ڈاکٹر اقبالؒ کے نام سے ایک مکتبِ فکر کی نئی دریافت

علامہ ڈاکٹر خالد محمود

پاکستان کے علمی اور اسلامی حلقوں میں اب تک جو مکاتبِ فکر معروف اور موجود رہے ہیں ان میں ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم کے نام سے اب تک کوئی مستقل مکتبِ فکر سنا اور پایا نہیں گیا۔ ہمارے معلومات کے مطابق پاکستان میں کوئی مکتبِ فکر یا فرقہ ڈاکٹر اقبال کے نام سے موجود نہیں، نہ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے کبھی کسی مستقل دینی قیادت کا دعوٰی کیا، نہ انہوں نے اس پر دانشوروں کی کوئی جماعت بنائی۔ اب جبکہ انہیں ہم سے جدا ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو رہا ہے ان کے نام سے ایک مستقل مکتبِ فکر کی دریافت یا ڈاکٹر صاحب مرحوم کا بطور مجتہد مطلق کے تعارف واقعی اس دور کے اہلِ علم کے لیے ایک نیا باب ہو گا۔

پاکستان میں جب کبھی نفاذِ اسلام یا شریعت بل کی بات اٹھتی ہے بعض طبقے اس کی روک تھام میں کوئی نہ کوئی نئی بات سامنے لے آتے ہیں تاکہ قارئین اور دانشوروں کا ذہن خود قانون میں ہی الجھ کر رہ جائے اور قوم کسی وقت کسی واضح لائحہ عمل پر کھڑی نظر نہ آ سکے۔ پاکستان کو وجود میں آئے ایک طویل مدت ہو چکی ہے اور ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر سکے کہ اسلام ہے کیا اور اس کی قانونی تشکیل کس طرح ہو سکے گی۔ جو قوم ہر وقت نظریات میں ہی الجھی رہی اس پر عمل کا وقت کب آئے گا اس کی عملی صورت بہرحال آپ سب کے سامنے ہے۔ 

روزنامہ جنگ کی ۲۶، ۲۷ اور ۲۹ جولائی کی اشاعتوں میں جناب ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کا ایک مضمون علامہ اقبال کا مکتب فکر کے نام سے تین قسطوں میں شائع ہوا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ گورایہ صاحب بھی انہی دانشوروں میں ہیں جن کا ذہن اسلام کی قانونی تشکیل میں ابھی تک الجھا ہوا ہے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بات یا تشکیک پیدا کرنے میں ڈاکٹر اقبال مرحوم کا سہارا ضرور لیا ہے۔ بات کچھ بھی نہ ہو لیکن کسی بڑے آدمی کا نام لینے سے بات لائقِ سماعت ضرور ہو جاتی ہے اور لوگ اس پر غور کرنے لگتے ہیں۔ 

سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے اپنا کوئی مستقل مکتبِ فکر قائم کیا ہے یا نہیں، اس پر ہم کچھ بعد میں عرض کریں گے۔ ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر گورایہ صاحب اس وقت کیا کہنا چاہتے ہیں؟ وہ قوم کا ذہن کدھر لے جانا چاہتے ہیں؟ اسلام کی قانونی تشکیل میں مزید الجھاؤ کی طرف یا ان کے ذہن میں اس کی کوئی عملی صورت موجود ہے جسے وہ سمجھتے ہوں کہ جمہور مسلمان اسے قبول کر لیں گے اور اپنے مکاتب فکر کو یکسر چھوڑ دیں گے اور پھر پاکستان ایک مضبوط اسلامی مملکت بن جائے گا۔ ڈاکٹر گورایہ صاحب کے ذہن میں پاکستان کے لیے اگر کوئی ایسا خاکۂ عمل ہو اور اس پر قوم کے اتفاق کے امکانات بھی برابر روشن ہوں تو گورایہ صاحب کی یہ پیشکش واقعی امت کے لیے ایک احسانِ عظیم ہو گا۔ اور اس کی یہی صورت ہونی چاہیے کہ پہلے آپ وہ راہِ عمل بتائیں اور اس کے بعد اس کی تائید میں دلائل و نظریات پیش کریں۔ دعوٰی اور دلیل میں کچھ تو فاصلہ چاہیے، دعوٰی کو دلائل کے ساتھ ملا کر بیان کرنا نتیجہ نکالنے میں آسانی پیدا نہیں کرتا۔ 

