلامی ریاست ’’تسلیم‘‘ کر لیا جائے تو اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ دیگر مسلم اقتدار کے حامل علاقے محض پاکستان کی توسیع ہیں اور بس۔ سوال یہ ہے کہ کیا دیگر علاقے پاکستان کی اس ’’توسیعی حیثیت ‘‘کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو تیار ہیں ؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس وقت کیا فقط پاکستان ہی اسلامی ریاست ہے؟آخر ’’اسلامی‘‘ کہلانے والی دیگر ریاستیں بھی تو موجود ہیں، ان کا کیا کیا جائے؟ ہماری رائے میں تو سب سے بڑا سوال، جس کا جواب آج کی عالمگیریت کی فضا میں دیا جانا اشد ضروری ہے، یہ ہے کہ کیا اسلامی ریاست کی ہےئتِ ترکیبی وہی ہے جو ہمارے ذہنوں میں اس وقت موجود ہے ؟شاید او آئی سی(OIC) کسی وقت اتنی فعال ہوجائے کہ اسلامی ریاست (خلافت) کی ذمہ داریاں سنبھال لے، تب موجودہ اسلامی ریاستوں کی حیثیت ’’مسلم اکثریتی و مسلم اتھارٹی کے حامل ‘‘ علاقوں کی ہو گی (جیسا کہ وفاقی نظام میں ریاست ایک ہوتی ہے ، لیکن صوبوں کی داخلی خود مختاری اور شناخت بھی قائم رہتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ ایک خلیفہ کے تحت مختلف سلاطین) ہمارا خیال ہے کہ اس وقت عالمگیریت کے دباؤ کی وجہ سے ریاستی نظام جس طرح proliferation کا شکار ہے ، مذکورہ امر کا واقع ہو جانا ناممکن نہیں ہو گا ۔ (۳) بہرحال The Subtle Subversion نامی رپورٹ پیش کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر انھیں حقیقتاً پاکستان کا اسلامی ریاست کہلواناچبھتا ہے اور انھیں پاکستانی نیشنل ازم اور اسلام مترادف معلوم ہوتے ہیں، تو انھیں دوا اور دعا کرنی چاہیے کہ ’’امہ‘‘ کا تصور جلد از جلد متشکل ہو جائے۔اس طرح ان کے تحفظات(ہماری محولہ بالا رائے کے بموجب) خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

SDPI کی اس رپورٹ میں ’’نظریہ پاکستان ‘‘ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔ جہاں تک نظریہ پاکستان کے ’’نظریہ اسلام‘‘ ہونے کا تعلق ہے ، اس کی بابت اسلامی ریاست کی بحث کے دوران بین السطور بات ہو چکی۔ SDPI کے صاحبانِ استدلال کو تحریکِ پاکستان کے سیاق و سباق میں اس نظریے کی ’’تاریخی حیثیت‘‘ پر شبہ ہے ۔ ان کے مطابق تحریکِ پاکستان کے ایام کے دوران نظریہ پاکستان کی ’’اصطلاح‘‘ کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ یہ سراسر من گھڑت اصطلاح ہے۔ ہماری رائے میں اگر یہ اصطلاح تحریکِ پاکستان کے دوران میں استعمال نہیں ہوئی اور بعد میں اسے متعارف کروایا گیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مختلف قومیں، تہذیبیں اور معاشرے حالات و واقعات کے تحت اور فکری ارتقا کرتے ہوئے گوناگوں اصطلاحات متعارف کراتے رہتے ہیں اور یہی عمل ان کے زندہ ہونے کا ثبوت ہو تا ہے۔ لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ اس رپورٹ کے اس نکتے سے اتفاق کیا جائے جس کے مطابق وطنِ عزیز میں تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے اور طلبہ و طالبات کو State oriented history ذہن نشین کروائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر تحریکِ پاکستان کی تاریخ اچھی خاصی بگاڑ دی گئی ہے کیونکہ نظریہ پاکستان کی تاریخی حیثیت (تحریکِ پاکستان کے سیاق و سباق میں) مسلمہ نہیں ہے تو آخر کیوں اسے زبردستی تاریخ کے اس مخصوص دور کا حصہ بنایا جائے؟ خاص طور پر اسے جناح ؒ سے منسوب کر کے حقائق سے روگردانی کیوں کی جائے؟ جناحؒ کی اسلامیت کا مظہر ان کی بہت سی تقاریر ہیں۔ ان کا براہ راست حوالہ دیا جا سکتا ہے اور دیا بھی جاتا ہے۔ اربابِ بست و کشاد کو اس بابت سوچ بچار کرنی چاہیے۔ اسی طرح برصغیر پاکستان و ہند کی تاریخ کا بیشتر حصہ جو ہندوؤں اور مسلمانوں کی ’’مشترکہ تاریخ‘‘ شمار ہوتا ہے، اس سے نہ صرف ،صرفِ نظر کیا جا رہا ہے بلکہ الٹا ہندوؤں اور مسلمانوں کو متحارب اور متصادم دکھانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، اور اصل متحارب گروہ یعنی انگریز سامراج پر سیر حاصل بحث سرے سے کی ہی نہیں جاتی۔ نتیجے کے طور پر نوجوان نسل کے سامنے تاریخ کی اصل تصویر نہیں آتی اور اس کے ذہن میں محض ’’ہندو مخالفت‘‘ نقش ہو جاتی ہے۔ (۴) ہماری رائے میں اس امر کی واقعتا ضرورت ہے کہ تاریخ کو وسیع تر تناظر میں پڑھا جائے۔ بلاشبہ آج کی دنیا کی صحیح تفہیم مغربی سامراجیت کے تنقیدی مطالعے کے بغیر ممکن نہیں اور نہ ہی ایسے وسیع تناظر کے بغیر ہمارے طلبہ و طالبات میں وہ بالغ نظری پیدا ہو سکتی ہے جس کے ہم سب متمنی ہیں ۔ 

اس رپورٹ میں بجا طور پر کہا گیا ہے کہ اس خطے (جنوبی ایشیا)کی تاریخ کے ذکر کے بغیر محض ۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی سے شروع ہو کر حال تک کی تاریخ پڑھانے سے(اور وہ بھی مسخ شدہ تاریخ )، اس خطے میں پر امن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے زریں اصول پروان نہیں چڑھ سکتے۔ تحریکِ پاکستان کے ضمن میں درست نشاندہی کی گئی ہے کہ کانگرس کو ہندو جماعت اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی جماعت قرار دے کر دیگر جماعتوں کا ذکر بالکل گول کر دیا گیا ہے، حالانکہ ان جماعتوں (مجلسِ احرارِ اسلام ، جمعیت علمائے ہند وغیرہ) کا برصغیر کی سیاست میں کافی فعال اور اہم کردار تھا۔ انڈین نیشنل کانگرس کو جس طرح رگیدا جا رہا ہے، اس کی ایک مثال تو یہ ہے کہ اس کے قیام کا مقصد ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ کانگرس ہندوؤں کو سیاسی اعتبارسے منظم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ (۵) ہماری رائے میں بلاشبہ ایسے اندازو اطوار تاریخ کو بگاڑنے اور تنگ نظری کو فروغ دینے والے ہیں ۔ان کی حوصلہ شکنی ضروری معلوم ہوتی ہے ۔ 

