صحابہ کرام کے اسلوب دعوت میں انسانی نفسیات کا لحاظ (۲)

پروفیسر محمد اکرم ورک

مناسب وقت کا انتظار/موقع کی مناسبت

دعوت دین کے ہر کارکن کو اپنے گردو پیش کا پوری ہوشیاری اور مستعدی سے جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ دعوت کی تخم ریزی کے لیے جیسے ہی کوئی مناسب موقع ہاتھ آئے، وہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ اس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔اس کی بہترین مثال ہمیں حضرت یوسف ؑ کی سیرت میں ملتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

’’ اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا : میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں ، اور دوسرے نے کہا : میں اپنے کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے چڑیاں کھا رہی ہیں ۔ آپ ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ۔ ہم آپ کو خوب کاروں میں سے سمجھتے ہیں ۔ آپ ؑ نے فرمایا : جو کھانا تمہیں ملتا ہے وہ آئے گا نہیں کہ میں اس کے آنے سے پہلے پہلے تمھیں اس کی تعبیر بتادوں گا ۔یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے ۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑا جو اﷲ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت سے یہی لوگ منکر ہیں اور میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے مذہب کی پیروی کی۔ ہمیں حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو اﷲ کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ اﷲ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتے ۔ اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو! کیا الگ الگ بہت سے رب بہتر ہیں یا اکیلا اﷲ ہی سب پر حاوی و غالب؟ تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر چند ناموں کو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اﷲ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اختیار اور اقتدار صرف اﷲ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو۔ یہی دین قیّم ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلانے کی خدمت انجام دے گا ۔رہا دوسرا تو اس کو سولی دی جائے گی ، پھر پرندے اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے، اس امر کا فیصلہ ہوا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے‘‘ (۱)

اس پورے واقعہ میں داعی حق کے لیے جو نقطہ خصوصیت سے قابل ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ جب وہ دونوں آدمی محسوس کرتے ہیں کہ اپنے کردار و اوصاف کی بنا پر حضر ت یوسفؑ ہی ایسے فرد ہیں جن کی طرف وہ اپنی غرض کے لیے رجوع کر سکتے ہیں تو حضرت یوسفؑ اس موقع پر یہ نہیں کرتے کہ ان پر اپنی بزرگی کا رعب جمانے کی کوشش کریں ،بلکہ وہ ان کے اس التفات کو غنیمت سمجھتے ہوئے ان کے سامنے فوراً دعوت حق پیش فرماتے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے ایسا اسلوب اختیار فرمایا کہ گویا بات سے بات چل نکلی ہے نہ کہ قصداً ایک بات کہنے کے لیے موقع پیدا کیا گیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کی سیرت کے تفصیلی مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انھوں نے بھی دعوت و تبلیغ کے لیے بارہا اس اسلوب کو اختیار کیا ۔سیرت صحابہ سے اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

حضرت شداد بن اوسؓ ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ مریض سے پوچھا : کیا حال ہے؟ اس نے کہا : اﷲ کے فضل سے اچھا ہوں ۔ حضرت شدادؓ نے دیکھا کہ زمین ہموار ہے اور مریض بیماری کے باوجود اﷲ کی رضا پر راضی ہے تو فوراً گویا ہوئے : 

أبشر بکفارات السیئات وحط الخطایا۔
میں تم کو مرض کے کفارۂ گناہ ہونے کی بشارت سناتا ہوں۔

کیونکہ میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں کسی شخص کو آزمائش میں مبتلا کروں اور وہ میری حمد کرے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے ابھی پیدا ہوا ہو۔ (۲)

حضرت طلیبؓ بن عمیر خفیہ دعوت کے مرحلے میں دار ارقم میں ایمان لائے۔ جب دولت ایمان سے مستفیدہو چکے تو اپنی والدہ ارویٰ بنت عبدالمطلب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور رسول اﷲ ﷺکی اتباع اختیار کر لی ہے تو ان کی والدہ کہنے لگیں، اپنے ماموں زاد بھائی کی امداد و اعانت کرنا بڑی اچھی بات اور ایک حق کی ادائیگی ہے۔ اگر ہم عورتوں میں مردوں جیسی طاقت ہوتی تو ہم بھی آپﷺ کی اتباع کرتیں اور ہر مدافعت میں آپ ﷺ کا ساتھ دیتیں۔ (۳)حضرت طلیبؓ بن عمیر نے دیکھا کہ والدہ اسلام کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں اور اسلام کی طرف مائل ہیں تو انھوں نے فوراً کہا: 

