سلمان رشدی، آزادیٔ رائے اور برطانوی حکومت

حافظ محمد اقبال رنگونی

گذشتہ چند دنوں میں ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کے بدبخت مصنف مسٹر سلمان رشدی کے خلاف مہم نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس کی وجہ جناب خمینی کا وہ اعلان ہے جو اس نے مسٹر رشدی کے قتل سے متعلق جاری کر دیا۔ برطانوی حکومت کے ساتھ یورپی ممالک نے اس اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے اپنے سفراء واپس بلانے کا اعلان کیا جبکہ ایران نے بھی ان تمام ممالک سے اپنے نمائندے واپس بلا لیے۔ لیکن علامہ خمینی نے اپنا بیان واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے انعام میں مزید اضافہ کر دیا۔ 

جناب خمینی کے اس اعلان پر برطانیہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ اور اخبارات نے دل کھول کر اس موضوع کو سرِفہرست رکھا اور تبصرہ شروع کر دیا۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اخبارات نے بھی ایران کی اس دھمکی کو اپنے ملک میں مداخلت قرار دے کر برطانوی عوام میں ایک ذہنی انقلاب پیدا کر دیا۔ بعض اخبارات نے اس موضوع کو اچھال کر اہل اسلام کے خلاف مضامین اور تبصرے شائع کیے۔ تبصرہ نگاروں میں ان نام نہاد مسلمانوں کو سرفہرست رکھا گیا جن کی فکریں آزاد اور جن کے خیال مغربی تہذیب سے آراستہ تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کا انداز بیان وہی بلکہ اس سے بدتر ہو گا جو کسی غیر مسلم مبصر کا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ان نام نہاد مفکروں نے اس گستاخانہ ناول کو تحریری آرٹ قرار دے کر پرزور حمایت کی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق میں ووٹ دے کر کھلے لفظوں میں اس ناول کی اشاعت کو اس کا جائز حق بتلا دیا۔ 

بعض لوگوں نے ریڈیو انٹرویو کے دوران اس بات کی وضاحت کی کہ اس اعلان کا تعلق صرف شیعیت کے ساتھ ہے اور پوری دنیا میں شیعہ مذہب صرف ۱۲ فیصدی ہے، سنی مسلمانوں کا اس اعلان سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی اس کی تائید ہے۔ کچھ دانشوروں نے مذہبی تشدد پسندی قرار دے کر جناب خمینی کے اس اعلان کی مخالفت کے ساتھ علماء کرام اور مسلمانانِ برطانیہ کے مطالبہ پر کڑی نکتہ چینی کی۔ 

دریں اثناء فرانس میں کچھ روشن خیال عرب اور فرانسیسی ادیبوں نے سلمان رشدی اور اس کی گستاخانہ کتاب کے حق میں باقاعدہ مظاہرے بھی کیے۔ غرضیکہ جس طرف نظر اٹھائیے نئی باتیں نظر آئیں گی۔ ٹی وی اور اخباروں کے مبصروں نے مختلف لوگوں سے انٹرویو لیے اور اس کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں میں اس موضوع پر اتحاد نہیں بلکہ تضاد بیانیاں ہیں، اس طرح مسلمانوں کی اجتماعیت میں رخنہ پڑ گیا اور معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ 

برطانیہ میں بعض اخبارات خصوصاً نیشنل فرنٹ گروہ کو یہ سنہری موقع مل گیا، انہوں نے اس موضوع کو اس قدر حاشیہ آرائی کے ساتھ عام کیا کہ مقامی باشندوں کو مسلمانوں کی مخالفت اکسا دیا جائے اور مسلمانوں کو متشدد، تخریب کار، دہشت گرد اور جنونی قرار دے کر منافرت اور کشیدگی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ مسلمانوں کے دفاتر اور مساجد اور دیگر تنظیموں کو فون اور خطوط کے ذریعے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ مانچسٹر کے ایک علاقے میں مسلمانوں کے گھروں میں گمنام خطوط ارسال کیے گئے جس میں رشدی کی مخالفت ترک کرنے کا مشورہ دیا گیا، جیو اور جینے دو کے اصول پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی اور دبے لفظوں میں دھمکی اور اخراج کا بھی تذکرہ کر دیا۔ بریڈفورڈ کے اسلامی دفاتر پر حملے کی خبریں اور دیگر دھمکی آمیز فون اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہیں کہ برطانوی مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ سازشوں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ 

لیکن اس سب کے باوجود برطانوی حکومت اور برطانوی عوام نے یہی تہیّہ کر رکھا ہے کہ اہلِ اسلام کے مطالبہ کو مسترد کر دیا جائے۔ یورپی ممالک کے ارکان بھی اس کے حامی ہیں اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ برطانیہ ایک آزاد ملک ہے، یہی آزادیٔ تقریر و تحریر معاشرہ کا ایک حصہ اور قانون ہے، اس پر کسی کی مداخلت یا پابندی قابل قبول نہیں۔ بس جسے دیکھئے آزادیٔ تحریر کے گیت گا رہا ہے لیکن کسی نے آج تک ٹھنڈے دل سے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ آخری اس کتاب میں وہ کون سی توہین و گستاخی ہے جس نے اہل اسلام کو مساجد اور گھروں سے سڑکوں پر لاکھڑا کر دیا ہے اور برطانیہ کے درودیوار ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے اعلان سے گونج اٹھے ہیں۔ آخر کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے یہ اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے، افسوس کہ اس جانب کسی نے توجہ نہ کی۔ 