SDPI کی زیر بحث رپورٹ میں تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے مسلم فاتحین کا تذکرہ بھی تنقیدی لب و لہجے میں کیا گیا ہے۔اگر توازن کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے تو یہ تسلیم کیے ہی بنتی ہے کہ SDPI کے دلائل میں خاصا وزن ہے۔ اس بارے میں یقیناًدو آرا نہیں ہو سکتیں کہ تاریخ ’’فتوحات‘‘ کے تذکرے کانام نہیں، اس میں معاشرتی ، معاشی ، نفسیاتی ، ثقافتی ،عسکری اور دیگر عوامل کا جائزہ نہایت ضروری اور ناگزیر ہوتا ہے۔ ہماری نظر میں یہ مقامِ افسوس ہے کہ تاریخ کو ایک نہایت موثر مضمون کی سطح پر لا کھڑا کرنے والے مسلمانوں کے ہاں ہی تاریخ نویسی میں پرانے اور لگے بندھے اسلوب رائج ہوگئے ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ نئی نسل کو اس قسم کی غیر تجزیاتی اور موضوعی تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ غوروفکر اور فعالیت کے فقدان کا یہ رجحان یقیناًہمارے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ 

اب ہم تمام ابواب کے ان ضروری نکات کو سلسلہ وار بیان کریں گے جن کا ذکراوپر مجموعی جائزے میں نہیں ہو سکا۔ 

پہلا باب تعارفی ہے اور اس کے سات صفحات ہیں۔ اس میں تعلیمی پالیسیوں کی بابت گوہر افشانی کی گئی ہے کہ مختلف ادوار میں بظاہر نظری تبدیلیوں کے باوجود (تعلیم ۵۸ء سے پہلے ’’ سماجی خدمت ‘‘قرار پا کر ، ایوب کے دور میں ’’ترقیاتی ضرورت‘‘ سے بہرہ مند ہو کر ۷۷ء تک بھٹو کے عہد میں’’ بنیادی حق‘‘کے لقب سے سرفراز ہوئی ) تمام پالیسیوں کے پس منظر میں ’’اسلام‘‘ جھانکتا رہا ، لیکن ضیاء الحق کے دور میں تعلیمی پالیسی کے گرد اسلامی غلاف باقاعدہ لپیٹ دیا گیا۔ ہم اس بابت یہی گزارش کریں گے کہ اس ملک کے قیام کا پس منظر اور اس کی غالب اکثریت کی حامل مسلم آبادی تعلیمی پالیسی پر اسی طرح اثر انداز ہوتے رہیں گے۔ صرف ایک بات دیکھنے کے قابل ہے کہ کہیں ایسی پالیسی بھارت مخالفت میں ’’ردِ عمل‘‘ پر تو مبنی نہیں؟ کیونکہ برصغیر میں ہمارا تاریخی پس منظر، ۱۹۴۷ء کے بعد ہمارے تقریباً ہر قول و فعل پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ اسی باب میں یہ نکتہ بالکل صحیح اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان میں سول اور ملٹری بیوروکریٹس چھائے رہے ہیں (اور تا حال چھائے ہوئے ہیں ) ،جس کی وجہ سے پالیسی سازی میں ’’وسیع مشاورت‘‘ کی بجائے ڈرائینگ روم عنصر موجود رہا۔ ہم یہی عرض کریں گے کہ سرخ فیتے کی غلط کاریوں کے قصے بھلا کسے ازبر نہیں؟تعلیم کے شعبے میں وہ شخص جسے وزیرِ تعلیم کہا جاتا ہے ، بے چارہ ان ’’باریک بینوں ‘‘ کے سامنے کچھ ایسے بھیگی بلی بنا ہوتا ہے کہ ’’زیرِ تعلیم‘‘ دکھائی پڑتا ہے۔ اسی طرح ہمیں SDPI کے اس نکتے سے بھی اتفاق ہے کہ اکثر اوقات نصاب میں محض جزوی اور معمولی سی ترامیم کر کے نئی نصابی کتابیں چھاپ دی جاتی ہیں ،جس سے والدین پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ۔ 

اس تعارفی باب میں ہی ایک نکتہ بصورتِ اعتراض یوں اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان میں پرائمری تعلیم پر اعلیٰ تعلیم کو ترجیح دی گئی ۔ بظاہر یہ اعتراض (بالخصوص آج کے حالات کے تناظر میں ) درست معلوم ہوتا ہے ، لیکن ہمارے اس پر کچھ تحفظات ہیں۔ ہماری نظر میں ’’اعلیٰ تعلیم‘‘ کو ترجیح دینے کی پالیسی وقت کی ضرورت کے عین مطابق تھی ۔ پرائمری تعلیم ہمیں مختلف شعبوں میں ایسے ماہرین دینے سے قاصر تھی جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے قوم کو بین الاقوامی برادری میں باعزت اور پر وقار مقام دلا سکتے۔ ہم تو یہی خیال کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم اس وقت پرائمری تعلیم پر پوری توجہ دینے کے قابل بھی اس لیے ہوئی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو ترجیح دینے کی پالیسی کے باعث کسی نہ کسی درجے میں حاصل ہونے والی خود کفالت نے ’’تعلیم سب کے لیے‘‘ کے نعرے کو متشکل کرنے کی امید بندھائی ہے۔ اس لیے SDPI کا یہ اعتراض بے جا معلوم ہوتا ہے ۔ 

اب ہم دوسرے باب کی طرف آتے ہیں جسے اے ایچ نیر نے لکھا ہے۔ یہ باب پچپن (۵۵) صفحات پر مشتمل ہے ۔ جناب اے ایچ نیر نے تقریباً پورے باب میں اسلام کی بابت بہت زیادہ ’’حساسیّت‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے نصاب اور ٹیکسٹ بک بورڈ کی کسی ویب سائٹ پر Search Engine میں لفظ ’’اسلام‘‘ ٹائپ کردیا اور پھر جو کچھ سامنے آیا، جیسے تیسے ’’اندیشہ ہائے دور دراز‘‘ کے مصداق بہت ہی موضوعی انداز میں اس باب میں ’’بصورتِ اعتراضات‘‘ منتقل کر دیا۔ ایسی منفی اور یک رخی اپروچ کے باعث آں جناب کے دلائل کی اہمیت ’’ہوائی فائرنگ‘‘ کی سی ہو جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کے باوجود ہم نے نیر صاحب کے چند نکات کو نہ صرف اوپر کے مجموعی جائزے میں جگہ دی ہے بلکہ ہماری یہ کوشش ہے کہ یہاں بھی دیگر نکات کو پرکھ لیا جائے ۔ Subtle Subversion کے صفحہ نمبر ۱۰ پر نیّر صاحب نے ایک اقتباس کا حوالہ دے کر اپنی علمی وجاہت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ امر پاکستان کی نصابی دستاویزات میں تکرار کی حد تک موجود ہے۔ اقتباس ملاحظہ کیجئے: 

In the teaching material, no concept of separation between the worldly and the religious be given; rather all the material be presented from the Islamic point of view. 
’’تعلیمی مواد میں دین ودنیا کی تفریق کا کوئی تصور نہ دیا جائے۔ اس کے بجائے تمام مواد کو اسلامی نقطہ نگاہ سے پیش کیا جائے۔‘‘

ہم لمبی چوڑی بحث میں پڑے بغیر فقط یہ عرض کیے دیتے ہیں کہ اگر دنیاوی اور مذہبی امور کو خالصتاً اس طرح بھی تقسیم کر دیا جائے جیسا کہ ہمارے معترض چاہتے ہیں تو بھی دنیاوی معاملہ ’’دین‘‘ کی کیٹگری میں ہی آئے گا۔(۶) ایسی صورت میں نیر صاحب کیا کریں گے؟ اب ہم ان کی ’’ضیافتِ طبع ‘‘ کی خاطراپنے تصورِ دین کو تو بدلنے سے رہے۔ 

