جنوری ۱۹۹۴ء

متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خط

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دین خیر خواہی کا نام ہے

― شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

حضرت تمیم دارمیؓ (المتوفیٰ ۴۰ھ) سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے کہا کس کی خیر خواہی؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکام اور عام مومنوں کی خیرخواہی‘‘ (مسلم ج ۱ ص ۵۴)۔ صحیح ابو عوانہ (جلد ۱ ص ۳۷) میں ہے کہ آپ نے تین دفعہ ’’انما الدین النصیحۃ‘‘ کا جملہ دہرایا۔ اور اسی طرح ابوداؤد جلد ۲ ص ۳۲۰)...

انسانی حقوق اور سیرتِ نبویؐ

― مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

۳۱ اگست ۱۹۹۳ء کو اسلامک سنٹر (سیلون روڈ، اپٹن پارک، لندن) میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر جلسہ عام منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا مفتی عبد الباقی نے کی اور مولانا زاہد الراشدی، مولانا منظور الحسینی، مولانا محمد عیسٰی منصوری اور مولانا عبد الرشید رحمانی کے علاوہ جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے ’’سیرت النبی اور انسانی حقوق‘‘ کے عنوان پر درج ذیل مفصل خطاب...

صومالیہ! مشرقی افریقہ کا افغانستان

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کمیونزم کے تارو پود بکھرے تو اس عمل سے صومالیہ بھی متاثر ہوا جو افریقہ کا ایک مسلمان ملک ہے۔ آبادی ایک کروڑ سے زائد بیان کی جاتی ہے اور یہ ملک کئی اعتبار سے افغانستان سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ صومالیہ مشرقی افریقہ میں داخلہ کا دروازہ ہے اور اس کی بندرگاہ موغادیشو کو علاقہ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اور اس طور پر بھی کہ آبادی کی غالب اکثریت مسلمان ہے جس کی اسلام کے ساتھ وابستگی اس قدر گہری ہے کہ مسیحی تبلیغ کے مشنری ادارے اس خطہ کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں واضح ناکامی محسوس...

رتہ دوہتڑ توہین رسالتؐ کیس ۔ ابتدائی مطالعاتی جائزہ

― ادارہ

ماسٹر عنایت اللہ صاحب تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں کوٹ لالہ کے رہنے والے ہیں، زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ۵۷ سال کے لگ بھگ ان کی عمر ہے، میٹرک، جے وی، ادیب اردو، عالم اردو، منشی فاضل اور ادیب پنجابی کی اسناد رکھتے ہیں اور گاؤں کے پرائمری سکول کے استاد ہیں۔ وہ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق رکھتے ہیں، پابند صوم و صلوٰۃ اور خوفِ خدا انسان ہیں۔ مذہبی معاملات میں انتہائی پرجوش ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں حصہ لے چکے ہیں اور گاؤں میں دو دفعہ قادیانی لاشیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے میں رکاوٹ بن چکے ہیں اور ان کی وجہ سے...

مولانا حکیم نذیر احمدؒ آف واہنڈو / چوہدری محمد خلیل مرحوم

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ضلع گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن مولانا حکیم نذیر احمدؒ ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ء کو واہنڈو میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر اَسی برس تھی اور زندگی کا بیشتر حصہ انہوں نے دین کی تعلیم و تبلیغ میں بسر کیا۔ مولانا حکیم نذیر احمدؒ کی ولادت ۱۹۱۳ء میں واہنڈو میں ہوئی، زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ دینی تعلیم انہوں نے ہنجانوالی نامی گاؤں میں مولانا حافظ عبد الغفور صاحب سے حاصل کی جو اس زمانہ میں علاقہ میں دینی تعلیم کا ایک بڑا مرکز شمار ہوتا تھا اور اس درسگاہ کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے تھا۔ مولانا حکیم...

جنوری ۱۹۹۴ء

جلد ۵ ۔ شمارہ ۱

تلاش کریں

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter