اسلام اور عصر حاضر

دورِ جدید کے چند اجتہاد طلب مسائل

ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلامی علوم وفنون کی تدوینِ نو کا کام ایک ہمہ پہلو تعلیمی اور فکری جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس جدوجہد میں بعض نئے مسائل پر اجتہادی نقطہ نظر سے غور وخوض بھی شامل ہے اور بعض اجتہادی آرا پر ازسرنو ناقدانہ نظر ثانی بھی ناگزیر ہے۔ دور جدید نے بعض ایسے مسائل ومعاملات ہمارے سامنے پیش کر دیے ہیں جو سلف کے سامنے نہیں تھے اس لیے ماضی میں مجتہدین امت اور مفکرین اسلام کو ان پر کوئی رائے قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر ایک کثیر العناصر (Pluralistic) معاشرے میں اسلام کا کردار کیاہے اور کیا ہونا چاہیے؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بیسویں صدی کے اواخر...

مفتی اعظم سعودی عرب کا خطبہ حج

ادارہ

اس سال ۲۰ لاکھ کے لگ بھگ خوش نصیب مسلمانوں نے سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ تعالیٰ کی امامت میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور امیر حج موصوف نے اپنے خطبہ حج میں عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ملت اسلامیہ کی راہ نمائی کے لیے انتہائی درد دل کے ساتھ بہت سی مفید باتیں ارشاد فرمائیں۔ ہمارے نزدیک یہ خطبہ مسلم حکمرانوں کی تنظیم او آئی سی کے باقاعدہ ریکارڈ اور ایجنڈے میں شامل ہونا چاہیے اور عالم اسلام کے حکمرانوں اور دیگر تمام طبقات کو ان پر سنجیدہ توجہ دینی چاہیے۔ روزنامہ نوائے وقت کے شکریے...

عصری تقاضے اور اسلام کی تعبیر وتشریح

پروفیسر میاں انعام الرحمن

کسی قوم کی کمزور تاریخ یا پھر اپنی عظیم تاریخ کا کمزور شعور تخلیقی صلاحیتوں کو مردہ اور سارے نظامِ اقدار وخیال کو تتر بتر کر دیتا ہے۔ عالمی مسلم معاشرہ اسی المیے کا شکار ہے۔ اسلام کی عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعبیر وتشریح بیک وقت دو محاذوں پر کام کرنے سے ممکن ہے‘ داخلی اور خارجی۔ درج بالا پہلے فقرے کے تناظر میں داخلی محاذ پر زیادہ سنجیدگی اور مشقت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کتاب اور سنت‘ احادیث نبوی اور اسلام کے ابتدائی عہد میں دعوت کے اسلوب پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو اسلامی اسپرٹ بہت زیادہ سوشل معلوم ہوگی۔ اسلام کی دعوتی اور توسیعی سرگرمیاں‘ چاہے...

عصرِ حاضر میں اسلام کی تعبیر و تشریح ۔ مولانا منصوری کے ارشادات پر ایک نظر

عرفان الہی

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے مضمون ’’عصر حاضر میں اسلام کی تعبیر وتشریح‘‘ نے فکر وخیال کو مہمیز لگا دی۔ مدت سے جاری سست رفتار غور وفکر نے جلد ہی نتائج کو آئینہ خیال میں مشکل کر دیا۔ اس موضوع پر اپنے ناقص مطالعہ وفکر کے نتائج حسب ارشاد پیش خدمت ہیں جن میں کوئی بھی صحیح اضافہ وترمیم دل وجان سے قابل قبول ہوگا۔ جہاں تک مولانا منصوری کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ دعوت دین میں عقائد کی دعوت کو مقدم کیا جائے تو مجھے اس سے اتفاق ہے۔ یہی انبیاء کا نہج ہے۔ ا س میں مسلم مبلغین ومفکرین سے جو کوتاہی ہوئی یا ہو رہی ہے، ظاہر ہے۔ اسلام دلوں پر حکمرانی کرنے آیا...

خلافت اسلامیہ کی اہمیت

الشیخ عمر بکری محمد

اپنی پوری تیرہ سو سالہ تاریخ میں اسلامی نظام (خلافت) نے انسانی جدوجہد کے ہر پہلو سے، خواہ وہ معاشی ہو، جنگی ہو یا انصاف ہو، دنیا پر اعلی حکمرانی کی۔ لیکن جب مصطفی کمال نے ۱۹۲۴ء میں اقتدار سنبھال لیا اور ترکی کو لامذہب مملکت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا تو اس شاندار حکومت کاخاتمہ ہو گیا۔ ہمیں بحیثیت مسلمان یہ چاہئے کہ ہم یہ جائزہ لیں کہ اسلامی ریاست میں ہمارے آباؤ اجداد کس طریقے سے تہذیب وتمدن کی اعلی بلندی پر پہنچے تھے اور پھر ساری انسانیت کی رہنمائی کرنے...

