نئی زمینوں کی تلاش

عاصم بخشی

(فلسفہ سائنس، سماجیات اور چارلس پرس کے منتخب مقالات کے اردو ترجمہ ’’نئی زمینوں کی تلاش’’ کا پیش  لفظ)


مترجم کے تناظر سےترجمہ چاہے ادبی ہو یا تکنیکی دونوں صورتوں میں لازماًقرأتِ متن،  تفہیمِ متن اور شرحِ متن کی ایک سہ جہتی سرگرمی ہوتا ہے۔ پہلی جہت   ایک زبان کے طرزِ کلام کی دوسری زبان میں منتقلی،  دوسری جہت متن کی مخصوص معنوی  صورتوں کی  مترجم کے  پردۂ ذہن پر منتقلی اور تیسری جہت  مترجم  کی ان صورتوں میں ترجیح و انتخاب  سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یہ تینوں جہتیں  ترجمے کے دوران  نہ صرف گڈ مڈ ہو جاتی ہیں بلکہ پس منظر میں اتنی مبہم ہو جاتی ہیں  کہ عام طور پر  مترجم اس قابل نہیں ہوتا کہ ترجمے کی کامیابی یا ناکامی  یا دوسرے لفظوں میں افادیت  یا غیر افادیت کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے۔لہٰذا یہ فیصلہ حتمی طور پر صرف اور صرف قاری ہی کا حق ٹھہرتا ہے۔

دوسری  طرف کسی بھی قاری کے تناظر میں  یہ سوال عمومی طور پر اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ آخر وہ  اصل متن کی بجائے ترجمہ کیوں پڑھے؟ اس کی متعدد وجوہات ممکن ہیں جن میں اصل متون کا حصول،  اصل زبان سے خاطر خواہ واقفیت یا پھر سیدھے سادے دلچسپی  سے متعلقہ متغیرات  شامل ہیں۔ لیکن بالفرض اگر ان میں سے کوئی بھی  مسئلہ آڑے نہ آئے،  تو بھی  یہ سوال اپنی پیچیدگی اسی طرح برقرار رکھتا ہے۔مثال کے طور پر عین ممکن ہے کہ خاطر خواہ اردو  اور انگریزی جاننے والا ایک شوقین  قاری ہومر  کے قدیم یونانی متون کے انگریزی تراجم کےساتھ ساتھ محمد سلیم الرحمٰن صاحب کے شاندار اردو ترجمے  کا  لطف اٹھانا بھی ضروری سمجھے، لیکن ایسے قارئین شاید ہی ہوں گے جو  خاطر خواہ  انگریزی جاننے کے باوجود   کانٹ  کی ‘‘تنقیدِ عقلِ محض’’ کو  اردو میں پڑھنے کو ترجیح دیں۔ خواص کی بات علیحدہ ہے  کہ وہ یقیناً ڈاکٹر سید عابد  حسین  صاحب کی زبان سے فلسفیانہ اصطلاح سازی کے جواہر جمع کرنے کو ترجیح دیں گے۔قصہ مختصر  ترجمہ  بالخصوص دقیق متون کا  ترجمہ قاری اور مترجم کے دو تناظرات کی ایسی موضوعی جنگ ہے جس میں  یقیناً آخری اور حتمی فتح قاری کا مقدر ہے۔

