قرآن و سنت کی تشریح اور اجتہاد علماء کا کام ہے یا پارلیمنٹ کا؟
الشیخ جاد الحق علی جاد الحق کا علمی و تحقیقی مقالہ

الشیخ جاد الحق علی جاد الحق

عالمِ اسلام کے قدیم ترین علمی مرکز جامعہ ازہر قاہرہ کے موجودہ سربراہ معالی الدکتور الشیخ جاد الحق علی جاد الحق مدظلہ العالی کا شمار ملت اسلامیہ کی ممتاز ترین علمی شخصیات میں ہوتا ہے اور انہیں دنیا بھر کے علمی مراکز اور حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مدیر ’’الشریعہ‘‘ نے گزشتہ سال ان کی زیارت و ملاقات کے لیے قاہرہ کا سفر کیا مگر ان دنوں جامعہ ازہر میں تعطیلات تھیں اور موصوف قاہرہ میں نہیں تھے اس لیے مقصد سفر کا یہ پہلو تشنہ رہا۔ ملاقات و زیارت کے ساتھ ساتھ یہ خواہش بھی تھی کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کو جن علمی و فکری مسائل کا سامنا ہے ان کے بارے میں امام اکبر سے راہنمائی حاصل کی جائے۔ چنانچہ ملاقات نہ ہو سکنے کی وجہ سے بعض اہم سوالات تحریری صورت میں ان کے دفتر کے سپرد کر دیے گئے۔ 
ادارہ الشریعہ الامام الاکبر الدکتور جاد الحق علی جاد الحق کا بے حد شکر گزار ہے کہ انہوں نے متنوع اور بے پناہ مصروفیات کے باوجود ان سوالات کو ایک مستقل مقالہ کا موضوع بنایا اور اپنے گراں قدر ارشادات و تحقیقات کو پورے بسط کے ساتھ تحریر فرما دیا۔ پہلے خیال تھا کہ ’’الشریعہ‘‘ میں اس وقیع علمی مقالہ کا خلاصہ اردو میں شائع کر دیا جائے لیکن سوالات کی اہمیت، امام اکبر کی تحقیقی کاوش اور مقالہ کی علمی وقعت کے پیش نظر یہی فیصلہ کیا گیا کہ مقالہ کا مکمل متن اردو ترجمہ کے ساتھ شائع کیا جائے تاکہ اہل علم اس سے پوری طرح مستفید ہو سکیں۔ ادارہ الشریعہ کے خصوصی کرم فرما اور گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرانوالہ کے سینئر استاذ پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ مقالہ کا ترجمہ کیا ہے جس پر وہ ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ اس مرحلہ پر دو امور کی وضاحت ضروری خیال کی جا رہی ہے:
(۱) ایک یہ کہ ’’الشریعہ‘‘ کا بنیادی مقصد و مشن نفاذِ اسلام اور اسلامائزیشن کے علمی و فکری مسائل کا حل پیش کرنا اور اس سلسلہ میں اسلام دشمن لابیوں کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے علماء کرام، جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور طلباء کو نفاذِ اسلام کے لیے ذہنی اور فکری طور پر تیار کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اظہار خیال کا ذریعہ قومی زبان اردو کو ہی بنایا جائے اور براہ راست دوسری زبانوں میں مضامین و مقالات شائع نہ کیے جائیں۔ اس لیے ادارہ الشریعہ کی عمومی پالیسی ان شاء اللہ العزیز یہی رہے گی اور کسی انتہائی استثنائی صورت کے سوا دوسری زبانوں میں مضامین و مقالات کی اشاعت سے گریز کیا جائے گا تاکہ افادیت میں عموم کا دائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع ہو۔ 
دوسری وضاحت یہ ضروری ہے کہ ادارہ الشریعہ کا تعلق واضح طور پر حنفی مکتب فکر سے ہے اور وہ اسلامائزیشن کے سلسلہ میں امام ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات و افکار اور جدوجہد کا نقیب ہے جبکہ جامعہ ازہر کی علمی عظمت اور روایتی قدرومنزلت کے بھرپور اعتراف کے باوجود علماء ازہر کے فکر و مزاج کی کا توسع برصغیر کے علمی حلقوں میں ہمیشہ موضوع بحث رہا ہے۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ اس مقالہ کے تمام پہلوؤں سے ادارہ الشریعہ پوری طرح متفق ہو، تاہم یہ ایک وقیع اور قابل قدر علمی کاوش ہے جس سے اہل علم کو استفادہ کا موقع نہ دینا شاید انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو اور اسے اسی جذبہ اور نقطۂ نظر کے تحت شائع کیا جا رہا ہے۔ 
ہم ایک بار پھر الامام الاکبر الدکتور الشیخ جاد الحق علی جاد الحق کی اس کرم فرمائی پر ان کے شکرگزار ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت عالم اسلام کو ان کی علمی و دینی مساعی سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔ (ادارہ)


الحمد للہ رب العٰلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو چند سوالات پر مشتمل پاکستان کے ایک عالم الشیخ زاہد الراشدی کا مکتوب شیخ الازہر کے دفتر میں موصول ہوا جس کا خلاصہ یہ ہے:

  1. پاکستان میں اسلامی شریعت کے نفاذ سے متعلق — قرآن و سنت کی و سے اسلامی قانون سازی کا حق کس کو حاصل ہے؟ کیا پاکستان کی قومی اسمبلی کے منتخب ارکان کو، کہ وہ اس کا حق بھی رکھتے ہیں اور چنے ہوئے بھی ہیں، اور امتِ اسلامیہ کے عصری مسائل کے حل میں اجتہاد کے اہل ہیں؟ یا یہ اختصاص پختہ فکر علمائے دین کے بورڈ کو حاصل ہے جن میں اس امر کے لیے مطلوبہ شرائط وافر ہوں اور قومی اسمبلی کو اس (قانون سازی) سے کوئی واسطہ نہیں؟
  2. حکومتی سطح پر سردست کس فقہی مسلک کو نافذ کیا جائے؟ کیا وہ حنفی مسلک ہو جس کی پاکستانی قوم کی غالب اکثریت پیروکار ہے اور وہ اہل السنۃ والجماعۃ ہے، یا وہ جعفری مسلک ہو جس کے شیعہ حضرات پیروکار ہیں؟
  3. اسلامی قانون سازی کے سرچشہ و ماخذ کے لحاظ سے — کیا اس کے ماخذ کے طور پر باقی سب کو چھوڑ کر محض کتاب و سنت پر انحصار کیا جائے گا یا خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، اہلِ بیتؓ کے فرمودات اور اجماعِ امت سے بھی استفادہ کیا جائے گا؟
  4. غیر شرعی حکومتوں سے متعلق (یعنی وہ حکومتیں جو آزادانہ انتخاب کے بغیر تشکیل پذیر ہوں)  کیا قوم کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ایسی حکومت سے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کا مطالبہ کرے؟ اس اعتبار سے کہ جو بھی حاکم برسرِ اقتدار آئے اس کا اقتدار کامل ہوتا ہے اور قوم کا اس حکومت سے شریعتِ اسلام کے نفاذ کا مطالبہ ضروری ہو جاتا ہے، اور یہ حکومت جو قوانین جاری کرے ان کو قبول کرنا ضروری ہوتا ہے؟ یا قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حکومت کو ہٹا کر اس کی جگہ منتخب شرعی حکومت لائے؟
  5. قیامِ پاکستان سے پہلے شہر لاہور میں ایک مسجد پر سکھوں کا قبضہ تھا، آج وہ بند پڑی ہے۔ ایسے ہی بعض مساجد پر قادیانی گروہ کا قبضہ ہے اور وہ ان کے زیرتسلّط ہیں۔ ایسی مساجد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا حکومتِ اسلامیہ انہیں واگزار کرا کے ان کی تعمیرِ نو کر سکتی ہے؟

——— جواب ———

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمہید

چونکہ فقہ اسلامی میں سیاستِ شرعیہ ایک بہت بڑا باب ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس فتوٰی کے موضوعات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے سیاسۃ شریعۃ کے مفہوم اور اس کے میدانِ عمل کو سمجھا جائے۔ 

سیاستِ شرعیہ کا مفہوم

ابن قیم جوزیؒ اپنی کتاب ’’الطرق الحکمیۃ‘‘ میں لکھتے ہیں: سیاست وہ عملی پروگرام ہے جس پر چل کر لوگ بہتری سے قریب رہیں اور فساد سے دور رہیں۔ خواہ اسے رسولؐ نے وضع نہ کیا ہو اور نہ ہی وہ وحی کے طور پر اترا ہو۔ صحابہؓ اور تابعین میں سے فقہاء و مجتہدین اس رائے پر عمل کرتے جو دین کو مضبوط بنانے والی ہوتی، اور جس مسئلے میں کتاب و سنت سے کوئی خاص دلیل نہ پاتے تو رائے اور اجتہاد کو بروئے کار لاتے۔ چنانچہ ہمارے لیے فقہائے اسلام نے ان شرعی احکام کا، جو ان کے اجتہاد کا نتیجہ تھا، عظیم ورثہ چھوڑا ہے۔ کبھی تو شرعی احکام ثابت غیر متبدل اور غیر تغیر پذیر ہوتے ہیں، زمانے اور حالات کے بدلنے سے ان کی مصلحت میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہوتا، اور جس زمانے میں ان کا استنباط کیا گیا اس زمانے کے لوگوں کے مصالح اور عرف کی اس میں رعایت رکھی گئی ہوتی ہے۔ چونکہ لوگوں کے مفادات حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، کبھی لوگوں کا ایک عرف دوسرے زمانے کے عرف سے بالکل مختلف ہوتا ہے، اور کبھی ایک ہی زمانے میں ایک قوم کا عرف دوسری قوم کے عرف سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ 