ایمنعک ان تسلمی و تتبعیہ ، فقد اسلم اخوک حمزۃؓ ؟ فقالت: انتظر ما یصنع أخواتی ، ثم اکون إحداھن قال : فقلت : فانی اسألک باﷲ الا أتیتہ وسلمت علیہ  وصدّقتہ ، وشھدت ان لا الہ الا اﷲ ، قالت : فانی اشھد ان لا الہ الا اﷲ ، واشھد ان محمداً رسول اﷲﷺ، ثم کانت تعضد النبیﷺ بلسانھا وتحض ابنھا علی نصر تہ والقیام بامرہ (۴)
آپ کو اسلام لانے اور آپﷺ کا اتباع کرنے سے کیا چیز مانع ہے؟ جبکہ آپ کے بھائی حمزہؓ بھی اسلام لا چکے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا : میں یہ انتظار کر رہی ہوں کہ میری بہنیں کیا کرتی ہیں، میں اپنی بہنوں سے باہر نہیں، حضرت طلیبؓ نے عرض کیا : اماں جان ! میں آپ کو اﷲ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور رسول اﷲ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ کو سلام کریں، آپ کی تصدیق کریں اور اس بات کی گواہی دیں کہ سوائے اﷲ کے کوئی معبود نہیں۔ حضرت ارویؓ نے کہا : میں گواہی دیتی ہوں کہ سوائے اﷲ کے کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اﷲ کے رسول ہیں ۔ اس کے بعد یہ ( اپنے بڑھاپے کے باعث ) رسول اﷲ ﷺکے کام میں اپنی زبان کے ذریعے مدد کرتی تھیں اور اپنے بیٹے کو آپﷺ کی مدد کرنے اور آپ ﷺکے مقاصد کو پورا کرنے پر ابھارا کرتیں تھیں ۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اﷲﷺ کے صحابہ جمع تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے رسول اﷲﷺ سے علی الاعلان دعوتِ اسلام کی اجازت طلب کی ۔ آپﷺ نے منع فرمایا لیکن پھر ابو بکرؓ کے اصرار پر اجازت دے دی ،چنانچہ تمام صحابہ رسول اﷲﷺ کی معیت میں بیت اﷲ میں تشریف لے گئے۔ ابو بکرؓ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اوراسلام میں وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے لوگوں کو کھلم کھلا اسلام کی دعوت دی ۔چنانچہ مشرکین مکہ ان پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑے اور آپؓ کو خوب مارا ،حتیٰ کہ بچنے کی کوئی امید نہ رہی۔ آپؓ کے قبیلہ بنو تیم کے لوگ آپ کو اٹھا کر گھر لے گئے، ہوش آیا تو پہلا سوال یہ تھا : رسول اﷲ ﷺکا کیا حال ہے؟ بتایا گیا کہ حضورﷺ خیریت سے ہیں۔ آپؓ دار ارقم میں حاضر ہوئے اور جب تک رسول اﷲﷺ کو دیکھ نہ لیا، مطمئن نہ ہوئے اور پھر بارگاہ رسالت میں عرض کیا: 

یا رسول اﷲﷺ ! ھذہ أمی وأنت مبارک فادع لھا وادعھا الی الاسلام لعل اﷲ ان یستنقذ ھا بک من النار فدعا لھا رسول اﷲﷺ ودعا ھا الی اﷲ فاسلمت (۵)
اے اﷲ کے رسولﷺ ! یہ میری والدہ محترمہ ہیں، آپﷺ ان کے لیے دعا کیجیے اور ان کو اسلام کی طرف بلائیں شاید کہ اﷲ آپ کے ذریعہ سے ان کو جہنم سے بچالے، چنانچہ رسول اﷲﷺ نے ان کے لیے دعا کی اور ان کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت ابو بکرؓ نے جب دیکھا کہ ان کی والدہ پر دن بھر کے واقعات کا ایک خاص اثر ہے اور ان کے دل میں اپنے بیٹے اور اس کے مقاصد کے لیے ہمدردی کے آثار موجود ہیں تو انھوں نے ایک سچے داعی کی طرح موقع مناسب سمجھتے ہوئے اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت دی جس کے نتیجہ میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔

ایک آدمی نے ابن عباسؓ سے جمعہ کے دن غسل کرنے کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ واجب ہے؟ ابن عباس نے فرمایا : نہیں جو چاہے، غسل کرے۔ اور پھر فرمایا کہ میں تمھیں بتاتا ہوں کہ غسل جمعہ کی ابتدا کیسے ہوئی۔ دراصل عہد رسالت میں لوگ غریب اور محتاج تھے ، وہ اون کے کپڑے پہنتے تھے، دن بھر کھیتوں میں کام کرنے کی وجہ سے پسینہ آتا، جس سے کپڑوں کی بدبو مزید بڑھ جاتی، جس کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی تھی چنانچہ رسول اﷲ ﷺنے لوگوں کو حکم دیا: 

یا ایھا الناس ! اذا جئتم الجمعۃ فاغتسلوا، ولیمس احدکم من اطیب طیب ان کان عندہ(۶)
اے لوگو ! جب تم جمعہ کے لیے آؤ تو غسل کر لیا کرو ، اور جس کے پاس خوشبو ہو وہ خوشبو مل لیا کرے۔