اس  دلچسپ کشمکش میں  مترجم  بہرحال  اپنی عاجزی کااعتراف ہی کر سکتا ہے اور کسی بھی ایسی تخلیقی سرگرمی کی طرح  جہاں تخلیق فی نفسہٖ مقصود ِ  اول و آخر  ہو اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔ لہٰذا یہ تمہیدی کلمات  نہ صرف اس عاجزی کا اعتراف ہیں، بلکہ ایک قسم کی تنبیہ بھی ہیں کہ اگر آپ ان ادّق موضوعات اور فلسفیانہ گتھیوں کو انگریزی زبان میں سلجھانے  کے قابل ہیں اور    کم از کم اگر فلسفیانہ اور سائنسی ادب کی حد تک اردو زبان  کسی نہ کسی حیثیت میں آپ کی   دوسری ترجیح ہے تو شاید یہ تراجم آپ کے لیے نہیں ہیں۔ یہ مان لینے میں کوئی جھجک نہیں کہ یہ عاجز خود بھی  اس  سلسلے میں انگریزی ہی  کو ترجیح دینے کا ہی قائل ہے، لیکن  ساتھ ہی ساتھ  یہ بھی ماننا ہے کہ یہ مسائل نہ صرف اردو میں اٹھائے جا سکتے ہیں بلکہ اگر کثیر تعداد میں ہوں تو اردو زبان کو نئی زندگی بھی عطا کر سکتے ہیں ۔ کیا  زبان سے متعلق یہ ثقافتی خلا  پر ہونا ممکن ہے؟ مجھ جیسے فکری فقیر کی  رائے میں یہ  نہایت مشکل ضرور ہے لیکن ہرگز ناممکن نہیں۔ سویہ اس سلسلے میں بس  ایک اپنی سی کوشش  ہے جو درحقیقت   ترجمے سے زیادہ زبان اورفنِ  مطالعہ سیکھنے کی جستجو ہے۔جہاں تک اس ترجمے کی اشاعت کا تعلق ہے تو وہ  اس  عاجزانہ کوشش کا ایک ایسا  امکانی ماحصل ہے جو صرف اور صرف   ڈاکٹر ناصر عباس نیّر اور اردو سائنس بورڈ  کی مرہونِ منت ہے۔

لیکن   ان  داخلی مقاصد کے  ساتھ ساتھ اگر کچھ عمومی مقاصد متعین کرنا اہم ہو تو مضامین کا یہ انتخاب  ایک طرف تو  مترجم کے تناظر میں بنیادی طور پر زبان کی حدود اور ترجمے کے امکانات جانچنےاور دوسری طرف قاری کے تناظر میں  اس قسم کے تراجم کی افادیت جاننے کی کوشش ہے۔اس انتخاب  کی تشکیل کے  اوّلین مراحل میں خیال یہی تھا کہ  حتی الوسع کئی ممکنہ موضوعات  جیسے ادب، فلسفہ، سائنس، سماجیات، سیاسیات اور تاریخ وغیرہ میں تھیوری کی  ترمیم پسند  جہتوں   کو چھونے کی کوشش کی جائے۔ لیکن وقت کی قلت اور غیر معمولی موضوعی وسعت کے پیشِ نظر کچھ تحدیدی سمجھوتے لازم آئے جن میں اہم ترین یہ ہے کہ  اس انتخاب میں فلسفۂ سیاسیات ، ادبی تھیوری اور  خالص نظری فلسفے   سے متعلق مباحث شامل نہیں کیے گئے۔یہ انتخاب اب تمام ناگزیر ترجیحی سمجھوتوں کے ساتھ فلسفۂ سائنس،  تاریخِ سائنس،  فلسفۂ ذہن، سماجیات، مذہبی سماجیات اور بیسویں صدی کے ایک اہم  منطق دان اور سائنسی  فلسفی چارلس پرس  کے  چند نادر  مضامین پر مشتمل ہے۔یہ واقعہ بھی شاید کچھ حوالوں سے اہمیت کا حامل ہو کہ انتخاب میں شامل تمام مضامین کی اصل زبان انگریزی ہے، لہٰذا ترجمہ ایک سے زیادہ تہیں نہیں رکھتا اور قارئین اور مترجمین باآسانی اصل متون کی جانب رجوع کرتے ہوئے راقم کی کسی کوتاہی کی نشاندہی  کر سکتے ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ غیرمانوس اور ادق اصطلاحات کے انگریزی اصل متن کےاندر ہی الفاظ کے آگے کم از کم پہلی بار قوسین میں درج کر دیے جائیں۔ علاوہ ازیں بار بار استعمال ہونے والے کچھ الفاظ و اصطلاحات کے مختصر مطالب پر مشتمل ایک فرہنگ بھی آخر میں شامل کی گئی ہے۔