(۱) ہم نے مانا کہ یہ آزاد ملک ہے، یہاں آزادیٔ تقریر و تحریر کی فضا ہے لیکن اس آزادی کا مطلب یہ تو نہیں کہ کسی کی ماں بہن پر کھلے عام تبرّا کیا جائے، کسی کو گالی دی جائے، کسی کا گریبان پڑا جائے، کسی کے مذہب پر اس طرح کا کیچڑ اچھالا جائے، کسی کے خلاف اس قسم کی بدگوئی و بدزبانی اور سب و شتم کا مظاہرہ کیا جائے۔ اگر اس کا نام آزادی ہے تو یہ لفظ آزادی کی سخت توہین ہے، اس کا نام آزادی نہیں بلکہ سراسر ظلم و زیادتی ہے۔ 

(۲) آزادیٔ تقریر و تحریر کا قانون اپنی جگہ مسلّم لیکن کسی کی توہین و گستاخی اور ہتک عزت جرم ہے یا نہیں؟ کیا اس کا کوئی قانون نہیں؟ کیا برطانیہ کی عدالتوں میں توہینِ عزت کے مقدمات نہیں آتے؟ کیا ہتکِ عزت کے خلاف جرمانہ عائد نہیں کیا جاتا؟ غور فرماویں برطانیہ میں ایک نہیں ہزاروں مقدمات طے پا چکے ہیں جن میں عدالتوں نے ہتکِ عزت پر باقاعدہ سمن جاری کیے، جس کی توہین و گستاخی کی گئی اسے ہزاروں کی رقم دینےکا فیصلہ سنایا گیا اور اس آزادیٔ تقریر و تحریر والے کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا۔ ابھی آج کی تازہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:

’’فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر مسٹر مچل ونو نے اخبارات کے خلاف ہرجانہ اور مقدمہ کا خرچہ لندن میں جیت لیا ہے۔ مسٹر مچل کے خلاف ایک سال قبل نیوز آف دی ورلڈ نے ایک گندہ مضمون شائع کیا تھا۔ مسٹر مچل نے ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر کے عدالت سے اس مقدمہ کو جیت لیا ہے کیونکہ اخبارات نے ان کے خلاف غلط بیانی کی تھی۔‘‘ (مانچسٹر ایوننگ نیوز ۲۳ فروری ۱۹۸۹ء)

ملاحظہ فرمائیں، اگر اس اخبار نویس کو آزادیٔ تحریر کی اجازت تھی تو پھر اس پر کیوں مقدمہ دائر کیا گیا؟ عدالت نے کیوں جرمانہ دینے کا فیصلہ سنایا؟ وجہ یہ ہے کہ آزادیٔ تحریر کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کسی کی پگڑی اچھالی جائے اور ہر ایک کی بے عزتی کرتا پھرے، اور اگر کسی نے بلاثبوت یہ حرکت کی تو قابلِ مواخذہ ہو گا۔ اس سے یہ ثابت کرنا آسان ہو گا کہ اس ملک میں جہاں آزادیٔ تقریر و تحریر کی اجازت اور فضا ہے تو ساتھ ہی دوسرے کی توہین و گستاخی بھی قانوناً جرم اور قابلِ مواخذہ ہے۔ 

اب اگر اس گستاخانہ ناول کے صرف ایک ہی رخ پر اصرار کرتے رہنا کہ یہ ناول آزادیٔ تقریر و تحریر کے ضمن میں ہے اور دوسرے رخ سے یکر صرفِ نظر کر دینا انصاف کے نام پر بے انصافی، آزادی کے نام پر بے عزتی نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا اس کتاب میں توہین و گستاخی پر مشتمل کوئی عبارت نہیں؟ کیا سب و شتم کا برملا اظہار نہیں؟ پھر گستاخی بھی ایرے غیرے کی نہیں، ایک ایسی مقدس و محترم ہستی کی جن کی شرافت پر آسمان کے معصوم فرشتوں کو بھی ناز ہے، جن کی عفت و عصمت کا اعتراف اہلِ اسلام ہی نہیں غیر مسلم بھی کر چکے ہیں، جن کی پاکیزہ زندگی پر غیر مسلموں کی شہادتیں بھی موجود ہیں، جن کے ماننے والے اور جنہیں اپنے اہل و عیال، عزیز و اقارب بلکہ کل کائنات کو ان پر قربان کر دینے والے ایک دو نہیں ارب ہا ارب کی تعداد میں پورے عالم میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر اہلِ اسلام نے اس انتہائی گستاخی و توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے برطانوی عدالتوں اور حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا تو آخر کون سا جرم کیا؟ کیا گستاخی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا جرم ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر اہلِ اسلام کے اس مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے تسلیم کرنا حکومت برطانیہ کی قانونی ذمہ داری بھی ہے اور اخلاقی ذمہ داری بھی۔ 

(۳) اگر حکومتِ برطانیہ ’’آزادیٔ تقریر و تحریر‘‘ پر ہی اصرار کرتی رہے تو انہیں اس کا جواب دینا ہو گا کہ جب متحدہ ہندوستان میں انگریزی اقتدار کے خلاف علماء کرام اور عوام نے تقریریں کیں، کتابیں لکھیں، آزادی کے لیے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا تو آخر انہیں درختوں پر کیوں لٹکا دیا گیا؟ کیوں قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا گیا؟ آزادیٔ تقریر و تحریر کے ان متوالوں کو آخر کس جرم میں سزا کے شکنجے میں کسا گیا؟ اس وقت بھی یہی قانون تھا تو اس وقت اس عنوان کا گلا کس لیے گھونٹ دیا گیا؟ اگر اس وقت آزادیٔ تقریر و تحریر کا گلا اس لیے گھونٹ دیا گیا تھا کہ اس سے برطانوی اقتدار کی توہین و گستاخی ہو رہی ہے تو پھر خدارا انصاف فرمائیے کہ اس توہین اور انتہائی گستاخی کو کس لیے آزادیٔ تقریر و تحریر کا عنوان دیا جا رہا ہے؟ کیا اسی کا نام انصاف ہے؟