اب دوسرے سوال کی طرف آئیے کہ ڈاکٹر اقبال نے کبھی اپنے آپ کو کسی خاص مکتبِ فکر کے قائد کے طور پر متعارف کرایا ہے؟ یا ان کے پیشِ نظر صرف بات کہہ دینا ہی رہا ہے اور عملی طور پر انہوں نے نہ کوئی جماعت بنائی، نہ اپنے آپ کو کبھی مجتہد مطلق کے منصب پر بٹھایا اور نہ وقت کی کسی دیگر دینی قیادت سے ٹکر لی؟ ہاں آپ نے کبھی اسے جھنجھوڑا اور اسلامی قومیت کے لیے ابھارا ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ واقعی کسی مستقل مکتبِ فکر کے بانی تھے۔ آپ نے اگر کہا

اے گفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سنی مسلمان نہ تھے، یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کو خلافتِ راشدہ نہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح آپ نے جب کہا 

سازِ عشرت کی صدا مغرب کے ایوانوں سے سن
اور ایراں میں ذرا ماتم کی تیاری بھی دیکھ

تو اس کا مطلب بھی یہ نہ لینا چاہیے کہ آپ مسلمانوں کی موجودہ پریشانیوں اور نکبتوں کا سبب صرف شیعہ کے ماتمی جلوسوں کو ہی سمجھتے ہیں اور مغرب آج اگر عروج پر ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیوں میں شیعہ کی طرح کوئی مستقل عزادار گروہ نہیں ہے جو ہر سال حضرت مسیحؑ کے صلیب پر چڑھنے کی عزاداری میں جلوس نکالتا ہو۔ حاشا و کلّا ڈاکٹر صاحب کی یہ مراد ہرگز نہیں۔ آپ ایک قومی رہنما کی حیثیت سے قوم کو ایک اعتدال پر لانا چاہتے ہیں اور کہنا چاہتے ہیں کہ اپنی اپنی راہ پر رہتے ہوئے ہمیں متوازی حالات اور نظریات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے اور اختلافِ مسلک ہمارے قومی استحکام میں رکاوٹ نہ بننا چاہیے۔ ایک قومی مفکر ہونے کی حیثیت سے آپ کو یہی کچھ کہنا چاہیے تھا۔ 

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام کے ساتھ ڈاکٹر اقبال کا نام بطور نقاشِ پاکستان آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کی ایک اسلامی قومیت کا راگ جس دلآویز رنگ میں گایا ہے وہ پورے عالمِ اسلام کا مشترکہ فکری سرمایہ ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنے آپ کو کسی داعی کے طور پر پیش نہیں کیا۔ آپ اپنے آپ کو ہمیشہ دوسرے مسلمانوں کا ہی ایک حصہ سمجھتے رہے ہیں، آپ نے اپنے ہاں کبھی اور کہیں اصلی اور نسلی اسلام کی سرحدیں قائم نہیں کیں۔ 

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آپ بڑے شاعر شاعر نہ تھے، شعر و ادب تو آپ کا صرف پیمانۂ ادا تھا۔ آپ مسلمان بھی تھے اور بڑے دردمند اور حساس مسلمان تھے۔ آپ مفکر بھی تھے اور قوموں کے عروج و زوال پر آپ کی نظر بہت گہری تھی۔ قیامِ انگلستان کے دوران آپ نے مغربی تہذیب کو معرضِ زوال میں دیکھا تو آپ نے چاہا کہ جس طرح بھی بن پڑے اب اسلام ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ لوگ اپنی تہذیب سے تنگ آئے ہوئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ اب یہ فطرت کو پہچانیں اور اسلام ان مغربی قوموں کے لیے کسی طرح لائق قبول ہو جائے۔ آپ نے ان کے مفکرین اور پھر نفسِ مذہب کے منکرین پر کاری ضرب لگائی۔ وکیل اپنا مقدمہ جیتنے کے لیے ہر طرح کے دلائل پیش کرتا ہے، اس کے پیشِ نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالت کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے، قانون کا محض علمی اور فکری پھیلاؤ اس وقت اس کا موضوع نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ایک فلسفی اور مفکر کی حیثیت سے مغربی قوموں کی سوچ پر کڑی تنقید کی ہے اور انہیں بہت حد تک اسلامی فکر سے متاثر کیا ہے۔ 

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اس کو سمجھاتا رموزِ کبریا کیا ہے

اگر اقبال کسی مستقل مکتبِ فکر کا بانی ہوتا تو قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کی اساس اس کی فکر پر رکھتے۔ آپ سے جب کبھی پوچھا گیا کہ پاکستان کا دستورِ ریاست کیا ہو گا آپ نے قرآن بتلایا اور تحریک کا مذہبی رخ واضح کرنے کے لیے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو ساتھ لیا۔ ڈاکٹر اقبال اور قائد اعظم میں قومی فکری مسائل پر طویل خط و کتابت بھی رہی لیکن ہم اس میں کہیں دیکھ نہیں پاتے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے آپ کو کسی مستقل مکتب فکر کا بانی کہا ہو۔ آپ نے اپنے خطبات میں جن اصولِ شریعت اور فقہی امور پر بحث کی ہے وہ مغربی اور مشرقی سوچ میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور انہیں اپنے قریب کرنے کی ایک فکری سوچ ہے۔ ان کی روشنی میں ڈاکٹر اقبال کے اپنے مسلک کی تعیین ایک سطحی فکر ہو گی۔ ڈاکٹر اقبال اگر یہاں (برصغیر پاک و ہند) کے مسلمانوں کو کوئی راہ دکھانا چاہتے یا یہاں کی دینی قیادت پر تنقید کرتے تو ظاہر ہے اردو آپ کی اپنی زبان تھی، کیا ضرورت پڑی تھی کہ آپ اپنے خطبات انگریزی میں لکھتے۔ علامہ مشرقی ایک اپنی فکر کے بانی تھے، انہوں نے برصغیر کی دینی قوت کو للکارا تو باوجودیکہ آپ انگریزی میں بات بہتر کہہ سکتے تھے آپ نے اپنے مضمون اردو زبان میں لکھے اور یہی مقتضائے حال تھا۔ ڈاکٹر اقبال بھی اگر اسی پوزیشن میں ہوتے تو برصغیر کی دینی قیادت کا اس درجہ احترام کبھی نہ کرتے جیسا کہ ان کے حالات میں ملتا ہے، اور آپ اپنے فکری اور فقہی خطبات پہلے اردو میں پیش کرتے۔

دیوبند کے شہرۂ آفاق محدّث مولانا انور شاہ صاحب جب لاہور آئے تو ڈاکٹر صاحب نے انہیں اپنے ہاں ٹھہرایا تھا اور کئی دنوں تک ان سے اسلام کے فکری اور قانونی مسائل پر استفادہ کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی مرحلے پر اپنے آپ کو کسی مستقل مکتبِ فکر کا نمائندہ نہیں کہا۔ انجمن خدام الدین لاہور کے سالانہ جلسہ میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی تقریر آپ بڑے اہتمام سے سنتے۔ اور جب انہیں پتہ چلا کہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کی طرف ملّت کے وطن سے بننے کی بات غلط منسوب ہوئی ہے تو آپ نے کہا کہ اب میں آپ کے معتقدین سے عقیدت میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ کیا ایسی بات وہ شخص کہہ سکتا ہے جو خود ایک مستقل دینی قیادت کا داعی ہو؟ کیا اس سے وقت کی دیگر دینی قیادتوں کا احترام اس درجہ میں پایا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ 

اگر آپ اس پس منظر میں ڈاکٹر صاحب کے اس خطبہ کو لیں جس سے ڈاکٹر گورایہ صاحب نے اپنے مضمون میں استناد کیا ہے تو یہ بات کھل کر آپ کے سامنے آ جائے گی کہ آپ اس علمی پیشکش میں اقوامِ مغرب اور فلسفہ زدہ طبقے کو روایتی اسلام کے قریب کر رہے ہیں، نہ کہ خود مفسر اور محدث بننے اور قوم کو وقت کی دیگر دینی قیادتوں سے دور ہٹانے کے لیے میدانِ عمل میں آئے ہوئے ہیں۔


شخصیات

(اکتوبر ۱۹۸۹ء)

اکتوبر ۱۹۸۹ء

جلد ۱ ۔ شمارہ ۱

کلمۂ حق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امت مسلمہ کی کامیابی کا راز
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ڈاکٹر اقبالؒ کے نام سے ایک مکتبِ فکر کی نئی دریافت
علامہ ڈاکٹر خالد محمود

شریعت بل کا نیا مسودہ
ادارہ

نویدِ مسیحاؐ
محمد عمار خان ناصر

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ
پروفیسر غلام رسول عدیم

قرآن و سنت کی تشریح اور اجتہاد علماء کا کام ہے یا پارلیمنٹ کا؟
الشیخ جاد الحق علی جاد الحق

Flag Counter