کتاب کو قارئین کی سہولت کے پیشِ نظر دو حصوں میں  تقسیم کیا گیا ہے۔ حصۂ اول میں شامل  ساتوں مضامین  اپنی انفرادی  حیثیت میں  ترمیم پسند تحقیقی سوالات اٹھاتےہیں۔ پہلا مضمون  انیسویں صدی کے امریکی فلسفی ایڈون برٹ کی  تاریخِ سائنس پر اہم ترین کتاب کا پہلا باب ہے۔ اس کتاب  میں برٹ کا بنیادی   نکتۂ تحقیق یہ ہے کہ  جدید سماجی   فکر  اور ثقافتی رجحانات   سائنسی تناظر کی مرہونِ منت ہیں اور  یہ سائنسی تناظر اپنی بنیادوں میں ایسے مابعد الطبیعیاتی مفروضے رکھتا ہے جو اب  اجتماعی یاداشت سے اس حد تک  فراموش ہو چکے ہیں کہ  جدید انسان  اب کوپرنیکس، ٹائیکو براہے، کیپلر، نیوٹن  اور گیلیلو وغیرہ کے انداز میں سوچنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے لیے ماضی میں ایک فکری جست درکار ہے  جو برٹ کی کتاب کا موضوع ہے۔ پہلا باب اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ اس میں  ان  قدرے جدید سوالات کے اولین  تخم بھی ملتےہیں جو الیگزنڈر کوائر،  مائیکل پولانی، تھامس کوہن  یہاں تک کہ پال  فئیرابینڈ  وغیرہ نے بعد میں اٹھائے۔امید ہے کہ پہلا باب  شوقین مترجمین  کو برٹ کی مکمل کتاب کو ترجمہ کرنے کی  دعوتِ عام دیتا نظر آئے گا۔

یوجین  وگنر کا نام نظری اور اطلاقی طبیعیات میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انھیں اساسی اصول ہائے مشاکلت کی دریافت اور اطلاق پر ۱۹۶۳ءکا نوبل انعام بھی دیا گیا۔ زیرِ نظر مضمون ان  کی زندگی کے آخری اوائل کی  ایک ہلکی پھلکی سی فلسفیانہ سرگرمی   تھی جسے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس مضمون میں وہ ریاضی  کی طبیعیاتی دائروں میں  اطلاقی سر گرمی سے لے کر ایک نیم معجزاتی سی  نوعیت پر کچھ ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جو فیثاغورث کے زمانے سے لے کر  تاحال لاینحل ہیں۔کتاب میں شامل تیسرا مضمون  برطانوی  ماہرِ حیاتیات روپرٹ شیلڈریک  کا ایک اہم    مقالہ ہے۔ شیلڈریک  کم و بیش دو دہائیوں سے خالص سائنسی  دائروں میں یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ   کیا سائنس کا مادیت پسند رجحان ہی واحد بامعنی رجحان ہے؟ کیا  اس قسم کی سائنسی مفروضہ بندی   ممکن ہے جو مادیت پسندی  سے آگے بڑھ کر  تحقیق کی راہیں  ممکن بنا سکے؟   اسی قسم کا ایک اور ترمیم پسند رجحان جو فلسفۂ ذہن  سے تعلق رکھتا ہےآسٹریلوی فلسفی اور وقوفی سائنس دان  ڈیوڈ شالمرز  کا بنیادی  موضوعِ تحقیق ہے۔ ان کے مقالے نے  پہلی بار  فلسفۂ ذہن میں مشکل اور آسان مسائل کی تقسیم  وضع کی  جس کے مطابق مسئلۂ شعور  ‘‘مشکل مسئلہ’’ہے۔ کتاب میں شامل یہ پانچواں مضمون نہ صرف ان کا بلکہ شاید جدید فلسفۂ ذہن  کے حالیہ دور کا اہم ترین مقالہ ہے جس نے تحقیق کی کئی نئی راہیں متعارف کروائیں۔اگلے دو مضامین   فلسفۂ اخلاق کے چوٹی کے مفکر ایلسڈئیر میک اینٹائر کے دو مختصر مضامین ہیں ۔ پہلے مضمون میں وہ  خدا پرست فلسفیوں کو  بحث کا رخ مکمل طور پر موڑنے کی کچھ تجاویز دیتے ہیں اور دوسرے مضمون میں   یہ خاکہ بندی کرتے ہیں کہ اس کام کے لیے  تعلیمی نصاب کس قسم کا ہونا  چاہیے۔حصۂ اول میں شامل آخری مضمون پیٹر برگر  کی طویل  سماجیاتی تحقیق کا نچوڑ  سمجھا جا سکتا ہے جو  یہ دکھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ سماجیاتی تحقیق اس وقت کس مقام پر کھڑی ہے اورمستقبل کے  امکانات  کیا ہیں۔ 

حصۂ دوم مکمل  طور پر چارلس پرس کے مضامین پر مشتمل ہے۔پرس کا کُل فلسفہ ہی   ایسی شش جہتی ندرت اور ترمیم پسندی کا حامل ہے جو بیک وقت طبیعی سائنس، فلسفۂ سائنس، مذہبی علوم، فلسفیانہ تھیوری، ریاضی و منطق اورادبی تنقید میں تازہ تحقیقی سوالات سے متعلق ہے۔ اس سلسلے  میں تھامس نائٹ کا پہلا مضمون پرس کی زندگی اور فلسفے کا ایک سیر حاصل نچوڑ ہے۔ چونکہ پرس کا تمام کام  بہت پھیلاؤ رکھتا ہے  لہٰذا  نائٹ کا مضمون  اس کا ایک مرتب خاکہ پیش کرنےکے لیے بہت اہم ہے۔ اگلے چاروں مضامین  پرس کے   اساسی کام کا ایک ایسا  محدود انتخاب ہیں جو مکرر اور مسلسل  تفہیم کا تقاضا کرتے ہیں۔پرس کا بقیہ ماندہ ضخیم کام کئی حوالوں سے  اس انتخاب میں شامل آخری تین مضامین سے   یوں جڑا ہے کہ پرس کا کوئی بھی شوقین قاری  یا سنجیدہ محقق  ان کی طرف باربار لوٹنے  کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔اس حوالے سے حصۂ دوم اردو میں پرس کو متعارف کروانے کی پہلی کوشش ہے۔ اس حصے میں شامل تراجم پر نظر ثانی اور حواشی کے لیے میں   اپنے رفیقِ تحقیق برادرم عاصم رضا کا ممنون ہوں  جنہوں نے مسودے کو بغور پڑھا  اور اہم حواشی  کی جانب اشارے کیے۔

حصۂ دوم میں  شامل مضامین کے لیے میں بالخصوص پروفیسر ڈاکٹر باسط بلال کوشل کا ممنون ہوں جنہوں نے کئی سال قبل مجھے چارلس پرس کی فکر  سے متعارف کروایا۔ڈاکٹر کوشل لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے شعبۂ سماجیات سے وابستہ ہیں اور ان کا حلقہ جان ٹمپلٹن فاؤنڈیشن کے ایک علمی منصوبے کے تحت مدارس اور جامعات کے ذہین طلبہ کے درمیان مکالمے کی فضا ہموار کرنے کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ یہ مکالمہ عظیم وسعت کے حامل ان سوالات کو وضع کرنے کی کوشش ہے جو فلسفے، سائنس اور مذہب کی مشترکہ میراث ہیں۔حصۂ اول میں شامل تین اورحصۂ دوم میں شامل پانچوں مضامین ڈاکٹر کوشل ہی کی ہدایت پراس مخصوص  حلقے میں بحث و تمحیص  کی خاطر اردو میں منتقل کیے گئے۔یہ مجموعہ یقیناً ان مضامین کی وسیع تر رسائی کو ممکن بنائے گا تاکہ  فلسفے، سائنس،  مذہب اور دیگر  اقالیمِ علم سے متعلق محققین اردو زبان میں ان سوالوں پر تنقید و تبصرہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔مکالمے کے ان امکانات پر غوروفکر کے لیے  جان ٹمپلٹن فاؤنڈیشن اور ڈاکٹر باسط کوشل خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

آخر میں ایک بار پھر ڈاکٹر ناصر عباس نیر صاحب کا شکریہ جن کی  ترغیب  و تحریک، حوصلہ افزائی اورعملی تعاون  کے باعث یہ مجموعہ  ممکن ہوا۔ امید ہے کہ اردو کے قارئین اور  خاص طور پر وہ محققین  جو  کسی نہ کسی درجے میں اردو  میں یہ مسائل اٹھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں  ان  سے  فائدہ اٹھا سکیں گے اوراس قسم کے مزید   تراجم کے لیے راہ ہموار ہو گی۔

آراء و افکار