عجیب بات ہے کہ جب مسئلہ اپنی ذات کا آ جائے تو یہی آزادیٔ تقریر و تحریر جرم ہو جاتی ہے اور جب مسئلہ دوسرے فریق کا بن جائے تو پھر یہی عنوان انصاف قرار پاتا ہے، فیاللعجب۔ 

(۴) بعض دانشوروں نے اس کتاب میں انتہائی گستاخانہ جملوں کا اعتراف تو ضرور کیا لیکن آزادیٔ تقریر و تحریر کا عنوان قرار دے کر پھر اسی لکیر کے فقیر بنے رہے۔ ہم ان سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس کتاب میں جتنے گستاخانہ جملے ہیں اگر وہاں سے ان ناموں کو ہٹا کر اس کی جگہ ملکہ برطانیہ، اس کا خاوند، اس کی صاحبزادی، اس کی بہو، اس کے عزیز و اقارب کے نام لکھ دی ےجائیں، سٹی آف جاہلیہ لندن اور نیویارک کو قرار دے دیا جائے، --- کا لفظ سر جیفری ہاؤ کے لیے لکھا جائے (وغیر ذالک) تو انصاف فرمائیے اس وقت آپ کا کیا ردعمل ہو گا؟ کیا آپ اس کتاب کو برداشت کریں گے؟ کیا اس وقت آپ کی غیرت اس بات کو گوارا کرے گی کہ اس کتاب کی عام اشاعت کی جائے۔ اس وقت اگر آپ پابندی لگانا چاہیں اور دوسرے لوگ اسے آزادیٔ تقریر و تحریر کا عنوان دے کر آپ کے خلاف محاذ بنا لیں تو کیا آپ گوارا کر لیں گے؟ چلئے ملکہ نہ سہی، وزیر اعظم نہ سہی، آپ کے والدین کے بارے میں یہ عنوان اختیار کر لیا جائے تو آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟

ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آپ میں ذرہ بھر بھی شرم و حیا ہو گی تو آپ اس کتاب کے خلاف سخت سے سخت اقدام کرنے سے گریز نہ کریں گے۔ اس لکھنے والے کو یا تو دماغی مریض قرار دے کر پاگل خانے بھیجنے اور اس کا معائنہ کرنے کی ہدایت کریں گے یا پھر اس گستاخ کو قانون کے شکنجے میں کس کر رکھ دیں گے کہ اس نے بلاثبوت اس دریدہ دہنی و گستاخی کا مظاہرہ کر کے ملکہ یا وزیر یا میرے والد کو بدنام و بدکام بتلا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت آپ کا قانون یہ نہیں کہے گا کہ آزادیٔ تقریر و تحریر کا مطلب ملکہ برطانیہ کو --- کہنا ہے، کسی محترم کو شیطان کے نام سے پکارنا ہے۔ بس اسی بات کو ہم سمجھانا چاہتے ہیں کہ آزادیٔ تقریر و تحریر کا قانون اپنی جگہ مسلّم لیکن جب کسی محترم و معظم کی اس انداز میں پگڑی اچھالی جائے تو اس کا نام سراسر زیادتی و ظلم ہو گا اور یہ چیز قانوناً جرم سمجھی گئی ہے۔ 

(۵) آزادیٔ تقریر و تحریر کی فضا کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جارح کون ہے؟ کس نے دوسرے پر حملہ کیا؟ کس نے کس کی عزت پر حملہ کیا؟ برطانوی قانون میں یہ شق بھی تو موجود ہے کہ جارح مجرم ہے اور اس کے خلاف ہر ممکن ذرائع و وسائل اختیار کرنا ان کا فریضہ ہے۔ مثال کے طور پر گذشتہ چند سالوں میں روس جیسی سپر طاقت نے افغانستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا، ظلم و ستم کے ذریعے اپنا قبضہ جاری رکھا، لیکن مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ نے اس جارحیت کے خلاف سخت قدم اٹھایا، جارح کو برا بھلا کہا بلکہ جارح کے خلاف قراردادیں پاس کرنے میں پیش پیش رہے۔ یہی نہیں بلکہ برطانیہ نے ہزاروں پونڈ کی افغان مجاہدین کی امداد کی، انہیں ہتھیاروں سے لیس کیا، انہیں تمام ذرائع و وسائل مہیا کیے، ان کی بھرپور حمایت کی۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ وہ روس جارح تھا اس نے کسی کا دل دکھایا تھا تو حکومتِ برطانیہ سے برداشت نہ ہو سکا۔ لیکن جب یہی مسئلہ ان کے ملک میں پیش آتا ہے تو جرأت کی انتہا نہیں رہتی کہ جارح (مسٹر رشدی) کو نہ صرف حمایت کا یقین دلایا جاتا بلکہ اس کے بچاؤ کے لیے ہر ممکن ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں۔ روزانہ ہزاروں کا خرچ جارح پر برداشت کرنا اپنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یورپی ممالک کے ارکان کو جارح کی حمایت کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ روس تو جارح ٹھہرا لیکن ان کے مفادات پر ضرب پڑی تو مسٹر رشدی جارح نہیں ٹھہرا اس لیے کہ ان کے مفادات اس سے وابستہ تھے۔ خیال فرمائیے جارح کے موضوع پر ذہنیت میں کتنا فرق واقع ہو رہا ہے۔ 

ہم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ جارح کے خلاف آپ کا جو قانون ہے وہی قانون مسٹر رشدی پر لاگو ہونا چاہیے کیونکہ وہ جارح ہے اس نے جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ بلین مسلمانوں کے قلوب زخمی کیے ہیں۔ کیا یہ جارح کی فہرست میں نہیں آتا؟

ہماری ان ساری گذارشات کا حاصل یہ ہے کہ ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کا بدبخت مصنف برطانوی قانون کے اعتبار سے بھی مجرم ہے اور ہم قانون کی روشنی میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مجرم کو سخت سزا دی جائے اور قانون کو حرکت میں لایا جائے۔ یہی مطالبہ مسلمانانِ برطانیہ بار بار کر رہے ہیں جسے پورا کرنا برطانوی حکومت کا قانونی فریضہ بھی ہے۔ 

(۶) علاوہ ازیں یہ بھی ایک دعوٰی ہے کہ برطانیہ ملحد اور کمیونسٹ ملک نہیں، انہیں اعتراف ہے کہ یہ ملک ایک مذہبی (عیسائی) ملک ہے، یہاں کی ملکہ عیسائی فرقے کی ایک مذہبی رہنما بھی ہیں۔ اگر واقعتاً یہ دعوٰی حقیقت پر مبنی ہے تو پھر مذہبی اعتبار سے اس موضوع کا حل آسان ہے۔ اس کتاب میں اہلِ اسلام کے مذہب خصوصاً پیغمبرانِ اسلام کی سخت توہین و گستاخی کی گئی، انتہائی گندے الفاظ استعمال کیے گئے۔ اگر مذہبی نقطۂ نظر سے اس موضوع کو دیکھا جائے تو بھی بدبخت رشدی مجرم کی حیثیت سے سامنے آتا ہے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس موضوع نے برطانوی دعوٰی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ یہاں یہ بات صاف واضح ہو جاتی ہے کہ اس ملک میں مذہب نام کی کوئی چیز نہیں، مذہب کی قدر و قیمت نہیں، ان میں الحاد، بدمذہبی سرایت کر چکی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس گستاخانہ ناول کو مذہب کی بجائے سیاست کی نذر کر دیا گیا حالانکہ یہ موضوع سیاسی نہ تھا ایک خالص دینی و مذہبی معاملہ تھا۔ اگر مذہبی اعتبار سے موجودہ حکومت بغور جائزہ لے تو انہیں یقیناً اہلِ اسلام کا مطالبہ معقول نظر آئے گا لیکن حیف در حیف کہ اس خالص دینی موضوع کو سیاسی موضوع بنا کر اہلِ اسلام کو مجرم قرار دیا گیا اور مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔

(۷) جہاں تک نفس مسئلہ قتل کا تعلق ہے شریعتِ اسلامیہ نے اصول بیان کرتے ہوئے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ قرآن کریم میں، احادیث پاک میں یہ مضامین صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ خود سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی پیغمبر کی توہین اور سب و شتم کا ارتکاب کرے اس کی سزا یہی قتل ہے۔ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس میں مرتد پر اسلامی سزا نافذ کی گئی اور شاتمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حکم سنایا گیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ علامہ قاصی عیاضؒ نے ’’الشفاء‘ میں پوری تفصیل کے ساتھ اس موضوع پر کلام فرمایا ہے جس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے ارتداد اور گستاخِ رسول صلی الہ علیہ وسلم کے لیے ایک قانون بنایا ہے اور یہ قانون رہتی دنیا تک رہے گا، اس میں ترمیم یا تنسیخ کا دعوٰی کرنا اسلام سے ہاتھ دھونا ہے۔ مسٹر رشدی نے اپنے آپ کو چونکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے پیش کر کے گستاخیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا ہے اس لیے وہ اسلامی نقطۂ نظر سے مرتد اور اسی سزا کا مستحق ہے۔ 

لطف کی بات یہ ہے کہ یہ حکم اور قانون صرف شریعتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم ہی کا نہیں بلکہ بائبل نے بھی یہی سزا تجویز کر رکھی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں پیغمبر کی گستاخی کفر اور اس کی سزا قتل بیان کی گئی جبکہ بائبل نے قاضی اور کاہن کی گستاخی پر قتل کا فتوٰی صادر کیا ہے۔ غور سے ملاحظہ فرمائیے:

’’شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھائیں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتائیں اسی کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتوٰی وہ دیں اس سے داہنے یا بائیں نہ مڑنا اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے تو اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں۔‘‘ (استثناء: باب ۱۷، آیت ۱۱ تا ۱۳، ص ۱۸۳)

مطلب یہ کہ تورات کے معلم کی بات کا انکار اور ان کے فتوٰی سے انحراف کرنے والا گستاخ اور واجب القتل ہے اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا دور کرنا ازحد ضروری قرار دیا گیا۔ مسلمانوں کو خونخوار اور ظالم قرار دینے والے ذرا اپنی کتاب مقدس کی طرف نظر کریں اور مذہبی حیثیت سے اس موضوع کو دیکھیں تو انہیں شریعتِ اسلامیہ پر اعتراض کی کوئی گنجائش نظر نہیں آئے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا انکار کر دیں جیسا کہ گذشتہ سطور میں عرض کیا گیا کہ ان کے نزدیک مذہب کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں ہے۔ 

پیش نظر رہے کہ کتاب استثناء کے بارے میں یہودی اور عیسائی دونوں فریق کے علماء اس پر متفق ہیں کہ یہ کتاب سیدنا حضرت موسٰی علیہ السلام کی تصنیف اور اپ کا بیان کردہ قانون ہے جس طرح یہودیوں کو ان احکامات پر عمل کرنا واجب ہے اسی طرح عیسائی قوموں کو بھی اس کا ماننا لازم ہے۔ اب دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ 

(۸) اب اگر یہ آج کی مغربی اور آزاد خیال قومیں یہی اعتراض کرتی پھریں کہ اسلام کے قوانین بڑے سخت اور تشدد پر مبنی ہیں، خون خرابے کے احکام ان میں موجود ہیں، آزادی کے دشمن ہیں تو بصد ادب یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ دوسروں کی آنکھ میں تنکا دکھانے والے اپنی آنکھ کا شہتیر کیوں نہیں دیکھتے؟ ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ بائبل نے جو سزائیں تجویز کی ہیں ان کو دیکھنے والے اسلامی قانون پر اعتراض کرنے کے لائق ہی نہیں، ہم تفصیل میں جائے بغیر چند سزائیں درج ذیل کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے:

  1. غیر اللہ کی عبادت پر سزائے قتل (دیکھئے خروج: باب ۲۲، آیت ۲۰۔ استثناء: باب ۱۳، آیت ۶ تا ۱۰)
  2. ماں باپ پر لعنت کرنے والے کے لیے سزائے قتل (دیکھئے خروج: باب ۲۱، آیت ۱۵)
  3. نافرمان بیٹا قتل کا مستوجب (دیکھئے استثناء: باب ۲۱، آیت ۱۸)
  4. اغوا کرنے والے کو قتل کر دو (دیکھئے خروج: باب ۲۱، آیت ۱۵۔ استثناء: باب ۲۴، آیت ۷)
  5. سوتیلی ماں بہو سے زنا کرنے والے قابل گردن زنی (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۱)
  6. لوطی کی سزا قتل (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۳)
  7. بیوی اور ساس کو اکٹھا رکھنے والا (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۴)
  8. بہن کو بے شرم کرنے والا (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۷)
  9. زانیہ اور زانی قابل قتل (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۰۔ استثناء: باب ۲۲، آیت ۲۲)
  10. جھوٹا نبی قتل کیا جائے (دیکھئے استثناء: باب ۱۳، آیت ۲ ۔ باب ۱۸، آیت ۲۰)
  11. ایک موقع پر پہاڑ چھونے والا قتل کیا جائے (دیکھئے خروج: باب ۱۹، آیت ۱۳)

غور فرمائیے، بائبل کی سزائیں کس القاب کی مستحق ہیں؟ اسلام کے قوانین کو وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دینے والے بائبل کی تجویز کردہ سزاؤں کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ لہٰذا قانونِ خداوندی پر اعتراض سے قبل اس کے اصولوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ان اصولوں سے واقفیت نہ ہو گی مذہب کی قدر نہیں ہو سکتی، الحاد و بے دینی، زندقہ اور دیگر عقائد سرایت کرتے جائیں گے، پھر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خدائی قانون پر انسانی قوانین غالب آتے جائیں گے جو ہر روز ترمیم و تنسیخ کے محتاج اور نقصان پر مبنی ہوں گے۔ 

الغرض گذشتہ سطور سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کا بدبخت مصنف مسٹر رشدی مذہب اور قانون دونوں کی روشنی میں مجرم ہیں اور مجرم کے ساتھ اس انداز میں پیش آنا (جیسا کہ ہو رہا ہے) مجرم اور جرم دونوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کا انجام بالآخر افسوسناک ہی ہے۔ حکومتِ برطانیہ سے گزارش ہے کہ اہلِ اسلام نے جس بات کا مطالبہ کیا ہے وہ عقلاً و نقلاً صحیح ہے۔ ہم نے پہلے پیار و محبت کے ساتھ اس موضوع کا حل مانگا مگر مسترد کر دیا گیا، احتجاجی جلسے اور مظاہروں سے حکومتِ برطانیہ کو اپنے رنج و غم کا اظہار کیا، اہلِ اسلام نے انفرادی و اجتماعی طور پر خطوط بھیجے لیکن ہر مرتبہ انکار کا جواب ملتا رہا اور یوں اہلِ اسلام کے زخموں پر مزید نمک پاشی کی گئی۔ لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ موضوع کوئی نیا نہیں۔ ماضی میں بھی ایسے بے شمار واقعات پیش آچکے ہیں اور دنیا نے حق و صداقت کی فتح اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ اہلِ اسلام ہر نازک موڑ پر کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں، ان شاء اللہ اس مرتبہ بھی خدائی قوت و نصرت ہمارے شاملِ حال ہو گی، حق کا جھنڈا بالآخر اونچا ہو گا۔ ’’جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقًا‘‘ اعلانِ خداوندی ہے۔ ہمیں دبانے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

شیطانک ورسز ۔ غیر مسلموں کی نظر میں

رسوائے زمانہ کتاب ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کے بدبخت مصنف مسٹر سلمان رشدی کے بارے میں پوری دنیا میں عموماً اور عالمِ اسلام میں خصوصاً جو ہیجان پیدا ہوا ہے اس نے پوری دنیا کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس سلسلہ میں احقر نے ایک مقالہ ’’شیطانک ورسز ۔ قانون اور مذہب کی نظر میں‘‘ تحریر کر کے یہ ثابت کیا تھا کہ رشدی اور اس کا گستاخانہ ناول واقعتاً مجرم ہے اور اس کی حمایت کرنا مجرم کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے۔ 

عالمِ اسلام میں مسلمانوں کی طرف سے ردعمل ایک فطری عمل ہے لیکن غیر مسلموں نے بھی اس بات کا اعتراف کر لیا کہ یہ گستاخانہ ناول اس لائق نہیں کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ذیل میں اختصارًا ان اعترافات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو اردو روزناموں سے ماخوذ ہیں۔ جہاں تک انگریزی اخبارات کا تعلق ہے اس کی فہرست بھی ہمارے پاس موجود ہے اور اس سے کہیں زیادہ ہے، امید ہے کہ عالمی حکومتیں اپنے موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کتاب کے ضبط ہونے کا فتوٰی جاری کریں گی۔

مسز تھیچر کا بیان

برطانوی وزیراعظم مسز تھیچر نے سلمان رشدی کے ناول کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ خود ہمارے مذہب میں لوگ ایسی چیزیں کرتے ہیں جو ہم میں سے کچھ کے لیے سخت توہین آمیز ہیں اور ہم شدت سے ان کا برا مانتے ہیں اور یہی کچھ اسلام کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ مسز تھیچر نے کہا کہ ان کی رائے میں یہ عظیم مذاہب اتنے مضبوط اور گہرے ہیں کہ وہ اس قسم کے واقعات کی مزاحمت کر سکتے ہیں۔ (جنگ ۔ ۶ مارچ ۱۹۸۹ء)

وزیرداخلہ کا بیان

برطانوی وزیرداخلہ مسٹر ڈگلس ہرڈ نے کہا کہ شیطانک ورسز میں اہلِ اسلام کی گستاخی کی گئی ہے لیکن یہ ایک آزاد ملک ہے اور میں اہلِ اسلام کے جذبات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں لیکن انہیں قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔

وزیرخارجہ کا بیان

برطانوی وزیرخارجہ سرجیوفری ہاؤ نے کہا کہ مسٹر رشدی کی کتاب شیطانک ورسز انتہائی حد تک ناروا ہے اور انہیں اس بات کا پورا احساس ہے کہ اس کے خلاف مسلمان کیوں اس قدر مظاہرے کر رہے ہیں۔ (ملت ۔ ۲ مارچ)

کیتھولک لیڈر کا بیان

فرانس کے کیتھولک لیڈر البرٹ ڈیکوٹر نے رشدی کے ناول ’’شیطانک ورسز‘‘ اور ’’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘‘ نامی فلم پر تنقید کرتے ہوئے اسے مذاہب کے پیروکاروں پر ایک حملہ قرار دیا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کل عیسائیوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی اور اب شیطانک ورسز کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔ (جنگ۔ ۲۳ فروری)

وٹیکن کا بیان

پوپ جان پال کے شہر وٹیکن سٹی کے اخبار نے سلمان رشدی کی کتاب کی شدید مذمت کی ہے اور اس کو غلیظ اور گالیوں پر مبنی کتاب قرار دیا ہے۔ وٹیکن کے اخبار میں کہا گیا کہ یہ کتاب دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کی دلآزاری کا سبب بنی ہے۔ اخبار نے اپنے ادارتی کالموں میں لکھا ہے کہ وٹیکن کو مسلمانوں کے جذبات کا احساس ہے، پوپ اور وٹیکن کے حکام اس کتاب کی مذمت کرتے ہیں اور اسے گالیوں پر مبنی کتاب تصور کرتے ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ اس کتاب کا بنیادی مقصد نفرت پھیلانا ہے۔ یہ صرف اسلام کے خلاف ہی نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کے خلاف بھی ہے اور اخلاقیات کے خلاف بھی۔ (ملت ۔ ۶ مارچ)

برٹش لائبریری کا ردعمل

برٹش لائبریری نے رشدی کی کتاب کو فحش قرار دے دیا ہے اور اسے دیگر فحش لٹریچر کے ساتھ الماری میں بند رکھا جا رہا ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے خصوصی اجازت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ (ملت ۔ ۶ مارچ)

بشپ آف بریڈفورڈ کا بیان

بریڈفورڈ کے بشپ ریورنڈ کرولمین نے کہا ہے کہ شیطانک ورسز کی وجہ سے شہر میں نسلی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اس کتاب کو بھونڈا ادب قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کتاب سے متاثر نہیں ہوئے اور ان کی خواہش ہے کہ یہ کتاب نہ لکھی گئی ہوتی۔ (ملت ۔ ۲۷ فروری)

بشپ آف ڈڈلی کا بیان

ڈڈلی کے بشپ نے کہا کہ سلمان رشدی کی تحریر کردہ شیطانک ورسز انہوں نے پڑھنی شروع کی تو نہایت بے ہودہ لگی۔ میں اسے ایک تہائی سے زیادہ نہ پڑھ سکا اور لائبریری کو واپس کر دی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قدر فضول تحریر لکھنے کی ضرورت کیا تھی۔ مجھے بخوبی احساس ہے کہ اس کتاب سے مسلمانوں کے جذبات کو کتنا شدید دھچکا پہنچا ہے۔ میں اس کتاب کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ (جنگ ۔ ۳ مارچ)

برطانوی ادیب کا بیان

برطانیہ کے معروف ادیب رونلڈ ڈاہل نے رشدی پر تنقید کرتے ہوئے مسلمانوں کو اشتعال دلانے والا خطرناک موقع پرست قرار دیا۔ اس مصنف نے رشدی کی حمایت کرنے والے تمام برطانوی مصنفوں سے اپنا ناطہ توڑتے ہوئے ٹائمز کو ایک خط تحریر کیا جس میں رشدی پر الزام لگایا کہ اس نے ایک اختلافی کتاب کو بیسٹ سیلر کی لسٹ میں شامل کرانے کے لیے سنسنی خیزی سے کام کیا ہے۔ انہوں نے لندن کے ایک اور اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ رشدی نے ایک قوم کو دوسری قوم ک ےمقابلہ میں لا کھڑا کیا ہے۔ (ملت ۔ یکم مارچ)

مائیکل ڈرکن کا بیان

یونائیٹڈ نیشنز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مائیکل ڈرکن نے کہا کہ برطانوی حکومت یہ دلیل دیتی ہے کہ آزادیٔ تحریر کے اصول کے تحت ہم کتاب کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے جبکہ آزادی کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں، آزادی کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی اور کے مذہب پر کیچڑ اچھالا جائے، اپنی زبان کو بے لگام کر کے دوسروں کو دکھ پہنچایا جائے۔ اس لیے میں اس کتاب پر پابندی کے حق میں ہوں۔ (جنگ ۔ ۳ مارچ)

لیبر پارٹی کے ارکان کا بیان

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے تین ممبران نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں رشدی پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے ناول کی تیاری کا کام روک دے۔ مسٹر میڈن، فرینک لک اور کیتھ واز نے پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ رشدی پر زور دے کہ وہ برطانیہ اور بیرون ملک اپنے پبلشروں کو ہدایت کرے کہ وہ اس ناول کے مزید نئے ایڈیشن کی تیاری کا کام فورًا روک دے۔ (ملت ۔ ۴ مارچ)

لیبر پارٹی کے ایک اور کونسلر جوپلانٹ نے کہا کہ میں نے زندگی میں بے شمار کتابیں پڑھی ہیں لیکن میں آج آپ کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ پنگوئن کی شائع کردہ کوئی کتاب نہیں خریدوں گا کیونکہ اس نے دانستہ مسلمانوں کو دکھ پہنچایا ہے۔ اب اگر وہ اس پر پابندی لگا بھی دیں تو یہ اثرات مٹ نہیں سکتے۔ البتہ ناشر کی کتابوں کا بائیکاٹ کرنے سے آئندہ ایسی بے ہودگی کا امکان ختم ہو جائے گا۔ (جنگ ۔ ۳ مارچ)

ہندو کونسل کا ردعمل

ہندوؤں کی کونسل وشوا ہندو پرشاد نے اپنے ایک بیان میں اس کتاب سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو پہنچنے والے نقصان پر مسلم کمیونٹی سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ مصنف اور اس کے پبلشر نے رقوم کمانے کے لیے ایسی کتاب شائع کی ہے جو کسی طور پر آزادیٔ اظہارِ رائے کے زمرے میں نہیں آتی۔ (جنگ ۔ ۳ مارچ)

جارج فیلکس کا بیان

یونائیٹڈ کرسچین آرگنائزیشن کے صدر جارج فیلکس نے رشدی کی دلآزار کتاب کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کتاب پر فوری طور پر پابندی لگائے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں نہ صرف مسلمانوں کی دلآزاری کی گئی بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف بھی ناروا الفاظ استعمال کیے گئے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب کسی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس کتاب کے ذریعے ہونے والے مذہب اسلام کی توہین کا نوٹس لے۔ (ملت ۔ ۳ مارچ)

خشونت سنگھ کا ردعمل

بھارت کے معروف صحافی خشونت سنگھ نے بھارت میں شیطانک ورسز کی اشاعت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مجھے پنگوئن کمپنی نے یہ مسودہ بھیجا تھا لیکن میں نے اسے پڑھنے کے بعد مسترد کر دیا تھا اور کمپنی کو اس کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے انتباہ کر دیا تھا جس پر کمپنی نے دوبارہ اس مسودہ کو پڑھنے اور اپنی رائے دینے کو کہا جس کے بعد میں نے کمپنی پر واضح کر دیا کہ عوام کی طرف سے اس کتاب کے خلاف زبردست احتجاج ہو گا۔ 

خشونت سنگھ، جو بھارت میں پنگوئن کمپنی کے مشیر ہیں، نے کہا کہ میں نے کمپنی کو یہ بھی انتباہ کر دیا تھا کہ اس قابلِ اعتراض کتاب کی اشاعت پر نہ صرف بھارت بلکہ خود برطانیہ کے مسلمان بھی احتجاج کریں گے۔ کتاب میں شامل قابلِ اعتراض مواد کے بارے میں بی بی سی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مصنف نے پیغمبر اسلام کو مختلف انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے علاوہ قرآن کی بعض سورتوں کو مشکوک انداز میں پیش کیا اور پیغمبر اسلام کی ازواج کا غلط انداز سے ذکر کیا ہے۔ (ملت ۔ ۲۱ فروری ۱۹۸۹ء)

یہودی راہنما کا بیان

برطانیہ کے ربائی اعلیٰ نے روزنامہ ٹائمز میں کہا کہ شیطانک ورسز کے جھگڑے میں رشدی اور ۔۔۔ دونوں آزادی تقریر کے ناجائز استعمال کے مجرم ہیں۔ رشدی نے لاکھوں مسلمانوں کے اعتقاد کی توہین کی ہے ۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کسی اشتعال انگیزی کو شائع یا نشر کرنے پر پابندی ہونی چاہیئے۔ (جنگ ۔ ۶ مارچ)