جناب اے ایچ نیرکو درسی کتابوں میں اسلامی تاریخ کے واقعات اور شخصیات کے تذکرے سے بھی ’’ذہنی بد ہضمی ‘‘ہوئی ہے۔جہاں کہیں قرآن مجید کا ذکر آتا ہے ، انھیں کھٹے ڈکار آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ شاید ان کے اور ان کے رفقا کے ہاں اسلامی تاریخ ’’تاریخ‘‘ نہیں سمجھی جاتی ، اور نہ ہی مسلم شخصیات ’’شخصیات‘‘ شمار ہوتی ہیں۔نجانے تاریخ اور شخصیات کا ان کے ہاں کیا پیمانہ ہے؟ اگر سیکولر حوالے سے بھی دیکھا جائے تو نصاب میں ظاہر ہے (مذہب سے قطع نظر ) انسانی تاریخ اور انسانی شخصیات کو بھی شامل کیا جائے گا اور جنھیں نصاب پڑھایا جا رہا ہے، انھی کی ایسی تاریخ اورایسی شخصیات کو نصابی کتب میں ترجیحاً جگہ دی جائے گی جن میں تکریمِ انسانیت ، مساوات، اخوت، ایثار اور عدل وغیرہ جیسی جملہ خصوصیات کی خوشبو رچی بسی ہو۔ پھر نصاب کے مخاطبین میں سے غالب اکثریتی گروہ کو قدرتی طور پر اس حوالے سے فوقیت بھی حاصل رہے گی۔ بہرحال ! اس رپورٹ کے بین السطور ہمارے معترض کی افتادِ طبع مذہب بیزار معلوم ہوتی ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم دیگر مذاہب کے بارے میں بھی معلومات شامل کرنے کی تجویز دے کر ایک معقول حل ڈھونڈ لیں گے لیکن موصوف کو تو نفسِ مذہب پر ہی اعتراض ہے۔ (۷) ہم یہاں طوالت کے خوف سے مذہب اور لا مذہبیت کی روایتی بحث نہیں چھیڑ سکتے، صرف یہی کہنے پر اکتفا کریں گے کہ جناب! اس وقت پوری دنیا میں مذہب کا احیا ہو رہا ہے ، مختلف فورموں پر ’’خدا کی واپسی ‘‘ کے عنوان سے بحث و نظر کو فروغ مل رہا ہے ، پھر کیا ہم ایسی عالمگیر فضا میں (جس کا ذکر اس رپورٹ میں شدو مد سے کیا گیا ہے کہ عالمی حالات و واقعات نظروں سے اوجھل نہیں ہونے چاہییں)، باقی دنیا کے مجموعی رجحان سے مکمل کٹ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لیں؟ کیا ہم پاکستان کی مستقبل کی نسل کو ’’ڈیڑھ اینٹ کی مسجد‘‘ میں رکھنے کے خواہشمند ہیں؟ 

قرآن مجید کے شاملِ نصاب ہونے کی توجیہ میں شاید یہ نکتہ کافی ہو گا کہ قرآن مجید کا مخاطب ’’انسان‘‘ بھی ہے نہ کہ صرف مومن۔ اس لیے سیکولر نقطہ نظر سے بھی قرآن مجید کی ان آیات کی نصاب میں شمولیت پر، جن میں مخاطب انسان ہے، کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ آخر انسانوں کے بچوں کو ’’اخلاقیات‘‘ کی کچھ نہ کچھ تعلیم دی جانی ضروری ہے یا نہیں ؟ ہمارا موقف یہ ہے کہ قرآن مجید کے اخلاقی احکام آفاقی نوعیت کے ہیں،مثلاً ’’جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔‘‘ لہٰذا لازمی درسی کتب میں ایسی آیات کی شمولیت تو رواداری، تحمل اور عدل و احسان وغیرہ کے پھلنے پھولنے کی ضمانت کے مترادف ہے۔ ہماری رائے میں اس پر بحث کی ضرورت ہے کہ کس عمر اور کس سطح کے بچوں کو کون سی آیاتِ مبارکہ پڑھائی جانی چاہئیں۔ خیال رہے کہ SDPI نے اعتراض یہ کیا ہے کہ اسلامیات لازمی کے علاوہ، جو مسلمان بچوں کے لیے مخصوص ہے، دیگر لازمی درسی کتب میں قرآن مجید کیونکر شامل ہے؟ جہاں تک جہاد اور شہادت سے متعلق اسلامی ذخیرے پر اس اعتراض کا تعلق ہے کہ اسے کیوں درسی کتب میں شامل کیا گیا کہ اس کے اثرات کے تحت معاشرے میں جنگجویانہ فطرت پنپ رہی ہے، ہم یہی گزارش کریں گے کہ دیگر معاشروں کا ہمارے معاشرے سے موازنہ کر لیجیے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اگر معاشرے میں اس وقت موجود کسی ایسے منفی رویے کو بطور مثال پیش کیا جائے تو ہمارا یہی موقف ہو گا کہ اس وقت عالمی حالات نارمل نہیں ہیں، مسلمانوں کو ہر طرف سے گھیرا جا رہا ہے۔ ایسے میں افراط و تفریط کا شکار ہو جانا اچنبھے کی بات نہیں۔ پھر یہ بھی تو ہے کہ ہماری شرح خواندگی بہت کم ہے جس کا یہی مطلب ہے کہ (ا) زیادہ تر غیر خواندہ طبقہ افراط و تفریط کا شکار ہوا ہے اور (ب) خواندہ طبقے کی بہت قلیل تعدادبھی خارجی جبر سے متاثر ہوئی ہے۔ لہٰذا جہاد اور شہادت کے ذخیرے کے وہ اثرات ہر گز معاشرے میں موجود نہیں جن کا ڈھنڈورا پیٹنے کی اس رپورٹ میں کوشش کی گئی ہے۔

نیر صاحب نے اردو اور سماجی علوم کی لازمی درسی کتب کا باقاعدہ حوالہ دے کر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ لازمی مضامین تو بلا تفریق مذہب سب کو پڑھنے ہوتے ہیں، پھر کیوں ان کتب میں اسلامی اسلامی مواد جمع کیا گیا ہے؟ بادی النظر میں ہمارے محترم کی بات میں وزن نظر آتا ہے، لیکن اس سلسلے میں نہایت اہم نکتہ جو نیر صاحب کے پیشِ نظرنہیں رہا، یہ ہے کہ ہر زبان کا ایک خاص تاریخی پس منظر ہوتا ہے۔ اردو اگرچہ برصغیر کے لوگوں کی مشترکہ زبان ہے، اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار محال ہے کہ مسلمانوں کے فکری، معاشرتی اور ثقافتی اثرات اس زبان پر بہت زیادہ ہیں۔ لسانیات سے تھوڑی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ کسی زبان کو سیکھنے کے دوران اس سے وابستہ اس کا فکری و تہذیبی پس منظر بھی خود بخود سیکھنے والے کو منتقل ہوجاتا ہے۔ زبان، محض زبان کبھی نہیں ہوسکتی۔ ہماری رائے میں یہی صورتِ حال اردو اور دیگر ایسی کتابوں کی بابت سچ ہے جو اردو زبان میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں محض محاوروں کو دیکھ لیجیے۔ مثلاً ملا کی دوڑ مسجد تک، دوملاؤں میں مرغی حرام، وغیرہ۔ اب اگر اردو زبان کے طالب علم، سیکولر انداز میں بھی ان محاوروں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ ’’ملا‘‘ کیا ہوتا ہے ؟ ’’مسجد‘‘ کیا ہے؟ اور ان محاوروں کی معنویت سے آشنائی کے بعد انھیں ملاؤں کی ’’عملی بے عملی‘‘ کا بھی ادراک ہو جائے گا۔ یوں محض زبان دانی کے عمل کے دوران ہی انھیں اسلام کے بارے میں اچھی خاصی معلومات مل جائیں گی۔ ہماری رائے میں اردو ہماری قومی زبان ہے، اسی زبان کے توسط سے ہم اس تفریق اور دوری کو ختم کر سکتے ہیں جس کے لیے SDPI نے ’’لطیف تخریب‘‘ نامی یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔ لہٰذا نیر صاحب اور دیگر صاحبان کو زبان کے حوالے سے مذکورہ نوع کے پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ 

