قورح، قارون اور کتاب زبور

محمد یاسین عابد

ماہنامہ الشریعہ کے دسمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ :

’’توراۃ میں بھی قارون کا ذکر ہے لیکن اس میں اس کا ذکر بالکل مختلف انداز سے ہے۔ اس میں اس کی فراوانی دولت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو متنبہ (Challenge) کیا تھا اور کہا تھا کہ تم اپنے آپ کو اللہ کا برگزیدہ بندہ کہتے ہو اور میں بھی برگزیدہ ہوں کیونکہ مال ودولت میں تم سے زیادہ ہوں۔ (توراۃ، کتاب گنتی، اصحاح ۱۶) .......’’توراۃ کی مذکورہ کتاب اور اسی فصل میں قارون کے خزانے کی تفصیل میں ہے کہ ’’اس کے خزانے کی کنجیاں چمڑے کی تھیں اور تین سو اونٹوں پر لادی جاتی تھیں۔‘‘

چونکہ مذکورہ بالا عبارات پوری بائبل میں کہیں بھی درج نہیں، ا س لیے راقم نے فروری ۲۰۰۶ کے شمارے میں قارئین کو اس غلطی پر مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ شک ظاہر کیا کہ ’’غالباً ڈاکٹر صاحب نے کبھی بائبل کھول کر نہیں دیکھی اور سنی سنائی اور غیرمستند معلومات کی بنیاد پر مذکورہ عبارت تورات کی طر ف منسوب کر دی ہے۔‘‘ 

اگر میری تنقید غلط تھی تو ڈاکٹر صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ بائبل میں مذکورہ عبارات کی نشان دہی کر کے میری اور قارئین کی معلومات میں اضافہ کرتے۔ اور اگر تنقید درست تھی تو ڈاکٹر صاحب کو غلطی کا اعتراف کر کے اپنے بڑے پن کا ثبوت دینا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس کہ میرے اس جملے سے ڈاکٹر صاحب کے پندار کو سخت چوٹ لگی اور انھوں نے مارچ ۲۰۰۶ کے شمارے میں اس غلطی کی نشان دہی پر میرے انداز کو جارحانہ اور علمی حیثیت سے گرا ہوا قرار دیتے ہوئے نہ صرف مجھے بائبل پر قرآن سے زیادہ اعتماد کرنے کا طعنہ دیا ہے بلکہ لمبی زبان والا، یہودی، جاہل، غافل اور دھوکے باز جیسی گالیوں سے بھی نوازا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں غلط حوالے درج کیے جانے کی جو توجیہ کی ہے، وہ دلچسپ ہے ۔ فرماتے ہیں:

’’میرا زیر بحث مضمون دروس قرآن کے ضمن میں ایک دعوتی واصلاحی نوعیت کی کاوش ہے۔ یہ قارون (قورح) سے متعلق کوئی تحقیقی مقالہ نہیں اور اہل علم میں قارون کے متعلق جو باتیں معروف ہیں (ان میں یہ بھی ہے کہ وہی بائبل کا قورح ہے) میں نے بغیر حوالے کے لکھ دی تھیں، کیونکہ بنیادی طورپر اس لیکچر (درس قرآن) میں آنے والے عام تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ‘‘
’’ میرا جومضمون قارون سے متعلق ’’الشریعہ ‘‘میں شائع ہوا تھا، وہ دروس قرآن کے ضمن میں ٹیپ سے نقل کردہ Transcribed)) ایک لیکچر تھا جو ہمارے دفتر کے ایک سیکرٹری نے ٹیپ سے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا تھا۔ ان کے سہو قلم سے تین سو خچروں کے بجائے تین سو اونٹ کتابت ہوگیااور چونکہ توراۃ کا ذکر اوپر چل رہاتھا، اس وجہ سے اسی کانام بجائے جیوش انسائیکلوپیڈیا کے انہوں نے لکھ دیا۔‘‘

واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے مضمون میں مذکورہ دونوں اقتباس کسی حوالے کے بغیر نہیں، بلکہ باقاعدہ کتاب گنتی کے باب ۱۶ کے حوالے سے درج کیے گئے ہیں۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے تو اپنے درس میں کوئی بات کسی حوالے کے بغیر بیان کی ہو اور ان کا سیکرٹری درس کو مرتب کرتے وقت ازخود ایک اقتباس کے ساتھ کتاب گنتی کے ایک باب کا حوالہ دے دے جہاں اس بات کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہ ہو اور دوسرے اقتباس کے ساتھ ’’توراۃ کی مذکورہ کتاب اور اسی فصل‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کر دے، حالانکہ وہ بات بائبل کے بجائے ’’جیوش انسائیکلو پیڈیا‘‘ میں لکھی ہو؟ ڈاکٹر صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ اس غلطی کو غریب سیکرٹری کے سر تھوپنے کے بجائے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اس کی ذمہ داری قبول کرتے۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کسی تحریر کو سمجھے بغیر اس پر تنقید کرنے اور کتابوں کو پڑھے بغیر ان کا حوالہ دینے کے متعدد نمونے اپنی موجودہ تحریر میں بھی پیش کیے ہیں۔ چنانچہ دیکھیے:

۱۔ میں نے قورح ، داتن، ابیرام اور ان کے ۲۵۰ ساتھیوں کے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے، ہجرت کرنے اور حکم الٰہی کے تحت جہاد اور نشست وبرخاست کا ذکر کیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ یہ سارا معاملہ ان کے بغاوت (گنتی ب ۱۶) کرنے سے قبل ہوا، لیکن بعد میں مذکورہ اشخاص باغی بن کر خدا کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔ اس سے واضح ہے کہ بغاوت سے قبل قورح کے ایمانی کارناموں کے ذکر کا مقصد اس کی حمایت یا دفاع نہیں، بلکہ محض بائبل میں بیان ہونے والی متعلقہ تفصیلات کا اجمالی ذکر تھا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: ’’جناب ناقد نے یہودی قورح کے دفاع میں جو کچھ لکھا ہے اور جس طرح بائبل کے بیانات سے تجاہل برتا ہے، اس کی امید کسی یہودی سے ہی کی جاسکتی تھی۔‘‘

۲۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ’’موصوف نے قورح کے شجرہ نسب کے لیے کتاب خروج کے علاوہ ۱۔ تواریخ ۲:۱ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس مقام پر اضہار اور قہات بن لاوی یعنی قورح کے باپ کا بالکل ذکر نہیں۔‘‘

میں نے لکھا تھا: ’’اضہار، عمرام کا چھوٹا بھائی تھا اور دونوں قہات بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ (خروج ۶: ۱۶۔۱۸ و ۱۔ تواریخ ۲:۱)‘‘ چونکہ قورح کا شجرہ نسب حضرت یعقوب تک لکھنا مقصود تھا، اس لیے مذکورہ دونوں حوالے لکھے گئے۔ کیونکہ خروج ۶:۱۶ تا ۱۸ تک قورح سے لاوی تک اور ۱۔ تواریخ ۲:۱ میں لاوی سے حضرت یعقوب علیہ السلام تک شجرے کا ذکر ہے۔ دونوں حوالے درج کرنے ہمارا مقصد یہی تھا جسے غصے کے غلبے کے باعث محترم ڈاکٹر صاحب سمجھ نہ پائے۔ 

۳۔ ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں:

’’اس مقام (گنتی ۹:۲۳) پر تو صرف یہ درج ہے کہ ’’وہ (بنی اسرائیل) خداوند کے حکم سے قیام کرتے اور خداوند ہی کے حکم سے کوچ کرتے تھے۔‘‘ بلکہ اس پورے اصحاح یا باب میں مصر سے براہ بحر قلزم ہجرت بنی اسرائیل کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ اب لمبی زبان والے جناب ناقد صاحب یہ بتائیں کہ سنی سنائی باتیں کون کر رہاہے اور کیا اب میرا یہ کہنا درست ہوگا کہ موصوف نے کبھی بائبل کھول کر دیکھی ہی نہیںیا دیکھی ہے تو وہ جان بوجھ کرغلط بیانی کررہے ہیں اور قارئین کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ ‘‘

میں نے گنتی ۹:۲۳ کا حوالہ اس ضمن میں دیا تھاکہ ’’تمام بنی اسرائیل کی نشست وبرخاست خدا اور اس کے نبی حضرت موسیٰ کے زیر فرمان ہی ہوتی تھی۔‘‘ اس عبارت کے فوراً بعد مذکورہ حوالہ لکھا گیا، لیکن ڈاکٹر صاحب کی محققانہ مہارت کو داد دیں کہ انھوں نے حوالے سے متصل پہلے کی عبارت کو پھلانگ کر اس سے پچھلی عبارتوں کو مذکورہ حوالے سے متعلق سمجھ لیا۔ 

۴۔ ڈاکٹر صاحب نے بائبل کے حوالے سے اپنی زندگی بھر کے مطالعہ کا نچوڑ یوں پیش کیا ہے:

’’زبور ہی بائبل کی وہ کتاب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور بنی اسرائیل کے اظہار بندگی کے ترانے ہیں اور ان کے لیے اپنے گناہوں کا اعتراف بھی ان ترانوں میں ہے جن کو بآسانی حفظ کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ زبور ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی۔‘‘

ڈاکٹر صاحب کے اس دعوے کی روشنی میں کہ یہ وہی زبور ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام کو دی گئی، اب ذرا زبور کے درج ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:

’’کاش کہ اسرائیل کی نجات صیون میں سے ہوتی! جب خداوند اپنے لوگوں کو اسیری سے لوٹا لائے گا تو یعقوب خوش اور اسرائیل شادمان ہوگا۔‘‘ (زبور ۱۴: ۷ و ۵۳: ۶)
’’اے خدا! قومیں تیری میراث میں گھس آئی ہیں۔ انھوں نے تیری مقدس ہیکل کو ناپاک کیا ہے۔ انھوں نے یروشلم کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اے ہمارے نجات دینے والے خدا! اپنے نام کے جلال کی خاطر ہماری مدد کر۔ اپنے نام کی خاطر ہم کو چھڑا اور ہمارے گناہوں کا کفارہ دے۔‘‘ (زبور ۷۹: ۱ )
’’اے خداوند، جنوب کی ندیوں کی طرح ہمارے اسیروں کو واپس لا۔‘‘ (زبور ۱۲۶:۴)
’’ہم بابل کی ندیوں پر بیٹھے اور صیون کو یاد کر کے روئے۔ وہاں بید کے درختوں پر ان کے وسط میں ہم نے اپنی ستاروں کو ٹانگ دیا، کیونکہ وہاں ہم کو اسیر کرنے والوں نے گانے کا حکم دیا، اور تباہ کرنے والوں نے خوشی کرنے کا، او ر کہا صیون کے گیتوں میں سے ہم کو کوئی گیت سناؤ۔ ہم پردیس میں خداوند کا گیت کیسے گائیں؟ اے بابل کی بیٹی جو ہلاک ہونے والی ہے، وہ مبارک ہوگا جو تجھے اس سلوک کا جو تو نے ہم سے کیا، بدلہ دے۔ وہ مبارک ہوگا جو تیرے بچوں کو لے کر چٹان پر پٹک دے۔‘‘ (زبور ۱۳۷: ۱۔۴، ۸ و ۹)
’’اوپر سے ہاتھ بڑھا۔ مجھے رہائی دے اور بڑے سیلاب یعنی پردیسیوں کے ہاتھ سے چھڑا۔‘‘ (زبور ۱۴۴:۷)

زبور کے مذکورہ مقامات اس بات کے ناقابل تردید داخلی شواہد ہیں کہ یہ وہ زبور نہیں جو حضرت داؤد علیہ السلام کو دی گئی، بلکہ اس کا زمانہ تصنیف حضرت داؤد کے چار سو سال بعد بخت نصر کے دور میں بابل کی اسیری کا دور ہے۔ اب کیا کوئی شخص ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ انھوں نے زبور واقعی کھول کر دیکھی ہے اور زبور کے بارے میں وہ اپنے نتیجہ تحقیق تک اس کے مطالعہ کے بعد ہی پہنچے ہیں؟

۵۔ پڑھے بغیر کتابوں کے حوالے دینے کی ایک اور مثال ملاحظہ کیجیے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک طرف یہ فرمایا ہے کہ زبور ہی وہ واحد کتاب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی، اور دوسری طرف مجھے مشورہ دیا ہے کہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی کتاب ’اظہار الحق‘ کا مطالعہ کروں۔ افسوس کہ اس مشورے پر انھوں نے خود عمل نہیں کیا۔ مولانا کیرانوی نے اپنی اسی کتاب میں زبور کے مختلف مقامات پر تحریف کی مثالیں پیش کی ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’زبور ۴۰:۶ میں ہے کہ ’’تو نے میرے کان کھول دیے ہیں۔‘‘ پولس نے عبرانیوں ۱۰:۵ میں زبور کا یہ جملہ نقل کیا ہے، مگر اس میں اس کی جگہ یوں ہے کہ ’’بلکہ میرے لیے ایک بدن تیار کیا۔‘‘ اس لیے یقیناًایک عبارت غلط اور محرف ہے۔ مسیحی علما حیران ہیں۔ ہنری واسکاٹ کی تفسیر کے جامعین کہتے ہیں: ’’یہ فرق کاتب کی غلطی سے ہوا اور ایک ہی مطلب صحیح ہے۔‘‘ غرض ان جامعین نے تحریف کا اعتراف کر لیا، لیکن وہ کسی ایک عبارت کی جانب تحریف کی نسبت کرنے میں توقف کرتے ہیں۔ آدم کلارک اپنی تفسیر کی جلد ۳ میں زبور کی عبارت کے ذیل میں کہتا ہے ’’متن عبرانی جو مروج ہے، وہ محرف ہے۔‘‘ غرض تحریف کی نسبت زبور کی عبارت کی جانب کرتا ہے۔‘‘ (بائبل سے قرآن تک، ۲/۲۴)

ایک دوسری مثال ملاحظہ فرمائیے:

’’زبور ۱۴ کی آیت ۳ کے بعد لاطینی ترجمہ میں اور ایتھوبک ترجمہ میں اور عربی ترجمہ میں اور یونانی ترجمہ کے ویٹی کن والے نسخہ میں یہ عبارت موجود ہے کہ ’’ان کا گلا کھلی ہوئی قبر ہے، انھوں نے اپنی زبانوں سے فریب دیا، ان کے ہونٹوں میں سانپوں کا زہر ہے، ان کا منہ لعنت اور کڑواہٹ سے بھرا ہے، ان کے قدم خون بہانے کے لیے تیز رو ہیں، ان کی راہوں میں تباہی اور بد حالی ہے، اور وہ سلامتی کی راہ سے واقف نہ ہوئے۔ ان کی آنکھوں میں خدا کا خوف نہیں۔‘‘ یہ عبارت عبرانی نسخہ میں موجود نہیں، بلکہ پولس کے خط رومیوں ۳:۱۳ تا ۱۸ میں پائی جاتی ہے۔ اب یا تو یہودیوں نے یہ عبارت عبرانی نسخہ سے ساقط کر دی ہے، تب تو یہ تحریف بالنقصان ہے، یا عیسائیوں نے اپنے ترجموں میں اپنے مقدس پولس کے کلام کی تصحیح کے لیے بڑھائی ہے، تب یہ تحریف بالزیادۃ کی صورت ہوگی۔ اس لیے کسی نہ نہ کسی ایک نوع کی تحریف ضرور لازم آئے گی۔‘‘ (بائبل سے قرآن تک، ۲/۸۹، ۹۰)

۶۔ اب اس ضمن کا سب سے دلچسپ نمونہ ملاحظہ فرمائیے۔ اپنے مضمون نما درس (الشریعہ، دسمبر ۲۰۰۵) میں ڈاکٹر صاحب نے قرآن کے قارون کو بائبل کا قورح قرار دیتے ہوئے تورات کی کتاب گنتی، باب ۱۶ کا حوالہ دیا تھا جس میں قورح اور اس کے ساتھیوں داتن اور ابی رام وغیرہ کے زمین میں دھنسائے جانے کا ذکر ہے۔ بائبل کے مذکورہ مقام کی رو سے یہ مصر سے ہجرت کرنے کے بعد بنی اسرائیل کے بیابان میں سرگردانی کے دور کا واقعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ تسلیم کر لیا کہ قورح ، داتن اور ابی رام وغیرہ اکٹھے زمین میں دھنسائے گئے تھے اور یہ واقعہ مصر میں نہیں، بلکہ ہجرت مصر کے بعد رونما ہوا۔ 

اس کے بالکل برعکس اپنے جوابی مضمون (الشریعہ، مارچ ۲۰۰۶) میں، جو ظاہر ہے کہ انھوں نے اصل مضمون کے دفاع ہی میں لکھا ہے، وہ اس بات سے صاف انکار کرتے ہیں کہ قورح کو ابی رام اور داتن وغیرہ کے ساتھ زمین میں دھنسایا گیا تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’قورح کے خسف فی الارض (زمین میں دھنسائے جانے) کا واقعہ اس سے قبل مصر میں ہو چکا تھا۔ قرآن کریم نے کتاب استثنا اور زبور کی روایت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ مصر میں تھے کہ قارون (قورح) اور اس کا محل زمین میں دھنسائے گئے۔ ورنہ سینا میں تو سارے اسرائیلی خیموں میں رہتے تھے۔ وہاں قورح نے کون سا محل اور کہاں تعمیر کیا تھا؟ اسی لیے بائبل کی مذکورہ بالا دونوں روایتوں میں داتن اور ابیرام کے گھروں کا ذکر نہیں، بلکہ خیموں کا ذکر ہے۔‘‘