اسرائیلی رابی کا بیان

اسرائیل کے چیف رابی نے کہا کہ یہودی ریاست کو چاہیئے کہ رشدی کی کتاب پر پابندی عائد کرے۔ (جنگ ۔ ۷ مارچ)

امریکی مصنف کی رائے

ایک امریکی مصنف نارمن ملر نے کہا کہ ہم اس پر مسلمانوں سے متفق ہیں کہ یہ کتاب ان کے مذہبی جذبات پر ایک حملہ ہے۔ (جنگ ۔ ۷ مارچ)

عیسائی رہنما کا بیان

ایک عیسائی مذہبی راہنما فادر جون پیری نے کہا کہ اس رسوائے زمانہ کتاب میں صرف پیغمبرِ اسلام ہی کو نہیں بلکہ حضرت عیسٰیؑ، حضرت موسٰیؑ کے جد امجد حضرت ابراہیمؑ کو نہیں بخشا گیا۔ اس لیے اس کتاب کے خلاف احتجاج میں ہم سب شریک ہیں۔ (جنگ ۔ ۸ مارچ)

جمی کارٹر کی مذمت

سابق امریکی صدر جمی کارٹر اور دیگر غیر ملکی راہنماؤں نے شیطانک ورسز کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب سے اسلام کی زبردست توہین ہوئی ہے، رشدی کا اقدام قابلِ مذمت ہے۔ (ملت ۔ ۱۰ مارچ)

وزیرتعلیم کا بیان

برطانوی وزیر تعلیم کینتھ بیکر نے کہا کہ مسٹر رشدی کی مہمل کتاب کا جواب دانشورانہ انداز میں دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۔۔۔۔ میں اس معاملے میں جذبات میں آنے والے برطانیہ کے مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ حضرت عیسٰیؑ کے خلاف تیار ہونے والی قابلِ اعتراض فلم کے بارے میں سوچیں، فنی طور پر ایسے واقعات توہین اور کفر کے قانون کے تحت آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رشدی نے صحیح معنوں میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے ہیں کیونکہ اس میں ایسا کردار پیش کیا گیا جو حضرت محمدؐ سے ملتا جلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب مہمل اور پڑھنے میں بہت مشکل ہے لیکن میں ایک لمحہ بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اسلام کی دیواریں گر جائیں گی۔ (ملت ۔ ۳۱ جنوری)

مسٹر نیل تھورن کا اعتراف

برطانوی رکن پارلیمنٹ مسٹر نیل تھورن نے کہا کہ سلمان رشدی کی کتاب شیطانک ورسز توہین آمیز مواد پر مبنی ہے۔ انہوں نے مسلم کمیونٹی کو مشورہ دیا کہ سلمان رشدی اور اس کی تحریر کردہ کتاب کے خلاف احتجاج کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پنگئن کی شائع کردہ تمام کتب کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اگر یہ طریقہ مؤثر ہو گیا تو آئندہ رشدی کی قبیل کے مصنفین کی کتاب چھاپنے پر کوئی تیار نہیں ہو گا۔ (جنگ ۔ ۱۰ مارچ)

نیز انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس عرضداشت پر دستخط کریں جو اس غرض سے پارلیمنٹ کو پیش کی جانے والی ہے۔ (جنگ ۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۹ء)

مسٹر ٹام کس کی مذمت

برطانوی ممبر پارلیمنٹ ٹام کس نے تفصیلی بیان میں کہا کہ اس ملک میں ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو جی میں آئے کہہ دیا جائے۔ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہے، اسے معلوم ہونا چاہیئے تھا کہ تحریر کا مسلمانوں پر کتنا شدید ردعمل ہو گا۔ اس نے برطانیہ میں آزادیٔ تحریر کے حق سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر وہ مشرق وسطٰی کے کسی بھی ملک میں رہتا تو یہ جسارت نہیں کر سکتا تھا۔ (جنگ ۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۹ء)

بشپ آف چرچ آف انگلینڈ کا بیان

چرچ آف انگلینڈ کے بشپ ریورنڈ جان ٹیلر نے رشدی کی کتاب کے پبلشر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کتاب کی فروخت بند کر کے تمام دکانوں سے واپس لے لیں تاکہ اس طرح اس کتاب سے جو بین الاقوامی سطح پر بے چینی پھیلی ہے وہ ختم ہو سکے۔ انہوں نے پبلشر پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر کتاب کی فروخت سے دولت کما رہا ہے۔ جان ٹیلر، جو ہاؤس آف لارڈ کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ کتاب کی واپسی سے اس نقصان کی تلافی ہونے میں مدد ملے گی جو اس کی وجہ سے ہوا ہے۔ 

امریکی نائب صدر کی مذمت

امریکی نائب صدر دان کوئیل نے نیشنل پریس کلب میں سوال جواب کے دوران کہا کہ سلمان رشدی کی کتاب شیطانک ورسز یقیناً گستاخانہ ہے اور اس کے علاوہ اسے پڑھ کر بدمزگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ (جنگ ۔ ۱۸ مارچ)

بنکاک میں ضبطی کا اعلان

تھائی لینڈ کی پولیس نے بنکاک میں کتب خانوں سے دلآزار کتاب شیطانک ورسز اٹھا کر ضبط کر لی ہے۔ تھائی لینڈ میں اس کتاب کی فروخت پر پابندی ہے۔ (جنگ ۔ ۳۱ اگست ۱۹۸۹ء)


حالات و واقعات

(نومبر ۱۹۸۹ء)

Flag Counter