جہاں تک معاشرتی علوم میں اسلامی مواد کا تعلق ہے، ایک تو یہی زبان والی بات ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیا اسلامی مواد کسی صورت بھی ’’معلوماتی ‘‘ نہیں کہلواسکتا؟ پاکستان میں آبادی کے تناسب کے مطابق طالب علموں کی اکثریت تو مسلم ہوتی ہے، اس لیے ان کا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہر جماعت میں بیٹھے ہوئے ’’اکا دکا‘‘ غیر مسلم پاکستانی، اسلامی معاشرتی مواد کو بطور ’’معلومات‘‘ پڑھ لیں تو قومی یک جہتی کو مہمیز ملے گی نہ کہ انتشار، کیونکہ ایک بہت محدود اقلیت، بہت بڑی اور غالب اکثریت کے معاشرتی رجحانات جان کر، اس کے ساتھ صحت منداور ٹھوس مکالمے کے لیے تیار ہوسکے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ معاشرتی علوم کی درسی کتب میں محض اسلامی مواد نہیں ہے بلکہ دنیاوی معلومات بھی اس میں شامل ہیں۔ اگرچہ یہ دنیاوی معلومات بھی ’’دین‘‘ میں شمار ہونے کے باعث ہمارے لیے اسلامی ہوں گی، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا۔ ہمارے معترضین انھیں دنیاوی میں شمار کرتے رہیں ، ان کی مرضی ، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔

نیر صاحب نے اپنے اسی انتہا پسندانہ زاویہ نگاہ کے باعث بعض ایسے نکتہ ہائے اعتراض بھی اٹھائے ہیں جن کی معقولیت میں غالباً سیکولر فکر رکھنے والے اہل علم کو بھی شبہ ہوگا۔ مثلاً انھیں اعتراض ہے کہ ’’اساتذہ کا احترام ‘‘ ایک ایسی کہانی ہے جو عباسی خلفا کے گرد گھومتی ہے ۔ اسی طرح انھیں صحت سے متعلقہ ایک سبق میں غیر صحت مند بات یہ نظر آئی ہے کہ اس میں اسلامی تاریخ کے اس واقعہ کا ذکر ہے جس کے مطابق ایک طبیب مدینہ میں آتا ہے اور مریضوں کے نہ آنے پر جب اسے حیرت ہوتی ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ اس بستی کے باسی صرف اسی وقت کھاتے ہیں جب انھیں بھوک لگی ہواور سیر ہونے سے پہلے کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ نیر صاحب دنیا کوآخر کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟اساتذہ کا احترام ایک آفاقی قدر ہے۔ خلفا کی مثال دینے کا مقصد یہی ہے کہ اعلیٰ اتھارٹی بھی اساتذہ کے احترام کو عین ادب خیال کرتی ہے، اس لیے تمام طبقات کے لوگوں کو استاد کا احترام کرنا چاہیے۔ ہماری رائے یہی ہے کہ عباسی خلفا کے اس نوعیت کے تذکرے کو ’’اسلامی‘‘ قرار دینے کے بجائے ’’انسانی‘‘ ہی سمجھا جائے تو بہتر ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس واقعہ کو اپنے نصاب میں شامل کر سکتا ہے۔ اسی طرح طبیب والا واقعہ اور دیگر کئی شاملِ نصاب واقعات ہیں ۔ خیال رہے، اسلامی تاریخ سے مثالیں لینے کی بابت پچھلے صفحات میں بھی بات ہو چکی ہے۔ ہم نیر صاحب سے گزارش کریں گے کہ بہت بڑی اکثریت کے حق پر ڈاکہ ڈال کر نہایت محدود اقلیت کے حقوق کی بابت سوچ سوچ کر ہلکان ہونا اپنی جگہ ، انھیں کم از کم اس ’’اعتدال پسندی‘‘ کا تھوڑا بہت مظاہرہ تو خود بھی کرنا چاہیے جو ان کے مقاصد میں سے ایک ہے۔

جہاں تک تحریکِ پاکستان کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی بابت SDPIکے موقف کا تعلق ہے،انصاف کی بات ہے کہ اس سے متفق ہوئے بغیر چارہ نہیں ۔درسی کتب میں انگریزوں کی کاسہ لیسی مکمل طور پر ہندوؤں کے سر تھوپ دی گئی ہے۔اور مسلما ن نو سو چوہے کھا کر بھی ’’حج‘‘ کے سفر پر گامزن دکھائے جاتے ہیں۔ایسے حاجی بننے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات میں ’’فسادی عناصر‘‘ صرف ہندو ہی خیال کیے جاتے ہیں، مسلم فسادی عناصر کا ذکر گول کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہندو تہذیب اور کلچر کی صرف منفی تصویر نے درسی کتب میں جگہ پائی ہے، جیسے ان میں کوئی خوبی سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ ہماری رائے میں ایسی ’’اپروچ‘‘ نہ صرف قابلِ گرفت ہے بلکہ اسے ایڈریس کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ 

The Subtle Subversion کا تیسرا باب گیارہ صفحات پر مشتمل اور احمد سلیم صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ اس میں نصابی کتب کی تاریخی غلطیوں سے تعرض کیا گیا ہے ۔ سلیم صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک میں تاریخ کو ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈے کے ’’آلہ‘‘ کے طور استعمال کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تاریخی حقائق کو بڑے کھلے ڈلے انداز میں مسخ کرنے کی روش اپنائی گئی۔ تحریکِ پاکستان پر قلم اٹھانے والے معروف مورخ کے کے عزیز کے حوالے سے جناب احمد سلیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے مطالعہ پاکستان اور تاریخ کی ۶۶ کتب کا پوسٹ مارٹم کر کے ثابت کیا ہے کہ کس حد تک تاریخ نویسی میں مبالغے سے کام لیا جا رہاہے ، مغالطے کو فرغ مل رہا ہے اور حقائق کو بگاڑا جا رہا ہے ۔ 

اس باب میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی سالوں میں صورتِ حال چنداں ایسی نہیں تھی۔ محمد بن قاسم پر بھی تنقید موجود تھی، گاندھی پر پھبتیاں کسنے کے بجائے اس کی ان خدمات کا ذکر کیا جاتا تھا جو اس نے قتل و غارت کے وقت مسلمانوں کو بچانے کے لیے کیں۔ لیکن ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد (بھارت اور مشرقی پاکستان کے ہندو اساتذہ کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر ،یعنی دیگر وجوہات سے صرفِ نظر کر کے محض جزوی عناصر کو کلیدی بنا کر) دوسرے کو برائی کا محور سمجھنے کی روش پنپنی شروع ہوئی اور ضیاء الحق کے دور میں پہنچ کر یہ روش پختہ راستہ بن گئی۔اور تاریخ کے طالب علم فقط اسی راستے پر چل پھر سکتے تھے۔ سلیم صاحب نے ایک قابلِ بحث ، پتے کی بات (بطور حوالہ) کی ہے کہ ضیاء الحق کی اسلامائزیشن نے ضیاء کے لیے وہی کام کیا جو ایوب خان کے قومی ترقی کے نظریے اور بھٹو کے سوشل ازم نے بالترتیب دونوں کے لیے کیا ۔ یعنی وقت کے تقاضوں کے مطابق محض ’’ظاہری صورت‘‘ میں تبدیلی کر لی گئی۔ 

