وسیلۂ نجات ۔ کفارۂ مسیحؑ یا شفاعتِ محمدیؐ

محمد عمار خان ناصر

انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے اگرچہ سلیم ہے لیکن نفسِ امّارہ اور شیطانی تحریصات کی وجہ سے گناہ سے بچ نہیں سکتا کیونکہ غلط ماحول اور غلط تربیت کے نتیجہ میں گناہ بسا اوقات انسان کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی انسانی وجود گناہ سے محفوظ نہیں کیونکہ انبیاءؑ اللہ کی پاک و معصوم مخلوق ہیں۔ گناہ کر کے انسان خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْد (العادیات)
’’بے شک انسان اپنے رب (کی نعمتوں) کا ناشکرا ہے۔‘‘

اور فرمایا کہ

وَکَانَ الْاِنْسَانُ کَفُوْرًا (بنی اسرائیل)
’’انسان نا شکرا ہے۔‘‘

جب انسان اپنے ماحول اور بری تربیت کی وجہ سے گناہ کرتا ہے اور اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے تدارک کا راستہ بھی واضح فرما دیا کہ چونکہ انسان گناہ سے عام طور پر نہیں بچ سکتا، وہ گناہ جان بوجھ کر کرے یا لا علمی کی بنا پر اسے شرمندگی ضرور ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دوبارہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے تو اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ وہ ’’توبہ‘‘ کرے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ

یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْا اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا (التحریم)
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی طرف خلوصِ دل سے توبہ کرو۔‘‘

جبکہ پولسی عیسائیت کی تعلیم یہ ہے کہ خدا سے دوبارہ تعلق جوڑنے کے لیے مسیح یسوع کے ’’کفارے‘‘ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کفارہ کا مسئلہ آگے چل کر مذکور ہو گا، فی الحال توبہ کے علاوہ ایک اور وسیلۂ نجات کے بارے میں بات ہو گی جو گناہگاروں کی نجات کے لیے اس رحمٰن و رحیم ذات کی طرف سے بیان کیا گیا ہے۔ 

دنیا میں انسان توبہ کر لے تو کر لے، آخرت میں موقع نہیں ملے گا اور نہ ہی نزع کے عالم میں۔ اللہ پاک کا فرمان ہے

اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰئِکَ یَتُوْبَ اللہُ عَلَیْھِمْ وَکَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِ حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْاٰنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوُتُوْنَ وَھُمْ کُفَّار اُولٰئِکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (النساء)
’’اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو لاعلمی سے برا کام کر جاتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں تو انہیں پر اللہ رجوع کرتا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور ان کی توبہ قبول نہیں کرتا جو گناہ کیے جاتے ہیں، اور کسی کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں اب توبہ کرتا ہوں، اور ان کی جو اس حالت میں مر جاتے ہیں کہ وہ کافر ہوتے ہیں، یہی ہیں جن کے لیے ہم دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

اس آیت میں بظاہر یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں:

  1. توبہ صرف اس کے لیے ہے جو لاعلمی کی وجہ سے گناہ کا مرتکب ہو اور بعد میں علم اور احساس ہونے پر توبہ کر لے۔
  2. ہمیشہ گناہ کرنے والے کے لیے توبہ نہیں۔ یعنی جو کرتا رہے اور کہے کہ پھر توبہ کر لوں گا اور اسی طرح ساری زندگی میں توبہ کا موقع نہ آئے اور جب موت آ جائے تو کہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔
  3. کافر مرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں کہ آخرت میں وہ توبہ کر لے۔

لیکن کافر کے لیے آخرت میں توبہ کرنے کا موقع نہ ملنے کا اختصاص یہاں کیوں کیا گیا ہے؟ جبکہ کافر کے علاوہ کسی مومن گناہگار کو بھی توبہ کا موقع نہیں ملے گا۔ تو یہاں سے ایک بات اور ذہن میں آتی ہے کہ مومن گناہگار کے لیے توبہ کے علاوہ بھی کوئی وسیلۂ نجات ہے، اور آخرت میں وسیلۂ نجات یا رحمت خداوندی ہے یا شفاعت۔ اور چونکہ قیامت کے دن خدا منصف ہو گا اس لیے اس کی رحمت کو ابھارنے کے لیے نبیؐ اور تمام انبیاء کرامؑ، شہداء اور حفاظ وغیرہ اللہ پاک کے حضور شفاعت کریں گے۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ

عَسٰی اَن یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (بنی اسرائیل)
’’امید ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر مبعوث فرمائے۔‘‘

تقریباً تمام مفسرین نے ’’مقامِ محمود‘‘ کو ’’مقامِ شفاعت‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یہاں پر چند اقوال نقل کیے جاتے ہیں۔

حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں:

والصحیح ان المقام المحمود مقام الشفاعۃ۔ (تفسیر مظہری ج ۲ ص ۷۵)
’’اور صحیح بات یہی ہے کہ مقام محمود شفاعت کا مقام ہے۔‘‘ 

علامہ نظام الدین القمی نیشاپوریؒ فرماتے ہیں کہ

والاولٰی ان یحض ذلک بالشفاعۃ۔ (تفسیر غرائب القرآن برحاشیہ طبری ج ۷ ص ۷۷)
’’افضل قول یہ ہے کہ مقامِ محمود شفاعت کے لیے مخصوص ہو گا۔‘‘ 

امام ابن جریر الطبریؒ فرماتے ہیں:

ذلک ھو المقام الذی ھو یقومہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم القیامۃ للشفاعۃ الناس (تفسیر طبری مطبوعہ بیروت جلد ۷ ص ۹۷)
’’یہ وہ مقام ہے جہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن لوگوں کی شفاعت کے لیے فائز ہوں گے۔‘‘

علامہ ابوالبرکات محمود النسفی الحنفیؒ نے بھی ابن جریرؒ کی تائید کی ہے اور لکھا ہے کہ 

وھو مقام الشفاعۃ عند الجمھور و یدل علیہ الاخبار۔ (تفسیر النسفی بحاشیہ خازن ج ۳ ص ۱۸۶)
’’جمہور علماء کے نزدیک مقامِ محمود مقامِ شفاعت ہے اور اس پر احادیث دلالت کرتی ہیں۔

علامہ علاؤ الدین البغدادیؒ کا قول ہے کہ

والمقام المحمود ھو مقام الشفاعۃ۔ (تفسیر خازن ج ۳ ص ۱۸۷)
’’اور مقامِ محمود سے مراد صرف مقامِ شفاعت ہے۔‘‘

تو ان جملہ اقوال سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا اثبات ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ آیت مذکورہ ’’عَسٰی اَن یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا‘‘ میں شفاعت سے مراد شفاعت کبرٰی ہے کیونکہ شفاعتِ صغرٰی کا حق ہر نبی کو اپنی قوم کے لیے ہوگا لیکن تمام امتوں کے لیے شفاعت کرنے کا حق صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔ 

قاضی ثناء اللہ المظہریؒ فرماتے ہیں کہ

لعل شفاعۃ الانبیاء غیر نبینا یختص بامۃ ولد شتمل بمیھم وشفاعۃ نبینا ینال غیر امۃ ایضًا۔ (مظہری ج ۵ ص ۸۴ و ۸۵)
’’شاید کہ ہمارے نبیؐ کے علاوہ دوسرے انبیاء کی شفاعت انہی کی امت کے ساتھ خاص ہو گی اور سب لوگوں کو شامل نہ ہو گی اور ہمارے نبیؐ کی شفاعت دوسری امت کو بھی پہنچے گی۔‘‘

آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ذریعہ نجات ہے اور عیسائیوں کے نزدیک کفارۂ مسیح ذریعہ نجات ہے جو ان کے بقول واقع ہو چکا ہے۔ اب ان کا مختصرًا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

شفاعتِ کبرٰی

یہ صرف ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور تمام انسانوں کو فائدہ دے گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت میں سب انسانوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور سورج کے ازحد قریب ہوجانے سے گرمی کی شدت بڑھ جائے گی تو لوگ تنگ آ کر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس جائیں گے۔ پہلے حضرت آدمؑ کے پاس، پھر حضرت نوحؑ کے، پھر حضرت ابراہیمؑ کے، پھر حضرت موسٰیؑ کے، اور پھر حضرت عیسٰیؑ کے پاس، لیکن سب یہ کہیں گے کہ ہم اس شفاعت کے حقدار نہیں، تو سب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے تو آپؐ فرمائیں گے ’’انا لہا انا لہا‘‘ میں ہی اس کا حقدار ہوں میں ہی اس کا حقدار ہوں۔ 

شفاعتِ صغرٰی

اس شفاعت کا حق تمام حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو حاصل ہو گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نبیؐ کو ایک ایسی دعا مانگنے کا حق دیتا ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور تمام انبیاءؑ اپنی اپنی مخصوص دعائیں مانگ چکے ہیں اور صرف میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے مخصوص کر رکھی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جناب نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت کا کوئی فرد بھی جہنم میں نہیں رہے گا، میں ہر ایک فرد کو نکال لوں گا، البتہ کفار کے بارے میں اللہ پاک نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ 

کفارۂ مسیح

یہ عقیدہ عیسائیت کی بنیاد ہے اور باقی عقائد مثلاً التوحید فی التثلیث، حلول و تجسم، وراثت گناہ، صلیب وغیرہ کو اس کی تمہید سمجھ لیں۔ یہ عقیدہ ایک انوکھی منطق پر مشتمل ہے۔ اس کا مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا کر گناہ کیا، وہ گناہ ان کی اولاد میں منتقل ہوا اور اسی طرح ہر انسان پیدائشی گناہگار ہو گیا۔ اس لیے کہ اگر خدا آدم کو معاف کر دیتا تو وہ منصف نہ رہتا اور اگر سزا دیتا تو رحیم نہ رہتا اور توبہ انسان کے گناہ کی بخشش کے لیے کافی نہیں تو توبہ کا پتا بھی صاف ہو گیا۔ اب خدا نے ایک راستہ بین بین نکال لیا تاکہ اس کی رحیمی پر کوئی زد آئے اور نہ اس کے انصاف پر۔ اور وہ راستہ یہ تھا کہ اس نے اپنے اکلوتے بیٹے یسوع مسیح کو دنیا میں بھیجا تاکہ ’’بہیتروں کی معافی کے واسطے اس کا خون بہایا جائے‘‘۔ اور وہ تمام انسانوں کے گناہوں کو اپنے سر لاد کر ان کو گناہ سے پاک کر دے۔ (گویا سب انسانوں کا گناہ ایک کے سر تھوپ کر اسے سزا دینا انصاف ہے)۔ تو اس بیٹے آ کر بزرگوں اور فقیہوں کے ہاتھوں دکھ اٹھائے اور ’’اپنوں ہی‘‘ کے ہاتھوں سولی پر چڑھ کر جان دے دی اور کہا کہ ’’تمام ہوا‘‘ یعنی انسانوں کو گناہ سے نجات دینے کا کام تمام ہوا۔ لیکن اس کفارہ سے صرف ’’اصلی گناہ‘‘ معاف ہوا۔ اگر پھر گناہ کیا تو یسوع مسیحؑ اس کا ذمہ دار نہیں۔ 

اس عقیدے کی دوسری غلطیوں سے قطع نظر اس کو شفاعت کے مقابلے میں رکھا جائے تو تین اختلافات نکھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ 

اسلام ۔ عقیدۂ شفاعت

  1. ہر شخص اپنے ہی گناہ کا عذاب سہے گا۔ کوئی اور شخص اس کے گناہ کا بار اپنے سر پر نہ اٹھائے گا۔ 
  2. اگر انسان سابقہ گناہوں سے باز آ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے تو وہ عذاب میں مبتلا نہ ہو گا۔ 
  3. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔

مسیحیت ۔ عقیدۂ کفارہ

  1. آدم نے گناہ کیا جو باپ تھا اور اس کی اولاد نے اس گناہ کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا لیا اور پھر اس کو یسوع مسیحؑ پر لاد دیا۔
  2. انسان توبہ کرنے سے گناہ نہیں بخشوا سکتا بلکہ جب تک خون نہ بہایا جائے یعنی قربانی نہ دی جائے گناہ ’’ٹس سے مس‘‘ نہیں ہو گا۔ 
  3. کفارہ مسیحؑ سے صرف وہ گناہ معاف ہوا ہے جو آدمؑ کے ’’اصلی گناہ‘‘ کی وجہ سے انسانی سرشت میں رچ بس گیا۔ 
اب ہم ان جزئیات کو قرآن اور بائبل میں دیکھیں گے اس کے بعد آپ خود فیصلہ کر لیں کہ وسیلۂ نجات کفارۂ مسیحؑ ہے یا شفاعتِ محمدیؐ۔

اول: گناہ کے ایک دوسرے کی طرف انتقال کو قرآن نہیں مانتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ (فاطر)
’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے کہ

وَ اَن لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ (النجم)
’’انسان کو صرف اپنے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا اور اس کے اعمال اس کو عنقریب دکھائے جائیں گے۔‘‘

یہ نہیں کہ یہ یک طرفہ اصول ہے۔ بائبل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ 