پس سیاستِ شرعیہ کی رو سے امت کے حکام ایسے قوانین بنا سکتے ہیں جو درپیش مسائل کو حل کر سکیں۔ لیکن یہ وہ خاص مسائل ہیں جن کے بارے میں وہ کتاب و سنت، اجماع یا قیاس سے کوئی خاص دلیل نہیں پاتے، اور جو ایک حالت پر نہیں رہتے بلکہ زمانے اور حالات کے بدلنے سے بدلتے رہتے ہیں اور جن کے آثار و نتائج اچانک واقع ہوتے ہیں۔ نیز یہ بات ان احکام سے خاص ہے جن کی کتاب و سنت اور اجماع میں کوئی خاص دلیل نہیں ملتی، اور نہ ہی ان کے موقع و محل کی کوئی نظیر ملتی ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کو قیاس کیا جا سکے۔ چنانچہ ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے قواعد فقہ کی طرف رجوع کیا جائے گا مثلاً رفع حرج، دفع ضرر۔ 

اسلام میں شرعی احکام کے سرچشمے کی بابت

اس امر میں مسلمانوں کا کبھی اختلاف نہیں رہا کہ قرآن کریم عبادات، معاملات، عقائد اور اخلاقیات کے گوناگوں شرعی احکام کا سرچشمۂ اولین ہے، اور یہ کہ سنتِ نبویؐ قولی، فعلی یا تقریری قانون سازی کا دوسرا مصدر ہے، اگرچہ سنت کی روایات کے اتصال و ثبوت کی شرائط میں اختلاف رہا ہے۔ 

پھر اجماع کی باری آتی ہے۔ جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ اجماع کے تقاضوں پر عمل ضروری ہے، البتہ خوارج، شیعہ اور نظام (اجماع) کو حجت نہیں مانتے۔ 

پھر قیاس کا نمبر ہے۔ اگرچہ جمہور علماء شرعی امور میں اسے واجب العمل قرار دیتے ہیں تاہم اہلِ اصول کے ہاں اس کی تعریف میں اختلاف رہا ہے۔ ابن حزمؒ ظاہری اور ان کے پیروؤں کا کہنا یہ ہے کہ قیاس کو مصدر تشریع جان کر اس پر عمل پیرا ہونا عقلی طور پر درست ہے، ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کو حل کرنے کے لیے اس کا سہارا لینا ضروری ہو، مگر شرع میں امامیہ شیعہ اور نظام (اپنی ایک روایت کی رو سے) اس طرف گئے ہیں کہ قیاس پر چلنا عقلاً محال ہے۔ اور بھی دلائل ہیں جن میں اختلاف ہے اور وہ یہ ہیں۔ عرف، استصحاب، استحسان، مصالح مرسلہ، استقراء قول صحابی وغیرہ۔ ان دلائل پر عمل کرنے کے بارے میں علمائے اصولِ فقہ کے دوسرے نقلی و عقلی اقوال و اختلافات بھی ملتے ہیں۔ جہاں تک کسی صحابیٔ رسولؐ کے قول، مسلک یا فتوے کا تعلق ہے (جو مدعائے سوال ہے) اس کے بارے میں آمدی نے اپنی کتاب ’’الاحکام فی اصول الاحکام‘‘ میں نقل کیا ہے کہ علماء اس پر متفق ہیں کہ اجتہاد کے مواقع پر کسی صحابی کا مسلک دوسرے مجتہد کے خلاف حجت نہیں ہوتا خواہ وہ امام ہو، حاکم ہو یا مفتی ہو۔ البتہ وہ (علماء) تابعین اور ما بعد کے مجتہدین کے خلاف صحابی کی حجیت میں اختلاف رکھتے ہیں۔ 

اشاعرہ، معتزلہ، امام شافعیؒ اپنے ایک قول میں، امام احمد بن حنبلؒ اپنی بیان کردہ دو روایتوں میں سے ایک میں، اور کرخیؒ اس بات کے قائل ہیں کہ تابعین و تبع تابعین کے خلاف صحابی کا قول حجت نہیں۔ امام مالک بن انسؒ، امام رازیؒ، احناف میں سے برزعیؒ، اپنے ایک قول میں امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبل اپنی بیان کردہ ایک روایت میں اس بات کے قائل ہیں قول صحابی قیاس کے خلاف حجت ہے۔ علماء کا ایک گروہ اس طرف بھی گیا ہے کہ اگر قولِ صحابی قیاس کا مخالف ہو تو حجت ہے ورنہ نہیں۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا قول حجت ہے، ان دونوں کے علاوہ کسی کا نہیں۔ پھر آمدی نے کہا کہ پسندیدہ امر یہ ہے کہ یہ (قول صحابی) بالکل حجت نہیں۔ اس نے ان اقوال کے لیے دلائل بھی پیش کیے ہیں۔ 

یہ (صورتحال) اس لیے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جہانِ فانی سے اٹھ جانے کے بعد اچانک ایسے حالات پیش آ گئے جن کے لیے کوئی صریح حکم نہ تھا اور نہ کوئی خاص حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ترجیحاً پیش کی جا سکتی تھی۔ اس صورت میں صحابہؓ نے اجتہاد کیا، اکیلے اکیلے فتوے دیے۔ نتیجتاً ان واقعات سے متعلق ان کے فتوے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے۔ بالآخر قانون سازی کے سلسلے میں ان فتووں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں ائمہ کرام میں اختلاف پیدا ہوا۔ امام ابوحنیفہؒ اور ان کے پیروؤں کا اختلافِ صحابہ کے ضمن میں طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ صحابہ میں سے کسی ایک صحابی کا فتوٰی لے لیتے، نہ تو کسی ایک کے پابند ہوتے اور نہ ہی سبھی کا انکار کرتے۔ 

اس امام جلیل (ابوحنیفہؒ) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ جب کتاب اللہ سے کوئی حکم مل جائے تو میں اس کو لے لیتا ہوں، اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ان صحیح احادیث پر انحصار کرتا ہوں جو ثقہ لوگوں کے ذریعہ پھیلیں۔ اور اگر کتاب اللہ اور سنت رسولؐ میں بھی حکم نہ پاؤں تو صحابہ کرامؓ سے جس کا قول چاہوں لے لیتا ہوں، پھر ان کے قول کو چھوڑ کر کسی دوسرے کا قول اختیار نہیں کرتا۔ جب ابراہیم (نخعی)، شعبی، حسن (بصری)، ابن سیرین، سعید بن مسیب تک معاملہ آ پہنچے تو جس طرح انہوں نے اجتہاد کیا، میں بھی کرتا ہوں۔

امام مالکؒ نے بھی صحابی کا قول اخذ کرنے میں عموماً امام ابوحنیفہؒ کا طرزِ عمل اپنایا ہے۔ یہ اس لیے کہ صحابی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا گمان ہو سکتا ہے، قرائن کو دیکھ کر وہ مرادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ چونکہ صحابہ کرامؓ کی عادت تھی کہ وہ نص کے بغیر فتوٰی شاذ و نادر ہی دیتے تھے اس لیے آسان معاملے کے علاوہ واضح حکم سے فتوٰی دیتے تھے لہٰذا اگر سماع کی نفی بھی کی جائے تو بھی صحابی کا قول کسی دوسرے کی نسبت راستی سے زیادہ قریب ہے۔ 

جہاں تک امام شافعیؒ اور ان کے متبعین کا تعلق ہے ان کا موقف یہ ہے کہ صحابہؓ کے فتوے ان مسائل میں جن میں انہوں نے رائے سے اجتہاد کیا ہے حجت نہیں کیونکہ ان کے یہ فتویٰ انفرادی فتووں کی حیثیت رکھتے ہیں اور غیر معصومین کے فتوے ہونے کی وجہ سے حجت نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے امام شافعیؒ کے بارے میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ وہ صحابہؓ کے انفرادی فتووں میں سے کوئی بھی فتوٰی لے لیتے ہیں اور خود بھی ان کے خلاف فتوٰی دیتے ہیں۔ اور یہ طرزِ عمل ان فتاوٰی کے بارے میں ہے جو صحابہؓ اپنی رائے سے دیتے ہیں، اور جو وہ رائے سے نہیں دیتے اس کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث کی طرح ہے اور جمہور کی طرح امام شافعیؒ کے نزدیک اس سے اخذ کرنا واجب ہے۔ 

یہ امر ملحوظ رہے کہ صحابی کے قول یا فتوٰی سے مراد وہ مسئلہ ہے جس میں اس نے اجتہاد کیا۔ اور جب یہ منقول ہو کہ یہ فلاں صحابی کی سنت ہے یا فلاں کی سنت ہے تو اکثر فقہاء اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ہی محمول کرتے ہیں۔ اس ضمن میں احناف میں سے ابوالحسن کرخی نے اختلاف کیا ہے، تاہم پسندیدہ (قابلِ ترجیح) مسلک جمہور علماء کا ہے جیسا کہ آمدی نے ’’الاحکام‘‘ میں، شاطبی نے ’’موافقات‘‘ میں اور کمال بن ہمام نے ’’التحریر‘‘ میں نقل کیا ہے۔ 

قرآن و سنت — اسلامی قانون سازی کی بنیاد

قرآن کریم میں انسانوں کی معاش و معاد کے جملہ مسائل کا حل موجود ہے۔ وہ مسائل عقیدہ سے متعلق ہوں یا عبادت یا اخلاق سے، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی وہ سب میدانوں میں (ان کے حل بتاتا ہے)۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ہر شے کو کھول کر بیان کرتی ہے اور وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو جانے والوں کے لیے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے۔‘‘

قرآنِ حکیم کا بیان بلیغ کبھی تو نص و تصریح سے ہوتا ہے، کبھی اشارہ و تلمیح سے، جس سے مجتہدین کے لیے ہر مسئلے میں استنباطِ احکام اور ہر مشکل کے حل کے لیے میدان کھل گئے۔ وہ امر جو قرآن کر سرچشمہ عطا ہونے اور ہر زمانے اور ہر جگہ دین کی بہترین کو ضامن ہے، وہ قرآن کے ہر چیز کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا کتابِ ہدایت و رحمت ہونا بھی ہے۔ 

مگر (سوال یہ ہے کہ) ہم اس سے اپنے احکام کیسے اخذ کریں جبکہ امتِ اسلامیہ اس حقیقی آئین سے اب تک اپنے جملہ قوانین (بنانے) کے لیے مدد لیتی رہی ہے۔ بلاشبہ استنباط (کی صورت) میں وضعِ قوانین ایک نوع کا اجتہاد ہی ہے، خواہ وہ فقہی مسالک کے ذریعے ہو یا اصلی شرعی دلائل کے ذریعے۔ استنباط کی صورت کوئی سی بھی کیوں نہ ہو اس کے لیے درج ذیل شرائط ضروری ہیں۔ 

  1. علومِ قرآن مکی، مدنی، ناسخ، منسوخ، اور محکم و متشابہ وغیرہ آیات سے مکمل آگاہی۔
  2. قرآن کے اجمال کی تفصیل اور قرآن کے مبہم کی وضاحت کے لیے سنت نبویؐ کی پہچان بھی ناگزیر ہے۔ 
  3. نص کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے علوم سے پوری آگاہی (ضروری ہے) کیونکہ ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہوتے ہیں اور ایک معنی کے لیے متعدد الفاظ۔ عربی زبان الفاظ و اسالیب کے اعتبار سے بہت وسیع ہے۔ 
  4. جو شخص قرآن کریم سے براہِ راست شرعی احکام کا استنباط کرنا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قواعدِ استنباط سے آگاہی حاصل کرے۔ چنانچہ جس شخص میں بلاواسطہ استنباط کی شرطیں وافر ہوں گی، جب اس میں مذکورہ صلاحیتیں اور دوسری استعدادیں بھی پائی جائیں تو اس کے لیے استنباط کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ یہی طریقہ ائمہ مجتہدین کا تھا۔ جو اجتہاد کی صلاحیت نہ رکھتا ہو وہ علماء مجتہدین سے دریافت کرے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے دریافت کر لو۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تحصیلِ علم اور فقہ کا شوق دلایا ہے۔ فرمایا: ’’اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے‘‘۔ آپؐ نے نہ جاننے کے باوجود علم کا دعوٰی کرنے اور فتوٰی دینے سے خوف دلایا ہے۔ فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ بندوں سے علم یک لخت نہیں کھینچ لیتا بلکہ علماء کے اٹھا لینے سے علم اٹھا لے گا تا آنکہ جب کوئی عالم باقی نہ رہ جائے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار (پیشوائے دین) بنا لیں گے۔ وہ انہیں بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے دوسروں کو بھی گمراہ کریں ۔‘‘

تقلید کا حکم

جب اجتہاد کا یہ حکم ہے اور مجتہد میں مختصرًا ان شرائط کا بکثرت پایا جانا ضروری ہے تو جو شخص بہتر طور پر اجتہاد نہ کر سکتا ہو اور نہ ہی اس میں یہ شرطیں کثرت سے پائی جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ وہ دوسرے کی تقلید کرے یا نہ کرے؟ کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی مسلک سے وابستگی رکھے؟ کیا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مشہور اور معروف مسالک میں سے کسی خاص مسلک سے وابستہ رہے؟

تقلید کے بارے میں علماء کے تین قول ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے: 

  1. اوّل: تقلید بالکل جائز نہیں کیونکہ ہر مسلمان مکلّف پر واجب ہے کہ وہ اپنے امورِ دین میں اس کے صحیح مآخذ سے استفادہ کرے اور پیش آمدہ واقعات میں اجتہاد کرے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرنے کے بعد اس کا اجتہاد جس نتیجے پر پہنچائے اس پر عمل کرے۔ 
  2. دوم: اجتہاد کا جائز نہ ہونا اور تقلید کا واجب ہونا — اس قول کے لیے دلیل یہ ہے کہ وہ ائمہ مجتہدین جن کے سپرد امت نے یہ کام کیا تھا وہ تو گزر چکے، ان کے بعد اجتہاد درست نہیں، اب ان کی تقلید واجب ہے۔ 
  3. سوم: جو درجہ اجتہاد کو نہ پہنچ سکے اس پر تقلید کا واجب ہونا۔

ان اسباب کی بنا پر جن کو ہم اختصارًا ذیل میں درج کرتے ہیں، یہی رائے پختہ ہے۔ 

اولًا: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کے امورِ دین سے متعلق تنگی دور فرما دی ہے۔ سورۃ حج میں ارشاد ہوتا ہے ’’اور تم پر دین کے سلسلے میں کوئی تنگی نہیں‘‘۔ اگر اجتہاد ہر مسلمان پر واجب ہوتا جیسے کہ پہلی رائے والوں کا کہنا ہے تو لوگ سخت تنگی میں پڑ جاتے اور ان کے مفادات کا حصول رک جاتا کیونکہ ہر مسلمان ذاتی طور پر احکامِ دین میں اجتہاد کا اہل نہیں بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کسی مسئلے میں نہ جاننے والے کو اس سے پوچھنے کا حکم دیا ہے جو اسے جانتا ہے۔ سورہ انبیاء میں فرمایا:

’’اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر (جاننے والوں) سے (مسئلہ) پوچھ لو‘‘۔ 

یہ فرمانِ الٰہی لوگوں کے علم اور تحصیلِ علم میں فرق پر واضح دلیل ہے۔ یعنی جو نہیں جانتا اسے جاننے والوں سے پوچھنا ضروری ہے، ورنہ پوچھنے پر جواب دینے سے متعلق اس آیت کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ اسی وجہ سے ہر مسلمان کو تقلید سے منع کرنے اور اس پر اجتہاد کے واجب ہونے کا قول قرآنی نص کے خلاف ہے۔ 

ثانیاً: صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ سارے کے سارے مجتہد نہ تھے، ان میں سے عام لوگ اجتہاد کرنے والوں کی طرف رجوع کرتے تھے، اچانک پیش آنے والے واقعات کے بارے میں ان سے فتوٰی پوچھتے۔ ان کا پوچھنا کسی کو ناگوار نہ ہوتا بلکہ ان میں سے مجتہد حکمِ الٰہی کے مطابق سائلین کی تشفی کرتے۔ یہ منقول نہیں کہ ان پوچھنے والوں کو اجتہاد کا حکم دیا گیا۔ صحابہؓ سے اجماع کے طور پر یہ معلوم تھا کہ جو شخص کسی شرعی حکم نہ جانتا اسے اس حکم کے بارے میں اجتہاد کا مکلّف نہیں کیا جاتا تھا، اس پر لازم تھا کہ وہ اہلِ علم سے اس بارے میں پوچھے اور ان کے فتووں پر عمل کرے۔ تابعینؒ کا عمل بھی اسی طرح جاری رہا۔ 

ثالثاً: لوگ سمجھ بوجھ اور دلائل دینے کی قوت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ درآنحالیکہ دین میں اجتہاد کرنے اور مصادر سے احکام کے استخراج کے لیے کئی شرائط درکار ہیں بلکہ یہ تو ایک ایسی صلاحیت ہے جو سب مسلمانوں میں وافر نہیں۔ سو اگر کسی شخص کو ایسی تکلیف کا مکلّف کر دیا جائے جس کی اس میں طاقت نہ ہو تو یہ تکلیف بالایطاق ہو گی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صاحبِ استطاعت پر فرض کر دیا اور عام مسلمانوں سے تنگی اٹھا لی جیسے سورہ بقرہ کی آیت میں ہے:

’’اللہ کسی جان کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘۔ 

مزید برآں یہ کہ اگر ہر مسلمان پر اجتہاد فرض کر دیا جاتا تو مسلمان کے لیے لسانی و شرعی علوم کے لوازمات کی تحصیل کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہو جاتا اور یہ بات معاشی مفادات، ضروریاتِ زندگی اور معمولاتِ حیات سے کٹ جانے پر منتج ہوتی۔ یوں مفادات کے عدم حصول سے سوسائٹی کے نظام میں بگاڑ بلکہ تباہی پیدا ہو جاتی۔ مزید برآں حق سبحانہ تعالیٰ کا سورۂ توبہ کی اس آیت ۳ میں یہ فرمان ہے:

’’پس کیوں نہ کیا گیا کہ مومنوں کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکل آئی ہوتی کہ دین میں فہم و بصیرت پیدا کرے اور (جب تعلیم و تربیت کے بعد) وہ اپنے گروہ میں واپس جاتی تو لوگوں کے (جہل و غفلت کے نتائج سے) ہشیار کرتی تاکہ برائیوں سے بچیں‘‘۔

یہ فرمانِ الٰہی دین میں سمجھ پیدا کرنے کے لیے ایک ایسے گروہ مسلمین کو خاص کر دینے کی طرف توجہ دلاتا ہے جو جامہ ابلاغ پہن کر دین کی طرف دعوت دے اور امورِ دین میں فتوٰی دے۔ اس وجہ سے ہر مسلمان کے لیے، جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچتا اور اس کے پاس اجتہاد کے لوازم بکثرت نہ ہوتے، بے حد ضروری تھا کہ ان ائمہ مجتہدین میں کسی ایک کی تقلید کرے جن کے مذاہب پھیلے، اقوال، اصول اور فروع معروف ہوئے اور ائمہ کرام نے ان کے اجتہاد کو سند قبول بخشی۔ بصورتِ دیگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل علم سے ان احکامِ شرعیہ کے بارے میں استفسار کرے جو اس سے پوشیدہ رہے یا اس کے علم میں نہیں آئے، خواہ وہ احکام عبادات سے متعلق ہوں، معاملات کے بارے میں ہوں، آداب کے بارے میں ہوں، یا سیرت اور چلن وغیرہ کے بارے میں ہوں۔ 

پھر یہ سوال آتا ہے کہ کیا مقلّد پر کسی مقررہ مسلک کی پابندی ضروری ہے؟ سچی بات وہی ہے جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں کہ کسی خاص مسلک کی پیروی اس حیثیت سے ضروری نہیں کہ اس سے نکلنا جائز نہ ہو۔ بلکہ یہ درست ہے کہ کسی مسئلہ میں امام ابوحنیفہؒ کے قول پر عمل کرے تو کسی دوسرے مسئلہ میں مالکؒ اور شافعیؒ کے قول پر عمل پیرا ہو۔ یہ یقینی بات ہے کہ صحابہؓ اور ما بعد کے ہر زمانے میں فتوٰی پوچھنے والے ایک مرتبہ ایک مجتہد سے مسئلہ پوچھتے تھے تو دوسری مرتبہ دوسرے مجتہد سے استفسار کرتے تھے، کسی ایک ہی مفتی کا التزام نہیں کرتے تھے۔ اس طرح اگر کوئی مقلّد کسی خاص مسلک کا پابند ہو گا تو اپنی تقلید میں ہمیشہ اس کا پابند نہ رہ سکے گا۔ 

آمدی، ابن حاجب، کمال بن ہمام، رافعی وغیرہ نے یہی طرزِ فکر اپنایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی مسلک سے وابستگی واجب نہیں کیونکہ واجب تو وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے واجب قرار دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے یہ واجب نہیں گردانا کہ کوئی شخص مجتہدین میں سے کسی امام معین کے مسلک سے تمسک کرے، دین میں صرف اسی کی تقلید کرے اور اس کے علاوہ دوسرے سب کو چھوڑ کر اس مقرر کردہ طریقے کو اپنائے۔ کمال ابن ہمام کی ’’التحریر‘‘ کی شرح لکھتے ہوئے ابن امیر حاج نے اس ضمن میں جو کچھ لکھا ہے وہ یہ ہے:

’’پھر اصول ابن مفلح میں ہمارے بعض اصحاب (یعنی حنابلہ، مالکیہ، شافعیہ) نے ذکر کیا ہے کہ کیا کسی مسلک کو اختیار کیا جا سکتا ہے؟ اس کی رخصتوں اور عزیمتوں کو لیا جا سکتا ہے؟ اس میں دو رائیں ہیں۔ ان میں مشہور تو یہ ہے کہ نہیں (کسی خاص مسلک کو نہیں اپنایا جا سکتا) جیسے کہ جمہور علماء کا خیال ہے۔ پس (اس معاملے میں) بہتر لے لینا چاہیے ۔۔۔۔ بعض پیروان امام احمد بن حنبلؒ سے منقول ہے کہ امام نے فرمایا (کسی خاص مسلک کی) رخصتوں اور عزیمتوں کے اخذ کرنے میں التزام کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم (تعلیمات نبوی) کی اطاعت کے خلاف ہے اور یہ بات اجماع کے خلاف ہے۔ ابن حاج نے اس کے جواز کے بارے میں توقف کیا، پھر نقل کیا۔ ’’قرون فاضلہ (قرون مشہود لہا بالخیر (بھلے زمانے)) اس قول کے بغیر ہی گزر گئے (یعنی کسی مقرر مسلک سے وابستگی کے قول کے بغیر) بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ) عامی کے لیے کوئی خاص مسلک درست ہی نہیں خواہ وہ کسی بھی مسلک سے وابستہ کیوں نہ ہو جائے۔ وجہ یہ ہے کہ کسی مذہب کا پیرو صرف وہی شخص بن سکتا ہے جس کا اپنے خیال کے مطابق اپنے مسلک کے بارے میں ایک اندازِ نظر ہو، طرزِ استدلال ہو اور زاویۂ نگاہ ہو، یا وہ شخص جس نے اس مسلک کے فروعی مسائل کی کوئی کتاب پڑھی ہو اور اپنے امام کے فتوے اور اقوال کو جانتا ہو، اور جو شخص اس کی قطعی اہلیت نہیں رکھتا صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ میں حنفی ہوں یا شافعی وغیرہ ہوں، وہ محض یوں زبانی کلامی کیوں اصرار کرتا ہے ۔۔۔۔ الخ‘‘

اولی الامر کون ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

’’اے اہل ایمان اللہ کی اطاعت کرو، اس کے رسول کی فرماں برداری کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی ۔۔۔ الخ‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ بھی ہے:

’’اور اگر یہ لوگ اسے رسولؐ کے یا اپنے میں سے صاحبانِ امر کے حوالے کر دیتے تو ان میں سے جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کی حقیقت بھی جان لیتے۔‘‘

وہ صاحبانِ امر کون لوگ ہیں جنہیں حقِ استنباط حاصل ہے؟ کہا گیا وہ لوگ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا امت نے بیعت کر کے حکومت سونپی ہو۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں: اولوالامر جس پر کہ مفسرین و فقہاء وغیرہ میں سے جمہور سلف ہیں، وہ ہیں جو والی اور امیر ہیں اور ان کی فرمانبرداری اللہ نے ضروری قرار دی ہے۔ 

ایک قول یہ ہے کہ وہ عام لوگ ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس سے مراد علماء و امراء (دونوں) ہیں۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ وہ حکام، امراء اور والی ہیں۔ اس طرح اولو الامر ایسے اہل رائے اور اہلِ علم ہیں جو لیجسلیٹو اسمبلی کے نمائندے ہیں کیونکہ جب اسلامی نظام مجلسِ شورٰی پر قائم ہو گا تو حکام اور فرمانروا ان سے ان معاملات میں مشورہ طلب کریں گے جن کے بارے میں کوئی صریح حکم وارد نہیں ہوا۔ اگر ان میں اختلاف واقع ہوا تو اسے قرآن اور آپؐ کی حین حیات سیرت اور آپؐ کے اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملنے کے بعد آپؐ کی سنت کے مطابق رکھا جائے گا۔ تنازع کی صورت میں یہی دونوں (قرآن و سنت ہی) ثالث ہوں گے۔ 

انتخابِ فرمانروا کے بارے میں امت کا موقف

اسلامی حکومت کا قائم کرنا، ان معنوں میں کہ مسلمانوں کے معاملات کی سپردگی کے لیے حاکم مقرر کیا جائے، یہ ایک امرِ واجب ہے جس پر صحابہ کرامؓ کے زمانے سے مسلمانوں کا اجماع رہا ہے۔ اس کام کی اہمیت کے پیشِ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلا کام جس میں صحابہؓ مشغول ہوئے یہی تھا۔ ابھی آپؐ کی تدفین نہیں کی تھی کہ وہ انتخابِ خلیفہ سے فارغ ہو گئے۔ الماوردی نے ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں لکھا ہے، جب امامت کا وجوب ثابت ہو جائے تو یہ جہاد اور طلبِ علم کی طرح فرض کفایہ ہو گا۔ جب وہ شخص جو اس کا اہل ہے یہ فرض ادا کرنے پر راضی ہو جائے گا تو سب لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔ اگر کوئی بھی اس فریضے کو اپنے ذمے نہ لے تو لوگوں میں سے دو فریق نکلیں۔ پہلا فریق، انتخاب کرنے کے اہل لوگ تا آنکہ امت کے لیے امام منتخب کریں۔ دوسرا، امامت کے اہل لوگ تا آنکہ ان میں سے ایک امامت کے لیے اٹھے۔ 

مطلب یہ کہ وہاں کچھ رائے دہندگان ہوں گے اور کچھ امامت کے امیدوار۔ رائے دہندگان کی جو شرطیں ذکر کی گئی ہیں ان میں دوسری شرطوں کے ساتھ سب سے اہم چیز عدالت ہے۔ اور امامت کے مستحق کے لیے دوسری شرائط کے ساتھ جس علم کا جاننا ضروری ہے وہ (اصابت) رائے اور (گہری) حکمت ہے جو بہترین امیدواروں کے چناؤ پر منتج ہوتی ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ رائے دہندگان خلق، امانت، ذمہ داری اور حسنِ سیرت کی خاص سطح کے آدمی ہوں۔ جو شرطیں امیدوار میں پائی جانی چاہئیں ان سے خوب باخبر ہوں، نہ صرف یہ بلکہ امیدواروں میں تجربہ و دانائی کے موازنہ کرنے کا علم و ادراک رکھتے ہوں۔ ان میں سے (جو کسی امیدوار میں پائی جانی چاہئیں) اہم ترین شرطیں یہ ہیں۔ وہ منصف ہو، بحرانوں میں اجتہادی اہلیت کا علم رکھتا ہو، رعایا کی قیادت اور مفادات کی تدبیر پر منتج ہونے والی رائے کا مالک ہو۔ 

بلاشبہ رائے دہندگان اور امیدواروں کے لیے وضع کردہ یہ شرائط اور پیمانے ان تمام رخنوں کو بند کرنے کے لیے کافی ہیں جن کی انتخابات کی سرگرمیوں کے دوران میں اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں، کسی بھی مقصد کے لیے کسی بھی شکل کے جو سوالات پوچھے جاتے ہیں وہ ختم ہو جاتے ہیں۔ 

مساوات اور دیانت، یا علم اور خلق، یا ہر دو میں یہ شرائط خاص ہو جاتی ہیں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے جب مصر کے سربراہ مالیات ہونے کی خواہش کی تھی کہ ’’میں محافظ اور باخبر ہوں‘‘ تو ان کا یہ قول ان شروط کا جامع ہے۔ اور قرآن پاک میں بوڑھے بزرگ کی بیٹی کی بات جو اس نے حضرت موسٰیؑ کے بارے میں کی کہ ’’اچھا نوکر وہ ہے جو قوت والا اور امانت دار ہو‘‘ (بھی ان شروط کا جامع ہے)۔

جب امام کا انتخاب ہو چکے تو اچھے کاموں میں اس کی بات کے سننے اور ماننے کی بیعت ہو گی، جبکہ اس کے مقابلے میں امام جماعت مسلمین کے سامنے اپنے فرائض کی انجام دہی کرے گا۔ عصرِ حاضر کے طریق ہائے انتخاب میں سے کوئی بھی طریق انتخاب کافی ہے کیونکہ جس نے کسی کے حق میں ووٹ دے دیا گویا وہ اس کی امانت پر راضی ہو گیا تو اس کی اطاعت لازم ہو گئی۔ بیعت اپنے معروف معنوں میں لوگوں اور خلیفہ، امام، امیر یا حاکم کے درمیان ہو گی۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی بیعتیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک بیعت تو وہ ہے جو انصار مدینہ نے عقبہ کی شب مکہ میں کی تھی۔ ایک بیعت وہ ہے جو خواتین نے کی تھی۔ ایک بیعتِ رضوان ہے جو حدیبیہ میں درخت کے نیچے ہوئی تھی۔ ان میں وہ بیعتیں نہیں جو انفرادی طور پر لوگوں نے کیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا، ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر سننے اور ماننے کی بیعت کرتے تھے۔ آپؐ ہم سے فرماتے ’’(اس بارے میں بیعت کرو) جس کی تم میں استطاعت ہو‘‘۔

بیعت (دراصل) قوم اور قوت کے درمیان نیکی کے کاموں میں تعاون ہے۔ جب بیعت ہو چکے تو اس کا لازم پکڑنا ضروری ہے۔ جب تک حاکم راہِ راست پر رہے اس کا نہ ٹوٹنا ضروری ہے۔ یہ اس لیے کہ بغیر کسی صحیح وجہ کے بیعت کر کے اس کا توڑ دینا اور وعدے کی پاسداری نہ کرنا جماعت سے خروج (کے مترادف) ہے۔ اس میں وہ فتنہ ہے جو قوم کی قوت کو کمزور کر دیتا ہے اور دشمنوں کے لالچ کے لیے میدان وسیع ہوتا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں اس کے بارے میں بڑے واضح احکام آئے ہیں۔ 

مسلمانوں کا اس حکام کے بارے میں موقف جو بغیر انتخاب کے حاکم بن بیٹھا ہو

کبھی بغیر بیعت، بغیر امیدواری اور بغیر انتخاب کے بھی حکومت پر قبضہ و اختیار ہو جاتا ہے۔ اگر حاکم مسلمان ہو تو بھلے کاموں میں اس کی اطاعت واجب ہے۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص جو جلیل القدر صحابی تھے، سے کسی سوال کرنے والے نے حضرت معاویہؓ کے بارے میں پوچھا، جو اقتدار پر قابض ہو گئے تھے اور جنہوں نے حضرت علیؓ اور ان کی جماعت سے پنجہ آزمائی کی تھی، آپؓ نے فرمایا جب وہ اللہ کی فرمانبرداری کریں ان کی فرمانبرداری کرو، اور جب اللہ کی نافرمانی کریں تو ان کی نافرمانی کرو۔ آپ نے ان سے لڑنے اور ان سے خروج کا فیصلہ نہیں فرمایا۔ سہلؓ بن عبد اللہ تستری سے بھی ایسا ہی سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ان کی بات قبول کرو، اپنے جس حق کا وہ تم سے مطالبہ کریں تمہیں وہ ادا کرنا ہو گا، نہ تم ان کے کاموں سے انکار کرو نہ ان سے راہِ فرار اختیار کرو۔ 

ابن خویز مندادؒ نے کہا، اس کی بیعت پوری کرنی ہو گی جو حکومت پر آ دھمکے۔ حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا، فقہاء اس امر پر متفق ہیں کہ اقتدار پر قابض ہو جانے والے سلطان کی اطاعت لازم ہے اور اس کے ساتھ مل کر جہاد کرنا ضروری ہے۔ اس کی اطاعت اس کے خلاف خروج سے بہتر ہے کیونکہ خونریزی سے بچاؤ ہو گا اور بلوہ رکے گا۔ استثنائی صورت اس وقت ہو گی جب سلطان نے کھلا کفر کیا ہو۔ اس صورت میں اس کی اطاعت واجب نہیں بلکہ ہر صاحبِ مقتدرت کو اس کے خلاف جہاد کرنا واجب ہے۔ 

کافروں کا مسجد پر قبضہ

فرمان الٰہی ہے:

’’اور اگر نہ ہٹایا کرتا اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے تو ڈھائے جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں نام پڑھا جاتا ہے اللہ کا بہت اور اللہ ضرور مدد کرے گا اس کی جو مدد کرے گا اس کی بے شک اللہ زبردست زور والا ہے۔‘‘

فرمایا: 

’’وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی، جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو اور دیتا رہا زکوٰۃ اور نہ ڈرا سوائے اللہ کے کسی سے سو شاید ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

اسلام میں مسجدوں کی اہمیت کے بارے میں فقہاء نے ان کے احکام کو بیان کرنے اور ان کی تعمیر میں بڑی توجہ صرف کی ہے۔ ان کی حفاظت کرنے کی بڑی ترغیب دلائی ہے۔ مسلمانوں کے سلف صالحین نے ان پر خرچ کرنے کے لیے اوقاف قائم کئے تاکہ شعائر کے معطل و مختل ہو جانے کے پیش نظر یہ اوقاف بے آباد نہ ہو جائیں۔ 

مسجدوں کی حفاظت کی غرض سے اور ان کی عمارتوں کو قائم رکھنے کے لیے فقہ شافعی میں واضح احکام ہیں کہ جب لوگوں کے شہر سے نکل جانے، شہر کے ویران ہو جانے، یا مسجد کے ویران ہو جانے کی وجہ سے بھی مسجد کسی کی ملکیت قرار نہیں دی جا سکتی۔ تاہم محمد بن حسنؒ کے اختلاف کے علی الرغم نہ تو اس کا خریدنا جائز ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا تصرف روا ہے۔ 

مالکی فقہ میں بھی یہی صورتِ حال ہے، تاہم فقہائے مالکیہ نے مسجد کے بارے میں اس امر کی اجازت دی ہے کہ جب وہ ویران ہو جائے اور بگاڑ کی وجہ سے وہ ٹوٹ پھوٹ جائے، اس کی عمارت منہدم ہونے لگے تو اس کے بیچ ڈالنے میں کوئی حرج نہیں، اس کی قیمت سے کوئی دوسری مسجد خرید لی جائے گی۔ 

امام احمد بن حنبلؒ کی فقہ میں ہے کہ جب مسجد اس حال میں ہو جائے کہ اس سے مقصد براری نہ ہو رہی ہو مثلاً وہ اہل مسجد کے لیے اس قدر تنگ ہو جائے کہ اس کی توسیع ممکن نہ رہے، یا وہ علاقہ ہی برباد ہو جائے جس میں مسجد واقع ہے اور وہ مفید مطلب نہ رہے تو اس کا بیچنا جائز ہے اور اس کی قیمت کسی دوسری مسجد کی تعمیر میں صرف کر لینے کی اجازت ہے جس کی اپنی جگہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ 

فقہ حنفی میں ہے کہ جب مسجد ویران ہو جائے اور اس کو آباد کرنے والے نہ رہیں یا لوگ اس سے بے نیاز ہو کر دوسری مسجد تعمیر کر لیں، یا یہ کہ ویران تو نہ ہو مگر لوگ اس کے اردگرد سے چلے جائیں اور وہ اپنی بستی کے ویران ہو جانے کی وجہ سے مسجد سے بے نیاز ہو جائیں تو ۔۔۔۔۔ امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں میں سے شیخین یعنی ابویوسفؒ اور محمدؒ نے اختلاف کیا ہے۔ 

امام ابویوسفؒ نے فرمایا، وہ ہمیشہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی، اگر لوگ اس سے بے نیازی بھی اختیار کر لیں تو بھی وہ وقف کنندہ کی ملکیت میں نہیں جائے گی، کسی دوسری مسجد میں اس کا ملبہ اور اشیائے ضرورت لے جانا جائز نہیں۔ اکثر فقہاء نے ابویوسف کے قول کی تائید کی ہے اور ابن ہمام نے فتح القدیر میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ ان سے یہ روایت بھی کی گئی ہے کہ وہ مالک کی طرف نہیں لوٹے گی بلکہ اس کا ملبہ اور اشیائے ضرورت کسی دوسری مسجد میں صرف کی جائیں گی۔ صاحب اسعاف نے اسی فتوٰی کو پختہ قرار دیا ہے۔ بعد کے بہت سے علماء نے اسی کے مطابق فتوٰی دیا ہے۔ امام محمدؒ کا فتوٰی یہ ہے کہ وقف کرنے والے کی ملکیت میں چلی جائے گی بشرطیکہ وہ زندہ ہو، اور اگر وہ مر چکا ہو تو اس کے وارثوں کو وہ (ملبہ اور اشیائے ضرورت) منتقل ہو جائے گا۔ 

نتیجۃً متذکرہ تحریر سے مندرجہ ذیل اصول حاصل ہوتے ہیں:۔

اولاً: اسلامی شریعت اپنے ان کلّی اصولوں اور بنیادی قواعد کے ساتھ، جن کا مقصد ہمیشہ انصاف قائم کرنا ہے، مفادات کے تحفظ اور رفع حرج کی ذمہ دار ہے۔ اس کا مقصد حصولِ نفع اور دفعِ مضرت ہے تاکہ امت راہِ اعتدال پر سیدھی چلتی رہے۔ 

ثانیاً: سیاست شرعیہ ایک ایسا شعبہ ہے جو حکمرانوں کو امت سے متعلق اجازت دیتا ہے کہ وہ ایسے قوانین جاری کریں جو اس امت کے مفادات کو ثابت کریں اور حاجت مند کی پیش آمدہ ضرورت کو پورا کریں۔ اور وہ نئے نئے مسائل جن کے لیے کتاب و سنت، قیاس یا اجماع میں کوئی خاص دلیل نہیں ملتی اس کو پورا کریں۔ ان مسائل کے لیے قواعد کے ان مراجع سے رجوع کرنا ہوگا۔ دفعِ حرج، رفعِ ضرر، سدِ ذرائع کے اصولوں پر عمل، عرف، استصحاب، استحسان، مصالح مرسلہ۔

ثالثاً: اسلامی قانون سازی کے سرچشمے چار ہیں۔ ان میں سے دو تو ایسے ہیں کہ امت میں ان سے کسی کو اختلاف نہیں اور وہ ہیں قرآن اور سنت۔ دو ایسے ہیں کہ جمہور فقہاء ان کی حجیت پر متفق ہیں اور وہ ہیں اجماع اور قیاس۔ اور جو ان چار مآخذ کے علاوہ ہیں یعنی استحسان، استصحاب، مصالح مرسلہ، عرف، قولِ صحابی، اور ان مصادر کے بارے میں علمِ اصولِ فقہ میں خاصا اختلاف ہے۔ 

تاہم جہاں تک قولِ صحابی یا اس کے مذہب یا فتوٰی کا تعلق ہے، مثلاً علماء اس امر پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ صحابی کا مذہب اجتہاد کے مواقع پر دوسرے مجتہد صحابہ پر حجت نہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ تابعین اور ان کے بعد کے مجتہدین پر اس کے حجت میں اختلاف کیا گیا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ قولِ صحابی حجت نہیں۔ امام شافعیؒ کے دو فتووں میں سے ایک قول یہی ہے اور امام محمدؒ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت بھی یہی ہے۔ ان کے پیرو علماء کا نقطۂ نگاہ یہی ہے۔ بعض کا میلان اس طرف ہے کہ حجت کو قیاس پر تقدم حاصل ہے۔ امام مالکؒ کا یہی قول ہے اور امام شافعیؒ کی دو رایوں میں سے ایک یہی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کی دو روایتوں میں سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ اور بعض علماء حنفیہ کا بھی یہی نقطۂ نظر ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اگر (قولِ صحابی) قیاس کے خلاف ہو تو حجت ہے ورنہ نہیں۔ کچھ دوسرے علماء کی یہ رائے کہ حجت صرف ابوبکرؓ اور عمرؓ کے اقوال میں ہے باقی میں نہیں۔ بعض نے یہ اندازِ فکر بھی اختیار کیا ہے کہ قولِ (صحابی) قطعًا حجت ہے ہی نہیں۔

بلاشبہ جس میں صحابہ نے اجتہاد کیا اور انفرادی سطح پر فتوٰی دیا اور ان کے فتووں میں اس معاملہ میں اختلاف ہو تو ائمہ مجتہدین میں قانون سازی سے متعلق اس فتوٰی کے مقام و مرتبہ میں اختلاف ہے۔ 

امام ابوحنیفہؒ اور ان کے متبعین کی رائے یہ ہے کہ مجتہد کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحابہ میں سے کسی ایک کا فتوٰی لے لے اور کسی ایک ہی کے فتاوٰی پر انحصار نہ کر لے اور نہ ہی ان سب سے نکل جائے۔ امام مالکؒ عام صورت میں قولِ صحابی سے استفادہ کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ کے مسلک سے اتفاق کرتے ہیں۔ امام شافعیؒ اور ان کے متبعین کا مسلک یہ ہے کہ صحابہ کے فتوے جن میں رائے کو دخل ہو حجت نہیں۔ اسی وجہ سے ان سے منقول ہے کہ مجتہد کے لیے ضروری ہے کہ صحابہ سے انفرادی فتووں میں سے کوئی سا بھی فتوٰی لے اور وہ اس کے خلاف بھی فتوٰی دے سکتا ہے۔ 

یہ سب کچھ اس صورت میں ہے جس میں رائے سے ادراک کیا جا سکتا ہے اور یہی بہتر ہے۔ جس میں رائے کو دخل نہ ہو تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مرفوع حدیث کو لینا ہو گا، جمہور علماء کے نزدیک اس سے اخذ کرنا ضروری ہے اور جو امام شافعیؒ نے مذہب اختیار کیا ہے وہ زیادہ قابل قبول ہے، تاہم جس پر صحابی کی سنت کا اطلاق ہو یا بقول اس کے سنت سے ۔۔۔۔۔۔ تو اکثر فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ہی محمول کیا جائے گا۔ آمدی، شاطبی، کمال بن ہمام نے اسی بات کو اختیار کیا ہے۔ 

رابعًا: یہ کہ جو شخص براہِ راست قرآن و سنت سے شرعی احکام کے استنباط کرنے کا آرزومند ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ استنباط کے قواعد سے بھی آگاہ ہو اور اس میں اجتہاد کی شرطیں کثرت سے پائی جائیں اور وہ تمام ذاتی خصوصیات اس میں پائی جائیں جو مجتہد کے لیے ضروری ہیں تاکہ وہ صحیح استنباط کر سکے۔ ائمہ مجتہدین کا یہی طرزِ عمل تھا۔ 

خامساً: ہر مسلمان جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچے اور اس میں یہ خصوصیات و لوازم بھی نہ ہوں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید کرے جن کے مذاہب پھیلے اور جن کے اقوال، اصول اور فروع امت میں پھیل گئے، امت نے ان کے اجتہاد کو شرفِ قبولیت بخشا۔ یا پھر ان شرعی احکام کے بارے میں جو اس کی دسترس سے باہر ہوں یا اس کے علم میں نہ ہوں، اہلِ علم سے فتوٰی دریافت کرے، عبادات، معاملات، آداب اور اخلاق وغیرہ (کے جملہ مسائل اس ضمن میں) سب برابر ہیں۔ 