ابن عباسؓ اگر چاہتے تو سائل کو صرف یہ کہہ کر رخصت کر سکتے تھے کہ جمعہ کے دن غسل واجب ہے یا نہیں، لیکن انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سائل کو غسل جمعہ کے پورے پس منظر اور تفصیل سے آگاہ کر دیا۔

اگرچہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا ایک مستقل حلقۂ درس موجود تھا تاہم وہ جہاں لوگوں کو جمع دیکھتے یا جہاں موقع کی مناسبت سے کچھ کہنے کی ضرورت ہوتی، فوراً لوگوں کو دین کی طرف متوجہ کرتے ،چنانچہ ایک دفعہ ابو موسیٰ اشعریؓ اصفہان کی مہم سے واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک جگہ پڑاؤ کیا ۔ لوگوں کا کافی مجمع تھا۔ موقع مناسب جانتے ہوئے آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: میں تم لوگوں کو ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں جو ہم لوگوں کو رسول اﷲ ﷺ نے سنائی تھی۔ لوگوں نے کہا : اﷲ آپؓ پر رحم کرے، ضرور سنائیے ۔ بولے: رسول اﷲ نے فرمایا: قیامت کے قریب ’’ ہرج‘‘ زیادہ ہوگا ۔ لوگوں نے عرض کیا :ہرج کیا ہے؟ فرمایا: قتل اور جھوٹ۔لوگوں نے عرض کیا : اس سے بھی زیادہ قتل ہو گا جتنا ہم لوگ کرتے ہیں ؟ فرمایا اس سے مقصد کفار کا قتل نہیں بلکہ باہمی خونریزی ہے، حتیٰ کہ پڑوسی پڑوسی کو، بھائی بھائی کو، بھتیجا چچا کو اور چچا بھتیجے کو قتل کرے گا ۔ لوگوں نے کہا سبحان اﷲ، کیا عقل و ہوش رکھتے ہوئے؟ فرمایا : عقل و ہوش کہاں ؟ عقل و ہوش تو اس زمانہ میں باقی نہ رہے گا ،حتیٰ کہ آدمی خیال کرے گا کہ وہ کسی حق بات پر ہے لیکن درحقیقت وہ کسی حق بات پر نہ ہو گا‘‘۔ (۷)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے لوگوں کو یہ خطبہ اس وقت دیا جب وہ لوگ گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ جہاں میدانِ جہاد کی نسبت ان برائیوں میں مبتلا ہونے کے امکانات کئی گنا زیادہ تھے، اس لیے آپؓ نے ایک مناسب موقع پر ضروری تعلیم دینا لازمی سمجھا تاکہ لوگ ان گناہوں میں مبتلا نہ ہوں اور زبانِ رسالت سے نکلنے والی وعید کے مستحق نہ بن جائیں۔

ایک دفعہ حضرت ابو الدرداءؓ دمشق کی جامع مسجد میں، جہاں آپ کا حلقہ درس قائم تھا، اپنے ہاتھ سے شجرکاری کررہے تھے۔ اسی دوران ایک آدمی ان کے پاس سے گزرا۔ آپؓ کو دیکھ کر بڑے تعجب سے کہنے لگا : آپؓ رسول اﷲ ﷺکے صحابی ہو کر ایسا معمولی کام اپنے ہاتھ سے کر رہے ہیں ؟ حضرت ابو الدرداءؓ نے اس کی حیرت زائل کرتے ہوئے فرمایا، میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے سنا ہے: 

من غرس غرساً لم یأکل منہ آدمی ولا خلق من خلق اﷲ الا کان لہ صدقۃ(۸)
جس کسی نے کوئی پودا لگایا اور اس میں سے اگر کسی آدمی یا اﷲ کی مخلوق میں سے کسی مخلوق نے کھایا تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔

حضر ت عائشہؓ موسم حج میں منیٰ میں خیمہ زن تھیں۔ لوگ ملاقات کو آرہے تھے ،چند قریشی نوجوانوں کو دیکھا کہ وہ ہنستے ہوئے آرہے ہیں۔ آپؓ نے ہنسنے کا سبب دریافت کیا تو انھوں نے عرض کیا کہ ایک صاحب خیمہ کی ڈوری میں الجھ کر ایسے گرے کہ ان کی آنکھ چلی جاتی یا گردن ٹوٹ جاتی ، ہم لوگوں کو یہ دیکھ کر بے ساختہ ہنسی آگئی۔ فرمایا: مت ہنسو! میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے سنا ہے: 

ما من مسلم یشاک شو کۃً فما فوقھا، الا کتبت لہ بھا درجۃ ،و محیت عنہ بھا خطیءۃ (۹)
کسی مسلمان کو کانٹا چبھ جائے یا اس سے معمولی مصیبت آئے تو اس کے بدلے میں اﷲ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بڑھادیتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے۔

