دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت

پروفیسر میاں انعام الرحمن

معاشرے میں چھائی ہوئی ابتری کے پیشِ نظر ہمارے ہاں ایک جملے کی مقبولیت کا گراف مسلسل بلند ہوتا جا رہا ہے۔ وہ مقبولِ عام جملہ یہ ہے کہ ’’لوگ بے دین ہو گئے ہیں ‘‘۔ حالانکہ یہ بات صریحاً غلط ہے، کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ جس سوچ کو دین کا نام دیا جا رہا ہے، وہ دین نہیں ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ وہ دین کی فقط ایک جہت ہے۔ اسی کی وجہ سے معاشرتی ابتری بڑھ رہی ہے نہ یہ کہ بے دینی اس کاسبب ہے۔ 

راقم کی نظر میں ہمارے محترم علما جب بھی دین کی بات کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں حقیقتاً ’’ فقہ‘‘ ہوتی ہے اور فقہ کی بھی جزئیات (۱) یہ ایک عظیم فروگزاشت ہے جو تسلسل سے ہو رہی ہے۔اگر کسی صاحب کو اس بنیادی نکتے سے ہی اختلاف ہو جس پر اس مضمون کی پوری عمارت کھڑی ہے تو گزارش ہے کہ ذرا دینی مدارس کے نصاب اور اس نصاب کو پڑھانے کی ’’اپروچ‘‘ پر سرسری نظر ڈال لیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ فقہ کو دین کے متوازی کھڑا کرنے اور اسی کو دین قرار دینے سے معاشرتی بگاڑآج جن جہتوں پر پنپ رہا ہے ، وہ کسی وقت بھی ان امکانات کو چٹ کر سکتا ہے جو ٹمٹماتے چراغوں کی مانند اب بھی ہمارے باطن میں روشنیاں بکھیر رہے ہیں۔

ہمارے ہاں دین کی غلط تعبیر کی مانند ’عالم‘ کی تعریف بھی غلط کی گئی ہے۔ آج جنھیں ’علما‘ کہا جاتا ہے ، وہ دراصل ’ماہرین فقہ‘ کہلائے جانے کے زیادہ مستحق ہیں (۲)۔ چونکہ ان ’ماہرین فقہ‘ کو علما گردانا جا رہا ہے، اس لیے اس حدیث مبارکﷺ کے مطابق کہ’’علما، انبیا کے وارث ہیں ‘‘ ’ماہرین فقہ‘ کو ہی انبیا کا وارث تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ بھی قابلِ گرفت فروگزاشت ہے ۔اس حدیثِ مبارک ﷺ میں ’’علما‘‘ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یوں نہیں فرمایا گیا کہ ’عالم انبیاء کا وارث ہے ‘ ۔ کیوں ؟ آخر اس میں کیا حکمت ہے ؟ راقم کی محتاط رائے میں جمع کا صیغہ یہ لطیف اشارہ دے رہا ہے کہ کوئی شخص انفرادی حیثیت میں انبیا کی وراثت کے تقاضے نہیں نبھا سکتا کہ انبیا کی شخصیت اور دعوت ہمہ گیر و ہمہ جہت ہوتی ہے ۔جہاں تک رسولِ پاکﷺ کی ذاتِ گرامی اور آپ کی سیرتِ طیبہ کا تعلق ہے ، وہ قرآن مجید، فرقان حمید کی ’’عملی تفسیر‘‘ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ قرآن مجید اپنے اندر بے شمار امکانات رکھتا ہے ، بالکل اسی طرح نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی بھی بے شمار امکانات کی حامل ہے ۔ لہٰذا اگر ہم ’ماہر فقہ‘ کو عالم تسلیم کر بھی لیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا انبیاء کرام کی دعوت (بالخصوص خاتم النبیینﷺ کی دعوت) محض ’’فقہ‘‘ کے گرد گھومتی تھی؟ کیا کوئی ’فقیہ‘سیرت النبی ﷺ میں مضمر امکانات کا احاطہ کر سکتا ہے ؟ یقیناًنہیں۔ تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ انبیاء کرام کی وراثت کے دعویدار حضرات فقہ کے علاوہ ان دیگر پہلوؤں کو بھی تلاش کریں جو ان کی شخصیت و دعوت میں امتیازی اہمیت رکھتے تھے۔ راقم کی نظر میں قرآن مجید آخری الہامی کتاب ہونے کی حیثیت سے اور محمد مصطفی ﷺ آخری نبی ہونے کی حیثیت سے تما م قسم کے ’’امکانات ‘‘پر حاوی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی پاک ﷺ کی وراثت کے تقاضے نبھانے کے لیے (تصورِ خاتمیت کے تحت) امکانات کو چھونے کی سکت بھی ہو نی چاہیے۔ آخر ان امکانات کو کیسے چھوا جا سکتا ہے ؟ کیا اجتہادی نور کی روشنیوں کے بغیر ایسا ہو سکتا ہے ؟اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم لوگ اس مطلوب اجتہادی نور کو نہیں اپناتے ، تو اس کا حقیقت میں یہ مطلب ہو گا کہ ہم لوگ (نعوذ باللہ) دین کے تصورِ خاتمیت سے عملاً منحرف ہیں ، جو ہمارے دین کی امتیازی پہچان ہے اور جس کی وجہ سے ہمارے دین اور سابقہ شریعتوں میں بنیادی فرق ہو تا ہے۔

چونکہ آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی ﷺ ’’مثالی نمونہ ‘‘ ہے اس لیے دین کی اس امتیازی صفت یعنی تصورِ خاتمیت سے پھوٹنے والی اجتہادی جہت کی مثال بھی آپ کی سیرت طیبہ سے مل جاتی ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ، یا رسول اللہ مجھ میں چار بری خصلتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بدکار ہوں ، دوسری یہ کہ چوری کرتا ہوں، تیسری یہ کہ شراب پیتا ہوں ، چوتھی یہ کہ جھوٹ بولتا ہوں ۔ ان میں سے جس کو فرمائیے ، آپﷺ کی خاطر چھوڑ دوں ۔ ارشاد فرمایا کہ جھوٹ نہ بولا کرو ۔ چنانچہ اس نے عہد کیا ۔ جب رات ہوئی تو اس کا شراب پینے کو جی چاہا اور پھر بدکاری کے لیے آمادہ ہوا ، تو اس کو خیال گزرا کہ صبح کو جب رسول کریم ﷺ استفسار فرمائیں گے کہ رات تم نے شراب پی اور بدکاری کی تھی؟ تو کیا جواب دوں گا ۔اگر ہاں کہوں تو شراب اور زنا کی سزا دی جائے گی اور اگر نہیں کہوں تو عہد کے خلاف ہو گا ۔ یہ سوچ کر ان دونوں سے باز رہا ۔ جب رات گزری اور اندھیرا چھا گیا تو چوری کے لیے گھر سے نکلنا چاہا۔ پھر اسی خیال نے اس کا دامن تھام لیا کہ کل پوچھ گچھ ہوئی تو کیا کہوں گا ؟ ہاں کہوں گا تو ہاتھ کٹے گا اور نہیں کہتا ہوں تو بد عہدی ہوتی ہے ۔اس خیال کے آتے ہی اس جرم سے باز آ گیا۔ صبح ہوئی تو وہ بار گاہِ رسالتﷺ میں حاضر ہوا اور عرض کی ، یا رسول اللہ ! جھوٹ نہ بولنے سے چاروں بری خصلتیں مجھ سے چھوٹ گئی ہیں ۔یہ سن کر رسول کریم ﷺ بہت مسرور ہوئے ۔ 

