مسلم امہ کو درپیش فکری مسائل

ڈاکٹر محمد امین

مسلم امہ کو درپیش فکری مسائل کے حوالے سے ’’الشریعہ‘‘ نے کئی اصحاب علم کے رشحات فکر شائع کیے۔ ان میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے تو فکری مسائل کی ایک فہرست تیار کر دی ہے اور ان جہات کی نشاندہی کی ہے جن میں مزید کام کی ضرورت ہے اور دیگر افراد نے کسی ایک آدھ فکری پہلو پر تجزیاتی گفتگو کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صدیقی صاحب کا جامع مقالہ ان کی فطانت‘ وسعت نظر اور اسلامی امور پر گہری دسترس کا غماز ہے۔ تاہم ان کے مقالے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ در اصل ان مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں جن پر ان کے نزدیک جدید اسلامی تحریکوں کے فضلا کو کام کرنا چاہیے۔ (اور مقالہ اردو میں ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے پیش نظر بر صغیر پاک و ہند کی اسلامی تحریک کے اہل علم ہوں) تناظر کی اس تنگی کی وجہ سے انہوں نے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے امور کو دیکھا ہے اور بعض چیزیں جو اسلام اور عصری تناظر دونوں لحاظ سے اہم ہیں‘ ان کی توجہ سے محروم رہی ہیں۔ ہم زیادہ تر انہی کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ اس لحاظ سے ہمارے اٹھائے ہوئے نکات تکمیلی نوعیت کے ہیں اور موضوع پر جامعیت سے لکھنا ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔

تعلیم و تزکیہ 

ان میں اہم ترین تعلیم و تزکیہ ہیں۔ انسانوں کو بدلنے کے لیے اس سے بہتر ہتھیار آج تک ایجاد نہیں ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اپنے آخری پیغمبر کو لوگوں کو بدلنے کا جو فارمولا دیا، وہ انہی دو نکات پر مشتمل تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ پہلے پیغمبروں کا طریق کار بھی یہی تھا۔ گویا انسانی معاشرے میں پائیدار صالح تبدیلی لانے کے لیے یہ ایک مستقل فارمولا ہے لیکن کئی فکری اسباب کی بنا پر جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں‘ کئی اہل علم خصوصاً جدید اسلامی تحریکوں نے ان دو نکات کو کما حقہ اہمیت نہیں دی حالانکہ امام مالکؒ نے بہت پہلے متنبہ کر دیا تھا کہ جن اصولوں پر چل کر اس امت کی ابتدا میں اصلاح ہوئی تھی‘ انہی اصولوں پر عمل سے اس کے آخر کی بھی اصلاح ہو سکے گی۔ اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ مسلمان توپ و تفنگ کی لڑائی ہارنے سے پہلے کلاس روم‘ خانقاہ اور تجربہ گاہ میں لڑی جانے والی لڑائی ہار چکے تھے اور یہ سمجھنے کے لیے بہت زیادہ دانش کی ضرورت نہیں کہ مستقبل میں اگر انہیں دشمن سے جنگ جیتنا ہے تو اس کے لیے میدان جنگ سے پہلے کلاس روم‘ خانقاہ اور تجربہ گاہ کی جنگ جیتنا ہوگی۔ اس تناظر میں تعلیم کے حوالے سے ہمارے قابل غور اہم فکری مسائل یہ ہیں :

اساس تعلیم

قرآن کی رو سے تعلیم کی اساس کتاب و حکمت یا دوسرے لفظوں میں قرآن و سنت ہیں۔ اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے تصور علم کے مطابق ان کے ہاں علم کا منبع ان کا مخصوص ورلڈ ویو یعنی تصور الٰہ و انسان وکائنات (شرعی اصطلاح میں توحید و معاد و رسالت) ہے۔ گویا علم کی بنیاد وحی الٰہی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام عقلی علوم کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس کا زبردست موید ہے اور استقرائی طریق کار‘ تحقیق و جستجو اور فکری حریت پر اکساتا ہے۔ البتہ وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ عقلی علوم وحی کے تابع رہیں تاکہ ایک یکسو مسلم شخصیت پروان چڑھے جو اپنی ساری ترقیوں اور ترک تازیوں کے باوجود توحید کے کھونٹے سے بندھی رہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج مسلم تعلیم کا یہی حال ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو کیا ہم اس کے لیے فکر مند ہیں؟ کیا ہم اس کے لیے کوشاں ہیں؟ کیا ہم نے اس کے لیے موزوں علمی‘ فکری اور تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں؟

