قرآن / علوم قرآن

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

لغت میں کلا کا مشہور مفہوم تو شدید نفی اور زجر وردع کا ہے، اردو میں اس کے لیے ہرگز نہیں اور نہیں نہیں کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے۔ عام طور سے اس سے پہلے ایسی کوئی بات سیاق کلام میں موجود ہوتی ہے جس کی شدت کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ تاہم قرآن مجید میں بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں موقع کلام’’ ہرگز نہیں‘‘ کے بجائے کسی دیگر مفہوم کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ سیاق کلام میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی ہے جس کی نفی کرنے کا محل ہو۔ اس دیگر مفہوم کے بارے میں بعض ائمہ نحو کا خیال ہے کہ حقا یعنی بیشک کا مفہوم ہے، بعض کا خیال ہے کہ ای ونعم یعنی ہاں ہاں کا مفہوم ہے، اور...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۵)

محمد عمار خان ناصر

حنفی اصولیین کا موقف۔ قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور اس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے ائمہ احناف کے نظریے پر خود ان کی زبانی کوئی تفصیلی بحث دستیاب ذخیرے میں امام ابوبکر الجصاص کی ’’الفصول فی الاصول‘‘ اور ’’احکام القرآن‘‘ سے پہلے نہیں ملتی۔ ائمہ احناف سے اس موضوع پر حنفی مآخذ میں جو کچھ منقول ہے، ان کی نوعیت متفرق اقوال یا مختصر تبصروں کی ہے جن سے ان کا پورا اصولی تصور اور اس کا استدلال واضح نہیں ہوتا۔ تاہم تاریخی اہمیت کے پہلو سے ان کا ذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ابو مقاتل حفص بن سلم السمرقندی نے امام ابو حنیفہ کا یہ قول روایت کیا ہے کہ:...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

”استکبر عن“ کا ترجمہ۔ لفظ استکبر کا اصل استعمال عن کے بغیر ہوتا ہے، اس کے ساتھ عن آنے سے اعراض کے مفہوم کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح دو مفہوم جمع ہوجاتے ہیں، ایک تکبر کرنا اور دوسرا اعراض کرنا۔ تکبر کرنے اور اعراض کرنے میں باہمی تعلق یہ ہے کہ تکبر کرنے کی وجہ سے انسان کسی چیز سے اعراض کرتا ہے، یعنی تکبر اعراض کا سبب ہوتا ہے۔ غرض استکبر عن کا مکمل ترجمہ وہ ہے جس میں یہ دونوں مفہوم ادا ہورہے ہوں۔اس کی روشنی میں جب ہم درج ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر ترجمے اس لفظ کا مکمل مفہوم ادا نہیں کررہے ہیں۔ (۱) وَکُنتُم...

”سورۃ البینۃ“ ۔ اصحابِ تشکیک کے لیے نسخہ شفاء

مولانا محمد عبد اللہ شارق

“سورۃ البینہ” کی تفسیری مشکلات۔ متاخرین اہلِ تفسیر میں سے بعض حضرات کو “سورۃ البینہ” کی ابتدائی چند آیات کے ایک “منظم ومربوط معنی” کا تعین کرنے میں کچھ ابہامات اور اشکالات پیدا ہوئے ہیں اور علامہ آلوسی نے امام واحدی سے نقل کیا ہے کہ یہ مقام قرآن کے “اصعب” (نسبتا مشکل) مقامات میں سے ایک ہے (1)، نیز خود راقم کو بھی اس مقام پر کسی منظم، بے تکلف اوربے ساختہ مفہوم ومراد کا تعین کرنے اور اس کی سبق آموزی کو سمجھنے میں دقت پیش آتی رہی۔امام رازی سے لے کر اردو کے معاصر مفسرین تک بعض حضرات نے گو خود ابہامات کا اظہار کرنے والوں پر حیرت کا اظہار کیا اور...

قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۴)

محمد عمار خان ناصر

اب دوسری قسم سے تعلق رکھنے والی بعض مثالیں ملاحظہ کیجیے: ۹۔ قرآن مجید میں مال کی زکوٰة کا ذکر اسلوب عموم میں کیا گیا ہے: خذ من اموالھم صدقۃ (التوبہ ۱٠۳:۹)۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی تفصیلات کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ کون سے اموال میں زکوٰة عائد ہوگی اور کون سے اموال اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کن صورتوں میں زکوٰة ساقط ہو جائے گی ، زکوٰة کی مقدار کیا ہوگی اور کتنی مدت کے بعد زکوٰة وصول کی جائے گی، وغیرہ۔ گویا آپ نے بتایا کہ زکوٰة ہر مال میں نہیں، بلکہ چند مخصوص اموال میں مخصوص شرائط کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ اگر سنت کی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

تعجیل اور استعجال میں فرق۔ وَلَو یُعَجِّلُ اللّہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ استِعجَالَہُم بِالخَیرِ لَقُضِیَ الَییہِم اَجَلُہُم۔ [یونس: 11] ’’اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی سبقت کرنے والا ہوتا جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت تمام کردی گئی ہوتی”۔ (امین احسن اصلاحی) آیت مذکورہ کے اس ترجمے میں صاحب تدبر نے تعجیل اور استعجال دونوں کا ایک ہی ترجمہ کردیا ہے۔ جبکہ قرآن مجید کے دیگر تمام مقامات پر انہوں نے دونوں کے درمیان فرق کا پورا لحاظ کیا ہے۔ قرآنی استعمالات کے مطابق تعجیل کا مطلب کام کو جلدی کرنا اور استعجال...

قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۳)

محمد عمار خان ناصر

قرآن اور اخبار آحاد میں تعارض کی بحث۔ قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے اہم ترین سوال جس پر امام شافعی نے داد تحقیق دی ہے، بعض احادیث کے، بظاہر قرآن کے حکم سے متعارض یا اس سے متجاوز ہونے کا سوال ہے۔ اس ضمن میں عہد صحابہ وتابعین میں جو مختلف زاویہ ہائے نظر پائے جاتے تھے، ان کی وضاحت پچھلی فصل میں کی جا چکی ہے۔ جمہور فقہاءومحدثین ایسی صورت میں قرآن مجید کی مراد کی تعیین میں احادیث کو فیصلہ کن حیثیت دیتے تھے اور ظاہری تعارض کو، کسی قابل اعتماد روایت کو رد کرنے کی درست بنیاد تصور نہیں کرتے تھے۔ امام شافعی نے بھی اس بحث میں جمہور اہل علم کے موقف...

قرآنی اُسلوب دعوت کی باز یافت

سید مطیع الرحمٰن مشہدی

عزیز دوست محترم میاں انعام الرحمٰن کو جب بھی بتا یا کہ میں آج کل فلاں کتاب یا فلاں موضوع کا مطالعہ کر رہاہوں تو ایک بات وہ ہمیشہ دہراتے ہیں کہ جب کتاب یا مذکورہ مضمون کامطالعہ مکمل کرلیں تو اس کے حاصلِ مطالعہ پر ایک ڈیڑھ صفحہ ضرور لکھ دیا کریں کہ اس سے نثر نگار ی شستہ ،رواں اور بہترین ہو گی ۔پھر جب کبھی آپ اس کتاب یا موضوع پر برسوں بعد بھی کوئی تبصرہ یا کوئی تحقیقی کام کر نا چاہیں گے تو بجائے پوری کتاب پڑھنے کے یہ ایک ڈیڑھ صفحہ کفایت کرے گا ۔ آپ کے حاصل مطالعہ سے کئی اور لوگ بھی مستفید ہو ں گے ،کچھ عرصہ بعد اس طرح کے شذرات سے ایک کتاب بھی بن...

انسانی شعور، ایمان اور قرآن مجید کا اسلوب استدلال

محمد عمار خان ناصر

ایمان والحاد اور فلسفہ ومذہب کی باہمی گفتگو میں عام طور پر ایمان کا تقابل عقل سے کیا جاتا ہے، اور یہ دونوں فریقوں کی جانب سے ہوتا ہے۔ تاہم ذرا غور سے واضح ہو جاتا ہے کہ عقل اور ایمان کے تقابل کا مفروضہ منطقی طور پر غلط ہے، اس لیے کہ یہ دونوں انسانی شعور کے دو الگ الگ مراتب سے تعلق رکھتے ہیں۔ الحاد یا ایمان کا تعلق انسانی شعور کے اولین مرتبے یعنی اپنی وجودی حالت کے تصور سے ہے، جبکہ عقل کی فعلیت اس کے بعد شروع ہوتی ہے اور سرتاسر وجودی مفروضات کے تابع ہوتی ہے۔ وجودی مفروضات کے لحاظ سے ایمان یا الحاد میں سے کوئی بھی پوزیشن عقلی سطح پر قابل توجیہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

ایک جملہ یا دو جملے؟ شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّینِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِی اوحَینَا اِلَیکَ وَمَا وَصَّینَا بِہِ ابرَاہِیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی ان اَقِیمُوا الدِّینَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیہِ۔[الشوری: 13] اس آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے گویا کہ یہ ایک ہی جملہ ہے جس میں والذی اوحینا الیک معطوف ہے ما وصی بہ نوحا پر جو مفعول بہ ہے۔ اور ان اقیموا الدین بیان یا تفسیر ہے۔اس ترجمے میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ شرع لکم کہنے کے بعد والذی اوحینا الیک کہنے کی کیا ضرورت تھی، ذیل میں مذکور ترجمے ملاحظہ ہوں: ’’اسی نے تمہارے لیے دین کا...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۲)

محمد عمار خان ناصر

منحرف گروہوں کے فکری رجحانات اور فقہائے صحابہ۔ قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور قرآن مجید کے عمومات سے استدلال کے ضمن میں بحث ومباحثہ کا دوسرا دائرہ وہ تھا جس میں فقہائے صحابہ کا سامنا بعض منحرف گروہوں کے اس فکری رجحان سے تھا کہ دینی احکام اور پابندیوں کا ماخذ قرآن مجید میں تلاش کرنے پر اصرار کیا جائے اور اصولاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل تشریعی حیثیت پر سوال نہ اٹھاتے ہوئے بھی عملاً احادیث میں منقول احکام وہدایات کو زیادہ اہم نہ سمجھا جائے۔ اس رجحان کی پیشین گوئی اور اس کے حوالے سے تنبیہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر فرمائی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

اھتدی کا ترجمہ۔ اھتدی کا لفظ مختلف صیغوں کے ساتھ قرآن مجید میں بار بار آیا ہے، ماہرین لغت کی تشریح کے مطابق اس لفظ میں ہدایت کو طلب کرنا، ہدایت کو اختیار کرنا، اور ہدایت پر قائم رہنا شامل ہے۔ اس لفظ کے مفہوم میں ارادے اور اقدام کا ہونا موجود ہے۔ لفظ اھتدی کی اس روح اور اس کی اس معنوی خصوصیت کا سامنے رہنا بہت اہم اور ضروری ہے۔ یہ لفظ یاد دلاتا ہے کہ اس امتحان گاہ میں ہدایت از خود حاصل ہوجانے کے بجائے اختیار کی جانے والی چیز ہے۔ ہدایت اختیار کرنے کا یہ مفہوم ان مقامات پر اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے ، جہاں ایسا کرنے پر ایسا کرنے کے نتائج مرتب ہونے...

قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱)

محمد عمار خان ناصر

ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ عرب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کی فراہمی کا جو طریقہ اختیار کیا گیا، اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب کے ساتھ ساتھ اللہ کے رسول بھی اپنے قول وعمل کے ذریعے سے اہل ایمان کی راہ نمائی فرما رہے تھے۔ اپنی اس منصبی حیثیت میں آپ کو اہل ایمان کے لیے دینی ہدایات واحکام مقرر کرنے کا مستقل اختیار حاصل تھا اور اہل ایمان سے کتاب الٰہی اور پیغمبر، دونوں کی اطاعت کسی امتیاز کے بغیر یکساں مطلوب تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اَطِیعُوا اللّٰہَ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

بلاء کا ترجمہ۔ بلا یبلو، اور أبلی یبلی کابنیادی مطلب تو ہوتا ہے کسی کو آزمائش میں ڈالنا، صلہ اور باب فعل کے اختلاف سے آزمائش کی نوعیت بدلتی رہتی ہے، یہ آزمائش خیر سے بھی ہوتی ہے اور شر سے بھی ہوتی ہے۔فرمایا: (ونبلوکم بالشر والخیر )، یہیں سے اس کا ایک مطلب خیر سے نوازنا بھی ہے۔ ابن قتیبہ ادب الکاتب میں لکھتے ہیں ۔۔۔ قرآن مجید میں چھ مقامات پر لفظ بلاء آیا ہے، یہ چھ مقامات وہ ہیں جہاں کسی بڑی مصیبت یا آزمائش سے بچالیے جانے کا تذکرہ ہے۔ ان میں سے چار مقامات پر بنی اسرائیل کو فرعون اور آل فرعون کے ظلم سے نجات دلانے کے بعد اس کا ذکر ہے، اور ان چار میں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

بظاہر تفضیل مگر حقیقت میں مبالغہ۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ اسم تفضیل جمع مذکرسالم کی طرف مضاف ہوکر آیا ہے، جیسے خیر الرازقین اور احسن الخالقین، ایسے تمام ہی مقامات پر تفضیل مقصود نہیں ہوتی ہے، بلکہ صفت میں مبالغہ اور کمال مقصود ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق ہے۔ تفضیل کے مفہوم میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ دوسروں میں بھی وہ صفت موجود ہے، البتہ کسی میں دوسروں سے زیادہ ہے، جبکہ مبالغہ میں یہ لازم نہیں آتا ہے کہ دوسروں میں بھی وہ صفت موجود ہے، بلکہ کلام کا سارا زور موصوف پر ہوتا ہے، کہ یہ صفت موصوف میں اعلی درجے میں پائی جاتی ہے۔ خیر الرازقین کا مطلب یہ نہیں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۹) کن فیکون کا ترجمہ۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں کہیں ’’کن فکان‘‘ نہیں آیا ہے، جبکہ آٹھ مقامات پر کن فیکون کی تعبیر آئی ہے۔ یہ تعبیر ایک بار زمانہ ماضی کے سلسلے میں آئی ہے، ایک بار زمانہ مستقبل کے سلسلے میں اور باقی مقامات پر ہر زمانے پر محیط عام اصول بتانے کے لیے آئی ہے۔ عام طور سے کن فیکون کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے:’’ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے‘‘ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ کن فیکون کا مناسب ترجمہ نہیں ہے، بلکہ دراصل ’’کن فکان‘‘کا ترجمہ ہے۔ کن فیکون کا ترجمہ ہوگا ’’ہوجا تو وہ ہونے لگتی ہے یا ہورہی ہوتی ہے‘‘۔ترجمے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۶) من دون اللہ کا ایک ترجمہ۔ لفظ ’’دون‘‘ عربی کے ان الفاظ میں سے ہے جن کے متعدد معانی ہوتے ہیں، اور سیاق وسباق کی روشنی میں مناسب ترین معنی اختیار کیا جاتا ہے۔ دون کا ایک معنی ’’سوا‘‘ ہوتا ہے، مندرجہ ذیل آیتوں میں مِن دُونِ اللّہ کاترجمہ کرتے ہوئے دون کا یہی معنی زیادہ تر مترجمین نے اختیار کیا ہے، البتہ کچھ مترجمین نے ’’سوا‘‘ کے بجائے ’’چھوڑ کر‘‘ ترجمہ کیا۔ اول الذکر تعبیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں وسعت زیادہ ہے، اس میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو اللہ کو معبود مانتے ہیں، اور اللہ کے سوا دوسرے معبود بھی بناتے ہیں، اور وہ لوگ بھی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۳) اسلوب متعین کرنے کی ایک غلطی۔ درج ذیل آیت پر غور کریں: وَإِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَیى (طہ: 7)۔ اس آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے: ”تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے“ (سید مودودی)۔ ”اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے“ (احمد رضا خان)۔ صاحب تدبر نے یہاں عام مترجمین سے مختلف ترجمہ کیا ہے۔ ”خواہ تم علانیہ بات کہو (یا چپکے سے) وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے“ (امین احسن اصلاحی)۔ صاحب تدبر...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۲) انتصر کا ترجمہ۔ انتصر کے لغت میں دو مفہوم ملتے ہیں: ایک انتقام لینا، اور دوسرا ظالم کا مقابلہ کرنا۔ وانتَصَرَ منہ: انتَقَمَ (القاموس المحیط) وانتصر الرجل اذا امتنع من ظالمہ، قال الازھری: یکون الانتصار من الظالم الانتصاف والانتقام، وانتصر منہ: انتقم۔ والانتصار: الانتقام (لسان العرب) وانتَصَرَ منہ: انتقم۔ (الصحاح)۔ جدید لغت المعجم الوسیط میں اس کی اچھی تفصیل ملتی ہے کہ جب یہ فعل من کے ساتھ ہو تو انتقام لینا، علی کے ساتھ ہو تو غلبہ حاصل کرنا اور بغیر صلے کے عام معنی ظالم کا مقابلہ کرنا اور اس کے ظلم کو روکنا ہوتا ہے۔ انتصر: امتنع من ظالمہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۱) القول اور کلمۃ فیصلے کے معنی میں۔ قرآن مجید میں القول کا لفظ ایک خاص اسلوب میں استعمال ہوا ہے، اس اسلوب کے لیے القول کے ساتھ تین مختلف افعال استعمال ہوئے ہیں، جیسے حق علیہ القول، اور وقع علیہ القول، اور سبق علیہ القول۔ القول کی طرح کلمة کا لفظ بھی اسی خاص اسلوب میں استعمال میں ہوتا ہے، جیسے حقت علیہ کلمة، اور سبقت کلمة۔ مترجمین قرآن کے یہاں ایسے مقامات کا ترجمہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو ان کا مفہوم متعین کرنے میں دشواری ہوئی ہے، اور وہ مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کرتے ہیں، بسا اوقات ان ترجموں کو سمجھنا بھی دشوار...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۳۹) باء کا ایک خاص استعمال۔ علمائے لغت کے قول کے مطابق حرف باء کم وبیش چودہ معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک ان مفہوموں کے علاوہ قرآن مجید میں کچھ مقامات پر حرف باء مزید ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے، ذیل میں مثالوں کے ذریعہ اسے واضح کیا جائے گا ۔۔۔۔ آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ حسب ذیل کیا گیا ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے‘‘(محمد جوناگڑھی) ’’ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۳۵) فھم یوزعون کا ترجمہ۔ یوزعون کا لفظ قرآن مجید میں تین مقامات پر آیا ہے، یہ فعل مضارع ہے، لفظی لحاظ سے اس کا ماضی وزع بھی ہوسکتا ہے اور أوزع بھی ہوسکتا ہے، گو کہ معنوی پہلو سے وزع ہی درست لگتا ہے جس کے معنی روکنے کے ہیں، اور لشکر کو قابو میں رکھنے کے بھی ہیں، جبکہ أوزع کے معنی ترغیب وتوفیق دینے کے ہیں ، اہل لغت کے مطابق ایزاع توزیع کے ہم معنی ہوکرتقسیم کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے،بہرحال یہ مفہوم اگر ہو بھی تو استعمال میں رائج نہیں ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تینوں مقامات پر اس لفظ کے مختلف ترجمے کئے گئے ہیں: (۱) وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُودُہُ...

قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو سمجھنے میں غلطی

محمد ندیم پشاوری

اسلام کے دشمنوں نے مختلف زمانوں میں اسلام کو ناقص بنانے اور اس کے اجزاء میں کتر بیونت پیدا کرنے اور پیوند کاری کی کوششیں کی ہیں جس میں وہ ہمیشہ ناکام ہوتے رہے ہیں کیونکہ دین کی حفاظت کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیشہ اہل علم پیدا فرمائے جو دین کو اس کی مکمل شکل میں باقی رکھنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے کیونکہ اسلام مکمل اور آخری دین کی صورت میں آیا ہے اور اس کو قیامت تک اسی طرح مکمل طریقہ سے باقی رہنا ہے۔ اس وقت بھی دین کو اس کی مکمل شکل سے ہٹا کر پیش کرنے کی کوششیں وقتاً فوقتاً ہوتی نظر آتی ہیں اور بعض اوقات غلط فہمی، کم علمی یا کسی شخصیت کی حاضر...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۳۲) بل قالوا کا ترجمہ۔ بَلْ قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ کَمَا أُرْسِلَ الأَوَّلُون۔(الانبیاء: 5)۔ اس آیت میں بَلْ کے بعد قَالُواْ آیا ہے، الفاظ کی ترتیب کے لحاظ سے ترجمہ ہوگا: بلکہ انہوں نے کہا۔ عام طور سے مترجمین نے یہی ترجمہ کیا ہے، لیکن ایک ترجمہ اس سے مختلف بھی ملتا ہے،مثالیں ملاحظہ ہوں: ’’اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگندہ خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی لاتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۲۹) نظر المغشی علیہ من الموت کا ترجمہ۔ مندرجہ ذیل دو قرآنی مقامات کے بعض ترجمے توجہ طلب ہیں: (۱) رَأَیْْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ یَنظُرُونَ إِلَیْْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْْہِ مِنَ الْمَوْتِ۔ (محمد: 20)۔ ’’مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو ‘‘(سید مودودی، اس ترجمہ میں ایک غلطی یہ بھی ہے کہ اذا کے ہوتے ہوئے ترجمہ ماضی کا کیا گیا ہے، حالانکہ اذا فعل ماضی پر داخل ہوتا ہے اور اسے حال یا مستقبل کے مفہوم...

قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو خدا کا حکم سمجھنے کی غلطی

ڈاکٹر عرفان شہزاد

اسلام کے سیاسی غلبے کو دینی فریضہ قرار دینے کے حق میں یہ استدلال ایک بنیادی استدلال کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام سے فتح و نصرت کے وعدے کیے تھے جو ان کے حق میں پورے ہوئے۔ یہی وعدے دیگر اہل ایمان کے لے بھی عام ہیں۔مسلمان اگر پورے جذبہ ایمانی سے اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کوشش کریں گے تو یہ وعدے ان کے حق میں بھی اسی طرح پورے ہوں گے جیسے یہ صحابہ کے لیے پورے ہوئے تھے۔ اس استدلال کے بھروسے پر مسلم تاریخ میں بے شمار مسلح اور غیر مسلح سیاسی تحاریک برپا کی گئیں جن کا انجام تاریخ کے صفحات میں رقم ہے۔ زیر نظر مضمون...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۲۴) لأول الحشر کا ترجمہ۔ یہ لفظ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل ایک مقام پر آیا ہے: ہُوَ الَّذِیْ أَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِن دِیَارِہِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۔(الحشر: 2)۔ مفسرین ومترجمین کو اس کا مفہوم متعین کرنے میں الجھن پیش آئی ہے، اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ترجمے دیکھ کر کیا جاسکتا ہے: ’’وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں اْن کے گھروں سے نکال باہر کیا‘‘ (سید مودودی،’’پہلے ہی حملے‘‘ اس وقت درست ہوتا جب اول حشر یا الحشر الاول ہوتا، اس کی بجائے ’’حملہ کے آغاز ہی میں‘‘ درست ترجمہ ہوسکتا ہے)۔ ’’وہی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۲۱) یستعتبون کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں لفظ یستعتبون تین مقامات پر آیا ہے، اور ایک مقام پر یستعتبوا آیا ہے۔ مختلف ترجموں کو سامنے رکھنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو اس سلسلے میں کسی ایک مفہوم پر اطمینان نہیں تھا، اس لیے ایک ہی مترجم کے یہاں ایک ہی لفظ کے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے ملتے ہیں۔ عربی لغات دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ استعتب کے لفظ میں وسعت ہے۔ اس لفظ کا مطلب فیروزآبادی یوں بیان کرتے ہیں: استَعتَبَہ: أعطاہ العُتبی،کأَعتَبہ، وطَلَبَ الیہ العُتبَی، ضِدٌّ. القاموس المحیط۔ اس لفظ کا ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی سے کسی کی ناراضگی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۸) جنوب کا ترجمہ۔ جنوب، جنب کی جمع ہے، اس کے معنی پہلو کے ہیں، امام لغت فیروزآبادی لکھتے ہیں: الجَنْبُ والجانِبُ والجَنَبَۃُ، مُحَرَّکَۃً: شِقّْ الاِنْسانِ وغیرہِ، ج: جْنْوبٌ وجوانِبُ وجَنَائِبُ. القاموس المحیط۔ عربی میں پیٹھ کے لیے ظھر اور پہلو کے لیے جنب آتا ہے، مذکورہ ذیل آیت میں دونوں الفاظ ایک ساتھ ذکر کیے گئے ہیں: (۱) یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوَی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ہَذَا مَا کَنَزْتُمْ لأَنفُسِکُمْ فَذُوقُواْ مَا کُنتُمْ تَکْنِزُونَ۔ (التوبۃ: ۳۵)۔ ’’ایک دن آئے گا کہ اسی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۶) یولج کا ترجمہ۔ ایلاج کے معنی داخل کرنا ہوتا ہے، قرآن مجید میں رات اور دن کے حوالے سے یہ فعل پانچ آیتوں میں ذکر ہوا ہے۔ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ ان پانچ آیتوں میں سے ایک آیت کا ترجمہ صاحب تفہیم القرآن نے داخل کرنے کے بجائے نکالنا کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ پہلی بات کہ یہ ترجمہ آیت کے الفاظ کے خلاف ہے، ایلاج کے معنی داخل کرنا ہے نکالنا نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس مفہوم کی تائید میں کوئی اور نظیر بھی نہیں ہے، قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں آیا ہے کہ اللہ دن سے رات کو اور رات سے دن کو نکالتا ہے۔...

سورہ یونس اور سورہ ہود کے مضامین : ایک تقابل

ڈاکٹر عرفان شہزاد

علامہ حمید الدین فراہی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ قرآن مجید کی سورتیں جوڑا جوڑا ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بعض سورتوں کے جوڑا جوڑا ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ اور سورہ آل عمران، اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے بارے میں جنھیں معوذتین بھی کہا گیا ہے۔ اس نقطہ نظر سے جب قرآن کی سورتوں کا مطالعہ کیا گیا تو یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اس تناظر میں سورہ یونس اور سورہ ہود کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ یہ مطالعہ کس حد تک درست ہے، اس میں مزید کیا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور قرآن کی سورتوں...

قرآن مجید اور نفس انسانی کا تزکیہ

محمد عمار خان ناصر

(فہم قرآن کے اصول ومبادی سے متعلق ایک لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو۔)۔ قرآن کریم نے انسانی نفس کو اور اس کی پیچیدگیوں اور مسائل کو کیسے بیان کیا ہے؟ نفس انسانی کے میلانات کی صحیح رخ پر تشکیل ہو اور وہ غلط راستے سے محفوظ ہو کر راہ راست پر آسکے، اس کے لیے ہمیں قرآن پاک سے کیا رہنمائی ملتی ہے؟ یہ آج کی گفتگو کا عنوان ہے۔ اگر قرآن کریم کی ساری تعلیم کو نفس انسانی کے حوالے سے ہم ملخص کرنا چاہیں تو دو تین نکات کی صورت میں اس کوبیان کیا جا سکتا ہے۔ پورے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ کیا ہے؟ ایک تو اس کائنات سے متعلق اور اس کائنات کے مالک سے متعلق اور بطور ایک...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۵) مُلک کا ترجمہ۔ عربی میں مُلک کا مشہور معنی بادشاہت، اقتدار اور حکمرانی ہے، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: والاسم المُلکُ، والموضع مَمْلکَۃ۔ اردو میں ملک کا مشہور معنی دیس اور سلطنت ہے، عربی کے لفظ ملک کا اردو میں بھی ملک ترجمہ کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے، بلکہ بادشاہت ، اقتدار اور حکمرانی جیسی تعبیر مناسب معلوم ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ملک کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے، اور اکثر وبیشتر مقامات پر اس کا ترجمہ بادشاہی اور حکمرانی کیا گیا ہے، لیکن بعض مقامات پر بہت سارے مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے۔ مشہور ومعروف استعمالات کا لحاظ کیا...

فہم قرآن کے چند اخلاقی اور لسانی اصول

محمد عمار خان ناصر

(فہم قرآن کے اصول ومبادی سے متعلق ایک لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو۔)۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس کی آیات کی تفسیر وتوضیح کرتے ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی منشا اور مدعا متعین کرتے ہوئے کچھ اصول ہیں جو قرآن مجید کے ہر طالب علم کے سامنے رہنے چاہییں اور ان کی پابندی اس بات کی ضمانت دے گی کہ انسان اللہ کی مراد کے زیادہ قریب پہنچنے کے قابل ہو جائے گا۔ ان میں سے کچھ اصول علمی نوعیت کے ہیں اور کچھ اخلاقی اصول ہیں۔ ان کو ملحوظ رکھنے سے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انسان ہر جگہ ہر معاملے میں کسی بھی قسم کی غلطی کا شکار نہیں ہوگا، ا س لیے کہ بہرحال...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۴) مِلَّۃَ إِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفاً کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں حنیفا کا لفظ دس بار آیا ہے، اس کے علاوہ حنیف کی جمع حنفاء کا بھی دو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ پانچ مقامات پر مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً آیا ہے، ان پانچوں مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حنیفا اگر نحوی ترکیب کے لحاظ سے حال ہے تو اس کا ذوالحال کیا ہے، یعنی وہ کس کا حال ہے؟، کیونکہ اس کی وجہ سے ترجمہ مختلف ہوسکتا ہے۔ ہم پہلے ان مقامات کے مختلف ترجمے پیش کریں گے، اور اس کے بعد ان ترجموں کے متعلق اپنا جائزہ پیش کریں گے۔ (۱) وَقَالُواْ کُونُواْ ہُوداً أَوْ نَصَارَی تَہْتَدُواْ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۲) تاب علی کا مفہوم۔ تاب کے معنی لوٹنے کے ہوتے ہیں، قرآن مجید میں بندوں کے لیے تاب کا فعل الی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اللہ کی طرف رجوع اور انابت کرنا، اس وسیع مفہوم میں توبہ کرنا اور معافی مانگنا بھی شامل ہے، لیکن لفظ کا اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔ اللہ کے لیے تابکا فعل علی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے مہربان ہونا نظر کرم فرمانا۔ اس وسیع مفہوم میں توبہ کی توفیق دینا اور توبہ قبول کرلینا اور معاف کردینا بھی شامل ہے، لیکن اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔ فیروزآبادی کے الفاظ میں: وتابَ اللہ علیہ: وفَّقَہ للتَّوبۃِ،...

قرآنِ مجید اور اسیرانِ جنگ

عدنان اعجاز

سورہ محمد (۷۴) (۱) کی آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ کے وہ جنگی احکامات مذکور ہیں جو ہجرتِ مدینہ کے مختصراً بعدکفار مکہ سے باقاعدہ آغازِ جنگ کے موقع پر مسلمانوں کو دیے گئے۔ ان میں جنگی قیدیوں سے متعلق ایک اہم قانون بھی بیان ہوا ہے۔ آیت کے الفاظ چونکہ جنگ میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے اختیار کو دو ایسی صورتوں میں محصور کر دیتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طرزِ عمل سے بظاہر محصور دکھائی نہیں دیتے، اس لیے ہمارے فقہا کے لیے یہ آیت ہمیشہ 'مسئلے کا حصہ' (part of the problem) اور محل تاویلات رہی ہے۔ آیت کا وہ حصہ جو موضوع سے متعلق...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۱) علقۃ اور مضغۃ کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں علق کا لفظ ایک بار اور علقۃ کا لفظ متعدد بار آیا ہے، دونوں کا مطلب ایک ہے، اور وہ ہے جما ہوا خون، راغب اصفہانی لکھتے ہیں: والعَلَقُ: الدّم الجامد ومنہ: العَلَقَۃُ التی یکون منھا الولد.المفردات. علقہ کی اردو تعبیر کے لیے مترجمین نے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں، جیسے، جنین، لوتھڑا، خون کا لوتھڑا، خون کی پھٹک، خون کی پھٹکی، خون کا تھکا۔ علقہ کے لیے جنین کا لفظ کسی طرح مناسب نہیں ہے، کیونکہ جنین کا عمومی اطلاق عربی میں بھی اور اردو میں بھی پیٹ کے بچے پر ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی مرحلے میں ہو، جبکہ اردو میں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۰) ولد اور ابن میں فرق کی رعایت۔ عربی زبان میں جب ولدکا لفظ آتا ہے تو اس میں بیٹا اور بیٹی دونوں اور ان کی اولاد شامل ہوتے ہیں، یہ مفرد کے لیے بھی آتا ہے اور جمع کے لیے بھی۔ جبکہ ابن کے مفہوم میں صرف نرینہ اولاد یعنی بیٹا ہوتا ہے، علامہ ابوھلال عسکری (چوتھی صدی ہجری) اپنی شہرہ آفاق کتاب الفروق اللغویۃ میں لکھتے ہیں: یقال الابن للذکر والولد للذکر والأنثی۔ قرآن مجید میں دونوں الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جہاں ولد استعمال ہوا ہے وہاں اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے اولاد ترجمہ کرنا چاہیے، اور جہاں ابن یا ابن کی جمع بنین یا أبناء استعمال کی گئی ہے، وہاں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۸) القا ء کا ترجمہ۔ القاء کا مطلب ڈالنا اور رکھنا ہوتا ہے، پھینکنا اس لفظ کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا ہے، بعض لوگوں نے جگہ جگہ اس لفظ کا ترجمہ پھینکنا کیا ہے، کہیں کہیں اس سے مفہوم میں فرق نہیں پڑتا، لیکن کہیں تو اس ترجمہ سے مفہوم میں واضح طور پر خرابی آجاتی ہے۔ ہم پہلے وہ آیتیں ذکر کرتے ہیں جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا ہوہی نہیں سکتا ہے، اس لئے کسی نے یہ ترجمہ نہیں کیا ہے، خاص طور سے سید مودودی نے بھی نہیں، جو کہ اکثر جگہ القاء کا ترجمہ پھینکنا کرتے ہیں: (۱) وَأَلْقَی فِی الأَرْضِ رَوَاسِیَ۔ (النحل:۱۵)۔ ’’اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں‘‘...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۷) القول علی اللہ کا مفہوم۔ قرآن مجید میں قول علی اللہ کی تعبیر مختلف صیغوں میں استعمال ہوئی ہے، اس تعبیرکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف کسی بات کو منسوب کرکے یہ کہنا کہ اللہ نے یہ بات کہی ہے ، جب کہ کہی نہ ہو، یا یہ کہنا کہ اللہ ایسا کرتا ہے یا کرے گا، جب کہ ایسا نہ ہو۔ بعض مترجمین نے بعض مقامات پر اس کا ترجمہ اللہ پر تہمت لگانا اور بہتان باندھنا کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ اس تعبیر کے اندر اللہ پر کسی طرح کی تہمت لگانے کا مفہوم نہیں پایا جاتا ہے۔ بعض مترجمین نے اللہ کی شان کے خلاف بات کہنے کا مفہوم بھی لیا ہے، وہ بھی اس لفظ کا اصل مفہوم...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۵) من نفس واحدۃ کا ترجمہ۔ من نفس واحدۃ کی تعبیر قرآن مجید میں چارآیتوں میں آئی ہے،ان میں سے تین آیتوں میں منھا زوجھا کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ عربی تفاسیر میں خلقکم من نفس واحدۃ کا عام طور سے ایک ہی مفہوم ملتا ہے، یعنی ’’ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور خلق منھا زوجھا کے دو مفہوم ملتے ہیں ’’اس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ اور اس کی جنس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ اردو تراجم میں شاہ عبد القادر کے ترجمہ کو لوگوں نے عام طور سے اختیار کیا ہے جس میں ’’ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور ’’اس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ دوسرے جملے کے ترجمہ میں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۴) من ذنوبکم کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں تین مقامات پر من کے ساتھ یغفر لکم من ذنوبکم آیا ہے، اور تین ہی مقامات پر من کے بغیر یغفر لکم ذنوبکم آیا ہے۔ جہاں من نہیں ہے وہاں ترجمہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن جہاں من ہے وہاں ترجمہ میں اختلاف ہوگیا ہے، بعض لوگوں نے من کو زائد مان کرآیت کا ترجمہ کیا ہے، اور بعض لوگوں نے تبعیض کا مان کر ترجمہ کیا ہے، دلچسپ معاملہ ان لوگوں کا ہے جو کہیں زائد والا ترجمہ کرتے ہیں اور کہیں تبعیض والا ترجمہ کرتے ہیں۔ ذیل میں تینوں آیتوں کے کچھ ترجمے پیش کیے جارہے ہیں جن سے صورت حال واضح ہوجاتی ہے۔ (۱) قَالَتْ رُسُلُہُمْ أَفِیْ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۲) علی حبہ کا ترجمہ۔ علی حبہ قرآن میں دو جگہ آیا ہے، اس کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ طے کرنا ضروری ہوتا ہے کہ علی حبہ میں ضمیر کا مرجع کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا مرجع اللہ کو قرار دیا ہے، اس بنا پر وہ ترجمہ کرتے ہیں اللہ کی محبت میں۔ یہ ترجمہ بعض وجوہ سے کمزور ہے، ایک تو یہ کہ اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے علی حبہ کے بجائے فی حبہ یا لحبہ آتا ہے، جبکہ یہاں دونوں مقام پر علی حبہ ہے۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں مقامات پر قریبی عبارت میں لفظا اللہ کا ذکر نہیں ہے کہ اس کی طرف ضمیر کو لوٹایا جائے۔ یہ درست ہے کہ ضمیر کے مرجع کے لیے عہد ذہنی کا اعتبار ہوسکتا ہے، یا کچھ دور...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۱) أنفسکم کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں بعضکم بعضا کی تعبیر متعدد مقامات پر آئی ہے، اور حسب حال مختلف ترکیبوں کے ساتھ استعمال ہوئی ہے، بعضکم بعضا کا ترجمہ ہوتا ہے ’’ایک دوسرے کو‘‘ اور ’’آپس میں‘‘ اور ’’کوئی کسی کو‘‘ جیسے: ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُم بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُم بَعْضاً(العنکبوت:۲۵) کبھی فعل کے ثلاثی مجردکے بجائے باب تفاعل سے ثلاثی مزید میں استعمال ہونے سے بھی بعضکم بعضا کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسے یقتل بعضھم بعضا کا مفہوم وہی ہے جو یتقاتلون کا ہے۔ اس کے علاوہ ایک تعبیر أنفسکم کی بھی آئی ہے، بہت...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۹۸) مدّہ اور مدّ لہ میں فرق۔ قرآن مجید میں فعل مد یمد براہ راست مفعول بہ کے ساتھ بھی آیا ہے اور حرف جر لام کے ساتھ بھی آیا ہے۔ ان دونوں اسلوبوں میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں عام طور سے علماء لغت اور مفسرین کے یہاں کوئی صراحت نہیں ملتی، بلکہ ان کے بیانات سے لگتا ہے کہ دونوں اسلوب ہم معنی ہیں، البتہ علامہ زمخشری نے اس فرق کوصراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے، ان کے نزدیک مد اگر مفعول بہ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی بڑھانے اور اضافہ کرنے کے ہیں، اور اگر حرف جر لام کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ڈھیل دینے اور مہلت دینے کے ہیں۔ سورہ بقرۃ آیت نمبر ۱۵؍ کی تفسیر میں...

قرآن مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث ۔ حافظ محمد زبیر صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر عرفان شہزاد

...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۹۷) افتری علی اللہ الکذب کا ترجمہ۔ افتری کے معنی گھڑنا ہوتے ہیں، افتری الکذب کا مطلب ہوتا ہے جھوٹ بات گھڑنا، اور افتری علی اللہ الکذب کا مطلب ہے اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا، اور اللہ کی طرف بے بنیاد بات منسوب کرنا۔ قرآن مجید میں یہ تعبیر بہت زیادہ مقامات پر آئی ہے،بہت سے مترجمین کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ اس کا ترجمہ کرتے وقت کبھی کبھی بہتان باندھنے یا تہمت لگانے کا ترجمہ کردیتے ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے، افتری علی اللہ الکذب میں اللہ پر بہتان لگانے یا تہمت لگانے کا مفہوم ہوتا ہی نہیں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ جو مترجم بعض جگہوں پر بہتان باندھنے کا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۹۱) ’’وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْْہِ الْعَذَابُ‘‘ کا ترجمہ۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَن فِیْ الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْْہِ الْعَذَابُ۔(الحج: ۱۸)۔ اس آیت کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو عام طور سے مترجمین نے کیا ہے، بطور مثال ذیل میں ایک ترجمہ پیش کیا جاتا ہے: ’’تو نے نہ دیکھا کہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمان میں ہے، اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۸۷) ثَمَرَاتِ النَّخِیلِ وَالاَعْنَابِ کا ترجمہ۔ نخیل کا مطلب کھجور کا درخت ہوتا ہے، اور ثمرات النخیل کا مطلب کھجور ہوتا ہے، جبکہ اعناب کا اصل مطلب انگور ہوتا ہے، کبھی انگور کی بیلوں کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے، اس وضاحت کی روشنی میں ذیل میں مذکور آیت کے مختلف ترجمے ملاحظہ فرمائیں: وَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِیْلِ وَالأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْہُ سَکَراً وَرِزْقاً حَسَناً إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لآیَۃً لِّقَوْمٍ یَعْقِلُون ۔ (النحل: ۶۷)۔ ’’اسی طرح کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں، جسے تم نشہ آور بھی بنالیتے...
< 51-100 (162) >
Flag Counter