ارض فلسطین پر یہود کا حق ۔ صحف سماوی کی تصریحات اور عالم عرب کا حالیہ موقف

محمد عمار خان ناصر

تورات کے بیانات

تورات میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اہل وعیال سمیت اُور سے نکل کر کنعان کی طرف، جو فلسطین کا قدیم تاریخی نام ہے، ہجرت کرنے کاحکم دیا تو ان سے وعدہ کیا کہ وہ یہ سرزمین ان کی اولاد کو عطا کرے گا:

’’اور خداوند نے ابرام سے کہا کہ تو اپنے وطن اور اپنے ناتے داروں کے بیچ سے اور اپنے باپ کے گھر سے نکل کر اس ملک میں جا جو میں تجھے دکھاؤں گا ۔ اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا اور برکت دوں گا اور تیرا نام سرفراز کروں گا۔ ....... اور وہ ملک کنعان کو روانہ ہوئے اور ملک کنعان میں آئے۔ اور ابرام اس ملک میں سے گزرتا ہوا مقام سکم میں مورہ کے بلوط تک پہنچا۔ اس وقت ملک میں کنعانی رہتے تھے۔ تب خداوند نے ابرام کو دکھائی دے کر کہا کہ یہی ملک میں تیری نسل کو دوں گا ۔‘‘ (پیدائش ۱۲:۱۔۷)

تورات ہی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس موعودہ سرزمین کے حدود اربعہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتا دینے کے ساتھ ساتھ اس کے حصول کی الٰہی سکیم بھی ان پر واضح فرما دی تھی:

’’اور اس نے ابرام سے کہا، یقین جان کہ تیری نسل کے لوگ ایسے ملک میں جو ان کا نہیں، پردیسی ہوں گے اور وہاں کے لوگوں کی غلامی کریں گے اور وہ چار سو برس تک ان کو دکھ دیں گے لیکن میں ا س قوم کی عدالت کروں گا جس کی وہ غلامی کریں گے اور بعد میں وہ بڑی دولت لے کر وہاں سے نکل آئیں گے اور تو صحیح سلامت اپنے باپ دادا سے جا ملے گا اور نہایت پیری میں دفن ہوگا اور وہ چوتھی پشت میں یہاں لوٹ آئیں گے کیونکہ اموریوں کے گناہ اب تک پورے نہیں ہوئے۔ .... اسی روز خداوند نے ابرام سے عہد کیا اور فرمایا کہ یہ ملک دریاے مصر سے لے کر اس بڑے دریا یعنی دریاے فرات تک قینیوں اور قنیزیوں اور قدمونیوں اور حتیوں اور فرزیوں اور رفائیم اور اموریوں اور کنعانیوں اور جرجاسیوں اور یبوسیوں سمیت میں نے تیری اولاد کو دیا ہے۔‘‘ (پیدائش ۱۵: ۱۳۔۲۱)

اس وعدے کی یاد دہانی حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو بھی کرائی گئی۔ ۱ ؂مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام کی بادشاہت کے زمانے میں جب حضرت یعقوب علیہ السلام اپنی ساری اولاد کے ساتھ ہجرت کر کے وہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے وصیت کی کہ انہیں مصر کے بجائے سرزمین کنعان ہی میں دفن کیا جائے۔ ۲ ؂ وفات کے وقت انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اس الٰہی وعدے کی یاد ہانی کراتے ہوئے فرمایا:

’’میں تو مرتا ہوں لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا اور تم کو پھر تمہارے باپ دادا کے ملک میں لے جائے گا۔‘‘  (پیدائش ۴۸: ۲۱)

مصریوں کی غلامی میں کئی صدیاں گزارنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل میں مبعوث کیا تو انہیں بھی اس وعدے کی یاد دہانی کرائی۔ ۳ ؂ مصر سے خروج کے وقت حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو خدا کا یہ عہد یاد دلایا۔ ۴ ؂ بنی اسرائیل جب بیابان میں مقیم تھے تو خدا تعالیٰ نے انہیں شریعت عطا کی اور وہ منصوبہ بھی ان پر واضح فرمایا جس کے مطابق ارض موعودہ بنی اسرائیل کو عطا کی جانی تھی:

’’میں اپنی ہیبت کو تیرے آگے آگے بھیجوں گا اور میں ان سب لوگوں کو جن کے پاس تو جائے گا، شکست دوں گا اور میں ایسا کروں گا کہ تیرے سب دشمن تیرے آگے اپنی پشت پھیر دیں گے۔ میں تیرے آگے زنبوروں کو بھیجوں گا جو حوی اور کنعانی اور حتی کو تیرے سامنے سے بھگا دیں گے۔ میں ان کو ایک ہی سال میں تیرے آگے سے دور نہیں کروں گا تا نہ ہو کہ زمین ویران ہو جائے اور جنگلی درندے زیادہ ہو کر تجھے ستانے لگیں بلکہ میں تھوڑا تھوڑا کر کے ان کو تیرے سامنے سے دور کرتا رہوں گا جب تک تو شمار میں بڑھ کر ملک کا وارث نہ ہو جائے۔ میں بحر قلزم سے لے کر فلستیوں کے سمندر تک اور بیابان سے لے کر نہر فرات تک تیری حدیں باندھوں گا کیونکہ میں اس ملک کے باشندوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دوں گا اور تو ان کو اپنے آگے سے نکال دے گا۔‘‘ (خروج ۲۳: ۲۷۔۳۱)