تقلید مغرب 

مغرب نے سائنس و ٹیکنا لوجی اور ترقی کے دیگر معروضی عوامل پر عمل کر کے دنیاوی خوش حالی تو حاصل کر لی ہے لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ اس کا تصور علم الحاد پر مبنی ہے۔ چنانچہ سیکولر ازم ‘ ہیومنزم‘لبرلزم وغیرہ کی بنیاد پر اور وحی کی رہنمائی کو رد کرتے ہوئے محض حواس اور تجربے کی اساس پر جو علم اس ترقی یافتہ مغرب نے پیدا کیا ہے، وہ اصولاً انکار خدا اور انکار آخرت پر مبنی ہے خواہ وہ سماجی علوم ہوں یا سائنسی۔ مسلم ممالک پر قبضہ کرنے کے بعد مغربی طاقتوں نے مسلمانوں کے نظام تعلیم کو ختم کر دیا اور اپنا نظام تعلیم بجبر نافذ کر دیا۔ آزادی کے بعد مسلم ممالک میں زمام اقتدار اکثر انہی لوگوں کے ہاتھ میں آئی جو مغرب پرست یا کم سے کم مغرب سے مرعوب تھے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی علوم کی پیروی ہی کو ترقی کی اساس اور انسانیت کی معراج جانا۔ حالانکہ بنیادی ضرورت اس بات کی تھی‘ اور ہے‘ کہ اسلامی تصور علم کی بنیاد پر سارے علوم کو نئے سرے سے مدون کیا جائے، نئے نصابات تیار کیے جائیں اور ساری کتابیں نئے سرے سے لکھی جائیں۔ یہ کرنے کا بہت بڑا کام ہے جو مسلم نشاۃ ثانیہ کے لیے بالکل نا گزیر ہے لیکن کیا ہمیں اس کی اہمیت کا احساس ہے؟ ظاہر ہے جب تک ہم اپنے پورے نصاب تعلیم کی تشکیل نو اسلامی اصولوں پر نہیں کریں گے اور تعلیم میں مغربی فکر کی تقلید کرتے رہیں گے تو اس وقت تک ہم اسلام زندہ باد کے نعرے لگانے کے باوجود ذہنی و فکری بلکہ عملی طور پر غلام نسلیں ہی پیدا کرتے رہیں گے۔ 

تعلیمی ثنویت 

نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل جدید کی بہت سی جہتیں ہیں۔ ہم یہاں مزید دو تین اہم پہلوؤں کا ذکر کریں گے جن میں سر فہرست تعلیمی ثنویت کا خاتمہ ہے جو مسلم ممالک میں عموماً اور برصغیر میں خصوصاً اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں جب انگریز نے مسلمانوں کا نظام تعلیم ختم کر دیا تو علما نے یہی غنیمت سمجھا کہ وہ مسجدوں کے امام اور خطیب تیار کرنے کے لیے دینی مدرسے قائم کر لیں تاکہ مسلم عوام اپنی ذاتی زندگی اور مذہبی اور معاشرتی رسوم میں ہی اسلام پر عمل جاری رکھ سکیں۔ دوسری طرف جدید لوگوں نے انگریزی زبان اور دیگر مغربی علوم سیکھنے پر توجہ مرکوز کی تا کہ مسلمان دنیوی ترقی کے لحاظ سے پیچھے نہ رہ جائیں، گو ان کی یہ کوشش مغرب کی اندھی تقلید کے رجحان پر منتج ہوئی۔ پہلی سوچ کا نمائندہ تعلیمی ادارہ دیوبند اور دوسری کا علی گڑھ تھا۔ بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد بھی اس صورت حال کو حکمرانوں نے بدلنے کی کوشش کی نہ علما نے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ دو تعلیمی دھارے اب بھی متوازی بہے چلے جا رہے ہیں۔ ایک مسٹر پیدا کر رہا ہے اور دوسرا مولوی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دونوں تعلیمی دھاروں کو قریب لایا جائے۔ جدید تعلیم میں دینی علوم کا معتد بہ حصہ ہونا چاہیے اور خود جدید علوم کو بھی اسلامی تناظر اور اسلوب میں از سر نو مدون کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف دینی تعلیم میں جدید سماجی و سائنسی علوم کا تعارفی مطالعہ شامل کیا جانا چاہیے۔ خود دینی علوم کا نصاب بھی نظر ثانی کامحتاج ہے۔ اس میں تدریس قرآن کا حصہ بہت کم ہے۔ حدیث کا تحقیقی مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ فقہ و اصول فقہ میں تقابلی مطالعہ ہونا چاہیے۔ عربی سکھانے کے جدید طریقے استعمال کیے جانے چاہئیں تاکہ طلبہ نہ صرف عربی سمجھ سکیں بلکہ لکھ اور بول بھی سکیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔

فقدان تربیت 

قرآن کی رو سے تعلیم کا مقصد ہی تزکیہ ہے۔ تزکیہ سے مراد نفس کی ایسی تربیت کہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت آسان ہو جائے۔ کسی بھی ملک کے نظام تعلیم کا بنیادی ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے افراد تیار کرے جو ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں جن میں وہ معاشرہ یقین رکھتا ہے تاکہ وہ اس معاشرے کے مفید اور کامیاب رکن بن سکیں۔ اس طرح ایک مسلم ملک کے نظام تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسے افراد تیار کرے جو اچھے اور با عمل مسلمان ہوں۔ ہمارا نظام تعلیم ایسے افراد تیار نہیں کر رہا کیونکہ یہ اسلامی ہے ہی نہیں۔ یہ تو مغربی تصور تعلیم کی اندھی تقلید پر مبنی ہے جو مغربی معاشرے کے لیے کامیاب افراد تیار کرتا ہے۔ یوں ہمارے سکولوں‘ کالجوں میں اسلامی تربیت کا تصور ہی موجود نہیں۔ یہی حال دینی مدارس کا ہے‘ البتہ وہاں تربیت کے مسائل ذرا دوسری نوعیت کے ہیں۔ ایک تعلیمی ادارے میں اسلامی تربیت کیسے کی جائے؟ یہ آج کا اہم ترین سوال ہے جس کا جواب مسلم ماہرین و مفکرین پر قرض ہے۔ یہاں ضمناً یہ عرض کرنا بے جا نہ ہوگا کہ ماضی میں مسلمانوں نے اصلاح نفس کے لیے تصوف نامی ادارہ قائم کیا جس میں مرور زمانہ سے بہت سی غیر اسلامی باتیں شامل ہوگئیں لیکن فنی طور پر اصلاح نفس کے حوالے سے اس ادارے کے محققین کے ہاں اب بھی کام کی بہت سی چیزیں مل جاتی ہیں بشرطیکہ انہیں عصری تناظر میں خالص قرآن وسنت کے مطابق ڈھال لیا جائے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو فن تزکیہ کی تجدید یا تربیت کی اسلامی تشکیل نو ایک بہت بڑا علمی و فکری چیلنج ہے۔ 

یہ بھی ذہن میں رہے کہ ایک تعلیمی ادارے میں اسلامی تربیت کی کئی جہات ہیں۔ نصاب کے علاوہ اس میں استاد کا کردار بہت اہم ہے لیکن ہمارے اساتذہ کو یہ سکھایا ہی نہیں جاتا کہ انہیں خود اچھا مسلمان کیسے بننا ہے اور طلبہ کو اچھا مسلمان کیسے بنانا ہے؟ لہٰذا تربیت اساتذہ کے منہج کی تبدیلی بھی مطلوب ہے۔ پھر تعلیمی ادارے کا ماحول کیسے بدلا جائے؟ تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کا اس میں کیا کردار ہو؟ یہ ساری باتیں غور طلب ہیں۔ 

کم شرح تعلیم 

پاکستان اور اکثر مسلم ممالک میں شرح تعلیم بہت کم ہے لیکن یہ صرف انتظامی معاملہ نہیں۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پس پردہ معاشی مسئلہ ہے کیونکہ غریب والدین بچوں کو اس لیے نہیں پڑھاتے کہ وہ انہیں کسب رزق میں لگا لیتے ہیں اور ان کی فیس ادا نہیں کر سکتے۔ حکومت کہتی ہے کہ اس کے پاس زیادہ بجٹ نہیں۔ پاکستان کی مثال لیں جس کے پاس غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کے بعد ترقیاتی کاموں کے لیے دس پندرہ فیصد سے زیادہ بجٹ نہیں بچتا لیکن اگر آپ اس معاشی مسئلے کے حقیقی اسباب تلاش کریں تو وہ فکری نظر آئیں گے، اگرچہ بہت دور جا کر۔ دیکھئے ! پاکستان کو منصوبہ بندی سے قرضوں کی دلدل میں کس نے جھونکا؟ پاکستان کو کشمیر میں کس نے الجھایا کہ وہ اتنی بڑی فوج رکھنے پر مجبور ہو جائے؟ پاکستان کو کس نے اجازت نہیں دی کہ وہ مسجد کو تعلیم کا مرکز بنا کر تعلیم عام کر دے؟ ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ مغرب نے۔ اور مغرب نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟ تاکہ پاکستان (اور اسی طرح سے دیگر مسلم ممالک) اپنے مسائل کی دلدل میں پھنسے رہیں‘ معاشی طور پر کمزور رہیں‘ تعلیمی طور پر کمزور رہیں مبادا کہیں وہ طاقتور نہ ہو جائیں، اسلامی فکر و تہذیب کہیں ابھر کر سامنے نہ آجائے اور مغرب کے لیے چیلنج نہ بن جائے۔

تزکیہ 

قرآن حکیم سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں تعلیم کا اصل مقصد تزکیۂ نفس ہے اور تعلیم محض اس کا ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد‘ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا‘ نفس انسانی کی ایسی اور اس طرح تربیت ہے جس کے نتیجے میں وہ اللہ کی نا فرمانی سے بچ جائے اور اس کے احکام پر بہترین طریقے سے عمل کرنے لگے۔ ظاہر ہے کہ یہ عین دین ہے بلکہ اصل دین اور مغز دین ہے اور اللہ نے سارا دین اسی لیے نازل کیا ہے اور پیغمبر اسی لیے مبعوث فرمائے ہیں کہ انسانوں کا تزکیہ کر سکیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی احکام کے مطابق اور ان کی روشنی میں اپنے مخاطبین کا بہترین تزکیہ کیا اور ایسے افراد تیار کیے جن کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ بعد میں جب اخلاقی اور معاشرتی بگاڑ بڑھنے لگا تو مسلمانوں میں ایک اصلاحی تحریک تزکیۂ نفس کے لیے چلی جسے تصوف کہا جانے لگا۔ پھر مرور ایام سے اس تحریک میں بہت سی غیر اسلامی باتیں شامل ہوگئیں۔ اب گڑبڑ یہ ہوئی کہ عصر حاضر میں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جو تحریک اٹھی، اس کے بہت سے قائدین نے رد عمل کے جوش میں نہ صرف تصوف کو رد کر دیا بلکہ تزکیہ و تربیت کو بھی درخور اعتنا نہ جانا۔ یہ ایک عظیم فروگزاشت ہے جس کے ہولناک نتائج نکلے ہیں بلکہ ہماری نگاہوں میں جدید اسلامی تحریکوں کی ناکامی کا ایک بڑا سبب یہی امر ہے۔ اگر وہ محض تصوف کے غیر اسلامی پہلوؤں کی مذمت کرتے تو یہ بجا ہوتا لیکن جس طرح ہم پورے ذخیرہ حدیث کو یہ کہہ کر دریا برد نہیں کر سکتے کہ جعل سازوں نے بہت سی حدیثیں گھڑ لی ہیں اور ضعیف اور منکر روایتیں صحیح احادیث میں ملا دی ہیں‘ اسی طرح تصوف میں غیر اسلامی امور کی آمیزش سے ڈر کر تزکیہ و تربیت کے ادارے کو بالکل ہی خیرباد نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں ! یہ ضرور ہے کہ اس کی تجدید ہونی چاہیے، اس میں حق کو باطل سے الگ کر نا چاہیے‘ بدعات اور غیر اسلامی رسوم و رواج کی نشاندہی اور مذمت ہونی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی امت کے بہترین لوگوں نے اپنی عمریں صرف کر کے اپنے علم و تجربہ کی بنیاد پر تزکیہ و تربیت کے جو اصول و ضوابط وضع کیے ہیں (اور جن میں کوئی بات غیر اسلامی نہیں) انہیں نکھار کر سامنے لانا چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیے لیکن معاف کیجئے گا کتنے لوگ یہ کام کر رہے ہیں؟ اور کتنے ادارے اس کام کے لیے وقف ہیں؟

مغرب اور مغربی تہذیب

اسلام زندگی کے سارے مسائل کے بارے میں احکام دیتا ہے اور ان کے نفاذ اور غلبے کا متقاضی ہے لیکن مسلمان اس وقت مغلوب ہیں (جس کی ایک بڑی وجہ اسلامی احکام پر ان کا عمل نہ کرنا ہے) دوسری طرف مغرب اور اس کی فکر و تہذیب اس وقت غالب ہے اور اس کی اساس خدا اور آخرت کے انکار پر ہے۔ مزید یہ کہ مغرب اپنی فکری‘ معاشی‘ سیاسی اور حربی قوت کے بل پر اپنے آپ کو غالب رکھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے کہ مسلم فکر و تہذیب ابھر کر سامنے نہ آئے اور اس کے غلبے کا امکان پیدا نہ ہو۔ اس امر کا ادراک اور اس کا تجزیہ و تدارک خود ایک بہت بڑا فکری و عملی مسئلہ ہے لیکن اس وقت ہم جس امر کی طرف توجہ دلا رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ مغربی فکر و تہذیب مسلم مفکرین و مصلحین پر بہت شدت سے اثر انداز ہوئی ہے اور ان کی فکر پر اس کے اثرات کا مطالعہ ایک وسیع موضوع ہے۔ ہم یہاں اس وقت صرف دو باتوں کی طرف اشارہ کریں گے :