اس حدیث مبارک میں مضمر جہانِ حکمت سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی ذاتِ گرامی کے اس بیش بہا پہلو کو کہ آپﷺ نے چار قباحتوں میں سے بنیادی قباحت کو ’’ایڈریس‘‘ کیا ، جس سے دیگر قباحتوں پر بھی باآسانی قابو پا لیا گیا، آج کے دور میں کیوں پیشِ نظر نہیں رکھا جا رہا؟ کیا اس کا سبب یہ نہیں کہ چونکہ ہمارے علما اصل میں ’ماہر فقہ‘ ہیں، اسی لیے شعورِ نبوت کی پیروی کے بجائے انبیاء کرام کی وراثت کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے خالصتاََ فقہی انداز میں معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر جھوٹ کے بجائے دیگر تین معاملات پر زیادہ ہے۔ چوری ، زنا ، شراب اور اسی نوعیت کی دیگر قباحتوں پر انھوں نے دفتروں کے دفتر لکھ ڈالے ہیں ، لیکن جھوٹ پر یوں سمجھیے کہ ایک چھوٹی سی تختی بھی موجود نہیں۔ حالانکہ اس حدیث مبارک ﷺسے صاف مترشح ہوتا ہے کہ جھوٹ باقی قباحتوں کی ’’جڑ‘‘ ہے ۔ پھر ہمارے ہاں معاملات کو ایڈریس کرنے میں یہ افراط و تفریط آخر کیونکر ہے ؟ اس کی وجہ ایک ہی ہے کہ علما، فقہ کے سحر کا شکار ہو کرتصورِ خاتمیت سے دور ہو گئے ہیں۔ان میں اتنی سکت نہیں کہ معاشرتی معاملات کو ’’اجتہادی نظر ‘‘ سے دیکھ سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت بھی ہمارے معاشرے میں یہ تمام قباحتیں عروج پر ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ علما ابھی تک مصر ہیں کہ شریعت نافذ کی جائے۔ شریعت نہ ہوئی ، جادو کی چھڑی ہو گئی کہ اس کے حرکت میں آتے ہی ’خلافتِ راشدہ‘ کا عہد لوٹ آئے گا۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ جس عہد کی بازیافت چاہتے ہیں ، خود اپنے احوال و ظروف میں اس مثالی عہدکے تصورات کو سمونے کی بجائے(۳) بعد کے تصورات کو لیے بیٹھے ہیں ۔ راقم کی رائے میں تو فقہی انداز میں معاملات کو دیکھنے کا مطلب کچھ ایسے ہی ہے کہ کنویں میں مراہوا کتا موجود ہو ، اور پانی کے چند ڈول باہر پھینک کر یہ کہا جائے کہ ’’کنواں پاک ہو گیا‘‘ ۔اس وقت ہمارے معاشرتی کنو یں میں مرا ہوا کتا ’’جھوٹ‘‘ ہے (۴) سطح پر نظر آنے والے ’’چند مظاہر‘‘ کے ڈول باہر پھینک دینے سے یہ کنواں پاک نہیں ہو گا ۔ اگر مرے ہوئے کتے کو نکال باہر پھینکا جائے ، تو بار بار ڈول نکالنے کا تکلف نہیں کرنا پڑے گا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مرا ہوا کتا ’’فقیہ‘‘ نکالے گا؟ کیا یہ ’’فقہ‘‘ کا منصب ہے کہ ’’جھوٹ‘‘ کو ایڈریس کرے؟ راقم کے خیال میں یہ کام فقہ کا نہیں ، آرٹ کا ہے۔ (۵)

اسی بات کا ایک اور رخ نہایت قابلِ غور ہے کہ فقہ کو دین اور فقیہ کو عالم تسلیم کرنے سے مسلم ذہن نے ہمیشہ انکار کیا ہے ۔ یہ انکار ، تفہیم و اظہار کی لطیف سطح پر بہت بلیغ اندازمیں کیا گیا ہے ۔ راقم کا اشارہ اردو شاعری میں مقبول ترکیب ’’فقیہِ شہر‘‘ کی جانب ہے ۔ کیا کوئی ایسا شعر بھی ہے جس میں فقیہِ شہر کو نرمی سے اور بغیر طنز کے مخاطب کیا گیا ہو؟ اس ترکیب کا اسی انداز میں متواتر اور مسلسل استعمال اور پھر مسلم معاشرے کا اس پر لبیک کہنا ، اس فرمانِ رسولﷺ کے عین مطابق ہے کہ ’’میری امت گمراہی پر متفق نہیں ہو سکتی ‘‘ ۔ جن لوگوں کو دین کے فقہی ایڈیشن پر اب بھی اصرار ہو ، ان سے فقط ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے ۔

اب اگر ہم فقہی خول اتار کر دینی حوالہ پیشِ نظر رکھیں تو ہماری نظر اس آرٹ پر پڑتی ہے جس کا تعلق خطابت ، گفتگو، اور مکالمے سے ہے ۔ اس حوالے سے رسالت مآب ﷺ کا کوہِ صفا پر خطاب سامنے آتا ہے ۔ ذرا غور کیجیے کہ آپ ﷺ نے وہاں کیا اندازِ خطابت اختیار فرمایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم سے کہوں کہ وادی میں ایک لشکر اتر آیا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات کو سچ مانو گے؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں ! تم ہمیشہ ہمارے تجربے میں سچے ثابت ہوئے ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں نذیر یعنی تمہیں متنبہ کرنے والا ہوں کہ تمہارے آگے سخت عذاب موجود ہے ۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا ، تیرے لیے سارے دن موجبِ ہلاکت و بربادی ہوں ، کیا تو نے اسی لیے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اس پر مجمع منتشر ہو گیا ۔ 

کوہِ صفا کے اس واقعے پر بغور نظر دوڑائیں ۔ مخاطبین کا پہلا جواب رسولِ پاک ﷺ کے ’’سٹیٹس ‘‘ کو ظاہر کر رہا ہے۔، وہ لوگ آپ ﷺ کی جملہ صفات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا اعتراف بھی کر رہے ہیں ۔ اس اعتراف کی روشنی میں دوسرا جواب ’’غیر متوقع‘‘ معلوم ہوتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ راقم کی ناقص رائے میں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے خطاب مبارک سے جو فضا وہاں پر اس وقت قائم ہوئی ، وہ سراسر شعورِ انسانی کو ایڈریس کرنے والی تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے سٹیٹس کے ذریعے ان کے جذبات کو ’’ہائی جیک‘‘ کرنے کی بجائے ان کے شعور کو مخاطب کیا۔ اگرچہ ان کے جذبات سے کھیل کر انہیں فوری طور پر مائل بہ اسلام کیا جا سکتا تھا، جس سے وہ عارضی طور پرتو مسلمان ہو جاتے لیکن ان کی روح کی گہرائیوں میں اسلام کی جڑیں مضبوط نہ ہونے سے وہ کردار نہ بنتا جس کا اظہار حبشہ میں مسلم وفد نے کیا (۶)۔ آج مسلم معاشرے میں ’’کردار‘‘ اسی لیے سامنے نہیں آرہا کہ ہمارا خطیب شعورِ نبوت کی پیروی کے بجائے مداری گر کی طرح لوگوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے، غوغا آرائی اور شور شرابہ کر رہا ہے ۔جھوٹا آرٹ جھوٹ کو کیسے ختم کر سکتا ہے ؟یہ صحیح ہے کہ جذباتی فضا قائم کر کے وقتی طور پر ’’اسلامیت ‘‘ ظاہر کی جاسکتی ہے ، چندہ نکلوایا جا سکتا ہے، سہ روزے ، چالیس روزے کا ’’ارادہ‘‘ کروایا جاسکتا ہے ، نو جوانوں کو بارڈر پر بھیجا جا سکتا ہے ، لیکن بہرحال اس فضا سے وہ ’’کردار ‘‘ نہیں بن سکتا جو صرف اور صرف شعورِ انسانی کو مخاطب کرنے سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔ بفرضِ محال اگر کہیں کہیں خلوص جھلکتا ہے تو بھی ہمارے خطیب کے خطاب کی نوعیت ’’پراپیگنڈا‘‘ والی ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے تمام خطبات گواہ ہیں کہ رسول کے فنِ خطابت میں پراپیگنڈے کا عمل دخل نہیں ہوتا، کیونکہ پراپیگنڈا کے پیچھے دوسرے کو ’’پھانسنے‘‘ کی نفسیات کام کر رہی ہوتی ہے ، جبکہ شعورِ نبوت ، ہر حوالے سے ہر سطح پر شعورکو خطاب کرتا ہے کہ وہ ’’آزادانہ ‘‘فیصلہ کرے۔ لا اکراہ فی الدین کے یہی معنی ہیں ۔ یہاں پر پھر وہی ’’اجتہادی روح‘‘ نظر آتی ہے جو اسلام کی امتیازی صفت ’’تصورِ خاتمیت‘‘ کا نتیجہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ پراپیگنڈا والے انداز کے بجائے ’’اجتہادی طریق‘‘ کو خطاب میں سمویا جائے۔ سوال پیدا ہوتا ہے شعورِ انسانی کو خطاب کرنے کے اس ’’نبوی آرٹ‘‘ سے ہم کب تک پہلوتہی کریں گے ؟

اسی بات کو اگر دوسرے رخ سے دیکھیں تو نہایت سنگین صورتِ حال سے پالا پڑتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ فطرت، روحِ انسانی ہے اور روح کے نہاں خانوں میں انسان کے مذہبی عقائد کی جڑیں ہوتی ہیں ۔ آرٹ کے ذریعے روح اظہار کرتی ہے ، یعنی انسان کے انتہائی اندرونی عقائد ،منظرِ عام پر آتے ہیں ۔ اس طرح آرٹ کی وہ قسم جسے خطابت کہا جاتا ہے ، یہی ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے خطیبوں کا ’’دینی ادراک‘‘ انتہائی حد تک ناقص ہے۔ ان کے موضوعات ، مواد، الفاظ کا چناؤ اور اپروچ یہی چغلی کھاتے ہیں کہ ان کا دینی ادراک ،گھن گرج، چیخ پکار ،لفظی مباحث ، جگت بازی ، جذباتیت اور فروعی مسائل کے گرد گھومتا ہے ۔ اگر موسیقی کو جذبات انگیز قرار دے کر ہم اس کی بابت بہت ’’حساس ‘‘ ہو سکتے ہیں تو ایسی حساسیت کا مظاہرہ ، مشترکہ علت کی بنا پر ایسے فنِ خطابت کے حولے سے بھی ہونا چاہیے جو لوگوں کے جذبات ’’ ہائی جیک ‘‘ کرنے کو اوڑھنا بچھونا بنا چکا ہو ۔ راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مذہبی طبقے کے فنِ خطابت کا فنی جائزہ یہی مترشح کرتا ہے کہ ان کا دینی ادراک ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہے۔ اگر صورتِ حال اس کے بر عکس ہوتی تو معاشرہ بھی بہت مختلف ہوتا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شعورِ نبوت کی پیروی اختیار کی جائے ، اس آرٹ پر ایسی کتب لکھی جائیں جن میں نبی ﷺ کے فنِ خطابت پر سیر حاصل بحث ہو اور تصورِ خاتمیت کے تحت اجتہادی روح بھی متحرک ہو ، پھر ایسی کتب کو دینی نصاب میں با قا عدہ جگہ دی جائے ، تاکہ یہ آرٹ دین کی معاشرتی ترویج میں ممدو معان ثابت ہو نہ کہ افراتفری کو ہوا دے ۔ 

دین کی ترویج میں آرٹ کی اہمیت کا اندازہ خطبۃالوداع کے اس نکتے سے واضح ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ’’ جو لوگ یہاں موجود ہیں، انہیں چاہیے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو بتا دیں جو یہاں نہیں ہیں ، ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو ‘‘۔ مسلمانوں نے اس حکمِ رسول کریم ﷺ کی پیروی میں پیغام رسانی اور ’’بتا دینے کو‘‘ اجتہادی رنگ و نور سے بہت بڑا آرٹ بنا ڈالا ۔ اس فرمانِ مبارک ﷺ سے ہی وہ آرٹ متشکل ہونا شروع ہوا جو حدیث شریف اور اسماء الرجال سے ہوتا ہوا ابنِ خلدون کے مقدمے تک جا پہنچا ۔برِ صغیر میں سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک کی یہی بنیادی خوبی ہے کہ اس نے مسلمانوں کی توجہ دوبارہ اس آرٹ کی طرف مبذول کرائی ۔ اس تحریک نے تاریخ اور ابلاغ کے آرٹ کا احیا کیا ۔ الطاف حسین حالی کی ’’مسدس‘‘ اور شبلی نعمانی کی ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ اسی آرٹ کا بیش بہا اظہار ہیں ۔راقم کی رائے میں تو برِ صغیر کی مسلم معاشرت پر ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کے اثرات اس حد تک مرتب نہیں ہوسکے ، جس ٖحد تک گہرے نقوش ’’سیرت النبی‘‘ اور ’’مسدسِ حالی‘‘ نے چھوڑے ہیں ۔ بہر حال خطبۃالوداع کے اسی نکتے کی پیروی میں ، جس طرح صحابہ کرامؓ نے (غیر فقہی انداز میں ، کہ فقہ پر اس طرح زور ہی نہیں دیا جا رہا تھا ) اسلام کو پوری دنیا میں پھیلا دیا ، وہ اپنی جگہ ایک مثال ہے ۔ بحث کے اس مقام پر تبلیغ کوبطور ’’ارفع آرٹ‘‘ دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ کیا تبلیغ ارفع آرٹ نہیں ہے ؟ کیا اس آرٹ کو ’’تصورِ خاتمیت‘‘ سے الگ رکھا جا سکتا ہے ؟ کیا نبوت کے خاتمے کے بعد یہ ذمہ داری خالصتاً مسلمانوں کے سپرد نہیں ہو جاتی کہ وہ قولی ، عملی ، تحریری و دیگر انداز سے اس الہیاتی پیغام کو،ممکنہ حد تک اس کے امکانی پرت کھول کھول کر، تمام عالمِ انسانیت تک پہنچاتے رہیں؟ لہٰذا ہمارے لیے اہم ہو جاتا ہے کہ تبلیغ کی کسی بھی سطح اور نوع کو جانچتے وقت اس میں جاری ’’اجتہادی روح ‘‘ کو تلاش کریں ،(یعنی اس کی ’اپروچ‘ کیا ہے ، کیا یہ شعورِ انسانی کو خطاب کرتی ہے؟ ) اگر یہ موجود ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تصورِ خاتمیت اس میں پوری شان سے موجود ہے اور مبلغ کا ’’دینی ادراک‘‘ بھی ابلیسیت سے محفوظ ہے۔ خیال رہے، یہاں تبلیغ کو ارفع آرٹ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے اندر ہی خطابت ، گفتگو، مکالمہ، تحریراور خطاطی وغیرہ آجاتے ہیں ۔ خطیب بھی ایک طرح سے تبلیغ کر رہا ہوتا ہے ، اس کا ذکر ہو چکا۔ اب ادیب کی بات ہو جائے ، جس کا ضمنی ذکر سطورِ بالا میں ہوا ۔ 

یہ بڑی عجیب اور افسوس ناک بات ہے کہ ہمارے ہاں جس تحریر کو ’’دینی‘‘ سمجھا جاتا ہے ، اسے شاید دینی کے علاوہ اور سب کچھ کہا جا سکتا ہے ۔ ذرا ’’دینی رسائل ‘‘ کے محض عنوانات پر ہی سرسری نظر ڈال لیجیے ، آپ اپنا سر پیٹ لیں گے۔ ان کے مدیران کا دینی درک تو’’ سرورق‘‘ سے ہی فاش ہو جاتا ہے کہ رسالے کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے: ’’فلاں .......کا ترجمان‘‘ یہ کیا ہے ؟ یہ آرٹ کی کون سی سطح ہے ؟ کیا یہ سطح ، تصورِ خاتمیت سے میل کھاتی ہے ؟ راقم کی نظر میں فروعی اختلافات پر مبنی کتابیں اور ان اختلافات کو بھڑکانے والے رسائل و جرائد، حقیقت میں ان لوگوں کے روحانی میل کچیل اور ذہنی کثافت کی علامت ہیں جن کے ہاں تصورِ خاتمیت’’ دھندلا ‘‘گیا ہے ، جس کے سبب سے اجتہادی نور بھی ان سے گریزاں ہے ۔یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ ایسے میں اپنی روح اور اپنے اساسی الہام سے بچھڑ کر ثانوی چیزوں کو ہی ’’بنیادی‘‘ تسلیم کر لیا جائے اور لوگوں کو انتہائی سطحی آرٹ کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ لیجیے ہم نے ’’سونے کا انڈہ‘‘ دے دیا ہے ۔ 

اگر ’’دینی ادب‘‘ میں موضوع اور مواد کے اعتبار سے شاذ شاذ کام کی چیز نظر بھی آتی ہے تو ’’اپروچ‘‘ کے حوالے سے پراپیگنڈا سے سابقہ پڑتا ہے ۔ تزکیہ نفس سے لے کر تاریخی واقعات کے بیان تک ، ہر جگہ کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے ۔ نسیم حجازی کی تصانیف دیکھ لیجیے ، اور سچ سچ بتائیے کہ ان کا اثر جذبات پر پڑتا ہے یا شعور پر؟ آرٹ کی یہ سطح ، عہدِ رفتہ کے مقابر کی مجاوری کی مانند ہے اور مجاوری کبھی شعور نہیں بخشتی۔ اسی طرح دیگر مصنفین بھی موضوع کے انتخاب اور مواد کے چناؤ میں ’’ خلوص‘‘ کا نمونہ نظر آتے ہیں لیکن چونکہ ان کا دینی ادراک (تصورِ خاتمیت دھندلانے سے)اجتہادی روح میں گندھا ہوا نہیں ہوتا ، اس لیے وہ جبر اور پراپیگنڈے کی بھول بھلیاں میں گرفتار ہو جاتے ہیں جس کے باعث معاشرے پر ان کی تحریروں کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں کیونکہ قاری محض وقتی طور پر ، جذبات کی سطح تک ہی متاثر ہوتا ہے ۔ 

اسی سلسلے کا اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقت میں دینی ادب کی اصطلاح ہی عجیب و غریب ہے ۔ کیونکہ ادب ، انسان کی شخصیت ، اس کے باطن ، اس کے وجدان کا اظہار ہے ۔ اس کا مخرج وہ مقام ہے ، جہاں انسان کے مذہبی عقائد پڑاؤ ڈالے ہوتے ہیں ۔ اس طرح ادب (ہر سطح کا ) ، ہوتا ہی دینی ہے ، البتہ اس کے ذریعے فرد کے دینی عقائد کی نوعیت کا پتہ ضرور چل جاتا ہے ۔ مذہبی طبقے کے ’’باطنی اظہار ‘‘ کے متعلق بات ہو چکی ۔ اگر ہم غیر مذہبی طبقے کی طرف دیکھیں تو وہاں بھی صورتِ حال مختلف نہیں ہے ۔ یہ طبقہ آج کل بڑے زور و شور سے رونا رو رہا ہے کہ عوام الناس ، مطالعہ ادب سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ ان سے گزارش ہے کہ بھئی عوام ایسے ادب کی طرف مائل کیوں ہوں گے جس کے پیچھے روحانی و باطنی سر چشمے کے بجائے محض خارجی واقعیت کا جبر جھلکتا ہو ۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ اس وقت مذہبی اور غیر مذہبی آرٹسٹ ، جھوٹے آرٹ کو فروغ دے رہا ہے ۔ 

اگر ہم اپنی معاشرتی برائیوں کی فہرست مرتب کریں تو یہ بہت طویل ہو گی ۔ صرف موٹی موٹی برائیوں کو ہی گن لیں، مثلاً کرپشن، رشوت، جھوٹ ، قانون شکنی ، نمود و نمائش ، دولت کی ہوس، طاقت کی بھوک، اپنی اپنی دوڑ وغیرہ وغیرہ۔ اب ذرا بتائیے کہ انہیں ایڈریس کرنے کے لیے کیا ’’آرٹ‘‘ کی ضرورت نہیں ہے ؟ کیا لوگوں میں سادگی ، محبت ، اخوت ، انکساری ، رحم، رواداری ، صدق، قانون پسندی ،قناعت، ایثار وغیرہ آرٹ کے بغیر پیدا کیے جا سکتے ہیں؟راقم کی نظر میں ایسا نہیں کہ ہماری سوسائٹی میں آرٹ موجود نہیں، کیونکہ کوئی سوسائٹی بغیر آرٹ کے نہیں ہو سکتی ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے ’’جھوٹاآرٹ‘‘ ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے۔موجودہ معاشرتی ابتری ، اسی آرٹ کا ’’عطیہ‘‘ ہے جسے ہم بھگت رہے ہیں ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں ’’نقد و انتقاد‘‘ کے پلیٹ فارم سے جھوٹے اور سچے آرٹ پر بحث کی جائے ۔ راقم کی رائے میں سچا آرٹ وہی ہے جس میں ’’تصورِ خاتمیت ‘‘ جھلکتا ہو ۔ لہٰذا ہمارے لیے لازمی ٹھہرجاتا ہے کہ تصورِ خاتمیت کے معنوی ابعاد مسلسل آشکار کرتے رہیں ۔ اس سلسلے میں چند نکات پیشِ خدمت ہیں۔ تصورِ خاتمیت تقاضا کرتا ہے کہ آرٹ کے ہر نمونے میں :

