مکاتیب

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب مولانا محمد عمار صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاجِ گرامی۔ کل ہی الشریعۃ کا ڈاکٹر محمود احمد غازی نمبر اور آپ کا رسالہ مسئلہ توہین رسالت موصول ہوئے۔ توقع نہیں تھی کہ اتنے مختصر وقت میں اتنی ضخامت کا نمبر تیار ہوسکے گا۔ غازی صاحب رحمہ اللہ پر خصوصی نمبر شائع کرنے میں شرفِ سبقت غالباً آپ ہی کو حاصل ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو مقبول اور نافع بنائیں۔ آمین۔ الحمد للہ ڈاکٹر کی حیات وخدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑگئی ہے۔ میری نظر میں غازی صاحب جیسی شخصیات کے کردار کا پہلو نمایاں کرنا ان کی علمی خدمات سے بھی زیادہ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا۔ یوگندر سکند کے آپ کے والد ماجد سے سوالات اور مولانا محترم کے جوابات ارسال کرنے کا بہت بہت شکریہ! دیوبند میں ہوئی کشمیر کانفرنس کے حوالے سے جب آپ کے رسالہ کی کسی قریبی اشاعت میں ایک مضمون شائع ہوا تھا تو آپ کو اس کی بابت کچھ لکھنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ اب اس انٹرویو میں بھی اس کا تذکرہ دیکھ کر خیال ہوا کہ سردست چند سطریں ہی آپ کی خدمت میں ارسال کر دی جائیں۔ (۱) یہ کانفرنس جمعیۃ علماء ہند نے منعقد کی تھی، دار العلوم دیوبند نے نہیں۔...

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط

ڈاکٹر محمود احمد غازی

بنام: جناب مسعود احمد برکاتی۔ برادر مکرم ومحترم جناب مسعود احمد برکاتی صاحب دامت برکاتکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا گرامی نامہ (بحوالہ ھ۔ن ۲۰۰۴، مورخہ ۲۷ جون ۲۰۰۴ء) بروقت مل گیا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں بروقت جواب نہ دے سکا۔ امید ہے کہ آپ حسب سابق اس کوتاہی کو بھی معاف فرمائیں گے۔ میرا رشتہ بھی ہمدرد نونہال سے کم وبیش نصف صدی پرانا ہے۔ میں نے بہت بچپن میں، تقریباً چار سال کی عمر سے، ہمدرد نونہال پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ میں نے اپنے والد مرحوم کی زیر نگرانی تین ساڑھے تین سال کی عمر سے ہی گھر میں نوشت وخواند کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔...

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

ادارہ

(۱) ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ عالم اسلام کے نامور محقق، مفکر اور سیرت نگار تھے۔ آپ کی علمی، فکری، تحقیقی وتصنیفی زندگی تقریباً اسّی پچاسی سال کے طویل عرصے پر پھیلی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا تعلق خاندانِ نوائط سے تھا۔ نوائط کا نسبی تعلق عرب کے معزز قبیلہ بنو ہاشم کی ایک شاخ سے تھا۔ یہ لوگ مدینہ کے رہنے والے تھے۔ نوائط نے حجاج بن یوسف کے ظلم وستم سے تنگ آکر ہجرت کی اور یہ خاندان جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں پر آ کر آباد ہو گیا تھا۔یہ خاندان اپنی دین داری، شرافت اور علمی رجحانات وخدمات کے لحاظ سے بہت معروف ومشہور ہے (۱)۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ۱۶...

مکاتیب

ادارہ

(۱) (زیر نظر تحریر میں فاضل مکتوب نگار نے اکتوبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی بحث کے بعض اہم نکات کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر واضح کیا ہے۔ میرے خیال میں سابقہ بحث کی روشنی میں ان میں سے بیشتر نکات پر تبصرہ محض تکرار ہوگا، البتہ مکتوب نگار نے ریاست پاکستان کی خارجہ پالیسیوں اور پاکستانی شہریوں کے لیے ان کی پابندی کے ضروری یا غیر ضروری ہونے کے ضمن میں بعض اہم علمی اور اصولی سوالات اٹھائے ہیں اور اس طرح یہ بحث دور جدید میں اسلامی ریاست کے عملی ڈھانچے اور موجودہ مسلم حکومتوں کی شرعی حیثیت کے اس موضوع سے مربوط ہو گئی ہے جس پر ’الشریعہ‘ کے زیر...

مکاتیب

ادارہ

(۱) آپ کی جوابی تحریر موصول ہوئی۔ راقم آپ کی پہلی تحریر میں اپنے نکات سے متعلق جوابی سیکشن نہ دیکھ سکا تھا جس کی وجہ سے جواب نہ ملنے کی شکایت کی۔ اس کے لیے معذرت قبول کیجیے۔ قلت وقت کے سبب انتہائی اختصار کے ساتھ چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں: (۱) آپ کی آخری تحریر سے یہ واضح ہوجا تا ہے کہ کم از کم آپ مجاہدین کے اس مقدمے سے متفق ہیں کہ (شرعی حدود کا لحاظ رکھتے ہوئے ) امریکہ پر اقدامی حملہ کرنا شرعاً و اصولاً جائز ہے ۔ ۲) آپ کا فرمانا ہے کہ کسی جنگی اقدام کے جہاد کہلانے کی لئے ضروری ہے کہ اس میں ’کسی بھی ‘ شرعی اصول و تعلیم کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو۔ آپ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) (زیر نظر مکتوب کی اشاعت سے مقصود زیر بحث مسئلے پر کسی کلامی مناقشے کی دعوت دینا نہیں، بلکہ محض علمی مسائل میں اختلافی تعبیرات کے حوالے سے وسعت نظرکے پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔ مدیر)۔ مکرمی ومحترمی حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب دامت مکارمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عذاب قبر کے متعلق آنجناب کا محققانہ مضمون عرصہ سے آیا ہوا ہے، مگر مطالعہ کا موقع نہ مل رہا تھا۔ حال میں اس کا حرفاً حرفاً مطالعہ کیا۔ ماشاء اللہ بہت مفید مضمون ہے۔ احقر کو بہت فائدہ ہوا، البتہ اس کے مطالعہ سے احقر اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ حضرت مولانا غلام اللہ خان...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مکرمی جناب محمد عمار خان ناصر۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی! آپ کی توجہ اور عنایات سے آپ کا موقر مجلہ ’’الشریعہ‘‘ باقاعدگی سے ملتا ہے۔ اگرچہ اب میں ایک مدت سے ’’غیر فعال‘‘ ہوں، تاہم علمی جرائد اور مجلات کے توسط سے تحقیقی پیش رفت سے آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ الشریعہ میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے غیر سودی نظام پر تنقید اور اس کے دفاع کا مباحثہ میں نے بہت شوق اور توجہ سے پڑھا، ہر چند کہ اکنامکس کا طالب علم نہ ہونے کے باعث بابجا الجھنیں پیش آتی رہیں۔ اس موضوع پر دو طرفہ علماء کرام اور فقیہان امت کی تالیفات اور فتاویٰ بھی دینی...

موجودہ صورتحال میں علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک مدت کے بعد دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ علماے کرام کا ایک نمائندہ اجتماع جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۵؍ اپریل جمعرات کو منعقد ہوا جس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے فرمائی اور ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ علماے کرام نے شرکت کی۔ اس سے قبل پندرہ بیس کے لگ بھگ سرکردہ اہل علم نے جامعہ اشرفیہ میں ہی مسلسل مشاورت کی جو دو روز تک جاری رہی۔ اس میں ملک کی موجودہ صورت حال اور خاص طور پر علماے دیوبند کو مختلف جہات سے درپیش مسائل اور چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور...

مکاتیب

ادارہ

(۱) برادرم جناب مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ والد ماجد مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کے بارے میں ’’تکفیرِ شیعہ‘‘ کے حوالے سے کافی گرما گرم بحث ومباحثہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ کئی ماہ کے شماروں میں نظر سے گزرا۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں ہم بھی کچھ گزارشات قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ تکفیرِ شیعہ کے حوالے سے والد ماجدؒ کا اصولی موقف وہی ہے جس کے بارے میں آپ نے سید مشتاق علی شاہ صاحب کے مضمون (جنوری ۲۰۱۰ء) میں حاشیہ لگا کر صحیح ترجمانی...

مکاتیب

ادارہ

محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب۔ سلام مسنون۔ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے! ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ [فروری ۲۰۱۰] میں سید مہر حسین بخاری صاحب کا جوابی مکتوب پڑھا۔ موصوف نے خوامخواہ بحث کو طول دینے اور اپنے پلڑے میں وزن ڈالنے کے لیے حضرت صوفی صاحب نوراللہ مرقدہ کے شیعہ کے بارے میں نظریہ سے متعلق بحث میں دارالعلوم دیوبند کے مفتی اول صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی نقل کردیا، حالانکہ اس عاجز نے تو فقط حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ کے نظریہ سے متعلق چند گزارشات کی تھیں۔ اب جبکہ وہ خود میدان میں اتر آئے ہیں تو مجبوراً ہمیں بھی چند گزارشات کرنا پڑیں۔خدا تعالیٰ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) ڈیئر عمار خان ناصر صاحب۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ خداوند تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ عرض یہ ہے کہ پڑھنے کے لیے اتنا کچھ سامنے پڑا ہوتا ہے کہ زندگی اور اس کے تمام لمحات انتہائی قلیل دکھائی دیتے ہیں۔ مجبوراً انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ روایتی مذہبی میگزین یا رسالوں کے لیے تو کوئی گنجائش نہیں نکلتی، لیکن آپ کا ’الشریعہ‘ جب ہاتھوں میں آتا ہے تو نہ نہ کرتے ہوئے بھی محض ورق گردانی کے دوران اس کے بیشتر حصے پڑھتا چلا جاتا ہوں۔ یہ آپ کے میگزین کی خوبی یا دلچسپی ہے کہ چھٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی۔ آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ ہر ماہ مجھے یہ دارو فی سبیل...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مکرمی جناب عمار خاں ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ سب سے پہلے تو آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے میری تحریر ’’پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر ومزاج ‘‘ کو ’الشریعہ‘ کے نومبر/ دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارے میں جگہ دے کر ان خیالات کو اس قابل سمجھا کہ انہیں اپنے قارئین تک پہنچائیں۔ اس سے پہلے شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خاں صاحب ؒ کے بارے میں الشریعہ کا ضخیم خصوصی نمبر ملا۔ اتنے قلیل عرصے میں اتنی ضخیم اور معیاری پیش کش پر آپ، حضرت ؒ کے تمام عقیدت مندوں اور مداحوں کی طرف سے مبارک باداور شکریے کے مستحق ہیں، البتہ حضرت کے تلامذہ اور اور اولاد واحفاد...

مکاتیب

ادارہ

(۱) عزیزنا الوفی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ قرأت مقالتکم فی فرصۃ یسیرۃ۔ أرید أن ألفت أنظارکم إلی الامور التالیۃ الناشءۃ عن الفکرۃ التی قدمتم إلی الجمہور۔ (۱) لا یجوز للمسلمین أن یقوموا ضد العدو الغاشم مہما کانت الظروف والاحوال إذا لم یکن لدیہم الاستعداد الکامل۔ (۲) الحرکات الجہادیۃ المعاصرۃ لا علاقۃ لہا بالجہاد وبالتالی ہذا العمل إضاعۃ للنفوس والمال لا یترتب أی أثر علی الامۃ الاسلامیۃ بل ہو ضار للمسلمین لأن العصابات لا تقوم مقام الخلیفۃ أو الإمام۔ (۳) ہناک مصطلح جدید من حضرتکم، ألا وہو ’’کلاسیکل فقہ‘‘۔ أخی العزیز! بون شاسع بین...

مکاتیب

ادارہ

(ا) محترم قارئین الشریعہ اور اکابر تبلیغ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مفتی محمد عیسیٰ خان صاحب گورمانی کی کتاب ’’کلمۃ الہادی الیٰ سواء السبیل‘‘ پر تقریظ کے نام سے میرا ایک خط چھپا ہے۔ میںیہ وضاحت کر دیناضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تقریظ نہیں، بلکہ میرا ذاتی خط ہے جومیں نے مفتی محمدعیسیٰ صاحب کو اس کتاب پر تبصرہ کی خواہش پر تحریرکیا اور محض ازراہ تفنن طبع کچھ جملے مزاح کے شامل کیے گئے۔ خط کے آخر میں مولانا کویہ مشورہ دیا گیا تھا کہ نہ اس خط کو شائع فرمائیں اور نہ ہی کتاب شائع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ہمارا اپنانقصان ہے۔ صرف ایک شخصیت کی تقریروں...

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

بنام: حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ (کراچی)۔ باسمہ سبحانہ۔ محترم المقام شیخ الحدیث جناب حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری دامت برکاتہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج اقدس؟ غالباً ذو القعدہ کی ابتدامیں حضرت مولانا محمد ادریس صاحب دام مجدہم کا ایک گرامی نامہ موصول ہوا تھا جس میں ماہ شعبان کے بینات کے ایک اہم مضمون کی طرف توجہ دلائی گئی تھی، مگر شومئی قسمت کہ کثرت مشاغل کی وجہ سے پڑھنے کاموقع نہ مل سکا۔ ایام اضحی کی تعطیلات میں پڑھنے کا عزم تھا، مگر پے در پے تکالیف اور علالت کی وجہ سے پھربھی پڑھنے کا وقت نہ نکال سکا۔ آج ہی اس کو پڑھا...

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ

ادارہ

( ۱ ) باسمہ تعالیٰ۔ مخدومنا المکرم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب، دامت برکاتکم۔ حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب، دامت برکاتکم۔ حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری صاحب، دامت برکاتکم۔ و دیگر اکابر و اساتذہ مادر علمی دارالعلوم دیوبند۔ مزاج گرامی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت والدمحترم مولانا محمد سرفرازخان صفدر نوراللہ مرقدہ کی وفات حسرت آیات کی المناک خبر آپ سب لوگوں تک پہنچ چکی ہوگی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ اور اس مادر علمی کے فکر ومسلک کے ترجمان تھے جن کی علمی ودینی جدوجہد میں دیوبند ی مسلک کا تعارف...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم مولانا زاہد الراشدی، زید مجدہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ جیساکہ اطلاع ہے، آپ ان دنوں آپ ہمارے پردیسی دیس میں ہیں۔ خوش آمدید۔ امید ہے مشافہۃً بھی پذیرائی کا موقع ملے گا۔ اس ماہ کا الشریعہ دو ہی دن ہوئے ملا ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ بات وفاق کے ایسے صاف و صریح تبصرہ تک پہنچ گئی۔ بظاہر اس سے پہلے کوئی ذاتی رابطہ بھی اس موضوع پر نہیں کیا گیا۔ بہرحال خدا کرے کہ ’’ماوقع‘‘ میں سے خیر نکلے۔ شمارہ کی سب سے پہلی چیز اس کا ’’کلمۂ حق‘‘ تھی۔ آپ کے محترم غامدی صاحب جس تسلسل سے ایک مستقل موضوع الشریعہ کاچلے آتے ہیں، اس سے مجھ ایسے ایک قاری...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم محمد عمار صاحب۔ السلام علیکم۔ اپنے تنقیدی مضمون ’’مقام عبرت‘‘ پر آپ کا لکھا ہوا جوابی جائزہ پڑھا۔ ساتھ ہی جائزہ کی وصولی کی رسید بھی حاضر ہے۔ اس جائزہ سے متعلق صرف چند باتیں پیش خدمت ہیں۔ ۱۔ پہلے تو ہمیں آپ سے یہ شکایت تھی کہ آپ اجماع کے ثبوت کو مشکوک بناتے ہیں۔ اب تو آپ نے امام شافعی ؒ اور امام رازی وغیرہ رحمہا اللہ کے حوالوں سے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ ’’یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل واضح ہے کہ علمی وفقہی تعبیرات کے دائرے میں اجماع کا تصور محض ایک علمی افسانہ ہے جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘‘ (ص ۱۳)۔ حالانکہ امام شافعیؒ وامام احمد...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب مدیر الشریعہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ محترم محمد زاہد صدیق مغل صاحب نے اپنے تین قسطوں پر مشتمل مضمون (اسلامی معاشیات...) پر پیش کیے گئے جائزے کا جواب (شمارہ فروری ۲۰۰۹) دیا ہے۔ اس سلسلے میں دو تین باتیں پیش خدمت ہیں۔ عرض کیا گیا تھا کہ صدیق مغل صاحب کی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب پر تنقید میں بہت زیادہ شدت پائی جاتی ہے۔ ان کے انداز تحریر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے ایک بلندپایہ علمی مرتبہ ومقام پر فائز شخص کسی معمولی علم رکھنے والے شخص پر سخت تنقید کر رہا ہو۔ اس پر صدیق مغل صاحب فرماتے ہیں کہ ہم اس پر معذرت خواہ اور توجہ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب محمد عمار صاحب، مدیر الشریعہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ نے جو جواب مجھے تحریر کیا تھا، محض اس وجہ سے اس پر کچھ لکھنے کا ارادہ نہیں ہوا کہ جناب کے جواب سے مایوسی ہوئی تھی، لیکن اب جبکہ آپ نے اسے جنوری کے الشریعہ میں شائع کر دیا ہے تو مجبوراً چند سطریں لکھتا ہوں۔ میرے مضمون کا حاصل دو امور ہیں: (۱) یہ دکھانا کہ آپ نے اجماعی تعامل اور علمی مسلمات کے دائرے سے جابجا تجاوز کیا ہے اور خطرناک اصولی غلطیاں کی ہیں۔ (۲) علمی مسلمات کے دائرے میں رہ کر بھی ذکر کردہ اشکالات کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے جس کی کچھ مثالیں بھی میں نے پیش کی ہیں۔...

مکاتیب

ادارہ

(۱) گرامی قدر جناب محمد عمار خان ناصر۔ زیدت معالیکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کی شان دار تالیف ’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ نظر نواز ہوئی۔ اس عنایت پر سراپا سپاس ہوں۔ رسیدگی پر فوری ہدیہ تشکر اس لیے نہیں ارسال کر سکا کہ کتاب کے حوالے سے چند سطور تحریر کرنے کا ارادہ تھا، لیکن ہنوز اس خواہش کی تکمیل نہیں کر سکا، اس لیے سوچا کہ تاخیر سے ہی سہی، کتاب ارسال کرنے پر شکریہ ادا کر دیا جائے۔ بہت مدت بعد کسی فقہی موضوع پر انتہائی سلیقے سے لکھی گئی کوئی کتاب پڑھنے کو میسر آئی ہے۔ کوشش کروں گا کہ اپنی پسندیدگی کے پہلووں کو تفصیل سے قلم بند کر سکوں۔...

مکاتیب

ادارہ

(۱) گرامی قدر حضرت والد صاحب دام مجدہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ بین الاقوامی سطح پر غیر مسلم لابیاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر آلود پراپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ ان کے موثر جواب کے لیے مسلم رہنما اسلامی ٹی وی چینل اور کیبل کا سوچ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں علما کی دو رائے سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طبقہ، جس کی قیادت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب مدظلہ اور مولانا علی احمد سراج صاحب مدظلہ وغیرہ کر رہے ہیں، یہ کہتا ہے کہ ایسا ٹی وی چینل اور کیبل جائز اور درست ہے جس میں فوٹو بھی آتی ہے اور ان حضرات نے آپ کے حوالے سے ایک خبر شائع کی جو کہ اخبارات میں شائع...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم! امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ ’الشریعہ‘ پڑھنے کو ملتا ہے۔ الحمد للہ! موجودہ حالات میں امت مسلمہ کی فکری و نظری رہنمائی کے لیے ایک بہت ہی عمدہ پلیٹ فارم ہے۔عصر حاضر میں ہونے والے جہاد و قتال سے ہر پاکستانی بالعموم اور نوجوان طبقہ بالخصو ص کسی نہ کسی پہلو سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ گزارشات کو ایک مضمون کی شکل دی ہے جس میں پاکستان میں ہونے والے معاصر طالبان جہاد کا ایک تاریخی‘ تجزیاتی و تحقیقی مطالعہ پیش کیاگیا ہے۔ مضمون اگرچہ طویل ہے، لیکن امید ہے کہ ’الشریعہ‘ میں شائع فرمائیں گے۔...

مکاتیب

ادارہ

(۱) حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی! ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ سے مسلسل فیض یاب ہو رہا ہوں۔ اللہ کریم آپ کی توانائیوں اور دینی وعلمی خدمات میں مزید برکت مرحمت فرمائے۔ آمین۔ دینی حلقوں میں پائے جانے والے فکری جمود کوتوڑنے کا عزم لائق تحسین ہے۔ اس سلسلے میں مختلف الخیال دینی وعلمی حلقوں کے افکار کی ’’الشریعہ‘‘ میں اشاعت قابل قدر ہے۔ اللہ کرے کہ یہ اقدام ’’تلذذ بالمسائل‘‘ کے بجائے قارئین ومعاونین میں دوسروں کی رائے صبر وتحمل کے ساتھ سننے اور معقول آرا پر غور وفکر کا ذریعہ بن جائے۔ عصر حاضر میں دینی...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم۔ امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ الشریعہ جون ۲۰۰۸ء کے شمارے میں ’’ غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے عنوان سے استاذِ محترم جاوید احمد صاحب غامدی کے افکار پر آپ کی تنقید و تبصرہ دیکھنے کا موقع ملا۔ اصحاب المورد جب بھی اپنے پیش کردہ افکار پر کسی جید عالم کی طرف سے کوئی تنقید و تبصرہ دیکھتے ہیں تو تہہ دل سے اُن کے شکر گزار ہوتے اور یہ امید کرتے ہیں کہ علما کی یہ توجہ اُن کے لیے رہنمائی کی باعث ہو گی۔ چونکہ آپ نے راقم الحروف کی ایک تحریر کو غامدی صاحب کی فکر پر بحث کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، اس لیے میں آپ کی اس...