احکام شریعت کی تشریح اور اجتماعی زندگی کے حدود وقیود کی وضاحت کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہو اکہ وہ ارض موعودہ پر قبضے کے لیے بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوں۔ ۵ ؂ موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی کو منتخب کیا اور انہیں ملک کنعان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا۔ چالیس دن کے بعد جب وہ لوٹے تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ :

’’جس ملک میں تو نے ہم کو بھیجا تھا، ہم وہاں گئے اور واقعی دودھ اور شہد اس میں بہتا ہے اور یہ وہاں کا پھل ہے لیکن جولوگ وہاں بسے ہوئے ہیں، وہ زور آور ہیں اور ان کے شہر بڑے بڑے اور فصیل دار ہیں اور ہم نے بنی عناق کو بھی وہاں دیکھا۔ اس ملک کے جنوبی حصہ میں تو عمالیقی آباد ہیں اور حتی اور یبوسی اور اموری پہاڑوں پر رہتے ہیں اور سمندر کے ساحل پر اور یردن کے کنارے کنارے کنعانی بسے ہوئے ہیں۔‘‘ (گنتی ۱۳: ۲۷۔۲۹)

بارہ کے گروہ میں سے کالب اور یشوع کے سوا باقی تمام افراد کنعان میں بسنے والی قوموں کی طاقت اور قوت سے سخت مرعوب تھے اور ان کی اس کیفیت کی وجہ سے بنی اسرائیل بھی من حیث المجموع ہمت ہار گئے اور ارض موعودہ پر حملہ کرنے سے انکار کر دیا:

’’تب کالب نے موسیٰ کے سامنے لوگوں کو چپ کرایا اور کہا کہ چلو ہم ایک دم جا کر اس پر قبضہ کر لیں کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کر لیں۔ لیکن جو اور آدمی اس کے ساتھ گئے تھے، وہ کہنے لگے کہ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں کیونکہ وہ ہم سے زیادہ زور آور ہیں۔ ان آدمیوں نے بنی اسرائیل کو اس ملک کی جسے وہ دیکھنے گئے تھے، بری خبر دی اور یہ کہا کہ وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اس میں سے گزرے، ایک ایسا ملک ہے جو اپنے باشندوں کو کھا جاتا ہے اور وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے، وہ سب بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے۔ تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس رات روتے ہی رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی، ہائے کاش ہم مصر ہی میں مر جاتے! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے! خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں۔ پھر وہ آپس میں کہنے لگے آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر کو لوٹ چلیں۔‘‘ (گنتی ۱۳:۲۷تا۳۳۔ ۱۴: ۱۔۴)

اس پست ہمتی اور بزدلی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ :

’’تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی اور تمہاری ساری تعداد میں سے یعنی بیس برس سے لے کر اس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے، ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بساؤں گا، جانے نہ پائے گا سوا یفنہ کے بیٹے کالب کے اور نون کے بیٹے یشوع کے۔ اور تمہارے بال بچے جن کی بابت تم نے یہ کہا کہ وہ تو لوٹ کا مال ٹھہریں گے، ان کو میں وہاں پہنچاؤں گا اور جس ملک کو تم نے حقیر جانا، وہ اس کی حقیقت پہچانیں گے۔ اور تمہارا حال یہ ہوگا کہ تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی۔‘‘ (گنتی ۱۴: ۲۹۔۳۲)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات تک بنی اسرائیل ارض موعود کے ارد گرد بسنے والی مختلف اقوام سے لڑتے اور ان کے علاقوں پر قابض ہوتے رہے۔ وفات سے قبل موسیٰ علیہ السلام نے ارض موعود سے متعلق خدائی احکام وہدایات تفصیل کے ساتھ بنی اسرائیل کو بتا دیے۔ ان میں سے اہم تر درج ذیل ہیں:

۱۔ موعودہ سرزمین کے حدود کی مفصل تعیین:

’’پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل کو حکم کر اور ان کو کہہ دے کہ جب تم ملک کنعان میں داخل ہو (یہ وہی ملک ہے جو تمہاری میراث ہوگا یعنی کنعان کا ملک مع اپنی حدود اربعہ کے) تو تمہاری جنوبی سمت دشت صین سے لے کر ملک ادوم کے کنارے کنارے ہو اور تمہاری جنوبی سرحد دریائے شور کے آخر سے شروع ہو کر مشرق کو جائے۔ وہاں سے تمہاری سرحد عقرابیم کی چڑھائی کے جنوب تک پہنچ کر مڑے اور صین سے ہوتی ہوئی قادس برنیع کے جنوب میں جا کر نکلے اور حصر ادار سے ہو کر عضمون تک پہنچے۔ پھر یہی سرحد عضمون سے ہو کر گھومتی ہوئی مصر کی نہر تک جائے اور سمندر کے ساحل پر ختم ہو۔ اور مغربی سمت میں بڑا سمندر اور اس کا ساحل ہو۔ سو یہی تمہاری مغربی سرحد ٹھہرے۔ اور شمالی سمت میں تم بڑے سمندر سے کوہ ہور تک اپنی حد رکھنا۔ پھر کوہ ہور سے حمات کے مدخل تک تم اس طرح اپنی حد مقرر کرنا کہ وہ صداد سے جا ملے۔ اور وہاں سے ہوتی ہوئی زفرون کو نکل جائے اور حصر عینان پر جا کر ختم ہو۔یہ تمہاری شمالی سرحد ہو۔ اور تم اپنی مشرقی سرحد حصر عینان سے لے کر سفام تک باندھنا اور یہ سرحد سفام سے ربکہ تک جو عین کے مشرق میں ہے، جائے اور وہاں سے نیچے کو اترتی ہوئی کنرت کی جھیل کے مشرقی کنارے تک پہنچے۔ اور پھر یردن کے کنارے کنارے نیچے کو جا کر دریائے شور پر ختم ہو۔ ان حدود کے اندر تمہارا ملک ہوگا۔‘‘ (گنتی ۳۴: ۱۔۱۲)

۲۔ وہاں بسنے والی اقوام کے مکمل اخراج کا حکم:

’’بنی اسرائیل سے یہ کہہ دے کہ جب تم یردن کو عبور کر کے ملک کنعان میں داخل ہو تو تم اس ملک کے سب باشندوں کو وہاں سے نکال دینا اور ان کے شبیہ دار پتھروں کو اور ان کے ڈھالے ہوئے بتوں کو توڑ ڈالنا اور ان کے سب اونچے مقاموں کو مسمار کر دینا اور تم اس ملک پر قبضہ کر کے اس میں بسنا کیونکہ میں نے وہ ملک تم کو دیا ہے کہ تم اس کے مالک بنو.....لیکن اگر تم اس ملک کے باشندوں کو اپنے آگے سے دور نہ کرو تو جن کو تم باقی رہنے دو گے، وہ تمہاری آنکھوں میں خار اور تمہارے پہلوؤں میں کانٹے ہوں گے اور اس ملک میں جہاں تم بسو گے، تم کو دق کریں گے۔ اور آخر کو یوں ہوگا کہ جیسا میں نے ان کے ساتھ کرنے کا ارادہ کیا، ویسا ہی تم سے کروں گا۔‘‘ (گنتی ۳۳: ۵۱۔۵۶)

۳۔ بارہ قبائل میں زمین کی تقسیم کا حکم:

’’اور تم قرعہ ڈال کر اس ملک کو اپنے گھرانوں میں میراث کے طور پر بانٹ لینا۔ جس خاندان میں زیادہ آدمی ہوں، اس کو زیادہ اور جس میں تھوڑے ہوں، اس کو تھوڑی میراث دینا اور جس آدمی کا قرعہ جس جگہ کے لیے نکلے، وہی اس کو حصہ میں ملے۔ تم اپنے آبائی قبائل کے مطابق اپنی اپنی میراث لینا۔‘‘ (گنتی ۳۴:۵۴)

۴۔ وعدے کی مشروط نوعیت کی وضاحت:

’’اور جب تجھ سے بیٹے اور پوتے پیدا ہوں اور تم کو اس ملک میں رہتے ہوئے ایک مدت ہو جائے اور تم بگڑ کر کسی چیز کی شبیہ کی کھودی ہوئی مورت بنا لو اور خداوند اپنے خدا کے حضور شرارت کر کے اسے غصہ دلاؤ تو میں آج کے دن تمہارے برخلاف آسمان اور زمین کو گواہ بناتا ہوں کہ تم اس ملک سے جس پر قبضہ کرنے کو یردن پار جانے پر ہو جلد بالکل فنا ہو جاؤ گے۔ تم وہاں بہت دن رہنے نہ پاؤ گے بلکہ بالکل نابود کر دیے جاؤ گے اور خداوند تم کو قوموں میں تتر بتر کرے گا اور جن قوموں کے درمیان خداوند تم کو پہنچائے گا، ان میں تم تھوڑے سے رہ جاؤ گے۔ اور وہاں تم آدمیوں کے ہاتھ کے بنے ہوئے لکڑی اور پتھر کے دیوتاؤں کی عبادت کرو گے جو نہ دیکھتے نہ سنتے نہ کھاتے نہ سونگھتے ہیں لیکن وہاں بھی اگر تم خداوند اپنے خدا کے طالب ہو تو وہ تجھ کو مل جائے گا بشرطیکہ تو اپنے پورے دل سے اور اپنی ساری جان سے اسے ڈھونڈے۔ جب تو مصیبت میں پڑے گا اور یہ سب باتیں تجھ پر گزریں گی تو آخری دنوں میں تو خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے گا اور اس کی مانے گا کیونکہ خداوند تیرا خدا رحیم خدا ہے۔ وہ تجھ کو نہ چھوڑے گا اور نہ ہلاک کرے گا اور نہ اس عہد کو بھولے گا جس کی قسم اس نے تیرے باپ داد سے کھائی۔‘‘ (استثنا ۴:۲۵۔۳۱)
’’اور جب یہ ساری باتیں یعنی برکت اور لعنت جن کو میں نے آج تیرے آگے رکھا ہے، تجھ پر آئیں اور تو ان قوموں کے بیچ جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو ہنکا کر پہنچا دیا ہو، ان کو یاد کرے اور تو اور تیری اولاد دونوں خداوند اپنے خدا کی طرف پھریں اور اس کی بات ان سب احکام کے مطابق جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں، اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے مانیں تو خداوند تیرا خدا تیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اور پھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو، جمع کرے گا۔ اگر تیرے آوارہ گرد دنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کر کے لے آئے گا اور خداوند تیرا خدا اسی ملک میں تجھ کو لائے گا جس پر تیرے باپ دادا نے قبضہ کیا تھا اور تو اس کو اپنے قبضہ میں لائے گا۔‘‘ (استثنا ۳۰:۱۔۵)

تورات کے ان بیانات سے واضح ہے کہ:

۱۔ فلسطین کی سرزمین اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بطور وراثت اور ملکیت عنایت کی تھی۔

۲۔ اس پر قبضے اور اس میں پہلے سے بسنے والی اقوام کے اخراج کے لیے ان کی جنگ حکم الٰہی کے ماتحت تھی۔

۳۔ بد اعمالیوں کے نتیجے میں اس سرزمین سے بنی اسرائیل کی جلا وطنی ان کے تعلق کی تنسیخ کے طور پر نہیں بلکہ تنبیہ وتوبیخ اور اصلاح احوال کا موقع فراہم کرنے کے لیے تھی۔

قرآن مجید کی تصریحات

جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے، تو وہ صراحتاً ان تمام بیانات کی تصدیق کرتا ہے، چنانچہ اس کی آیات سے حسب ذیل امور بالکل واضح ہیں:

* سرزمین فلسطین بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’وراثت‘ کے طور پر عطا کی گئی تھی اور اس میں ان کا آباد ہونا اللہ کے خاص فضل واحسان کا نتیجہ تھا:

وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْہَا وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا صَبَرُوْا (الاعراف، ۱۳۷) 
اور ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور سمجھے جاتے تھے، اس سرزمین کے مشرق ومغرب کا وارث بنا دیا جس میں  ہم نے برکت رکھی ہے۔ اور تیرے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر واستقامت کی وجہ سے پورا ہو گیا۔
وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّرَزَقْنَاہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ (یونس، ۹۳)
اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا۔

* اس سرزمین پر قبضے کے لیے بنی اسرائیل کی جنگیں ’قتال فی سبیل اللہ’ تھیں اور اس سے روگردانی ان کی بزدلی اور حکم عدولی کا مظہر تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دور میں بنی اسرائیل کو اس حوالے سے جہاد کی جو ترغیب دی، اس کا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ میں ہے :

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّآتَاکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِیْنَ O یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خَاسِرِیْنَ O (المائدہ ، ۲۰۔۲۱)
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم، اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں سے پیغمبر بنائے اور تمہیں بادشاہ بنا دیا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو تمام عالم میں کسی کو نہیں دیا۔ اے میری قوم، اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور پشت پھیر کر رو گردانی نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔

جب بنی اسرائیل نے دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے انکار کر دیا تو اس بزدلی کی پاداش میں اس سرزمین میں ان کا داخلہ چالیس سال کے لیے موخر کر دیا گیا:

قَالَ فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً یَّتِیْہُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفَاسِقِیْنَ O(المائدہ، ۲۶)
اللہ نے فرمایا کہ اب یہ سرزمین چالیس سال کے لیے ان پر حرام کر دی گئی ہے۔ یہ زمین میں سرگرداں ادھر ادھر پھرتے رہیں گے، اس لیے تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہ ہونا۔

یوشع بن نون علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل شہر کو فتح کر کے اس میں داخل تو ہو گئے لیکن اپنی ایمانی واخلاقی کمزوری کے باعث وہاں کی کافر قوموں کو پوری طرح نیست ونابود نہ کر سکے۔ ایک طویل عرصے کی پست ہمتی کے بعد سیدنا سموئیل علیہ السلام کے زمانے میں وہ ارض مقدسہ پر مکمل قبضہ کی غرض سے دوبارہ جہاد کے لیے آمادہ ہوئے اور طالوت اور حضرت داؤد کی قیادت میں انہوں نے فلستی قوم کے ساتھ جنگ کی۔ سورہ بقرہ میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہے:

اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَالَ ہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلاَّ تُقَاتِلُوْا قَالُوْا وَمَالَنَآ اَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَاَبْنَآءِ نَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظَّالِمِیْنَ O (البقرہ، ۲۴۶)
کیا آپ نے موسیٰ کے زمانے کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کا حال نہیں دیکھا جب انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو۔ انہوں نے کہا، بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے جبکہ ہم اپنے گھروں سے اجاڑے گئے اور بچوں سے دور کیے گئے ہیں؟ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے چند لوگوں کے باقی سب پھر گئے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ 
وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ O فَہَزَمُوْہُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوْتَ وَآتَاہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہُ مِمَّا یَشَآءُ وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعَالَمِیْنَ O (البقرہ، ۱۵۰، ۲۵۱)
اور جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے آمنا سامنا ہوا تو انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ، ہمیں صبر اور ثابت قدمی عنایت فرما اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے ان کو شکست دے دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے ان کو بادشاہت اور حکمت اور جتنا چاہا، علم بھی عطا کیا۔ اور اگر اللہ انسانوں (کے فتنہ وفساد) کو انسانوں ہی کے ذریعے سے دور نہ کرے تو زمین فساد سے بھر جائے لیکن اللہ دنیا والوں پر فضل کرنے والا ہے۔

* بنی اسرائیل پر اللہ کے احکام سے روگردانی کی صورت میں تعذیب اور جلا وطنی کا، جبکہ اصلاح احوال کی صورت میں اللہ کی رحمت کے دوبارہ متوجہ ہونے کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا:

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ یَّسُوْمُہُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّہُ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ O وَقَطَّعْنَاہُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا مِنْہُمُ الصَّالِحُوْنَ وَمِنْہُمْ دُوْنَ ذَالِکَ وَبَلَوْنَاہُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّیِّءَاتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ O (الاعراف، ۱۶۷۔۱۶۸)
اور جب تمہارے رب نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ بنی اسرائیل پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب چکھائیں گے۔ بلاشک تیرا جلدی سزا دینے والا ہے اور بے شبہ وہ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا بھی ہے۔ اور ہم نے ان کو دنیا میں تتر تتر کر دیا۔ ان میں کچھ نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو خوش حالی اور بد حالی سے آزماتے رہے تاکہ وہ باز آ جائیں۔ 

سورہ بنی اسرائیل میں فلسطین سے بنی اسرائیل کی دو مشہور جلا وطنیوں کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ہے:

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَہَنَّمَ لِلْکَافِرِیْنَ حَصِیْرًاO (بنی اسرائیل:۴ تا ۸)
توقع ہے کہ تمہارا رب تم پر پھر رحم کرے گا۔ لیکن اگر تم نے دوبارہ یہی رویہ اپنایا تو ہم بھی یہی کچھ کریں گے۔ اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا رکھا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ دوبارہ یاد دلاتے ہوئے فرمایا:

یٰبَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ وَاِیَّایَ فَارْہَبُوْنِO (البقرہ، ۴۰)
اے بنی اسرائیل، میرے ان احسانات کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیے اور میرے ساتھ کیا ہوا عہد پورا کرو، میں تمہارے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کروں گا اور بس مجھ ہی سے ڈرو۔ 

اس ضمن میں قرآن مجید نے یہ بات البتہ واضح فرما دی ہے کہ بنی اسرائیل کو اب قیامت تک پہلے کی طرح آزادی، استقلال اور خود مختاری حاصل نہیں ہوگی بلکہ وہ ہمیشہ سیدنا مسیح علیہ السلام پر ایمان رکھنے والوں کے تابع رہیں گے اور دنیا میں ان کو جب بھی اور جس قدر بھی راحت واطمینان نصیب ہوگا، متبعین مسیح ہی کے زیر سایہ نصیب ہوگا:

اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ (آل عمران، ۵۵)
جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے عیسیٰ، میں تجھے وفات دوں گا، اور تجھے اپنی جانب اٹھا لوں گا، اور تجھے ان کافروں کے شر سے نجات دوں گا اور تیرے تابع داروں کو قیامت تک تیرا انکار کرنے والوں پر غالب رکھوں گا۔
ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (آل عمران، ۱۱۲)
ان پر ہر جگہ ذلت کی مار پڑی، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں۔

امت مسلمہ کا حالیہ موقف

صحف آسمانی کی مذکورہ بالا تصریحات کی روشنی میں سرزمین فلسطین کے ساتھ یہود کے مذہبی وتاریخی تعلق اور اس بنیاد پر اس کے ساتھ ان کی قلبی وابستگی کی نوعیت بالکل واضح ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ صہیونی تحریک کے دعووں کے جواب میں امت مسلمہ اب قریب قریب اجتماعی طور پر اس بنیادی حقیقت سے ہی انکار کا راستہ اختیار کر چکی ہے کہ یہود اس سرزمین پر کبھی جائز طور پر قابض ہوئے تھے اور اس کے ساتھ ان کی وابستگی اور اس میں دوبارہ آباد ہونے کی خواہش کو مذہبی یا تاریخی لحاظ سے کوئی جائز بنیاد حاصل ہے۔ یہودی ریاست کے قیام کے لیے صہیونی کوششوں کے جواب میں امت مسلمہ کا استدلال اگر معروضی حالات کی ناموافقت تک محدود رہتا اور یہ کہا جاتا کہ زمینی حقائق کی روشنی میں اس قسم کی کسی ریاست کا قیام موجودہ عرب آبادی کی حق تلفی اور خطے میں سیاسی خلفشار اور کشمکش پیدا کیے بغیر ممکن نہیں تو اس موقف میں مذہبی یا اخلاقی لحاظ سے کوئی قباحت نہیں تھی، لیکن استدلال یہاں تک محدود نہیں رہا بلکہ مسئلے کا حل یہ ڈھونڈا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ ارض مقدس کی وراثت کے خدائی وعدے کو ہی سرے سے لپیٹ دیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ فلسطین تو اصل میں صدیوں سے عربوں کا ملک ہے، یہودی تو درمیان میں محض ایک محدود عرصے کے لیے غاصبانہ طور پر اس پر قابض ہوئے تھے لیکن عربوں نے مزاحمت کر کے ان کو یہاں سے نکال باہر کیا، لہٰذا اس سرزمین پر کسی قسم کے تاریخی یا مذہبی حق کا یہودی دعویٰ ہی سرے سے بے بنیاد اور باطل ہے۔ عرب ممالک سرکاری سطح پر اس وقت یہی موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل الدکتور عبد اللہ بن صالح العبید نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے:

’’تاریخی دستاویزات کی رو سے القدس ایک خالص عربی شہر ہے جس کو تاریخ کے آغاز ہی سے نہایت اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس کو کنعانیوں اور یبوسیوں نے آباد کیا تھا جو کہ عرب تھے۔ ...... قدیم تاریخ میں اگر القدس کو دوسری اقوام کے حملوں کا سامنا رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی ملکیت کا حق حملہ آوروں کو منتقل ہو گیا۔ یہ شہر قبل از اسلام تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف قوموں کی حرص وطمع کا نشانہ بنا رہا۔ اسرائیلی اس میں بارہویں صدی قبل مسیح میں داخل ہوئے۔ پھر ۵۸۶ ق م میں ایرانی اس پر حملہ آور ہوئے۔ ۳۳۲ میں اسکندر مقدونی نے اس پر قبضہ کر لیا جبکہ ۷۰ء میں یہ رومی عیسائیوں کے زیر تسلط آ گیا۔ لیکن اس کے عرب باسی ہر مرتبہ حملہ آوروں کو نکال باہر کرتے رہے تاکہ یہ شہر ایک خالص عربی شہر ہی رہے۔ ...... اس زمانے میں یہودیوں کا یہ دعویٰ کہ القدس ایک عبرانی شہر ہے، ان تاریخی دستاویزات کو نظر انداز کرنے پر مبنی ہے جو ثابت کرتی ہیں کہ القدس کا ایک شہر کے طور پر ظہور برونزی عہد کے آغاز میں ہوا جب کنعانیوں نے اس کی تعمیر کی۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آثار قدیمہ کے انکشافات اور تاریخی مآخذ کے مطابق فلسطین میں عربوں کی تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں عربوں کا وجود اسرائیلیوں کے حملے سے ۲۶۰۰ سال مقدم ہے۔ اس سے وہ تمام یہودی دعوے خاک میں مل جاتے ہیں جن کے مطابق القدس اور فلسطین یہود کی ملکیت ہیں حالانکہ قدیم تاریخ میں القدس پر یہودیوں کی حکومت مسلسل ۷۰ سال سے زیادہ کبھی نہیں رہی۔‘‘ (ہفت روزہ ’’العالم الاسلامی‘‘، ملف خاص، ۱۵ تا ۲۱ فروری ۱۹۹۹ء، ص ۳)

اس موقف کو بعض جید علماء دین اور مفتیان شرع متین نے بھی پذیرائی بخشی ہے۔ دنیائے عرب کے نامور عالم الشیخ یوسف القرضاوی فرماتے ہیں:

’’اگر ان تمام سالوں کو جمع کیا جائے جو یہودیوں نے حملے کرتے اور تباہی پھیلاتے ہوئے فلسطین میں گزارے تو اتنی مدت بھی نہیں بنے گی جتنی انگریز نے ہندوستان میں یا ہالینڈیوں نے انڈونیشیا میں گزاری۔ اگر اتنی مدت گزارنے پر کسی کو کسی سرزمین پرتاریخی حق حاصل ہو جاتا ہے تو انگریزوں اور ہالینڈیوں کو بھی اس قسم کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ اور اگر غربت کی حالت میں ایک طویل عرصہ کسی علاقے میں گزارنے سے اس زمین پر ملکیت کا حق ثابت ہوتا ہے تو پھر یہودیوں کو چاہیے کہ وہ فلسطین کے بجائے، جس میں ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد نے تقریباً ۲۰۰ سال گزارے اور جہاں وہ دو افراد آئے تھے لیکن ۷۰ افراد نکل کر گئے، مصر کی ملکیت کا مطالبہ کریں جس میں انہوں نے ۴۳۰ سال گزارے۔ ....... یہودیوں کا فلسطین پر تاریخی حق کا دعویٰ بالکل بکواس ہے۔ صحیفوں کی تصریح کے مطابق وہ یہاں محض اجنبیوں کی طرح رہے۔ تو کیا کسی پردیسی یا راہ گیر کو یہ حق ہے کہ وہ اس زمین پر جس نے اس کو ذرا پناہ دے دی یا اس درخت پر جس نے اس کو تھوڑی دیر سایہ فراہم کر دیا، اس وجہ سے ملکیت کا حق جتا دے کہ اس نے گھڑی کی گھڑی وہاں سستا لیا ہے؟ ‘‘ (ہفت روزہ الدعوۃ، الریاض، ۱۱ اپریل ۲۰۰۲ء، ص ۳۶)
’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے فیصلے عادلانہ ہوتے ہیں اور جس نے ظلم کو اپنے اوپر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، کوئی سرزمین جس پر اس کے مالک جائز طریقے سے مسلسل قابض چلے آ رہے ہوں، ایک ایسے پردیسی گروہ کو عنایت کر دے جو وہاں باہر سے گھس آیا ہو؟ اللہ کا عدل وانصاف کہاں گیا؟ وہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (ص ۳۹)

عالم اسلام کے اکابر واصاغر اہل علم کے بیانات اور تحریروں میں جابجا اسی کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اقبالؒ نے اسی استدلال کی ترجمانی اپنے مشہور شعر میں یوں کی ہے:

ہے خاک فلسطیں پہ پہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر کیوں نہیں حق اہل عرب کا

ان میں مولانا مودودیؒ کا معاملہ عجیب تر ہے۔ ارض موعودہ سے متعلق قرآن مجید کے نصوص کی تفسیرکرتے ہوئے تو، ظاہر ہے، وہ اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکے، چنانچہ مثلاً سورۂ مائدہ کی آیت ۲۱ کے الفاظ ’الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا مسکن رہ چکی تھی۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اسی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نامزد فرمایا اور حکم دیا کہ جا کر اسے فتح کر لو۔‘‘ (تفہیم القرآن ۱/۴۵۹)

سورہ بقرہ کی آیت ۲۴۳ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہ لوگ بہت بڑی تعداد میں مصر سے نکلے تھے۔ دشت وبیاباں میں بے خانماں پھر رہے تھے۔ خود ایک ٹھکانے کے لیے بے تاب تھے۔ مگر جب اللہ کے ایما سے حضرت موسیٰ نے ان کو حکم دیا کہ ظالم کنعانیوں کو ارض فلسطین سے نکال دو اور اس علاقے کو فتح کر لو تو انہوں نے بزدلی دکھائی اور آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔‘‘ (۱/۱۸۴)

سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۵ کے تحت فرماتے ہیں:

’’حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔ حتی، اموری، کنعانی، فرزی، حوی، یبوسی، فلستی وغیرہ۔ ان قوموں میں بدترین قسم کا شرک پایا جاتا تھا۔ ....... توراۃ میں حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو جو ہدایات دی گئی تھیں، ان میں صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ تم ان قوموں کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے فلسطین کی سرزمین چھین لینا اور ان کے ساتھ رہنے بسنے اور ان کی اخلاقی واعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہونے سے پرہیز کرنا۔‘‘ (۲/۵۹۶)

لیکن صہیونی تحریک کے دعووں اور عزائم کی تردید کرتے وقت یہ نصوص ان کی نگاہ سے بالکل اوجھل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

’’بیت المقدس اور فلسطین کے متعلق آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تقریباً تیرہ سو برس قبل مسیح میں بنی اسرائیل اس علاقے میں داخل ہوئے تھے اور دو صدیوں کی مسلسل کشمکش کے بعد بالآخر اس پر قابض ہو گئے تھے۔ وہ اس سرزمین کے اصل باشندے نہیں تھے۔ قدیم باشدے دوسرے لوگ تھے جن کے قبائل اور اقوام کے نام خود بائبل میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں اور بائبل ہی کی تصریحات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے ان قوموں کا قتل عام کر کے اس سرزمین پر اسی طرح قبضہ کیا تھا جس طرح فرنگیوں نے سرخ ہندیوں (Red Indians) کو فنا کر کے امریکہ پر قبضہ کیا۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ خدا نے یہ ملک ان کی میراث میں دے دیا ہے اس لیے انہیں حق پہنچتا ہے کہ اس کے اصل باشندوں کو بے دخل کر کے بلکہ ان کی نسل کو مٹا کر اس پر قابض ہو جائیں۔ ......
اس تاریخ سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ:
۱۔ یہودی ابتداء اً نسل کشی (Genocide) کے مرتکب ہو کر فلسطین پرزبردستی قابض ہوئے تھے۔
۲۔ شمالی فلسطین میں صرف چار پانچ سو برس تک وہ آباد رہے۔
۳۔ جنوبی فلسطین میں ان کے قیام کی مدت زیادہ سے زیادہ آٹھ نو سو برس رہی۔ اور 
۴۔ عرب شمالی فلسطین میں ڈھائی ہزار سال سے اور جنوبی فلسطین میں تقریباً دو ہزار سال سے آباد چلے آ رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود یہودیوں کا آج بھی یہ دعویٰ ہے کہ فلسطین ان کے باپ دادا کی میراث ہے جو خدا نے انہیں عطا فرمائی ہے اور انہیں حق پہنچتا ہے کہ اس میراث کو بزور حاصل کر کے اس علاقے کے قدیم باشندوں کو اسی طرح نکال باہر کریں اور خود ان کی جگہ بس جائیں جس طرح تیرہ سو برس قبل مسیح میں انہوں نے کیا تھا۔‘‘  (سانحہ مسجد اقصیٰ، ص ۳۔۵)

اب ذرا ملاحظہ کیجیے کہ صحف آسمانی کی تصریحات اور امت مسلمہ کے موقف کے مابین ’تفاوت رہ’ کس قدر ہے:

۱۔ صحف آسمانی ارض فلسطین کو خدا کی طرف سے یہود کو عطا کردہ میراث قرار دیتے ہیں جبکہ ہمارے اہل علم ان کو اس سرزمین میں پردیسی اور اجنبی کہتے اور اس میں ان کے قیام کو صدیوں اور سالوں کے پیمانوں سے ناپ کر اس حق کو خرافات قرار دیتے ہیں۔

۲۔ صحف آسمانی اس سرزمین پر قبضے کے لیے بنی اسرائیل کی جنگ کو ’قتال فی سبیل اللہ’ قرار دیتے ہیں جو بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ، سیدنا یوشع اور سیدنا داؤد علیہم السلام جیسے جلیل القدر انبیا کی زیر قیادت کیا، جبکہ ہمارے اہل علم نے اس ساری جدوجہد کے لیے ’نسل کشی‘ کا عنوان تجویز کیا ہے۔

۳۔ صحف آسمانی فلسطین کے سابق باسیوں یعنی کنعانیوں، فلستیوں اور دیگر اقوام کے وہاں سے اخراج کو ان کے جرائم کی پاداش اور فساد فی الارض کی سزا بتاتے ہیں لیکن ہمارے اہل علم کے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ خدا ایک سرزمین میں جائز طور پر بسنے والی قوم کو نکال کر ایک اجنبی قوم کو وہاں آباد ہونے کا حق کیسے دے سکتا ہے۔

۴۔ صحف آسمانی کے مطابق یہود کی اس سرزمین سے جلا وطنی ان کی بد اعمالی کے نتیجے میں ہے اور اصلاح احوال کی صورت میں ان کی وہاں واپسی کا راستہ کھلا ہوا ہے لیکن ہمارے اہل علم کے نزدیک ان کی واپسی کی کسی حال میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 

آج ہمارے مابین اس بات کا تذکرہ تو عام ہے کہ یہود ایک مغضوب علیہ قوم ہیں اور ان کی ذلت ورسوائی ان پر خدا کی طرف سے مسلط کردہ ہے، لیکن ہم اس پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ان پر اللہ کا غضب اسی طرح کے کتمان حق، مذہبی ونسلی تعصب اور تکذیب آیات اللہ کے نتیجے میں نازل ہوا تھا جس کا مظاہرہ آج بعض معاملات، خاص طور سے یہود سے متعلق معاملات میں امت مسلمہ کر رہی ہے۔ جہاں تک اللہ کی رحمت اور اس کی ناراضی کے قانون کا تعلق ہے، قرآن مجید کی رو سے وہ امت مسلمہ کے لیے بھی وہی ہے جو بنی اسرائیل کے لیے تھا: ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس طرح کا غیر اخلاقی رویہ اختیار کرنے پر بنی اسرائیل پر تو اللہ تعالیٰ کی طرف ذلت ومسکنت مسلط کی جائے لیکن امت مسلمہ کو بدستور عروج اور سرفرازی کے منصب پر فائز رکھا جائے؟ 


حوالہ جات 

۱؂ پیدائش ۲۶: ۲۔۳ و ۲۸: ۱۳۔ 

۲؂ پیدائش ۴۷: ۲۹۔۳۰

۳؂ خروج ۳:۸۔ ۵: ۴

۴؂ خروج ۱۳: ۵

۵؂ خروج ۳۳: ۱


حالات و واقعات