اس باب میں A Unique View Of Pakistan کے عنوان سے تقریباً دو صفحات کی ایک فصل ہے۔ یہ واقعی خاصی دلچسپ ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ اس قسم کا مواد میٹرک کی سطح کی درسی کتب میں شامل کیا گیا ہے۔ تخیل کی ایسی پروازیں غیر نصابی کتب میں ہی جچتی ہیں کہ ایسی پروازیں ٹھوس دلائل کے بغیر اور حقائق کے منافی ہوتی ہیں۔ اس فصل میں دیے گئے اقتباسات کے مطابق نصابی کتب کے ’’فاضل مصنفین‘‘ نے ہم سب کے علم میں اضافے کی خاطر نکتہ طرازی کی ہے کہ موجودہ پاکستان تاریخ کے ہر دور میں باقی ہندوستان سے ’’الگ شناخت‘‘ کا حامل رہا۔ فرمایا گیا ہے کہ اس پاکستان نے (مسلم دورِ حکومت میں ) باقی ماندہ ہندوستان پر حکمرانی کی، وغیرہ وغیرہ۔ہم احمد سلیم صاحب سے مکمل متفق ہیں کہ الف لیلہ کی ایسی کہانیوں کو ’’تاریخ ‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔

جہاں تک ۱۹۳۷ء کی کانگرسی وزارتوں کے منفی ہتھکنڈوں کا تعلق ہے ، تاریخی حولے سے ان پر بعض رپورٹس بھی موجود ہیں ، اس لیے ہم سلیم صاحب کی اس بات سے کلی متفق نہیں ہو سکتے کہ اس ضمن میں تاریخی حقائق سے مکمل روگردانی کی گئی ہے۔ قرار دادِ مقاصد پر ان کا اعتراض بھی بے جا ہے، کیونکہ اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے تمام نوعیت کے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دے دیا تھا۔ البتہ اس نکتے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ۱۹۵۵ء میں تشکیل پانے والے ’’وحدت مغربی پاکستان‘‘ کے تجربے کو تجزیاتی انداز میں نہیں لیا جاتا اور نہ ہی اس بات کا تذکرہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ ون یونٹ کے قیام سے صوبائی اور علاقائی حقوق کو غصب کیا گیا اور کثرت کو زبردستی وحدت میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ سلیم صاحب کی طرح ہمارے لیے بھی یہ ایک ’’انکشاف‘‘ ہے کہ ۱۹۵۶ء کا دستور کبھی عمل میں نہ آ سکا۔ (خیا ل رہے کہ یہ انکشاف درسی کتاب میں کیا گیا ہے) اسی طرح ۱۹۷۷ء کے مارشل لا کا ذمہ دار حکومت اور اپوزیشن کو ٹھہرایا گیا ہے اور ضیاء الحق ’’پوتّر‘‘ ہو کر سامنے آئے ہیں۔ 

زیرِ بحث رپورٹ کا چوتھا باب بارہ صفحات پر مشتمل ہے اور یہ اے ایچ نیر اور احمد سلیم کی مشترکہ کاوش ہے۔ یہاں یہ درست نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان کی ۵۵ سالہ تاریخ میں سے ۳۰ سال ملٹری نے براہ راست حکومت کی، اس کے علاوہ باقی ادوار میں بھی پسِ پردہ ملٹری ہی طاقت اور فیصلہ سازی کا محور رہی لہٰذا تعلیمی نصاب پر ملٹری کے اثرات سے مفر ممکن نہیں۔ ہماری رائے میں بلاشبہ اس بات کے معروضی تجزیے کے لیے صحت مند بحث مباحثہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ 

چونکہ اے ایچ نیر صاحب بھی اس باب کے ایک مصنف ہیں، اس لیے ان کا ’’طریقہ تحقیق‘‘ بھی اس باب میں در آیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے موصوف نے اس با ر Search Engine میں ا لفاظ ’’جہاداور شہادت‘‘ ٹائپ کر دیے، اور سامنے آنے والے تما م مواد کو الزامی صورت میں یہاں منتقل کر دیا۔ ہمارے معترضین کو راشد منہاس شہید، لانس نائک محمد محفوط شہید، میرا وطن(ایک نظم) وغیرہ کا شاملِ نصاب ہونا کافی کھٹک رہا ہے۔ اور تو اور، انھیں اس بات پر بھی رنجش ہے کہ ملک کے دفاع کو شہری کا اولین فرض کیوں کہا گیا، دفاعی اخراجات اور جدید ہتھیاروں کی تحصیل کا ’’جواز‘‘ کیوں پیش کیا گیا؟ اسی طرح معترضین کے مطابق ایف اے کی سطح پر(۶۰۰ نمبروں کا) درج ذیل مضامین کا گروپ ، ہمارے جنگجویانہ رجحانات کا آئینہ دار ہے :

(۱) وار (۲) ملٹری ہسٹری (۳) اکنامکس آف وار (۴) ملٹری جیوگرافی (۵)ڈیفنس آف پاکستان (۶)اسپیشل ملٹری سٹڈیز

ہمارا خیال ہے کہ یہ اعتراضات انتہا پسندانہ اور reactionary رویے کے مظہر ہیں۔ 

The Subtle Subversion کا پانچ صفحات پر مشتمل پانچواں باب جناب ڈاکٹر خورشید حسنین کی عمدہ کاوش ہے ۔ اس باب میں نہ صرف معروضیت جھلک رہی ہے بلکہ اس کی اپروچ صاحبِ تحریر کے وسیع المطالعہ ہونے پر دال ہے۔ یہ پورا باب ’الشریعہ‘ کے زیر نظر شمارے میں ’’قومی نصاب تعلیم کے فکری ونظریاتی خلا‘‘ کے زیر عنوان شامل اشاعت ہے۔ اس کے جن نکات سے ہمیں اختلاف ہے، ان کا ذکر اب تک کی سطور میں کہیں نہ کہیں ہو چکا ہے ۔ 

جناب محمد پرویز کے تحریر کردہ چھٹے باب میں نصابی سیاق و سباق میں تدریسی مسائل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس کے صفحات پانچ ہیں۔ پرویز صاحب نے بجا کہا ہے کہ جو بچے پہلی کلاس میں داخل ہوتے ہیں، ان کی متنوع مادری زبانوں کے پیشِ نظر ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ صحیح لہجے میں اردو بولیں، بچوں کے ساتھ زیادتی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اردو کی تدریس میں شروعات میں الفاظ کی بجائے کریکٹرز(علامتیں، حروف)، تجویز کیے گئے ہیں ، جو درست نہیں، کیونکہ کریکٹرز بچوں کے لیے بے معنی ہوتے ہیں، جبکہ الفاظ کسی ٹھوس یا محسوس ہو سکنے والی شے کا حوالہ دینے کے باعث بچوں کے لیے دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں۔ پرویز صاحب نے ایک اعتراض یہ بھی کیا ہے کہ نصابی دستاویز میں دانستہ طور پر ’’مدرسہ اور مسجد‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، حالانکہ پاکستانی بچوں کی اکثریت سکولوں میں پڑھتی ہے مدارس میں نہیں۔ اگرچہ سکول کے ترجمے کے طور پر اردو میں ’’مدرسہ‘‘ کا لفظ مستعمل ہے لیکن ثقافتی اعتبار سے یہ ایسے اداروں سے نتھی ہوگیا ہے جو خالصتاً مذہبی ہیں ۔ دوسری طرف انگریزی لفظ اسکول اب اردو میں عام استعمال ہورہا ہے اور غیر مذہبی تعلیمی اداروں کے لیے مستعمل ہے۔ ہم یہی عرض کریں گے کہ اگر پرویز صاحب کی تسلی یوں ہوتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔ 

کلاس دوم کے نصاب کی بابت ہمارے ممدوح کا کہنا ہے کہ اس میں بچے کے متعلق ’’ترقیاتی حساسیت‘‘ کی کمی جھلکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نصاب کا لازمہ ’’ترتیبی پیش قدمی‘‘ بھی کم ہے۔ اسی طرح ان کا یہ بھی موقف ہے کہ تحریری مواد کی ’’نقل‘‘ بھی غیر مناسب ہے کہ اس سے بچے کا ’’ذہنی بانکپن ‘‘ راکھ ہو کر رہ جاتا ہے۔ نقل سے بچے کے ’’ہاتھ اور ذہن کی ہم آہنگی‘‘ بھی شعلگی سے ہمکنار نہیں ہوتی۔ سائنس کی بات کرتے ہوئے پرویز صاحب نے بجا فرمایا ہے کہ بچوں کے لیے سائنس ، نظریات اور زبانی مواد کو یاد کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایسے مواقع دینے کے نام سے عبارت ہے جن سے بچوں میں کھوج کا جذبہ انگڑائیاں لیتا ہے، کوئی چیز دریافت کر لینے سے حاصل ہونے والا لطف چٹکیاں بھرتا ہے اور تحقیق و تجسس سے شرابور ہونے کا تجربہ دستک دیتا ہے۔ ہم پرویز صاحب کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں؟ کلاس دوم کے بچوں کی بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی موقف ہے کہ حب الوطنی اور اسلامی اخوت جیسے ’’نظری موضوعات‘‘ کافی بھاری ہیں، اس عمر کے بچوں کوٹھوس اور محسوس ہو سکنے والی اشیا کے متعلق ہی پڑھایا جانا چاہیے۔ ہماری رائے میں موصوف کا یہ نکتہ با وزن ہونے کے باوجود بحث و مباحثہ کا مقتضی ہے۔ کلاس سوم کے نصاب پر نظر دوڑاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ کام کی عظمت، ہمدردی، سچائی، سادگی وغیرہ جیسی بنیادی اخلاقی تعلیمات کو کاغذی بنائے بغیر یکجا کرنا قابلِ تعریف ہے۔ کلاس چہارم اور پنجم کا ذکر کرتے ہوئے ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ چونکہ نصابی کام کرنے والے تقریباً تمام ماہرین اصل میں ’’ماہرِ مضمون ‘‘ ہوتے ہیں ، اس لیے وہ بچوں اور ان کی تعلیم کی بجائے اپنے مضمون کے ’’زیادہ وفادار ‘‘ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کی تدریس بچوں یا تعلیم کے گرد نہیں گھومتی،بلکہ کسی نہ کسی مضمون کے ہاں ہی اس کا پڑاؤ ہوتا ہے۔ پرویز صاحب کی یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ اردو سے محبت کا ’’تقاضا‘‘ نہیں کیا جا سکتا (محبت تقاضا نہیں کرتی)، اس لیے اردو سے محبت اسی صورت میں پنپ سکتی ہے جب اسے محبت کے ساتھ اور دلچسپی پیدا کرنے والے طریقے سے پڑھایا اور سکھایا جائے۔ 

SDPI کی اس ریسرچ رپورٹ کا ساتواں باب نو صفحات پر مشتمل ہے اور اسے محترمہ آمنہ اور نیلم حسین ضبطِ تحریر میں لائی ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر عورتوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا تذکرہ ہے جو نصابی کتب میں روا رکھی جا رہی ہے۔ ہمیں داد دینی پڑتی ہے کہ اپنی بات کو تقویت دینے کے لیے نہایت ہنر مندی سے اکثریتی غریب آبادی کی محرومیوں کو بھی اپنے مسئلے کا حصہ بنا یا گیا ہے :

"......those in position of power.......are predominantly upper class and male, only upper class males should be allowed to lay claims(a) to a superior intellect and (b) to the positions they hold. All those who fall outside the existing class ,caste and gender boundaries that ensure their privileges, do so not because of lack of opportunity or poverty or a host of other social and economic problems,but because they lack the capacity to be anything other than poor, working class--or female." 

بلاشبہ مذکورہ نکتہ زوردار اور اپیل کرنے والا ہے۔ اسی طرح اس اعتراض میں بھی وزن ہے کہ ورکنگ کلاس کی بابت ’’طے ‘‘ کر لیا گیا ہے کہ وہ ٹھوس، مشینی اور ہاتھوں سے سر انجام پانے والے کام مستقلاً سنبھالے ۔دونوں خواتین کے مطابق،اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کچھ لوگوں میں ’’فطری‘‘ طور پر زیادہ ٹیلنٹ ہوتا ہے اور وہ ذہانت والے ،تخلیقی اور مجرد کام کرنے کے زیادہ قابل ہوتے ہیں۔ہم ایک طرف تو ایسی طبقاتی تقسیم پر خواتین کی تنقید سے متفق ہیں، اور دوسری طرف ہمارے ذہن میں افلاطون کا ’’نظریہ انصاف‘‘ گھوم رہا ہے جس میں اس نے بھی اسی قسم کی تقسیم کر رکھی ہے اور اسے عین انصاف قرار دیا ہے۔ 

اس باب میں خواتین کے چادر اوڑھنے اوران کے لیے معقول لباس پر زور دینے کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہوم اکنامکس کالجز کا قیام بھی اس لیے ہدفِ تنقید ٹھہرا ہے کہ اس سے خواتین کے لیے ’’مخصوص ‘‘ شعبوں میں جانے کے راستے وا کیے گئے تاکہ مردوں کی برتری قائم رہے۔ حیرت ہے کہ اسی باب میں تجاویز دیتے وقت یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ mankind کی بجائے humankind اور مردوں عورتوں کے لیے عالمی سطح پر مستعملhe کی بجائے he, she کا استعمال کیا جائے ۔ اسی طرح chairman کی جگہ chairperson اور Mrs کی جگہ Ms کو رواج دیا جائے، کیونکہ جس طرح مردوں کے لیے Mr مستعمل ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں، اسی طرح Ms تمام عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ، چاہے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ہمیں ان ’’باریکیوں‘‘ میں جانے پر اعتراض نہیں ہے، فقط یہ گزارش کریں گے کہ ایک طرف اپنی ’’نسائیت‘‘ کا اظہار اس حد تک کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر مستعمل الفاظ بدلنے کی بات کی گئی ہے اور دوسری طرف جب ان کی ’’نسائیت‘‘ یا یوں کہہ لیجیے ان کی ’’شناخت‘‘ کے لیے ہوم اکنامکس کالجز قائم کیے جائیں تو انھیں اس پر اعتراض ہے۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ کیا She کے لیے الگ کالجز نہیں ہونے چاہییں؟ 

درسی کتب میں خواتین کے تذکرے پر تبصرہ کرتے ہوئے نکتہ طرازی کچھ یوں کی گئی ہے کہ صرف ان خواتین یعنی مس فاطمہ جناح اور بیگم محمد علی کو نصاب میں جگہ دی گئی ہے جن کی امتیازی حیثیت کسی مرد کے سبب قائم ہوئی۔ پھر ان خواتین کی بھی ’’انفرادی‘‘ خصوصیات کو اجاگر نہیں کیا گیا۔اسی طرح نشان دہی کی گئی ہے کہ اسباق میں لڑکی کو گھر کے کام کاج کرتے دکھایا جاتا ہے اور ماں کے کردار کو بھی اس طرح پیش کیا گیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ماں کا احترام اور درجہ خاندان کی دیکھ بھال، گھر کی صفائی ستھرائی اور کھانا پکانا کے سبب ہے۔ رسولِ پاک ﷺ کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ جھاڑو دینے، کپڑے دھونے جیسے کاموں کو عظمت کے منافی نہیں سمجھتے تھے تو پھر مردوں کو خواتین کا ہاتھ بٹانے کے لیے ابھاراکیوں نہیں جاتا؟ ہماری رائے میں اس حوالے سے عمومی معاشرتی رویے پر نظر ثانی کی واقعتا ضرورت ہے۔ (۸)

محترمہ آمنہ اور نیلم نے ایک اعتراض یہ کیا ہے کہ اسباق میں ’’ناموں کے انتخاب ‘‘ سے بھی ایک خاص تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے ، مثلاً یہ Mary ہے جسے تیراکی آتی ہے نہ کہ کوئی جمیلہ یا شکیلہ۔ اسی طرح ایئر ہوسٹس کو مسز براؤن کا نام دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلم ناموں سے یہ تاثر دینے کے لیے جان بوجھ کر احتراز برتا گیا ہے کہ مسلم خواتین ایسے کام نہیں کر سکتیں اور نہ ہی انھیں ایسے کام کرنے چاہییں۔ اسی طرح مستقبل کے خواب بنتے لڑکوں کو دکھایا جاتا ہے۔کیا لڑکیوں کے خواب نہیں ہوتے ؟ اسباق کی ترتیب سے بھی ایک خاص نفسیاتی فضا قائم ہوتی ہے ۔ ’’گمشدہ بیگ‘‘ نامی ایک کہانی میں ایک مرد ہی کا بیگ رکشے میں گم ہوتا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خواتین ’’سفر‘‘ نہیں کر سکتیں۔ اس سے اگلی کہانی ’’سر پرائز وزٹ‘‘ میں خواتین کو گھر کے اندر بھی ’’غیر فعال ‘‘ دکھایا گیا ہے ، وغیرہ۔ اسی باب میں کام کرنے والی خواتین کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خواتین کے ’’دوہرے دن ‘‘Double Day پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ انھیں تو جاب وغیرہ کے ساتھ ساتھ گھر آ کر دیگر کام بھی نمٹانے ہوتے ہیں جبکہ مرد حضرات کا ورکنگ ڈے گھر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے اور وہ لمبی تان کر سوتے ہیں ۔ اسی طرح بہادری کے اخلاقی پہلو کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ محترمہ آمنہ اور نیلم کے مطابق لڑکوں کو یہ بات ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے کہ بہادری ’’مسل پاور ‘‘ کا ہی نام نہیں، بلکہ اختلاف کرنے والوں کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کرنا بھی دلیری ہے۔ ہمارا خیال ہے مذکورہ تمام امور پر بحث مباحثہ ہو نا چاہیے اور سیمینارز ، ورکشاپس وغیرہ کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ 

SDPI کی زیرِ نظر رپورٹ کا آٹھواں باب گیارہ صفحات کا ہے ۔ اسے سید جعفر احمد نے سپردِ قلم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر پاکستان کی دستاویزات میں بہت کم جگہ ملی ہے ، حتیٰ کہ ۱۹۷۳ء کے دستورِ پاکستان کے’’ بنیادی حقوق‘‘ کے باب میں بھی تعلیم کا ذکر نہیں ملتا ، اگرچہ’’ پالیسی اصول‘‘ کے باب میں تلافی کی کوشش کی گئی ہے۔ہمارے خیال میں صرف یہی بات اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ تعلیم کبھی بھی ہماری ’’ترجیح ‘‘ نہیں رہی ، جس کی وجہ سے اس وقت بھی ہماری شرح خواندگی شرمناک حد تک کم ہے۔ 

اس باب میں انصاف پر مبنی ایک بات یہ کی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں سے عسکریت کا خاتمہ ، معاشرے کو demilitarise کیے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ بلاشبہ معاشرتی رویے ، تعلیمی اداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ احمد صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ نصاب میں بنیادی حقوق کو ’’باقاعدہ‘‘ موضوع نہیں بنایا گیا۔ اب یہ استاد کی ذمہ داری تھی کہ وہ تدریسی عمل کے دوران طالب علموں کی اس حوالے سے کچھ نہ کچھ تربیت کرتا ، لیکن چونکہ ہمارے معاشرے کا استاد صرف اور صرف ’’نصاب ‘‘ پر انحصار کرتا ہے اس لیے وہ مطلوب کردار ادا نہیں کر سکا، بلکہ الٹا ’’ڈکٹیٹر ‘‘ بن کر طلبہ کو ڈیل کرتا ہے۔ احمد صاحب کو یہ بھی اعتراض ہے کہ اخلاقی اسباق کے شاملِ نصاب ہونے کے باوجود سماجی برائیوں کا تذکرہ نہیں کیا جاتا، مثلاً کاروکاری، عدمِ مساوات، بچوں سے مشقت لینا ، بیگار ، اور وٹہ سٹہ کی شادیاں وغیرہ۔ ہماری رائے میں نہ صرف بنیادی حقوق کو باقاعدہ موضوع بنا کر شاملِ نصاب کرنے کی ضرورت ہے بلکہ سماجی برائیوں سے نفرت پیدا کرنے اور ان کی بیخ کنی کے لیے ان کا ذکر نصاب میں لازماً ہونا چاہیے۔ ہمارے ممدوح نے ایک نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ نصابی اسباق میں جہاں جہاں ممکن ہے ’’دستورِ پاکستان ‘‘ کے آرٹیکلز کا حوالہ کیوں نہیں دیا جاتا؟ (بجا اعتراض ہے ) پھر خود ہی جواب دیا ہے کہ چونکہ پاکستان میں دستور ’’بے چارہ ‘‘ رہا ہے یعنی کبھی معطل اور کبھی سرے سے ہی غائب، اس لیے نصاب تیار کرنے والے یہ خیال کرتے ہیں کہ دستور کا حوالہ اصل میں ’’بے چارگی‘‘ کا حوالہ دینے والی بات ہے۔ہم اس بات سے پوری طرح متفق ہیں ، البتہ اس بابت جی ایچ کیوسے بھی ’’فرمودات‘‘ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ 

زیرِ بحث رپورٹ کے نویں باب میں چھٹی سے دہم تک، اردو کی تدریس پر بات کی گئی ہے۔ طارق رحمان کے تحریر کردہ اس باب کے تین صفحات ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر سمیت کسی بھی حساس معاملے پر اگر حکومت ’’لچک‘‘ کا مظاہرہ کرنا بھی چاہے تواسے عملی طور پر دشواری کا سامنا کرپڑتا ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے طارق صاحب نے نصاب کو ہی ہدفِ تنقید بنایا ہے ، کہ نصاب یک رخی سوچ اور لگے بندھے طریقوں کو پروان چڑھا رہا ہے۔ نتیجے کے طور پر جب بھی روٹین سے ہٹ کر کوئی بات ہوتی ہے تو گویا بھونچال آ جاتا ہے۔ اس کے بعد طارق صاحب نے methodology and rationale کے عنوان سے مختصراً خامہ فرسائی کی ہے ۔ 

دسواں باب چار صفحات کا ہے ۔ اس میں چھٹی سے دہم تک معاشرتی علوم کی تدریس کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس کی لکھاری ہاجرہ احمد کے مطابق ، او لیول اور اے لیول کے طالب علم ’’روشن خیالی ‘‘ سے مستفید ہونے کے باعث خوش قسمت ہیں، جبکہ دیگر طالب علموں پر انھیں ’’ترس‘‘ آرہا ہے ۔یقین کیجیے ہمیں ’’روشن خیالی ‘‘ سے کوئی بیر نہیں، بلکہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ’’خیال‘‘ ہوتا ہی روشن ہے ، البتہ خیال کی definition ضروری ہو جاتی ہے، ہر اوٹ پٹانگ بات کو ’’خیال ‘‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ محترمہ کے مطابق مذاہبِ عالم کا تقابلی جائزہ طلبا کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ یہ اچھی تجویز ہے لیکن کیا کریں، جناب اے ایچ نیر کو ’’نفسِ مذہب‘‘ پر ہی اعتراض ہے ۔ اسی طرح محترمہ کے مطابق قرونِ وسطیٰ کی تاریخ (جاگیردارانہ نظام ) وغیرہ بھی طلبا کے علم میں آنا ضروری ہے۔ صنعتی انقلاب ، سامراجیت، دو عالمی جنگیں اور ۱۹۴۵ء کے بعد کی دنیا وغیرہ بھی نصاب کا حصہ ہونی چاہییں۔ محترمہ کا کہنا ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کا ذکر اگرچہ نصاب میں شامل ہیں لیکن ان تباہ کاریوں کو اس طرح پیش نہیں کیا گیا جس سے مطلوب نتائج حاصل ہو سکیں۔ ہماری رائے میں مذکورہ اسباق پر نظر ثانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ خلائی مہمات، حیاتیاتی انجینئرنگ، توانائی کے ذرائع ، ماحول اور ایٹمی ہتھیاروغیرہ جیسے موضوعات کو نصاب میں جگہ دینے کی تجویز سے ہم پوری طرح متفق ہیں ۔ 