اسلام میں انسانی حقوق کی اہمیت اور دائرہ کار

مولانا عصمت اللہ

عصر حاضر میں ہر طرف انسانی حقوق (Human Rights) کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ یورپی اقوام اس معاملہ میں زیادہ ہی فکر مندی ظاہر کر رہی ہیں۔ ان کے اس طرز عمل سے لگتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں زیادہ فکر‘ غم‘ پریشانی انہیں کو لاحق ہے۔ اگرچہ دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ان لوگوں نے کچھ تنظیمیں بھی قائم کر رکھی ہیں۔ ان کی مختلف شاخیں مختلف ممالک میں کام کر رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ بھی اپنی فکرمندی ظاہر کرتا رہتا ہے اور اقوام متحدہ نے اپنے زیر اہتمام کئی شعبے ترتیب دے رکھے...

سرمایہ داری اور اسلامی نظامِ معیشت

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

حضور علیہ السلام نے اسلام کی دعوت پر ہرقل قیصرِ روم کو بھی خط لکھا تھا۔ جب یہ خط قیصر کو پیش ہوا تو اس نے حکم دیا کہ اگر عرب کا کوئی شخص مل جائے تو حاضر کیا جائے۔ ان دنوں غزہ میں ابوسفیان کی قیادت میں قریشِ مکہ کا ایک تجارتی قافلہ مقیم تھا۔ چنانچہ ابوسفیان کو ہرقل کے سامنے پیش کیا گیا اور ہرقل نے ان سے حضور علیہ السلام کے متعلق مختلف سوال کیے جن میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ جس مدعی نبوت کا خط مجھے پہنچا ہے اس کے اولین متبعین کمزور لوگ ہیں یا با اثر شخصیتیں؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ نادار اور کمزور لوگ ہیں۔ اس پر ہرقل پکار اٹھا کہ ابتدا میں نبیوں کے پیروکار...

سود کے خلاف قرآنِ کریم کا اعلانِ جنگ

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

قرآنِ کریم میں خلافتِ الٰہیہ کے قیام سے مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک ایسی قوت پیدا کی جائے جس سے اموال اور حکمت، علم و دانش دونوں کو لوگوں میں صرف کیا جائے اور پھیلایا جائے۔ اب سودی لین دین اس کے بالکل منافی اور مناقض ہے۔ قرآن کریم کی قائم کی ہوئی خلافت میں ربوٰ (سود) کا تعامل کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اس کا جواز بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ نور و ظلمت کا اجتماع۔ ربٰو سود خواروں کے نفوس میں ایک خاص قسم کی خباثت پیدا کر دیتا ہے جس سے یہ ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر یہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے سامنے ’’اضعافا مضاعفا‘‘ (دوگنا چوگنا) نفع...

سرمایہ داری کا بت

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

ہندو جب بھی کوئی نیا نظام پیدا کرتا ہے تو اس کی بنیاد سرمایہ داری پر ہوتی ہے۔ چنانچہ گاندھی جی جیسا شخص بھی انسانیت کا اتنا بڑا نمائندہ بن کر سرمایہ داری سے ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکا۔ اسی طرح پنڈت جواہر لال نہرو کمیونسٹ ہیں مگر وہ بھی سرمایہ دار ہیں۔ ان کے مقابلہ میں حسرت موہانی کو لیجئے، جس دن اس نے اشتراکیت قبول کی وہ اپنی تمام جائیداد ختم کر چکا اور اب وہ ایک کوڑی کا بھی مالک نہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے یورپ جا کر سوشلسٹوں کے ساتھ رہ کر سوشلزم سیکھا مگر حسرت اپنی ذاتی کاوش سے اس مرتبہ پر...

نظامِ خلافت کا احیاء

مولانا ابوالکلام آزاد

انتخاب و ترجمہ: مولانا سراج نعمانی، نوشہرہ صدر (جناب ابو سلمان شاہجہانپوری کی کتاب ’’تحریکِ نظمِ جماعت‘‘ سے انتخاب)۔ اجتماعیت کا حکم: اسلام نے مسلمانوں کے تمام اعمالِ حیات کے لیے بنیادی حقیقت یہ قرار دی ہے کہ کسی حال میں بھی فرادٰی، متفرق، الگ الگ اور متشتت نہ ہوں، ہمیشہ موتلف، متحد اور کنفس واحدۃ ہو کر رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں جابجا اجتماع و وحدت پر زور دیا گیا ہے۔ اور کفر و شرک کے بعد کسی بدعمل سے بھی اس قدر اصرار و تاکید کے ساتھ نہیں روکا جس قدر تفرقہ و تشتت سے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کے تمام احکام و اعمال میں یہ حقیقت اجتماعیہ...

امام ولی اللہ کا پروگرام اور روسی انقلاب

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

لوگ بالعموم یہ جانتے ہیں کہ روسی انقلاب فقط ایک اقتصادی انقلاب ہے، ادیان اور حیاتِ اخروی سے بحث نہیں کرتا۔ ہم ان روسیوں کے پاس بیٹھے ہیں اور ان کے خیالات و افکار ہم نے معلوم کیے ہیں اور ہم بتدریج اور آہستہ آہستہ نرمی اور لطافت سے امام ولی اللہؒ کا پروگرام، جو انہوں نے حجۃ اللہ البالغۃ میں پیش کیا، ان روسیوں کے سامنے رکھا تو انہوں نے اسے نہایت ہی مستحسن خیال کیا اور ہم سے پوچھنے لگے کہ کیا کوئی ایسی جماعت اس وقت ہے جو اس پروگرام پر عمل کرتی ہو؟ جب ہم نے نفی میں جواب دیا تو انہوں نے بہت افسوس کیا اور کہنے لگے کہ اگر کوئی جماعت اس پروگرام پر عمل...

انکارِ حدیث کا عظیم فتنہ

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مذہبی لحاظ سے سطحِ ارض پر اگرچہ بے شمار فتنے رونما ہو چکے ہیں، اب بھی موجود ہیں اور تا قیامت باقی رہیں گے لیکن فتنۂ انکارِ حدیث اپنی نوعیت کا واحد فتنہ ہے۔ باقی فتنوں سے تو شجرِ اسلام کے برگ و بار کو ہی نقصان پہنچتا ہے لیکن اس فتنہ سے شجرِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور اسلام کا کوئی بدیہی سے بدیہی مسئلہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس عظیم فتنہ کے دست برد سے عقائد و اعمال، اخلاق و معاملات، معیشت و معاشرت اور دنیا و آخرت کا کوئی اہم مسئلہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا حتٰی کہ قرآن کریم کی تفسیر اور تشریح بھی کچھ کی کچھ ہو کر رہ گئی ہے اور اس فتنہ نے...

فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید — تقاضے اور راہِ عمل

مولانا قاری محمد طیبؒ

۲۶ دسمبر ۱۹۷۸ء کو ذاکر حسین انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی کے ایک غیر معمولی اور عظیم اجلاس میں شرکت ہوئی جس کا موضوع تھا ’’فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ‘‘۔ اس اجلاس میں ملک کے تمام مرکزی اداروں کے نمائندوں اور تقریباً ہر مکتبِ خیال کے فضلاء اور دانشوروں نے شرکت کی۔ اجلاس کی اہمیت صدر جمہوریہ ہند عالی جناب فخر الدین علی احمد کی شرکت سے اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔ احقر ناکارہ کو صدر اجلاس منتخب کیا گیا۔ چونکہ صدر مملکت نے صرف ایک گھنٹہ دیا تھا اس لیے اجلاس کی پہلی نشست کی ساری کاروائی ایک ہی گھنٹہ میں پوری کی جانی...

کلمۂ حق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو نہ صرف زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی شعبوں میں انسانیت کی راہنمائی کرتا ہے بلکہ تاریخ عالم کے صفحات میں انسانی معاشرہ کو افکارِ جاہلیہ کے پنجے سے نجات دلا کر امن و سکون کا گہوارہ بنانے کا اعزاز اسی فطری نظام حیات کا امتیاز بن چکا ہے۔ خلافت راشدہ کا زمانہ اسلامی نظام کے عملی نفاذ اور اس کی برکات کے ظہور کا مثالی دور تھا۔ اس کے بعد بھی ملت اسلامیہ کی اجتماعی زندگی کے بیشتر شعبوں میں اسلامی احکام و اقدار کی کارفرمائی کا تسلسل کم و بیش بارہ صدیوں تک قائم رہا۔ تا آنکہ جب یورپ کے مشینی انقلاب اور اس سے پیدا شدہ...
< 51-64 (64)🏠
Flag Counter