سادساً: جمہور علماء کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مقلد پر کسی خاص مسلک کو لازم پکڑنا ضروری نہیں، اس صورت میں کہ وہ اس (تقلید) سے کبھی باہر ہی نہ آئے۔ بلکہ اس کے لیے یہ حکم ہے کہ مثال کے طور پر وہ کسی مسئلہ میں ابوحنیفہؒ کے قول پر عمل کرے اور دوسرے میں امام مالکؒ یا امام شافعیؒ کے قول پر عمل پیرا ہو۔ یہ بات یقینی ہے کہ صحابہ کرامؓ کے زمانے اور بعد کے ہر دور میں مسئلہ پوچھنے والے ایک مرتبہ ایک مجتہد سے مسئلہ دریافت کرتے تو دوسری بار دوسرے مجتہد سے مسئلہ پوچھتے، کسی ایک مفتی سے التزام کے ساتھ مسئلہ نہیں پوچھتے تھے۔ یہ بات ان مواقع پر نہیں جہاں ایک ہی عمل میں مختلف مذہبوں کے اقوال کے درمیان مطابقت ناممکن ہے، برعکس اس کے کہ جو علمِ اصولِ فقہ میں اپنے مقام پر واضح بات ہے۔ 

سابعاً: علمائے کرام کی آراء میں سے قابل ترجیح یہ ہے کہ اولی الامر، اہل الرائے اور اہل علم ہوتے ہیں۔ (یہی وہ لوگ ہیں) جو تشریعی اقتدار کے نمائندے ہوتے ہیں اور یہ کہ حکمرانوں اور گورنروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان معاملات میں، جو واضح نہ ہوں یا ان کے بارے میں کوئی نص (قطعی) وارد نہ ہوئی ہو، حکم کو واضح کریں۔ 

ثامنًا: یہ کہ حکمرانوں کا انتخاب فرضِ کفایہ ہے۔ اس پر دورِ صحابہؓ سے لے کر (آج تک) مسلمانوں کا اجماع ہے۔ یہ ان امیدواروں اور رائے دہندگان کے وجود کا تقاضا کرتا ہے جن میں خاص شرطیں وافر موجود ہوں اور یہ کہ رائے دہندگان اور امیدواروں کے لیے وضع کی گئی شرطیں اور معیار ان شکایتوں کی رخنہ بندی کے لیے کافی ہیں جن کا عوام اظہار کرتے ہیں۔ یہ مقام ایسا ہے کہ اس میں قرآن و سنت کا کوئی تفصیل واضح حکم نہیں، یہیں سے عدل و انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کے انتظام کے لیے قانون سازی میں اجتہاد کا جواز پیدا ہوتا ہے، یہیں سے حاکم عادل کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔ 

تاسعاً: یہ کہ جب سربراہ کو اختیار تفویض ہو چکا تو نیک کاموں میں حاکم کی بیعت کی جائے کہ (بیعت کنندگان) اس کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے۔ اس کے مقابلے میں حاکم جماعت مسلمین کے سامنے اپنے فرائض (کی بجا آوری) کا جواب دہ ہو گا۔ جب قوم اور ہیئت مقتدرہ کے درمیان بیعت ہو چکے تو ضروری ہو گا کہ اسے لازم پکڑا جائے اور جب تک حکمران راہِ راست پر رہے اسے توڑا نہ جائے۔ 

عاشر: اسلام کے واضح احکام نے بیعت سے رکے رہنے سے چوکنا کیا ہے خواہ وہ بلااواسطہ طریقے سے ہو یا بالواسطہ طریقے پر۔ کیونکہ بلاوجہ بیعت نہ کرنا اور اس سے دست کش رہنا جماعت کے خلاف خروج کے حق کو ثابت کرنا ہے، اس میں فتنہ ہے جس سے سوسائٹی کمزور ہوتی ہے۔ 

حادی عشر: سنت کے واضح احکام اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ جب جماعت امام کے خلاف خروج کرے تو امام کی نصرت واجب ہے تاکہ مسلمانوں کا شیرازہ نہ بکھرے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان فرمانرواؤں کے خلاف محض ظلم اور فسق کی وجہ سے بغاوت نہیں کی جائے گی جب تک وہ اصولِ اسلام میں کوئی تغیر و تبدل نہ کریں۔ جب کہ حاکم کی بغیر امیدواری اور آزمائش کے حکمرانی (ثابت) ہو چکے تو فقہائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ غالب آ جانے والے سلطان کی اطاعت واجب ہے۔ اس کے ساتھ مل کر جہاد واجب ہے اور یہ کہ اس کی اطاعت اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے بہتر ہے بجز اس کے کہ اس سے واضح طور پر کفر کا ارتکاب ہو (بایں صورت) اس کی اطاعت واجب نہیں۔ 

جمہور علماء کی رائے ہے کہ جب لوگوں سے شہر کے ویران ہو جانے کی وجہ سے مسجد خالی ہو جائے یا جب مسجد ویران ہو جائے، لوگ اس سے بے پرواہ ہو جائیں اور وہ (مسجد) شعائر (دین) ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو (بھی) ہمیشہ تا قیامِ قیامت وہ مسجد ہی رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کے ویران ہو جانے سے اس کی صفیت مسجدیت (اس کے مسجد رہنے کا خاصہ) اس سے چھن نہیں جاتی الّا یہ کہ جب اس کے بگڑ جانے کی وجہ سے اس کے منہدم ہونے کا خوف دامن گیر ہو اور اس کی عمارت ہل گئی ہو تو اس کو دوسری مسجد کی طرف منتقل کر دینا جائز ہے، اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے دوسری مسجد بنانے میں مدد لینا جائز ہے۔ 

جب ایسا ہو تو گذشتہ (سطور) کی بنیاد پر، خط میں لکھے گئے سوالات کا جواب درج ذیل طریق پر ہوگا۔ 

پہلا سوال اور اس کا جواب:۔ اسلامی قوانین کے وضع کرنے کا حق کس کو حاصل ہو گا؟

کسی بھی شہر میں اسلامی قوانین دو مرحلوں کا تقاضا کرتا ہے۔ 

پہلا مرحلہ: یہ کہ قوانین سازی کے اس معاملے کو اسلامی شریعت کے علمائے ماہرین اور دوسرے ان علوم کے تجربہ کار علماء کے سپرد کر دیا جائے جو قانون سازی کے لیے لازمی ہیں۔ یہ کہ قوانین سازی کے اس معاملے کو اس کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے جو ایک طرف اسلامی شریعت کے علماء پر مشتمل ہو تو دوسری طرف ایسے علوم کے تجربہ کار علماء پر مشتمل ہو جو (علوم) قانون سازی کے لیے ضروری ہیں اور ان علماء میں وہ شرائط وافر موجود ہوں جو انہیں اس کام کے کرنے کا اہل بنائیں تاکہ اگر یہ کمیٹی کوئی منصوبہ بنائے تو وہ (منصوبہ) مطلوبہ قانون سازی کی گارنٹی دے سکے۔ 

دوسرا مرحلہ: یہ کمیٹی اس منصوبے کو قانون ساز اسمبلی میں دستوریہ کے پروگرام کے مطابق پیش کرے گی تاکہ قانون سازی صحیح قانونی شکل اختیار کر سکے اور قانون حکومت کی اسکیم کے مطابق ڈھل سکیں۔ 

دوسرا سوال اور اس کا جواب:۔ کس مذہب کے مطابق قانون بنائے جا سکتے ہیں؟

خصوصی کمیٹی کے لیے ضروری ہے کہ شریعتِ اسلامیہ سے مدد لے کر قانون سازی کا منصوبہ روبہ عمل لائے تاکہ وہ اس مذہب کی رعایت رکھے جس پر کسی اسلامی علاقے میں لوگوں کی غالب اکثریت کا عمل ہے تاکہ مسلمانوں کے لیے سہولت پیدا ہو سکے۔ اور وہ کمیٹی یہ خیال رکھے کہ ایسے حالات پیدا کرے جو قرآن و سنت کے ظاہری احکام سے نہ ٹکراتے ہوں۔ 

چونکہ پاکستان میں غالب اکثریت کا معمول بہٖ حنفی مذہب ہے جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے تو بہتر یہی ہے کہ جماعت اسی کو لازم پکڑے، اسی سے اخذ و استفادہ کرے اور قانون سازی کے معاملات میں اسی کی طرف رجوع کرے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ کمیٹی بعض حالات میں دوسرے اسلامی مذاہب کے کسی قول یا اقوال سے بھی اخذ و استفادہ کرے جیسے جعفری مذہب جس کا اشارہ سوال میں موجود ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ایسا اجتہاد کے موقع پر کیا جائے ورنہ یہ بات صریح شرعی احکام سے متعارض ہو گی یا پھر شریعتِ اسلامیہ میں عام اصولوں کے خلاف ہو گی۔

