قرآن / علوم القرآن

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(486) واذ قالت امۃ منہم لم تعظون قوما : اصحاب سبت کے واقعہ کے سلسلے میں جب درج ذیل تین آیتوں پر غور کریں تو تین سوالات سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں بنی اسرائیل کے کتنے گروہوں کا ذکر ہے، دوسرا یہ کہ عذاب کن گروہوں پر آیا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(481) فَاَمْکَنَ مِنْہُمْ کا ترجمہ۔ فعل أمکن کے دو مفعول آتے ہیں، ایک راست مفعول بہ ہوتا ہے اور دوسرے پر من لگتا ہے۔ أمکنت فلانًا من الصید میں نے فلاں کو شکار پر قابو دے دیا۔ درج ذیل آیت میں فَأَمْکَنَ مِنْہُمْ میں مفعول...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(471) المتقین کا ترجمہ: درج ذیل دونوں آیتوں میں متقین کا ترجمہ صاحب تدبر نے ’نقض عہد سے بچنے والوں‘ کیا ہے۔ یہ ترجمہ موزوں نہیں ہے۔ متقی قرآن کی معروف اصطلاح ہے۔ تقوی اختیار کرنے یعنی اللہ کی ناراضگی سے بچنے والے کو...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(464) إِذَا لَہُمْ مَکْرٌ فِی آیَاتِنَا: إِذَا فجائیہ کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کے بعد والی بات اس سے پہلے والی بات کے فورًا بعد پیش آئے۔ البتہ اس بات میں تحیر کا پہلو غالب رہتا ہے۔ درج ذیل آیت میں بھی إِذَا کا ترجمہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(455) کفرہ اور کفر بہ میں فرق: قرآن مجید میں کفر بہ تو کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ اکثر جگہوں پر انکار کے معنی میں اور کہیں کہیں ناشکری کے معنی میں۔ جب کہ کفرہ چند مقامات پر آیا ہے۔ دونوں کے درمیان فرق کا ذکر ہمیں عام طور سے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(440) أُوفِی الْکَیْلَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنِّی أُوفِی الْکَیْلَ۔(یوسف: 59)۔ ”کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں“۔ (احمد رضا خان)۔ ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)۔ ”کیا تم...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(431) شَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ أَہْلِہَا: شھد شاھد کا ترجمہ کچھ لوگوں نے فیصلہ کرنا اور زیادہ تر لوگوں نے گواہی دینا کیا ہے۔ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ أَہْلِہَا۔ (یوسف: 26)۔ ”اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا“۔...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(423) وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کا ترجمہ: درج ذیل آیت میں بعض لوگوں نے وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ گویا وہ اسے حال مان رہے ہوں۔ ایسی صورت میں یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جن پر اللہ صواعق بھیجتا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(418) فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ: یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ۔ (ابراہیم: 27)۔ ”ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(416) بلاء کا ترجمہ قرآن مجید میں ب ل و کے مادے سے مشتق ہونے والے بہت سے صیغے آئے ہیں، یہاں خاص لفظ بلاء کے مفہوم پر گفتگو مقصود ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جہاں بھی آیا ہے وہاں انعامات کا تذکرہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(409) وَزَیَّنَّاہَا لِلنَّاظِرِینَ: سورۃ الحجر کی درج ذیل آیتوں میں زَیَّنَّاہَا اور حَفِظْنَاہَا دونوں ہی میں مفعول بہ ضمیر ’ھا‘ کی صورت میں ہے۔ نحوی لحاظ سے اس ضمیر کا مرجع السماء بھی ہوسکتا ہے اور بروجاً بھی۔...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(405) طیِّب کا ترجمہ: طیب اور خبیث ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ طیب کے معنی پاک کے بھی ہیں اور عمدہ و خوش گوار کے بھی ہیں۔ اہل لغت طاب کا معنی لذّ و زکا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی لذیذ اور پاکیزہ۔ اس لفظ میں وسعت پائی جاتی ہے۔ ابن منظور...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(400) لَنُبَوِّئَنَّہُمْ کا ترجمہ: درج ذیل دو آیتوں کے ترجموں میں کچھ قابل توجہ امور ہیں۔ وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا فِی اللَّہِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّہُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَۃِ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(398) تنزیلا کا ترجمہ: قرآن مجید میں کتابیں نازل کرنے کے لیے باب تفعیل سے تنزیل اور باب افعال سے انزال، دونوں ہی تعبیریں آئی ہیں۔ کیا ان دونوں میں فرق ہے یا یہ مترادف اور ہم معنی ہیں؟ زمخشری نے ان دونوں کے درمیان فرق یہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

استمع کا معنی کان لگا کر غور سے سننا ہے۔یہ عام طور سے کسی صلے کے بغیر راست مفعول بہ کے ساتھ آتاہے۔ جیسے: یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ (الاحقاف: 29)یا پھر کبھی لام آتا ہے، جیسے: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(383) لیل اور لیلة میں فرق: لیلة ایک رات کے لیے جب کہ لیل رات کے لیے آتا ہے۔ درج ذیل آیت میں لَیْلًا ہے جس کا ترجمہ ایک رات نہیں بلکہ راتوں رات کیا جائے گا۔ سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(374) موعد کا ترجمہ۔ موعد، وعد سے مشتق ہے، لیکن اس میں ہمیشہ وعدے کا مفہوم نہیں ہوتا ہے، کبھی موعد صرف وقت مقررہ کے لیے بھی آتا ہے۔ درج ذیل آیتوں میں موعد وقت مقررہ کے معنی میں ہے نہ کہ وعدہ کیے ہوئے وقت کے معنی میں: (۱)...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(366) لِیُنْذِرَ بَأْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ۔ لِیُنْذِرَ بَأْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ۔(الکہف: 2)۔ ”تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)۔ ”تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(359) وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا۔ وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا۔ (مریم: 46)۔ ”تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور اور دفع ہو!“۔ (امین احسن اصلاحی)۔ ”جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ“۔ (محمد جوناگڑھی)۔ ”بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا“۔...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(353) وَلَمْ أَکُنْ کا ترجمہ: وَلَمْ أَکُنْ بِدُعَائِکَ رَبِّ شَقِیًّا۔(مریم: 4) ”لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا“۔ (محمد جوناگڑھی) ”اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا“۔ (فتح...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(346) الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی۔ تَنْزِیلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَی۔ الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی۔(طہ: 4، 5) ”یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے جس نے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(342) بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ۔ درج ذیل آیت میں بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ کا مندرجہ ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں: بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(324) عَمَّا أَرْضَعَتْ کا ترجمہ۔ درج ذیل جملے میں عَمَّا أَرْضَعَتْ کا ترجمہ ’اپنے دودھ پیتے بچے‘ کیا گیا ہے، لیکن اس نکتے کی طرف عام طور سے دھیان نہیں گیا کہ أَرْضَعَتْ فعل ماضی ہے مضارع نہیں ہے، اس لیے اس کا ترجمہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(318) ایواء کا مطلب۔ آوی یؤوی ایواء کا اصل مطلب ٹھکانا فراہم کرنا ہوتا ہے۔ البتہ جب کسی دشمن یا کسی خطرے سے بچاؤ کا موقع ہو تو پناہ دینا بھی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہوجاتاہے۔ اس لیے اگر موقع پناہ کا نہیں ہو تو ایواء کا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(306) فَإِذْ لَمْ یَأْتُوا بِالشُّہَدَاءِ۔ درج ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں: لَّوْلَا جَاءُ وا عَلَیْهِ بِأَرْبَعةِ شُہَدَاءَ فَإِذْ لَمْ یَأْتُوا بِالشُّہَدَاءِ فَأُولَٰئِکَ عِندَ اللَّہِ ہُمُ الْکَاذِبُونَ۔...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(298) ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ۔ تذکیر کا مطلب یاد دلانا ہوتا ہے، یہ یاد دہانی سمع اور بصر دونوں راستوں سے ہوسکتی ہے، کتابِ وحی کی آیتوں کو سنا کر بھی اور کتابِ کائنات کی نشانیوں کو دکھا کر بھی۔ درج ذیل آیت میں تذکیر...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(291) استثناء منقطع کی ایک مثال: سورۃ الشعراء کی درج ذیل آیتوں میں جن دو گروہوں کا ذکر ہوا ہے، انھیں عام طور سے شعرا کے دو گروہ مان کر تفسیر کی گئی ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کرتے ہوئے الّا کا ترجمہ استثناء متصل والا کیا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(285) تِسْعَةُ رَہْطٍ کا ترجمہ۔ قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں تِسْعَة رَہْطٍ آیا ہے۔ رھط اور نفر قریب قریب ہم معنی الفاظ ہیں۔ بخاری اور مسلم میں مذکور حدیث میں بنی اسرائیل کے تین آدمیوں کے واقعہ میں ثلاثة نفر کے الفاظ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(280) خاطؤون کا ترجمہ۔ خطأ کے معنی غلطی کے ہوتے ہیں، ایک فیصلے اور تدبیر کی غلطی ہوتی ہے جسے چوک کہا جاتا ہے۔ اور ایک گناہ اور جرم والی غلطی ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں چوک ہوجانے کے لیے باب افعال سے أخطأ آیا ہے۔ جیسے وَلَیْسَ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(273) أَن یَقُولُوا آمَنَّا۔ درج ذیل آیت کا ترجمہ دیکھیں: أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ۔ (العنکبوت: 2) ”کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(266) وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا: وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا لِّیَرْبُوَ فِی اََمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ وَمَا آتَیْتُم مِّن زَکَاۃٍ تُرِیدُونَ وَجْهَ اللَّہِ فَاَُولَئِکَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(263) اف کا ترجمہ۔ عربی میں لفظ اف دراصل منھ سے نکلنے والی ایک آواز ہے، جس سے کسی چیز یا بات سے بیزاری اور ناگواری کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر زبان میں اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں۔ زمخشری کے بقول: اُفٍّ صوت اذا صوّت بہ علم انّ صاحبہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(259) سلفًا اور آخِرین کا ترجمہ۔ فَجَعَلنَاہُم سَلَفاً وَمَثَلاً لِلآخِرِینَ ۔ (سورة الزخرف: 56)۔ ”اور ان کو ماضی کی ایک داستان اور دوسروں کے لیے ایک نمونہ عبرت بنادیا“۔ (امین احسن اصلاحی)۔ خ پر زبر کے ساتھ آخَر کا مطلب...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

درج ذیل آیت کے ترجموں کا جائزہ لیتے ہوئے ہم دیکھیں گے کہ کسی قول کے قائل کے تعین میں غلطی ہونے سے مفہوم اور اس سے نکلنے والے نتائج پر کتنا اثر پڑتا ہے؟ اَوَمَن یُنَشَّاُ فِی الحِلیَةِ وَہُوَ فِی الخِصَامِ غَیرُ مُبِینٍ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(248) ائتِیَا کا ترجمہ: ثُمَّ استَوَیٰ اِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَان فَقَالَ لَہَا وَلِلاَرضِ ائتِیَا طَوعًا اَو کَرہًا قَالَتَا اَتَینَا طَائِعِینَ۔ (فصلت:11)- ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(243) وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ کا ترجمہ۔ وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ اَن یَشہَدَ عَلَیکُم سَمعُکُم وَلَا اَبصَارُکُم وَلَا جُلُودُکُمَ۔ (فصلت :22)۔ اس آیت کے حسب ذیل ترجمے کیے گئے ہیں: ”تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(234) السیئات کا ترجمہ۔ سیئات اصل میں صفت ہے اس کا موصوف اگر اعمال ہوں تو برائیاں مراد ہوتی ہیں، اور اگر احوال ہوں تو بدحالیاں مراد ہوتی ہیں، درج ذیل آیت میں حسنات سے خوش حالیاں اور سیئات سے بدحالیاں مراد ہیں: وَقَطَّعنَاہُم...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(225) القاسیة قلوبہم من ذکر اللہ کا ترجمہ: اَفَمَن شَرَحَ اللَّہُ صَدرَہُ لِلاِسلَامِ فَہُوَ عَلَیٰ نُورٍ مِّن رَّبِّہِ فَوَیل لِّلقَاسِیَةِ قُلُوبُہُم مِّن ذِکرِ اللَّہِ اُولَٰئِکَ فِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ۔(الزمر:...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

لِلَّذِینَ اَحسَنُوا فِی ہَذِہِ الدُّنیَا حَسَنَة کا ترجمہ۔ یہ جملہ قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے۔ اس جملے میں ”فِی هَذِہِ الدُّنیَا“ کو اگر ”اَحسَنُوا“ سے متعلق مانیں گے تو ترجمہ ہوگا: جن لوگوں نے اس دنیا میں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(221) علا یعلو کے مختلف صیغوں کا ترجمہ۔ علا یعلو کا مطلب ہے اوپر اٹھنا بلند ہونا، اس کا مصدر علو ہے اور اسم فاعل عال ہے۔ اس لفظ سے قابل تعریف مفہوم بھی نکلتا ہے اور قابل مذمت مفہوم بھی نکلتا ہے۔ خلیل فراہیدی کے مطابق:...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷٠)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(219) سورة الصافات کی قسموں کا ترجمہ۔ سورة الصافات کے شروع میں تین صفتوں کو مقسم بہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان صفتوں کا موصوف ایک ہی ہے یا الگ الگ ہیں، اس سلسلے میں مختلف رائیں ہیں، تاہم مشہور رائے یہ ہے کہ موصوف ملائکہ...

تدبرِ کائنات، اسلامی ایمانیات اور قرآنِ مجید کا طریقِ استنباط

مولانا محمد عبد اللہ شارق

یہ کائنات اسلامی ایمانیات کی ایک نہایت محکم ومکمل دلیل ہے اور اسلامی دعوت وپیغام کی صداقت وحقانیت کے ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتی ہے، نیز جب کسی فرد پر کائنات کی یہ گواہی منکشف ہوتی ہے تو کائنات کا ہر ایک ذرہ اور ہر...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(218) اذا الفجائیۃ والے جملے کا ترجمہ: اذا کی ایک قسم وہ ہے جسے اذا فجائیہ کہا جاتا ہے، یہ درست ہے کہ اس کا نام فجائیہ ہے، اذا میں ایک طرح کا تحیر کا عنصر تو پایا جاتا ہے، لیکن اس کے مفہوم میں ضروری نہیں ہے کہ اچانک واقع ہوجانے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(214) زاد کے ایک خاص اسلوب کا ترجمہ۔ زاد کا ایک خاص اسلوب یہ ہے کہ اس کا مفعول آتا ہے اور اس کے بعد تمیز مذکور ہوتی ہے، زاد کا مطلب اضافہ کرنا ہوتا ہے مگر اس اسلوب میں زاد کے مفعول بہ میں اضافہ کرنا مراد نہیں ہوتا ہے بلکہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(213) لو کے بعد فعل مضارع کا ترجمہ۔ لو کبھی مصدریہ بن کر آتا ہے جیسے ودوا لو تدہن فیدہنون، یہ عام طور سے فعل ود کے بعد آتا ہے، یہ ابھی ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔ لو کی مشہور قسم وہ ہے جسے حرف امتناع کہتے ہیں۔ لو برائے امتناع...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۲٠۳) یُخلِفُہُ کا ترجمہ۔ اخلف کا ایک مطلب ہوتا ہے کوئی چیز ختم ہوگئی ہو تو اس کی جگہ دوسری چیز لے آنا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: واَخلَفَ فلان لنفسہ، اذا کان قد ذھب لہ شیءفجعل مکانَہ آخر(الصحاح) اس معنی میں یہ لفظ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

سورة الاحزاب کے کچھ مقامات۔ (۱۹۷) صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ۔ درج ذیل آیت میں صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ عام طور لوگوں نے ”عہد کو سچا کردکھایا ہے“ کیا ہے، اور اس کے بعد قَضَی نَحبَہُ کا ترجمہ بھی ”عہد یا...

قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۶)

محمد عمار خان ناصر

قرآن کی روشنی میں احادیث کی توجیہ وتعبیر۔ قرآن کے ساتھ احادیث کے تعلق کو متعین کرنے کا دوسرا طریقہ جو غامدی صاحب کے علمی منہج میں اختیار کیا گیا ہے، یہ ہے کہ روایات کو ان کے ظاہری مفہوم یا عموم پر محمول کرنے کے بجائے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۹۲) اسبغ کا ترجمہ۔ لفظ اسبغ قرآن مجید میں ایک جگہ آیا ہے، جب کہ اسی مادے سے ایک جگہ سابغات کا لفظ آیا ہے، اسبغ کا مطلب ہوتا ہے اتنی فراوانی جس سے ساری ضرورتیں پوری ہوجائیں۔ جس طرح درع سابغة کا مطلب ہوتا ہے اتنی کشادہ...
< 51-100 (238) >

تلاش

شماریات