مکاتیب

ادارہ

(۱) لندن ۔ ۲۴ مئی ۲۰۰۸ء۔ بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زید مجدہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ ملاقات بڑی مختصر رہی۔ میں اچھا ہوتا تو خود آپ کی قیام گاہ پر آتا، تب زیادہ موقع مل جاتا۔ تاہم آپ جو کتب خانہ عنایت فرماگئے، اس نے خاصی تلافی کر دی۔ اگرچہ واقعہ یہ بھی ہے کہ میں کتابوں کا اتنا بڑا بنڈل دیکھ کے گھبرایا تھا۔ کوئی اور ہوتا تو معذرت کردیتا کہ بھائی میں آج کل اس حال میں نہیں ہوں، اخبار ہی پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ مگر طبیعت میں ذرا سا فرق آیا تو پرسوں وقت گزاری کے خیال سے سوچا کہ آپ کابنڈل کھولوں، شاید کوئی ہلکی پھلکی چیز نکل آئے اور کچھ وقت اچھا...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بخدمت جناب مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب سلمہ اللہ وحفظہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ماہنامہ الشریعہ کے اپریل کے شمارے میں جنا ب کا مضمون ’’زنا کی سز ا‘‘ (۲) پڑھا۔ پورے مضمون کاتفصیلی جواب دینے کی ہمت نہیں، البتہ جواب کا جو جوہر ہو سکتا ہے، وہ پیش خدمت ہے۔ اللہ کرے کہ اس سے آ پ کے ذکر کردہ تمام اشکالات کاحل نکل آئے۔ یہ اقتباس احقرکی کتاب ’’تحفہ اصلاحی ‘‘سے ہے۔ یہ جواب الشریعہ میں چھپوانے کے ارادہ سے نہیں لکھا، صرف آپ کے مطالعہ اور غوروفکر کے لیے لکھا ہے۔ ویسے اگر آپ اس کو شائع بھی کر دیں تو مجھے اعتراض نہیں۔ مزید ایک بات پر غورکرنے...

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے سانحہ ارتحال پر اہل علم ودانش کے تعزیتی پیغامات

ادارہ

(۱) حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زادت مکارمکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اور ڈاکٹر محمد دین کی پے در پے وفات حسرت آیات آپ کے لیے اور دوسرے متعلقین کے لیے تو رنج والم کا باعث ہے ہی، لیکن حضرت صوفی صاحب مرحوم کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کے پر ہونے کی امید نہیں۔ یہ بڑا قومی سانحہ ہے۔ آج تو جو مہر تاباں غروب ہوتا ہے، اس کی جگہ معمولی چراغ بھی جلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اب ایسے افراد پیدا ہی نہیں ہو رہے۔ علم وعمل کے جامع اور بزرگوں کے مزاج ومسلک سے بخوبی واقف، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے علوم کے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) جناب محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم۔ میری دعا ہے کہ رب کائنات آپ کے دل ودماغ اور مقدس لوح وقلم کو تاروز حیات سرسبز، شاداب رکھیں۔ تقریباً ایک ماہ پہلے غالباً جنوری ۲۰۰۸ کے تیسرے عشرے میں رائے ونڈ بازار کے ایک بک اسٹال سے ’’ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ کے نام سے آپ کی تالیف خرید کر پڑھی جس کے پڑھنے پر نہایت ہی خوشی حاصل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ بار شکریہ ادا کیا کہ اس قحط الرجال کے دور میں بھی آپ جیسے سلیم الفطرت، وسیع القلب اور وسیع النظر، عالی ظرف اور نہایت ہی سنجیدہ علماے کرام موجود ہیں۔ آپ کے ذوق کتب بینی اور نہایت ہی وسیع...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ جنوری ۲۰۰۸ ء کے الشریعۃ کے ’’کلمۂ حق ‘‘ کے مندرجات سے عمومی اتفاق کے باوجود حسبہ بل کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تنقید بری طرح کھٹکی ۔ ملک اس وقت جس سیاسی اور قانونی بحران سے گزر رہا ہے اس میں دینی جماعتوں ، بالخصوص جمعیت علمائے اسلام ( ف) ، کا کردار چنداں تسلی بخش نہیں ہے ۔ الیکشن میں لوگوں کی جانب سے جو response سامنے آرہا ہے، اس کی وجہ سے دینی سیاسی لیڈرشپ کو بھی اب احساس ہوچکا ہے کہ ان کے اپنے حلقوں میں ان کی مقبولیت کا گراف کس حد تک گر چکا ہے۔ اس لیے اب...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مکرم ومحترم حافظ عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم۔ دسمبر کے الشریعہ میں مقاصد شریعہ سے متعلق آپ کا مفصل مضمون پڑھ کر آپ کے علم کی گہرائی وگیرائی کا گمان یقین میں بدل گیا۔ اس مضمون پر تبصرہ کرنا میرے کم علم کے بس کی بات نہیں۔ چند باتیں جو ذہن میں آئی ہیں، لکھ رہا ہوں۔ جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے استاذ نے مشرکین مکہ سے متعلق جو آرا قائم کی ہیں، ان میں سے بیشتر قرآن سے ثابت نہیں۔ افسوس، جاوید صاحب اور ان کے متوسلین علم کے کبر کی وجہ سے ڈھنگ سے جواب نہیں دیتے۔ آپ نے بھی قانون رسالت، اتمام حجت جو لکھا ہے، یہ بھی انھی حضرات کی دین ہے ورنہ سرفراز...

مکاتیب

ادارہ

محترم و مکرم جناب مدیر الشریعہ صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج بخیر؟ ماہنامہ الشریعہ اکتوبر کے پرچے میں مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب کا سانحہ لال مسجد کے حوالے سے مضمون پڑھ کر دل کو جو صدمہ پہنچا، وہ بیان سے باہر ہے۔ پرانے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔ یہ مضمون میری طرح پتہ نہیں کتنے مسلمانوں، ماؤں اور بہنوں کی دل آزادی کا سبب بنا ہوگا۔ آخر جو مضمون ۲۳ جولائی کو تحریر کیا گیا تھا، کم وبیش دو ڈھائی مہینوں کے بعد پتہ نہیں کس مقصد اور افادیت کے پیش نظر الشریعہ میں شائع کیا گیا ہے۔ یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ مدارس کے ترجمان دینی ومذہبی نسبتاً...

مکتوب بنام صدر وفاق المدارس

قاضی محمد رویس خان ایوبی

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جناب مولانا سلیم اللہ خان صاحب، مدظلہ العالی (صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان )۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ یکم جولائی سے شروع ہوکر ۱۰؍ جولائی کی صبح پانچ بجے تک کربلائے اسلام آباد میں آتش وآہن کی بارش برساکر قوم کی معصوم، عفت مآب بیٹیوں، حفاظ قرآ ن اور غازی عبدالرشید شہید کے خاندا ن کے ۱۹؍ افراد سمیت سیکڑوں طلبہ وطالبات کو جس بے دردی اور سفاکی سے شہید کیاگیا، اس کی نظیر چنگیز، ہلاکو، ہٹلر اور بوسنیا ہرز گوینا اور چیچنیا، عراق، ویت نام، کشمیر، فلسطین میں بھی نہیں ملتی۔ ظلم واستبداد کی اس داستان کو رقم کرنے...

دارالعلوم کراچی کا فتویٰ

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

لندن، ۱۶ اگست ۲۰۰۷ء۔ حضرت مولانا! اگست کے شمارے میں اپنا استفتاء اور اس کا جواب دیکھ کر حیران ہوا ہوں۔ اور ایسا لگا جیسے ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘۔ آپ برطانوی مسلمانوں کے موجودہ حالات و گھمبیر مسائل سے بالکل ہم لوگوں ہی کی طرح واقف ہیں۔پھر بھی کیاآپ نے یہ چاہا ہے کہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء کا وہ جواب جو صرف مجھ تک اور آپ ہی تک تھا ،ایک معنیٰ میں آپ کی توثیق کے ساتھ، اسلامیانِ برطانیہ تک عام ہو، اور ان کے حالات کی نزاکت جلد سے جلد اپنے بقیہ مراحل ،خد ا نہ کردہ،طے کر لے! آپ نے یقیناً یہ نہیں چاہا ہوگا۔ لیکن ذرا غور تو فرمائیے۔جب...

مکاتیب

ادارہ

(۱) لندن ۲۴جون ۲۰۰۷ء۔ بخدمت محترم مولانا راشدی زید مجدہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مولانائے محترم، آج کے جنگ میں محترم مفتی محمد رفیع صاحب کا فتویٰ رشدی ملعون کے بارے میں جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عالم آن لائن‘‘ کے حوالے سے چھپا ہے جو ہر مسلمان کو نہ صرف اس کے قتل کا اختیار دیتا ہے بلکہ اس کے اجر میں جنت کی بشارت کے ذریعہ ترغیب بھی۔ مفتی صاحب میرے علم کی حد تک کسی سیاسی محاذ سے وابستہ نہیں ہیں اس لیے ان کی بات کو سنجیدگی سے لینا پڑتا ہے۔ (ورنہ آج کل آپ کے یہاں کی تمام مذہبی بولیوں میں سیاست درآئی نظر آتی ہے اور اس لیے وہ سنجیدگی سے لیے جانے کی مستحق...

مکاتیب

ادارہ

(۱) گرامی قدر جناب مولانا زاہدالراشدی صاحب زیدت معالیکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی! ماہنامہ الشریعہ باقاعدگی سے اعزازی طور پر موصول ہوتا ہے جس کے لیے سراپاسپاس ہوں۔ گزشتہ چند شماروں میں دور حاضر میں اجتہاد کی ضرورت پر ایک انتہائی وقیع بحث کا آغاز ہوا تھا، لیکن یہ بحث بتد ریج جدلیاتی اور طنزیہ رخ اختیار کرتی ہوئی شخصیات کی آرا کی توضیح وتشریح پر ختم ہو گئی۔ مجھے قوی امید تھی کہ اس علمی موضوع پر گراں قدر، تحقیقی اور فکر ودانش سے بھرپور مقالات آئیں گے جن سے استفادہ کا موقع ملے گا لیکن ’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘۔ کبھی کبھی مجھے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) لندن، ۷ اپریل ۲۰۰۷ء۔ محترم مولیٰنا راشدی دام لطفہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ پچھلے چار مہینے ہندوستان میں گزرے۔ گزشتہ ہفتے واپسی ہوئی تو یہاں مارچ کا الشریعہ دیکھا۔ ’’اسلام کے نام پر انتہا پسندی‘‘کا جو قصہ ’’ کلمۂ حق ‘‘میں رقم کیا گیا ہے، اس سے بہ صد رنج تصدیق ہوئی کہ روزنامہ جنگ وغیرہ سے جو صورت اور نوعیت اس قصہ کی سامنے آر ہی ہے، وہ ٹھیک ہی ہے۔مگر معاملہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اور اس کے بارے میں آپ کا جو شدید احساس و اضطراب تحریر میں نمایاں ہے، اس کو دیکھتے ہوئے’’ کلمۂ حق‘‘ کا حق ادا ہوتا نظر نہیں آیا۔ یہ اگر واقعۃً ’’افسوسناک...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بردارمحترم حافظ حسن مدنی صاحب ، مدیر ماہنامہ ’محدث‘ لاہور۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ ’محدث‘ کے مارچ ۲۰۰۷ کے شمارے میں ’’مسجد اقصیٰ صہیونیوں کے نرغے میں‘‘ کے زیر عنوان آپ کا تفصیلی اور معلوماتی اداریہ پڑھنے کو ملا اور اس بات پر خوشگوار حیرت ہوئی کہ میں نے ’الشریعہ‘ کے ستمبر/ اکتوبر ۲۰۰۳ اور اپریل/مئی ۲۰۰۴ کے شماروں میں شائع ہونے والی اپنی تفصیلی تحریروں میں شرعی زاویہ نگاہ سے اس معاملے کے جس بنیادی پہلو کی طرف اہل علم کی توجہ مبذول کرائی تھی، آپ کی تازہ تحریر میں اس کو تسلیم کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے حوالے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) واجب الاحترام جناب مدیر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ دین کا ایک طالب علم ہونے کے ناتے آپ کا عمدہ اور معیاری رسالہ زیر مطالعہ رہتا ہے۔ اس وقت میں فروری ۲۰۰۷ کے شمارے میں شائع ہونے والے حافظ محمد زبیر صاحب کے مضمون: ’’غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ ان پر غور فرمائیں گے۔ میری پہلی شکایت تو آپ سے ہے کہ آپ نے اپنے رسالے میں مذکورہ مضمون کو کیسے جگہ دے دی جبکہ مذکورہ مضمون،کم از کم میری ناقص رائے میں، نہ آپ کے رسالے کے معیار پر پورا اترتا ہے اور...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم ومکرم مدیر ماہنامہ الشریعہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ ’الشریعہ‘ کے مضامین پر آرا اور تبصروں کی کثرت ظاہر کرتی ہے کہ مجلہ کے قارئین کا ایک وسیع علمی حلقہ قائم ہو چکا ہے جو وطن عزیز کے دینی ودعوتی اور قانونی ومعاشرتی، غرض ہر طرح کے مسائل پر اپنی جاندار آرا کا اظہار کرتے ہیں اور کرنا جانتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات جائزوں، تبصروں اور مراسلوں میں نقد وتنقید اور مراسلہ نگاری کی جائز حدود سے تجاوز ذہن وروح کو بہت تکلیف دیتا ہے۔ ’الشریعہ‘ کے تازہ شمارہ (جنوری ۲۰۰۶) میں چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ نے عہد حاضر میں اردو زبان کے ایک موقر اور معیاری...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مکرمی مدیر ’الشریعہ‘۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ ’الشریعہ‘ کے دسمبر ۲۰۰۶ء کے شمارے میں میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون ’’قدامت پسندوں کا تصور اجتہاد‘‘ دیکھنے کا موقع ملا۔ میاں صاحب کی تحریریں ندرت او ر تازگی کی وجہ سے ہمیشہ ہی لائق توجہ ہوتی ہیں، مگر ان کے موضوعات میرے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث نہیں ہوتے، اس وجہ سے میں ان کو زیادہ توجہ نہیں دے سکا۔ اس مضمون کی کاٹ کے حوالے سے ایک دوست کے توجہ دلانے پر مضمون کو پڑھا تو ان کی جرات وجسارت کا اعتراف کرنا پڑا۔ الشریعہ کی مجلس ادارت کے رکن اول ہوتے ہوئے ادارہ کے رئیس التحریر کے انداز فکر اور...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم و مکرم مولانا عمار خان ناصر صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اللہ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ آپ بخیروعافیت ہوں گے۔ آپ نے احسان فرمایا کہ دعوت وتبلیغ سے متعلق چند اہم مضامین کو، جو مختلف اخبارات میں شائع ہو جانے کے بعد وقت کی گرد میں گم ہورہے تھے، الشریعہ کے پچھلے کچھ شماروں میں شائع کرکے محفوظ کردیا اور اِنھیں اپنے قارئین تک پہنچانے کا بندوبست فرمادیا۔ آپ نے مزید احسان فرمایا کہ مولانا محمد یوسف صاحب، ناظم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا مقالہ ’’دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ‘‘ الشریعہ کے شمارہ اگست ۲۰۰۶ء میں شائع...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مکرمی و محترمی مدیر الشریعہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ستمبر کے شمارے میں آپ نے محمد یوسف صاحب کی ایک تحریر شائع کی جو ’ترجمان القرآن‘ میں شائع نہیں کی گئی تھی۔ مدیر کی حیثیت سے آپ اپنے فیصلے میں آزاد تھے، تاہم کچھ عرض ہے۔ ایک مدیر کی حیثیت سے یقیناًآپ کو ایسے افراد سے سابقہ پیش آتا ہوگا جو کسی رسالے کو کچھ لکھ کر بھیجتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ایسی چیز لکھ دی ہے جو رسالے کو لازماً شائع کرنی چاہیے۔ جب شائع نہ ہو تو وہ اپنی تحریر پہ غور نہیں کرتے، بلکہ مدیر کو قصور وار اور مجرم قرار دیتے ہیں۔ جب تحریر کی نوعیت جوابی ہو اور شائع...

مکاتیب

ادارہ

محترم جناب مدیر ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ’الشریعہ‘ ماشاء اللہ علمی بحث ومکالمہ کے لیے ایک بہترین فورم ہے جس میں اہل علم حضرات مختلف جدید وقدیم موضوعات پر بحث ومباحثہ میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گراں قدر علمی وفکری مقالات بھی پیش فرماتے ہیں۔ ان میں حضرت رئیس التحریر مدظلہ، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور پروفیسر محمد اکرم ورک کی نگارشات قابل ذکر ہیں۔ لیکن بسا اوقات اس علمی فورم میں علمی وقار ومتانت سے بے خبر ایسے ’’اہل علم‘‘ شرکت کرتے نظر آتے ہیں جن کے انداز تحریر سے ایسا لگتا ہے کہ وہ مکالمہ اور مجادلہ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) برادرِ مکرم جناب عمار خان ناصر۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ گزشتہ شمارے میں جناب پروفیسر عبدالماجد نے میرے کالم ’’اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات‘‘ پر تبصرہ فرمایا جو اس لحاظ سے میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے کہ ہمارے قارئین کس باریک بینی سے ’الشریعہ‘ کامطالعہ کرتے اور ہر قابل بحث بات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ میں جناب پروفیسرعبدالماجد کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے کالم کو بغور پڑھنے کے بعد اپنا تبصرہ ارسال فرمایا۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے ’استشراق‘ میرے زیرمطالعہ ہے اور دیگر مستشرقین کی تحریرات کے علاوہ اسپوزیٹو...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم مدیر الشریعہ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ’الشریعہ‘ ما شاء اللہ فکری اعتبار سے کافی اہم رول ادا کر رہا ہے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے بنیادیں فراہم کر رہا ہے اور مسالک اور مذاہب کے مابین افہام وتفہیم کو فروغ دے رہا ہے۔ جون ۲۰۰۶ کے شمارے میں ڈاکٹر کنول فیروز نے بجا کہا ہے کہ’’یہ دور مناظرے کا نہیں بلکہ انٹر فیتھ مکالمہ (Interfaith dialogue) کا ہے تاکہ مختلف مذاہب وادیان اور مسالک کے درمیان نہ صرف غلط فہمیوں اور کج بحثیوں کا خاتمہ ہو بلکہ باہمی رواداری، یگانگت، ہم آہنگی، محبت اور برداشت کی ثقافت کو فروغ حاصل ہو۔‘‘ اسی...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مکرمی جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ سلام و رحمت، مزاج شریف؟ جون کے شمارے میں میثاق جمہوریت کے حوالے سے آپ کا کلمہ حق نظر نواز ہوا۔ کلمہ حق واقعی کلمہ حق ہے۔ آپ نے جس حسن توازن سے اظہار فرمایا، وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ پڑھنے کے لائق ہر تحریر کو پورے غور سے پڑھتا ہوں اور ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ اس میں سے کوئی بات لائق توجہ ہو تو قلم اٹھایا جائے۔ مدت سے حسرت تھی کہ آپ کی تحریر میں سے کوئی ایسی بات پکڑ لوں، ہمیشہ ہی ناکام رہا۔ آپ کی ہر تحریر نے پہلے سے زیادہ خراج لیا اور آپ کے لیے نیازمندی کے احساسات میں اضافے کا باعث ہوئی۔ زیر بحث تحریر سے بھی میرے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ برادرم محمد عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم! امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں اپنا مضمون دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اس پر میں آپ کا تہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اس مضمون کے حوالے سے راقم کو ذاتی طور پر مختلف اصحاب علم کی طرف سے تبصرے بھی موصول ہوئے جن میں چند باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی۔ ان میں کچھ باتیں غلط فہمی کا نتیجہ تھیں جن کا ازالہ میں ضروری سمجھتا ہوں۔ ۱۔ ’الشریعہ‘ میں میرا تعارف صحیح شائع نہ ہو سکا۔ میں نے آپ کی طرف جو خط لکھا تھا، اس میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ میں ریسرچ سنٹر، قرآن اکیڈمی میں بطور ریسرچ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم مدیر الشریعہ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں گزشتہ دو سال سے ماہنامہ’’الشریعہ ‘‘کا خریدار ہوں۔ یہ رسالہ دینی جرائد ورسائل میں خصوصی نوعیت کا حامل ہے۔ اس کے مضامین میں دور جدید کے تقاضوں کا شعور جھلکتا ہے۔ روایتی مذہبی طرز فکر کے ماحول میں یہ تازہ خوشگوار ہوا کے جھونکے کے مانند ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ مدیر شہیر مولانا زاہد الراشدی عالمی اور بین الاقوامی حالات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ اس وقت مغرب اور اس کی تہذیب چو طرفہ انداز سے اسلام اور مسلمانوں پر حملہ آور ہے۔ ان حالات...
< 51-100 (137) >
Flag Counter