(۱) وحدتِ انسانیت رچی بسی ہو ۔

(۲) مساواتِ انسانی کا پیغام ہو۔

(۳) مساوات کے قیام کے لیے انسان سے ماورا ہستی کا اثبات موجود ہو ۔

(۴) تکریمِ انسانیت کا سبق آفتاب کی مانند واضح ہو۔

(۵) عورت کو ’شے‘ کی بجائے انسان گردانا جاتا ہو۔

(۶) کمتر اور محکوموں سے اعلیٰ حسنِ سلوک کی تعلیم ہو۔

(۷) انفرادی و گروہی تشخص کی تسلیمیت پنہاں ہو۔

(۸)جبر کی نفی کا تاثر بھر پور ملتا ہو ۔ 

یہ چند نکات ہیں۔ انہیں ’’دینی ادب ‘‘ پر منطبق کیجیے ، خاصی شرمندگی اٹھانی پڑے گی ۔ہمارے مذہبی طبقے کا بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اسے آرٹ کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ۔ یہ طبقہ لگے بندھے اصولوں پر دین کی ’’معاشرتی ترویج ‘‘ کے لیے کوشاں ہے ۔ اس کے ہاں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ فقہی ڈنڈے سے اصلاحِ عام ہو جائے گی ۔ اگر یہ طبقہ اور دوسرا ادبی طبقہ بھی ، تصورِ خاتمیت کی روح کو تھام لے تو عظیم تبدیلی رونما ہو سکتی ہے ۔ نماز ، روزے ، حج، زکوۃ، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور دیگر احکامات اگر شعورِ انسانی کو مخاطب کرنے والی ’’اپروچ ‘‘ سے مکالموں، انشائیوں ، ناولوں وغیرہ میں پیش کیے جائیں تو اس کے اثرات زیادہ تیزی سے اور دور رس مرتب ہوں گے ۔ مثلاً ناول کے کسی کردارکو اس طرح ’’ایکٹ‘‘ کرتے دکھایا جا سکتا ہے کہ’’جب اس کی آنکھ کھلی تو گھڑی پانچ بجا چکی تھی ، وہ جلدی جلدی ہاتھ منہ دھونے کی نیت سے اٹھا ، لیکن پھر اسے خیال آیا ، اوہو! آج تو جمعہ ہے، غسل کرنا چاہیے ......... ‘‘۔اس طرح قاری کوجمعہ کے دن کی فضیلت اور غسل کے مسائل (غیر فقہی زبان میں ) سمجھائے جا سکتے ہیں، کچھ اس طرح کہ شاید وہ دوبارہ کبھی نہ بھولے۔ اسی طرح دیگر ضروری احکام جن کی بابت آگاہی تمام مسلمانوں کے لیے لازمی ہے ،بہت فنکارانہ انداز میں قارئین کے اذہان میں نقش کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تبلیغ کی وہ سطح ہوگی ، جس میں اجتہادی رنگ نظر آئے گا کہ ہر لکھاری بہتر سے بہتر اور منفرد انداز سے قلم اٹھائے گا ۔راقم کے خیال میں ہمارے معاشرے میں ’’السلام علیکم‘‘ کہنے کی ریت ، آرٹ کے توسط سے آئی ہے ، فقیہِ شہر کی چیخ پکار کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بہت بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے، اگر ہماری ’’اپروچ‘‘ پراپیگنڈا کی بجائے شعور کو ایڈریس کرنے والی ہو ۔ 

آرٹ کے دیگر نمونوں پر بھی مذکورہ بالا نکات کا انطباق کرنے سے انتہائی غیر تسلی بخش صورت سامنے آتی ہے ۔ فنِ تعمیر کو ہی لیجیے اور مساجد کے ’’جغرافیہ ‘‘ پر ناقدانہ نظر دوڑائیے۔ پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ چونکہ یہ اسلامی معاشرہ ہے اس لیے مسلمانوں کی کثیر تعداد کے پیشِ نظر مساجد کندھے سے کندھا ملائے کھڑی ہیں ۔ لیکن جب معاملے کو ذرا گہرائی سے دیکھیں تو پسینہ چھوٹ جاتا ہے ۔ امرواقعہ یہ ہے کہ مساجد کے ماتھے ’’نیتوں کے فتور‘‘ کا برملا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔ مسجد عام طور پر اس لیے نہیں بنائی جاتی کہ فلاں علاقے میں مسجدکی’’ ضرورت ‘‘ہے بلکہ تعمیر اس لیے اٹھائی جاتی ہے کہ فلاں علاقے میں ’’ہماری‘‘ مسجد موجود نہیں۔ اب انصاف سے فیصلہ کیجیے کہ جب مسلم معاشرت کی اجتماعیت کی پہلی اکائی کے پیچھے ایسی نیت ہے جو تفریق ڈالنے والی ہے ، تو پھر ہم (خاص طور پر مذہبی طبقہ) شور شرابہ کر کے آسمان سر پر کیوں اٹھائے ہوئے ہیں کہ مسلمان ’’متحد‘‘ نہیں ہوتے۔ بہت صاف اور کھری سی بات ہے کہ ’’فنِ تعمیر‘‘ کسی قوم کے باطن کو متشکل کرتا ہے۔ ہندوؤں کے گھروں ،محلوں وغیرہ کی پیچیدگی ، تنگی اور اندھیارے سے ان کے باطن(مذہبی عقائد) کا بعینہ اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارا فنِ تعمیر بھی ہمارے دینی ادراک کا اظہار ہے ۔ ہم توتعمیر کے لیے جگہ کے انتخاب یعنی ’’جغرافیے ‘‘ پر آ کر ہی اٹک جاتے ہیں کہ دینی درک ’’منقسم ‘‘ کرنے والا دکھائی دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا دین یہ کہتا ہے کہ تفرقے میں پڑ جاؤ ؟ اگر نہیں، تو پھر ’’مسجدِ ضرار کی توسیع‘‘ کیوں نظر آرہی ہے ؟اس کا جواب ایک ہی ہے کہ ہمارا دینی ادراک ، ابلیسیت زدہ ہو چکا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ فقہ ایسی مساجد کے لیے ’’جوازات‘‘ تلاش کر لے ، لیکن آرٹ کی سطح سے ، اس کا دفاع کرنا ممکن نہیں ۔ راقم کی رائے میں ان مساجد کے قیام کے پیچھے بنیادی طور پر ’’پراپیگنڈا ‘‘ کی نفسیات کام کر رہی ہوتی ہے نہ کہ شعورِ انسانی کو خطاب کرنے کی ذمہ داری کا جمالیاتی احساس۔ 

مساجد کی تعمیر کے پیچھے جس قسم کی نیت نظر آتی ہے ، اسی قسم کے ارادوں کا اظہار دیگر اجتماعی اداروں کے پس منظر میں بھی جھلکتا ہے ۔جی ہاں ! عیدین’’اپنے اپنے فرقے ‘‘ کے مولوی صاحب کے پیچھے ہی ادا ہوتی ہیں ، اگرچہ نماز کی ادائیگی کے بعد ’’کسی اور پلیٹ فارم ‘‘ پر یہی متفرق لوگ ’’آپس میں ‘‘مل بیٹھتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذہب تو لوگوں کے مابین ’’تفریق‘‘ڈالتا ہے لیکن دیگر معاشرتی رشتے ناتے انہیں آپس میں گوندھ دیتے ہیں ۔یہ کیا ہے؟ ہمارے مذہبی طبقے کے سامنے یہ بہت بڑا سوال ہے۔ عیدین کے مواقع پر ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جو لوگ خوش قسمتی سے کسی فقیہِ شہر کے ’’ تنگنائے فکر ‘‘ کے حصار میں نہیں ہوتے ، (آرٹ کے رسیا ہونے کے باعث )، وہ منہ اٹھائے کسی بھی اجتماع میں جا گھستے ہیں۔ شاید ایسے لوگ ہی اجتماع کی اصل روح کی ’’کفایت ‘‘ ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کے علاوہ جو لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں ، ان کی نفاستِ طبع انہیں اجتماع میں جانے سے روک لیتی ہے(آخر لطافت کا کثافت سے کیا میل؟) ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ بھی امریکہ کی سازش ہے؟

ہماری سب سے بڑی اجتماعی علامت حج ہے ۔ یہ علامت بھی مسجد اور عیدین کی طرح موجودتو ہے ، لیکن اس کا ادراک بھی آلودہ ہو چکا ہے ۔ اب ماضی کی نسبت لوگوں کی بہت بڑی تعداد حج کرتی ہے۔ جس نسبت سے تعداد بڑھ رہی ہے، اسی نسبت سے ’’حاجی‘‘ کے معنی بھی معنی خیز ہوتے جا رہے ہیں۔ حج کے موقع پر مسلمانوں کو ’’ابلیس ‘‘ کی پہچان بھی کرائی جاتی ہے، جمرات کا مقصود ابلیس کو دھتکارنا بھی ہے اور للکارنا بھی ۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ اب ان دھتکارنے للکارنے والوں پر معاشرہ ’’جمرات‘‘ کرتا ہے ، لطائف بنا کر ، پھبتیاں کس کر ،ان پر کنکریاں مارتا ہے ۔ اگر ہم حقیقت سے آنکھ چرانا چاہیں تو الگ بات ہے ورنہ صورتِ حال یہی ہے ۔ یہاں بھی سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے ؟راقم کی نظر میں بات وہی ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ آرٹ سے بے بہرہ ہے ۔ اس لیے نہ صرف وہ خود اجتہادی روح سے بیگانہ ہو کر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے بلکہ سادہ لوح عوام کو بھی شعور دینے سے قاصر ہے۔ جس طرح ’’السلام علیکم‘‘ کی ریت غیر مذہبی طبقے نے ڈالی ہے، اسی طرح اجتماعیت کی اصل روح کا ادراک بھی (جو کہیں کہیں نظر آتا ہے ) اسی طبقے نے دیا ہے ۔ 

اجتماعیت کی یہ بات فنِ تعمیر سے چلی تھی ۔ رسولِ کریمﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’مومن کی دولت کو جو چیز کھا جاتی ہے اور نفع نہیں پہنچاتی ، وہ عمارت ہے ‘‘۔ اس حدیث مبارک ﷺ کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ پر شکوہ عمارتیں ہمارے دینی ادراک کا اظہار نہیں ہیں۔ البتہ یہ ہماری ’’آرزوؤں ‘‘ کا نوحہ ضرور ہیں۔ جب ہم لوگ دین کی عالمگیر،آفاقی اور اجتہادی روح کو باہم رشتوں، رویوں میں سمو نہیں پاتے تو یہ روح ، پر شکوہ اور شاندار عمارتوں کی صورت میں (گنبد ، مینار وغیرہ آفاقیت کی علامت ہیں ) اپنا جلوہ دکھاتی ہے ۔ راقم کے خیال میں جب مسلم معاشرت نے دینی ادراک کا اظہار ، باہم رشتوں ناتوں میں کرنا شروع کر دیا تو ایسی پرشکوہ عمارتیں بننا بند ہو جائیں گی کہ روح کو اظہار کااصل راستہ مل جائے گا۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں یہ روح چونکہ آرزو نہیں ، بلکہ اظہار کر رہی تھی، اس لیے پر شکوہ عمارتوں کا سلسلہ ہائے دراز اس عہد میں نہیں ملتا ۔

دین اسلام کا تصورِ خاتمیت انسان کے ’’آزاد اور ذمہ دار ‘‘ رویے پربھی دلالت کرتا ہے ۔ اس طرح ہونا یہ چاہیے تھا کہ اسلامی ادب(اور آرٹ کی دیگر اقسام) کی اپروچ ، آزادانہ اور ذمہ دارانہ ہوتی ، جس کے نتیجے میں عالمی ادب کا کثیر حصہ مسلمانوں کی تحریروں پر مشتمل ہوتا ۔لیکن تصورِ خاتمیت دھندلانے سے ، آزادی اور ذمہ داری کی دونوں خصوصیات مسلمانوں کے دینی ادراک سے یکسر اٹھ گئیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ’’ وحدتِ انسانیت ‘‘ کا خواب بکھر کر رہ گیا ۔ یہودی اور عیسائی ’’آرٹ‘‘ کے پلیٹ فارم سے بھی وحدتِ انسانیت کو فروغ نہیں دے سکتے تھے ، کیونکہ یہودی موحد ہوتے ہوئے بھی نسل پرست ہیں ، عیسائی اگرچہ نسل پرست نہیں لیکن ان کے ہاں توحید نہیں پائی جاتی ۔ اس طرح صرف اسلام کے پیروکار ہی موحد ہیں اور (تصورِ خاتمیت کے توسط سے ) ساتھ ساتھ وحدتِ انسانیت کے علمبردار بھی۔ سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو ، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد اور عورت دنیامیں پھیلا دیے ‘‘سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تین بڑے گروہ (جو اپنے اپنے تئیں اپنی ہی اپروچ کو دین سمجھتے ہیں یعنی فقہی، جہادی اور تبلیغی) موحد ہوتے ہوئے بھی وحدتِ انسانیت کے فروغ کی ضمانت دیتے ہیں ؟ کیا فقہ ،انسانوں کو ایک لڑی میں پرو سکتی ہے کیا پراپیگنڈا والے جہاد سے افتراق کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا تبلیغ کا منظم انداز دوسروں کو منفی طور پر الرٹ نہیں کر دیتا ؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تینوں گروہ ’’اجتہادی روح ‘‘سے عاری ہیں (اجتہادی نظر کا نہ ہونا ہی سب سے بڑی بدعت ہے ) اسی لیے تینوں ایک دوسرے سے بیگانہ ، بے لچک انداز میں کام کر رہے ہیں ۔ اجتہادی نظر ہی واحد نقطہ اشتراک ہے ۔ اگر کوئی جہادی ہے اور اس کے ساتھ اجتہادی ہے ، اگر کوئی فقہی ہے اور اس کے ساتھ اجتہادی ہے ، اسی طرح اگر کوئی تبلیغی ہے اور اس کے ساتھ اجتہادی ہے (خیال رہے کہ اجتہادی نظر ، تصورِ خاتمیت کے سبب ہے ) تواس سے نہ صرف آپس میں ربط بڑھے گا بلکہ ان کے اپنے اپنے مخصوص شعبے میں بھی تازگی ہمہ دم موجود رہے گی ۔ اسی ربط اور تازگی سے دین کی پوری تصویر سامنے آئے گی اور وحدتِ انسانیت کی طرف پیش قدمی ممکن ہو سکے گی ۔