تیسرا سوال اور اس کا جواب:۔ اسلامی قانون سازی کا منبع و ماخذ کیا ہو گا؟

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ قانون سازی کے ذرائع چار ہیں۔ دو تو ایسے ہیں کہ امت میں ان کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں، وہ قرآن اور سنت ہیں۔ جمہور فقہاء جن دوسرے دو کی حجیت پر متفق ہیں وہ دونوں اجماع اور قیاس ہیں۔ جبکہ بعض دوسرے محولہ بالا ذرائع کی حجیت پر فقہاء کا اختلاف ہے۔ جن مصادر کی حجیت میں اختلاف ہے ان میں سوال میں مذکور ایک قولِ صحابی ہے۔ صحابہ کے پیشرو اہل بیت اور خلفاء اربعہ ہیں۔ علماء اس امر میں اتفاق رکھتے ہیں کہ اجتہاد کے موقعوں پر صحابی کا مذہب، اس کا قول یا فتوٰی مجتہد صحابہ میں سے کسی کے خلاف حجت نہ ہو گا۔ جہاں تک تابعین اور ان کے بعد کے مجتہدین کے خلاف اس کی حجیت کا تعلق ہے اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔ ذیل میں وہ اختلاف درج ہیں۔

ایک گروہ تو کہتا ہے کہ وہ حجت نہیں۔ امام شافعیؒ کے دونوں قولوں میں سے ایک قول یہی ہے۔ امام احمدؒ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت بھی یہی ہے۔ وہ علماء بھی اس میں شامل ہیں جنہوں نے ان دونوں کی پیروی کی درآنحالیکہ ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ حجت ہے جسے قیاس پر تقدم حاصل ہے اور یہ امام مالکؒ کی رائے ہے۔ امام شافعیؒ کا ایک قول بھی یہی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کی ایک روایت بھی یہی ہے اور بعض علمائے احناف کا بھی یہی مسلک ہے۔ (یہ ایسے ہی ہے) جس طرح فقہاء کی آراء میں صحابہ کے اجتہاد کے بارے میں اختلاف ہے اور انہوں نے انفرادی فتوے دیے ہیں۔ ان کے فتووں میں اس حالت میں اختلاف ہے کہ دو اماموں امام ابوحنیفہؓ اور امام مالکؒ کی رائے یہ ہے کہ کوئی شخص مجتہد صحابہ میں سے جس کا فتوٰی چاہے لے لو اور کسی خاص شخص کی پابندی نہ کرے، اور نہ ہی ان سب سے بالکل آزاد ہو جائے، درآنحالیکہ امام شافعیؒ اور ان کے متبعین کی رائے یہ ہے کہ صحابہ کے وہ فتوے جن میں رائے کو دخل ہو حجت نہیں ہیں۔ سوسائٹی کے لیے ضروری ہے کہ صحابہ کے انفرادی فتووں میں سے کوئی سا فتوٰی لے لے، اسے یہ بھی حق پہنچتا ہے کہ ان فتووں کے خلاف فتوٰی دے۔ جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے جس میں رائے کو دخل نہ ہو تو اس کا حکم تو مرفوع حدیث کا ہوتا ہے جیسے اس پر صحابی کی سنت کا اطلاق نہ ہو گا یا اس قول کا اطلاق نہ ہو گا (فلاں کی سنت سے ۔۔۔۔۔) قولِ مختار یہ ہے کہ اسے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر محمول کیا جائے گا۔ 

جن حکمرانوں پر ان قوانین کی تیاری کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعت کے مقاصد کا تحفظ کریں اور جس امر میں کتاب، سنت، اجماع یا قیاس سے کوئی خاص دلیل نہ پائیں اس میں امت کی بہتری کا خیال رکھیں، ان پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عرف، استحسان، استصحاب، مصالح مرسلہ وغیرہ کے اصولوں کو ان کے مواقع اور شرائط کے ساتھ لیں جس طرح کہ وہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں وارد ہیں۔ 

چوتھا سوال اور اس کا جواب:۔ شرعی منتخب حکومت اور غیر منتخب حکومت کے بارے میں قوم کا کیا موقف ہو گا؟

جب حکمران کی بیعت آزادانہ طریقوں کے مطابق بلاواسطہ یا بالواسطہ طریقے پر ہو چکے تو اس سے تمسک کرنا، اس کا نہ توڑنا، یا وعدہ خلافی نہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے جب تک کہ حاکم راہِ راست پر رہے۔ کیونکہ اس طرح (نقضِ بیعت سے) جماعت سے خروج واقع ہو گا اور اس میں فتنہ ہے جس سے مسلم سوسائٹی کی طاقت کمزور ہو گی۔ حکمرانوں کے خلاف، جب تک کہ وہ قواعد اسلام میں سے کسی قاعدے کو بدل نہ ڈالے، صرف ظلم اور فسق کی وجہ سے بغاوت جائز نہیں۔ 

تاہم اقتدار پر تسلط، انتخاب یا امیدوار بنے بغیر، یا آزادانہ انتخاب کے بغیر مسلمان حکمران اپنی حکومت قائم کرے جیسا کہ سوال میں ہے تو (اس صورت میں) فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ایسے حاکم کی اطاعت واجب ہے اور اس کے ساتھ مل کر جہاد کرنا بھی فرض ہے۔ اس کی اطاعت کرنا اس کے خلاف بغاوت کرنے سے بہتر ہے کیونکہ ایسا کرنے سے خونریزی رکے گی، فتنوں کا قلع قمع ہو گا اور امن و امان قائم ہو گا۔ صحابہ میں سے اکثر کا عمل اسی پر تھا۔ گذشتہ سطور میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے۔ 

قوم کے ہر فرد پر واجب ہے کہ معاملہ حکمران کے سامنے پیش کر دیں، اسے احسن طریق پر سمجھائیں اور اس سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق حکومت چلائے۔ اگر وہ ان کی ترجمانی نہ کر سکے تو ان کے لیے ضروری ہے کہ صبر و تحمل سے کام لیں اور امت کی وحدت و اتحاد کی خاطر افتراق یا اطاعت سے نکل جانے سے باز رہیں۔ 

پانچواں سوال اور اس کا جواب:۔ مسجد کا حکم کیا ہے جبکہ وہ غیر مسلموں کے قبضے میں ہو؟

سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اور اگر اللہ لوگوں کا زور ایک دوسرے سے نہ گھٹاتا رہتا تو نصارٰی کی خانقاہیں اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے سب منہدم ہو گئے ہوتے اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا۔ بے شک اللہ قوت والا اور غلبہ والا ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ کا اقتضا یہ ہے کہ اس کی مسجدیت کا ختم ہو جانا بجز ضرورت کے جائز نہیں۔ یہیں سے جمہور فقہاء کا قول یہ ہے کہ مسجدیت کا خاصہ کسی مکان سے جو مسجد بن چکا ہو زائل نہیں ہوتا۔ اسی لیے (حکم یہ ہے) کہ جب مسجد غصب ہو جائے اور غیر مسلموں کے قبضے میں چلی جائے تو جب بھی حالات اجازت دیں اس کا (ان کے قبضے میں چلے جانے سے) بچاؤ کرنا اور اس کو واپس لینا واجب ہے جبکہ مسلمان ایسا کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔

تاہم شرط یہ ہے کہ کوئی شدید ضرر وقوع پذیر نہ ہو یا ایسی مقامی جنگ نہ چھڑے جو حکومت کو ضرر پہنچائے۔ اسی (قیاس) کے مطابق جن مسجدوں کو قادیانیوں نے غصب کر لیا ہے یا سکھوں کے قبضے میں ہیں تو اگر مسجدیت کی صفت ان سے زائل نہ ہو گئی ہو تو مسلمانوں کے لیے ان کا واپس لینا واجب ہے۔ اس آیت کریمہ کے وضاحتی حکم کی رو سے امت پر مسجد کا دفاع کرنا فرض ہے اور اللہ نے وعدہ فرمایا ہے جو اس کی (اس کے دین کی) مدد کریں گے وہ ان کی مدد فرمائے گا، اور نماز اور ذکر الٰہی کے لیے مسجد کا واپس لینا اس کے دین کی مدد اور اس کا بول بالا (کرنے کا ذریعہ) ہے۔ 

مذکورہ بالا امور کے پیش نظر مسلمانوں کی طاقت اور مقدرت کو نگاہ میں رکھا گیا ہے جب کہ اس بات کی گارنٹی ہو کہ شدید ضرر وقوع پذیر نہیں ہو گا۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

۲۳ ربیع الاول ۱۴۰۹ھ  — ۲ نومبر ۱۹۸۸ء

دستخط شیخ الازہر جاد الحق علی جاد الحق

مہر شیخ الازہر


اسلام اور سیاست

(اکتوبر ۱۹۸۹ء)

اکتوبر ۱۹۸۹ء

جلد ۱ ۔ شمارہ ۱

کلمۂ حق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امت مسلمہ کی کامیابی کا راز
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ڈاکٹر اقبالؒ کے نام سے ایک مکتبِ فکر کی نئی دریافت
علامہ ڈاکٹر خالد محمود

شریعت بل کا نیا مسودہ
ادارہ

نویدِ مسیحاؐ
محمد عمار خان ناصر

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ
پروفیسر غلام رسول عدیم

قرآن و سنت کی تشریح اور اجتہاد علماء کا کام ہے یا پارلیمنٹ کا؟
الشیخ جاد الحق علی جاد الحق

Flag Counter