مکاتیب

ادارہ

(۱)

بخدمت گرامی قدر مخدوم گرامی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟

احقر ایک اہم تحریری کام کی وجہ سے بہت سے دوسرے اہم کاموں کو نظر انداز کیے ہوئے ہے، لیکن الشریعہ کے تازہ شمارہ نے اس اہم تحریری کام کو بھی رکھ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ غیر مربوط طور پر چند امور، جو ہر وقت ذہن میں کھٹکتے رہتے ہیں، پیش خدمت ہیں:

۱۔ اسلامی اور فکری محاذ پر درد دل رکھنے والے حضرات کی ایک مکمل ڈائریکٹری مرتب ہونی چاہیے۔ اس ڈائریکٹری میں خصوصی طور پر ان حضرات کا ذکر ہو جو تحریری کام کرتے رہتے ہیں۔ تقریریں کرنے والوں کی کمی نہیں۔ ان کا ذکر کرنا نہ کرنا برابر ہوگا۔ احقر ایسے بے سروسامان جو واقفیت بیس تیس سال کے عرصہ میں حاصل کریں گے، بہت کم وقت میں حاصل ہو جائے گی اور خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔ یہ کام آپ گوجرانوالہ کے کسی صاحب علم وصاحب درد دل سے اپنی زیر نگرانی ضرور کروائیں۔

۲۔ علماء کرام کو معاشی، سیاسی، علمی وادبی میدانوں میں جن امور پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ان امور کا ایک انڈیکس کتابی شکل میں یا کم از کم الشریعہ کے ایک خاص نمبر کی صورت میں معرض وجود میں لانے کی ضرورت ہے۔ مغربی افکار کی یلغار کی صورتیں، طریق کار، ان کی وسعت اور جوابی طور پر اسلامی افکار کے ساتھ مغرب کے مقابلہ کرنے کا طریق، یہ سب امور اس کتاب یا خاص نمبر میں درج ہونے چاہییں۔ ’کیفما اتفق‘ طریقہ پر کام کرنے کی روش بدلنے کے لیے ذہن سازی کی ضرورت ہے اور ذہن سازی کے لیے مذکورہ امور پر مشتمل کتب درکار ہیں۔

۳۔ نمبر ۲ میں مذکور امور میں سے بہت سے امور آپ اپنے کالموں میں ذکر فرماتے رہتے ہیں۔ آپ موضوعات کے اعتبار سے اپنے کالموں کو جمع کر کے شائع کرا دیں۔ شائع کرانا آپ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ احقر ایسے مبتدی حضرات کے لیے یہ مجموعہ جات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اس طرف فوری توجہ دیں۔

۴۔ الشریعہ اکیڈمی کی لائبریری کو دو حصوں میں تقسیم کریں۔ ایک سالہ کورس کرنے والے علماء کرام سے متعلقہ حصہ الگ ہو اور اساتذہ کرام کا حصہ الگ ہو۔ نیز لائبریری میں تاریخ، اسلامیات، نفسیات، معاشیات، سیاسیات، سوشیالوجی وغیرہ موضوعات کی ایم اے کی کتب جو اردو میں ہوں، ان کے مکمل نصاب موجود ہونے چاہییں۔ وسعت نظر کے لیے یہ ایک ضروری امر ہے۔

۵۔ برصغیر پاک وہند میں اسلامی وغیر اسلامی افکار کے دفاع میں کام کرنے والوں کے مثبت ومنفی کارہائے زندگی پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا مجموعہ ہو جس سے بیک نظر سب کچھ معلوم ہو جائے کہ کن لوگوں نے اسلامی افکار کے دفاع میں اور کن لوگوں نے غیر اسلامی افکار کے دفاع میں کام کیا ہے، اور ان کے کاموں کی مختصر وجامع تفصیل بھی درج ہو۔ ہے کوئی مرد میداں جو یہ کام کر سکے؟

حضرت والا! زمانہ جس تیزی سے گزر رہا ہے، معاشی ومعاشرتی ضروریات جس طرح اپنے پاؤں پھیلا رہی ہیں، لہوولعب کے ذرائع جس تیزی سے لوگوں کو مسخر کر رہے ہیں، ان حالات میں وسعت مطالعہ ممکن نہیں رہی بلکہ نوجوان نسل سے مطالعہ کا شوق ہی ختم ہو رہا ہے۔ مثلاً احقر کم از کم دس سال سے مدرسہ نصرۃ العلوم سمیت ملک کے اہم دینی اداروں کے کتب خانے اور اہم سرکاری لائبریریاں دیکھنے اور ان سے استفادہ کرنے کا آرزو مند ہے۔ پڑھنا تو درکنار، دیکھنے کی بھی حالات اجازت نہیں دے رہے۔ لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔

۶۔ ہمارے دیوبندی مکتبہ فکر میں ایک طبقہ جماعت اسلامی کی طرف سے چھپنے والی ہر کتاب کو نفرت سے دیکھتا ہے۔ یہ نفرت ’’خلافت وملوکیت‘‘ کا رد عمل ہے، لیکن جماعت اسلامی کے اداروں کی طرف سے چھپنے والی ہر چیز کو ہی ’’خلافت وملوکیت‘‘ کا عکس سمجھ لینا غلو اور غلط ہے۔ ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘ پر عمل کرنا چاہیے۔ احقر کہنا یہ چاہتا ہے کہ اس خط میں ذکر کیے گئے امور پر جماعت اسلامی کے مختلف اداروں کی مطبوعات بھی حیرت انگیز طور پر ممد ومعاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

جی چاہتا ہے کہ ’الشریعہ‘ میں ہر ماہ کچھ نہ کچھ لکھا کروں لیکن ع ’’یک حرف کاشکے صد جانوشتہ ایم‘‘ والا معاملہ ہے۔ احقر آپ سے اور الشریعہ کے تمام قارئین کرام سے دعاؤں کا ملتجی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔

والسلام

آپ کا نیاز مند

مشتاق احمد عفی عنہ

جامعہ عربیہ ، چنیوٹ

۱۸ محرم الحرام ۱۴۲۵ھ

(۲)

گرامی قدر جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب زاد مجدہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے اور دعوت وتعلیم کی سرگرمیوں میں کوشاں ہوں گے۔

ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے موصول ہو رہا ہے اور علم وفکر کا سامان تازہ کر رہا ہے۔ اس کے علمی وفکری مضامین ذہن وقلب کو جلا بخشتے ہیں۔

اس وقت مارچ ۲۰۰۴ء کا شمارہ پیش نظر ہے۔ آپ کے خاص سلسلہ ’’حالات وواقعات‘‘ کے تحت خورشید احمد ندیم کا مضمون ’’جہادی حکمت عملی: مثبت اور منفی پہلو‘‘ پڑھا۔ نیز اس پر آپ کا تبصرہ بھی ملاحظہ ہوا۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ فکری مغالطے پیدا کرنے والے لوگ ہر دور میں رہے ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی فکر اور سوچ کا تعاقب کیا جائے۔ خورشید احمد ندیم ماضی قریب کے حوالے سے قومی وملی سطح پر جس طرح ملت کے طرز عمل پر تنقید بلکہ اس کو غلط ثابت کرنے پر دلائل کا سہارا لے رہے ہیں اور کشمیر ودیگر معاملات پر ’سجدۂ سہو‘ کی تلقین کر رہے ہیں، یہ چشم کشا ہے۔ اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ امت کے سامنے صحیح اور متوازن نقطہ نظر پیش کیا جائے۔ آپ نے گویا اہل قلم کی طرف سے کفارہ ادا کیا ہے۔ تاہم ایسے سوالات کے بارے میں سوچنا اہل قلم ودانش کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

والسلام

(ڈاکٹر) محمد عبد اللہ

ادارۂ علوم اسلامیہ 

جامعہ پنجاب، لاہور

(۳)

محترم مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ ورعاہ 

السلام علیکم

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے لیے شکر گزار ہوں۔ نازک سا ہلکا پھلکا ماہنامہ ہے مگر مندرجات قیمتی، تزیین سادہ اور افادیت بہت زیادہ۔ میں اس کا باقاعدہ مگر ادنیٰ سا قاری ہوں۔ بہت فائدہ ہوتا ہے۔ ویسے میں آنے والی ہر کتاب اور رسالہ کو بغور دیکھتا اور پھر پڑھتا ہوں اور یہ ضروری ہے۔ میرے استاذ گرامی مولانا عبد العزیز میمن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ہر شے کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور کتاب کی زکوٰۃ یہ ہے کہ اسے پڑھا جائے۔

تازہ شمارہ - مارچ ۲۰۰۴ء- میں ورک صاحب کا مقالہ ’’پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ‘‘ بہت مفید اور اس کی اشاعت قابل تحسین ہے۔ اس قسم کی کوششیں علماے اہل سنت - بریلوی، دیوبندی- کو قریب لا کر امت کے اتحاد واتفاق کے لیے بہت ضروری ہیں اور پیر صاحب جیسے اعتدال پسند بلکہ منصف مزاج اہل علم کا احترام، قدر شناسی اور عزت افزائی نہایت قابل تحسین ہے۔ جزاکم اللہ خیراً۔

آپ کے سفر بنگلہ دیش کی روداد بھی بہت دل چسپ، معلومات افزا اور یادوں کو تازگی عطا کرنے والی عالمانہ سعی مشکور ہے۔ بارک اللہ فیکم واعانکم وسدد خطاکم۔

بصد احترام، ہدیہ نیاز گزار

ظہور احمد اظہر

10/3/04

سابق صدر شعبہ عربی/پرنسپل اورئنٹل کالج

پنجاب یونیورسٹی وسابق ممبر PPSC لاہور

مکاتیب