نومبر ۱۹۸۹ء

اسلامی قوانین ۔ غیر انسانی؟

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور نے پی پی آئی کے حوالہ سے ۷ نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں یہ خبر شائع کی ہے کہ:’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی نے حکومت سے زنا حدود آرڈیننس فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے غیر اسلامی، غیر جمہوری اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ یہ آرڈیننس کسی بھی طرح خواتین کے ساتھ زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا بلکہ اس سے ملک میں خواتین کے احترام میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کمیٹی نے اس سلسلہ میں دس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کر کے ججوں سمیت مختلف حکام کو بھجوا دی ہے اور اس...

قرآنِ کریم - ایک فطری اور ابدی دستورِ حیات

― مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

گو حسبِ تصریح علماءِ اصول دلائل اور براہین کی چار قسمیں ہیں (۱) کتاب اللہ (۲) سنت رسول اللہ (۳) اجماع (۴) قیاس۔ گو اجماع اور قیاس درحقیقت کتاب اور سنت ہی کی طرف راجع اور اسی کا ثمرہ ہیں۔ لہٰذا کائنات کی رہبری کے لیے اصولی طور پر ہدایت دو حصوں اور درجوں میں منقسم ہے۔ ایک وہ حصہ جو جمیع اصول تمام پختہ و غیر متغیر اور لازمی احکام اور اعمال پر مشتمل اور انسانی تصریف سے بالاتر اور اپنے الفاظ میں محفوظ و منضبط اور ہمیشہ کے لیے مکلف مخلوق کی ہدایت کا نصاب ہے اور اس ہدایت کے سرچشمہ کا نام وحی متلو اور قرآن مجید ہے۔ مذہب اور قانونِ فطرت اس معیار اور مقیاس...

امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(جمعیۃ المسلمین واشنگٹن ڈی سی امریکہ کے زیر اہتمام ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو بعد نماز مغرب پیرش ہال میں ایک جلسۂ عام منعقد ہوا جس سے تحریک ختم نبوت کے عالمی راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی، مدیر الشریعہ مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ المسلمین کے امیر مولانا عبد الحمید اصغر نقشبندی اور مولانا عبد المتین نے خطاب کیا۔ مولانا چنیوٹی نے اپنے مفصل خطاب میں قادیانیت کے باطل عقائد اور اسلام دشمن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی جبکہ مدیر الشریعہ نے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ ادارہ الشریعہ) بعد الحمد والصلٰوۃ۔ میں مسجد...

حجیّتِ حدیث اور ختمِ نبوت کے موضوع پر شکاگو میں عالمی کانفرنس

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شکاگو کا شمار ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے جو دنیا کی پانچ بڑی جھیلوں کے سلسلہ میں مشی گن نامی بڑی جھیل کے کنارے آباد ہے۔ دنیا میں میٹھے پانی کی یہ سب سے بڑی جھیل کہنے کو جھیل ہے لیکن ایک سمندر کا نقشہ پیش کرتی ہے جو سینکڑوں میل کے علاقہ کو احاطہ میں لیے ہوئے ہے، میٹھے پانی کے اس سمندر کی وجہ سے شکاگو کا پورا علاقہ انتہائی سرسبز و شاداب ہے۔شکاگو کی مجموعی آبادی ۸۰ لاکھ کے قریب ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد اڑھائی تین لاکھ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔ ان میں مقامی سیاہ فام نومسلموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو بلالی مسلم کہلاتے ہیں...

مرزا طاہر احمد کی دعوت مباہلہ اور حسن محمود عودہ کا قبول اسلام

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرزا طاہر احمد کے دور میں قادیانی قیادت کی یہ ذہنی الجھن اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے کہ دلائل و براہین اور منطق و استدلال کے تمام مصنوعی حربوں کی مکمل ناکامی کے بعد جھوٹی نبوت کے خاندان کے ساتھ قادیانی افراد کی ذہنی وابستگی کو نفسیاتی چالوں کے ذریعے برقرار رکھنا حقیقت شناسی کے اس دور میں زیادہ دیر تک ممکن نہیں رہا۔ یہ الجھن خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی درپیش تھی۔ چنانچہ مناظرہ و مباہلہ کے چیلنج، اشتہار بازی اور تعلّی و شیخی کے جو مراحل مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں جابجا دکھائی دیتے ہیں وہ اسی ذہنی الجھن کا کرشمہ ہیں لیکن مرزا طاہر...