وحدتِ انسانیت کے حوالے سے ہی ایک بات یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ایک طرف گلوبلائزیشن کا شورو غوغا ہے تو دوسری طرف علاقائی ثقافتیں ابھر رہی ہیں ، جس سے عالمی فضا غیر یقینی سی ہو گئی ہے ۔ راقم کے نزدیک گلوبلائزیشن اور علاقائی ثقافتوں کا احیا ، دو متضاد رجحانات نہیں ہیں ۔ ذرا غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ علاقائی ثقافتیں ’’لوک ورثے‘‘ کا احیا چاہتی ہیں ۔ لوک ورثے کے احیا سے گلوبلائزیشن کے ظاہری عمل کو ’’روح ‘‘ مل جائے گی ۔ کیونکہ روحِ انسانی فطرت ہے ،آرٹ کے ذریعے روحِ انسانی کا اظہار ہوتا ہے اور دنیا کا بہترین آرٹ ’’لوک سطح‘‘ پر ملتا ہے ۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ ’’لوک سطح ‘‘ پر انسانی فطرت خارجی علم اور خارجی عناصر سے ممکنہ حد تک بچی رہتی ہے اور خالصتاً داخل کا، باطن کا اظہار کرتی ہے ۔اس لیے ہمیں دنیا کی تمام ثقافتوں کا لوک ورثہ ’’ملتا جلتا ‘‘ دکھائی دے گا کیونکہ روحِ انسانی ایک ہے ۔ اس طرح لوک ورثے کی جانب رجوع ، وحدت کا سفر ہے ۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر جب خارجی جبر(تمدنی سطح پر ) گلوبلائزیشن لا رہا ہے، انسان کا داخل بھی (ثقافتی سطح پر ) وحدت سے از سرِ نو آشنائی پیدا کر رہا ہے۔ جہاں تک لوک سطح پر افتراق کا تعلق ہے ، وہ بہت جزوی ہے ۔ ایسا فرق کچھ ایسے ہی ہے جیسے سورج کی روشنی کو منشور سے گزاریں تو وہ سات رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ روحِ انسانی بھی جب ’’ارضی منشور ‘‘ سے گزرتی ہے تو (شاید سات) رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے ، حالانکہ اس کی اصل سورج کی روشنی (سفیدی )کی مانندایک ہے ۔ قرآن مجید میں (سورۃ الحجرات ، آیت ۱۳)اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’ لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ، پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیے ، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے ، جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ، اللہ سب کچھ جاننے والا اور با خبر ہے ‘‘(۷) راقم الحروف کے مطابق رنگا رنگی کا یہ فرق ’’اندیشوں ‘‘ میں اس وقت ڈھلتا ہے جب کوئی رنگ یا ہر رنگ ’’اصل ‘‘ سے دور ہٹتے ہوئے اپنے رنگ کو ہی ’’اصل ‘‘ سمجھ بیٹھتا ہے ۔پھر اندیشوں کی ایسی سرزمین میں قوم پرستی، نسل پرستی اور زبان پرستی وغیرہ کی ’’باڑیں ‘‘ لگنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ اگر نوعِ انسانی اس ’’تعارفی رنگا رنگی‘‘کو قائم رکھتے ہوئے بھی، اپنی اصل کے ساتھ ’’وابستگی ‘‘سے محترز نہ ہو توتصادم کی بجائے موافقت و اخوت پروان چڑھے گی اور وحدتِ انسانیت کا ازلی خواب پورا ہو گا ۔ راقم کے نزدیک تبلیغی جماعت ان مختلف ثقافتی منطقوں کو ’’اصل‘‘ سے متعارف کرا رہی ہے ۔ یہ عظیم خدمت ہے ۔ اگر تبلیغی جماعت ،دین اسلام کے امتیازی وصف ’’تصورِ خاتمیت‘‘ کی روح ،یعنی اجتہادی نظر کو اپنے احوال میں سمو لے ، توتبلیغ کے جامد اور لگے بندھے طریقے ،رونما ہونے والی ممکنہ تبدیلی کی راہ نہیں روک سکیں گے ۔رسول کریم ﷺ کا ارشادِ پاک ہے ’’من استوی یو ماہ فہو مغبون‘‘ کہ جس شخص کے دو دن یکساں ہوں، یعنی جس نے کل کے مقابلے میں آج کوئی ترقی نہیں کی وہ شخص گھاٹے میں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ’’کل یوم ھو فی شان ‘‘ بھی یکسانیت کو رد کرتا ہے کہ یک رنگی زندگی کی سرشت میں ہی نہیں ۔ لہٰذا ہمارے مبلغ کو ’’آرٹ‘‘ کی طرف رجوع کرنا ہو گا ۔

سورۃ الحجرات کی اس آیت مبارکہ سے ایک اور نکتہ سامنے آتاہے کہ زندگی کا حسن اور رعنائی ’’سادگی‘‘ میں ہے ۔ جیسے سورج کی روشنی سفید ہونے کے باعث ، سادہ ہوتی ہے لیکن اس میں حسن اس اعتبار سے عروج پر ہوتا ہے کہ اس میں ’’ساتوں رنگ‘‘ گھلے ملے ہوتے ہیں ۔ بظاہر ایسا معلوم ہو گا کہ(منشور سے گزر کر ) ہر رنگ ’’سفیدی‘‘ سے زیادہ خوش نما ہے ، لیکن اہلِ نظر کو سفیدی میں ہی ایک کے بجائے ساتوں رنگ اکٹھے دکھائی دیں گے ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ حسن ، سادگی میں ہے ۔ راقم کی رائے میں اگر انسان حسن پسند بن جائے تو وہ لازماً حقیقی حسن کو ظاہری رنگا رنگی کی بجائے اس وحدت میں دیکھے گا جہاں تمام رنگ بغل گیر ہوتے ہیں ۔ ایسی حسن پسندی کبھی بھی انسانوں کے مابین اس حد تک تفریق نہیں ہونے دے گی کہ کراہت زندگی کا لازمہ بن جائے ۔ سوال وہی ہے کہ کیا فقہ ، حسن پسندی کو فروغ دے سکتی ہے ؟ راقم کے نزدیک یہ منصب آرٹ کا ہی ہے ۔ کیا ہمارے آرٹ کی موجودہ سطح، ایسی رمزیت کی حامل ہے کہ ہم اس سے ایسی امیدیں باندھ سکیں؟ یقیناًایسا نہیں ہے ۔لہٰذا اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آرٹ کو اس کا مقام دیتے ہوئے ، دین اسلام کے عالمگیر تصورات کو ، جو وحدتِ انسانیت اور تکریمِ انسانیت کے گرد گھومتے ہیں ، اجاگر کیا جائے ۔ 


حواشی 

(۱) خیال رہے کہ یہاں فقہ بمعنی قانون مراد ہے ۔ 

(۲) اگرچہ علوم کے ایک شعبہ پر دسترس کے باعث انہیں ’عالم‘ کہا جا سکتا ہے ، لیکن اس حوالے سے انہیں عالم قرار نہیں دیا جا سکتا ، جس حوالے سے وہ خود کو عالم سمجھتے ہیں ، یا معاشرہ میں انہیں سمجھا جاتا ہے ۔

(۳) خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ نے قحط کے زمانے میں چوری کی سزا (ہاتھ کاٹنے کو ) ساقط قرار دیا تھا ۔ان کے ہاں یہ اپروچ ، تصورِ خاتمیت سے پھوٹنے والی اجتہادی نظر کا نتیجہ ہے ۔ 

(۴)جھوٹ ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں جس قدر سرایت کر چکا ہے اس سے بات بہت بڑھ گئی ہے ۔ برِ صغیر میں انگریز راج کے دوران لارڈ کرزن (وائسرائے ہند) نے کہا تھا کہ ہندوستانی بہت جھوٹے ہوتے ہیں ۔ اس پر ایک انگریز ادیب نے کہا تھاکہ ہندوستانی غیر معمولی طور پر جھوٹے ہوں گے کہ کرزن جیسے سیاستدان کا دم بھی وہاں گھٹنے لگا ، حالانکہ پارٹی پالیٹکس کا دارو مدار ہی جھوٹ پر ہے ۔ 

اسی طرح جھوٹ کی عوامی سطح پر پذیرائی بھانپتے ہوئے لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ’’ حضور اس ملک میں بہت بڑی لعنت وہ شخص ہیں جو جھوٹی قسم کھاتے ہیں ۔ جج جھوٹ اور سچ میں امتیاز نہیں کر سکتا ۔ اگر حضور لوگوں کو سچی قسم کھانے کی عادت ڈال دیں توآپ کی شہرت کو چار چاند لگ جائیں گے اور کمپنی کو بے حد فائدہ ہو گا ۔ اگر آپ جھوٹی قسم کھانے والے کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمائیں تو حضور آپ کی شہرت کو پر لگ جائیں گے ‘‘۔راقم کی نظر میں سچی قسم کھانے کی عادت ڈالنا اور جھوٹی قسم کھانے سے روکنا ’’قانون‘‘ کے بس میں نہیں ہے ۔ 

حیرت کی بات تو ہے کہ جھوٹ اس وقت پہلے سے بھی زیادہ ’’کروفر اور شان ‘‘ سے ہماری روزمرہ زندگی کا لازمہ بن چکا ہے ۔ جھوٹ کو فرد کے نفس سے نکالنے کا ’’اظہار‘‘ تاریخِ اسلام کے اس واقعہ سے بخوبی ہو جاتا ہے ۔جب نجاشی کے دربار میں جب حضرت جعفرؓ تشریف لے گئے تو پہلے دن کی پسپائی کے بعد عمروبن العاص (جو کفارِ مکہ کی نمائندگی کر رہے تھے )نے دوسرے دن پھر دربار میں رسائی حاصل کی اور نجاشی اور درباریوں کو مشتعل کرنے کی خاطر بادشاہ سے عرض کی کہ حضرت عیسی سے متعلق مسلمانوں کا عقیدہ معلوم کیجیے، پھر فیصلہ دیجیے۔ نجاشی نے مسلمانوں سے یہ دریافت کیا تو مسلم وفد کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اگر عیسی کے ابنِ اللہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو ایمان ہاتھ سے جاتا ہے ، تاہم صحابہؓ نے حالات کی سنگینی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ’’واللہ ہم وہی کہیں گے جو اللہ کا حکم ہے اور جو ہمارے نبی کی تعلیم ہے چاہے کچھ ہو جائے ‘‘۔ 

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مسلم وفد میں ایسی کون سی چیز تھی جس نے حالات کی انتہائی سنگینی کے باوجود (کہ اسلام کا ابتدائی عہد تھا کفارِ مکہ نے جینا دوبھر کر دیا تھا، اسی لیے مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی کہ کچھ دوست مل سکیں )انہیں جھوٹ بولنے سے باز رکھا ۔ یہ سوال بہت اہم ہے ۔ ہمارا فقیہہ تو یہ کہہ کر اپنے فرض سے ’’فارغ‘‘ ہو جائے گا کہ وہ صحابہ کرامؓ کی جماعت تھی ان کا ایمان ہی اتنا مضبوط تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے ۔ یہ جواب صحیح ہونے کے باوجود ’’سطحی ‘‘ ہے ۔ بھئی ایمان آخر اتنا مضبوط کیسے ہو گیا؟ یہ تو تفقہ فی الدین سے جان چھڑانے والی بات ہے ۔ راقم کی نظر میں مسلم وفد کا سچا جواب اس وجہ سے تھا کہ رسالت مآب ﷺ نے دعوتِ دین دیتے وقت ہمیشہ مخاطب کے ’’شعور‘‘ کو ایڈریس کیا نہ کہ جذبات کو ۔ کسی انسان میں جذباتی سطح تک سمائی ہوئی فکر ، حالات سے دب کر کوئی اور رخ لے سکتی ہے ، لیکن شعور میں سمائی ہوئی فکر ،حالات کو اپنے رخ پرلے جاتی ہے ۔ لہذا یہ رسولِ کریم ﷺ کا مخصوص اندازِ دعوت تھا جس کے سبب صحابہؓ، آسمان کے ستارے بن گئے ۔ اس لیے شعور میں ’’صدق‘‘ راسخ ہونے سے صحابہؓ جھوٹ نہ بول سکے۔ ہجرتِ حبشہ کے حوالے سے ہی ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’اگر تم سر زمینِ حبشہ کو نکل جاؤ تو بہتر ہے کہ وہاں کے بادشاہ کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سرزمینِ صدق ہے ‘‘۔اس طرح روانگی سے قبل بھی سرزمینِ حبشہ کے چناؤ کی ’’وجہ‘‘ صحابہؓ کے شعور میں ڈال دی کہ وہ سرزمینِ صدق ہے ۔

(۵) آرٹ کے مترادف مختلف الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ، مثلاََ ہنر، زخرف، صناعتہ اور فن وغیرہ۔ راقم کی رائے میں قرآن مجید میں ’’حکمت‘‘ اور اسی نوع کے دیگر الفاظ ، آرٹ کی خصوصیات اور صفات کو محیط ہیں ۔ 

(۶) دیکھئے حاشیہ نمبر ۴۔ 

(۷) اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی الگ پہچان ، اس کے تشخص اور انفرادیت کے لیے ’’شعوباََ و قبائل‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔ آج کی اصطلاح میں یہ دونوں الفاظ قوم کی بجائے ’’قومیت‘‘ کی نمائندگی کر رہے ہیں ۔ قومیت ، الگ تشخص کی وہ سطح ہے ، جہاں سے دوسری قومیت بھی ’’انسان ‘‘ دکھائی دیتی ہے ۔ جبکہ ایک قوم دوسری قوم کو انسان کا سٹیٹس دینے کو ’’ عملاََ ‘‘ تیارہی نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر پاکستان کی چار قومیتیں ہیں اور قوم ایک ہے ۔ وفاقی نظام کی وجہ سے چاروں قومیتوں کی ’’شناخت‘‘ قائم ہے ۔ جب ان میں سے کوئی ایک یا سبھی قومیتیں ’’قوم ‘‘ بننے کے لیے پر تو لیں تو پھر وہ اپنے الگ تشخص کے لیے اس سطح پر جا پہنچتی ہیں ، جہاں کوئی دوسرا نظر نہیں آتا ۔ یہ صورتِ حال بین الاقوامی سطح پر بہت واضح ہے کہ ہر قوم فقط اپنے آپ ہی کو ’’انسان ‘‘ سمجھتی ہے ۔ اس وقت امریکی اسی سوچ کی نمائندگی کر رہے ہیں ۔ قراآن مجید کی اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ذرا غور کیجیے کہ اگر عالمی سطح پر بھی ’’شناخت ‘‘ کو قوم کی بجائے قومیت کی حد تک رکھا جائے تو انسانوں کے مابین تفریق ’’تعارف ‘‘ کی سطح تک رہے گی اور مشترکہ انسانی حوالہ ہمیشہ پیشِ نظر رہے گا ۔ سول یہ ہے کہ اسلام کے اس آفاقی پیغام کو تمام عالمِ انسانیت تک پہنچانے کی سکت ، کیا ہمارا نام نہاد دینی طبقہ رکھتا ہے ؟ تکلف بر طرف ! کیا دینی طبقے کے اندر ،اس پیغام کی معنویت کی تفہیم بھی ہے کہ نہیں؟

آراء و افکار