The Subtle Subversion کے گیارہویں اور آخری باب میں محترمہ زرینہ سلامت نے قلم اٹھایا ہے ۔ اس باب کے چار صفحات ہیں ۔ جنگوں کی انسانیت سوز بربریت کی جان کاری،امن سے وابستہ خوشحالی اور زندگی کی قدروقیمت کو طالب علموں کے ذہن میں راسخ کرنے کی خاطر ، Peace Studies کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے’’مذہب‘‘ سے مدد لینے کوبھی در خور اعتنا سمجھا گیا ہے۔ بیسویں صدی کی سامراجیت اور اشتراکیت کے درمیان ہونے والی جنگوں کو بھی مجوزہ مضمون میں موضوع بنانے کی بات اٹھانے کے ساتھ ساتھ نیوکلےئر، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں پر گفتگو کو ضروری سمجھا گیا ہے ۔ محترمہ کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد کو بھی اس مضمون میں جگہ دی جانی چاہیے۔ ہمیں اس مجوزہ مضمون کی اہمیت سے انکار نہیں۔ موجودہ عالمی حالات کے سیاق و سباق میں اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے ، البتہ ہم یہ گزارش ضرور کریں گے کہ ا س باب کی ایک ایک کاپی بش اور بلےئر کو لازماً بھیجی جانی چاہیے، ان کی مسلسل بڑھتی ہوئی درندگی سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ابو غریب جیل میں ’’مہذب‘‘دنیا کے باسیوں نے ’’وحشی‘‘ دنیا کے انسانوں کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کے پیش نظر Peace Studies کا مضمون مغربی دنیا کے لیے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ دنیا بھر کی ایسی این جی اوز جو انسانیت اور عالمی امن کی داعی ہیں، اس مضمون کے مغربیوں کے ہاں لازمی قرار دیے جانے کے لیے فعال کردار ادا کریں گی ۔

بات ختم کرتے ہوئے ہم SDPI کی اس کاوش کو اس اعتبار سے سراہتے ہیں کہ اس کے ذریعے نصاب سے متعلق بہت سی جینوئن خامیاں اور کوتاہیاں منظرِ عام پر آئیں۔ اس رپورٹ کے ایسے بے شمار نکات ہیں جن پر ہمارے کچھ تحفظات ہیں۔ طوالت کے خوف سے ہم نے ان نکات پر فرداً فرداً بات نہیں کی ، لیکن کچھ نہ کچھ اظہار ضرور کر دیا ہے۔ اس اظہار سے بننے والے خاکے سے پوری تصویر کا ادراک کرنا شاید زیادہ دشوار نہیں ہو گا۔ ایسی رپورٹس اور تحقیق کو ہم بطور ’’رائے ‘‘ دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اگر چور دروازوں سے رائے کو ’’حکومتی پالیسی‘‘ بنوانے کی مذموم کوششیں نہ کی جائیں تو بھلا ایسے ’’مکالمے اور مشاورت‘‘ کے فوائد سے کسے انکار ہو سکتا ہے؟


حواشی

(۱) تنظیمِ اساتذہ پاکستان نے نصاب تعلیم ۲۰۰۴ء پر ایک قرطاس ابیض شائع کیا ہے ۔ اس کے مطابق فیصل مسجد ، طارق بن زیاد اور شہادتِ حسینؓ کے اسباق خارج کر دئیے گئے ہیں ۔ اسی طرح اسوہء کامل ﷺ، شکوہ، جوابِ شکوہ بھی نصاب میں موجود نہیں رہے ۔ یہ فہرست کافی طویل ہے۔

(۲) ص ۹ پر، اے ایچ نیر رقم طراز ہیں :

Besides being multi-lingual and multi-ethnic, Pakistan is a multi-religion society. Non-Muslims are a sizable part of the society. 

ذرا sizable part پر غور فرمائیے- ہمارے علم کے مطابق عیسائی سب سے بڑی اقلیت ہیں ، جو کہ کل آبادی کا 1.5 فیصد ہیں ۔ اگر اسے sizable قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر بھارتی مسلمانوں کو تو ہم ’’اکثریتی آبادی ‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا فیصدی تناسب خاصا بہتر ہے۔ 

(۳)اگر Regional integration (علاقائی اتحاد) کے رجحان کو دیکھیں تو صورتِ حال خاصی دلچسپ ہو جاتی ہے ۔ مستقبل میں مسائل کی نوعیت اور انھیں ایڈریس کرنے کا فورم ’’قومی یا ریاستی‘‘ نہیں ہو گا بلکہ ’’علاقائی‘‘ ہوگا ۔ اس صورت میں نیشنل ازم کی نئی تعریف کرنی پڑے گی اور نتیجے کے طور پر اسلام کی حقانیت کے نئے پہلو اجاگر ہوں گے ۔ 

(۴) SDPI کی اس رپورٹ میں ہندوؤں کی منفی تصویر پیش کرنے پر کافی تنقید کی گئی ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر مبالغے سے کام لیا گیا ہے ، لیکن رپورٹ کے موقف سے مکمل اختلاف ممکن نہیں ہے۔ 

(۵) اس رپورٹ کے ص۲۲ پر، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی آٹھویں جماعت کی معاشرتی علوم کے حولے سے درج ہے کہ ’’دسمبر ۱۸۸۵ء میں ایک انگریز مسٹر ہیوم نے ایک سیاسی جماعت، انڈین نیشنل کانگرس کے نام سے بنائی ، جس کا مقصد ہندوؤں کو سیاسی اعتبار سے منظم کرناتھا‘‘ یہ یقیناًقابلِ گرفت سنگین غلطی ہے جس سے یہ بھی ثابت کرنے کی کاوش بھی جھلک رہی ہے کہ ’’انگریز ہندو گٹھ جوڑ‘‘ تھا اور صرف مسلمان ہی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے ۔ 

(۶) اس کے لیے دیکھیے الشریعہ کے زیر نظر شمارے میں ہمارا مضمون بعنوان ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ نیز ’الشریعہ‘ دسمبر ۲۰۰۳ء (ص۴۱، ۴۲) میں مضمون بعنوان ’’کیا علاقائی کلچر اور دین میں بعد ہے ؟

(۷)اس رپورٹ کے ص۱۴ پر مختلف ٹیکسٹ بک بورڈز کی سماجی علوم کی کتب کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ دیکھیے اسلام کی مذہبی شخصیات کو یہاں سمویا گیا ہے۔ حضرت آدم، حضرت ابراہیم ،حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ ، اور حضرت محمد علیہم السلام۔ ہمیں خوشی ہے کہ صاحبِ مضمون نے اسلام کی ’’ناسخ حیثیت‘‘ تسلیم کرتے ہوئے مذکورہ تمام شخصیات کو ’’اسلامی شخصیات‘‘ قرار دیا ہے ۔ اسی قسم کا مواد ص۱۵اور دیگر صفحات پر بھی ہے ۔ ص۳۵ پر Climate آب و ہوا کے نام سے ایک باب پر اس لیے تنقید کی گئی ہے کہ اللہ کا شکر ادا کیا گیا ہے ۔ 

(۸) دیکھیے ماہنامہ الشریعہ، نومبر ۲۰۰۳ء میں ابو عمار زاہدالراشدی کا مضمون ، بعنوان ’’خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام‘‘ ص ۱ تا ۵۔

آراء و افکار