سہیل طاہر مجددی

کل مضامین: 2

صوفیہ، مراتبِ وجود اور مسئلہ وحدت الوجود (۲)

مرتبہ "واحدیت" (یعنی زیریں قوس) میں وجود و عدم کے بعض تعینات شامل ہو جاتے ہیں، یعنی یہاں ذات واحد کی صفت وجود بعض اعتبارات سے جمع یا کثرت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ عدم کا مطلب وجودی قضئے کی نفی ہے، وجود مطلق کے مدمقابل عدم محض آتا ہے (یعنی "وجود ہے" کے حکم کی نفی "وجود نہیں ہے" بنتی ہے)۔ پھر جوں جوں وجود مطلق کے ساتھ تخصیص کرنے والے احکام لاگو ہوتے جاتے ہیں، "وجود مطلق" متعین و مقید بن جاتا ہے۔ مثلاً "گھر ہے" ایک مطلق حکم ہے، جبکہ "نیلا گھر ہے" یا "چھوٹا گھر ہے" وغیرہ مقید احکام ہیں۔ اسی طرح "گھر نہیں ہے" کے مقابلے میں "نیلا گھر نہیں ہے" مقید نفی یا عدم...

صوفیہ، مراتبِ وجود اور مسئلہ وحدت الوجود (۱)

اللہ تقدس و تعالیٰ کی حمد و ثناء ہے جس نے ہم سب کو خاتم النبیین والمرسلین ﷺ کے ذریعے نور ہدایت عطا کیا اور حضرت محمد ﷺ پر کروڑوں درود جنہوں نے ہمیں خُدا سے اقرب ترین راہ وصل سمجھایا اور خود اس پر عمل فرما کر ہماری عقول کو وہم کے فتنوں سے بچایا! ہم نے یہ مختصر رسالہ صوفیہ کرام کے بعض ایسے مقامات اور کلام کی وضاحت کے لئے لکھا ہے جسے سمجھے بغیر لوگ ان کے متعلق بدگمانی کا شکار ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانہ ہماری محنت کو قبول فرمائے آمین ثُم آمین ۔ اس مقالے کی خصوصیت یہ ہے کہ اردو زبان میں ان حقائق کو اس ترتیب کے ساتھ موضوع نہیں بنایا گیا، اگرچہ بمبئی سے...
1-2 (2)