مرعوبیت و انفعالیت 

دور زوال میں ایک بالغ نظر مسلم عالم کا سرمایہ فکری استقلال ہونا چاہیے یعنی وہ فکری طور پر پسپا نہ ہو‘ غیر مسلم افکار کو قبول نہ کرے اور ان سے متاثر نہ ہو بلکہ اپنی فکر پر جما رہے‘ اس کی مدافعت و مزاحمت کرے بلکہ حسب موقع ہجومی انداز اختیار کرے اور اسلامی فکر کی صداقت و عظمت ثابت کرے اور حریف تہذیب کی فکری و عملی خامیوں کو نمایاں کرے۔ بدقسمتی سے اکثر مسلم مفکرین و مصلحین نے فکری استقلال کا ثبوت نہیں دیا اور کسی نہ کسی درجے میں مغرب کی فکر سے متاثر یا اس کے رد عمل کا شکار ہوگئے۔ مصر کی سلفیت (مفتی محمد عبدہ اور رشید رضا وغیرہ) برصغیر کی نیچریت(سر سید اور امیر علی وغیرہ) قادیانیت اور فتنہ انکار سنت (چکڑالوی‘ پرویز‘ امین احسن اصلاحی وغیرہ) اس کی چند مثالیں ہیں۔ جدید اسلامی تحریکوں کا دین کو نظام ‘ تحریک اور حکومت الٰہیہ کہنا نفاذ دین کی خاطر سیاسی جدوجہد کو عین دین قرار دینا‘ فرد کے تزکیہ نفس کو اہمیت نہ دینا اور عملی زندگی میں مغربی جمہوریت کے سیاسی نظام میں حصہ لے کر اس کا ایک حصہ بن جانا‘ تحریکی تعلیمی اداروں کا انگلش میڈیم اپنانا اور آکسفورڈ و کیمبرج کا نصاب پڑھانا‘ کاروبار میں سود کو قبول کرلینا‘ معاشرت میں مغربی لباس کو اختیار کرنا‘ حجاب کو خیرباد کہنا وغیرہ یہ سب فکری اور تہذیبی پسپائی کے مظاہر ہیں۔ یہ اسلامی قوتوں کی فکری استقامت کا حال ہے‘ جہاں تک عام مسلمان کا تعلق ہے (جن میں حکمران اور مقتدر طبقے سر فہرست ہیں) تو وہ علی الاعلان کہتے ہیں کہ عصر حاضر میں ترقی اور خوشحالی صرف مغرب کی پیروی ہی کی مرہون منت ہے ۔

مغرب سے اخذ و استفادہ کی حدود و شروط

ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم مغرب سے کیا لے سکتے ہیں اور کیا نہیں؟ اس میں بھی لوگ افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں۔ کچھ لوگ مغرب سے نفرت اور اس کے الحاد کی وجہ سے اسے کلیتاً رد کر دیتے ہیں اور بعض مغرب سے سب کچھ لے لینا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں نقطۂ اعتدال کی تلاش ضروری ہے کہ جن شعبوں میں اسلام نے تفصیلی اور ناقابل تغیر احکام نہیں دیے بلکہ صرف اصولی رہنمائی دی ہے‘ وہاں انسانی تجربے کے طور پر بعض چیزیں مغرب سے ضروری تغیر کے ساتھ لی جا سکتی ہیں۔

جدید اسلامی تحریکیں

جدید اسلامی تحریکیں امت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور وہ دین اور مسلمانوں کی عظیم خدمت انجام دے رہی ہیں۔ تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ ساٹھ ستر برس کی جدوجہد کے باوجود انہیں کہیں بھی بڑی کامیابی کیوں حاصل نہیں ہوئی‘ نہ عامی سطح پر اور نہ سیاسی میدان میں۔ اگرچہ ان تحریکوں کے پاس بہت سے ٹھوس عذر بھی ہیں اور بعض میدانوں میں کامیابیاں بھی‘ تاہم ان تحریکوں کے غور کے لیے بہت سے سوالات بھی ہیں۔ مثلاً:

  • کیا یہ موقف کہ اسلامی عناصر مسلم حکمرانوں کے اقتدار کے براہ راست حریف بن کر سامنے آئیں‘ قابل نظر ثانی تو نہیں؟
  • کیا ان اسلامی تحریکوں نے استعجال سے کام تو نہیں لیا کہ معاشرے کو ہم نوا بنائے بغیر تھوڑی تنظیمی قوت کے بل پر بزن کا بگل بجا دیا‘ جس نے دشمنوں کو مشتعل اور چوکنا کر دیا اور نتیجتاً قیادت اور کارکنوں کو بلا جواز اور بے نتیجہ قربانیاں دینا پڑیں؟
  • اجتماعی تبدیلی اہم بھی ہے اور مطلوب بھی لیکن اس کا انحصار فرد کی تبدیلی پر ہوتا ہے۔ کیا ان تحریکوں نے فرد کے دل و دماغ اور کردار کی تبدیلی کو اپنی کوششوں کا ہدف بنایا ہے؟
  • کیا روایتی دینی قوتوں کو ساتھ نہ ملا کر حکمت عملی کی غلطی تو نہیں کی گئی؟
  • کیا دین کی جامعیت کے نام پر صرف سیاسی جدوجہد کو مکمل دین بنا کر پیش کرنے کا یہ نقصان تو نہیں ہوا کہ مسلم معاشرے نے اسے قبول نہیں کیا؟
  • کیا دین کو صرف ایک دنیوی نظام کے طور پر پیش کر کے آخرت پر ترکیز کرنے والے دین کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کی گئی؟
  • کیا مغرب کے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی اصولوں کو قبول کر کے ان میں حصہ لے کر فکری پسپائی تو اختیار نہیں کی گئی؟ وغیرہ وغیرہ۔

مسلم نشاۃ ثانیہ 

  • مسلم نشاۃ ثانیہ کی حکمت عملی اور لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟ یہودی اگر اپنے غلبے کے لیے صدیوں پہلے پروٹوکول تیار کر سکتے ہیں اور مغرب میں جگہ جگہ تھنک ٹینک کھل سکتے ہیں تو کیا ہم مسلمان فکری طور پر بالکل ہی بانجھ ہوگئے ہیں کہ اپنے مستقبل کے لیے نہیں سوچ سکتے؟ کیا ہمارے ہاں امت کی سطح پر ایک بھی ’’امہ سٹڈی سنٹر‘‘ اور ’’انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعۂ مغرب‘‘ قائم نہیں ہو سکتا؟
  • اتنی ہزیمت اور رسوائی کے باوجود مسلمانوں کے متحد نہ ہونے کے اسباب کیا ہیں؟ اور ان اسباب کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے؟
  • اجتماعی سطح پر مسلم قیادت کا کردار آج تک مصالحانہ یا زیادہ سے زیادہ مدافعانہ و مزاحمانہ رہا ہے‘ کیوں نہ اس کو جارحانہ بنا دیا جائے؟ معاف کیجئے گا اس سے مقصود دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا نہیں بلکہ فکری اور نفسیاتی طور پر جارحانہ رویہ اختیار کرنا ہے۔
  • اسلامی کانفرنس تنظیم کی ناکامی کے بعد کیا مسلم نشاۃ ثانیہ کے لیے ایک نئے اور فعال ادارے کی ضرورت نہیں؟ یہ ادارہ کون قائم کرے گا؟

روایتی دینی قوتیں

  • وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے روایتی دینی قوتوں اور جدید اسلامی تحریکوں کو قریب نہیں آنے دیا؟ نیز ان کے تقارب کے کیا اصول و مظاہر ہونے چاہئیں؟ (مدیر الشریعہ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے)
  • دینی قوتوں کے ہاں اصلاح کے داخلی اور خارجی عوامل کو کیسے موثر اور فعال بنایا جا سکتا ہے؟

سیاسی حکمت عملی

  • مسلم حکمرانوں کو کیسے پر امن طور پر اسلامی تبدیلی قبول کرنے پر راغب کیا جا سکتا ہے؟
  • مسلم حکمرانوں اور عوام میں بعد اور دوری کو کیسے پاٹا جائے؟
  • مسلم حکمرانوں کی اصلاح کے لیے دینی عناصر کی دعوتی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟
  • مسلم حکمرانوں کو دین دشمن بین الاقوامی قوتوں کے شکنجے سے کیسے نکالا جائے؟

اجتہاد اور دین کی تعبیر و تشریح

گو فنی لحاظ سے اجتہاد اور دین کی تعبیر و تشریح میں فرق ہے لیکن اس فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو اجتہاد میں مانع اور دین کی تعبیر و تشریح میں غیر متوازن اسلوب کو جنم دیتے ہیں؟

  • کیا تقلید کی روش پر اصرار اور پہلے مجتہدین کے کام کو حرف آخر سمجھنا اور فقہ کو شریعت بنا لینا؟
  • کیا مسلک پرستی اور فرقہ واریت یعنی ہر مسلک کا اپنے تعلیمی ادارے الگ بنا لینا اور اسی عصبیت کی بنیاد پر دینی اور سیاسی جماعتیں قائم کر لینا؟
  • کیا قرآن و سنت کو عملاً دین کا ماخذ اور فیصلہ کن اتھارٹی نہ ماننا؟
  • کیا فکری حریت کو قبول نہ کرنا اور اسے پروان نہ چڑھانا؟
  • کیا بعض لوگوں کا مغرب سے متاثر ہو کر دین کو بازیچۂ اطفال بنا لینا یا کم از کم دین کی تشریح و تعبیر مغرب سے مرعوب ذہن کے ساتھ کرنا؟ (کیا مہاتیر محمد کا موقف اور خورشید احمد ندیم صاحب کے اٹھائے گئے نکات اسی کا مظہر نہیں؟)

در اصل ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تجدید اور تجمد کے درمیان راہ اعتدال کی تلاش اور اس پر عمل ہے۔ اگر کچھ لوگ عصری تقاضوں کے نام پر مغرب سے مرعوب ذہن کے ساتھ تجدد اختیار کر لیں اور دین کی حقیقی سپرٹ کو ضائع کر دیں اور دوسری طرف روایتی دینی ذہن کے مالک لوگ فکری استقلال کے نام پر اجتہادی سپرٹ اور فکری حریت کو ترک کر کے تجمد اختیار کر لیں تو ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے درمیان بعد پیدا ہو جانا فطری ہے (یہی وہ فرق ہے جو ارشاد احمد حقانی صاحب کو مہاتیر محمد اور ان کے اسلام پسند گورنر کے درمیان نظر آتا ہے) اس کا حل یہی ہے کہ ایک ایسی فکری اور علمی فضا کو پروان چڑھایا جائے جو تجدد اور تجمد کی انتہاؤں کو ترک کر کے راہ اعتدال پر چلنے کا رویہ پختہ کرے۔ ظاہر ہے اس فضا کو پیدا کرنے میں وقت تو لگے گا لیکن اگر اس کے لیے شعوری کوششیں کی جائیں اور موزوں علمی و فکری ادارے قائم کر کے صحیح سمت میں پیش رفت جاری رکھی جائے تو اس میدان میں پیش قدمی ناممکن نہیں۔

دعوت و اصلاح 

دعوت کے دو بڑے پہلو ہیں : ایک مسلم معاشرے کے لیے دعوت اور دوسرے غیر مسلموں کے لیے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ اس انتہائی اہم کام کو‘ جو امت مسلمہ کے وجود‘ اس کی بقا‘ استحکام اور تسلسل کے لیے بالکل ناگزیر ہے‘ انتہائی غیر مربوط اور غیر سائنسی انداز میں انجام دیا جا رہا ہے اور وہ اسی وجہ سے ناکامی کی حد تک بے نتیجہ ہے۔

ہماری حالت یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں کار دعوت و اصلاح کے لیے ہمارے دینی عناصر کے سامنے کوئی واضح‘ مربوط اور متفقہ پالیسی نہیں ہے۔ ہم نے کئی برس پیشتر لاہور میں ایک طالب علمانہ کوشش کی اور دینی جماعتوں کو ایک سلسلۂ ورکشاپ میں بلایا جس میں ہمارے پیش نظر یہ تھا کہ باہم مل کر پاکستانی عوام و خواص کے لیے ایک متفقہ دعوتی پالیسی تیار کی جائے۔ اس میں کئی حضرات تشریف بھی لائے لیکن وہ اپنی اپنی تنگنائے سے نکل کر اس بحر کی غواصی کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔ ضرورت ہے ایسے افراد اور اداروں کی جو اہل دین کے متفرق عناصر کو جمع کر کے مسلم معاشرے کے لیے سائنسی بنیادوں پر ایک مربوط‘ واضح اور متفقہ دعوتی پالیسی طے کریں جس پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی بھی ہوتی رہے۔ 

غیر مسلموں کے لیے مسلمان تنظیمیں اور ادارے جو دعوتی کام کر رہے ہیں وہ بھی ناکافی‘ غیر مربوط اور غیر سائنسی انداز میں کیا جا رہا ہے۔ دعوتی لحاظ سے ہمارا بڑا ہدف امریکہ‘ یورپ‘ افریقہ اور وسط ایشیائی ممالک ہیں۔ کیا ہمارے ہاں دعوت کے ایسے کافی ادارے موجود ہیں جہاں غیر ملکی زبانیں سکھائی جاتی ہوں اور جہاں غیر مسلم ممالک کی فکر‘ تہذیب اور کلچر کا تفصیلی مطالعہ کروایا جاتا ہو؟ جہاں ان مذکورہ خطوں کی زبان میں اور ان کے ماحول اور معیار کے مطابق دعوتی لٹریچر تیار کیا جاتا ہو اور داعی تیار کیے جاتے ہوں؟ ہمارے علم کی حد تک ان سوالوں کا جواب ہاں میں دینا ممکن نہیں۔ تو کیا ہم سب کا فرض نہیں کہ اس کام کی فکر کریں اور اس کے لیے مقدور بھر حرکت میں آئیں؟

یہ بھی یاد رہے کہ غیر مسلموں میں دعوت کا ہدف قلوب و اذہان کو فتح کر کے اسلام پھیلانا ہوتا ہے اور مسلم معاشرے میں دعوت کا مقصد اصلاح ہوتا ہے تا کہ مسلمان واقعی اچھے مسلمان بن جائیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلامی احکام کے مطابق بسر کرنے لگیں۔

جہاد

جہاد کا مسئلہ بھی ہمارے غور و فکر کا محتاج ہے۔ طاقتور مغرب اپنی باطل فکر و تہذیب کی بالادستی اور کسی متبادل فکر وتہذیب کو سر نہ اٹھانے دینے کی غرض سے جس مسلم ملک کو چاہتا ہے، تاراج کر دیتا ہے اور جس مسلم حکمران کو چاہتا ہے، جان و اقتدار سے محروم کر دیتا ہے۔ اس فضا نے فکری استقلال سے محروم بعض مسلم اہل علم کو جہاد کے خلاف کمزور اور ہوچ پوچ آرا قائم کرنے پر آمادہ کیا جس کا ایک بڑا مظہر قادیانیت ہے۔ (آج کل ہندوستان میں مولانا وحید الدین خان اور پاکستان میں جاوید غامدی صاحب کا موقف بھی اسی قبیل سے ہے)

اسلام میں جہاد کا معروف تصور یہ ہے کہ جو عناصر اپنی قوت کے بل پر انسانوں پر انسانوں کی خدائی قائم رکھنے پر مصر ہوں اور انسانوں پر ایک خدا کی خدائی قائم کرنے میں مزاحم ہوں‘ ان کی قوت بزور توڑ دی جائے۔ ان معنوں میں مسلمان امت جہاد پر قادر ہی نہیں۔ وہ اتنی ناتواں اور خوار و زبوں ہے کہ اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ وہ بیچاری تو اپنی مدافعت پر بھی قادر نہیں اور چند سر پھرے اور اہل عزیمت ہیں جو مدافعت میں اپنی جانوں کانذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ اب یہ بزر جمہر چاہتے ہیں کہ مسلمان مدافعت بھی نہ کریں بلکہ مغرب کی فکری‘ حربی‘ سیاسی اور معاشی برتری کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں اور ہاتھ جوڑ کر کہیں کہ صاحب جی ! ہم تو لیٹے ہوئے ہیں‘ جتنا چاہے مار لو‘ ہم اف بھی نہیں کریں گے اور کھڑا ہونے کی کوشش بھی نہیں کریں گے۔

البتہ یہاں ایک گنجلک اور ہے‘ اور وہ یہ کہ بعض جہادی عناصر دعوت اور جہاد کے فرق کو نہیں سمجھتے جس کی حقیقت یہ ہے کہ جہاد اہل کفر کے خلاف ہوتا ہے اور مسلم معاشرے میں اصلاحی کام دعوت کے ذریعے ہونا چاہیے لیکن بعض نافہم لوگ جہاد کی تربیت کو مسلم معاشرے پر لاگو کرنے کا سوچتے ہیں اور اسے اسلامی انقلاب کا نام دیتے ہیں۔ ظاہر ہے اس طرح اسلام تو نافذ نہیں ہوتا اور نہیں ہو سکتا البتہ وہ اپنی کج فکری کی وجہ سے ضرور دار و رسن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں جہاد کے حوالے سے بہت سے سوالات تسلی بخش جوابات کے محتاج ہیں۔ مثلاً کیا جہاد دہشت گردی ہے؟ کیا مغرب کی مزاحمت خلاف شریعت و خلاف مصلحت امت ہے؟ کیا مغرب کی مزاحمت واجب شرعی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

یہ چند امور تھے جن کا ذکر ہم مسلم امہ کو درپیش اہم فکری مسائل کے حوالے سے کرنا چاہتے تھے۔ یقیناًان میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے اور ان سے اختلاف بھی۔

اسلام اور عصر حاضر

فروری ۲۰۰۳ء

جلد ۱۴ ۔ شمارہ ۲

پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکی عہد نبوت کے اہم دعوتی وتبلیغی مراکز
پروفیسر محمد اکرم ورک

مسلم امہ کو درپیش فکری مسائل
ڈاکٹر محمد امین

ڈاکٹر شیر محمد زمان کا مکتوب
ڈاکٹر ایس ایم زمان

ڈاکٹر عبد الخالق کا مکتوب
ڈاکٹر عبد الخالق

گلوبلائزیشن: چند اہم پہلو
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
ادارہ