’’جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی۔ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔ صادق کی صداقت اسی کے لیے ہو گی اور شریر کی شرارت شریر کے لیے۔‘‘ (بائبل۔ پرانا عہد نامہ ۔ کتاب حزقی ایل ۔ باب ۱۸ آیت ۲۰)

یہی نہیں بلکہ 

’’اس کا (گناہ کرنے والے کا) گناہ اس کے سر لگے گا۔‘‘ (بائبل ۔ پرانا عہد نامہ ۔ کتاب گنتی ۔ باب ۱۵ آیت ۳۱)

حضرت موسٰی علیہ السلام کی تورات کے آخری صحیفہ ’’استثناء‘‘ میں لکھا ہے کہ

’’بیٹوں کے بدلے باپ نہ مارے جائیں نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں۔ ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب سے مارا جائے۔‘‘ (کتاب استثناء ۔ پرانا عہد نامہ ۔ باب ۲۴ آیت ۱۶)

حضرت آدمؑ کا گناہ تمہارے باپ دادا کے سر کیوں پڑ گیا، بائبل تو کہتی ہے کہ

’’ہر ایک اپنی ہی بدکرداری کے سبب سے مرے گا۔‘‘ (بائبل ۔ عہد نامہ قدیم ۔ یرمیاہ ۔ باب ۳۱ آیت ۳۰)

جب ہر ایک اپنی بدکرداری کے سبب سے مرے گا تو 

’’سب کی بدکرداری اس پر کیسے لادی گئی۔‘‘ (یرمیاہ ۵۳ : ۶)

دوم: توبہ کے بارے میں آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ عیسائی عقیدۂ کفارہ میں ’’یتیم‘‘ ہے، جبکہ بائبل ببانگ دہل اعلان کرتی ہے کہ

’’اگر شریر اپنے تمام گناہوں سے جو اس نے کیے ہیں باز آجائے اور میرے سب آئین پر چل کر جو جائز اور روا ہے تو وہ یقیناً زندہ رہے گا وہ نہ مرے گا۔ وہ سب گناہ جو اس نے کیے ہیں اس کے خلاف محسوب نہ ہوں گے۔ وہ اپنی راست بازی میں جو اس نے کی ہے زندہ رہے گا ۔ ۔ ۔ اس لیے کہ اس نے سوچا اور اپنے سب گناہوں سے جو کرتا تھا باز آیا۔‘‘ (بائبل کی کتاب حزقی ایل ۔ پرانا عہد نامہ ۔ باب ۱۸ آیت ۲۱ تا ۲۸)

قرآن پاک کی ایک آیت ابتداء میں پڑھی جا چکی ہے۔ توبہ کے بارے میں خود عیسائیوں کی مقدس کتاب انجیل مرقس میں ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ

’’توبہ کرو اور خوشخبری پر ایمان لاؤ‘‘ اور ’’توبہ کرو آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔‘‘

اور ’’کفارہ‘‘ پر ایمان رکھنے والے حضرات انجیل کو دیکھیں، حضرت مسیحؑ نے اپنے خون کا ایک قطرہ بہانے سے بھی قبل اپنے اوپر ایمان لانے والوں کے گناہ معاف کیے۔ اگر خون بہائے بغیر گناہ معاف نہیں ہوتے تو جب آسمانی باپ نے لوگوں کو کفارہ کے بعد معاف کیا تو حضرت مسیح یسوعؑ کو کیا حق ہے کہ وہ لوگوں کے گناہ معاف کرتے پھریں اور اگر خون بہائے بغیر بھی گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو عقیدۂ کفارہ کا سارا ڈرامہ خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ 

ان گزارشات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ عیسائی مذہب کے دانشوروں نے کفارہ کے نام سے انسانی نجات کا جو ڈھونگ کھڑا کیا ہے خود بائبل اس کی تصدیق کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ ہی فطرتِ سلیمہ اور عقلِ انسانی کے معیار پر یہ بات پوری اترتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس اسلام نے گناہوں سے پاک ہونے اور نجات حاصل کرنے کے لیے انسان کو توبہ کا جو دروازہ بتایا ہے اور شفاعت کے عنوان سے رحمتِ خداوندی کی جو خوشخبری دی ہے وہی انسان کی نجات کا صحیح ذریعہ ہے اور اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے:

’’میرے ان بندوں سے کہہ دو جنہوں نے گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے والا ہے۔‘‘ (الزمر)

دین و حکمت

(نومبر ۱۹۸۹ء)

Flag Counter