تالیف قلب

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی عملی زندگی میں قوتِ محرکہ اس کا دل ہے، اور اسی کی بدولت انسانی شخصیت انقلاب سے دوچار ہوتی ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

الا وان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب (۱۰)
آگاہ رہو کہ بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ سنور جاتا ہے تو تمام بدن سنور جاتا ہے۔ اور جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو تمام بدن خراب ہوجاتا ہے۔ سنو وہ ٹکڑا دل ہے۔

گویا انسانی جذبات کا مرکز دل ہے اور جب داعی دل کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ یقینی طور پر مخاطب کو صراطِ مستقیم پر گامزن کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسلام کے کئی شدید ترین دشمنوں کو محض تالیف قلب کی بنا پر حلقہ بگوش اسلام کرلیا۔ *

صحابہ کرامؓ نے بھی کئی لوگوں کو محض تالیف قلب کے اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے مائل بہ اسلام کیا چنانچہ ابوداؤد کی روایت ہے کہ ایک صحابی نے، جو پانی کے ایک چشمے کے مالک تھے، اپنی قوم کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے کہا کہ اگر وہ لوگ اسلام قبول کرلیں تو ان کو سو اونٹ دیے جائیں گے۔ چنانچہ قوم ان کی ترغیب اور تالیف قلب سے مسلمان ہوگئی تو انھوں نے ان میں سو اونٹ تقسیم کردیے۔ (۱۱)

مدعو کی تعریف وتحریک/حوصلہ افزائی

دعوت کے ہر کارکن کی حیثیت ایک مہربان استاد اور مربی کی سی ہونی چاہیے۔ داعی کا اپنے مخاطبین سے ایسا رویہ جس میں اپنائیت، محبت اور حوصلہ افزائی کا رنگ نمایاں ہو، دعوت کی کامیابی میں اولین پتھر کا کام دے سکتا ہے۔ بسااوقات مدعو کی تعریف وتوصیف اور مناسب حوصلہ افزائی اس کو داعی کے اس قدر قریب کردیتی ہے کہ اس کے بعد دعوت کا کام آسان ہوجاتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے دعوت وتبلیغ میں اس اسلوب کو بھی استعمال کیا، چنانچہ جب لوگ دوردراز سے صحابہ کرامؓ کی خدمت میں طلبِ علم اور مسائلِ دینیہ کی سوجھ بو جھ حاصل کرنے کے لیے آتے تو وہ نہایت کشادہ دلی اور خند ہ پیشانی سے ان کا خیر مقدم کرتے۔ ابوہارون کا بیان ہے کہ ہم لوگ حضرت ابو سعید الخدریؓ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپؓ یہ کہتے ہوئے ہمارا استقبال کرتے:

مرحباً بوصیۃ رسول اللّٰہﷺ ان النبیﷺ قال: ان الناس لکم تبعَ وان رجالا یأتونکم من اقطار الارض یتفقّہون فی الدین واذا اتوکم فاستوصوابھم خیرًا (۱۲)
خوش آمدید! بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس دنیا کے کونے کونے سے دین سیکھنے کے لیے لوگ آئیں گے، ان کے ساتھ بھلائی کرنا۔

حسن بصری کا بیان ہے کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہؓ کی عیادت کوگئے ،جب لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے ان کا گھر بھر گیا تو انھوں نے خاکساری سے اپنے پاؤں سمیٹ لیے اور فرمایا : ایک دن ہم لوگ رسول اللہﷺؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ لیٹے ہوئے تھے ہم لوگوں کو دیکھا تو اسی طرح پاؤں سمیٹ لیے اور فرمایا:

انہ سیأتیکم اقوام من بعدی یطلبون العلم فرحبوا بھم وحیّوھم وعلّموھم(۱۳)
میرے بعد عنقریب لوگ تمہارے پاس تحصیل علم کے لیے آئیں گے ان کو مرحبا کہنا، سلام کہنا اور علم سکھانا۔

حضرت ابوسعید خدریؓ کے پاس جب نوعمر اور جوان طلبا آتے تو آپؓ ان کو اپنے سے مانوس اور قریب کرنے کے لیے فرماتے:

مرحبا بوصیۃ رسول اللّٰہﷺ! أمرنا رسول اللّٰہﷺ ان نوسع لھم فی المجلس، ونفقّھھُم الحدیث، فانکم خلوفنا والمحدثون بعدنا، وکان مما یقول للحدث: اذا انت لم تفھم الشئَ استفھمنیہ! فانک ان تقوم وقد فھمتہ احب الیّ من ان تقوم ولم تفھمہ(۱۴)
خوش آمدید ہو! ان لوگوں کو جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے ہمیں وصیت فرمائی تھی، کہ ہم ان کے لیے مجلس میں گنجائش پیدا کریں اور ان کو حدیث سمجھائیں، کیونکہ آپ لوگ ہی ہمارے بعد ہمارے نائب اور دوسروں کو احادیث سنانے والے ہیں۔ اگر تمہیں کوئی بات سمجھ نہ آئے مجھ سے سمجھ لینا کیونکہ تم سمجھ کر اٹھو، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ تم بے سمجھے اٹھ جاؤ۔