وسیلۂ نجات ۔ کفارۂ مسیحؑ یا شفاعتِ محمدیؐ

― محمد عمار خان ناصر

انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے اگرچہ سلیم ہے لیکن نفسِ امّارہ اور شیطانی تحریصات کی وجہ سے گناہ سے بچ نہیں سکتا کیونکہ غلط ماحول اور غلط تربیت کے نتیجہ میں گناہ بسا اوقات انسان کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی انسانی وجود گناہ سے محفوظ نہیں کیونکہ انبیاءؑ اللہ کی پاک و معصوم مخلوق ہیں۔ گناہ کر کے انسان خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ان الانسان لربہ لکنود (العادیات) ’’بے شک انسان اپنے رب (کی نعمتوں) کا ناشکرا ہے‘‘۔ اور فرمایا کہ وکان الانسان کفورًا (بنی اسرائیل) ’’انسان...

سابق مسلم ریاست البانیہ میں مسلمانوں کی حالتِ زار

― محمود احمد

البانیہ مشرقی یورپ کا سب سے چھوٹا مگر سب سے زیادہ پراسرار ملک ہے۔ وہاں کے شب و روز عالمی پریس سے عموماً پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔ اشتراکی حکمرانوں نے البانیہ کو دنیا کی پہلی سیکولر اسٹیٹ قرار دیا ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی واحد کمیونسٹ حکومت تھی جو روس کے ایماء کے بغیر وجود میں آئی اور اس کی تشکیل میں یوگوسلاویہ کے ٹیٹو اور برطانیہ اور فرانس کی رضامندی کا دخل رہا۔ البانیہ یورپ کی واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر اس اکثریت کے باوجود وہاں اسلام شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا...

سلمان رشدی، آزادیٔ رائے اور برطانوی حکومت

― حافظ محمد اقبال رنگونی

گذشتہ چند دنوں میں ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کے بدبخت مصنف مسٹر سلمان رشدی کے خلاف مہم نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس کی وجہ جناب خمینی کا وہ اعلان ہے جو اس نے مسٹر رشدی کے قتل سے متعلق جاری کر دیا۔ برطانوی حکومت کے ساتھ یورپی ممالک نے اس اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے اپنے سفراء واپس بلانے کا اعلان کیا جبکہ ایران نے بھی ان تمام ممالک سے اپنے نمائندے واپس بلا لیے۔ لیکن علامہ خمینی نے اپنا بیان واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے انعام میں مزید اضافہ کر دیا۔ جناب خمینی کے اس اعلان پر برطانیہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان سخت کشیدگی پائی...

فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید — تقاضے اور راہِ عمل

― مولانا قاری محمد طیبؒ

۲۶ دسمبر ۱۹۷۸ء کو ذاکر حسین انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی کے ایک غیر معمولی اور عظیم اجلاس میں شرکت ہوئی جس کا موضوع تھا ’’فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ‘‘۔ اس اجلاس میں ملک کے تمام مرکزی اداروں کے نمائندوں اور تقریباً ہر مکتبِ خیال کے فضلاء اور دانشوروں نے شرکت کی۔ اجلاس کی اہمیت صدر جمہوریہ ہند عالی جناب فخر الدین علی احمد کی شرکت سے اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔ احقر ناکارہ کو صدر اجلاس منتخب کیا گیا۔ چونکہ صدر مملکت نے صرف ایک گھنٹہ دیا تھا اس لیے اجلاس کی پہلی نشست کی ساری کاروائی ایک ہی گھنٹہ میں پوری کی جانی...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter