عالم اسلام اور مغرب

احیائے اسلام کے امکانات اور حکمت عملی

پروفیسر محمد اکرم ورک

۱۹۹۲ میں ایک کمیونسٹ ریاست کی حیثیت سے سوویت یونین کے سقوط کے فوراً بعد مغربی پالیسی سازوں نے اپنی ترجیحات کو تبدیل کر لیا، چنانچہ ۱۹۹۳ میں امریکہ کے مشہور یہودی محقق اور دانش ور سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف Clash of Civilizations لکھ کر تہذیبوں کے تصادم کا نیا تصور پیش کیا اور اسلامی تہذیب کو مغرب کا متوقع دشمن قرار دیا۔ اس خیال اور نظریہ نے بہت جلد اس وقت حقیقت کا روپ دھار لیا جب امریکی صدر بش نے ۱۱/۹ کے پس منظر میں اکتوبر ۲۰۰۱ میں پہلے افغانستان پر اور بعد ازاں اپریل ۲۰۰۳ میں عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مسلمان تو پہلے ہی...

اسلام، عالم اسلام اور مغرب

ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی

جناب ڈاکٹر فرحان نظامی صاحب، معزز مہمانان، خواتین وحضرات! (۱) آکسفرڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز میں خطاب کرنا میرے لیے حقیقتاً بڑے شرف اور اعزاز کی بات ہے اور میں اس نہایت ممتاز پلیٹ فارم سے گفتگو کا موقع فراہم کرنے پر جناب ڈاکٹر فرحان نظامی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ مسلم دنیا کے مطالعے کے لیے یہ سنٹر ایک اعلیٰ ادارے کے طور پر ترقی کی منزلیں طے رہے گا۔ ملائشیا اس سنٹر کی متنوع سرگرمیوں، بالخصوص مغرب میں وسیع پیمانے پر اسلام کی تفہیم کے حوالے سے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ (۲) میں آپ کے ساتھ کئی حیثیتوں سے مخاطب ہوں۔ سب سے پہلے تو میں...

موجودہ صورتحال میں اہل علم ودانش کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رابطہ عالم اسلامی کی سالانہ کانفرنس ۱۸ سے ۲۰ ستمبر تک مکہ مکرمہ میں منعقدہوئی۔ پہلے سے علم ہوتا تو اس میں بطور مبصر یا اخبار نویس تھوڑی دیر کے لیے حاضری کی کوئی صورت نکالنے کی کوشش کرتا اس لیے کہ ۱۸ ستمبر کو میں جدہ میں تھا، لیکن ۱۹ ستمبر کو جب میں سعودی عرب میں ایک ہفتہ گزار کر لندن کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اخبارات میں اس کانفرنس کے آغاز کی خبر پڑھی۔ یہ کانفرنس ہر سال ہوتی ہے اور اس میں دنیا بھر سے رابطہ کے ارکان اور مدعوین شرکت کرتے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، اس حوالہ سے کہ اس کی سرگرمیاں پورے عالم اسلام...

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اقوام متحدہ کا ’’انسانی حقوق کا چارٹر‘‘ الشریعہ کے زیر نظر شمارے میں شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ اردو ترجمہ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے اور یہ چارٹر کا سرکاری ترجمہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کو آج کی دنیا میں بین الاقوامی دستور کا درجہ حاصل ہے اور کم وبیش تمام ممالک نے اس پر دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر دستخط کرنے والے تمام ممالک نے یہ پابندی قبول کی ہوئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک میں دستور وقانون کے نفاذ اور ملکی نظام کو چلاتے وقت اس معاہدہ کا لحاظ رکھیں گے اور اپنے باشندوں کو وہ تمام حقوق...

کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

ادارہ

زاہد صاحب میرے دوست ہیں۔ انہوں نے میرے کالم ’’تالاب میں کودنے سے پہلے‘‘ کے جواب میں مجھے پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے ایک لیکچر کی کاپی بھجوائی۔ پروفیسر صاحب اپریل ۱۹۹۲ء میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر دس روز کے لیے پاکستان تشریف لائے تھے۔ لاہور میں پائنا نے ان کے ایک خطاب کا اہتمام کیا۔ اس محفل میں عام شہریوں کے علاوہ ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک، ڈاکٹر صفدر محمود، مولانا صلاح الدین، چیف جسٹس انوار الحق، جسٹس محبوب احمد، ایس ایم ظفر، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر رضاء الحق، پروفیسر جمیلہ شوکت،...

امریکی استعمار، عالم اسلام اور بائیں بازو کی جدوجہد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ہفتے کے دوران دنیا کے مختلف ملکوں کے سینکڑوں شہروں میں عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملہ کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے اور اسے وسائل پر قبضے کا جنون قرار دیتے ہوئے دنیا کے کروڑوں انسانوں نے امریکی عزائم کی مذمت کی۔ بادی النظر میں ان مظاہروں کا اہتمام زیادہ تر ان حلقوں کی طرف سے کیا گیا ہے جنہیں بائیں بازو کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور جو امریکہ اور سوویت یونین کے خلاف ’’سرد جنگ‘‘ کے عنوان سے گزشتہ پون صدی کے دوران بپا ہونے والی کشمکش میں سوویت یونین کے حلیف یا ہم خیال تصور کیے جاتے رہے ہیں۔ ان مظاہروں سے محسوس ہوتا ہے کہ سوویت یونین کی شکست...

جدید مغربی معاشرے کے لیے دینی مدارس کا پیغام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برادر محترم مولانا رضاء الحق سیاکھوی اور ان کے رفقا کا شکر گزار ہوں کہ جامعہ الہدیٰ شیفیلڈ کے افتتاح کے موقع پر اس تقریب میں آپ حضرات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا موقع فراہم کیا اور اس نئے تعلیمی ادارے کے آغاز پر مدنی ٹرسٹ کے تمام دوستوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت اس ادارہ کو پورے خطے میں دین کی سربلندی اور علم کے فروغ کا ذریعہ بنائیں، آمین یارب العالمین۔ ہم ایک دینی درس گاہ کے افتتاح کی تقریب میں جمع ہیں اور دینی مدارس کے حوالے سے اس وقت یہ صورت حال ہمارے سامنے ہے کہ ایک طرف دینی مدارس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا...

امریکہ کے باضمیر دانش وروں کا اعلان حق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام اور اقوام بڑی طاقتوں کی فوجی مداخلت اور دباؤ سے آزاد رہتے ہوئے اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ سارے لوگ جنہیں امریکی حکومت نے گرفتار کر رکھا ہے یا جن پر اس کی طرف سے مقدمے چلائے جا رہے ہیں، انہیں معروف طریقہ کار کے مطابق وہ تمام حقوق ملنے چاہییں جو دوسروں کو حاصل ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ سوال کرنے، تنقید کرنے اور اختلاف کرنے کے حق کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد ضروری ہوتی ہے اور ان کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ...

تیل کی طاقت

کرسٹوفر ڈکی

تیل کے بادشاہ اب بھی سعودی ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک تیل کے چشمے خشک نہیں ہو جاتے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عرب سرمایہ داروں کی تصویر یوں پیش کی جا رہی ہے جیسے وہ تیل فروخت کرنے والی ایک زوال پذیر تنظیم کے ڈانواں ڈول مالک ہوں، جس کی طاقت دو خطروں کے باعث کمزور پڑ رہی ہے: ایک روس کی بڑھتی ہوئی تیل کی طاقت اور دوسرا عراق جو اس انتظار میں ہے کہ خلیج عرب میں سعودیہ کی جگہ لے سکے۔ زوال پذیر صحرائی بادشاہت کے اس خیال میں کچھ صداقت ضرور ہے۔ تیل کے حوالے سے سعودیوں کا اثر ورسوخ اب پہلے کی طرح عام اور وسیع نہیں ہے اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی اب پہلے...

بیروت کی علماء کانفرنس کا اعلامیہ

ادارہ

بیروت کی علما کانفرنس کا اعلامیہ۔ القدس اور فلسطین کی مدد، مظلوم فلسطینی عوام کی تائید، زیادتی اور غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے کے حق اور اپنے دفاع کی خاطر صہیونی غاصب کے بارے میں اسلام اور علماء اسلام کے موقف کو واضح کرنے کے لیے لبنان میں ’’تجمع العلماء المسلمین‘‘کی دعوت پر بیروت میں ۲۵/۲۶ شوال ۱۴۲۲ھ مطابق ۹،۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء کو فلسطینی عوام کے جہاد کی تائید میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا ’’قدس کو بچانا اور فلسطینی عوام کی مدد کرنا شریعت کا حکم ہے اور اس کی خاطر جہاد کرنا واجب ہے‘‘۔ ا س کانفرنس میں ۳۴ ممالک کے ۱۳۰ بڑے...

جمہوریت‘ مسلم ممالک اور امریکہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکہ کے سابق صدر کلنٹن ان دنوں فکری ونظریاتی محاذ پر سرگرم عمل ہیں اور امریکی پالیسیوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور مختلف اجتماعات سے خطاب کرنے کے علاوہ عالم اسلام کی محترم مذہبی شخصیات جامعہ ازہر کے امام اکبر اور حرمین شریفین کے امام محترم سے بھی ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے سعودی عرب اور دیگر مسلمان ملکوں کے تعلیمی نظام کو ہدف تنقید بناتے ہوئے تلقین کی کہ وہ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کریں اور خا ص طور پر اس میں عقیدہ پر زور دینے کے عنصر پر نظر ثانی کریں۔...

مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

درج ذیل مقالہ جنگ گروپ پاکستان کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی:دنیائے اسلام کے لیے ایک نیا چیلنج‘‘ کے عنوان سے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں ۲۰‘ ۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ء کو ہونے والے عالمی سیمینار میں پڑھاگیا۔ میری گفتگو یا موضوع کے دو حصے ہیں: ۱۔ مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے؟ ۲۔ اور کیا ہونا چاہیے؟ پہلے حصے یا سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس وقت مسلمانان عالم کا سرے سے کوئی عالمی کردار نہیں ہے۔ یعنی کہنے کو تو مسلمانوں کی ۶۰ مملکتیں ہیں اور ان میں اور دیگر ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ایک ارب سے متجاوز ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان افرادی قوت...

مسلمانان عالم کے لیے لائحہ عمل

مولانا محمد عیسی منصوری

جب سے اس دھرتی پر انسان کا وجود ہوا ہے‘ یہاں خیر اور شر کی رزم آرائی اور جنگ مسلسل جاری ہے۔ ہر دور میں خیر کا راستہ آسمانی وحی کی اتباع کا اور شر کا راستہ خواہشات وشہوات کے پیچھے دوڑنے کا رہا ہے۔ خدا کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ نے آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے دنیا میں خیر کو شر پر غالب کر دیا تھا اور پوری انسانیت کو اس کے خالق کا آخری پیغام پہنچا دیا تھا جو پوری انسانیت کی بقا اور خوش حالی‘ امن وسلامتی‘ ہمہ گیر یک جہتی اور ہر نوع کی دنیوی ودینی ترقیات وفلاح کا ضامن تھا۔ اس پیغام کی بنیاد ایک خالق کی عظمت واطاعت اور تمام انسانوں کی مساوات...

جہادی تحریکات اور ان کا مستقبل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوال :۱۱ ستمبر کے حملے کے بعد جو حالات پیش آئے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب : ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن میں پنٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرانے کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کے بارے میں حتمی طور پرکچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کس نے کیے ہیں اور خود مغربی ایجنسیاں بھی اس سلسلے میں مختلف امکانات کا اظہار کر رہی ہیں لیکن چونکہ امریکہ ایک عرصہ سے معروف عرب مجاہد اسامہ بن لادن اور عالم اسلام کی مسلح جہادی تحریکات کے خلاف کارروائی کا پروگرام بنا رہا تھا اور خود اسامہ بن لادن کی تنظیم ’’القاعدہ‘‘ کی طرف سے امریکی...

ملتِ اسلامیہ اور موجودہ عالمی صورتِ حال

ادارہ

۲۰۔۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ء کو کراچی میں ’’جنگ گروپ آف نیو زپیپرز‘‘ کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی، عالم اسلام کو درپیش ایک نیا چیلنج‘‘ کے عنوان سے دو روزہ سیمینار ہوا جس میں عالم اسلام کے ممتاز دانش وروں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے اس سیمینار کے چند اہم خطابات کا خلاصہ اور اعلامیہ روزنامہ جنگ کی رپورٹنگ کی مدد سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر کے علماء کرام، اہل دانش اور دینی وسیاسی راہ نماؤں سے ہماری گزارش ہے کہ ان کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ غور طلب نکات پر کھلے دل ودماغ کے ساتھ بحث وتمحیص کا اہتمام کیا جائے اور تیزی...

امریکی صدر ٹرومین اور سعودی فرماں روا شاہ عبد العزیز کی تاریخی خط وکتابت

ادارہ

مالیر کوٹلہ بھارت کے دینی جریدہ ماہنامہ ’’دار السلام‘‘ نے نومبر ۲۰۰۱ء کے شمارے میں مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز آل سعود کے نام امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین کے ۱۰ فروری ۱۹۴۸ء کے تحریر کردہ ایک خط اور ملک عبد العزیز آل سعود کی طرف سے اس کے جواب کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس سے قارئین بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان، کشمیر، فلسطین کے حوالے سے امریکہ جو کردار اب ادا کر رہا ہے، وہ کسی حادثہ کا نتیجہ نہیں بلکہ بہت پہلے سے طے شدہ پالیسی اور پروگرام کا ایک تسلسل ہے اور اس امر کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ ہمارے مسلم حکمران امریکہ کے...

جنوبی ایشیا کے حوالے سے یہودی منصوبہ بندی

اسرار عالم

عالم اسلام کے بہتیرے حکمرانوں کی سالوسی‘ خاموشی یا مجبوری کے ساتھ حاشیہ برداری کے باوجود پوری امت اور بطور خاص عامۃ المسلمین میں بڑھتے ہوئے دینی رجحان‘ شعور‘ جاں سپاری اور مغرب سے نفرت نے یہودیوں کومزید برافروختہ اور انہیں مزید غیر انسانی طور پر کچلنے کی طرف مائل کر دیا ہے۔ یہودی قوت کی یہی حواس باختگی جو مختلف پردوں میں مختلف بہانوں یا تدبیروں سے اور مختلف ہاتھوں کے ذریعے سے تقریباً تمام ہی براعظموں میں مسلمانوں کے قتل عام‘ نسل کشی ‘ دربدری‘ عصمت دری‘ بائیکاٹ‘ اذیت دہی اور بے عزتی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ یہودی ان ساری تدبیروں...

امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن کے پینٹاگون سے اغوا شدہ طیاروں کے ٹکرانے سے جو عظیم جانی و مالی نقصان ہوا، اس سے سب لوگوں کو دکھ ہوا ہے لیکن امریکہ نے اس کی ذمہ داری عرب مجاہد اسامہ بن لادن پر ڈال کر اس کی آڑ میں افغانستان پر حملہ کرنے کا جو اعلان کیا ہے، اس سے صورتحال میں اور کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت سے امریکہ کا مطالبہ ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دے مگر طالبان حکومت کا موقف یہ ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے، اس کے مطالبہ پر غور کیا جائے گا۔ محض شک یا الزام پر وہ ایک مجاہد کو، جو ان کا...

مغربی تہذیب کی یلغار

محمد شمیم اختر قاسمی

مسلمانوں کے ساتھ میڈیا کا معاندانہ رویہ: عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ اور وسائل نے اتنی ترقی کی ہے کہ اور اس کا دائرۂ عمل اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ دنیا کا ہر گوشہ اس پر عیاں اور ہر جگہ اس کی پہنچ ہے۔ وہ جس واقعے کو جب اور جس وقت چاہے، اس کا واقعی یا خیالی پس منظر پیش کر سکتا ہے اور جس پر چاہے، پردہ ڈال سکتا ہے اگرچہ وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔ بالخصوص امریکیوں کے پاس مسلمانوں کے خلاف میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو چالاکی کے ساتھ پیش کرنے کے ایسے تمام نسخے موجود ہیں جس سے وہ مثلا اسامہ بن لادن کا سر کسی اور کے سر پر دکھا سکتے...

طالبان کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کا متن

ادارہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان پر پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کا متن درج ذیل ہے: اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتم پر عمل کرتے ہوئے: (۱)مطالبہ کیا جاتا ہے کہ طالبان قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کی تعمیل کریں جو بالخصوص بین الاقوامی دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو پناہ دینے اور تربیت دینے سے روکتی ہے۔ اس قرارداد کے تحت طالبان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں کہ ان کے زیر کنٹرول علاقے کو دہشت گردی کی تنصیبات اور کیمپوں کے لیے یا دوسرے ملکوں یا ان کے شہریوں کے دہشت گردوں کی کارروائی کے لیے استعمال...

تحریک ریشمی رومال پر ایک نظر

مولانا شمس الحق مشتاق

یہ بیسویں صدی کا حیدر آباد سندھ ہے۔ قدیم طرز کے مکان میں ایک شخص پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس سوئی دھاگا لیے ایک زرد رنگ کا رومال جس کی لمبائی ایک گز ہے اور عرض بھی اتنا ہی ہے گدڑی میں سی رہا ہے۔ وضع قطع اور صورت شکل سے درویش نظر آتا ہے۔ اچانک ایک دھماکہ سا ہوتا ہے وہ سر اٹھا کر دیکھتا ہے چند گورے اور سکھ فوجی صحن کی دیواریں پھاند کر اس کی طرف لپکے آرہے ہیں۔ وہ گدڑی اٹھا کر کمرے کے پچھلے دروازے کی طرف بھاگنے لگتا ہے لیکن فوجی سر پر پہنچ جاتے ہیں اور اس سے گدڑی چھین لیتے...

مغرب میں آزادئ نسواں کے نتائج

حکیم محمود احمد ظفر

یہ درست ہے کہ عورت ایک طویل عرصہ سے مظلوم چلی آ رہی تھی۔ وہ اسلام سے قبل ہر قوم اور ہر خطہ میں مظلوم تھی۔ یونان، مصر، روم، عراق، چین اور ہندوستان و عرب میں ہر جگہ مظلوم تھی۔ ہر جگہ وہ ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی تھی۔ بازاروں میں میلوں میں اس کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ اس سے حیوانوں سے بدتر سلوک ہو رہا تھا۔ اہلِ عرب اس کے وجود کو باعثِ ننگ و عار سمجھتے تھے بلکہ بعض شقی القلب لوگ اس کو زندہ درگور کرتے تھے۔ یونان میں عرصہ تک یہ بحث جاری رہی کہ اس کے اندر روح بھی ہے یا نہیں؟ ہندوستان میں یہ اپنے شوہر کے ساتھ چتا پر جل کر راکھ ہو جاتی تھی۔ کوئی اس کا پرسان...

حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری اور اسلامی تعلیمات

مولانا محمد عیسٰی منصوری

آج کل مغربی میڈیا اسلام کو سب سے زیادہ نشانہ انسانی حقوق کے حوالہ سے بنا رہا ہے۔ مغرب دنیا پر اپنی سیاسی، عسکری، علمی، فکری اور تمدنی بالادستی اور ذرائع ابلاغ پر مکمل تسلط کی بدولت بزعمِ خود انسانی حقوق کا چیمپئن بن بیٹھا ہے۔ اس کی پوری کوشش ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے کسی طرح اسلام کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔ ہم اس مضمون میں انسانی حقوق کے صرف ایک چھوٹے سے پہلو یعنی جنگی حالات میں انسانی حقوق کے حوالے سے علمی و تاریخی طور پر معروضی حقائق کی روشنی میں جائزہ...

تعلیم کی سیکولرائزیشن

غطریف شہباز ندوی

اقبال نے کہا تھا ؎ ’’اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم۔ ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف‘‘۔ تعلیم ایک با مقصد سماجی عمل ہے، اس کے ذریعے نئی نسل کو معاشرہ میں مقبول افکار و اطوار سکھائے جاتے ہیں جو معاشرہ میں پہلے سے موجود اور رائج ہوتے ہیں اور اساتذہ کے ذہنوں میں راسخ ہوتے ہیں۔ انہیں افکار و خیالات اور روایات کے مجموعہ سے اس معاشرہ کے تعلیمی اقدار کی تشکیل ہوتی ہے۔ پورا درسی نظام انہی اقدار پر مبنی ہوتا ہے۔ ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، درسی لٹریچر وغیرہ سب اسی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یہ اقدار ہر نظامِ تعلیم میں پائے جاتے ہیں۔ معاشرہ کی مخصوص فضا...

عورت: ثقافتی جنگ میں مغرب کا ہتھیار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں ۱۴ ستمبر ۲۰۰۰ء کو پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام ’’اسلام میں عورت کا مقام اور مغربی دنیا‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی نے کی اور اس سے ممتاز دانشور جناب اقبال احمد صدیقی، مولانا عبد الرشید انصاری، مولانا احسان اللہ ہزاروی، مولانا حافظ اقبال اللہ، مولانا لیاقت علی شاہ، مولانا چراغ الاسلام اور دیگر حضرات کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں اجتماعی قرارداد...