ایک دفعہ عبداللہ بن عمروؓ کا حلقہ درس قائم تھا۔ لوگوں کی کثیر تعداد جمع تھی، اتنے میں ایک آدمی مجلس کو چیرتا ہوا آگے بڑھا ،لوگوں نے اس کو روکنا چاہا لیکن آپؓ نے کمال شفقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اس کو آنے دو۔ وہ آیا یہاں تک کہ آپؓ کے پاس بیٹھ گیا اور بولا:

أخبرنی لشئ حفظتہ من رسول اللّٰہ ﷺ، فقال: سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، والمھاجر من ھجر ما نھی اللّٰہ عنہ(۱۵)
رسول اللہﷺ کا کوئی فرمان یاد ہو تو بیان کیجئے۔ فرمایا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی باتوں کو چھوڑ دے۔

لوگ مختلف مسائل میں ازواجِ مطہرات بالخصوص حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ بعض مسائل کے پوچھنے میں جھجک اور شرم مانع آتی تھی تو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سائلین کی حوصلہ افزائی فرماتیں، چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو ایک مسئلہ کے دریافت کرنے میں حیا اور شرم مانع ہوئی تو آپؓ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا:

لا تستحی ان تسألنی عما کنت سائلاً عنہ امک التی ولدتک فانما انا امک (۱۶)
تو اس بات کو پوچھنے میں شرم مت کر! جوتو اپنی سگی ماں سے پوچھ سکتا ہے، جس نے تجھے جنا ہے۔ میں بھی تو تیری ماں ہوں۔ 

دعوت میں ایجاز واختصار

دعوت وتبلیغ کو مؤثر بنانے کے لیے مضامین دعوت کا واضح، دو ٹوک اور مختصر ہونا بھی ایک بہترین اسلوب ہے۔ صحابہ کرامؓ کے دعوتی وتبلیغی خطبات میں فصاحت وبلاغت کے ساتھ ساتھ ایجازو اختصار کی جھلک بڑی نمایاں ہوتی تھی۔ ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمار بن یاسرؓ نے ہمیں فصیح وبلیغ خطبہ دیا۔ لوگوں نے آپ کے بیان کی خوب تعریف کی ،لیکن آپ کا بیان اس قدر مختصر تھا کہ لوگوں نے خواہش کی کہ کاش آپ مزید بیان فرماتے؟ تو آپؓ نے فرمایا:

انی سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول: ان طول صلاۃ الرجل وقصر خطبتہ مئنۃ من فقھہ فأطیلوا الصلوۃ واقصروا الخطبۃ (۱۷)
میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے: نماز کو طول دینا اور خطبہ کو مختصر کرنا انسان کی سمجھ کی علامت ہے، پس تم نماز کو لمبا کرو اور خطبہ مختصر دیا کرو۔

صحابہ کرامؓ نے دعوت وتبلیغ میں ایجازواختصار کے اسلوب کو نہ صرف خود اختیار فرمایا بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کی کہ وہ وعظ ونصیحت کو مختصر رکھیں۔ ایک دفعہ حجاج بن یوسف ابن عمرؓ کے ہمراہ خطبہ حج کے لیے روانہ ہوا۔ ابن عمرؓ کے صاحبزادے سالم بن عبداللہؓ بھی ساتھ تھے۔ انھوں نے حجاج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اگر آج تم سنت کو حاصل کرنا چاہتے ہوتو مختصر خطبہ دینا اور نماز جلدی پڑھانا، حجاج بن یوسف ابن عمرؓ کی طرف دیکھنے لگا کہ اس بارے میں وہ کیا فرماتے ہیں، ابن عمرؓ نے یہ بات دیکھی تو فرمایا: سالم نے ٹھیک کہا ہے۔(۱۸)

حضرت عبداللہؓ بن مسعودکا بیان اور خطبہ بڑا مختصر، جامع اور پر اثر ہوتا تھا۔ حضرت ابوالدرداؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺنے خطبہ ارشاد فرمایا پھر آپ کے حکم سے حضرت ابوبکرؓ اور عمرفاروقؓ نے بیان فرمایا اور دونوں حضرات نے اپنے بیان کو مختصر رکھا، ان کے بعد عبداللہؓبن مسعودکو حکم ہوا کہ کچھ بیان کریں۔ حکم کی تعمیل میں کھڑے ہوئے اور حمد وسلام کے بعد فرمایا:

ایھاالناس! ان اللّٰہ ربنا وان الاسلام دیننا وان ھذا نبینا۔ وأوما بیدہ الی النبیﷺ،۔ رضینا مارضی اللّٰہ لنا ورسولہ والسلام علیکم۔
اے لوگو! اللہ ہمارا رب اور اسلام ہمارا دین ہے اور آپﷺ ہمارے نبی ہیں۔ اور اپنے ہاتھ سے رسول اللہﷺ کی طرف اشارہ کیا۔ جس سے اللہ اور اس کے رسولﷺ خوش ہوں اس سے ہم بھی خوش ہیں، اور تم پر سلامتی ہو۔

اس کے بعد عبداللہ بن مسعودؓ بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺنے اس مختصر مگر جامع بیان کی بہت تعریف وتحسین فرمائی اور فرمایا: ’’ابن ام عبد نے سچ کہا‘‘۔(۱۹)

مخاطب کی زبان میں گفتگو

ابلاغ اور تفہیم کے لیے زبان ولسان کی اہمیت مسلم ہے۔ دعوت وتبلیغ میں تاثیر اور قوت اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے، جب پیغام کی زبان آسان، نرم اور قابل فہم ہو، اور اگر اس کے ساتھ ساتھ داعی مدعو کی زبان سے بھی واقفیت رکھتا ہوتو دعوت کا کام مزید آسان ہوجاتا ہے ،کیونکہ ہم زبانی سے انسیت میں اضافہ ہوتا ہے، اجنبیت دور ہوتی ہے اور گفتگو کا مقصد آسانی سے سمجھا اور سمجھایا جا سکتا ہے۔ خود رسول اللہ ﷺنے اس اسلوب کو اختیار فرمایا ۔عرب اگرچہ عربی زبان ہی بولتے تھے لیکن ان کے مختلف قبائل اور علاقوں میں لہجوں کا اختلاف پایا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺکے پاس بہت سے قبائل سے وفود آتے اور اسلام قبول کرتے تو آپﷺان کے ساتھ ان ہی کی زبان اور لہجے میں گفتگو فرماتے۔ خطیب بغدادی نے اپنی سند سے کعب بن عاصم الاشعری کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کو مخصوص لہجے میں بات کرتے سنا:

عن عاصم الاشعریؓ قال: سمعت رسول اللّٰہ ﷺیقول : لیس من امبرامصیام فی امسفر، اراد لیس من البر الصیام فی السفر (۲۰)

اشعریوں کی لغت میں لام کو میم سے تبدیل کرلیا جاتا ہے۔ آپ ﷺنے اپنے لہجہ کو چھوڑ کر مخاطب کے لہجہ کو اختیار فرمایا ۔بلاشبہ اس سے مدعو پر خوشگوار اثر پڑتا ہے اور اپنائیت اور قربت پیدا ہوتی ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر رسول اللہ ﷺنے حضرت زیدؓ بن ثابت کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا، تاکہ یہود سے انھیں کی زبان میں گفتگو کی جاسکے اور انھیں کی زبان میں ان کے خطوط کا جواب دیا جا سکے ۔حضرت زید بن ثابتؓ کا بیان ہے:

فتعلّمت کتابھم مامرت بی خمس عشرۃ لیلۃ حتی حذقتہ، وکنت اقرأ لہ کتبھم اذا کتبوا الیہ، واجیب عنہ اذا کتب(۲۱)

ایک ایرانی عورت حضرت ابوہریرہؓ کی خدمت میں استغاثہ لے کرآئی کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اب مجھ سے میرا بیٹا بھی چھیننا چاہتا ہے اس عورت نے یہ ساری گفتگو فارسی زبان میں کی اور ابوہریرہؓ نے بھی اس سے اسی زبان میں گفتگو کی اور پھر آپؓ نے بچہ عورت کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔(۲۲)

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ نے دوسری قوموں کی زبانیں صرف اس غرض سے سیکھ رکھی تھیں تاکہ مخاطب سے براہ راست تبادلۂ خیال کرکے اس کے مسائل کا حل کیا جائے۔

صحابہ کرامؓ نے قرآن مجید کے بعض اجزا کا ترجمہ بھی دوسری زبانوں میں کیا تاکہ عربی زبان سے ناواقف لوگ اسلام کی حقیقی روح اور تعلیمات سے محروم نہ رہ جائیں۔ چنانچہ علامہ سرخسی لکھتے ہیں:

روی ان الفرس کتبوا الی سلمانؓ ان یکتب لھم الفاتحۃ بالفارسیۃ، فکانوا یقرؤن ذالک فی الصلوۃ حتٰی لانت السنتھم للعربیۃ (۲۳)
بیان کیا جاتا ہے کہ بعض نومسلم ایرانیوں نے حضرت سلمانؓ کی خدمت میں لکھا کہ ان کے لیے سورۃ الفاتحہ کو فارسی میں نقل کردیا جائے، چنانچہ وہ لوگ (اسی ترجمہ کو) نماز میں پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ عربی سیکھ گئے۔

اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور بڑے فقیہہ نے اپنی کتاب ’’النہایۃ حاشیۃ الہدایۃ‘‘ میں مزید تفصیل درج کی ہے کہ حضرت سلمان فارسیؓ نے رسول اللہ ﷺکی اجازت سے یہ کام انجام دیا اور ان کے ترجمے کا ایک جز بھی نقل کیا ہے، ’’بنام خداوند بخشا یندہ مہربان‘‘ (۲۴)یہ بسم اللہ کا ترجمہ ہے۔

شاہانِ عالم کی طرف بھیجے جانے والے نبوی سفراء کامعجزانہ طور پر انھیں قوموں کی زبان میں گفتگو کرنے لگ جانا بھی دعوت وتبلیغ میں زبان کی یکسانیت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ (۲۵)

حضرت عمر فاروقؓ بھی دعوت وتبلیغ میں زبان وبیان کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ چنانچہ انھوں نے حضرت سلمان فارسیؓ کو محارباتِ عراق وایران کے دوران اسلامی لشکر کا داعی مقرر کیا تھا۔ چنانچہ حضرت سلیمان فارسیؓ نے ہمیشہ بڑی حکمت، دانائی اور دلسوزی کے ساتھ دعوتِ اسلام کا فریضہ انجام دیا اور انھوں نے مقبوضہ علاقوں میں فارسی نژاد ہونے کی وجہ سے نو مسلموں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ موالیوں اور نومسلموں میں انھیں اس قدر مقبولیت حاصل تھی کہ وہ لوگ انھیں اپنا ہیرو اور بطلِ جلیل تصور کرتے تھے۔


حوالہ جات

(۱) سورۃ یوسف ۱۲:۳۶۔۴۱

(۲) المسند، حدیث شدادؓ بن اوس، ح: ۱۶۶۶۹، ۵/۱۰۴

(۳) الاستیعاب، تذکرہ طلیبؓ بن عمیر، ۲/۷۷۲۔۷۷۳ 

(۴) ایضاً، تذکرہ ارویؓ بن عبدالمطلب، ۴/۱۷۷۸

(۵) اسدالغابہ، تذکرہ ام خیرؓ بنت صخر، ۵/۵۸۰۔الاصابہ، تذکرہ ام الخیرؓبنت صخر، ۴/۴۴۷

(۶) المسند، مسند عبداللہ بن عباسؓ، ح: ۲۴۱۵، ۱/۴۴۳

(۷) المسند، حدیث ابوموسیٰ الاشعریؓ، ح: ۱۹۱۳۹، ۵/۴۵۴

(۸) المسند، حدیث ابودرداءؓ ، ح: ۲۶۹۶۰، ۷/۵۹۸

(۹) صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب ثواب المومن فیما یصیب، ح: ۶۵۶۱، ص: ۱۱۲۷

(۱۰) صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینہ، ح: ۵۲، ص: ۱۲

(۱۱) سنن ابی داؤد، کتاب الخراج، باب فی العرافۃ، ح: ۲۹۳۴، ص: ۴۲۷

* غزوۂ حنین میں ملنے والے مال غنیمت کو رسول اللہﷺ نے روساء مکہ میں ان کی تالیف قلب کی خاطر تقسیم کردیا، چنانچہ مکہ کے کئی سردارروں نے اسی جذبہ سے متاثر ہوکر صدق دل سے اسلام قبول کرلیا، پھر حق کے خلاف ان کی گردنیں کبھی نہ اٹھ سکیں۔ صفوان بن امیہ جو اسلام کے اور خود رسول اللہ ﷺکے شدید ترین دشمن تھے، کہتے ہیں: 

واللّٰہ لقد اعطانی رسول اللّٰہﷺ ما اعطانی، وانہ لا بغض الیَّ فما برح یعطینی حتٰی انہ لاحبّ الناس الیّ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی سخا ۂﷺ، ح: ۶۰۲۲، ص: ۱۰۲۲)

’’قسم بخدا رسول اللہ ﷺنے مجھے اتنا دیا جس کی کوئی حد نہیں جبکہ مجھے ان سے سخت بغض تھا۔ آپ ﷺمجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپﷺ مجھے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہوگئے‘‘۔

ایک دفعہ ایک بدو نے آکر کہا: ان دوپہاڑوں کے درمیان بکریوں کے جتنے ریوڑ ہیں مجھ کو عنایت کردیں۔ آپ ﷺنے وہ سب اس کو عطا فرمادیے۔ یہ فیاضی اور احسان دیکھ کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے اپنے پورے قبیلے سے جاکر کہا :

یا قوم اسلموا فان محمدا ﷺیعطی عطاء لا یخشی الفاقۃ (ایضاً، ح: ۶۰۲۰، ص: ۱۰۲۱)

’’اے قوم! اسلام قبول کرلو، محمدﷺ اتنا دیتے ہیں کہ ان کو اپنے فقروافلاس کا ڈر ہی نہیں رہتا‘‘ 