اگر یہی بات تھی تو ڈاکٹر صاحب نے اصل مضمون میں کتاب گنتی کے باب ۱۶ کا حوالہ کیوں دیا جو قورح، داتن اور ابی رام وغیرہ کے اکٹھے دھنسائے جانے کا ذکر کرتا ہے؟ گمان غالب یہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون کے دفاع کے لیے قلم اٹھایا تو خود اپنے ہی مضمون کو پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

پھر اگر اب ڈاکٹر صاحب ان دونوں واقعات کو الگ الگ تسلیم کر رہے ہیں تو میری گزارش بھی یہی تھی کہ قارون اور قورح، دو الگ الگ شخصیتیں ہیں اور دونوں کے ساتھ الگ الگ واقعات پیش آئے۔ قارون کا مصر کے اندر ہی اپنے محلات سمیت زمین مین دھنسا دیا جانا اور ماہرین آثار قدیمہ کا اس کی تصدیق کرنا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بھی مسلم ہے، جبکہ قورح کے صحرائے سینا میں بغاوت کرنے اور خیمہ اجتماع کے سامنے ۲۵۰ ساتھیوں سمیت زمین میں دھنسائے جانے کا واقعہ بائبل میں بیان ہوا ہے۔ یہاں سوال بائبل کی تصدیق کا نہیں، بلکہ بائبل کے بیان کو قرآن کے بیان سے متعلق قرار دینے کا ہے۔ اگر بائبل اس ضمن میں محرف ہے تو پھر ڈاکٹر صاحب بائبل کے مشکوک کردار قورح کو قرآن کے قارون کے ساتھ نتھی کرنے کا تکلف ہی کیوں فرما رہے ہیں؟

سخن نافہمی کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں اعتراض برائے اعتراض کا طریقہ بھی اختیار فرمایا ہے۔ میں نے مشرکین ومرتدین کی ہلاکت بنی لاوی کے ہاتھوں ثابت کرنے کے لیے خروج ۳۲:۲۸ کا حوالہ دیا تھا۔ چونکہ قورح بنی لاوی میں سے تھا، اس لیے مرتدین کے خلاف جہاد میں قورح کی شمولیت یا رضامندی ایک لازمی چیز ہے کیونکہ بائبل نے اس کارخیر میں ’’سب بنی لاوی‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ (خروج ۳۲:۲۶) لیکن ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ’’کتاب خروج کے مندرجہ بالا باب اور فقرے میں سرے سے قورح وداتن وغیرہ نام ہی نہیں۔‘‘ 

میری گزارش یہ ہے کہ اگر خروج ۳۲:۲۸ میں قورح کا نام درج نہیں تو باقی بنی لاوی کے نام کہاں درج ہیں؟ جب سب بنی لاوی نے جہاد کیا تھا تو قورح ان سے کیونکر باہر رہا؟

ڈاکٹر صاحب مزید رقم طراز ہیں: ’’ مضمون نگار صاحب بائبل کے انداز حوالہ جات سے متاثر ہیں، چنانچہ انھوں نے اس عبارت کے لیے سورۃ القصص کی آیت نمبر ۷۶ کا حوالہ بائبل کے انداز پر دیا ہے ۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم کے حوالے سورتوں کے نام اور آیات کے نمبروں سے ہوتے ہیں۔ یہی وہ اسلوب ہے جو اہل علم میں رائج ہے ۔‘‘

میں نے اپنے مضمون میں قرآن مجید کے بیشتر حوالے ڈاکٹر صاحب ہی کے بیان کردہ طریقے کے مطابق درج کیے ہیں، البتہ مذکورہ مقام پر سورۃ القصص کی آیت ۷۶ کا حوالہ ۲۸:۷۶ کے انداز میں دیا ہے۔ قرآن کے حوالہ جات دینے کے مختلف طریقے اہل علم میں رائج ہیں۔ مثلاً ’نجوم الفرقان فی علوم القرآن‘ میں پارہ نمبر اور رکوع نمبر کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے، جبکہ علامہ محمد فواد عبد الباقی کی ’المعجم المفہرس‘ میں سورتوں کے نام کے ساتھ ساتھ سورتوں اور آیات کے نمبر بھی درج کیے ہیں۔ علامہ محمد شریف اشرف نے ’فکر الفرقان‘ کے عنوان سے قرآن مجید کے اشاریے میں محض متعلقہ سورت اور آیت کا نمبر درج کرنے پر اکتفا کی ہے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر صاحب کا یہ اعتراض محض برائے اعتراض ہے اور یہی ان کی اصل قابلیت ہے۔

آراء و افکار