کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

ادارہ

(۱)

علمائے دین کے حضور میں

(جاوید چودھری)

زاہد صاحب میرے دوست ہیں۔ انہوں نے میرے کالم ’’تالاب میں کودنے سے پہلے‘‘ کے جواب میں مجھے پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے ایک لیکچر کی کاپی بھجوائی۔ پروفیسر صاحب اپریل ۱۹۹۲ء میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر دس روز کے لیے پاکستان تشریف لائے تھے۔ لاہور میں پائنا نے ان کے ایک خطاب کا اہتمام کیا۔ اس محفل میں عام شہریوں کے علاوہ ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک، ڈاکٹر صفدر محمود، مولانا صلاح الدین، چیف جسٹس انوار الحق، جسٹس محبوب احمد، ایس ایم ظفر، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر رضاء الحق، پروفیسر جمیلہ شوکت، نذیر نیازی، اسماعیل قریشی، ڈاکٹر امین اللہ دثیر، ممتاز احمد خان، ڈاکٹر اقتدا حسن اور عبد الکریم عابد صاحب جیسے ممتاز عالم، دانش ور اور صحافی بھی موجود تھے۔ خطاب کے آخر میں جب سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک صاحب نے سورہ مائدہ کی آیت: یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی اَوْلِیَآءَ پڑھی اور پوچھا: ’’ارشاد خداوندی ہے، یہودیوں کو دوست اور ولی نہ بناؤ۔ اس حکم کے حوالے سے یہ بھی ارشاد فرمائیں، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے؟‘‘ پروفیسر صاحب نے اس سوال کے جواب میں فرمایا: (میں ان کے الفاظ یہاں لفظ بہ لفظ لکھ رہا ہوں) ’’قرآن مجید میں ولی کا لفظ ہے، دوست کا نہیں، ..... جس کا مطلب میرے خیال میں یہ ہے کہ انہیں حاکم کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ اب رہی تعلقات قائم کرنے اور تسلیم کرنے کی بات تو یہ کسی قدر پیچیدہ مسئلہ ہے، اس معنی میں کہ اس معاملے کے کئی پہلو پیش نظر رکھنے ہوں گے اور فیصلہ فلسطینی مسلمانوں کی رائے پر ہونا چاہیے کیونکہ بنیادی طور پر یہ مسئلہ اہل فلسطین کا ہے۔ اگر وہ کسی مصلحت کی بنا پر یا کسی دوسرے فائدے کے پیش نظر یا قومی دشمن کی دشمنی کم کرنے کی کوشش کے طور پر اپنے موقف میں کچھ لچک پیدا کریں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ میرا مشورہ اس بارے میں صرف اتنا ہے کہ جو بات ممکن اور قابل حصول ہو، وہ کریں۔ انہونی باتوں کا مطالبہ نہ کریں۔‘‘

پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کا یہ خطاب ان کی رحلت کے بعد ایک معروف اردو ماہنامے کے فروری ۲۰۰۳ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ یہ خطاب ادریس صدیقی کے قلم سے قارئین تک پہنچا۔ ’ولی‘ کی تشریح پر مبنی اقتباس اس کے صفحہ ۲۹ پر درج ہے۔ پروفیسر حمید اللہ صاحب اسلام کے جید عالم، مفکر اور دانش ور تھے۔ انہیں اردو اور انگریزی کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی، فرانسیسی، جرمنی، ہندی اور اطالوی زبانوں پر بھی عبور تھا۔ انہوں نے قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا، حیات رسول پر ترکی اور فرانسیسی میں کتب لکھیں۔ انہوں نے ایک سو بیس زبانوں میں قرآنی تراجم کی ایک ببلیو گرافی بھی مرتب کی۔ یہ انہی کی تحقیق ہے کہ آج دنیا کو معلوم ہے کہ اردو میں قرآن مجید کے تین سو، انگریزی میں ڈیڑھ سو اور فرانسیسی میں ستر ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے اردو میں ۱۲ اور انگریزی میں ۶ شاندار کتب تحریر کیں۔ ۱۹۴ ممالک میں آباد ایک ارب ۴۵ کروڑ مسلمانوں میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو ان کے نام اور کام سے واقف نہ ہو۔ انہیں ۶۱ اسلامی ممالک میں وہ توقیر، وہ عزت حاصل ہے جو ایک جید عالم کو حاصل ہونی چاہیے۔ لہٰذا جب پروفیسر صاحب اپنے خطاب میں ’ولی‘ کو دوست کے بجائے حکمران قرار دیتے ہیں تو پھر سارا ’’سیناریو‘‘ ہی بدل جاتا ہے۔ مجھے اپنی کوتاہ علمی اور کم فہمی کا ادراک ہے۔ میں تو شاید قرآن مجید کے مفاہیم تک کبھی نہ پہنچ پاؤں، لہٰذا میں یہ آیت اور اس آیت میں درج ’’اولیاء‘‘ کے لفظ کو علماے کرام کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں اور ان سے درخواست کرتا ہوں۔ معاملہ بہت ہی حساس اور علمی نوعیت کا ہے کیونکہ صرف ایک لفظ کی تشریح پر نہ صرف آئندہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی جائے گی بلکہ عالم اسلام کے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ تعلقات بھی طے ہوں گے۔ چنانچہ علماے دین آگے بڑھیں اور قوم کی مشکل آسان فرمائیں۔ ہم سب آپ کی رہنمائی چاہتے ہیں لیکن اتنا یاد رہے پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب اس پر کیا فرما چکے ہیں۔