(۱۲) جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی الاستیعاء بمن یطلب العلم، ح: ۲۶۵۰، ص: ۶۰۱۔ سنن ابن ماجہ، المقدمہ، باب الوصاۃ بطلبہ العلم، ح: ۲۴۹، ص: ۳۸

(۱۳) سنن ابن ماجہ، المقدمہ، باب الوصاۃ بطلبۃ العلم، ح: ۲۴۸، ص: ۳۸

(۱۴) کنزالعمال، ۵/۲۴۳

(۱۵) المسند، مسند عبداللہ بن عمروؓ، ح:۶۷۶۷، ۲/۳۹۶

(۱۶) صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب نسخ الماء من الماء وجوب الغسل......، ح: ۷۸۵، ص: ۱۵۳

(۱۷) صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلوۃ والخطبۃ، ح: ۲۰۰۹، ص: ۳۴۸۔۳۴۹۔ المسند ،حدیث عمار بن یاسر، ح:۱۷۸۵۳،۵/۳۲۶

(۱۸) الموطأ ، کتاب الحج، باب الصلوۃ فی البیت وقصر الصلوۃ وتعجیل الخطبہ بعرفۃ، ح: ۴۲۲، ص: ۲۶۶

(۱۹) تذکرۃالحفاظ،تذکرہ عبداللہؓبن مسعود، ۱/۱۵

(۲۰) خطیب بغدادی ، ’’کتاب الکفایۃ فی علم الروایۃ‘‘، ص:۱۸۳، دائرۃ المعارف العثمانےۃ ، حیدر آباد ، دکن، ۱۳۵۷ھ

(۲۱) المسند، حدیث زیدؓ بن ثابت، ح: ۲۱۱۰۸، ۶/۲۳۸، اسدالغابہ، تذکرہ زیدؓ بن ثابت

(۲۲) سنن ابی داؤد، کتاب الطلاق، باب من احق بالولد، ح: ۲۲۷۷، ص: ۳۳۰

(۲۳) سرخسی ، شمس الدین،’’المبسوط‘‘،کتاب الصلٰوۃ ،۱/۳۷، دارالمعرفۃ ،بیروت،۱۹۷۸ء۔ محمد بن حسن الشیبانی،’’کتاب الاصل‘‘ کتاب الصلوۃ،باب افتتاح الصلوٰۃ وما یصنع الامام، ۱/۱۶،دارالمعارف النعمانیۃ ،لاہور،۱۹۸۱ء

(۲۴) حمید اللہ،ڈاکٹر، ’’ صحیفہ ہمام بن منبہّ‘‘، ناشر رشیداللہ یعقوب، کلفٹن، کراچی، ص ۱۹۳، ۱۹۹۸ء ؁

(۲۵) ابن سعد،ذکر بعثۃ رسول اللہﷺالرسل بکتبہ الی الملوک.....۱/۲۵۸


حواشی

* غزوۂ حنین میں ملنے والے مال غنیمت کو رسول اللہﷺ نے روساء مکہ میں ان کی تالیف قلب کی خاطر تقسیم کردیا، چنانچہ مکہ کے کئی سردارروں نے اسی جذبہ سے متاثر ہوکر صدق دل سے اسلام قبول کرلیا، پھر حق کے خلاف ان کی گردنیں کبھی نہ اٹھ سکیں۔ صفوان بن امیہ جو اسلام کے اور خود رسول اللہ ﷺکے شدید ترین دشمن تھے، کہتے ہیں: 

واللّٰہ لقد اعطانی رسول اللّٰہﷺ ما اعطانی، وانہ لا بغض الیَّ فما برح یعطینی حتٰی انہ لاحبّ الناس الیّ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی سخا ۂﷺ، ح: ۶۰۲۲، ص: ۱۰۲۲)

’’قسم بخدا رسول اللہ ﷺنے مجھے اتنا دیا جس کی کوئی حد نہیں جبکہ مجھے ان سے سخت بغض تھا۔ آپ ﷺمجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپﷺ مجھے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہوگئے‘‘۔

ایک دفعہ ایک بدو نے آکر کہا: ان دوپہاڑوں کے درمیان بکریوں کے جتنے ریوڑ ہیں مجھ کو عنایت کردیں۔ آپ ﷺنے وہ سب اس کو عطا فرمادیے۔ یہ فیاضی اور احسان دیکھ کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے اپنے پورے قبیلے سے جاکر کہا :

یا قوم اسلموا فان محمدا ﷺیعطی عطاء لا یخشی الفاقۃ (ایضاً، ح: ۶۰۲۰، ص: ۱۰۲۱)

’’اے قوم! اسلام قبول کرلو، محمدﷺ اتنا دیتے ہیں کہ ان کو اپنے فقروافلاس کا ڈر ہی نہیں رہتا‘‘ 


(جاری)

سیرت و تاریخ