درس نظامی کا نصاب اور کتب حدیث

مولانا حماد انذر قاسمی

امام الانبیاء خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے ارشادات مبارکہ قرآن مجید کے بعد شریعت اسلامیہ کا دوسرا بڑا ماخذ ہیں۔ قرآن مجید کے ساتھ احادیث مبارکہ کی تعلیم ہر زمانے میں خصوصی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ صحابہ کرام بھی قرآن مجید کے بعد احادیث مبارکہ کو جمع کرنے کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ خصوصاً حضرت ابو ہریرہ، حضرت انس، حضرت عائشہ اور عبادلہ ثلاثہ رضی اللہ عنہم اس فہرست میں نمایاں ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ کی جمع کردہ احادیث سب سے زیادہ ہیں۔ اس مصروفیت ہی کی وجہ سے آپ کاروبار دنیا سے بے نیاز رہے۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرت اکرم ﷺ کے موتیوں جیسے الفاظ کے ذخیرے کو سمیٹنے میں ہمہ تن مصروف رہتے۔ بعد ازاں خلافت امویہ وعباسیہ میں احادیث کی جمع وتدوین کا کافی کام ہوا اور اسی دور میں صحاح ستہ اور دیگر مجموعہ ہائے احادیث مدون ہوئے۔ 

درس نظامی میں بھی تعلیم حدیث کو خاص مقام حاصل ہے اور وقت کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امہات کتب حدیث کو شامل نصاب کیا گیا ہے۔ برصغیر پاک وہند میں خاندان شاہ ولی اللہؒ کے دور تک مشکوٰۃ شریف کو حدیث کی سب سے بڑی کتاب کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔ بعد ازاں صحاح ستہ کو بھی شامل نصاب کیا گیا۔ مگر سوچنے کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں حدیث کی تعلیم کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، کیا وہ حدیث نبوی کی تعلیم کے لیے مناسب ہے یا اس میں اصلاح کی ضرورت ہے؟ 

حدیث کی پہلی مختصر کتاب ’’زاد الطالبین‘‘ درجہ ثانیہ میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھانے کا بنیادی مقصد صرف ونحو کے قواعد کی مشق ہے۔ اگر اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو احادیث زبانی یاد کرائی جائیں تو زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں ہر موقع ومحل کی مختصر احادیث موجود ہیں جو تقریر وتحریر میں سود مند ہو سکتی ہیں۔ 

دوسری کتاب ’’ریاض الصالحین‘‘ جو کہ امام نوویؒ کی تصنیف ہے، اس میں زیادہ تر فضائل وآداب ومعاملات کی احادیث کا ذخیرہ ہے، مگر اس کتاب کے ساتھ یہ زیادتی کی گئی ہے کہ اس کے صرف مخصوص ابواب شامل نصاب ہیں۔ مثلاً درجہ ثالثہ میں فقط ’’کتاب الآداب‘‘ اور درجہ رابعہ میں ’’کتاب الجہاد‘‘ سے ’’کتاب الدعوات‘‘ تک کا حصہ شامل نصاب ہے۔ میری ناقص رائے کے مطابق اگر ریاض الصالحین کو مختلف درجات میں مکمل طور پر شامل کر لیا جائے تو طلبہ دورۂ حدیث سے قبل ایک مرتبہ کم از کم فضائل وآداب کی احادیث کے ترجمہ اور مختصر تشریح سے واقف ہو سکیں گے۔ 

درجہ خامسہ میں پڑھائی جانے والی ایک اور حدیث کی کتاب ’’آثار السنن‘‘ للنیمویؒ فقہی مسائل پر مشتمل لاجواب تصنیف ہے۔ اگر اس کو طلبہ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں تو بعد کے درجات میں میں عبادات سے متعلق اختلافی مباحث کے سمجھنے میں کافی سہولت ہو سکتی ہے۔ مگر نصاب میں اس کتاب کو ترجمہ قرآن کے ضمنی مضمون کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ہی پیریڈ میں دس پاروں کا ترجمہ بھی پڑھایا جائے اور بعد ازاں ’’آثار السنن‘‘ بھی کماحقہ پڑھائی جاسکے؟ لہٰذا ضروری ہے کہ ’’ریاض الصالحین‘‘ اور ’’آثار السنن‘‘ کو حدیث کے مستقل اسباق کے طور پر شمار کیا جائے نہ کہ ترجمہ قرآن کے ضمنی حصے کے طور پر۔ 

اس کے بعد درجہ سادسہ میں حدیث کی دو کتب ’’موطا امام محمد‘‘ اور ’’مسند امام اعظم‘‘ نصاب میں حالیہ ترمیم کے بعد شامل کی گئی ہیں۔ یہ ایک اچھی ترمیم ہے مگر ان کتب کو اصول حدیث اور علم الفرائض (خیر الاصول، سراجی) کے ساتھ شامل کر کے تین مستقل اور جداگانہ علوم (حدیث، اصول حدیث اور علم الفرائض) کو ایک ہی پرچہ میں جمع کر دینا زیادتی ہے۔ اس کے بجائے ’’سراجی‘‘ (علم الفرائض) اور حدیث کے الگ الگ پرچے ہونے چاہییں تاکہ ہر کتاب کو استفادہ کی نیت سے پڑھا جائے نہ کہ صرف رسمی کارروائی مکمل کرنے کے لیے۔

اور آخر میں دورۂ حدیث صحاح ستہ، شمائل، موطا امام مالک اور طحاوی شریف شامل نصاب ہیں۔ یہ کل ۹ کتابیں ہیں جن کو ۶ پرچوں میں سمیٹ دینا مناسب نہیں۔ ان کو اسی آخری سال میں پڑھایا جائے مگر بالاستیعاب ایسے طریقے سے کہ عبادات سے متعلق فقہی مباحث بھی زیر بحث آئیں، معاملات اور آداب معاشرت بھی اور سیر صحابہ بھی۔ صرف عبادات سے متعلق فقہی مباحث کو بہت طول دے کر معاملات اور آداب معاشرت سے متعلق ذخیرہ کو نظر انداز کرنا طلبہ میں تزکیہ وتربیت کے فقدان کا باعث بنتا ہے۔ ان مباحث کے علاوہ فضائل صحابہ اور آداب معاشرت ومعاملات پر بھی اچھی طرح بحث کی جائے تاکہ طلبہ عملی زندگی کے حوالے سے اس ذخیرہ سے خاطر خواہ استفادہ کر سکیں۔ بلاشبہ کتب حدیث نصاب کا ایک اہم جزو ہیں مگر ان کے مباحث سے تیز رفتاری کے ساتھ گزر جانے کے بجائے مباحث کے مکمل استیعاب کا اہتمام ہونا چاہیے۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(اپریل و مئی ۲۰۰۴ء)

Flag Counter