خاندانی منصوبہ بندی کی اخلاقی تباہ کاریاں

عبد الرشید ارشد

ماضی اس بات پر گواہ ہے کہ آج سے نصف صدی قبل تک لڑکے لڑکیوں میں ’’کچھ ہو جانے‘‘ کا خوف انہیں اخلاقی بے راہ روی سے بہت دور رکھتا تھا۔ برائی کی آٹے میں نمک سے بھی کم شرح اگر تھی بھی تو انتہائی زیرزمین تھی۔ مگر بتدریج جوں جوں قوم کے قدم ’’ترقی‘‘ کی طرف بڑھتے گئے، قوم مغربی آقاؤں کے ’’فیض‘‘ سے فیضیاب ہوتی گئی اور تعلیم و صحت کے لیے نہیں بلکہ تعلیم و صحت بذریعہ خاندانی منصوبہ بندی کی چھت پھاڑ امداد کاہن برسنا شروع ہوا۔ اسی تدریج کے ساتھ قوم اخلاقی زوال کے راستے کی راہی بنتی چلی گئی۔ اور آج پہلے ’’کچھ ہو نہ جائے‘‘ کو اس خاندانی منصوبہ بندی...

گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے پس پردہ عزائم

ادارہ

عصرِ حاضر کے مغربی استعمار کی دو نئی اصطلاحات ’’گلوبلائزیشن‘‘ اور ’’لوکلائزیشن‘‘ اس وقت پاکستان کے ہر پڑھے لکھے فرد کا موضوعِ گفتگو ہیں۔ ان اصطلاحات کی ایک خاص تاریخ، خاص پسِ منظر، خاص فلسفہ اور خاص تہذیب ہے۔ اس پس منظر سے واقفیت کے بغیر یہ اصطلاحات بظاہر نہایت بے ضرر، غیر مہلک، تیر بہ ہدف اور نہایت کارآمد نظر آتی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں لکھنے پڑھنے کی روایت مدتوں پہلے دم توڑ چکی ہے، لہٰذا میدانِ صحافت میں اب دانشور باقی نہیں رہے بلکہ اب صرف ڈھنڈورچی اور طبلچی قسم کے لوگ باقی رہ گئے...

ضلعی حکومتوں کا عالمی استعماری منصوبہ

علی محمد رضوی

اس مضمون میں ہم گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے استعماری منصوبوں کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ پاکستانی ریاست کو تباہ کرنے کی استعماری کوششیں ہم پر واضح ہو سکیں۔ آخر میں ہم استعمار کے ان منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے چند تجاویز بھی پیش کریں گے۔ استعمار کا منصوبہ کیا ہے؟ اکیسویں صدی کا مغربی استعمار چاہتا ہے کہ قومی ریاستیں کمزور ہوں۔ قومی ریاست کو کمزور کرنا استعمار کے معاشی اور دفاعی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی استعماری حکمتِ عملی سے مختلف ہے۔ بیسویں صدی میں استعمار نے تیسری دنیا میں مضبوط ریاستوں کے قیام...

اقوامِ متحدہ کے مقاصد اور چارٹر پر ایک نظر

مولانا سخی داد خوستی

اقوامِ متحدہ کے مقاصد میں جو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں جنگ روکنا اور امن آشتی کی فضا پیدا کرنا وغیرہ، یہ خوشنما عناوین صرف لوگوں کو ورغلانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ درحقیقت بات یہ تھی کہ دوسری جنگِ عظیم میں چھ سال مسلسل بڑی طاقتیں اتحادی ممالک سمیت کرائے کے سپاہیوں اور تباہ کن اسلحہ کے ذریعے سے انسانیت کو بربادی کا پیغام دیتی رہیں، بالآخر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر قیامتِ صغرٰی برپا کر کے تصادم کو ختم کیا۔ اس کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے فاتحین نے اپنی فرعونیت کو برقرار رکھنے اور پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک...

اقوامِ متحدہ کی تاریخ پر ایک نظر

مولانا سخی داد خوستی

اقوامِ متحدہ کا اصلی نام جو امریکہ کے سابق صدر روز ویلٹ نے تجویز کیا تھا اور متفقہ طور پر منظور ہوا تھا ’’یونائیٹڈ نیشنز آرگنائزیشن‘‘ ہے جسے مختصراً ’’یو این او‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور لفظ ’’اقوامِ متحدہ‘‘ جو اردو میں مشہو ہوا ہے اس کا ترجمہ ہے، جیسا کہ عربی میں اممِ متحدہ اور پشتو میں مللِ متحدہ سے اس کی تعبیر کی جاتی ہے۔ پہلی جنگِ عظیم (۱۹۱۴ء تا ۱۹۱۸ء) کے بعد ’’لیگ آف نیشنز‘‘ قائم کی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ آئندہ اقوامِ عالم کو آپس میں جنگی تصادم سے روکا جائے تاکہ پھر جانی و مالی نقصان نہ ہونے پائے۔ گویا لیگ آف نیشنز، اقوامِ متحدہ...

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا تاریخی فتوٰی

مولانا محمد طیب کشمیری

آزاد کشمیر کے بزرگ اور مجاہد عالمِ دین امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد عبد اللہ کفل گڑھیؒ کے لائق فرزند حضرت مولانا قاضی بشیر احمد صاحب نے حضرت مرحوم کے حالاتِ زندگی اور خدمات کو ’’حیاتِ امیرِ شریعت‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے جس میں ان کی علمی و دینی خدمات اور تحریکِ آزادی میں ان کے مجاہدانہ کردار کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب دائرۃ المعارف کراچی نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ڈیڑھ سو روپے ہے۔ اس کتاب پر ہمارے فاضل دوست اور جامع مسجد سبیل گورو مندر چوک کراچی کے خطیب مولانا محمد طیب کشمیری فاضل نصرۃ...

وثائقِ یہودیت (پروٹوکولز) کا مختصر تعارف

عبد الرشید ارشد

ہمارے فاضل دوست اور ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین جناب عبد الرشید ارشد نے شہرہ آفاق وثائقِ یہودیت کا اردو ترجمہ کر کے اسے شائع کیا ہے جو عالمی نظام کے بارے میں یہودی عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک اہم قومی خدمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا تعارفی حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے، اس گزارش کے ساتھ کہ اس کا مطالعہ علماء کرام اور دینی کارکنوں کو بطور خاص پورے اہتمام کے ساتھ کرنا چاہیے، یہ کتابچہ جناب عبد الرشید ارشد سے جوہر پریس بلڈنگ جوہر آباد ضلع خوشاب کے ایڈریس سے طلب کیا جا سکتا...

عالمی معیشت، یہودی ساہوکار اور مسلم ممالک

عبد الرشید ارشد

یہود کے بڑوں ۹۲۹ ق م میں عالمی حکمرانی کے لیے جو منصوبہ بندی کی اور جسے ہر دور کے بڑے یہودی سینے سے لگائے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اس منصوبہ بندی کی نوک پلک سنوارتے، اس کی حفاطت کرتے آئے، سود کے حوالے سے اس کے انکشافات چونکا دینے والے ہی نہیں، با شعور مسلمانوں کی نیندیں حرام کرنے والے ہیں۔ نزولِ قرآن سے کم و بیش ساڑھے سولہ سو سال قبل جس خباثت کی بنیاد پر دنیا مسخر کرنے کا یہود نے منصوبہ بنایا تھا، خالق نے قرآن حکیم میں اس خباثت کا توڑ اہلِ ایمان کے سامنے سود کو حرام قرار دے کر، اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلانِ جنگ قرار دے کر فرمایا کہ مجھ...

مسلم ممالک کے لیے مغربی ممالک کا ایجنڈا

ظہیر الدین بھٹی

عالمی ادارے اور مغربی قوتیں مسلم ممالک کے نظام اور معاشرت میں کس قسم کی تبدیلی چاہتی ہیں؟ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً ’’الشریعہ‘‘ میں عاملی پریس کے حوالے سے معلومات پیش کی جاتی ہیں۔ اس سلسلہ میں روزنامہ جرأت لاہور نے ۵ نومبر ۱۹۹۹ء کو برادر مسلم ملک تیونس میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے جناب محمد ظہیر الدین بھٹی کی مندرجہ ذیل رپورٹ شائع کی ہے جس سے مسلم ممالک کے لیے مغربی اداروں کے تجویز کردہ عزائم اور ایجنڈے کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، اور ہمارے ہاں این جی اوز ان حوالوں سے جو کام کر رہی ہیں اس کے مقاصد بھی واضح ہو جاتے ہیں۔...

ورلڈ اسلامک فورم کی تین سالہ کارکردگی پر ایک نظر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں روسی استعمار کی پسپائی اور عالمی سرد جنگ کے نتیجہ میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد ملت اسلامیہ پوری دنیا میں ایک نئی صورتحال سے دوچار ہوگئی ہے۔ مغرب نے امریکی استعمار کی قیادت میں کمیونزم کے بعد اسلام کو اپنا سب سے بڑا حریف قرار دیتے ہوئے ملت اسلامیہ کے ان طبقوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے جو اسلام کو اپنی شناخت قرار دیتے ہیں اور مسلم معاشرہ میں اسلامی اصولوں کی بالادستی اور حکمرانی کے لیے برسرپیکار ہیں۔ ویسٹرن سولائزیشن کی بنیاد انسانی معاشرہ کے اجتماعی معاملات میں مذہب کے کسی بھی عملی کردار سے انکار پر ہے۔...

استاذ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ کاپودروی مدظلہ العالی (گجرات انڈیا) کا مکتوب گرامی

حضرت مولانا عبد اللہ کاپودروی

۴ جولائی ۱۹۹۵ء۔ محترم المقام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدکم السامی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آنمحترم کا ارسال کردہ لفافہ موصول ہوا جس میں الشریعہ کے دو عدد: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا اردو ترجمہ اور ورلڈ اسلامک فورم کی مختصر اور جامع رپورٹ شامل تھی۔ اس ذرہ نوازی کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا۔ الشریعہ کے مئی ۱۹۹۵ء کے عدد میں انسانی حقوق کے چارٹر کے بارے میں آنمحترم کے اہم قیمتی افکار پڑھ کر خوشی ہوئی۔ آپ نے وقت کی ایک اہم ضرورت کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ انسانی حقوق کے لفظ کا آج کل جس طرح استعمال ہو رہا...

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات‘‘ جس کے تحت ہم اس فکری اور نظریاتی کشمکش کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جو اس وقت عالمی سطح پر انسانی حقوق اور ان کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے جاری ہے۔ ’’انسانی حقوق‘‘ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ زیربحث آنے والا موضوع ہے اور یہ مغرب کے ہاتھ میں ایک ایسا فکری ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ مسلم ممالک اور تیسری دنیا پر مسلسل حملہ آور ہے۔ مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری...

اسلام، دہشت گردی اور مغربی لابیاں

ادارہ

سابق سوویت یونین کے آخری صدر گورباچوف نے یورپ اور یورپ کے ذرائع ابلاغ کو اسلام اور مغرب کے درمیان ٹکراؤ کی فضا پیدا کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کے امن و سلامتی کے لیے اسلام اور مسلمانوں کو خطرہ بتانے کی جو مہم چلی ہوئی ہے دراصل اس کے پیچھے ان شرپسند عناصر کا ہاتھ ہے جو یورپ کے ذرائع ابلاغ اور پالیسی ساز اداروں پر قابض...

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں...

مغربی مسلمانوں کے مسائل ۔ علماء کیلئے چیلنج

مولانا مجاہد الاسلام قاسمی

ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر میں ۱۴ اگست کو لندن پہونچا۔ مولانا عیسٰی منصوری اور مولانا زاہد الراشدی اس فورم کے روحِ رواں ہیں۔ موضوع تھا ’’یورپی مسلمانوں کی دشواریاں اور ان کا حل‘‘ اس موضوع پر تفصیلی خطاب ہوا۔ اس سفر میں بہت سی ممتاز شخصیتوں اور اداروں کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور متعدد شہروں میں جانا ہوا، لوگوں نے بے حد مشغول رکھا لیکن یہ مشغولیت بہت مبارک تھی اور کارِ دین کے لیے تھی۔ انگلستان میں مسلمان خاصی تعداد میں آباد ہیں جو مختلف اسلامی ممالک سے آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ اصلاً یہ تلاشِ معاش میں آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ ترک ہیں، عرب...

علماء مغربی فلسفہ کی ماہیت کو سمجھیں اور انسانی معاشرہ کی راہنمائی کریں

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے علماء کرام اور مسلم دانشوروں پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو دنیا کی دوسری اقوام تک پہنچانے کے لیے مربوط اور منظم پروگرام ترتیب دیں اور اسلامی تعلیمات کو آج کی زبان میں لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔ وہ ۳۱ اگست ۱۹۹۴ء کو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں ورلڈ اسلامک فورم کے وفد سے بات چیت کر رہے تھے جو مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد عیسٰی منصوری اور مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی پر مشتمل تھا۔ اس موقع پر مولانا ندوی نے کہا کہ علماء حق نے ہر دور میں وقت کے فتنہ اور ضرورت کو پہچانا...

مولانا سندھیؒ کی ایک تاریخی تقریر

ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

عزیزانِ گرامی! ۱۹۱۵ء میں مجھے میرے استاد حضرت شیخ الہندؒ نے افغانستان بھیجا تھا۔ آپ کے بزرگوں نے مجھے باہر بھیجا تھا۔ باہر رہ کر جو کچھ اسلام کی خدمت کر سکتا تھا، میں نے کی۔ میرے سامنے پہاڑ آئے، شکست کھا گئے، موت آئی، شکست کھا گئی۔ میں ان سپہ سالاروں کا رفیق رہا جنہوں نے دنیا کے بڑے بڑے معرکے سر کیے۔ آپ میری باتوں کو محض تاثرات یا عارضی ہیجانات کا نتیجہ نہ سمجھئے گا۔ میرے پیچھے تجربات کی دنیا ہے۔ میرے مشاہدات بہت وسیع ہیں۔ میں نے کھلی آنکھوں سے دنیا کو دیکھا ہے اور انقلابات اور ان کے اثرات و نتائج کا انقلاب کی سرزمینوں میں رہ کر مطالعہ کیا...

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا دو سال قبل تکمیل کی منزل تک پہنچا ہے، مغرب کی سیکولر لابیوں کو مسلسل کھٹک رہا ہے اور یہ لابیاں اور پاکستان میں ان کے حواری پینترے بدل بدل کر اس قانون پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مغرب نے تو مذہب، آسمانی ہدایات، اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں اور برگزیدہ دینی شخصیات کی عقیدت و احترام کے دائرے ایک عرصہ سے توڑ تاڑ کر ایک طرف رکھ دیے ہیں اور اب مغربی معاشرہ کی کیفیت یہ ہے کہ روزنامہ جنگ لندن ۳۰ مارچ ۱۹۹۴ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام،...

’’بنیاد پرستی‘‘ کی اصطلاح کا اصل پس منظر

پروفیسر غلام رسول عدیم

پیشتر اس کے کہ اس بات کی وضاحت کی جائے کہ بنیاد پرستی کیا ہے، اس انگریزی لفظ کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے جس کا یہ ترجمہ ہے۔ بنیاد پرستی انگریزی لفظ Fundamentalism کا ترجمہ ہے۔ اس لفظ کے سامنے آتے ہی اصل لفظ کی کئی جہتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ لفظ Fundus کے معنی اناٹومی میں ہیں اساس، عضو، آنکھ کی گہرائی، وہ حصہ جس میں کوئی عضو واقع ہو۔ اصلاً یہ علمِ تشریح الاعضا (Anatomy) سے متعلق ہے اور اس کے معنی مقعد، قاعدہ، اساس یا پیندہ کے ہیں۔ اسی سے اسمِ صفت Fundamental بنا، جس کے معنی ہیں بنیادی، اساسی، اولیہ، اولی۔ چونکہ دورِ حاضر میں مختلف علمی سطحوں پر علوم و فنون کے ہزاروں...

خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی نشست کے لیے گفتگو کا عنوان طے ہوا ہے ’’خلافتِ اسلامیہ کا احیا اور اس کا طریق کار‘‘۔ اس لیے خلافت کے مفہوم اور تعریف کے ذکر کے بعد تین امور پر گفتگو ہوگی: (۱) خلافت کا اعتقادی اور شرعی پہلو کہ ہمارے عقیدہ میں خلافت کی اہمیت اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ (۲) خلافت کا تاریخی پہلو کہ اس کا آغاز کب ہوا تھا اور خاتمہ کب اور کیسے ہوا؟(۳) اور یہ سوال کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کے لیے کون سا طریق کار قابل...

تدبر و حکمتِ عملی کی ضرورت

مولانا محمد رابع حسنی ندوی

موجودہ صدی کے وسط سے مسلمانوں کو اپنے دین اور اپنے ملی پیغام کی طرف توجہ دلانے کی جو کوششیں ہوئیں اور ان کو ان کا عزت و عظمت کا ماضی یاد دلانے کے لیے جو لکھا اور کہا گیا، اس کے یہ اثرات پڑے کہ مسلمانوں میں بیداری اور مِلی احساس و شعور کی ایک لہر اٹھی جو جگہ جگہ محسوس کی گئی، اور اس سے مستقبل میں اچھی توقعات قائم کی جانے لگیں۔ حتٰی کہ بعض کہنے والے کہنے لگے کہ اگلی صدی اسلام کی صدی ہو گی۔ چنانچہ جب ہجری تاریخ سے نئی صدی شروع ہوئی تو بڑا غلغلہ اٹھا کہ یہ صدی اسلام کی صدی ہے اور دنیا کی قیادت اب دیر سویر مسلمان کریں گے، یہ دیکھو فلاں جگہ بڑی دینی و...

مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مغرب کا مادی فلسفہ حیات جو سولائزیشن، انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے پر فریب نعروں کے ساتھ آج دنیا کے ایک بڑے حصے پر اپنی بالادستی کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے، انسانی معاشرہ کے لیے کوئی نیا فلسفہ نہیں ہے بلکہ نسل انسانی کے آغاز سے چلے آنے والے اسی فلسفہ حیات کی ترقی یافتہ شکل ہے جسے قرآن کریم نے ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ فلسفہ جو وحی الٰہی اور علم یقینی کے بجائے انسانی خواہشات و مفادات اور عقل و شعور کے حوالے سے نسل انسانی کی راہ نمائی کا دعوے...

اسلام اور مغرب کی کشمکش ۔ برطانوی ولی عہد کی نظر میں

ادارہ

عالمِ اسلام اور مغربی دنیا کے درمیان روابط آج جتنی اہمیت رکھتے ہیں پہلے کبھی نہ رکھتے تھے۔ آج کی باہم منحصر دنیا میں دونوں کو ساتھ رہنے اور ساتھ کام کرنے کی ضرورت شدید ہے لیکن دونوں کے درمیان سنگین غلط فہمیاں موجود ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ مغرب کی غلط فہمیوں کی وجہ اسلام اور مسلمانوں سے ناواقفیت نہیں، آخر مسلمان ہمارے ہی آس پاس رہتے ہیں، خود برطانیہ میں پانچ سو مسجدیں ہیں اور ۱۹۷۶ء کے ’’فیسٹیول آف اسلام‘‘ کی یادیں ابھی تازہ ہیں۔ نوے کے عشرے میں، سرد جنگ کے بعد، امن کے امکانات اس صدی میں کسی دوسرے دور سے زیادہ ہونا...

اکیسویں صدی اور اسلام ۔ مغرب کیا سوچتا ہے؟

محمد عادل فاروقی

۲۱ ویں صدی کی اصل سپرپاور مسجد ہے یا گرجا؟ بلاشبہ یہ وہ نئی سرد جنگ ہے جو اب بھرپور انداز میں مشرق اور مغرب کے درمیان شروع ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے اصل حریف مسلمان اور عیسائی ہیں۔ مغربی مفکر جان آسپوزیٹو نے اپنی نئی ریسرچ میں اسلام اور عیسائیت کی نئی محاذ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریباً تقریباً وہی حالات پیدا ہو چکے ہیں جو آج سے ۷۵ سال پہلے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت تھے۔ جس طرح سلطنتِ عثمانیہ کمزور ہوئی تھی اس طرح آج کلیسا پر زوال کے گہرے سائے پڑ چکے ہیں۔ جان کا کہنا ہے کہ جس طرح اس زمانے میں مسلمانوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ ان کا...

’’جمہوریت‘‘ — ماہنامہ الفجر کا فکر انگیز اداریہ

ادارہ

ہر قوم اور ہر ملت کے اپنے مخصوص نظریات ہوتے ہیں۔ ان نظریات کی بنا پر ان کا اپنا سیاسی نظام وضع ہوتا ہے۔ پھر اس نظام کو چلانے کے لیے اداروں کی تشکیل کی جاتی ہے۔ امت مسلمہ کے سوا جتنی بھی اقوام اور نسلی گروہ دنیا میں موجود ہیں انہوں نے اپنی اجتماعی زندگی گزارنے کے ضابطے اور اصول خود وضع کیے ہیں۔ ان کے مطابق دساتیر بنائے گئے ہیں۔ ان پر وہ عمل پیرا ہیں۔ وہ اپنے اصولوں اور ضابطوں میں ترمیم و اضافہ بھی کرتے ہیں، ایک دوسرے کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر زیادہ تر اپنی زندگی کا ایسا لائحہ عمل اپناتے ہیں جس کے ذریعے وہ زندگی کے عیش و آرام کو زیادہ...
< 51-100 (107) >

Flag Counter