معزز قارئین، میں نے کبھی یہ کالم عام بحث اور خطوط کے لیے عام نہیں کیا۔ میری کس تحریر، کس جسارت پر کیا کیا رد عمل ہوا، میں نے کبھی اس کا اظہار تک نہیں کیا۔ میں سمجھتا ہوں، انسان کو پوری ایمان داری سے اپنا فرض ادا کر دینا چاہیے اور اس کے بعد اس کا کیا رد عمل ہوتا ہے، اسے اس سے لاتعلق ہو جانا چاہیے لیکن میں پہلی بار اس کالم میں علماے کرام کو سورۂ مائدہ کی یہود ونصاریٰ والی آیت پر اظہار خیال کی دعوت دیتا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ ہمارے وہ علماے کرام جو ایسے قومی معاملات پر ہمیشہ چپ سادھ لیتے ہیں، وہ اس بار ضرور کوئی نہ کوئی واضح اور دوٹوک موقف اختیار کریں گے۔ آخر علماے دین پر بھی اس ملک کو اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا فوج، بیوروکریسی، سیاست دانوں اور عوام پر حاصل ہے۔ اگر ہم سب اس ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں تو اس ملک کی فکری اور مذہبی سرحدوں کی حفاظت علماے کرام کا فرض ہے تو اے علماے دین، فرض نبھانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

(روزنامہ جنگ، لاہور۔ ۱۲ جولائی ۲۰۰۳ء)

(۲)

باسمہ سبحانہ

محترمی جاوید چودھری صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مزاج گرامی؟

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ صاحب کے ارشاد کے حوالہ سے آپ کا کالم نظر سے گزرا۔ میری طالب علمانہ رائے میں ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ کا ارشاد بالکل بجا ہے کہ قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ ’’ولایت‘‘ کے درجہ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، وہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ معمول کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی ممالک کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں ملت اسلامیہ نے کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا اور خلافت راشدہ سے لے کر اب تک مسیحی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اور معاملات برابر چلے آ رہے ہیں، البتہ یہودیوں کی ہزاروں سال بعد تشکیل پانے والی ریاست ’’اسرائیل‘‘ کے ساتھ تعلقات کا مسئلہ قدرے مختلف نوعیت کا ہے اور اس کی وجہ یہ آیت کریمہ نہیں بلکہ اگر اس آیت کریمہ کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی ممانعت میں پیش کیا جائے تو میرے خیال میں یہ خلط مبحث ہوگا اور مسئلہ کو زیادہ الجھا دینے کی صورت ہوگی۔ 

اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات سے اختلاف کی وجوہ مختلف ہیں۔ مثلاً سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری وہاں کی صدیوں سے چلی آنے والی آبادی یعنی فلسطینیوں کی رضامندی کے ساتھ نہیں ہوئی بلکہ پہلے برطانیہ نے اس خطہ پر ۱۹۱۷ء میں باقاعدہ قبضہ کر کے فوجی طاقت کے بل پر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کیا ہے اور اب امریکہ پوری فوجی قوت استعمال کر کے فلسطینیوں کو یہودیوں کی اس جبری آباد کاری کو تسلیم کرنے پر مجبور کر رہا ہے جس پر فلسطینی راضی نہیں ہیں اور یہ دھونس اور جبر کا راستہ ہے جسے دنیا کی کوئی مہذب اور متمدن قوم قبول نہیں کر سکتی۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح ہم کشمیر کے بارے میں اصولی موقف رکھتے ہیں کہ بھارتی فوج وہاں سے چلی جائے اور کشمیریوں کو کسی دباؤ کے بغیر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے، اسی طرح فلسطین بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے بارے میں ہمارا اصولی موقف یہ ہونا چاہیے کہ امریکہ اپنی فوجیں اس خطہ سے نکالے اور نہ صرف فلسطین بلکہ خلیج کے دیگر ممالک کو بھی فوجی دباؤ سے آزاد کر کے وہاں کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا آزادانہ موقع فراہم کرے۔ انصاف اور مسلمہ اصولوں کا تقاضا تو بہرحال یہی ہے اور اگر بالادست قوتیں طاقت کے نشے میں اس اصول پر نہیں آتیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے موقف سے دست بردار ہو جائیں اور بے اصولی اور دھونس کو اصول وقانون کے طور پر تسلیم کر لیں۔

پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے میں ایک عملی رکاوٹ بھی ہے جسے دور کیے بغیر اسے تسلیم کرنا قطعی طور پر نا انصافی کی بات ہوگی۔ وہ یہ کہ اسرائیل کی سرحدی حدود اربعہ کیا ہے؟ یہ بات ابھی تک طے نہیں ہو سکی۔ بہت سے عرب ممالک اور فلسطینی عوام کی اکثریت سرے سے فلسطین کی تقسیم کو قبول نہیں کررہی۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو سرحدات اپنی قراردادوں میں طے کر رکھی ہیں، انہیں اسرائیل تسلیم نہیں کر رہا۔ اسرائیل کی اقوام متحدہ کی طرف سے طے کردہ سرحدات اور ہیں، اس وقت اس کے زیر قبضہ علاقے کی حدود اربعہ اور ہیں، کسی اصول اور قانون کی پروا کیے بغیر پورے فلسطین میں دندناتے پھرنے سے اس کی سرحدوں کا نقشہ بالکل دوسرا دکھائی دیتا ہے اور اسرائیلی حکمرانوں کے عزائم پر مشتمل ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کا جو نقشہ ریکارڈ پر موجود ہے، وہ ان سب سے مختلف ہے۔ اس کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم شیرون کا یہ اعلان کئی بار سامنے آ چکا ہے کہ وہ فلسطین کی مجوزہ ریاست کو صرف اس شرط پر تسلیم کریں گے کہ اس کی سرحدات کا تعین نہیں ہوگا اور اس کی الگ فوج نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ اسرائیل پورے فلسطین پر حکمرانی کے حق کا اعلان کر رہا ہے اور فلسطینیوں کو سرحدات کے تعین کے ساتھ کوئی چھوٹی سی برائے نام ریاست دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔

اس کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل آپ کو ’’بیت المقدس‘‘ کے بارے میں بھی اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو اسرائیل کو بیت المقدس سے دست برداری پر آمادہ کر لیں اور یا خود ’’یو ٹرن‘‘ لے کر ’’بیت المقدس‘‘ سے دست برداری کا فیصلہ کر لیں۔ 

یہ تینوں رکاوٹیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے، پریکٹیکل ہیں، عملی ہیں اور معروضی ہیں۔ ان کا کوئی باوقار اور قابل عمل حل نکال لیں اور بے شک اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر اسی طرح تسلیم کر لیں جس طرح ہم بہت سے مسیحی ممالک کو تسلیم کرتے آ رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس حوالے سے بات عملی مسائل پر ہونی چاہیے اور معروضی حقائق پر ہونی چاہیے۔ نظری اور علمی مباحث میں الجھا کر اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ نہیں بنانا چاہیے۔

شکریہ! والسلام

ابو عمار زاہد الراشدی

عالم اسلام اور مغرب